کافروں کے شرمناک کارنامے
اگلے کافروں نے بھی اپنے نبیوں کے ساٹھ مکر کیا، انہیں نکالنا چاہا، اللہ نے ان کے مکر کا بدلہ لیا۔ انجام کار پرہیزگاروں کا ہی بھلا ہوا۔ اس سے پہلے آپ کے زمانے کے کافروں کی کارستانی بیان ہوچکی ہے کہ وہ آپ کو قید کرنے یا قتل کرنے یا دیس سے نکال دینے کا مشورہ کر رہے تھے وہ گھات میں تھے اور اللہ ان کی گھات میں تھا۔ بھلا اللہ سے زیادہ اچھی پوشیدہ تدبیر کس کی ہوسکتی ہے ؟ ان کے مکر پر ہم نے بھی یہی کیا اور یہ بیخبر رہے۔ دیکھ لے کہ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا ؟ یہی کہ ہم نے انہیں غارت کردیا اور ان کی ساری قوم کو برباد کردیا انکے ظلم کی شہادت دینے والے ان کی غیر آباد بستیوں کے…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 61
یعنی آج یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ حق کی آواز کو دبانے کے لیے جھوٹ اور فریب اور ظلم کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں۔ پچھلی تاریخ میں بارہا ایسی ہی چالوں سے دعوت حق کو شکست دینے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(آیت) وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو تسلی دینے اور مطمئن رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر و کافر ذلیل و خوار ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وفات کے بعد ہو اور آپ کے اطمینان کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں یعنی یہ اطراف مسلمانوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں اس طرح ان کی مقبوضہ زمین گھٹتی جاتی ہے…
Read the full tafseer →وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا ۭ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ۔
اب یہ فرمایا کہ جس قسم چالیں اسلام اور پیغمبر کے خلاف یہ چل رہے ہیں اسی قسم کی چالیں ان سے پہلے کی قومیں اپنے اپنے پیغمبروں کے خلاف چل کے اس کا انجام دیکھ چکی ہیں۔ یہ بھی وہی انجام دیکھنے والے ہیں۔ ساری چالیں خدا کے اختیار میں ہیں، ہر جان جو کچھ کرتی ہے اللہ اس سے پوری طرح باخبر رہتا ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے اختیار اور علم سے باہر نہیں۔ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ ، یعنی دنیا میں تو ان کا جو انجام ہونا ہے وہ اوپر کی…
Read the full tafseer →42۔ 1 یعنی مشرکین مکہ سے قبل بھی لوگ رسولوں کے مقابلے میں مکر کرتے رہے ہیں، لیکن اللہ کی تدبیر کے مقابلے میں ان کی کوئی تدبیر اور حیلہ کارگر نہیں ہوا، اسی طرح آئندہ بھی ان کا کوئی مکر اللہ کی مشیت کے سامنے نہیں ٹھر سکے گا۔
42۔ 2 وہ اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا، نیک کو اس کی نیکی کی جزا دیتا ہے اور بد کو اس کی بد کی سزا دیتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
40: مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب پر مشرکین اور ان کے عقائد کا جو تسلط تھا، وہ رفتہ رفتہ سمٹ رہا ہے، اور مشرکین کے اثر ورسوخ کا دائرہ کار روز بروز کم ہو کر سکڑ رہا ہے، اور اس کی جگہ اسلام کے اثرات پھیل رہے ہیں، یہ ایک تازیانہ ہے جس سے ان مشرکین کو سبق لینا چاہیے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 42
سورة کا خاتمہ اس بات کی نقل سے ہوتا ہے کہ کفار نے آپ کی رسالت کا صاف صاف انکار کردیا۔ اس سورة کا آغاز آپ کی رسالت کے مضمون سے ہوا تھا۔ یوں آغاز و انجام میں سورة کا مضمون اور محور بتا دیا گیا۔ اللہ یہاں خود شہادت دے رہے ہیں کہ اے پیغمبر ، آپ کی رسالت پر میں خود گواہ ہوں اور اللہ کی گواہی کے بعد کسی کی گواہی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس کتاب اور وحی و رسالت کے بارے میں وہی سب سے زیادہ علیم وخبیر ہے۔
