14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 14:32–34

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ Open ayah 14:32 in the Quran reader

” اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کئے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا۔

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآئِبَیْنِ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ Open ayah 14:33 in the Quran reader

جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا۔

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ١ؕ وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠ Open ayah 14:34 in the Quran reader

جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔ اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بےانصاف اور ناشکرا ہے “۔

آیت نمبر 32 تا 34 یہ ایک زبردست تنقیدی حملہ ہے ، انسانی شعور پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں۔ زمین و آسمان کے بڑے بڑے اجرام و پہاڑ ، شمس و قمر ، گردش لیل ونہار ، بارشیں اور پھل ، یہ سب کوڑے اور سنگ باری کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں اس ظالم انسان کے شعور کے لئے سخت کاٹ بھی ہے اور پر محبت اور پرسوز آواز بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل فکر کے لئے اس کتاب کے معجزات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر اور نفس انسانی کی الجھنوں کو عقیدۂ توحید کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اور ہر چمک کو ایک اشاراتی رنگ دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی نفس کے تصورات اور اشراقات میں سے ہر اشراق سے اشارات اخذ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یوں یہ کتاب اس پوری کائنات کو اللہ کے نشانات اور دلائل کی نمائش گاہ بنا دیتی ہے ، جس میں دست قدرت کے عجائبات جگہ جگہ سجے ہوئے ہیں۔ ہر منظر اور ہر سٹال پر قدرت الہٰیہ کے عجائبات کے طومار لگے ہوئے ہیں۔ ہر تصور اور ہر رنگ اور ہر سایہ میں قدرت ہی قدرت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم وجود باری کے مسئلہ پر منطقی مناظرہ نہیں شروع کرتا جس میں ۔۔۔۔۔ کے لاہوتی اور ناسوتی مباحث ہوں۔ فلسفیانہ ، مجرد ، مردہ ، خشک مباحث ، جن میں قلب انسانی کے لئے کچھ تروتازگی نہیں ہوتی بلکہ نفس انسانی پر یہ مباحث بوجھ ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس مسئلہ کو نہایت موثر ، اشاراتی انداز دیتا ہے اور کائنات کے مناظر ، عجائبات ، فطری دلچسپ اور بدیبیات کے ذریعہ نہایت ہی خوبصورت انداز میں اور نہایت منطقی ترتیب سے اسے پیش کرتا ہے۔ یہ عظیم اور بھر پور منظر ہے ، جس کے مناظر اس لائن پر چلتے ہیں جس میں ، اللہ کے بندوں پر اس کے انعامات و اکرامات دکھائے گئے ہیں۔ دست قدرت کی کاری گری کے عجیب نمونے ہیں۔ اس لائن پر پہلے زمین و آسمان کے وسیع فاصلے اور لاتعداد عجائبات آتے ہیں۔ پھر بارشوں کے مناظر اور ان کے نتائج نباتات اور پھول پھل آتے ہیں ، اور یہ سب کچھ زمین پر پانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، پھر اس راہ میں ہمارے سامنے سمندروں کے نظارے آتے ہیں جس میں کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں جو لوگوں کی ضروریات اٹھائے ہوئے ہیں ، پھر ہمارے سامنے ایک نیا نظارہ آتا ہے جو شمس و قمر اور زمین سے متعلق ہے جس میں ان کی گردش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گردش لیل و نہار کے مناظر اور پھر ان تمام انعامات کی ایک مجموعی جھلک جس میں انسان کی ہر ضرورت اور خواہش اور ان کے پورے ہونے کی جھلک دکھالی گئی ہے۔ واتکم من کل ۔۔۔۔۔۔۔ لا تحصوھا (14 : 34) ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “ ۔ اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ان چیزوں کے بعد بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ تمہارا اندازہ اور فیصلہ کس قدر ظالمانہ ہے کہ تم اللہ کی مخلوقات میں سے زمین و آسمان کی ایک ادنیٰ مخلوق کو پوجتے ہو۔ وانزل من السماء ۔۔۔۔۔ رزقا لکم (14 : 32) ” اور جس نے آسمانوں سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کئے “۔ زراعت تو انسانی رزق کا سب سے بڑا اور پہلا ذریعہ ہے ، اور تمام ظاہری انعامات کا تعلق زراعت سے ہے۔ بارش اور اس کے نتیجے میں نباتات کا پیدا ہونا اس قانون فطرت کے تابع ہے جو اللہ نے اس کرۂ ارض پر جاری کیا ہے۔ یہ قانون قدرت بارشیں برساتا ہے ، نباتات اگاتا ہے اور پھر اس سے مختلف قسم کے پھل تیار ہوتے ہیں اور یہ سب موافقات اور سہولیات انسان کے لئے ہیں۔ رزق کے ایک دانے کی تشکیل اور فراہمی کے اندر کسی قدر عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً زمین ، پانی ، سورج کی شعاعیں اور ہوا۔ لوگ لفظ رزق سن کر صرف مال و دولت کی آخری شکل کو ذہن میں لاتے ہیں حالانکہ انسانی رزق کے دائرے میں بہت سی چیزیں آتی ہیں اور رزق کا مکمل نظام بہت ہی گہرا ہے ۔ اس کرۂ ارض پر انسانی زندگی کے قیام کے لئے کم از کم جس چیز کی ضرورت ہے اس کی فراہمی کے لئے یہ کائنات بڑے بڑے اجرام فلکی کو حرکت دے رہی ہے۔ اس کے اندر ایک نہایت گہرا قانون قدرت کام کرتا ہے اور ہزارہا سہولیات اور موافقات فراہم ہوتے ہیں جو باہم ہمقدم ہو کر کام کرتے ہیں۔ تب جا کر انسان کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے کم سے کم معیار پورا ہوتا ہے۔ اگر ان موافقات میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو اس حضرت انسان کا زندہ رہنا ہی محال ہوجائے اور اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس آیت میں جن اجرام کی حرکت اور خدمت کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے رزق کے اسباب فراہم کرتے ہیں ، یہ کافی و شافی ہے اور یہ تمام دست قدرت کے ہیں۔ وسخرلکم الفلک اتجری فی البحر بامرہ (14 : 32) ” اور جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے “۔ کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے عناصر میں یہ خواص رکھے جن کی وجہ سے کشتی پانیوں پر چلتی ہے اور انسان کو ایسے عقلی خواص دئیے جس نے یہ باتیں معلوم کیں۔ یہ سب کام انسان اللہ کے امر سے کرسکتا ہے۔ وسخر لکم الانھر (14 : 32) ” اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان دریاؤں کے بہایا ، ان کے نتیجے میں زندگی کے دریا بہنے لگے اور انسانوں کے لئے خیر کے سوتے پھوٹ پڑے۔ پھر ان دریاؤں میں مچھلیاں اور بھلائی کی دوسری اشیاء ، یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیں۔ پرندے ہیں یا چرندے ہیں ، انسان ان سے استفادہ کرتا ہے۔ وسخر لکم الشمس والقمر دائبین (14 : 33) ” اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں “ ۔ انسان براہ راست شمس و قمر سے استفادہ تو نہیں کرسکتا جس طرح پانی ، فصلوں اور پھلوں سے ، سمندروں اور کشتیوں اور نہروں اور دریاؤں سے براہ راست کرتا ہے لیکن شمس قمر کے آثار انسان کے لئے مفید ہیں۔ ان سے انسان زندگی کا مواد لیتا ہے اور قوت حاصل کرتا ہے کیونکہ ان کو اللہ نے ایسے قانون قدرت کا پابند کردیا ہے کہ یہ مسلسل انسان کے لئے اس کی ضرورت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی کی ضروریات اور جسم انسانی کے خلیے سورج کی ان شعاعوں سے ترکیب ، تجدید اور تغیر پاتے ہیں۔ وسخرلکم الیل والنھار (14 : 33) ” اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان کو اللہ نے انسانی ضرورت کے مطابق بنایا ، گردش لیل و نہار کا موجودہ نظام اس کرۂ ارض پر حیات انسانی کے لئے اور اس کی سرگرمیوں کے لئے از بس ضروری ہے۔ اگر یہاں ہمیشہ دن ہوتا یا ہمیشہ رات ہوتی تو انسان سرے سے زندہ ہی نہ رہ سکتا۔ زمین کا یہ ماحول اس کے لئے ناسازگار ہوجاتا ، یہ زندگی ، یہ ترقیات اور یہ پیدا وار مشکل بن جاتی۔ اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات کی تو یہ صرف آؤٹ لائن ہیں۔ ان خطوط کے اندر انعامات الٰہی کے جو نکات ہیں ، اگر ایک ایک نکتے پر بحث کی جائے تو مستقل کتاب بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کو اجمالاً سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک اصولی بات۔ واتکم من کل ما سالتموہ ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “۔ مال ، اولاد ، صحت ، سازو سامان وغیرہ وغیرہ۔ وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (14 : 34) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے “۔ یہ اس قدر زیادہ ہیں کہ انسانوں کی ایک عظیم جماعت بھی انہیں گن نہیں سکتی۔ بلکہ تمام انسان لگ جائیں تو بھی نہیں گن سکتے ۔ اس لیے کہ انسان زمان و مکان کے اندر محدد ہے ، اس کا علم محدود ہے ، اس کے علم کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے اور زمان و مکان کے درمیان محدودبھی ہے جبکہ اللہ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان کے دائرہ علم و ادراک سے وراء ہیں۔ ان سب حقائق کے بعد بھی ، اے لوگو ، تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ، اور یہ سب کچھ جانتے ہوئے تم اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ شکر کے بجائے تم کفر کرتے ہو ، حق ہے : ان الانسان لظلوم کفار (14 : 34) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بےانصاف اور ناشکرا ہے “۔ جب انسانی ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور اپنے اردگرد کائنات کو چشم بینا سے دیکھنے لگتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ پوری کائنات اس کے لئے مسخر کردی گئی ہے ۔ یا تو براہ راست اس کے کنٹرول میں ہے یا اس طرح کہ اللہ کے جاری کردہ ناموس قدرت کی رو سے یہ انسان کے لئے کام کر رہی ہے اور انسان کی ضروریات فراہم کر رہی ہے۔ جب اس طرح انسان اپنے ماحول پر غور کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کی وجہ سے یہ پورا ماحول انسان کا دوست ہے ، انسان کا مددگار ہے ، اور اللہ نے اس کو انسان کے لئے نہایت ہی نرم اور مطیع فرمان بنا دیا ہے۔ پھر انسان کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ وہ سر اٹھا کر ذرا اپنے ماحول پر غوروفکر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو وہ کانپنے لگتا ہے۔ اللہ کا خوف کھاتا ہے۔ سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور پھر وہ خضوع و خشوع میں اس رب منعم کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو فراخی کی دعا کرتا ہے اور اگر وہ اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہو تو یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ان نعمتوں کو محفوظ اور جاری رکھ۔ اور انسان ذاکر اور شاکر اور متدبر کا اعلیٰ نمونہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ، جن کے نام سے یہ سورة معنون ہے اور یہی مناسبت ہے کہ اس سورة کے مضامین اور فضا بھی شکر اور ناشکری اور کفران نعمت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے اعلیٰ کردار میں پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ مجسمہ شکر ہیں۔ نہایت خشوع و خضوع کی حالت میں ہیں اور نہایت ہی نرم اور دھیمے زمزمہ میں دست بدعا ہیں۔ آپ کی دعاؤں اور شکر کا یہ زمزہ آسمان کی طرف نہایت ہی نرم اور باادب موجوں کی شکل میں بلند ہوتا ہے اور دور تک اس کی گونج آسمانوں میں غائب ہوجاتی ہے۔
Ayahs 14:35–41

