Explained with ayahs 40–41
آپ کے انتقال کے بعد
تیرے دشمنوں پر جو ہمارے عذاب آنے والے ہیں وہ ہم تیری زندگی میں لائیں تو اور تیرے انتقال کے بعد لائے تو تجھے کیا ؟ تیرا کام تو صرف ہمارے پیغام پہنچا دینا ہے وہ تو کرچکا۔ ان کا حساب ان کا بدلہ ہمارے ہاتھ ہے۔ تو صرف انہیں نصیحت کر دے تو ان پر کوئی جاروغہ اور نگہبان نہیں۔ جو منہ پھیرے گا اور کفر کرے گا اسے اللہ ہی بڑی سزاؤں میں داخل کر دے گا ان کا لوٹنا تو ہماری طرف ہی ہے اور ان کا حساب بھی ہمارے ذمے ہے۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو تیرے قبضے میں دیتے آ رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ آباد اور عالی شان محل کھنڈر اور ویرانے بنتے جا رہے ہیں ؟ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 59
مطلب یہ ہے کہ تم اس فکر میں نہ پڑو کہ جن لوگوں نے تمہاری اس دعوت حق کو جھٹلا دیا ہے ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور کب وہ ظہور میں آتا ہے۔ تمہارے سپرد جو کام کیا گیا ہے اسے پوری یکسوئی کے ساتھ کیے چلے جاؤ اور فیصلہ ہم پر چھوڑ دو۔ یہاں بظاہر خطاب نبی ﷺ سے ہے، مگر دراصل بات ان مخالفین کو سنانی مقصود ہے جو چیلنج کے انداز میں بار بار حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ ہماری جس شامت کی دھمکیاں تم ہمیں دیا کرتے ہو آخر وہ آکیوں نہیں جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
(آیت) وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ اس آیت میں رسول کریم ﷺ کو تسلی دینے اور مطمئن رکھنے کے لئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو وعدے آپ سے کئے ہیں کہ اسلام کی مکمل فتح ہوگی اور کفر و کافر ذلیل و خوار ہوں گے یہ تو ہو کر رہے گا مگر آپ اس فکر میں نہ پڑیں کہ یہ فتح مکمل کب ہوگی ممکن ہے کہ آپ کی زندگی میں ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وفات کے بعد ہو اور آپ کے اطمینان کے لئے یہ بھی کافی ہے کہ آپ برابر دیکھ رہے ہیں کہ ہم کفار کی زمینوں کو ان کے اطراف سے گھٹاتے چلے جاتے ہیں یعنی یہ اطراف مسلمانوں کے قبضہ میں آجاتے ہیں اس طرح ان کی مقبوضہ زمین گھٹتی جاتی ہے…
Read the full tafseer →وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۔
عذاب کا وقت خدا کی یمشیت و حکمت کے مطابق : یعنی جس عذاب کی ہم ان کو، تمہاری تکذیب کی صورت میں، دھمکی سنا رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ اس کا کوئی نمونہ تمہاری زندگی ہی میں ہم دکھا دیں۔ یا تم کو تو وفات دے دیں اور تمہاری وفات کے بعد ان کو اس کا مزہ چکھائیں۔ اس امر کا تمام تر انحصار ہماری مشیت و حکمت پر ہے۔ اس معاملے میں نہ تم کو کوئی دخل ہے اور نہ تمہیں اس کے لیے پریشان ہونا اہیے۔ تم پر ذمہ داری صرف ان لوگوں کو ہماری بات پہنچا دینے کی ہے، ان سے مواخذہ و محاسبہ کرنا ہمارا کام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
41۔ 1 یعنی عرب کی سرزمین مشرکین پر بتدریج تنگ ہو رہی ہے اور اسلام کو غلبہ عروج حاصل ہو رہا ہے۔
