Ar-Ra'd 13:41

Ar-Ra'd · from ayah 41

13:41

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ؕ— وَاللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ؕ— وَهُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ۟اَوَلَمۡ يَرَوۡا اَنَّا نَاۡتِى الۡاَرۡضَ نَـنۡقُصُهَا مِنۡ اَطۡرَافِهَا ؕ‌ وَاللّٰهُ يَحۡكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكۡمِهٖ‌ؕ وَهُوَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Have they not seen that We set upon the land, reducing it from its borders? And Allah decides; there is no adjuster of His decision. And He is swift in account.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:41

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اِس سرزمین پر چلے آ رہے ہیں اور اس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آتے ہیں؟ اللہ حکومت کر رہا ہے، کوئی اس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے و الا نہیں ہے، اور اُسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ اور خدا (جیسا چاہتا ہے) حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کا رد کرنے والا نہیں۔ اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا وه نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے احکام پیچھے ڈالنے واﻻ نہیں، وه جلد حساب لینے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا ان لوگوں کو یہ حقیقت نظر نہیں آئی کہ ہم ان کی زمین کو چاروں طرف سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں ؟ ہر حکم اللہ دیتا ہے، کوئی نہیں ہے جو اس کے حکم کو توڑ سکے، اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا انہیں نہیں سوجھتا کہ ہر طرف سے ان کی آبادی گھٹاتے آرہے ہیں اور اللہ حکم فرماتا ہے اس کا حکم پیچھے ڈالنے والا کوئی نہیں اور اسے حساب لیتے دیر نہیں لگتی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم (ان کے زیرِ تسلّط) زمین کو ہر طرف سے گھٹاتے چلے جا رہے ہیں (اور ان کے بیشتر علاقے رفتہ رفتہ اسلام کے تابع ہوتے جا رہے ہیں)، اور اﷲ ہی حکم فرماتا ہے کوئی بھی اس کے حکم کو ردّ کرنے والا نہیں، اور وہ حساب جلد لینے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ بیشک ہم زمین کی طرف آتے ہیں، اسے اس کے کناروں سے کم کرتے آتے ہیں اور اللہ فیصلہ فرماتا ہے، اس کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم (ان کے لئے) زمین کو اس کی تمام اطراف سے گھٹاتے جارہے ہیں اور اللہ ہی فیصلہ کرتا ہے جس کے فیصلہ پر کوئی نظرثانی کرنے والا نہیں۔ اور وہ فوراً حساب لے لینے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ ہم سرزمین کی طرف اس کو اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے بڑھ رہے ہیں۔ فیصلہ اللہ کرتا ہے اور کوئی اس کے فیصلہ کو ہٹانے والا نہیں۔ اور وہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم ان پر اس زمین کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آرہے ہیں، اور اللہ ہی ہے جو فیصلہ فرماتا ہے (اس طرح کہ) کوئی اس کے فیصلہ کا پیچھا نہیں کرسکتا، اور وہی ہے بڑا جلد حساب لینے والا،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا یہ اسے نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم زمین کو اس کی طرف سے کم کرتے چلے آتے ہیں۔ اور اللہ حکم کرتا ہے کوئی اس کے حکم کو ہٹانے والا نہیں اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو گھٹاتے چلے آ رہے ہیں اس کے کناروں سے اور اللہ ہی فیصلہ کرتا ہے کوئی نہیں پیچھے ڈالنے والا اس کے حکم کو اور وہ جلد حساب لینے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آئے ہیں، اور اللہ جیسا چاہتا ہے حکم کرتا ہے، کوئی اس کے حکم کو ٹالنے والا نہیں۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Do they not see that We are advancing in the land, diminishing it by its borders on all sides? Allah judges, and no one has the power to reverse His judgement. He is swift in reckoning.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have they not seen that We are coming to the land narrowing it down from all its sides? Allah judges; there is none to repel His judgement. And He is swift at reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani

Have they not seen that We are coming to the land narrowing it down from all its sides? Allah judges; there is none to repel His judgement. And He is swift at reckoning.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

See they not that We gradually reduce the land from its outlying borders. And Allah judges, there is none to put back His judgement, and He is swift at reckoning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

See they not how we aim to the land, reducing it of its outlying parts? (When) Allah doometh there is none that can postpone His doom, and He is swift at reckoning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Have they not seen that We set upon the land, reducing it from its borders? And Allah decides; there is no adjuster of His decision. And He is swift in account.