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ Open ayah 14:35 in the Quran reader

” یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی کہ ” اس شہر (یعنی مکہ) کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا ۔

رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ١ۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 14:36 in the Quran reader

پروردگار ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے (ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کریں ، لہٰذا ان میں سے ) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً درگزر کرنے والا مہربان ہے۔

رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِ١ۙ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِیْۤ اِلَیْهِمْ وَ ارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَشْكُرُوْنَ Open ayah 14:37 in the Quran reader

پروردگار ، میں نے ایک بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِیْ وَ مَا نُعْلِنُ١ؕ وَ مَا یَخْفٰى عَلَى اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ Open ayah 14:38 in the Quran reader

پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں “۔ اور واقعی اللہ سے کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

” شکر ہے اس کا خدا کا جس نے مجھے اس بڑھاپے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں) ۔ پروردگار ، میری دعا قبول کر۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا “۔

آیت نمبر 35 تا 41 اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کے پاس کھڑے نظر آتے ہیں۔ بیت اللہ کی تعمیر انہوں نے کردی ہے اور یہ وہی بیت اللہ ہے جس کی تولیت اب قریش تک آپہنچی ہے۔ اور ذرا دیکھو ان کو ، یہ اللہ کے ساتھ کفر بیت اللہ میں کرتے ہیں۔ اور یہ کفر وہ اس گھر میں کرتے ہیں جس کے بنانے والے نے اسے صرف اللہ کی بندگی کے لئے بنایا تھا۔ قرآن کریم اس منظر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک عاجزی کرنے والا ، اللہ سے نہایت ڈرنے والا ، ذکر و شکر کرنے والا ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے کہ قریش ذرا غور کریں اور اپنے انکار اور ہٹ دھرمی کو ترک کر کے دعوت اسلامی کا اعتراف کرلیں ، کفر کے بجائے شکر کریں ، غفلت کے بجائے نصیحت حاصل کریں اور ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے دعویٰ کے ساتھ ساتھ وہ جو بدراہ و گمراہ ہوگئے ، واپس ان کی اصلی راہ پر آجائیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کر کے راہ ہدایت پر آجائیں۔ رب اجعل ھذا البلد امنا (14 : 35) ” پروردگار ، اس شہر (یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا دے “۔ امن وہ نعمت ہے جو ہر انسان کی ضرورت ہے۔ انسان کے احساسات پر امن بہت اثر کرتا ہے ، کیونکہ انسان کی زندگی جاری ہی امن سے رہ سکتی ہے۔ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعائے امن کو اس لیے لایا گیا ہے کہ اہل مکہ کو بتایا جائے کہ ذرا عقل کے ناخن لو اور اس شہر کے امن کو تباہ نہ کرو ، بڑی دعاؤں کے بعد یہ ملا ہے ۔ تم ایک طویل عرصہ ہوا اس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہو اور خود اپنے ہاتھوں سے تباہ کرتے ہو اور شکر نہیں کرتے۔ یہ امن اس شہر کو تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاؤں سے حاصل ہوا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے اور دین کو چھوڑ چکے ہو ، اور یوں نا شکری کرتے ہو۔ اور اس پر مستزاد یہ کہ اس خانہ توحید میں تم نے اللہ کے شریکوں کے بت رکھ چھوڑے ہیں ، تم اس شہر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہو ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے اس حصے پر تو غور کرو۔ واجنبنی وبنی ان نعبد الاصنام ( 14 : 35) ” اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ رب کے سامنے تسلیم و رضا کے پیکر ہیں۔ اور دل کی گہرائیوں سے التجا کر رہے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچائیو ، آپ اپنی دعا میں مدد بھی طلب فرماتے ہیں اور راہنمائی بھی چاہتے ہیں۔ اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس ہدایت کو اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت سمجھتے ہیں جس کی وجہ سے دل شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے نکل آتا ہے اور جہالت کے بدلے علم اور تاریکی کے بدلے روشنی پاتا ہے۔ یعنی ایمان باللہ اور توحید کی ہدایت اور روشنی ۔ توحید میں آخر انسان حیرت اور پریشانی کے تہ بہ تہ اندھیروں سے نکل جاتا ہے اور گمراہی اور بدکرداری سے بچ نکلتا ہے ۔ وہ روشن دماغ ، پرسکون اور برقرار ہوتا ہے اور مختلف الہٰوں اور خداؤں کی بندگی سے نکل کر اور ذلت اور غلامی سے نکل کر ، ایک خدا کی نہایت ہی باعزت بندگی میں داخل ہوتا ہے اور ایک آزاد زندگی پاتا ہے۔ یہ وہ انعامات ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر رب تعالیٰ نے کر رکھے تھے۔ اب وہ دعا کرتے ہیں کہ یہ انعامات برقرار ہیں۔ وہ بھی اور ان کی اولاد بھی بت پرستی کی لعنت سے دور رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ دعا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کے ما حول میں ان کی ہم عصر نسلوں میں سے اکثریت کو بت پرستی نے گمراہ کر رکھا ہے ، سابقہ لوگ بھی اس میں مبتلائے ہوئے اور خلق کثیر کو ان بتوں نے گمراہ کیا۔ رب انھن اضللن کثیرا من الناس (14 : 36) ” اے رب ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈال دیا ہے “۔ اب یہ دعا اعلان کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ جو شخص میرے طریقے کو اپنائے گا وہی میرا ہوگا ، وہ میری طرف نسبت کرسکے گا ، اور قیامت میں میرے ساتھیوں میں سے ہوگا۔ ایمان اور نظریہ کا رفیق ہوگا۔ فمن تبعنی فانہ منی (14 : 36) ” لہٰذا ان میں سے جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے “۔ اور جو میرے طریقے کو چھوڑ دے تو اس کا انجام میں تیرے سپرد کرتا ہوں۔ ومن عصانی فانک غفور رحیم (14 : 36) “ اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو ، تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ” ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کس قدر مہربان ، رحیم اور بردباد اور صبر کرنے والے تھے۔ اس لیے وہ ان لوگوں کی ہلاکت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقوں کو نہیں اپناتے اور ادھر ادھر ہوجاتے ہیں ، آپ ان کے لئے عذاب میں جلدی نہیں فرماتے بلکہ عذاب کا تذکرہ ہی نہیں کرتے۔ آپ ان لوگوں کو جو حضرت کے طریقوں سے ہٹ جاتے ہیں ، اللہ کے رحم و کرم کے سپرد کرتے ہیں ، عفو و درگزر کے حوالے کرتے ہیں۔ چناچہ اس فضا پر رحمت اور مغفرت کے سائے پھیل جاتے ہیں اور رحمت و شفقت اور معرفت کے ان سایوں کے نتیجے میں معصیت کی فضا دب جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) معصیت کی فضا کو کھولتے نہیں ، پس منظر میں لے جاتے ہیں۔ اب اس سے آگے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ کے سامنے یہ درخواست پیش فرماتے ہیں کہ اے اللہ تو دیکھ رہا ہے کہ میں نے اپنی اولاد میں سے بعض لوگوں کو اس بنجر وادی میں مستقلاً آباد کردیا ہے۔ جو بیت اللہ کے قریب ہونے کے سوا بنجر اور پسماندہ ہے اور یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ان لوگوں کو یہاں بسانے کا مقصد کیا ہے۔ ربنا انی اسکنت۔۔۔۔۔ بیتک المحرم (14 : 37) “ اے میرے رب ، میں نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے ساتھ لا بسایا ہے ”۔ یہ کیوں ؟ ربنا لیقیموا الصلوٰۃ (14 : 37) “ پروردگار ، یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ”۔ فقط اقامت صلوٰہ مقصد ہے اور صرف اس مقصد کے لئے اس بنجر اور خشک وادی میں ان کو بسایا ہے۔ فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم (14 : 37) “ لہٰذا لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا ”۔ دعا میں کس قدر رقت ہے اور فضا میں کس قدر سرور ہے ، دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور مشتاقان دید اڑ اڑ کر اس شہر پر گرتے نظر آتے ہیں۔ اس وادی غیر ذی زرع اور خشک و بنجر کی طرف عاشقوں کے قافلے رواں دواں ہیں۔ غرض اس دعا کے اندر اس قدر ترو تازگی ہے اور دعا کے اندر اس قدر رقت ہے کہ قریب ہے کہ پوری کائنات کے آنسو اس وادی کو تر کردیں۔ وارزقھم من الثمرات (14 : 37) “ اور انہیں کھانے کو پھل دے ”۔ اور یہ پھل ان کو ان لوگوں کے ذریعہ ملیں جو ہر طرف سے اس گھر اور ان لوگوں پر پروانوں کی طرح آکر گریں۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ کھائیں پئیں اور مزے کریں ، اور اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جیسے شکر گزار ہونے کی خواہش ظاہر ہے کہ یہی ہے۔ لعلھم یشکرون ( 14 : 37) “ شاید یہ شکر گزار بنیں ”۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اولاد کو بیت اللہ کے پڑوس میں آباد کرتے ہیں اور سیاق کلام سے اس کا مقصد یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ یہاں رہ کر نمازوں کو قائم کریں جس طرح نماز کو قائم کرنے کا طریقہ ہوتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس خواہش کے پیچھے صرف یہ جذبہ ہے کہ لوگ اللہ کے شکر گزارہوں۔ لوگوں کے دل بیت اللہ اور اہل بیت اللہ کی طرف کھچ آئیں ، پھر لوگوں کے اس اجتماع سے ان کے لئے پھلوں اور غلوں کی شکل میں خوراک فراہم ہو اور اس کے جواب میں یہ لوگ اللہ کا شکر ادا کریں۔ اس دعا کی روشنی میں قرآن کریم اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قریش جس مقصد کے لئے بیت اللہ کے قریب بسائے گئے تھے انہوں نے وہ مقصد ترک کردیا ہے۔ نہ وہ اللہ کے لئے نماز قائم کرتے ہیں اور نہ اللہ کے ان انعامات پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول ہوچکی ہے ۔ بیت اللہ پر لوگوں کا اجتماع جاری ہے اور پھل اور فروٹ ہر طرف سے ان کے لئے وافر مقدار میں آرہے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس دعا پر ، کہ اس نے اپنی اولاد کو یہاں بسایا ہے اور ان کو پھل اور دوسری ضروریات فراہم ہوں ، تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اللہ کا شکر ادا کریں ، اب خود تبصرہ فرماتے ہیں کہ اللہ تو سب لوگوں کے دلوں کی خواہشات کو جانتا ہے خواہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں۔ اگر کوئی خدا کے خوف سے نماز پڑھتا ہے اور شکر کرتا ہے تو اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی طرف توجہ میں مظاہر کی اہمیت نہیں ہے ، جس طرح یہ لوگ بیت اللہ میں تالیاں بجاتے اور سیٹیاں بجاتے ہیں۔ عبادت اور دعا تو اصل وہ ہوتی ہے جس میں کسی کا قلب و ضمیر اللہ کی طرف متوجہ ہوں کیونکہ اللہ سے کسی کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ تو زمین و آسمان میں ظاہر و خفیہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ ربنا انک تعلم ۔۔۔۔۔۔ فی السماء (14 : 37) “ پروردگار ، تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ”۔ اور واقعی اللہ کچھ بھی چھپا ہوا نہیں ہے ، نہ زمین مین نہ آسمانوں میں ”۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سابقہ مہربانیوں کو یاد کر کے اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور حمد کرتے ہیں۔ الحمد للہ الذی ۔۔۔۔۔ لسمیع الدعاء (14 : 39) “ شکر ہے اس خدا کا جس نے مجھے اس بڑھ اپنے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) جیسے بیٹے دئیے ، حقیقت یہ ہے کہ میرا رب ضرور دعا سنتا ہے ”۔ اگر کسی کو بڑھاپے میں اولاد دے دی جائے جبکہ اس سے قبل اس کی اولاد نہ ہو تو اس پر بہت زیادہ اثر ہوتا ہے کیونکہ اولاد دراصل انسانی زندگی کا تسلسل ہے۔ اگر انسان کی زندگی قریب الاختتام ہو اور اسے غیر متوقع طور پر اولاد مل جائے تو یہ نہایت ہی اطمینان کی بات ہوتی ہے کیونکہ انسانی نفس ہمیشہ یہ ضرورت محسوس کرتا ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم حمد باری کرتے ہیں اور اللہ کی مزید رحمت کے امیداوار ہیں۔ اب اس شکر اور حمد کے بعد یہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ مجھے شکر ادا کرنے اور حمد باری تعالیٰ پر مداومت عطا فرما ، کہ میں تیری عبادت کرتا رہوں ، اطاعت کرتا رہوں۔ یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے اس عزم کو اظہار کرتے ہیں کہ وہ شکر کرتے رہیں گے ، عبادت الٰہی کرتے رہیں گے اور یہ دعا اس ڈر سے کر رہے ہیں کہ کہیں اس میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے ، کوئی امر ان کو اس سے موڑ نہ دے۔ چناچہ اپنے اس عزم کو بھی اب اللہ کی امداد سے جاری رکھنے کی دعا کرتے ہیں۔ رب اجعلنی۔۔۔۔۔ وتقبل دعاء ( 14 : 40) “ اے میرے پروردگار ، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اٹھا جو یہ کام کریں ) ۔ پروردگار ، میر دعا قبول کر ”۔ ایک بار پھر ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد اہل قریش کے موقف میں مکمل تضاد نظر آتا ہے ، ابراہیم (علیہ السلام) اللہ سے اس بات کے لئے مدد طلب کرتے ہیں کہ مجھے نماز قائم کرنے والا بنا دے اور اس کام میں مجھے اور میری اولاد کو توفیق دے مگر اس کی اولاد ہے کہ وہ نماز سے اعراض کر رہی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہی سے جو رسول ان کے پاس آیا اور جو انہیں نصیحت کرتا ہے ، اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات یاد دلاتا ہے یہ لوگ اس کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں ، حالانکہ یہ خود ان میں سے ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی اس خضوع وخشوع اور عاجزی سے بھری ہوئی دعا کو اپنے لیے اور اپنے والدین کے لئے اور تمام مومنین کے لئے طلب مغفرت پر ختم فرماتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں حساب کے دن بخش دیجئے۔ کیونکہ حساب کے دن تو ہر شخص کو صرف عمل ہی فائدہ دے گا یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت ہی اس کا کام کرے گی۔ ربنا اغفرلی ۔۔۔۔۔۔۔ یقوم الحساب (14 : 41) “ پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا ”۔ خشوع و خضوع سے بھر پور اس دعا کا منظر یہاں ختم ہوتا ہے جس میں اللہ کی بےبہا نعمتوں اور ان پر شکر کے مناظر دکھائے گئے ، جس میں گفتگو کا ٹون نہایت ہی دھیمی موسیقی کا تھا ، جس طرح ہلکی ہوا میں سطح آب پر ہلکی سی موجیں اٹھتی ہیں۔ اس منظر سے پورے ماحول پر ایک الوداعی اور لطیف جذباتی فضا طاری ہوجاتی ہے۔ انسانی دل اللہ کی پناہ میں آجاتے ہیں۔ اللہ کے انعامات کو یاد کرتے ہیں اور یہ منظر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک بندۂ ذاکر وشاکر کے طور پر تصور کرتا ہے ، جس طرح اس دعا سے پہلے تمام بندگان خدا کو قرآن نے دعوت دی تھی کہ وہ اللہ کے بندگان ذاکر و شاکر بن جائیں۔ یہاں قارئین یہ بات نوٹ کرنا بھول نہ جائیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس پر سوز دعا میں “ ربنا ” اور “ رب ” اور “ ربی ” کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے اپنے لیے اور آپ کے بعد اپنی اولاد کے لئے اللہ کی صفت ربوبیت کو جان بوجھ کر استعمال کیا ہے اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ آپ یہاں اللہ کی صفت الوہیت کو نہیں لاتے بلکہ صفت ربوبیت کو ۔۔۔۔ لاتے ہیں اس لیے کہ تمام جاہلیتوں خصوصاً عربی جاہلیت میں اللہ کی الوہیت مختلف فیہ نہیں رہی ہے۔ جس چیز میں ہمیشہ اختلاف واقع ہوتا ہے وہ اللہ کی صفت ربوبیت ہے۔ یعنی رب وہ ہوتا ہے جس کا تجویز کردہ نظام ، دین اور شریعت اس زمین پر چلتا ہے۔ اور یہی اصل عملی مسئلہ ہوتا ہے جو لوگوں کی زندگی کو متاثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے اسلام اور جاہلیت میں تمیز ہوتی ہے ، توحید شرک سے جدا ہوتی ہے کیونکہ لوگ یا تو اللہ کے دین میں ہوں گے تو اللہ ان کا رب ہوگا یا وہ غیر اللہ کے نظام میں ہوں گے پھر یہ غیر اللہ ان کا رب ہوگا۔ اسلام اور جاہلیت اور توحید اور شرک میں یہی فرق ہے جو عملی زندگی میں اسلام کو جاہلیت اور توحید کو شرک سے جدا کرتا ہے۔ قرآن کریم یہاں قریش پر ان کے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا میں ربوبیت کے مسئلے کو اس لیے پیش کرتا ہے اور ربوبیت پر اسی لیے زور دیتا ہے کہ وہ عربوں اور قریش پر واضح کرنا چاہتا ہے کہ تم اپنے جد امجد کی وصیت اور دعاؤں کے خلاف جا رہے ہو۔ سیاق کلام میں اس حصے کا آغاز ان آیات پر کیا گیا تھا۔ الم تر الی ۔۔۔۔۔۔ دار البوار (14 : 28) “ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا ”۔ یہ لوگ بدستور اپنی اس ظالمانہ چال پر قائم رہے ، لیکن ان پر عذاب الٰہی بھی نہ آیا اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ان سے یہ کہیں : قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار ( 14 : 30) “ کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کار تمہیں پلٹ کر دوزخ ہی میں جانا ہے ”۔ اور حضور اکرم ﷺ کو مزید حکم دیا گیا تھا کہ آپ اپنی دعوت کا رخ اہل ایمان کی طرف پھیر دیں ، انہیں نماز اور کھلے طور پر اور خفیہ طور پر انفاق پر آمادہ کریں۔ من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) “ قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی ” اب اس حصے کی تکمیل اس پر ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کا کفران کرتے ہیں۔ ان کے لئے اللہ نے کیا تیار کر رکھا ہے اور وہ اپنے اس انجام تک کب پہنچیں گے اور یہ بات قیامت کے مناظر کی شکل میں بتائی جاتی ہے۔ جو پے درپے آتے ہیں۔ جن میں مارے خوف کے انسانی قدم ڈگمگائے جاتے ہیں اور دل تھر تھر کانپتے ہیں۔
Ayahs 14:42–43