Read the full tafseer →9 وہ نہ چاہے تو سب فریب رکھے رہ جائیں، یا یہ کہ خدا ان کے فریب کا توڑ کرتا ہے مکر اصل میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اگر برائی کے لیے کی جائے بری ہے اور برائی کو دور کرنے کے لیے ہو تو اچھی ہے۔ یعنی انہوں نے چھپ چھپ کر ناپاک تدبیریں کیں لیکن خدا کی تدبیر سب پر غالب رہی، اس نے وہ تدبیریں ان ہی پر الٹ دیں " ( وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ ) 35 ۔ فاطر :43)
10 یعنی جس سے کوئی حرکت و سکون اور کھلا چھپا کام پوشیدہ نہیں اس کے آگے کسی کا مکر کیا چل سکتا ہے وہ ان مکاروں کو خوب مزا چکھائے گا۔
11 یعنی جسے اگلوں نے اپنے مکر کا انجام دیکھ لیا، موجودہ کفار کو بھی قدر عافیت معلوم ہوا…
Read the full tafseer →آیت 42 وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ
اپنے اپنے دور میں منکرین حق نے انبیاء و رسل کی دعوت حق کو روکنے کے لیے سازشوں کے خوب جال پھیلائے تھے اور بڑی بڑی منصوبہ بندیاں کی تھیں۔
فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا
اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی تدبیروں اور سازشوں کا مکمل طور پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اس کی مشیت کے خلاف ان کی کوئی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی۔
يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ
دارِآخرت کی بھلائی اور اس کا آرام کس کے لیے ہے انہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →54 یعنی آپ کی قوم سے پہلی قومیں بھی دین حق کی دعوت کو روکنے اور اس کے آگے بند باندھنے کی سرتوڑ کوششیں کرتی رہیں۔ مگر بالآخر وہی کچھ ہوا جو اللہ کو منظور تھا۔ اللہ کی تقدیر کے سامنے ان کی تدبیریں کچھ بھی کام نہ آسکیں اور اب بھی یہی کچھ ہوگا۔ ان منکرین حق کو جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ انجام بخیر کس فریق کے حق میں ہوتا ہے، اور جو کچھ یہ لوگ اسلام کو ختم کرنے کے سلسلہ میں تدبیریں کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں اور ان کا توڑ وہ خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →83۔ (اپنے اپنے رسول وقت کے مقابلہ میں اور بری طرح ناکام بھی رہ رہ چکے ہیں) یہ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کو قدیم مثالوں کے ذریعہ سے سمجھایا ہے کہ ان کے معاصر کافروں کی بھی ناکامی یقینی ہے۔
84۔ (آیت) ” سیعلم “۔ ابھی علم ہوا جاتا ہے۔ یعنی اپنی موت کے وقت۔ س، دلالت قرب کے لیے ہے، بعض نے کہا ہے کہ س تاکید کا ہے کہ س تاکید کا ہے یعنی ایسا یقیناً واقع ہو کر رہے گا۔ قیل السین لتاکید وقوع ذلک وعلمہ بہ (روح) (آیت) ” فللہ المکر جمیعا “۔ چناچہ وہی ان کافروں کی چالبازیوں کو چلنے نہیں دیتا۔ مکر کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کی جانب منسوب ہوتا ہے تو بہ طریق مشاکلت آتا ہے اور معنی جواب مکر کے ہوتے ہیں۔ اس پر حاشیہ کئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : آئندہ آیت اس وقت نال ہوئی کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو کثرت ازواج پر عار دلائی، ہم آپ سے پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو بیوی بچوں والا بنایا، اور آپ بھی ان کی مثل ہیں ان میں سے کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے، اس لئے کہ وہ تربیت یافتہ بندے ہیں، ہر دور کیلئے ایک کتاب ہے وہ اسی (دور) کیلئے محدود ہے اللہ جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے مٹا دیتا ہے اور جن احکام وغیرہ کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام الکتاب (اصل) اسی کے پاس ہے اصل کتاب کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کرتا اور وہ وہی ہے جس کو اس نے ازل میں لکھا اور جس عذاب…
Read the full tafseer →وقد مکر الذین من قبلھم اور ان سے پہلے (گذشتہ اقوام میں) جو کافر گزرے ہیں ‘ انہوں نے بھی اپنے اپنے انبیاء اور مؤمنوں سے جھل فریب کئے تھے جیسے ان لوگوں نے آپ سے فریب کیا ہے۔ مکر کا معنی ہے : نامعلوم طریقوں سے کسی کو دکھ پہنچانا۔
