14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 14:19–20

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ Open ayah 14:19 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔

وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ Open ayah 14:20 in the Quran reader

ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ”۔

آیت نمبر 19 تا 20 ایمان اور کفر کے موضوع سے اور رسولوں اور جاہلیتوں کے مقابلے کے مضمون سے اب بات زمین و آسمان کے مناظر کی طرف آجاتی ہے۔ قرآن کے اسلوب کے مطابق اس انداز میں روئے سخن کا پھرجانا ایک طبیعی امر ہے اور انسانی شعور میں بھی یہ تبدیلی یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ اسلامی نظام حیات اور قرآنی اسلوب ایک ایمانی اور خدائی اسلوب ہے اس لیے کہ فطرت انسانی اور روح کائنات کے درمیان ایک خاص زبان کے ذریعہ پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت ، خلوت کائنات کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتی ہے ، انسان جونہی اس کائنات کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ اس سے اثرات اور پیغامات وصول کرنا شروع کردیتا ہے۔ وہ لوگ جو اس کائنات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور پھر بھی ان کی فطرت ، فطرت کائنات کے اشارات اور پیغامات اخذ نہیں کرتی ، ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی فطرت کی مشین بگڑ گئی ہے اور اس مشین کا ریسیور خراب ہوگیا ہے ، ان کے باطنی حواس خراب ہوگئے ہیں۔ اس طرح جس طرح آنکھ اندھی ہوجاتی ہے ، کان بہرے ہوجاتے ہیں ، زبان گونگی ہوجاتی ہے ، پرزے موجود ہیں مگر کام نہیں کرتے۔ ایسے افراد جن کی فطرت کے اہم پرزے خراب ہوگئے ہوں وہ اس دنیا کی قیادت کے بہرحال اہل نہیں رہتے۔ وہ تمام لوگ اس کیٹگری میں آتے ہیں جن کی سوچ پر مادیت چھا گئی ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو سائنس دان کہتے ہیں ۔ اور اپنے اوپر دانشوری کا غلط اطلاق کرتے ہوں۔ اس لیے کہ علم و دانش انسانی فطرت کو معطل نہیں کرتے۔ اور انسان کو روح کائنات سے کاٹتے نہیں بلکہ جوڑتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کو قرآن اندھا ، گونگا اور بہرہ کہتا ہے اور انسانی زندگی کی قیادت اگر اندھوں کے ہاتھ میں ہو تو وہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔ زمین و آسمان کی تخلیق میں عظیم قدرت اور مضبوط نظم کے اشارات ہیں۔ سچائی اور حق نہایت مضبوط ہے۔ اپنے مفہوم میں بھی اور لفظ “ حق ” کے تلفظ میں بھی قوت ہے۔ یہ حق چٹان کی طرح ٹھوس نظر آتا ہے جس طرح طوفانی ہوا میں اڑنے والی باطل کی راکھ نظر آتی ہے۔ جو دور تک صحراؤں میں اڑتی نظر آتی ہے اور ناپید ہوجاتی ہے۔ تحریک اسلامی کے معاندین کو اس فضا میں سخت دھمکی دی جاتی ہے۔ ان یشا یذھبکم ویات بخلق جدید (14 : 19) “ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ”۔ اور جو ذات زمین و آسمان پیدا کرسکتی ہے وہ اس بات پر قدرت رکھتی ہے کہ انسانوں کے مقابلے میں کوئی دوسری ہی مخلوق لے آئے۔ یا کسی ایک قوم کو زمین کی قیادت سے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو لے آئے۔ اقوام کا منصہ شہود سے یوں غائب ہوتے چلے جانے کے معانی اس منظر کے ساتھ پوری طرح متفق ہیں جس میں کفار کے اعمال راکھ کی طرح آندھی میں دوڑتے نظر آتے ہیں اور نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔ وما ذلک علی اللہ بعزیز (14 : 20) “ ایسا کرنا اس اللہ پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ” اور اس پر زمین و آسمان کی تخلیق شاہد ہے۔ پھر انسانی تاریخ میں اقوام جس طرح مٹتی رہی ہیں اور ایک کا زوال اور دوسری کا عروج سامنے آتا رہا ہے۔ یہ بھی اس پر گواہ ہے ۔ جس طرح ایک طوفان آسانی سے راکھ کو اڑا دیتا ہے ، یہ کام اس سے بھی اللہ کے لئے آسان ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کیا ہی اعجاز ہے ، قرآن کریم کا جس میں مناظر اور تصاویر اور معانی ہم آہنگ ہیں اور کلام نہایت ہی متناسب ہے۔ الفاظ ، معانی اور مناظر کے اعتبار سے۔ اب ہم فنی تصویر ، خوبصورت طرز ادا اور متناسب اسلوب اظہار کے ایک دوسرے افق کے سامنے آجاتے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے تو ہماری آنکھ جباروں اور ڈکٹیٹروں کی بربادی کا منظر دیکھ رہی تھی۔ اس دنیا ہی میں ہر ڈکٹیٹر ذلیل ہو کر رہا۔ اس کا منظر اسکرین پر تھا کہ اس کے پیچھے ایک خیال بھی منظر پر آگیا جس میں قیامت میں اس کا حشر دکھایا گیا تھا۔ حالانکہ وہ ابھی دنیا ہی میں ذلیل ہو رہا تھا۔ اب ہمارے سامنے ان ڈکٹیٹروں کا حشر میدان حشر میں نظر آرہا ہے۔ ان کا یہ منظر اب انسانیت کی عظیم کہانی کے مناظر کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے آرہا ہے۔ یہ شاید آخری منظر ہے۔ لیکن یہ منظر قیامت کے نہایت ہی عجیب اور دلچسپ مناظر میں سے ایک ہے ، جو تاثرات اور حرکات سے بھر پور ہے۔ اور جس کے اندر گمراہوں اور گمراہ کرنے والے بااثر لوگوں اور شیطان کے درمیان بھر پور مکالمے ہیں۔ ذرا قرآن کے الفاظ میں دیکھئے :
Ayahs 14:21–22

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠ Open ayah 14:21 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے تو اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے ، وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے “ دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” وہ جواب دیں گے “ اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر ، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں ”۔

وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّكُمْ فَاَخْلَفْتُكُمْ١ؕ وَ مَا كَانَ لِیَ عَلَیْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّاۤ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ١ۚ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ مَاۤ اَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ١ؕ اِنِّیْ كَفَرْتُ بِمَاۤ اَشْرَكْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 14:22 in the Quran reader

اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا ، میں اس سے بری الذمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔

آیت نمبر 21 تا 22 دعوت اسلامی اور داعیان حق کی یہ داستان ، اور جھٹلانے والوں اور ڈکٹیٹروں کی یہ کہانی اب اس دنیا کے اسٹیج سے آخرت کے اسٹیج پر منتقل ہوگئی ہے اور نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔ وبرزوا للہ جمیعاً ( 14 : 21) “ اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بےنقاب ہوں گے ”۔ یہ سرکش ڈکٹیٹر بھی کھڑے ہیں۔ اللہ کے سامنے اور ان کے کمزور کردار والے متبعین بھی کھڑے ہیں جنہوں نے ذلت اور کمزور کا کردار پسند کرلیا تھا ۔ شیطان بھی ایک طرف کھڑا ہے۔ دوسری جانب وہ لوگ بھی کھڑے ہیں جو رسولوں پر ایمان لائے تھے اور نیک کام کرتے تھے ۔ یہ سب اب ایک میدان قیامت میں ہیں ، کھلے میدان میں ۔ اللہ کے لئے تو یہ پہلے بھی ظاہر و باہر تھے لیکن آج وہ خود اپنے احساس و شعور میں اپنے آپ کو ننگا اور بےحجاب محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ میدان حشر میں کوئی پردہ اور اوٹ نہیں ہے۔ یہ میدان بھرا ہوا ہے ، پردہ اٹھتا ہے اور مکالمہ شروع ہوتا ہے۔ فقال الضعفوا ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے ، وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے “ دنیا میں تم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” بودے کردار کے کمزور لوگ بہرحال کمزور ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اس اعلیٰ انسانی دولت سے دستبردار ہوجاتے ہیں جو اللہ نے ہر انسان کو دی ہے۔ وہ آزادی کی دولت ہے ، آزادی رائے ہے ، آزادی دین اور نظریہ اور حریت عمل ہے۔ ان لوگوں نے اپنی مرضی سے اپنی آزادی کو ترک کر کے غلامی اختیار کرلی ہے اور سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے غلام بن گئے ہیں ۔ یہ غیر اللہ کے بندے اور غلام بن گئے ہیں اور اللہ کی غلامی کی بجائے انہوں نے انسانوں کی غلامی اختیار کرلی ہے ، لیکن اسلام میں ضعیفی کوئی معقول عذر نہیں ہے بلکہ ضعیفی ایک جرم ہے ، اللہ کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی کا غلام بن جائے وہ تو انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ باعزت زندگی اختیار کرو ، میری عزت کرو ، میری پناہ میں آجاؤ۔ اللہ نے ہر انسان کو آزاد اور مکرم بنایا ہے اور اسے یہ اجازت نہیں ہے کہ اپنی آزادی کو بیچ دے ، یا کسی بڑی سے بڑی مادی قوت کے سامنے سپر انداز ہوجائے چاہے وہ بہت بڑی قوت کیوں نہ ہو۔ کسی بھی قوت کو اللہ یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے انسانوں کو اپنا غلام بنا کے رکھے۔ اسلام میں ہر انسان کی آزادی اور عزت کا احترا ہے۔ دنیا کی بڑی سے بڑی مادی قوت بھی صرف انسانی جان اور جسم کا تعلق ختم کرسکتی ہے۔ تشدد اور اذیت دے سکتی ہے لیکن کسی کی آزاد سلب نہیں کرسکتی۔ انسانی ضمیر ، انسانی روح اور انسانی عقل پر کوئی ڈکٹیٹر حکومت نہیں کرسکتا ، نہ عقل ، روح اور ضمیر کو کوئی قید کرسکتا ہے ، ضمیر اور روح ، اور عقل اور حریت سے ایک انسان خود دستبردار ہوا کرتا ہے۔ پھر وہ ذلیل ہو کر مستضعفین میں داخل ہوجاتا ہے۔ اپنے عقائد ، نظریات ، افکار اور طرز عمل میں کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو کوئی انسان سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کے تابع نہیں بنا سکتا۔ کوئی شخص بھی کسی ضعیف سے ضعیف آدمی کو اس بات پر مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ کسی سرکش اور ڈکٹیٹرکا دین قبول کرلے ، کیونکہ اللہ خالق و رازق موجود ہے جو سب کا کفیل و ذمہ دار ہے۔ صرف ضعیف لوگ خود اپنی خوشی سے یہ کام کرتے ہیں ، یہ خود ضعیف بن گئے ، ان کی قوت اور کسی سرکش اور ڈکٹیٹر کی قوت برابر ہے۔ جاہ و مرتبہ اور مال و منال کے اعتبار سے یہ مستضعفین ڈکٹیٹر کے برابر ہوتے ہیں۔ کسی ڈکٹیٹر کا مرتبہ اور منصب کسی کو ضعیف نہیں بنا سکتا بلکہ یہ ذہنی طور پر بودے کردار کے لوگ ہوتے ہیں ، اپنے ایمان اور روح کے اعتبار سے یہ کمزور لوگ ہوتے ہیں ، بےعزت اور آبرو باختہ لوگ ہوتے ہیں اور اپنی آزادی اور عزت کو معمولی مفادات کے لئے بیچ دینے والے لوگ ہوتے ہیں جو جھکتے ہیں حالانکہ عزت و آبرو اور آزادی انسان کا نہایت قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان بودے لوگوں کی ایک بھیڑ ہے اور سرکش اور ڈکٹیٹر چند ایک ہیں۔ آخر یہ بھیڑ کیوں چند لوگوں کی غلامی اختیار کرتی ہے ، دراصل ان عوام میں ہمت نہیں ہوتی ، یہ روحانی اعتبار سے شکست خوردہ ہوتے ہیں۔ ان کے اندر حمیت نہیں ہوتی ، عزت نفس نہیں ہوتی اور یہ روحانی اور داخلی طور پر ان ڈکٹیٹروں کے سامنے شکست کھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی ڈکٹیٹر جمہور عوام کو صرف ان کی مرضی ہی سے ذلیل کرتا ہے۔ اگر عوام اٹھ کھڑے ہوں تو ان کے سامنے کوئی ڈکٹیٹرکھڑا نہیں رہ سکتا۔ لیکن یہ صورت حال خود عوام کے کمزور ارادے کی وجہ سے ہے۔ کسی انسان پر ذلت تب ہی طاری ہوتی ہے ، جب اس کے اندر ذلیل ہونے کی صلاحیت ہو ، ڈکٹیٹر ہمیشہ عوام کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اب ذرا کمزوروں کی ذہنیت کو دیکھو کہ قیامت کے دن وہ کس انداز سے پیش آتا ہے ، ان کی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت بودے کردار کے مالک تھے اور ہیں۔ ان کنا لکم ۔۔۔۔۔۔ من شییء (14 : 21) “ دنیا مین ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لئے بھی کچھ کرسکتے ہو ؟” یہ تمہاری تابع داری ہی ہمیں اس انجام تک لے آئی ہے جو بہت ہی المناک انجام ہے۔ یا ان کا مقصد فقط یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کا عذاب تو دیکھ لیا ہے ، اب یہ ان مستکبرین کی سرزنش کرنا چاہتے ہیں کہ تمہاری قیادت اور راہنمائی یہ رنگ لاتی ہے ، اب آگے بڑھو اس عذاب کے لئے۔ بہرحال ان کا مطلب جو بھی ہو ، ہر حال میں ان کی ذلت پر بھی دلالت کرتا ہے اور منکرین کا جواب۔ قالوا لو ھدنا ۔۔۔۔۔ من محیص (14 : 21) “ وہ جواب دیں گے ، اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر ، بہرحال ہمارے لیے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے ”۔ یہ بادل ناخواستہ ایک دو ٹوک جواب ہے ، “ اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھا دیتے ”۔ اب ہمیں کیوں ملامت کرتے ہو ، ہماری راہ بھی ایک ہے اور انجام بھی ایک ہے ، آخر ہم کب راہ نجات پر چلے کہ تم کو گمراہ کردیا۔ اگر ہمیں ہدایت نصیب ہوتی تو تم بھی ہمارے ساتھ راہ ہدایت پر ہوتے ، جس طرح ہماری گمراہی نے تمہیں گمراہ کیا۔ اب قیامت میں یہ لوگ اپنی ہدایت اور ضلالت کو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اب تو یہ اللہ کی کبریائی کو تسلیم کرتے ہیں اور اللہ پر ایمان لاتے ہیں حالانکہ دنیا میں یہ ان ضعفاء پر اس طرح دست درازیاں کرتے تھے کہ گویا ان سرکشوں سے کوئی پوچھنے والا جباروقہار ہے ہی نہیں۔ اب یہاں وہ ہدایت و ضلالت کو اللہ کی طرف منسوب کر کے اس کی ذمہ داری سے بچنا چاہتے ہیں ، حالانکہ اللہ نے تو ان کو یہ حکم نہ دیا تھا کہ تم گمراہ ہوجاؤ ؟ ان اللہ لا یامر بالفحشاء “ اللہ لوگوں کو فحاشی کا حکم نہیں دیتا ”۔ لیکن در پردہ یہ ان کمزور فطرت لوگوں کو ملامت بھی کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ ہے کہ اب جزع و فزع سے فائدہ نہیں ، نہ صبر کرنے سے فائدہ ہے۔ عذاب کا فیصلہ ہوچکا ہے ، صبر سے یا جزع و فزع سے یہ تو ٹلنے کا نہیں۔ اب تو بہ کا دروازہ بند ہے۔ اگر یہ کھلا ہوتا تو گمراہ لوگ فریاد کر کے ہدایت پر آسکتے تھے ، اگر دنیا میں کوئی سختی ہوتی اور تم صبر کرتے تو بھی اللہ کی رحمت کی امید تھی۔ اب تو مہلت ختم ہے اور عذاب سے بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ سواء علینا اجزعنا ام صبرنا ما لنا من محیص (14 : 21) “ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع و فزع کریں یا صبر ، بہرحال ہمارے لیے بچنے پر ایک تعجب انگیز کردار آتا ہے۔ شیطان نمودار ہوتا ہے ، جو گمراہی کا داعی اور سرکشی کا حدی خواں ہے۔ یہ اسٹیج پر زاہدوں کے جبے میں آتا ہے۔ کاہنوں کی طرح نمودار ہوتا ہے ، اور دونوں فریقوں پر اپنے شیطانی غرور کا اظہار کرتا ہے اور ان کو ایسا چرکہ لگاتا ہے کہ یہ زبانی زخم شاید عذاب جہنم سے بھی کڑوا ہے۔ وقال الشیطن لما ۔۔۔۔۔۔ لھم عذاب الیم (14 : 22) “ اور شیطان کہے گا “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا ۔ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریادرسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لئے دردناک سزا یقینی ہے ”۔ خدا کی پناہ ، حقیقت یہ ہے کہ شیطان درحقیقت شیطان ہے۔ اس منظر میں یہ مکمل فارم میں ہے جس طرح مستکبرین ڈکٹیٹر اور مستضعفین بودے کردار کے لوگ اپنی صحیح فارم میں ہیں۔ یہ وہی شیطان ہے جو سینوں کے اندر وسوسہ اندازیاں کیا کرتا تھا ، لوگوں کو بدکرداریوں اور گناہوں کے لئے دھوکے دیتا تھا ، کفر کو لوگوں کے لئے مزین بناتا تھا۔ دعوت اسلامی کے سننے سے لوگوں کو روکتا تھا ، آج وہ انہیں نہایت ہی نیش زنی اور طعنہ زنی اور دردناک مزاح سے کہتا ہے کہ تمہاری اپنی غلطی ہے۔ اب یہ بھی اس کے بیان کردہ حقائق کا کوئی جواب نہیں دے سکتے کیونکہ وہ جو کچھ کہتا ہے اس کے مطابق تو آخری فیصلہ ہوچکا ہے۔ اب تو وہ سچی بات کہتا ہے لیکن بعد از وقت ۔ ان اللہ وعدکم وعد الحق ووعدتکم فاخلفتکم (14 : 22) “ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی پورا نہ کیا ”۔ اس کے بعد شیطان ایک نیا طعنہ دے کر انہیں چرکا لگاتا ہے کہ کیوں تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ، مجھے تم پر کوئی اقتدار تو حاصل نہ تھا۔ صرف یہ بات تھی کہ تم لوگوں نے اپنی شخصیت کو بھلا دیا ہے میرے اور تمہارے درمیان جو دشمنی تھی اس کو نظر انداز کردیا۔ اور تم نے میری غلط دعوت کو قبول کرلیا۔ اور انبیاء کی سچی دعوت کو ترک کردیا۔ وما کان لی ۔۔۔۔۔ فاستجبتم لی (14 : 22) “ میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا ”۔ اس کے بعد وہ انہیں مزید شرمندہ کرتا ہے اور کہتا ہے مجھے ملامت نہ کرو بلکہ تم خود قابل سرزنش ہو کہ تم نے میری اطاعت کی۔ فلا تلومونی ولو موا انفسکم (14 : 22) “ اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ”۔ اب وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور ان سے دستکش ہوجاتا ہے ، حالانکہ خود اس نے ان کے ساتھ وعدے کئے تھے اور ان کو امیدیں دلائی تھیں ، اور ان کے دل میں وسوسے ڈالے تھے کہ تمہارا کچھ بھی نہ بگڑے گا۔ اب جبکہ وہ فریاد کر رہے ہیں تو ان کی کوئی مدد نہیں کر رہا ہے۔ اور اگر وہ ان سے فریاد کرے تو وہ بھی کوئی مدد اس شیطان کی نہیں کرسکتے۔ ما انا بمصر خکم وما انتم بمصرخی (14 : 22) “ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں ، نہ تم میری ” ۔ اب تو ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی تعلق اور کوئی دوستی نہیں ہے۔ اب وہ اس بات سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہے کہ تم نے مجھے اللہ کا شریک بنایا۔ صاف صاف انکار کرتا ہے کہ میں نے تو ایسا نہیں کہا۔ انی کفرت بما اشرکتمون من قبل (14 : 22) “ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہو ”۔ شیطان اپنی تقریر ایک ایسی بات پر ختم کرتا ہے جو اس کے دوستوں کے لئے سخت حوصلہ شکن ہے۔ ان الظلمین لھم عذاب الیم (14 : 22) “ ایسے ظالموں کے لئے تو دردناک سزا یقینی ہے ”۔ یہ دیکھو شیطان کا کردار ! یہی تو ہے جو ان کو گمراہی کی طرف بلا رہا تھا اور وہ اس کے کہنے پر گمراہ ہوگئے تھے۔ ان کو رسول خدا کی طرف بلا رہے تھے اور ان لوگوں نے رسولان کی ایک نہ مانی۔ انکار کردیا۔ قبل اس کے کہ اس منظر پر پردہ گرجائے دوسری طرف سے ایک اہل ایمان کا گروپ نمودار ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آج قیامت کے دن سر خرو ہوگئے ہیں۔ ان کی نجات کا فیصلہ ہوگیا ہے۔
Ayah 14:23