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

“ اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کر رہے ہیں ، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اس دن کے لئے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں ،

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ”۔

آیت نمبر 42 تا 43 رسول اللہ ﷺ اللہ کو ظالموں کے اعمال سے غافل نہ سمجھتے تھے۔ لیکن بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ لوگ دیکھتے تھے کہ ظالم عیش کر رہے ہیں۔ اللہ کی دھمکیاں سن رہے ہیں ، دنیا کی زندگی گزر رہی ہے اور ان ظالموں کو اللہ کا کوئی عذاب اپنی گرفت میں نہیں لیتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ یہ انداز کلام اختیار کرتے ہیں تا کہ یہ یقین کرلیا جائے کہ یہ لوگ اپنے لیے متعین مہلت کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ آخر میں اللہ ایسے لوگوں کو وقت آنے پر پکڑتا ہے اور اس کی پکڑ ایسی ہوتی ہے کہ پھر اس سے کوئی چھوٹ نہیں سکتا۔ وہ ایسا سخت دن ہوگا جس میں ان کی نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور وہ نہایت جزع و فزع کی حالت میں ہوں گے۔ آنکھیں کھلی ہوں گی لیکن ان کے حواس مبہوت ہوجائیں گے اور ان کو کچھ نظر نہ آئے گا۔ اس قدر خوف ہوگا کہ ان کی نظر جہاں جم گئی جم گئی اور پھر اس ہولناک دن میں پوری قوم کی حالت یوں ہوگی کہ وہ بھاگے بھاگے پھریں گے۔ کسی چیز کی طرف ان کا دھیان نہ ہوگا۔ کسی چیز کی طرف التفات نہ ہوگا۔ سر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ خوشی سے نہیں بلکہ مجبوراً ان کے سر اوپر کو اٹھے ہوئے ہوں گے۔ کسی بھی منظر پر جب ان کی نظر اٹھ کر جم جائے گی تو اس سے ہٹا نہ سکیں گے اور نظر وہیں ٹک جائے گی۔ ان کے دل ہوا ہوں گے ، اڑے اڑے پھر رہے ہوں۔ نہ کچھ یاد ہوگا ، نہ کوئی حجت و دلیل ہوگی نہ کوئی تدبیر ہوگی۔ یہ ہے وہ دن جس کی طرف اللہ ان کو موخر کر رہا ہے۔ اس طرح یہ اس میدان میں کھڑے ہوں گے ، نہایت خوفزدہ۔ آیت کے ان چار ٹکڑوں میں ان کی حالت یہ نظر آتی ہے جس طرح ایک طاقتور باشے (باز) کے پنجوں میں ایک نہایت ہی چھوٹا پرندہ پھنس جاتا ہے اور وہ اسے دبوچ لیتا ہے۔ ذرا دوبارہ پڑھیں : انما یوخرھم ۔۔۔۔۔ الابصار (42) مھطعین ۔۔۔۔۔ وافئدتھم ھواء (43) (14 : 42- 43) اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے۔ اس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں ، سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں ”۔ سر اٹھائے تیز تیز بھاگنا ، یوں کہ نظریں آسمانوں پر جمی ہوں اس طرح کہ ٹکٹکی بندھ گئی ہو ، اور دل کی حالت یہ ہو کہ وہ ہوا کی طرح اڑ رہا ہے اور کچھ سمجھ میں نہ آرہا ہو ، تو یہ ایسی حالت جس میں انتہائی خوف ظاہر کیا گیا ہے ، جس میں انسان کی نظر ایک جگہ ٹک جاتی ہے۔ یہ دن جس کی طرف اللہ ان کو لے جا رہا ہے اور اس مہلت کے ختم ہونے کا وہاں ان کا انتظار ہو رہا ہے ، تو اے پیغمبر ، ان لوگوں کو اس دن سے ڈراؤ جس میں کوئی عذر قبول نہ ہوگا اور کوئی صورت چھٹکارے کی نہ ہوگی۔ چناچہ اس خوفناک دن کا ایک دوسرا منظر لایا جاتا ہے۔
Ayahs 14:44–45

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

“ اے نبی ؐ، اس دن سے تم انہیں ڈرا دو جبکہ عذاب انہیں آلے گا۔ اس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ “ اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔ ( مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گا کہ ) “ کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ؟

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان سے کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے ”۔