فللّٰہ المکر جمیعا پس اللہ ہی کے پاس ہے ان کا مکر ‘ یعنی ان کے مکر کی سزا۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ ہی ان کے فریب کا خالق ہے۔ خیر و شر اسی کے قبضے میں ہے ‘ نفع اور ضرر اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی کا فریب کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ‘ لہٰذا ان کی فریب کاری بےسود ہے۔
یعلم ما تکسب کل نفس جو شخص بھی جو کچھ کرتا ہے ‘ اللہ اس کو جانتا ہے…
Read the full tafseer →(42) اور ان کفار مکہ سے پہلے بھی اور لوگوں نے تدبیریں کیں جیسا کہ نمرود وغیرہ اور اس کے ساتھی تو کچھ بھی نہ ہوا کیوں کہ ان سب کی تدبیر کی سزا اللہ تعالیٰ کے پاس موجود ہے، نیک وبد جو نیکی اور برائی کرتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس کی سب خبر رہتی ہے اور اسی طرح ان یہودیوں اور تمام کفار کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ نیک انجام یعنی جنت اور فتح بدر اور فتح مکہ کسی کے حصہ میں ہے۔
Read the full tafseer →وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ۔۔ : یعنی ان سے پہلے کفار نے بھی اپنے رسولوں کو ستانے اور اسلام کو نیچا دکھانے کی بہت تدبیریں کیں، یہ کوئی نئی بات آپ ہی کو پیش نہیں آرہی، پھر کوئی تدبیر اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ بھی نہیں کرسکتی، کیونکہ اختیار ہر چیز کا اسی کے ہاتھ میں ہے۔ سو اگر ان کی کوئی تدبیر کامیاب ہوئی تو وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہی کا تقاضا تھا، لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں۔ ان کافروں کو بھی بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ اس دنیا کے گھر کا اچھا انجام کس کے حق میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
آیت نمبر 42 تا 43
قولہ تعالیٰ : وقد مکر الذین من قبلھم یعنی مشرکین مکہ سے پہلے، ان لوگوں نے رسولوں کے ساتھ مکر کیا، ان کے ساتھ فریب کیا اور ان کا انکار کیا۔ فللہ المکر جمیعا یعنی مکر کرنے والوں کا مکر اسی کا پیدا کردہ ہے، لہٰذا اس کے اذن کے بغیر کوئی نقصان نہیں دیتا۔ ایک قول کے مطابق : فللہ خیر المکر یعنی وہ ان کو اس کی سزا دے گا۔ یعلم ما تکسب کل نفس یعنی خیر اور شر میں سے جو کوئی کرتا ہے وہ جانتا ہے پس اس پر وہ سزا دے گا۔ ویعلم الکافر نافع، ابن کثیر اور ابو عمر کی یہی قرآت ہے جبکہ باقیوں نے الکفار پڑھا ہے۔ ایک قول یہ ہے : اس سے اللہ تعالیٰ نے ابوجہل کو مراد لیا ہے۔ لمن عقبی الدار یعنی ثواب و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
علماء کی موت اجل دنیا کے لئے نقصان دہ ہے :
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے علماء کا (اس دنیا سے) چلے جانا۔
2:۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ ونعیم بن حماد نے الفتن میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے ان کے علماء کی موت ان کے فقہا کی موت اور ان کے نیک لوگوں کا (اس دنیا) سے چلے جانا۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے…
Read the full tafseer →[وَقَدْ مَكَرَ : اور چالبازی کرچکے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جو ] [ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے پہلے تھے ] [ فَللّٰهِ : تو اللہ ہی کے لئے ہیں ] [الْمَكْرُ : تمام تدبیریں ] [جَمِيْعًا : سب کی سب ] [ يَعْلَمُ : وہ جانتا ہے ] [ مَا : اس کو جو ] [ تَكْسِبُ : کماتی ہے ] [ كُلُّ نَفْسٍ : ہر ایک جان ] [ وَسَيَعْلَمُ : اور جان لیں گے ] [ الْكُفّٰرُ : کافر لوگ ] [ لِمَنْ : کس کے لئے ہے ] [ عُقْبَى الدَّارِ : اس (آخری) گھر کا انجام ]
Read the full tafseer →(وَ قَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ ) (اور جو لوگ ان سے پہلے کافر تھے انہوں نے مکر کیا) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ اہل ایمان کو بہت بہت ستایا لیکن آخر عذاب میں گرفتار ہوئے (فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا) (سب تدبیر اللہ ہی لیے ہے) اس کی تدبیر کے سامنے سب کی مکاریاں دھری رہ گئیں موجودہ کافروں کو بھی عبرت حاصل کرنا چاہئے۔
اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کو جانتا ہے :
(یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ ) (اللہ تعالیٰ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے) ان اعمال میں دشمنان دین کی مکاریاں بھی ہیں جن کی اللہ کی تدبیر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی تو دنیا میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
کفر کا زوال اور اسلام کا اقبال
قال اللہ تعالیٰ وان ما نرینک بعض الذی نعدھم .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتاب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی شان محو و اثبات اور صفت تغیر و تبدیل کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں کفر کے زوال اور اسلام کے عروج اوراقبال کو بیان فرماتے ہیں کہ اس کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔
نیز گزشتہ آیات میں کافروں پر دنیوی آفات اور مصائب کے نزول کی خبر دی تھی کام قال تعالیٰ ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ او تحل قریبا من دارھم الخ اور فرمایا تھا لہم عذاب فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اشق اب ان آیات میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اب ان مواعید کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں…
Read the full tafseer →45:۔ امم سابقہ کے کافروں نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کئی مکر و فریب کیے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے مکر و فریب سے بچا لیا ” فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا “ ثم فسر ذلک بقولہ یَعْلَمُ مَاتَکْسِبُ ۔ (مدارک ج 2 ص 190) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
(ربط آیات)
سورة ہذا کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا پھر مسئلہ توحید اور قیامت کا ذکر آیا اور اب آخر میں اس سورة کا اختتام رسالت کے بیان پر ہو رہا ہے مشرکین مکہ حضور خاتم النبیین ﷺ پر جو مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے اور پیغمبر خدا کی رسالت اور نبوت کی تصدیق کی گئی ہے ، درمیان میں محو اور اثبات کا ذکر بھی ہوا ، شرائع کی منسوخی اور نئے احکام کا اجرا قضا وقدر میں تغیر وتبدل کسی چیز کو مٹا دینا اور کسی کو باقی رکھنا ، یہ سب اللہ کی قدرت تامہ کے تحت بیان ہوچکا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی بھی دی ، فرمایا ہم نے جن…
Read the full tafseer →وَقَدْ مَكَرَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِيْعًا ۭ يَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ ۭ وَسَيَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ 42
مكر
المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43]
( م ک ر ) المکر ک
ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں
یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ترکیب : امازینک کا جواب فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب والمعنی سواء اریناک ذلک او توفیناک قبل ظہورہ فالوا جب علیک تبلیغ احکام اللہ وعلینا حسابہم ننقصہا جملہ حال ہے ضمیر فاعل یا الارض سے۔ باللّٰہ ب زائد اللہ فاعل کفی و من موصلہ عندہ علم الکتاب صلہ یہ معطوف ہے محلاً اللہ پر فاعل ہوگا کفی کا۔
تفسیر : عرب کے مشرک اور مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے۔ ازانجملہ ایک یہ تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں رسول بنا کر بھیجے اس کو دنیاوی باتوں سے پاک ہونا چاہیے فرشتوں کی مانند یہ کیسے نبی ہیں جن کے بیوی بچے ہیں کھاتے پیتے دنیا کے کاروبار خریدو فروخت بازار سے کرتے ہیں ‘ پھر…
Read the full tafseer →وَقَدْمَکَرَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ فَلِلّٰہِ الْمَکْرُجَمِیْعًا ط یَعْلَمُ مَاتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ ط وَسَیَعْلَمُ الْکُفّٰرُلِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 42)