— Saheeh International

Have they not considered that We have taken over the land and reduced its borders? It is God who issues the irreversible decree and His reckoning is swift.

— Muhammad Sarwar

Do they not see that We are bringing destruction upon the land by curtailing it of its sides? And Allah pronounces a doom-- there is no repeller of His decree, and He is swift to take account.

— Muhammad Habib Shakir

Behold they not that We visit the landj diminishing it by the borders thereof Allah judgeth, and there is no reviser of His judgment; and He is swift in reckoning,

— Abdul Majid Daryabadi

See they not that We gradually reduce the land (in their control) from its outlying borders? (Where) Allah commands, there is none to put back His Command: and He is swift in calling to account.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:41

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 40–41

آپ کے انتقال کے بعد تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا ؟ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کرچکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی جاروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّعْد 60 یعنی کیا تمہارے مخلافین کو نظر نہیں آ رہا ہے کہ اسلام کا اثر سر زمین عرب کے گوشے گوشے میں پھیلتا جا رہا ہے اور چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا چلا جاتا ہے ؟ یہ ان کی شامت کے آثار نہیں ہیں تو کیا ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”ہم اس سرزمین پر چلے آرہے ہیں“ ایک نہایت لطیف انداز بیان ہے۔ کیونکہ دعوت حق اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اللہ اس کے پیش کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے، اس لیے کسی سر زمین میں اس دعوت کے پھیلنے کو اللہ تعالیٰ یوں تعبیر فرماتا ہے کہ ہم خود اس سرزمین میں بڑھے چلے آرہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–43

(آیت) وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو تسلی دینے اور مطمئن رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر و کافر ذلیل و خوار ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وفات کے بعد ہو اور آپ کے اطمینان کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں یعنی یہ اطراف مسلمانوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں اس طرح ان کی مقبوضہ زمین گھٹتی جاتی ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا ۭوَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ۔ " الارض " سے مراد مکہ ہے : " الارض " سے مراد یہاں سرزمین مکہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان کو اسلام کے غلبہ اور خود ان کی اپنی ہزیمت کی کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو وہ اس امر واقعی کو کیوں نہیں دیکھتے کہ اسلام کی دعوت بالتدریج مکہ کے اطراف کو فتح کرتی ہوئی سرزمین مکہ کی طرف بڑھ رہی ہے اور وہ دن دور نہیں ہے جب وہ اس سرزمین کو بھی زیر نگیں کرلے گی۔ اسلام کے تدریجی عروج اور مکہ کے اطراف کے قبائل اور مدینہ میں اس کی اشاعت کو اللہ تعالیٰ نے مکہ کی طرف اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–41

41۔ 1 یعنی عرب کی سرزمین مشرکین پر بتدریج تنگ ہو رہی ہے اور اسلام کو غلبہ عروج حاصل ہو رہا ہے۔ 41۔ 2 یعنی کوئی اللہ کے حکموں کو رد نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 41–42

40: مطلب یہ ہے کہ جزیرہ عرب پر مشرکین اور ان کے عقائد کا جو تسلط تھا، وہ رفتہ رفتہ سمٹ رہا ہے، اور مشرکین کے اثر ورسوخ کا دائرہ کار روز بروز کم ہو کر سکڑ رہا ہے، اور اس کی جگہ اسلام کے اثرات پھیل رہے ہیں، یہ ایک تازیانہ ہے جس سے ان مشرکین کو سبق لینا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 41 یہ لوگ امم سابقہ سے مکاری ، تدابیر اور سیاست اور دھوکہ بازی میں زیادہ نہیں ہیں لیکن اللہ نے اس کے باوجود ان اقوام کو پکڑا کیونکہ اللہ کی قوت اور تدبیر ان سے زیادہ محکم تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی سرزمین مکہ کے آس پاس اسلام کا اثر پھیلتا جاتا اور کفر کی عملداری گھٹتی جاتی ہے۔ بڑے بڑے قبائل اور اشخاص کے قلوب پر اسلام کا سکہ بیٹھ رہا ہے۔ اوس و خزرج کے دل حق و صداقت کے سامنے مفتوح ہو رہے ہیں۔ اس طرح ہم آہستہ آہستہ کفر کی حکومت کو دباتے چلے آرہے ہیں۔ کیا یہ روشن آثار ان مکذبین کو نہیں بتلاتے کہ خدا کا فیصلہ ان کے مستقبل کے متعلق کیا ہوچکا ہے۔ ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اسلام آج جس رفتار سے بڑھ رہا ہے وہ کسی طاقت سے رکنے والا نہیں۔ لہذا انجام بینی اسی میں ہے کہ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھیں۔ 7 یعنی اس کا تکوینی حکم اور فیصلہ اٹل ہے۔ جب وقت آجائے تو کس کی طاقت ہے کہ ایک منٹ کے لیے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ ۭ وَهُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ یہ مضمون سورة الانبیاء میں اس طرح بیان ہوا ہے : اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِہَاط اَفَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آ رہے ہیں تو کیا اب یہ غالب آنے والے ہیں ؟“ یہ اس دور کی طرف اشارہ ہے جب مشرکین مکہ نے مکہ کے اندر رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف دشمنی کی بھٹی پورے زور شور سے دہکا رکھی تھی اور وہ لوگ اس میں اپنے سارے وسائل اس امید پر جھونکے جا رہے تھے کہ ایک دن محمد اور آپ کی اس تحریک کو نیچا دکھا کر رہیں گے۔ اس صورت حال میں انہیں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