آیت نمبر 44 تا 45 اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔ اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔ اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ دیکھو عالم بالا سے ان کو براہ راست مخاطب کر کے سخت سرزنش اور سخت شرمندہ کیا جا رہا ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر دیکھو تم کیا کرتے رہے ہو۔ اولم تکونوا اقستم من قبل مالکم من زوال (14 : 44) “ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم زوال پذیر ہوگئے یا نہیں ؟ تم تو ایسی باتیں کیا کرتے تھے جبکہ امم سابقہ کے آثار اور تاریخ تمہارے سامنے تھی۔ ظالموں اور سرکشوں کا انجام تو سامنے تھا۔ وسکنتم فی مسکن ۔۔۔۔۔ لکم الامثال (14 : 45) “ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے کر تمہیں سمجھا چکے تھے ”۔ لیکن تمہارا رویہ بھی عجیب تھا کہ ان ظالموں کے کھنڈرات اور ان کے احوال کو دیکھ کر کہ وہ ان سے خالی پڑے ہیں اور ان کے شہروں میں اب تم بس رہے ہو اور پھر بھی تم قسمیں کھا رہے تھے۔ “ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ”۔۔۔ یہاں اب یہ منظر ختم ہوجاتا ہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ ان کی دعا اور اسے مسترد کرنے کے بعد اب ان کا انجام کیا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ایسی صورت حال رات اور دن پیش آتی رہتی ہے۔ کئی سرکش اور ڈکٹیٹر ان لوگوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے اور بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ان برسر اقتدار سرکشوں کے ہاتھوں ہی وہ مغلوب ہو کر نکالے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ جانشینان پھر سرکشی اور جباری و قہاری شروع کردیتے ہیں اور عین ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ہلاکت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے شعور و وجدان کے اندر اس سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے عبرتناک واقعات کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتے حالانکہ ان کی تاریخ پکار رہی ہوتی ہے۔ یہی تمہاری تاریخ ہے۔ پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ بھی ان کے ساتھ ، اسی انجام سے دوچار ہوتے ہوئے جا ملتے ہیں اور اللہ کی زمین ان ناپاک لوگوں سے خالی کردی جاتی ہے۔ اب پردہ گرتا ہے ، قیامت کا منظر لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے موجودہ حالات پر بات شروع ہوتی ہے جو اس دنیا میں موجود تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور مومنین کے خلاف رات اور دن سازشیں کر رہے تھے اور زندگی کے میدانوں کے ہر پہلو کے اعتبار سے اسلام کے خلاف فتنے برپا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مکرو فریب اور پروپیگنڈا جس قدر بھی عظیم ہو تمہیں اللہ اقوام ما قبل ہی کی طرح پکڑے گا۔
Ayah 14:46

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

“ انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں ، مگر ان کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ ان سے ٹل جائیں ”۔

آیت نمبر 46 اللہ ان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور ان کی مکاری بھی اللہ کے دائرہ قدرت میں ہے اگرچہ ان کی تدابیر اس قدر سخت اور شدید ہوں کہ ان کے ذریعہ پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا جاسکتا ہو۔ ظاہر ہے کہ کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لئے بہت بڑی قوت کی ضرورت ہے اور اس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ یہ بہت بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی فریب اللہ کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اللہ جس طرح چاہے وہ ان کی مکاریوں کو ختم کرسکتا ہے۔
Ayah 14:47

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

“ پس اے نبی ﷺ ، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے ”۔

آیت نمبر 47 یہ لوگ جو تدابیر کرتے ہیں یہ اللہ کے مقابلے میں موثر نہیں ہیں اور اللہ اپنے رسولوں اور اپنی تحریکات کی جب مدد کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ “ وہ تو زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے ”۔ اس سے کوئی ظالم بچ کر نہیں نکل سکتا اور کوئی مکار اس کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتا۔ یہاں ظلم اور سرکشی اور عظیم مکاری کے بالمقابل لفظ انتقام لایا گیا ہے جو نہایت موزوں ہے کیونکہ ظالم اور مکار سے انتقام لینا مناسب ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف جب انتقام کی نسبت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ظلم و سرکشی کی مناسب جزاء و سزا اور اس میں بھی عادلانہ طریق کار۔ اور یہ عادلانہ جزاء و سزا تب واقعہ ہوگی۔
Ayah 14:48

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

“ ڈراؤ انہیں اس دن سے جبکہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دئیے جائیں گے ”۔ “ اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بےنقاب حاضر ہوجائیں گے ”۔

یہ کیونکر ہوگا ، اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے ، نہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دوسری زمین کی طبیعات کیسی ہوں گی اور یہ ہوگی کہاں ، البتہ قرآن کی یہ آیات ہمارے شعور کے اندر یہ تاثر بٹھاتی ہے کہ یہ لوگ کیا ہیں اور ان کی مکاریاں کیا ہیں ، اللہ کی قدرت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ زمین و آسمان کو بدل کر رکھ دے گا۔ ان کی کامیابیاں اللہ کے مقابلے میں حقیر اور معمولی ہیں۔ وہ دیکھو دوسرے منظر میں یہ زمین و آسمان تو قدرت نے بدل کر رکھ دئیے ! ! آیت نمبر 48 ترجمہ : ان کو یہ احساس ہوجائے گا کہ وہ تو اللہ کے سامنے کھلے اور ننگے کھڑے ہیں۔ کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہے وہ اپنے گھروں میں نہیں ہیں ! وہ تو قبروں میں بھی نہیں ! وہ تو ایک کھلے میدان میں اللہ واحد وقہار کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہاں “ قہار ” کا لفظ عمداً استعمال ہوا تا کہ سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو ذرا متنبہ کردیا جائے کہ ان کی سرکشی اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ سرکشی اور مکاری اس قدر سخت ہو کہ اس سے پہاڑوں کو بنایا جاسکتا ہو۔ اب ہمارے سامنے مناظر عذاب قیامت میں سے ایک شدید اور سخت منظر پیش کیا جاتا ہے جو نہایت ذلیل کرنے والا ہے اور سرکشوں اور جابر مکاروں کے لئے موزوں ہے۔
Ayahs 14:49–50

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

“ اس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہوئے ہوں گے ،

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے ”۔

آیت نمبر 49 تا 50 ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔ وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔
Ayah 14:51

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ”۔

آیت نمبر 51 انہوں نے اپنی زندگی میں ظلم اور مکاری کو اپنا کسب بنا لیا تھا ، تو اللہ کی طرف سے ان پر قہر نازل ہوگا اور وہ ذلیل ہوں گے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ، ان کی مکاری اور گہری تدابیر کے لئے مناسب ہے کہ جلدی ان کا حساب لیا جائے کیونکہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ ان کی اس مکاری کو ظاہر نہ کرے گا اور کوئی قوت بھی ان پر غالب نہ آسکے گی چناچہ اللہ بڑی سرعت سے اب ان سے حساب بھی لے گا اور نہایت ذلت کے ساتھ انہیں عذاب بھی دے گا۔ آخر میں سورت کا خاتمہ اسی مضمون پر ہوتا ہے جس سے اس کو شروع کیا گیا تھا لیکن یہ خاتمہ ایک اعلان عام کی شکل میں ہے جو ببانگ دہل کیا جاتا ہے تا کہ تمام لوگوں تک ہر جگہ یہ اعلان عام پہنچ جائے۔
Ayah 14:52

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لئے ، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ ان کو اس کے ذریعہ سے خبردار کردیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آجائیں ”۔