(تحقیق چالیں چلی ہیں ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے لیکن سب چالیں اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کررہا ہے اور یہ کافر جلد جان لیں گے کہ دار آخرت کی کامیابی کس کے لیے ہے۔ )
مشرکین کی چالیں کوئی معنی نہیں رکھتیں
بلا شبہ کفار مکہ دعوت اسلامی کے اثرات کو روکنے کے لیے ایک سے ایک بڑی تدبیر اور ایک سے ایک بڑی چال بروئے کار لا رہے ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہر دور میں کفر نے اسلام کا راستہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔
اے پیغمبر ! ان لوگوں کا مخالفت کرنا کوئی انوکھی بات اور پہلا واقعہ نہیں۔ آپ سے پہلے جتنے پیغمبر ہوئے۔ مخالفین ان کے خلاف ہر قسم کا مکرو فریب اور ظلم و زیادتی کیا کرتے تھے۔ مکر کے معافی ہیں۔ ” فریب، دھوکہ، سازش اور تدبیر کرنا۔ “ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو تو تمام اہل علم کے نزدیک اس کا معنی تدبیر کرنا ہوتا ہے۔ جب اس کی نسبت کفار، منافقین اور حق کے منکرین کی طرف ہو تو اس کا معنی مکرو فریب ہوجایا کرتا ہے۔ یہاں رسول مکرم ﷺ کو تسلی دینے اور حقیقت حال سے آگاہ کرنے کے لیے فرمایا ہے کہ اے پیغمبر ! گھبرانے اور دل چھوٹا کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ سے پہلے…
Read the full tafseer →42: وَقَدْ مَکَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَٓبْلِھِمْ (تحقیق ان لوگوں نے تدابیر کیں جو ان سے پہلے ہوئے) گذشتہ امتوں کے کفار نے اپنے انبیاء کے ساتھ المکر ارادۃ المکروہ فی خفیۃ۔ خفیہ بری تدبیر کرنا۔ پھر انکے مکر کو پوری خفیہ، تدبیرقرار دیا۔ اپنی تدبیر کے تقابل میں ذکر فرما کر۔ فرمایا فَلِلّٰہِ الْمَکْرُ جَمِیْعًا (تمام تدابیر تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں) ۔ پھر اسکی اس طرح وضاحت فرمائی یَعْلَمُ مَاتَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍط وَسَیَعْلَمُ الْکُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَی الدَّارِ (وہ جانتا ہے جو ہر نفس کرتا ہے اور عنقریب کفارجان لیں گے کہ آخرت کا انجام کس کا ہے) یعنی اچھا انجام کس کا ہے۔ کیونکہ جو ذات ہر نفس کی ہر…
Read the full tafseer →42۔” وقد مکر الذین من قبلھم “ اس سے مشرکین مکہ مراد ہیں ۔ مکر کہا جاتا ہے نامعلوم طریقے سے کسی کو دکھ پہنچانا ۔ ” فللہ لمکر جمعیا ً “ اللہ ہی کے پاس ہے ان کے مکر کی سزا ۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ ہی ان کے فریب کا خالق ہے۔ خیر و شر اس کے قبضہ میں ہے ، نفع اور ضرر اسی کے ہاتھ میں ہے، اس کی اجازت اور حکم کے بغیر کسی کا فریب کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔” یعلم ما نکسب کل نفس وسیعلم الکفار “ اہل حجاز اور ابو عمرو کے نزدیک ( الکافر) واحد ذکر ہے۔ دوسرے قراء کے نزدیک کفار جمع کا صیغہ ہے۔” لہم عقبی الدار “ ان کا انجام آخرت ہے جب دوزخی آگ میں چلے جائیں گے اور مومن جنت میں چلے جائیں گے۔
Read the full tafseer →42۔ مگر کہتے ہیں اس طرح سے انسان کو تکلیف پہنچانے کو جس سے وہ بالکل بیخبر ہو اللہ پاک نے اس آیت میں حضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جس طرح کفار مکہ تمہاری ایذا رسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اسی طرح ان سے پہلے بھی لوگ خدا کے رسولوں کو ایذا پہنچا چکے ہیں۔ جیسے نمرود نے ابراہیم (علیہ السلام) کو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف دی مگر ان کے یہ مکر کچھ پیش نہیں چل سکتے کیونکہ جتنے مکر ہیں سب خدا کی مخلوق ہیں اور اسی کے ارادہ سے ظاہر ہوتے ہیں اسی لئے کسی مکر سے کوئی نفع اور ضرر بغیر حکم خدا کے نہیں ہوسکتا اور وہ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے کہ کون برائی کرتا ہے اور کون…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (وقد مکر الذین من قبلھم ” ان سے پہلے لوگوں نے بھی چال چلی۔ “ یعنی انہوں نے اپنے رسولوں اور حق کے خلاف سازشیں کیں جنہیں لے کر رسول آئے تھے مگر ان کی چالیں اور سازشیں کسی کام نہ آئیں اور وہ کچھ بھی نہ کرسکے۔ کیونکہ وہ اللہ کے خلاف جنگ کرتے ہیں۔ (فللہ المکر جمیعاً ) ” پس اللہ کے ہاتھ میں ہے سب تدبیر “ یعنی کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کوئی چلا چلنے پر قادر نہیں اور یہ چلا اللہ تعالیٰ کی قضا وق در کے تحت آتی ہے۔ چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کے خلاف سازشیں کرتے ہیں لہٰذا ان کی سازش اور چال ناکامی اور ندامت کا داغ لے کر انہی کی طرف لوٹے گی۔ (یعلم ماتکسب کل نفس)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
81۔ منکرین کے دواعتراضوں کا جواب :
سو اس سے منکرین کے دواعتراضوں کا جواب دیا گیا، ایک یہ کہ ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ان کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ؟ ہم اپنے ہی جیسے ایک بشرکو نبی اور رسول کیوں کرمان لیں، اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی و رسول بنا کر بھیجنا ہوتاتو کسی فرشتے کو رسول بناکربھیج دیتا جو نہ کھاتانہ پیتا، نہ بیویاں ہوتیں نہ بچے، توتب ہم مانتے، سو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول بھیجے وہ سب ہی بشر اور انسان تھے، ان میں سے کوئی بھی رسول مافوق الفطرت نہیں تھا، سب کی بیویاں اور بچے بھی تھے وہ سب کھاتے اور پیتے بھی تھے، دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی
تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
کفار کا یہ خیال بھی محض باطل ہے کہ نبی اور رسول تو اگر فرشتہ نہ ہو تو فرشتہ کی مانند اس کی کوئی بیوی یا اولاد نہ ہو گھر بار نہ ہو جیسے آجکل کے جہلا کے ولایت کے بارے میں ایسا ہی گمان ہے قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اس کا جواب ارشاد فرمایا جن میں ایک مقام یہ بھی ہے کہ نبی بھی عام انسان کی زندگی گذارتا ہے اور سرد وگرم زمانہ برداشت کرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے ، بیوی بچے گھر بار دوست ، دشمن ، سب معاملات اس کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ قابل اتباع ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی مسائل ہوتے ہیں جن کے باعث وہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہیں کر پاتے مگر نبی کی…
Read the full tafseer →ف 7 ۔ ان کو ستانے کی بہت تدبیریں کیں، یہ کوئی نئی بات آپ ﷺ ہی کو پیش نہیں آرہی ہے (روح) ۔
8 ۔ دنیا میں، یا آخرت میں یا دونوں میں۔
Read the full tafseer →(13:42) مکر۔ ماضی واحد مذکر۔ اس نے تدبیر چلی۔ اس نے چال چلی۔ اس نے حیلہ سے کام لیا۔ المکر۔ حیلہ۔ تدبیر۔ چال۔ اچھے کام کے لئے ہو تو محمود۔ برے کام کے لئے ہو تو مذموم ۔
عقبی الدار۔ ملاحظہ ہو 13:22 ۔ نیک انجام۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
لغات القرآن آیت نمبر 42 تا 43
مکر تدبیر کی۔ چال چلے جمیع سب کا سب تکسب کماتا ہے لست تو نہیں ہے مرسل رسول۔ پیغمبر کفی کافی ہے شھید گواہی علم الکتاب کتاب کا علم۔ اہل کتاب
تشریح : آیت نمبر 42 تا 43
اس سورت کو ان الفاظ پر مکمل فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ان کفار و مشرکین مکہ سے پہلے گذر چکے ہیں انہوں نے دنیاوی مفادات کی خاطر دین اسلام اور اس کے رسولوں اور نبیوں کے خلاف ہر طرح کی چالیں چل کر دیکھ لیں لیکن جب بھی اللہ کا داؤ ان پر چل گیا وہ اپنے وجود اور اپنی ترقیات اور تہذیب کو اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ اللہ کو ہر انسان کی ہر کیفیت کا علم ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور یہ کفار لاکھ انکار کریں گے مگر یہ…
Read the full tafseer →مشرکین مکہ کا ذکر