53 زمین کو ہر طرف سے کم کرنے سے مراد ؟:۔ یعنی اسلام چاروں طرف پھیلتا جارہا ہے اور کفر کی سرزمین ہر طرف سے سمٹتی اور کم ہوتی جارہی ہے اور اس کا حلقہ تنگ سے تنگ تر ہوتا جارہا ہے۔ اسلام کو غلبہ دینا اور اسے پھیلانا ایسی بات ہے جس کا اللہ فیصلہ کرچکا ہے جسے کوئی طاقت روک نہیں سکتی اور جوں جوں اسلام پھیلتا ہے ان پر عرصہ حیات تنگ ہوتا جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

81۔ (ان کے حق میں) یعنی یہ مغرور اور سرکش اتنی موٹی بات بھی نہیں دیکھتے کہ ہم برابر ہر جنگ میں کچھ نہ کچھ ملک اور حصہ زمین ان کے ہاتھ سے نکال نکال کر اسے اہل ایمان کے قبضے میں دیتے جاتے ہیں، عذاب دنیوی یہ اگر نہیں تو اور کیا ہے ؟ ایک ایسا انسان جو بظاہر تمامتر تائیدی اسباب سے محروم ومعزا تھا، اس کا رفتہ رفتہ اتنا غالب آجانا اگر تائید غیبی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے ؟ سورة مکی ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ خاص آیت مدنی ہو، مکی سورتوں کے اندر ملی جلی مدنی آیتوں کی مثالیں قرآن مجید میں کثرت سے مل جاتی ہیں۔ لیکن آیت اگر مکی ہی ہو جب بھی اشکال وارد نہیں ہوتا اسلام پھیل تو برابر رہا تھا اور مسلمانوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 38–43