آیت نمبر 52 اس اعلان عام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ جان لیں کہ اللہ ایک ہی الٰہ اور حاکم ہے۔ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کے اوپر اسلامی نظام قائم ہے۔ لیکن اس اعلان عام سے اصل غرض وغایت مجرد نہیں ہے بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگی کا پورا نظام اس اصول پر قائم کریں اور اپنی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت اختیار کریں۔ اگر وہ اللہ کو واحد الٰہ اور حاکم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اگر کسی کو الٰہ اور خالق ومالک سمجھا جاتا ہے تو وہی حاکم اور رب بھی ہوگا۔ وہی سربراہ ، متصرف فی الامور ، ڈائریکٹر اور قانون ساز ہوگا۔ اس ایمان و اعلان پر اگر انسانی زندگی کو عملاً قائم کیا جائے تو وہ عملی نظام اس نظام کے سراسر متضاد ہوگا جو اس اصول اور اعلان پر قائم کیا جائے کہ کچھ لوگ اپنے جیسے کچھ لوگوں کے غلام ہوں گے۔ اور انسانوں میں سے کچھ حاکم ، قانون ساز اور ظالم ہوں گے۔ یہ ایک بنیادی اختلاف ہے ، جس کی وجہ سے عقائد و تصورات مختلف ہوجاتے ہیں۔ شعائر اور مراہم عبادت مکتلف ہوجاتے ہیں۔ اخلاق اور طرز عمل مختلف ہوجاتے ہیں۔ حسن و قبح کی قدریں بدل جاتی ہیں ، اور سیاسی اور اقتصادی نظام بدل جاتے ہیں۔ غرض کسی سوسائٹی کو ان میں سے کسی قاعدے پر منظم کیا جائے تو اس کے انفرادی اور اجتماعی خدو خال ہی بدل جائیں گے۔ یہ نظریہ کہ اللہ ایک ہے اور وہی حاکم ہے اس کی بنیاد پر ایک مکمل نظام حیارت تعمیر ہوتا ہے۔ یہ نظریہ صرف ذہنوں میں بیٹھے رہنے والا نظریہ نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات محض عقائد تک محدود نہیں ہے ، اس کی حدود بہت آگے چلی جاتی ہیں۔ یہ نظریہ انسان کی پوری عملی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اللہ کی حاکمیت کا نظریہ اسلامی عقائد کا ایک حصہ ہے۔ اسلامی اخلاق کا قیام بھی ہمارے عقائد کا حصہ ہے۔ اور یہ ایک ایسا عقیدہ اور نظریہ حیات ہے جس سے ایک مکمل نظام پھوٹ کر نکلتا ہے۔ نئی قدریں وجود میں آتی ہیں اور یہ دنیا میں نئے حالات اور نیا دستوری اور قانونی نظام پیش کرتا ہے۔ ہم اس وقت تک قرآنی ، مقاصد و اہداف کو ادراک نہیں کرسکتے ، جب تک ہم قرآنی عقائد و نظریات کو اچھی طرح نہ سمجھ لیں اور جب تک ہم کلمہ شہادت کے مفہوم کو اچھی طرح نہ سمجھ لیں کہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اصلی مفہوم کیا ہے اور جب تک ہم اس کے مفہوم کو اس کی وسعتوں کے ساتھ نہ سمجھ لیں ۔ جب تک ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ اسلام میں ” عبادت “ کا مفہوم کیا ہے۔ اور جب تک ہم عبادت کی تعریف میں یہ نہ شامل کرلیں کہ اس سے مراد پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت و غلامی ہے۔ صرف نماز کے اوقات میں نہیں ، بلکہ زندگی کے تمام امور میں۔ عرب بت پرستی جس کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں دعا کی کہ اللہ ہمیں اس سے بچائیو ، یہ اس قدر سادہ نہ تھی جس طرح عرب حضور اکرم ﷺ کے دور میں اس پر عامل تھے یا جس طرح دوسری جاہلیتوں میں مختلف انداز میں اس پر عمل ہوتا تھا ، کہ درختوں اور پتھروں کی پوجا ہو رہی ہے ، حیوانوں اور پرندوں کو پوجا جا رہا ہے ، ستاروں اور سیاروں کو پوجا جا رہا ہے ، ارواح اور اوہام کو پوجا جا رہا ہے۔ یہ سادہ شکلیں ہی شرک نہ تھا ، اور نہ بتوں کی عبادت کی فقط یہ سادہ شکلیں تھیں ، نہ شرک ان سادہ شکلوں میں محدود تھا۔ نہ اس بت پرستی کا یہی مفہوم تھا اور اس سے آگے ہم شرک کی دوسری شکلیں دریافت نہیں کرسکتے یا ہیں ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شرک کی لاتعداد صورتیں ہیں ، ہم اپنی فکر کو ان صورتوں تک محدود نہیں کرسکتے یا ہیں ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شرک کی لاتعداد صورتیں ہیں ، ہم اپنی فکر کو ان صورتوں تک محدود نہیں کرسکتے ، بلکہ جاہلیت جدیدہ میں شرک کی بیشمار جدید صورتیں بھی پیدا ہوگئی ہیں۔ لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم شرک کو سمجھیں اور شرک کے ساتھ بت پرستی کے تعلق کو بھی سمجھیں ، نیز بتوں کی حقیقت پر بھی غور کرنا ضروری ہے ، اور دور جدید میں ، جاہلیت جدیدہ نے جو نئے اصنام گھڑ لیے ہیں ان کا بت پرستی کے ساتھ تعلق دریافت کرنا بھی ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کے مخالف شرک کا دائرہ ہر اس صورت حال تک وسیع ہوتا ہے جس میں زندگی کے محاملات میں سے کسی ایک حال میں اللہ وحدہ کی اطاعت نہ ہو ، یہ حال بھی شرک کی تعریف میں آتا ہے کہ ایک انسان زندگی کے بعض معاملات میں مطیع فرمان ہوتے ہوئے بھی دوسرے معاملات میں غیر اللہ کا مطیع ہو ، شرک صرف مراسم عبودیت کے اندر محدود نہیں ہے ، یہ تو شرک کی ایک مخصوص صورت ہوتی ہے۔ جدید دور میں ہماری زندگیوں میں بعض ایسی واضح مثالیں موجود ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ شرک صریح کی واضح مثالیں ہیں۔ ایک شخص جو اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرتا ہے۔ پھر وضو ، طہارت ، نماز ، روزے ، حج اور تمام دوسری عبادات میں اللہ کی طرف رخ رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اقتصادی معاملات اور اجتماعی قوانین میں ، غیر اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور وہ اپنی اجتماعی قدروں میں ایسے تصورات ایسی صطلاحات کا تابع ہے جو غیر اللہ کی جاری کردہ ہیں اور اپنے اخلاق ، اپنی عادات اور رسم و رواج میں ، اپنے لباس میں ، ایسے لوگوں کی اطاعت کرتا ہے ، جو اللہ کے احکام کے بالمقابل اس پر یہ تصورات ، اخلاق ، عادات اور لباس مسلط کرتے ہیں اور یہ ایسے ہیں جو صراحتہ شریعت کے مخالف ہیں ، اللہ کے احکام کے خلاف ہیں ، اور حقیقتاً اسلام کے خلاف ہیں تو یہ عمل اس کلمہ شہادت کے خلاف ہے جو وہ شخص پڑھتا ہے ، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ یہ ہے وہ اصل بات جس سے ہمارے دور کے مسلمان غافل ہیں۔ حالانکہ یہ شرک ہے ، آج کے مسلمان نہایت بھونڈے انداز میں غیر اللہ یہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ یہ شرک ہے اور ہر دور کے مشرک یہی کام کرتے رہے ہیں۔ بت کیا ہیں ، یہ ضروری نہیں ہے کہ بت ہی مجسمے ہوں جو پتھروں سے بنے ہوں۔ یہ بت تو دراصل رمز ہیں طاغوت کے لئے ، ان بتوں کے پیچھے اصل طاغوت ہوتا ہے جو ان بتوں کے نام اور عنوان سے لوگوں سے اپنی بندگی کراتا ہے۔ اور ان بتوں کے نام سے اپنا اور اپنی بندگی کا نظام جاری کرتا ہے۔ بت تو نہ بات کرتے تھے ، نہ سنتے تھے اور نہ دیکھتے تھے ، دراصل مجاور ، ۔۔۔۔۔۔ اور حاکم وقت ان کی پشت پر ہوتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ ان کے نام سے تعویذ اور گنڈے کرتے تھے ، دم درود کرتے تھے اور اس طرح وہ جمہور عوام کو اپنا غلام بنائے رکھتے تھے۔ اب اگر کسی جگہ ایسے ہی شعار اٹھ کھڑے ہوں۔ کچھ ادارے ہوں اور ان اداروں کے نام سے کچھ کاہن اور کچھ مہنت اور کچھ احکام اپنے تصورات ، اپنے قوانین اور اپنے اعمال و تصرفات عوام پر مسلط کرتے ہوں تو اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ بھی شرک باللہ ہوگا۔ اگر قومیت کو ایک بت بنا لیا جائے۔ اگر کسی وطن کو بت بنا لیا جائے ، یا کسی مملکت کو بت بنا لیا جائے ، یا کسی طبقے کو بت بنا لیا جائے اور لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس بت کو پوجیں ، اور اللہ کے علی الرغم پوجیں اور ان کی راہ میں جان ، مال ، اخلاق اور اپنی عزت سب کچھ قربان کریں ، یوں کہ جب ان بتوں کے مطالبات اور شریعت کے مطالبات کے درمیان تعارض آجائے تو اللہ کی شریعت اس کے قوانین اور اس کے مطالبات کو پس پشت ڈال دیا جائے اور ان نئے بتوں کے مطالبات ، تقاضوں ، قوانین اور اخلاق کو نافذ کردیا جائے یا صحیح الفاظ میں ان مفادات اور جدید بتوں کی پشت پر موجود طاغوتی قوتوں کی اطاعت کی جائے تو یہ صریح شرک ہوگا ۔ اور ایسے لوگ بت پرست ہوں گے ، مشرک ہوں کیونکہ بت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ پتھر اور لکڑی کا بت ہو ، ہر مذہب اور ہر شعار بت ہوتا ہے۔ اسلام صرف اس لیے نہیں آیا تھا کہ وہ لکڑیوں اور پتھروں کے بنے ہوئے بتوں کو توڑ دے اور یہ مسلسل مشقتیں جو رسولان کرام کے طویل سلسلہ نے برداشت کیں ، اور اس کے سلسلے میں ناقابل برداشت اور ناقابل تصور تکالیف برداشت کیں ، یہ محض پتھر اور لکڑی کے بتوں کے ختم کرنے کے لئے نہ تھیں بلکہ مقصد ہر قسم کی بت پرستی کو ختم کرنا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کی اطاعت کا نظام قائم کر دے۔ ہر شکل اور ہر صورت میں اور زندگی کے تمام معاملات میں سے ، چاہے اس کی شکل و صورت جو بھی ہو ، غیر اللہ کی اطاعت کو ختم کر دے لہٰذا زندگی کے ہر طور طریقے اور نظام میں ہمیں معلوم کرنا چاہیے کہ اس کی کون سی صورت توحید ہے اور کون سی صورت شرک ہے ، اس میں اطاعت اور بندگی اللہ وحدہ کی ہے یا کسی اور طاغوتی قوت کی ہے ، کسی اور رب یا بت کی ہے۔ وہ لوگ جو محض اس لیے اپنے آپ کو اللہ کے دین میں سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی زبان سے کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ادا کرتے ہیں اور وہ بھی محض اس لیے کہ وہ طہارت ، مراسم عبودیت ، نماز ، روزہ ، حج اور نکاح و طلاق میں یا مسئلہ میراث میں اللہ کے قانون کو مانتے ہیں۔ جب کہ اس سے آگے ان کی پوری زندگی ان قوانین کے مطابق ہے جو اللہ کے قوانین کے خلاف ہیں اور ان قوانین کی اکثریت ایسی ہے جو قرآن و سنت کے صریح خلاف ہیں ، اور وہ ان قوانین اور اس نظام کے لئے اپنے نفس ، اپنے مال اور اپنے اخلاق اور کلچر کو قربان کرتے ہیں ، خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ، اور یہ کام وہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ جدید بت ان سے راضی ہوں ، اور صورت حالات یہ ہو کہ کسی مرحلے میں اللہ کے احکام اور قوانین کا ان بتوں کے احکام کو نافذ کریں تو یہ صریح بت پرستی ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اللہ کے دین میں سمجھتے ہیں اور ان کا حال وہ ہے جو ابھی بتا یا گیا ، ان کو چاہئے کہ وہ اس شرک سے باز آجائیں جس میں وہ ہیں۔ دین اسلام ایسا مزاح نہیں ہے جو یہ لوگ سمجھتے ہیں جو مشرق و مغرب میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ دین اسلام روزمرہ کی جزئیات حیات کو بھی اپنے دائرہ میں لیتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ زندگی کی تمام جزئیات میں اللہ وحدہ کی اطاعت کی جائے ، اصول اور کلیات اور دستور و قانون تو بڑی بات ہے۔ یہ ہے وہ اسلام جس کے سوا خدا کسی ” دین “ کو قبول نہیں کرتا۔ شرک اس کے اندر محدود نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو ایک نہ سمجھے بلکہ شرک کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ کوئی کسی غیر اللہ کو حاکم سمجھے۔ پتھروں اور لکڑیوں کے بنے ہوئے بتوں کو پوجنا بت پرستی کا بہت سادہ تصور ہے ، اصل بت پرستی خلاف اسلام اداروں کی پرستش ہے۔ سادہ ترین الفاظ میں ، میں یوں کہتا ہوں کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ ان کی زندگی میں اہم کون ہے ؟ وہ کس کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ؟ وہ کس کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ؟ وہ کس کی پیروی ، اتباع کرتے ہیں ؟ کس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں ؟ اگر وہ یہ سب کام اللہ کے لئے کرتے ہیں تو وہ مسلم ہیں ، اگر وہ یہ کام کسی اور کے لئے کرتے ہیں تو یہ ان کے دین پر ہیں۔ بت ہیں تو بتوں کے دین پر۔ طاغوت میں تو طاغوت کے دین ہو۔ یہ ہے پیغام ! سب انسانوں کو اس سے ڈرایا جائے ! ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ان معنوں میں وحدہ لا شریک ہے ! اگر عقل ہے تو ان باتوں کو سمجھو ! ھذا بلاغ ھذا بلاغ صدق اللہ العظیم