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی ہے کہ جس طرح کفار مکہ تمہاری ایذا رسانی کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں، اسی طرح ان سے پہلے بھی لوگ خدا کے رسولوں کو ایذا پہنچا چکے ہیں مگر ان کے یہ مکر کچھ پیش چل نہیں سکے۔ کیونکہ جتنے مکر ہیں سب خدا کی مخلوق ہیں اور اسی کے ارادہ سے ظاہر ہوتے ہیں، اسی لیے کسی مکر سے کوئی نفع اور ضرر بغیر حکم خدا کے نہیں ہوسکتا، اور وہ ہر شخص کے عمل کو جانتا ہے کہ کون اچھا کرتا ہے کون برا۔ پھر جو جیسا کرے گا اس کو ویسا ہی بدلہ ملے گا اور کفار یہ بات بھی عنقریب جان لیں گے کہ آخرت کا گھر کس کو ملتا ہے۔
Read the full tafseer →[31] یعنی جنت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–43
(ف 3) فتوحات اسلامی کی وسعت کی جانب اشارہ ہے یعنی مسلمان سیلاب کی طرح کفر کی مملکت پر چھا رہے ہیں کیا اس کامیابی کو مخالفین بنظر امعان نہیں دیکھتے ؟ اور کیا اس وسعت اور پھیلاؤ میں ان کے لئے کرشمہ سازی کا کوئی سامان نہیں ؟ کیا یہ کم معجزہ ہے کہ مٹھی بھر مسلمان دنیائے کفر فتح کرلینے کا عزم رکھتے ہیں ، اور ہر آفتاب جو طلوع ہوتا ہے ، اسلامی اقبال و عروج کی خبر دیتا ہے ۔
Read the full tafseer →42 ۔ اور ان سے پہلے جو کافر ہو گزرے ہیں وہ بھی اسلام کے اور پیغمبروں کے خلاف بڑی فریب آمیز تدبیریں کرچکے ہیں لیکن سب تدبیریں تو اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہیں اور اصل تدبیر تو اللہ ہی کی ہے ہر شخص جو کچھ کرتا ہے اور جو کماتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے کئے کو اور اس کی کمائی کو جانتا ہے اور ان کافروں کو عنقریب معلوم ہوئے جاتا ہے کہ اس عالم میں کس کا انجام بخیر ہے یعنی پہلے کافروں کا بھی یہ دستور رہا ہے کہ حق کو مٹانے کے لئے ہر قسم کے فریب کرتے رہے اور ہر قسم کی چالیں چلتے رہے لیکن کیا ہوا سب خاسر و برباد ہوئے کیونکہ اصل تدبیر اور ہر چال کو توڑ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ ہر شخص کی کارروائی کو خوب…
Read the full tafseer →ف 1۔ اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی سو اللہ نے ان کی وہ تدبیریں نہ چلنے دیں۔
2۔ یعنی عنقریب ان کو اپنی بدانجامی اور سزائے اعمال معلوم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →پہلے لوگ بھی مخفی تدبیریں کرتے رہے لیکن ان کا رزلٹ کیا ہوا ؟
65 ؎ اب بتایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ان لوگوں کے سارے منصوبے ناکام ہوں گے جو وہ اسلام اور بانی اسلام کے خلاف کر رہے ہیں لیکن آپ ﷺ بھی ان سے غافل نہ رہیں ۔ ” للہ المکر جمیعاً “ اور یاد رکھیں کہ ان کی تدبیر کا کارگر ہونا یا ناکام ہونا اللہ کے اختیار میں ہے ان کے اپنے اختیار میں نہیں اور اللہ کی تدبیر بھی خود اللہ ہی کے اختیار میں ہے اس میں سے ان کے اختیار میں تو پہلے بھی کچھ نہیں ہے۔ پھر اللہ نے اپنا قانون بھی بتا دیا کہ ایک ہلاکت اور دوسری قوم کا قیام ‘ ان کے اعمال کی وجہ سے ہے۔ کافر جان لیں گے کہ کامیاب کون ہوتا ہے ؟ وہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
In verse وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (And if We show you some of what We promise them, or We take you back to Us), it is to comfort and assure the Holy Prophet ﷺ that he has been given the good news that the promises Allah has made to him that Islam will have the final victory and disbelief and disbelievers will be disgraced shall come to pass definitely. But, he is told, 'you should not concern yourself as to when this victory will finally come.' May be, this happens within his life time, and it is also possible that it comes after his departure…
Read the full tafseer →61. That is, these people, who are now devising schemes to defeat the message of the truth, do not take a lesson from the sad end of the people who devised similar schemes before them to suppress the voice of the truth by falsehood, fraud and persecution.
Read the full tafseer →