وَ اُدْخِلَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ١ؕ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ Open ayah 14:23 in the Quran reader

“ بخلاف اس کے جو لوگ دنیا میں ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے رب کے اذن سے ہمیشہ رہیں گے ، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارکباد سے ہوگا ”۔

آیت نمبر 23 اب پردہ گرتا ہے۔۔۔ کیا ہی خوبصورت منظر ہے۔ دعوت اسلامی اور داعیوں اور جھٹلانے والوں اور سرکش ڈکٹیٹروں کی یہ کیا ہی خوبصورت کہانی ہے۔ ذرا پیچھے اس کہانی کے تمام مناظر پر دوبارہ نگاہ ڈالیں اور اس فضا کو ذہن میں رکھیں۔ پہلے منظر میں تحریک اسلامی اور جاہلیت کا مقابلہ اس کرۂ ارض پر دکھایا گیا۔ رسولان کرام کا گروہ سرکشوں کے مقابلے میں کھڑا تھا۔ واستفتحوا ۔۔۔۔۔ جبار عنید (15) من ورائہ ۔۔۔۔۔ صدید (16) یتجرعہ ولا۔۔۔۔۔۔ عذاب غلیظ (17) ( 14 : 15 تا 17) “ انہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یوں ان کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبار دشمن حق نے منہ کی کھائی ، پھر اس کے بعد آگے اس کے لئے جہنم ہے۔ وہاں اسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا جسے وہ زبردستی حلق سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اتار سکے گا۔ موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا ”۔ پھر آخرت کے اسٹیج پر بھی ہم نے ابھی ابھی وہ انوکھا منظر دیکھ لیا ہے۔ یہ سرکش ڈکٹیٹروں ، جابر بٹے ہوئے لوگوں اور خود شیطان کے عجیب مکالمے پر مشتمل تھا۔ اس بہترین قصے کی فضا میں اور نیک لوگوں کے اچھے انجام اور برے لوگوں کے برے انجام کے ان مناظر کے بعد اب اللہ تعالیٰ اچھی باتوں اور صحیح نظریہ حیات اور بری باتوں اور برے فلسفوں کی مثال دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں نیک و بد اور طیب و خبیث کی کشمکش انسان کی پوری زندگی میں جاری رہتی ہے۔ گویا ایک قصے کے خاتمے اور پردہ گرجانے کے بعد اب اس پوری کہانی پر تبصرہ کیا جاتا ہے۔
Ayahs 14:24–27

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ Open ayah 14:24 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہ طیبہ کو کس چیز سے مثال دی ہے ؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہیں ،

تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَا١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 14:25 in the Quran reader

ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں۔

وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ اِ۟جْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ Open ayah 14:26 in the Quran reader

اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے ، اس کے لئے کوئی استحکام نہیں ہے۔

یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ١ۙ۫ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠ Open ayah 14:27 in the Quran reader

ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت ، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے ، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے ”۔