آیت نمبر 38 تا 42 ترجمہ : آئندہ آیت اس وقت نال ہوئی کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو کثرت ازواج پر عار دلائی، ہم آپ سے پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو بیوی بچوں والا بنایا، اور آپ بھی ان کی مثل ہیں ان میں سے کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے، اس لئے کہ وہ تربیت یافتہ بندے ہیں، ہر دور کیلئے ایک کتاب ہے وہ اسی (دور) کیلئے محدود ہے اللہ جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے مٹا دیتا ہے اور جن احکام وغیرہ کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام الکتاب (اصل) اسی کے پاس ہے اصل کتاب کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کرتا اور وہ وہی ہے جس کو اس نے ازل میں لکھا اور جس عذاب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا کیا (مکہ کے کافروں نے) نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو ہر چہار طرف سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ بغوی نے اکثر اہل تفسیر کا قول نقل کیا ہے کہ زمین سے مراد ہے : کافروں کی زمین اور کم کرنے سے مراد ہے : مسلمانوں کا کافروں کی زمین کو فتح کرنا۔ کیونکہ مسلمانوں کے مقبوضات بڑھنے کا معنی ہی یہ ہے کہ کافروں کے مقبوضات میں کمی آئے۔ پورا مطلب اس طرح ہے کہ ہم نے جو ان کو وعید دی ہے کہ یہ بہت کچھ کفر کی حمایت میں صرف کریں گے لیکن وہ تمام مصارف ان کیلئے باعث حسرت بن جائیں گے ‘ آخر ان کو مغلوب ہونا پڑے گا۔ کیا ان کو اس قول کی سچائی کا انکار ہے ؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(41) کیا مکہ والے اس چیز کو نہیں دیکھ رہے ہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے لیے ان کی زمین کو چاروں طرف سے فتح کرتے جارہے ہیں یا یہ کہ ہر طرف سے کمی سے مراد علماء کا اٹھ جانا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی شہروں کی فتوحات اور علمائے کرام کے انتقال کرنے بارے میں فیصلہ فرماتا ہے اس کے حکم کو کوئی ٹالنے والا نہیں اور وہ ان پر سخت قسم کا عذاب نازل کرنے والا ہے یا یہ کہ جس وقت وہ ان سے حساب لینا شروع کرے گا تو اس کا حساب بڑی جلدی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ۔ : یہ کفار کے لیے وعید اور مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے، یعنی کیا ان کفار نے نہیں دیکھا کہ ہم ان کی زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں، ان کے شہر اور علاقے یکے بعد دیگرے مسلمانوں کے قبضے میں آتے جا رہے ہیں، ایک وقت آ رہا ہے کہ انھیں زمین کے مرکز ام القریٰ یعنی مکہ سے بھی بےدخل ہونا پڑے گا۔ چونکہ مکہ میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا، اس لیے بعض مفسرین نے اس سورت کو مدنی قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی پیش قدمی کو اپنی پیش قدمی قرار دیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی کا دین آگے بڑھ رہا تھا اور مسلمانوں کا آگے بڑھنا صرف اللہ ہی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 40–41

آیت نمبر 40 تا 41 قولہ تعالیٰ : وان ما نرینک بعض الذی نعدھم ” ما “ زائد ہے، تقدیر عبارت : وان نرینک بعض الذی نعدھم ہے اس سے مراد عذاب ہے ؛ دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (رعد : 34) دنیوی زندگی میں ان کے لیے عذاب ہے۔ اور اللہ کا ارشاد ہے : ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ (رعد : 31) یعنی اگر ہم آپ کو اسکا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے او نتوفینک فانما علیک البلغ پس آپ پر سوائے ابلاغ یعنی تبلیغ کے کچھ نہیں۔ وعلینا الحساب حساب سے مراد جزاء و سزا ہے۔ قولہ تعالیٰ : اولم یروا یعنی کیا اہل مکہ نے نہیں دیکھا۔ انا ناتی الارض یعنی ہم اس کا قصد کر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 41–42

علماء کی موت اجل دنیا کے لئے نقصان دہ ہے : 1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے علماء کا (اس دنیا سے) چلے جانا۔ 2:۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ ونعیم بن حماد نے الفتن میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے مراد ہے ان کے علماء کی موت ان کے فقہا کی موت اور ان کے نیک لوگوں کا (اس دنیا) سے چلے جانا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ننقصھا من اطرافھا “ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَوَلَمْ يَرَوْا : کیا انھوں نے نہیں دیکھا ] [انا نَاتِي : کہ ہم آتے ہیں ] [ الْاَرْضَ : زمین کے پاس ] [ نَنْقُصُهَا : گھٹاتے ہوئے اس کو ] [ مِنْ اَطْرَافِهَا : اس کے کناروں سے ] [وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ يَحْكُمُ : حکم کرتا ہے ] [لَا مُعَقِّبَ : (تو) کوئی بھی پیچھے ڈالنے والا نہیں ہے ] [لِحُكْمِهٖ : اس کے حکم کو ] [ وَهُوَ : اور وہ ] [ سَرِيْعُ الْحِسَابِ : حساب لینے کا تیز ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا) (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو اس کی اطراف سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں) بعض مفسرین نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ کافروں کو اس سے عبرت ہونی چاہئے کہ اس زمین پر اہل ایمان کا اقتدار بڑھتا چلا جا رہا ہے ہر طرف اسلام پھیل رہا ہے اور جو لوگ بھی اسلام قبول کرلیتے ہیں ان کا علاقہ مسلمانوں کی عملداری میں داخل ہوجاتا ہے جو لوگ مجبور اور مظلوم تھے انہیں زمین کا اقتدار ملتا جا رہا ہے اور ظالمین اقتدار سے محروم ہوتے جا رہے ہیں کافروں کی عملداری ہر طرف سے گھٹ رہی ہے یہ سب کچھ ان کی نظروں کے سامنے ہے اس سے عبرت حاصل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–43

کفر کا زوال اور اسلام کا اقبال قال اللہ تعالیٰ وان ما نرینک بعض الذی نعدھم .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتاب۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی شان محو و اثبات اور صفت تغیر و تبدیل کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں کفر کے زوال اور اسلام کے عروج اوراقبال کو بیان فرماتے ہیں کہ اس کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔ نیز گزشتہ آیات میں کافروں پر دنیوی آفات اور مصائب کے نزول کی خبر دی تھی کام قال تعالیٰ ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ او تحل قریبا من دارھم الخ اور فرمایا تھا لہم عذاب فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اشق اب ان آیات میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اب ان مواعید کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44:۔ تخویف دنیوی ہے۔ اَلْاَرْضَ سے ارض کفر و شرک مراد ہے۔ یعنی ارض الشرک۔ قال اکثر المفسرین المراد منہ فتح دار الشرک فان مازاد فی دار الاسلام فقد نقصد فی دار الشرک (خاذن ج 4 ص 29) ۔ کیا مشرکین نہیں دیکھ رہے کہ دنیا میں توحید پھیلتی جا رہی ہے اور شرک و کفر مٹتا جا رہا ہے، مشرکین کے زیر قبضہ علاقے فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آرہے ہیں اس طرح اہل اسلام سے ہم نے وعدے کیے تھے وہ سچے ثابت ہو رہے، کیا اب بھی انکار کی کوئی گنجائش ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اٹل اور محکم ہے اسے کوئی رد نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کو سربلند کرنے اور دشمنان پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کو مقہور و مغلوب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 41–43

(ربط آیات) سورة ہذا کی ابتدا میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا پھر مسئلہ توحید اور قیامت کا ذکر آیا اور اب آخر میں اس سورة کا اختتام رسالت کے بیان پر ہو رہا ہے مشرکین مکہ حضور خاتم النبیین ﷺ پر جو مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے اور پیغمبر خدا کی رسالت اور نبوت کی تصدیق کی گئی ہے ، درمیان میں محو اور اثبات کا ذکر بھی ہوا ، شرائع کی منسوخی اور نئے احکام کا اجرا قضا وقدر میں تغیر وتبدل کسی چیز کو مٹا دینا اور کسی کو باقی رکھنا ، یہ سب اللہ کی قدرت تامہ کے تحت بیان ہوچکا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی بھی دی ، فرمایا ہم نے جن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

Explained with ayahs 40–41

وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40؁ وفی وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] ( وی) الوافی اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 38–43

ترکیب : امازینک کا جواب فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب والمعنی سواء اریناک ذلک او توفیناک قبل ظہورہ فالوا جب علیک تبلیغ احکام اللہ وعلینا حسابہم ننقصہا جملہ حال ہے ضمیر فاعل یا الارض سے۔ باللّٰہ ب زائد اللہ فاعل کفی و من موصلہ عندہ علم الکتاب صلہ یہ معطوف ہے محلاً اللہ پر فاعل ہوگا کفی کا۔ تفسیر : عرب کے مشرک اور مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے۔ ازانجملہ ایک یہ تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں رسول بنا کر بھیجے اس کو دنیاوی باتوں سے پاک ہونا چاہیے فرشتوں کی مانند یہ کیسے نبی ہیں جن کے بیوی بچے ہیں کھاتے پیتے دنیا کے کاروبار خریدو فروخت بازار سے کرتے ہیں ‘ پھر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا ط وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لاَ مُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ ط وَھُوَسَرِیْعُ الْحِسَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 41) (کیا یہ لوگ دیکھ نہیں رہے کہ ہم بڑھ رہے ہیں اس سر زمین کی طرف اس کے اطراف سے کم کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے اور کوئی اس کے فیصلے کو ہٹانے والا نہیں اور وہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ ) مسلمانوں کو تسلی اور مشرکین کو وارننگ ایک دوسرے پہلو سے اس آیت کریمہ میں بھی آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کے لیے تسلی ہے اور کفار مکہ کے لیے وارننگ ہے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو یہ کہہ کر تسلی دی جارہی ہے کہ آپ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 40–41