آیت نمبر 24 تا 27 کلمہ طیبہ کی مثال اچھے درخت کی دی گئی ہے جو ہر وقت پھل دیتا ہے ، پھلتا پھولتا ہے ، اور کلمہ خبیثہ کی مثال بیکار جڑی بوٹیوں کی ہے ، جن کو کسان جہاں دیکھتا ہے بیکار اور مضر سمجھتے ہوئے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ کسی جگہ اس کے لئے قرار نہیں ہے۔ یہ تمثیل اور تمثیلی منظر انبیاء اور سرکش اور ڈکٹیٹروں کے قصے سے لیا گیا ہے۔ اس قصے میں انبیاء اور داعیوں کا جو انجام بتایا گیا ہے اور جھٹلانے والے سرکشوں کا جو انجام بتایا گیا ہے یہ تمثیل اس پر مبنی ہے۔ سلسلہ انبیاء ایک شجرہ طیبہ ہے جس کی جڑ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ یہ درخت تاریخ کے مختلف موسموں میں اپنا پھل دیتا رہا ہے ، کسی نہ کسی دور میں کوئی نہ کوئی نبی آیا ہے اور وہ اصلاح ، دعوت اور ایمان کا پھل دیتا رہا ہے جس میں بھلائی اور اچھی زندگی کا سامان فراہم ہوتا رہا ہے۔ لیکن یہ تمثیل اس سورة کی فضا اور اس قصے کی فضا کے ساتھ متناسب ہونے کے ساتھ ساتھ مطالب و معانی کا نہایت وسیع آفاق رکھتی ہے اور اس کے اندر گہرے حقائق ہیں۔ کلمہ طیبہ سے مراد کلمہ حق ہے ، جو ایک مفید اور اصل دار درخت کی طرح ہوتا ہے ، یہ حق مستحکم ، ٹھوس اور مفید ہوتا ہے۔ زمانے گزر جاتے ہیں لیکن یہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ باطل کی طوفانی ہوائیں اسے اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتیں اور ظلم و سرکشی کے کدال اسے اکھاڑ نہیں پھینک سکتے۔ اگرچہ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ ظلم اور سرکشی کے سخت طوفان اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ یہ درخت نہایت بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں فضاؤں میں بڑی دور تک جاتی ہیں۔ یہ سرکشی اور ظلم پر بڑی بلندی سے حقارت آمیز نظر ڈالتا ہے۔ اگرچہ بعض اوقات محسوس ہوتا ہے کہ شر اس کا بلند فضاؤں میں بھی مقابلے کر رہا ہے لیکن اس درخت کا پھل آتا ہی رہتا ہے ، پھر اس درخت کی تخم ریزی صالح انسانوں کے دلوں میں ہوتی اور اس کی پود لگتی ہی رہتی ہے اور یہ نسلاً بعد نسل بڑھتا ہی رہتا ہے۔ باطل جو کلمہ خبیثہ ہوتا ہے۔ یہ بےکار جھاڑی اور بوٹی کی طرح ہوتا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھاڑیاں بھی بہار دکھاتی ہیں اور گھنے جنگلات کی شکل اختیار کرلیتی ہیں اور بعض لوگ اس سے متاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل کا درخت حق سے بڑھ گیا ہے۔ لیکن اس کی جڑیں نہیں ہوتیں۔ معمولی طاقت صرف کرنے سے اسے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے۔ جس طرح فصل سے جڑی بوٹیوں کو اکھاڑ لیا جاتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھے لوگ اسے اکھاڑ پھینکتے ہیں اس لیے وہ قرار و بقا سے محروم ہوتا ہے کیونکہ ہوتا ہی خبیث ہے۔ یہ محض ایک مثال یا ضرب المثل ہی نہیں ہے ، نہ کوئی ایسی بات ہے جس کے ذریعہ نیک لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے ، بلکہ یہ تمثیل زندگی کی ایک حقیقت ہے۔ اگرچہ بعض اوقات اس حقیقت کے ظاہر ہونے میں دیر لگتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سچائی اور بھلائی کو کبھی بیخ دین سے نہیں اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا اور نہ یہ سچائی کبھی مرتی یا نابود ہوتی ہے اگرچہ شر کی گرفت سخت ہو اور شر اس کی راہ روک رہا ہو۔ اسی طرح خالص شر بھی دنیا میں پھلتا پھولتا نہیں۔ دراصل وہ اپنے ساتھ خیر کا کوئی حصہ ملاتا ہے ، اور جب اس شر کے ساتھ ملائے ہوئے خیر کے عناصر ختم ہوجاتے ہیں تو پھر شر اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔ اگرچہ بظاہر وہ بڑی قوت اور عظیم طاقت نظر آتا ہے ہو۔ بہرحال اصل حقیقت یہ ہے کہ خیر ہی خیرت سے ہوتا ہے اور شر ہمیشہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔ ویضرب اللہ الامثال للناس لعلھم یتذکرون (14 : 25) “ یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں ”۔ یہ ایسی مثالیں ہیں جو زمین پر حقیقت کی شکل میں موجود ہیں۔ لوگ ان پر نظر نہیں ڈالتے ، قرآن صرف لوگوں کو متوجہ کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ تذکرہ ہے۔ شجرۂ ثابتہ اور اس مستحکم درخت کی تعبیر میں حق کے ثبات کی تصویر کشی بھی ہے ، یوں کہ حق کی جڑیں گہری ہوتی ہیں اور وہ آسمان تک بلند شاخیں رکھتا ہے اور نظر بھی آتا ہے کہ وہ بلند ہے۔ حق کھڑا رہتا ہے اور یہ جتلاتا ہے کہ وہ مضبوط اور ٹھوس ہے ، اس کلمہ طیبہ اور شجرۂ طیبہ کے ذریعہ ایک تمثیل دے کر اللہ کیا چاہتا ہے ؟ یثبت اللہ ۔۔۔۔۔ وفی الاخرۃ (14 : 27) “ ایمان والوں کو اللہ اس قول ثابت کی بنیاد پر ، دنیا و آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے ”۔ اور طرح کلمہ خبیثہ کی تمثیل دے کر کہ وہ شجرۂ خبیثہ کی طرح ہے اور اس کے لئے کوئی ثبات وقرار نہیں ہے۔ ویضل اللہ الظلمین (14 : 27) “ اور ظالموں کو بھٹکا دیتا ہے ”۔ چناچہ انداز کلام اور اس سے مراد مفہوم کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ”۔ اللہ اہل ایمان کو اس زندگی میں ثبات وقرار عطا کرتا ہے اور یہاں ان کی بات پختہ ہوتی ہے آخرت میں انہیں مضبوط کرتا ہے ، وہاں ان کا انجام پختہ وہتا ہے کیونکہ ان کے دلوں کی دھرتی پر ایمان پختہ کھڑا ہوتا ہے۔ ان کی فطرت کا حصہ ہوتا ہے اور اس درخت سے ان کی زندگی سے اعمال صالحہ پھوٹتے رہتے ہیں۔ پے در پے یہ اعمال آتے ہیں۔ یہ درخت قرآن و سنت کی تعلیمات کے ذریعہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کے سامنے امید کی شمع ہوتا ہے ۔ اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا یقین ہوتا ہے ، یہ سب باتیں یا پھل حق ہیں اور ٹھوس ہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی طریقہ ہے۔ اور جن لوگوں کے ضمیر کی دھرتی میں یہ درخت کھڑا ہوتا ہے اس سرزمین میں قلق ، بےچینی ، حیرت اور اضطراب نہیں ہوتا۔ ظالموں کو اپنے ظلم اور شرک کی وجہ سے (قرآن میں ظلم کا اطلاق بالعموم شرک پر ہوتا ہے ) نور اور روشنی سے دور کردیا جاتا ہے۔ یہ لوگ اوہام و خرافات کی تنگ و تاریک وادیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ یہ ہوائے نفس کی مختلف راہوں پر چلتے ہیں۔ اللہ کی ایک ہی راہ سے محروم ہوتے ہیں ، تو اللہ اپنی سنت جاریہ کے مطابق پھر ان کو مزید گمراہ کرتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے خود ظلم ، تاریکی اور ہوائے نفس کی بندگی کی راہ کو اختیار کیا۔ تو یہ بھٹکتے رہے اور بدی کی راہوں میں ادھر ادھر بھاگتے رہے۔ ویفعل اللہ ما یشاء ( 14 : 27) “ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے ”۔ اس کا ارادہ بےقید ہے ، ٹھیک ہے کہ وہ ایک ناموس فطرت جاری کرتا ہے لیکن وہ خود اپنے ناموس فطرت کا پابند نہیں ہے ۔ البتہ اس کے قانون پر جو چلے وہ اس کو پسند کرتا ہے۔ اگر وہ چاہے تو اپنے جاری کئے ہوئے ناموس فطرت کو بدل بھی دیتا ہے کیونکہ اللہ کو روکنے والی کوئی قوت نہیں ہے۔ وہ جس طرح چاہتا ہے ، وہی ہوتا ہے۔ اس تبصرے سے رسولان کرام کے عظیم قصے ، اور کہانی کی بات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ دعوت اسلامی کی کہانی تھی۔ اس کا پہلا حصہ اس سورة کے آغاز میں ایک بڑے حصے میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں حضرت ابراہیم ابو الانبیاء کی کہانی تھی۔ پھر چند دوسرے انبیاء کی کہانی تھی جس کی شاخیں تاریخ کے اندر دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور یہ کلمہ طیبہ کے درخت کے مالی تھے جو حق کی طرح پھلتا پھولتا تھا۔ یہ کلمہ طیبہ جو یہ سب پیغمبر لے کر آئے یہ شجرۂ طیبہ کی طرح تھا۔ یہ کلمہ توحید تھا ، تمام انبیاء کا شجرۂ طیبہ ایک ہی تھا ، ایک ہی پھل دیتا تھا ، یہ کلمہ توحید تھا اور تمام انبیاء کے ہاں یہ کلمہ ایک رہا اور دعوت بھی ایک ہی رہی۔ یہ تھی اسلام اور جاہلیت کے درمیان طویل کشمکش۔ اس کی طرف ہم نے اس پوری سورة میں جا بجا سر سری اشارات کئے ہیں۔ میں اس بات کو ضروری سمجھتا ہوں کہ ان اشارات پر دوبارہ قدرے غور کیا جائے۔ چناچہ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان ایک ہی قافلہ ہے۔ آدم (علیہ السلام) سے ادھر یہ قافلہ رواں دواں ہے اور رسولان کرام اس قافلے کے قائد ہیں۔ تمام انبیاء کی دعوت ایک ہی نظریہ و عقیدہ کی طرف تھی۔ ایک آواز انہوں نے بلند کی اور ایک ہی طریق کار پر انہوں نے کام کیا۔ سب کی دعوت یہ تھی کہ الٰہ اور حاکم ایک ہی ہے ، وہی رب ہے ، اور اس کے ساتھ کوئی اور الٰہ اور رب اور حاکم نہیں ہے ، اور اہل ایمان کو اس کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے ۔ نہ اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ میں آنا چاہئے اور نہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا سہارا سمجھنا چاہئے۔ پس اللہ وحدہ کو ایک سمجھے اور عقیدۂ توحید کی وہ تاریخ جسے آج کل علماء “ تقابل ادیان ” بتلاتے پھرتے ہیں ، کہ پہلے لوگ متعدد الہٰوں کو مانتے تھے۔ پھر دو الہٰوں کو ماننے لگے یعنی “ خیر و شر کے الٰہ ، اس طرح لوگ پہلے شجر وحجر ، سورج ، چاند ، ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے تھے اور پھر آخر میں انہوں نے الٰہ واحد کی پوجا شروع کردی۔ یوں ان کے نظریات میں ارتقاء ہوا اور انسانیت کا علم و فلسفہ ترقی کرتا رہا۔ اسی طرح ان کی سوسائٹی بھی ترقی کر کے ، ایک بادشاہ کی بادشاہی کے قیام تک جا پہنچی۔ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ جب سے انسانی تاریخ شروع ہوئی ہے تمام رسولوں نے عقیدۂ توحید کی تبلیغ کی ہے۔ تمام رسولوں کی رسالت اور دعوت میں یہی بنیادی عنصر تھا اور اس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ جس قدر معروف سماوی دین ہیں ، قرآن کریم کے مطابق ان کی دعوت یہی تھی۔ اگر تقابل ادیان کے علماء اپنی بات اس طرح کرتے کہ رسولوں نے جو عقیدۂ توحید آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک بیان کیا۔ اس کے بعد سمجھنے کے لئے انسانوں کے فہم و ادراک میں یوں ارتقاء ہوا کہ رسولان کرام کی مسلسل جدو جہد کی وجہ سے عوام الناس کے اذہان میں یہ روشنی پھیلتی چلی گئی اور آخر میں اس طویل جدو جہد کے لئے زیادہ لوگ اللہ کے دین ، عقیدہ توحید کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوگئے تو ان علماء تقابل ادیان کی بات معقول نظر آتی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس منہاج بحث و تحقیق سے متاثر ہیں ، جو یورب میں مروج ہے۔ اس منہاج کی تہ میں دراصل کنیا کے خلاف عداوت دفن ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دور جدید کے مسلم مفکرین نے بھی اس کا خیال نہیں رکھا۔ بہرحال تقابل ادیان دانستہ و نا دانستہ صحیح اسلامی اور دینی سوچ کے مخالف چلتے ہیں اور یہ انداز ثابت کرتے ہیں کہ ادیان کی بنیاد وحی پر نہیں ہے بلکہ دین بھی دراصل انسانی سوچ کا ارتقاء ہے۔ جس طرح دوسرے انسانی افکار ، فلسفوں اور تجربوں میں ارتقاء ہوتا رہا ہے اسی طرح دینی فکر بھی ارتقاء پذیر رہی ہے۔ غرض اس قدیمی دشمنی اور اس سوچ ہی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے دور کے ماہرین علماء تقابل ادیان اس طرز پر بات کرتے ہیں اور اپنی اس سوچ اور فکر کو علمی اور تحقیقی سوچ کہتے ہیں۔ اگر کسی اور ملک و ملت کا کوئی فرد اس منہاج سے دھوکہ کھاتا ہے تو کھائے مگر ایک مسلمان اس منہاج سے ایک منٹ کے لئے بھی متاثر نہیں ہو سکتا۔ مسلمانوں کے پاس اپنے دین کے حوالے سے ایک صحیح منہاج فکر موجود ہے اور ان کے پاس دین کے حوالے سے ان کے اپنے کچھ طے شدہ اصول ہیں ، اور اپنا منہاج بحث موجود ہے۔ غرض تمام انبیاء انسانیت کے سامنے ایک ہی دعوت پیش کرتے رہے۔ ایک ہی نظریہ دیتے رہے۔ اور اسی منہاج کے مطابق انہوں نے اپنے اپنے دور میں جاہلیت کا مقابلہ کیا۔ قرآن کریم اس بات کو واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ تمام رسول یہ دعوت لے کر آئے ، یہ ایک ہی نظریہ پیش کر کے ، ہر دور میں ایک ہی طرح جاہلیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ اور اس معاملے میں قرآن نے زمان و مکان کے حوالے سے کسی ارتقاء کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمیں دعوت فکر دیتی ہے کہ اسلام ، اسلام ہے اور جاہلیت ، جاہلیت ہے۔ اسلام ہمیشہ اسلام رہا ہے اور جاہلیت ہمیشہ جاہلیت رہی ہے۔ تاریخ کے کسی دور میں ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں رہا ہے۔ جب اسلام کی بنیاد پر کوئی سوسائٹی بنی ہے ، اس کے ایک ہی مہ و سال رہے ہیں اور جب بھی جاہلیت کی اساس پر کوئی اکٹھ ہوا ہے وہ بھی ایک جیسا رہا ہے۔ مثلاً جاہلیت کی پہلی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے اور اس میں حاکم اللہ نہیں ہوتا بلکہ کوئی اور ہوتا ہے۔ پرورش کرنے والا بھی اور ہوتا ہے ، چاہے کوئی متعدد الہٰوں کا قائل ہو یا اللہ ایک سمجھتا ہو مگر رب اور حاکم متعدد ہوں تو بھی یہ سوسائٹی ایک جاہلی سوسائٹی ہوگی اور اس سوسائٹی میں جاہلیت کے تمام اوصاف و علامات موجود ہوں گی۔ رسولوں کی دعوت کی بنیا یہ رہی ہے کہ اللہ کو ایک سمجھاجائے اور تمام جھوٹے خداؤں کا انکار کردیا جائے۔ دین صرف اللہ کا ہو ، صرف اللہ کے دین و شریعت کی اطاعت ہو اور صرف اللہ کو حاکم اور قانون ساز تصور کیا جائے۔ یہ نظریہ براہ راست اس نظریہ کی ضد ہے جو جاہلیت کی اساس رہا ہے۔ جونہی کوئی شخص یہ اعلان کرتا ہے کہ حاکم بھی اللہ ہوگا ، قانون بھی اللہ کا ہوگا تو ہر جاہلیت اسے اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے ، خصوصاً جب لوگ اس نظریہ کے گرد جمع ہو کر ایک جماعتی زندگی اختیار کرلیں اور خصوصاً یہ افراد جاہلیت سے چھٹ چھٹ کر آرہے ہوں اور ایک اکٹھ اختیار کر رہے ہوں ، ایسی صورت میں نظریہ جاہلیہ اور حاکم جاہلیت ایسے افراد کے اجتماع کو اپنے خلاف ایک بغاوت سمجھتے ہیں۔ پھر ہر جاہلی حکومت یہ خیال کرتی ہے کہ ان لوگوں کا عقیدہ مشکوک ہے۔ حالانکہ یہ امور ایسے ہیں کہ ہر دور میں یہ تحریک اسلامی کے لئے لابدی ہیں کہ وہ اپنے نظریات کا کھل کر اعلان کرے۔ پھر ان کی اساس پر جمعیت تشکیل دے اور پھر یہ لوگ مل کر کام کریں۔ ہر دور میں یہ طریق کار ضروری ہے۔ ہر دور میں نظام جاہلیت کا ایک نظام ہوتا ہے اور اس کی عضویاتی تشکیل ہوتی ہے۔ جب وہ نظام دیکھتا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک متضاد نظریاتی نظام آگیا ہے اور ایک نئی سوسائٹی بھی بن رہی ہے جو ان کی سوسائٹی کے بالکل متضاد عضویاتی تشکیل اور نظام رکھتی ہے۔ کیونکہ جاہلی سوسائٹی کی تہ میں متعدد الہٰوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ حاکم اس میں متعدد ہوتے ہیں اور اس میں انسان انسانوں کے غلام اور تابع ہوتے ہیں جبکہ اسلامی سوسائٹی میں ایک الٰہ اور حاکم کا نظریہ ہوتا ہے اور اس میں تمام لوگ اللہ کے بندے ہوتے ہیں۔ کوئی کسی کا بندہ نہیں ہوتا تو پھر جاہلی سوسائٹی اس نئی سوسائٹی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ خطرے میں اضافہ اس بات سے بھی ہوجاتا ہے کہ یہ نو تشکیل شدہ اسلامی سوسائٹی روز بروز جاہلی سوسائٹی کے جسم کو کھاتی چلی جاتی ہے۔ ابتداء میں جب اسلامی سوسائٹی بنتی ہے تو خطرہ کم ہوتا ہے لیکن جب وہ جاہلیت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ لوگوں کو اپنی غلامی سے نکالو اور تم سب اللہ کی غلامی میں داخل ہوجاؤ۔ چونکہ آغاز رسل سے یہی طریق کار رہا ہے ، دعوت اسلامی اور تحریک اسلامی کا اس لیے آغاز ہی سے ہر دور میں جاہلیت نے اسلامی تحریک کو اپنے وجود کے خلاف چیلنج سمجھا ہے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے اور قدرتی معلوم ہوتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی قائم وجود کسی حملہ آور کے مقابلے میں اپنی حفاظت کرتا ہے اور جس طرح ہر وہ شخص اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے جس نے عوام سے حاکمیت غصب کی ہوئی ہوتی ہے۔ جب جاہلیت محسوس کرتی ہے کہ تحریک اسلامی اس کے وجود کے لئے خطرہ بن گئی ہے تو وہ بھی اس مقابلے کو موت وحیات کا مسئلہ سمجھتی رہی ہے۔ جاہلیت نے تحریک اسلامی کے ساتھ کبھی بھی نرمی ، مصالحت اور امن و سلامتی کے اصول کو نہیں اپنایا۔ کبھی بھی اس معرکے میں جاہلیت نے اپنے آپ کو دھوکہ نہیں دیا۔ نہ رسولان کرام نے اس معرکے میں کبھی اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے۔ نہ ان کے بعد کسی مومن داعی نے اس سلسلے میں اپنے آپ کو دھوکہ دیا ہے۔ جاہلیت کا اعلان یہ رہا ہے۔ وقال الذین ۔۔۔۔۔ فی ملتنا (14 : 13) “ اور کفار نے ہمیشہ ان کے پاس آنے والے رسولوں کو یہ کہا کہ تو ہم اپنی سرزمین سے نکال دیں گے یا تمہیں واپس ہماری ملت اور دائرہ اقتدار میں آنا ہوگا ”۔ یہ لوگ رسولوں اور مومنوں کا علیحدہ وجود تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ ان کا اپنا کوئی نظریہ ہو یا اپنی کوئی جماعت ہو۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ واپس ہماری پارٹی میں آجاؤ یا جلاوطن ہونے کے لئے تیار ہوجاؤ۔ واپس آجاؤ، ہماری سوسائٹی میں مدغم نہ ہوجاؤ، پگھل جاؤ اور اپنی علیحدہ سوسائٹی اور اجتماعیت مت بناؤ۔ لیکن رسولان کرام نے بھی اس بات کو کبھی قبول نہیں کیا کہ وہ ملت جاہلیہ میں پگھل جائیں اور مدغم ہوجائیں۔ اپنا وجود ختم کردیں اور اپنی شخصیت کو ختم کردیں۔ اس لیے کہ ان کی سوسائٹی بالکل ایک نئے نظریہ ، نئے آئین و دستور منشور پر قائم ہوتی ہے جو جاہلیت کے نظریہ اور دستور ومنشور سے متضاد ہوتا ہے۔ رسولوں نے اس طرح کا جواب بھی نہیں دیا اور عمل بھی نہیں کیا جو ہمارے دور کے بعض جاہل لوگ کہتے ہیں کہ جاہلی سوسائٹی میں مدغم ہوجاؤ اور اندر اندر سے کام کرد ، اندر جا کر اپنے عقیدے کو پھیلاؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی جاہلی معاشرے میں اہل دعوت ایک نیا اسلامی نظریہ لے کر اٹھتے ہیں تو اس نظریہ کی اساس پر خود بخود ان کی سوسائٹی ، ان کی قیادت اور ان کی وفاداریاں الگ ہوجاتی ہیں ۔ یہ فطری بات ہے اس میں کسی کے ارادے کو دخل نہیں ہوتا۔ کسی بھی سوسائٹی کی تشکیل کے لئے فطری انداز ہے جو طبعی ہے اور لازمی ہے۔ اس عمل سے اگر کسی جاہلی سوسائٹی کے اندر رد عمل ہوتا ہے کہ لوگوں کو صرف ایک خدا کی بندگی ، حاکمیت اور قانون اور دستور و منشور پر جمع کیا جا رہا ہے تو یہ رد عمل بھی طبیعی ہوتا ہے۔ اس جاہلی نظام کے تمام کل پرزے پھر اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی مسلمان اس جاہلی سوسائٹی کا کل پرزہ بنتا ہے تو یہ دراصل اس جاہلی سوسائٹی کا خادم ہوگا ، اسلام کا نہ ہوگا جس طرح بعض احمق یہ سمجھتے ہیں کہ جاہلیت کا پرزہ بن کر اسلام کی خدمت کرو۔ اس کے بعد وہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ جو کسی بھی دعوت کے لئے مقدر ہے ، اور جو شخص دعوت اسلامی کا کام کرتا ہے خواہ کسی زمان و مکان میں ہو ، وہ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے دوستوں کے ساتھ جو نصرت کا وعدہ فرمایا ہے ضرور یہ کہا ہے کہ میری نصرت آئے گی اور انہیں زمین میں اقتدار ملے گا تو یہ وعدہ اس وقت تک حقیقت کا روپ اختیار نہ کرے گا جب تک وہ کسی جاہلی سوسائٹی سے ممتاز ہو کر علیحدہ نہ ہوجائیں ، اور وہ اس دعوت کی بنیاد پر اپنی قوم سے الگ ہو کر اپنی سوسائٹی اور اپنی جمعیت تشکیل نہ دے لیں۔ اگر وہ کسی جاہلی سوسائٹی کا ہی حصہ رہیں “ اس میں چلیں پھریں ، اسی کے کل پرزے ہوں ، تو اگرچہ وہ اسلام کے نظریہ حیات پر یقین رکھتے ہوں ، اس کے لئے کام کرتے ہو ، اللہ کی اس نصرت اور وعدے میں تاخیر ہوجائے گی۔ یہ وہ لازمی ، عظیم اور بنیادی شرط ہے جس پر دعوت اسلامی کا کام کرنے والوں نے مکمل عمل کرنا ہے۔ اس بات کو انہیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے۔ آخر میں ایک پہلو دوسرا بھی قابل غور ہے ، قرآن کریم رسولان کرام کے اس قافلے کو کس خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ یہ قافلہ پوری انسانی تاریخ میں جاہلیت کا نہایت ہی خوبصورتی اور ثابت قدمی سے مقابلے کرتا چلا آرہا ہے۔ یہ بیان اس لیے خوبصورت ہے کہ اس قافلے کے مسافر جس حق کے حامل ہیں وہ نہایت ہی سادہ ، فطری اور خوبصورت ہے۔ یہ مسافر مطمئن ہیں ، سنجیدہ اور اپنی راہ پر ۔۔۔۔ ہوئے چلے آرہے ہیں۔ قالت لھم رسلھم ۔۔۔۔۔۔ فلیتوکل المومنون (14 : 11) “ ان کے رسولوں نے ان سے کہا “ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان۔ لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ، نوازتا ہے ”۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سند لا دیں ۔ سند تو اللہ ہی کے اذن سے ہو سکتی ہے اور اللہ ہی پر اہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہئے ”۔ آنکھوں کو چکا چوند کرنے والی یہ خوبصورتی ، اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ یہ ایک متحدہ قافلہ ہے جو ہر زمان و مکان میں ، متحدہ جاہلیت کا مقابلہ کرتا چلا آیا ہے ، ہر دور میں اور ہر قوم میں۔ پھر یہ خوبصورتی ایک دوسرے پہلو سے بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ اس دعوت اور اس حق کا جس کے یہ رسولان کرام حامل ہیں ، اور اس حق کا جو اس کائنات میں پوشیدہ باہم گہرا رابطہ ہے کیونکہ رسول یہ کہتے ہیں۔ افی اللہ شک فاطر السموت والارض (14 : 10) “ کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے ” ۔ اور دوسری آیت میں ہے۔ وما لنا ۔۔۔۔۔۔ ھدنا سبلنا (14 : 12) “ اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟” اور دوسری جگہ ہے۔ الم تر ان اللہ خلق السموت ۔۔۔۔۔۔۔ بخلق جدید (19) وما ذلک علی اللہ بعزیز (20) (14 : 19- 20) “ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟ وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔ ایسا کرنا اس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے ”۔ اس طرح اس کائناتی سچائی اور دعوت اسلامی کی سچائی کے درمیان گہرا رابطہ قائم ہوتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذات باری جو برحق ہے وہ ان دونوں سچائیوں کا سرچشمہ ہے اور یہ سچائیاں گہری مستحکم اور دور تک اس کائنات میں جڑیں رکھتی ہیں۔ کشجرۃ خبیثۃ ۔۔۔۔۔۔۔ من قرار (14 : 26) “ جس طرح ایک خبیث درخت ہوتا ہے جسے زمین کے اوپر سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اسے زمین پر قرار نصیب نہیں ہوتا ”۔
Ayahs 14:28–30