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب : منکرین حق کا سینکڑوں دلائل سننے اور درجنوں معجزات دیکھنے کے باوجود اس بات پر مصر رہنا اور تکرار کرنا کہ رسول ہمیں مزید معجزات کیوں نہیں دکھاتا یا ہمارے مطالبہ پر ہم پر سخت ترین عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ اس کا بھی قرآن مجید نے متعدد مقامات پر جامع اور تفصیلی جواب دیا ہے۔ جس کے ثبوت حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امتوں کے حوالے سے پیش کیے ہیں۔ مگر پھر بھی منکرین حق آپ سے اس قسم کے مطالبات کرتے ہی رہتے تھے۔ جن کا اس مقام پر فقط اتنا ہی جواب دیا ہے کہ اے رسول ! جس بات کا یہ مطالبہ کرتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

41: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّانَاْتِی الْاَرْضَ (کیا انہوں نے (مکہ کے کافروں نے) نہیں دیکھا کہ ہم زمین کو ہر چہار جہت سے کم کرتے چلے آرہے ہیں) مراد ارض کفر ہے۔ نَنْقُصُہَا مِنْ اَطْرَافِھَا (اسکو ہم اطراف سے کم کرتے جارہے ہیں) انکا علاقہ مسلمان فتح پر فتح کرتے جارہے ہیں۔ دارالحرب کو گھٹا رہے ہیں۔ اور دارالاسلام کو پھیلا رہے ہیں یہ غلبہ اور نصرت کی علامت ہے۔ مطلب یہ ہے آپ کے ذمہ اس چیز کا پہنچانا ہے جو ذمہ داری آپ پر ڈال دی گئی ہے۔ اسکے نتیجہ کا آپ اہتمام نہ فرمائیں ہم جانیں ہمارا کام۔ ہم نے جو نصرت و کامیابی کا وعدہ کیا وہ پورا کرکے رہیں گے۔ وَاللّٰہُ یَحْکُمُ لَامُعَقِّبَ لِحُکْمِہٖ (اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

41۔” اولم یروا “ اس سے مراد اہل مکہ ہے جو آپ ﷺ سے معجزات کے متعلق سوال کیا کرتے تھے۔ ننقصھا من اطرافھا کی مختلف تفاسیر ” انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد مشرکین کے علاقوں کا فتح کرنا ہے۔ اس سے دریا اسلام میں اضافہ اور دریا شرک میں نقصان ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” اولم یروا انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ ان زمینوں کے بعد ہم نے محمد ﷺ کے لیے فتوحات میں اضافہ نہیں کیا ۔ کیا ان کو اس کا مشاہدہ نہیں ، یہ ابن عباس ؓ ، قتادہ ؓ اور ایک جماعت قول ہے۔ بعض حضرات نے کہا کہ خراب الارض کا معنی ہے کہ کیا ان کو نظر نہیں آتا کہ ہم ان کی آبادیوں کو اجھا ڑ رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–41

40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار کے لئے ہم نے جو وعدہ کیا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں بھی ہم چاہیں تو کچھ عذاب تمہاری حیات میں ان پر نازل کردیں یا تمہیں اپنے پاس بلا لیں یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر تمہارا کام صرف پیغام الٰہی کا پہنچانا ہے۔ کوئی ایمان لائے یا نہ لائے تم سے اس بارے میں کچھ سوال نہ ہوگا تم اپنا کام کئے جاؤ باقی رہی جزا سزا وہ اللہ کے اختیار میں ہے ہم اچھی طرح ان کا حساب کتاب کر کے فیصلہ کردیں گے پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے فرمایا کہ اس وعدہ کی یہ علامت ظاہر بھی ہو رہی ہے کہ ملک ان کے ہاتھوں سے رفتہ رفتہ نکلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے جھٹلانے والوں کو وعید سناتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں “ یعنی جھٹلانے والوں کی ہلاکت اور ظالموں کے استیصال کے ذریعے سے زمین کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آرہے ہیں۔ نیز اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشرکین کے شہرون کی فتح، ان کے مال اور بدن میں کمی کے ذریعے سے چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جارہا ہے۔۔۔ اس کی تفسیر میں بعض دیگر اقوال بھی ہیں۔ ہیں۔ نیز اس کی تفسیر میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مشرکین کے شہروں کی فتح، ان کے مال اور بدن میں کمی کے ذریعے سے چاروں طرف سے ان پر حلقہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ اس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 40–43

81۔ منکرین کے دواعتراضوں کا جواب : سو اس سے منکرین کے دواعتراضوں کا جواب دیا گیا، ایک یہ کہ ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ان کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ؟ ہم اپنے ہی جیسے ایک بشرکو نبی اور رسول کیوں کرمان لیں، اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی و رسول بنا کر بھیجنا ہوتاتو کسی فرشتے کو رسول بناکربھیج دیتا جو نہ کھاتانہ پیتا، نہ بیویاں ہوتیں نہ بچے، توتب ہم مانتے، سو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول بھیجے وہ سب ہی بشر اور انسان تھے، ان میں سے کوئی بھی رسول مافوق الفطرت نہیں تھا، سب کی بیویاں اور بچے بھی تھے وہ سب کھاتے اور پیتے بھی تھے، دوسرا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–43

کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 38–43

(رکوع نمبر 6) اسرارومعارف کفار کا یہ خیال بھی محض باطل ہے کہ نبی اور رسول تو اگر فرشتہ نہ ہو تو فرشتہ کی مانند اس کی کوئی بیوی یا اولاد نہ ہو گھر بار نہ ہو جیسے آجکل کے جہلا کے ولایت کے بارے میں ایسا ہی گمان ہے قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اس کا جواب ارشاد فرمایا جن میں ایک مقام یہ بھی ہے کہ نبی بھی عام انسان کی زندگی گذارتا ہے اور سرد وگرم زمانہ برداشت کرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے ، بیوی بچے گھر بار دوست ، دشمن ، سب معاملات اس کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ قابل اتباع ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی مسائل ہوتے ہیں جن کے باعث وہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہیں کر پاتے مگر نبی کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ۔ یہ خوشخبری ہے کہ نصرت الٰہی کا نزول شروع ہوچکا ہے۔ اطرافِ عرب میں تدریجاً اسلام کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور کفر و شرک سمٹ رہا ہے۔ تعجب ہے کہ بایں ہمہ یہ لوگ عبرت حاصل نہیں کرتے۔ (از روح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13: 41) تاتی۔ اتی یاتی (باب ضرب) اتیان مصدر۔ مضارع جمع متکلم۔ ہم آتے ہیں۔ ہم چلے آتے ہیں۔ اتیان کے معنی ” آنا “ کے ہیں خواہ کوئی بذاتہٖ آئے یا اس کا حکم پہنچے۔ یا اس کا نظم ونسق اور حکم عملاً جاری ہو۔ جیسے فاتی اللہ بنیانہم من القواعد (16:26) سو اللہ نے ان کی ساری عمارت جڑ سے اکھاڑ دی۔ اتیتہ بکذا واتیتہ کذا۔ کے معنی کوئی چیز لانا اور دینا کے ہیں۔ ننقصھا۔ ننقص۔ مضارع جمع متکلم۔ نقص مصدر (باب نصر) ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب۔ ہم اس کو کم کرتے ہیں انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا۔ میں ننقصھا من اطرافھا حال ہے ناتی کا۔ یعنی ہم زمین کو اس کی تمام طرفوں سے کم کرتے چلے آتے ہیں۔ (یہاں اتیان مصدر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 38–41

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41 ارسلنا ہم نے بھیجا ازواج (زوج) بیویاں ۔ جوڑے ذریۃ اولادیں اجل مدت یمحوا وہ مٹاتا ہے یثبت وہ باقی رکھتا ہے ام الکتاب کتاب کی ماں۔ (لوح محفوظ) نرینک ہم تجھے دکھا دیں گے نعد ہم وعدہ کرتے ہیں نتوفین ہم وفات دیں گے البلغ پہنچا دینا علینا ہمارے اوپر۔ ہماری ذمہ داری ہے ناتی ہم لا رہے ہیں ننقص ہم کم کر رہے ہیں اطراف کنارے معقب پیچھے ڈالنے والا سریع الحساب جلد حساب لینے والا تشریح : آیت نمبر 38 تا 41 اصل میں جو لوگ سچائی کا سامنا نہیں کرسکتے وہ یا تو سازشیں کرتے ہیں یا طرح طرح کے اعتراضات کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کفار مکہ کبھی تو نبی کریم ﷺ سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–41