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ Open ayah 14:28 in the Quran reader

“ تم نے دیکھا ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ؕ وَ بِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 14:29 in the Quran reader

یعنی جہنم ، جس میں ہو جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ Open ayah 14:30 in the Quran reader

اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کرلیے تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں ؟ ان سے کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے۔

درس نمبر 115 تشریح آیات 28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52 سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔ رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔ اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔ سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔ آیت نمبر 28 تا 30 کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔ کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی تاریخ کو پڑھا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تھا اور پڑھا تھا تو قرآن نے یہ انجام ان کے سامنے کس قدر موثر ، ڈرامائی انداز میں اسٹیج کیا ہے۔ ابھی ابھی اس کے مناظر نظروں سے گزرے ہیں ، اور یہ مناظر اس قدر دلچسپ تھے کہ گویا (Living) تھے اور عنقریب وہ ان کو عملاً اسی طرح دیکھیں گے ۔ کیونکہ نصوص قرآن وہی مناظر پیش کرتی ہیں جو ہونے والے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ قرآن ان کو اس قدر موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا واقع ہوگئے ہیں۔ غرض ان لوگوں کے طرز عمل میں تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نعمت کے بدلے وہ کفر خرید رہے ہیں اور جس توحید کی دعوت ان کو دی جا رہی ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔ وجعلوا ۔۔۔۔۔۔ عن سبیلہ (14 : 30) “ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کئے ہیں تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے بھٹکا دیں ”۔ یعنی یہ اللہ کے ساتھ دوسری شخصیات کو برابر کرتے ہیں اور ان کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی حاکمت کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان دوسری شخصیات میں اس طرح خصیوصیات تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی خصوصیات ہیں حالانکہ اللہ کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ یہ شریک اس لیے ٹھہرائے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ وحدہ اور صراط مستقیم سے بد راہ کردیں ، کیونکہ اللہ کی راہ کے سوا وہ اور جن راہوں پر چلیں گے وہ شیطانی راہیں ہوں گی۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم کے کبراء اور لیڈروں نے عمداً اس قوم کو اللہ کی راہ سے بدراہ کیا اور اللہ کو الٰہ واحد قرار دینے کے بجائے لوگوں کو دوسرے الہٰوں کی قیادت میں دے دیا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ان دوسرے الہٰوں کے روپ میں یہ لوگ اپنی قیادت اور سیادت بھی چمکاتے تھے جبکہ عقیدۂ توحید ہر سرکش ڈکٹیٹر کی قیادت کے لئے اور اس کے مفادات کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر سوسائٹی میں طاغوتی قوتوں کا یہی رویہ ہوتا ہے جس طرح زمانہ سابقہ کی جاہلیتوں میں یہی صورت رہی اسی طرح دور جدید کی جاہلیت میں بھی یہی صورت ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر اپنی قیادت کسی طاغوتی قوت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ دور جدید میں لوگ اپنی حریت اور آزادی ایسے ہی طاغوتی الہٰوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ ان کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں ، ان سے قانون اور شریعت اخذ کرتے ہیں ، اور اللہ کے قانون کے بجائے ان کبراء سے قوانین اور ہدایات اخذ کرتے ہیں۔ اللہ کی توحید کے نظریہ کو جب اس مفہوم تک وسعت دی جاتی ہے کہ حاکم بھی اللہ ہے ، اور قانون ساز بھی اللہ تو دور جدید کے لیڈر بھی جاہلیت اولیٰ کی طاغوتی قوتوں کی طرح تحریک اسلامی کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ تحریک اسلامی کو اپنی خدائی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے پھر ہر طریقے سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح لوگ آج پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعہ غیر اللہ سے قانون اخذ کرتے ہیں ، جو اللہ کے احکام کے خلاف ہوتے ہیں ، بلکہ اللہ کے حرام کو حلال کرتے ہیں اور اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی دراصل شرک کرتے ہیں اور ایسے لیڈر اور قانون ساز اللہ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور یوں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیں کہ مزے کرلو ، تمہارے چند دن ہیں ، جب یہ مہلت ختم ہوگی تو تم اور تمہاری ایسی قیادت سب واصل جہنم ہوگی۔ اے پیغمبران کو اپنے اس حال پر چھوڑ دے اور اب میرے بندوں کو وعظ دیں جو ایمان لا چکے ہیں ، جو اللہ کی اس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمت کو کفر کے بدلے نہیں بیچتے ، کہ وہ میرا شکر ادا کریں ، میری عبادت کریں اور اطاعت کریں۔ ان کفار کو چھوڑ کر آپ اپنی پوری توجہ اہل اسلام کو دیں۔
Ayah 14:31

قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ Open ayah 14:31 in the Quran reader

“ اے نبی ﷺ ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں ان سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے (راہ خیر میں ) خرچ کریں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہو سکے گی ”

آیت نمبر 31 میرے بندوں سے کہیں کہ میرا شکر اقامت صلوٰۃ کے ذریعہ ادا کریں۔ نماز شکر الٰہی ادا کرنے کا مخصوص ترین طریقہ ہے۔ پھر میرا شکر ادا کرنے کا اہم طریقہ انفاق فی سبیل اللہ ہے جو کچھ میں نے ان کو دیا ہے ، اس سے اعلانیہ اور خفیہ خرچ کریں۔ خفیہ اس وقت جب لینے والوں کی عزت نفس کی حفاظت بھی مقصود ہو اور دینے والوں کی مروت بھی محفوظ ہو ، کیونکہ جو لوگ تفاخر ، ظاہر داری اور مقابلے کے لئے خرچ کرتے ہیں وہ انفاق فی سبیل اللہ نہیں ہوتا ، اور اعلانیہ وہاں خرچہ کریں جہاں صدقات واجبہ کا ادا کرنا مقصود ہو ، اور جہاں انفاق کو مثالی بنانا مقصود ہو ، دونوں طریقوں میں سے کسی طریقے کا انتخاب کرنے والے کے ضمیر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اور ان کو یہ بھی کہہ دیں کہ انفاق کا بھی ایک وقت ہے ، ایک مہلت ہے ، جب مہلت ختم ہوگئی تو پھر نہ تجارت ہوگی ، نہ مال بڑھے گا اور نہ دوستیاں ہوں گی اور نہ انفاق کے لئے ہاتھ میں کچھ ہوگا۔ وہاں تو اچھے اعمال ہی کام آئیں گے۔ من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) ” قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نواز ہو سکے گی “۔ اب اللہ تعالیٰ اس کائنات کی عظیم کتاب کو کھول کر اپنے انعامات گنواتے ہیں۔ یہ عظیم اور ناقابل شمار انعامات ہیں۔ اس کتاب کے بڑے بڑے صفحات ہیں اور ان کے اندر تاحد نظر اقسام والوان کے انعامات ہیں۔ دور تک پھیلے ہوئے آسمان ، یہ زمین ، شمس و قمر ، رات اور دن کی گردش ، آسمانوں سے نازل ہونے والا پانی ، زمین سے اگنے والے انواع و اقسام کے نباتات ، سمندر ، سمندری مخلوق اور جہاز رانی ، زمین کی ندیاں ، نالے اور دریا ، غرض وہ سب کچھ جو انسان رات اور دن دیکھ رہا ہے۔ لیکن لوگ اپنی جہالت اور جاہلیت کی وجہ سے ان صفحات کو نہیں پڑھتے۔ ان میں غوروفکر نہیں کرتے۔ بیشک انسان ظالم اور ناشکرا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کو چھوڑ کر کفر اپناتا ہے۔ اللہ کے ساتھ شریک بناتا ہے حالانکہ اللہ وحدہ خالق و رازق ہے اور اس پوری کائنات کو اسی نے انسان کے لئے مسخر رکھا ہے۔