اسلام کا اقبال اور کفار کے زوال و مکر کا ذکر : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار کے لیے ہم نے جو وعدہ کیا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں پہلے عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ ہم چاہیں تو کچھ عذاب تمہیں حین حیات میں ان پر نازل کردیں۔ یا تمہیں اپنے پاس بلا لیں۔ یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر تمہارا کام پیغام الہی کا پہنچانا ہے، کوئی ایمان لائے یا نہ لائے، تم سے اس کے بارہ میں کچھ سوال نہ ہوگا تم اپنا کام کیے جاؤ۔ باقی رہی جزا و سزا وہ اللہ کے اختیار میں ہے ہم اچھی طرح ان کا حساب کتاب کرکے فیصلہ کردیں گے۔ پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی تسکین خاطر کے لیے فرمایا کہ اس وعدہ کی یہ علامت ظاہر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[30] یعنی کفار کی عملداری بہ سبب کثرت فتوحات اسلامیہ روز بروز گھٹتی چلی جا رہی ہے سو یہ بھی ایک قسم کا عذاب ہے جو مقدمہ ہے اصلی عذاب کا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 41–43

(ف 3) فتوحات اسلامی کی وسعت کی جانب اشارہ ہے یعنی مسلمان سیلاب کی طرح کفر کی مملکت پر چھا رہے ہیں کیا اس کامیابی کو مخالفین بنظر امعان نہیں دیکھتے ؟ اور کیا اس وسعت اور پھیلاؤ میں ان کے لئے کرشمہ سازی کا کوئی سامان نہیں ؟ کیا یہ کم معجزہ ہے کہ مٹھی بھر مسلمان دنیائے کفر فتح کرلینے کا عزم رکھتے ہیں ، اور ہر آفتاب جو طلوع ہوتا ہے ، اسلامی اقبال و عروج کی خبر دیتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

4 1 ۔ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اور ان کے ملک کو چاروں طرف سے برابر کم کرتے چلے آتے ہیں اور زمین کو اس کے کناروں کی طرف سے گھٹا تے چلے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جو چاہے حکم کرتا ہے اس کے حکم کو کوئی ہٹانے والا اور پیچھے ڈالنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ یعنی اسلام کا غلبہ اور فتوحات اسلامی کی وجہ سے کفار کا قبضہ اس ملک سے کم ہوتا جاتا ہے اللہ کے حکم کا کوئی روکنے والا نہیں اور وہ بہت جلدی ہی ان کا حساب لینے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے یعنی اسلام پھیلتا جاتا ہے عرب کے ملک میں اور کفر گھٹتا ہے۔ 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 40–41

ف 9۔ یعنی ان کی عمل داری بسبب کثرت فتوحات اسلامیہ کے روزبروز گھٹتی جارہی ہے سو یہ بھی تو ایک قسم کا عذاب ہے جو مقدمہ ہے اصلی عذاب کا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اطراف سے سیکڑتے چلے آ رہے ہیں 64 ؎ معاندین و مخالفین کو خبر دی گئی ہے کہ وہ سریع الحساب ہے اس لئے ظہور نتائج کا وقت دور نہیں نیز یہ کہ دعوت حق کی فتح مندی اس طرح ظہور میں آئے گی کہ بتدریج مکہ کے اطراف و جوانب قریش مکہ کے تسلط سے کٹتے جائیں گے اور بالآخر مکہ بھی فتح ہوجائے گا۔ اس کو کہتے ہیں کہ ” جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے “ مخالفین کو وارننگ اور اطلاع بڑی بہادری اور نہایت دیانتداری کی بات اور اطلاع دینے والے کی سچائی اس سے واضح ہوتی ہے۔ غور کرو کہ وہ مغرور اور سرکش اتنی موٹی بات بھی نہیں دیکھتے کہ ہم برابر جنگ میں کچھ نہ کچھ ملک اور حصہ زمین ان کے ہاتھ سے نکال…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 40–43

In verse وَإِن مَّا نُرِ‌يَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (And if We show you some of what We promise them, or We take you back to Us), it is to comfort and assure the Holy Prophet ﷺ that he has been given the good news that the promises Allah has made to him that Islam will have the final victory and disbelief and disbelievers will be disgraced shall come to pass definitely. But, he is told, 'you should not concern yourself as to when this victory will finally come.' May be, this happens within his life time, and it is also possible that it comes after his departure…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

60.“We are advancing in the land.”This is a very subtle way of warning the opponents of the truth. The fact that Our message is spreading fast in Arabia. It does, in fact, mean that We Ourselves are advancing very fast in the country against you for We are with those who are carrying Our message.“Diminishing it from its outlying borders.”We are causing the influence of Islam to spread fast in the land and are thus reducing the boundaries of the influence of its opponents. Are not these things the portents of their coming disaster?

Read the full tafseer →