41۔ 2 یعنی کوئی اللہ کے حکموں کو رد نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →39: بعض مسلمانوں کے دل میں یہ خیال آتا تھا کہ ان کافروں کی سرکشی کے باوجود ان پر کوئی عذاب کیوں نہیں آرہا ہے ؟ اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے کہ عذاب کا صحیح وقت اللہ تعالیٰ ہی نے اپنی حکمت کے تحت مقرر فرمایا ہوا ہے، وہ کسی وقت بھی آئے، آنحضرت ﷺ کو اپنا ذہن فارغ رکھنا چاہیے کہ ان کی ذمہ داری تبلیغ کی ہے، ان کافروں کا محاسبہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے جو وہ اپنی حکمت کے تحت مناسب وقت پر انجام دے گا۔
(توضیح القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا…
Read the full tafseer →5 یعنی جو وعدے ان سے کیے گئے ہیں، ہم کو اختیار ہے کہ ان میں سے بعض آپ کے سامنے پورے کردیں۔ یا آپ کی وفات کے بعد ظاہر کریں، نہ آپ کو ان کے ظہور کی فکر میں پڑنا چاہیے اور نہ تاخیر و امہال دیکھ کر ان لوگوں کو بےفکر ہونا چاہیے۔ خدا کے علم میں ہر چیز کا ایک وقت مناسب ہے جس کے پہنچنے پر وہ ضرور ظاہر ہو کر رہے گی۔ آپ اپنا فرض (تبلیغ) ادا کیے جائیں۔ تکذیب کرنے والوں کا حساب ہم خود بیباق کردیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 40 وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ
یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی ہی میں ان کو عذاب الٰہی میں سے کچھ حصہ مل جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی زندگی میں ان پر ایسا وقت نہ آئے بلکہ عذاب کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں۔
فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ
آپ پر ہمارا پیغام پہنچانے کی ذمہ داری تھی سو آپ نے یہ ذمہ داری احسن طریقہ سے ادا کردی۔ اب ان کو ہدایت دینا یا نہ دینا ان پر عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اور ان کا حساب لینا یہ سب کچھ ہمارے ذمے ہے اور ہم یہ فیصلے اپنی مشیت کے مطابق کریں گے۔
Read the full tafseer →52 کفار مکہ پر عذاب آپ کے جیتے بھی اور بعد میں بھی :۔ اس آیت میں بھی کافروں کے اس مطالبہ کا جواب ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اب تک ہم پر عذاب آجانا چاہیے تھا یا کیوں نہیں آتا اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ آپ کے ذمہ صرف دعوت دین اور اس کی تبلیغ ہے آپ یہی کام کرتے جائیے۔ ان منکرین سے نمٹنا اللہ کا کام ہے اور جس عذاب کا یہ مطالبہ کر رہے ہیں وہ بھی ان پر آکے رہے گا۔ اس عذاب کا کچھ حصہ تو آپ اپنی زندگی میں جیتے جی دیکھ لیں گے اور کچھ حصہ آپ کی زندگی کے بعد ان کو دیا جائے گا اور اس طرح ان کا یہ مطالبہ بھی پوراکر دیا جائے گا۔ پھر ان منکرین کو آپ کے جیتے جی جو سزائیں ملیں ان کا ذکر قرآن اور حدیث میں…
Read the full tafseer →80۔ قبل اس کے کہ وہ عذاب موعود آئے، خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں خواہ دونوں جگہ) ضمنا وتبعا اتنے جزو سے دو اور مسئلے بھی روشنی میں آگئے۔ (1) ایک یہ کہ آپ ﷺ کی وفات واقع ہوگی آپ ﷺ غیر فانی بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں۔ (2) دوسرے یہ کہ جن وعدوں اور دعو وں کا اظہار آپ ﷺ کی زبان سے کرایا گیا۔ ان میں سے بعض کا وقوع آپ ﷺ کے بعد ہی ہوگا۔ (آیت) ” الذی نعدھم “۔ یعنی عذاب الہی خصوصا اسی دنیا میں (آیت) ” وان مانرینک بعض الذی نعدھم “۔ یعنی آپ ﷺ کی زندگی ہی میں عذاب ان پر لے آئیں۔ یہ سب کافروں کے اس مطالبہ کے جواب میں کہا جارہا ہے کہ آخر عذاب ہم پر آکیوں نہیں جاتا ہے ؟ صوفیہ محققین نے آیت سے یہ نکالا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : آئندہ آیت اس وقت نال ہوئی کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو کثرت ازواج پر عار دلائی، ہم آپ سے پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو بیوی بچوں والا بنایا، اور آپ بھی ان کی مثل ہیں ان میں سے کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے، اس لئے کہ وہ تربیت یافتہ بندے ہیں، ہر دور کیلئے ایک کتاب ہے وہ اسی (دور) کیلئے محدود ہے اللہ جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے مٹا دیتا ہے اور جن احکام وغیرہ کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام الکتاب (اصل) اسی کے پاس ہے اصل کتاب کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کرتا اور وہ وہی ہے جس کو اس نے ازل میں لکھا اور جس عذاب…
Read the full tafseer →وان ما نرینک بعض الذی نعدھم اگر (آپ کی وفات سے پہلے) ہم آپ کو اس بات کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں۔ بَعْضَ الَّذِی نَعِدُھُمْ سے مراد ہے : دنیا میں مسلمانوں کو مشرکوں پر غالب کر کے اہل اسلام کے ہاتھوں ان کو سزا دینا اور مغلوب کرنا۔ اللہ نے یہ وعید آیت سَیُھْزَمَ الْجُمْعُ وَیُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ میں دی تھی (ان کا جتھا شکست پائے گا اور سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے) یہ شکست جنگ بدر کے دن کفار پر پڑی ‘ کچھ قتل ہوئے کچھ قید۔
او نتو فینک یا ہم (وعدہ پورا کرنے سے پہلے) آپ کو وفات دے دیں (اور آپ کی زندگی میں ان کو کامل شکست نہ ہو) تو آپ اس کی فکر نہ کریں ‘ ان کی روگردانی کی پرواہ…
Read the full tafseer →(40) اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کررہے اس میں اگر کچھ آپ کی زندگی دکھا دیں یا اس عذاب کے دکھانے سے پہلے ہم آپ کو وفات دے دیں تو کسی بھی صورت میں آپ فکر نہ کریں کیوں کہ آپ کے ذمہ تو صرف احکام الہی کا پہنچا دینا ہے اور ثواب و عذاب دینا تو ہمارا کام ہے۔
Read the full tafseer →وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ۔۔ : ”مَا“ شرط کے معنی کی تاکید کے لیے ہے جو ”اِنْ“ کا مفہوم ہے۔ اس لیے ترجمہ کیا ہے ”اور اگر کبھی ہم واقعی تجھے دکھا دیں۔“ یہاں ”نُرِيَنَّكَ“ کا معنی آنکھوں سے دکھانا ہے، دل سے یا گمان اور خیال سے نہیں۔ شرط میں مذکور ”نُرِيَنَّكَ“ اور ”نَتَوَفَّيَنَّكَ“ دونوں کا جواب محذوف ہے، یعنی ضروری نہیں کہ دنیا میں انھیں دی جانے والی سزا ہم آپ کی زندگی ہی میں آپ کو دکھا کردیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ان کی سزا کا وقت آئے، اگر ہم آپ کو آنکھوں سے ان کی کچھ دنیوی سزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
آیت نمبر 40 تا 41
قولہ تعالیٰ : وان ما نرینک بعض الذی نعدھم ” ما “ زائد ہے، تقدیر عبارت : وان نرینک بعض الذی نعدھم ہے اس سے مراد عذاب ہے ؛ دلیل اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا (رعد : 34) دنیوی زندگی میں ان کے لیے عذاب ہے۔ اور اللہ کا ارشاد ہے : ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ (رعد : 31) یعنی اگر ہم آپ کو اسکا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے او نتوفینک فانما علیک البلغ پس آپ پر سوائے ابلاغ یعنی تبلیغ کے کچھ نہیں۔ وعلینا الحساب حساب سے مراد جزاء و سزا ہے۔
قولہ تعالیٰ : اولم یروا یعنی کیا اہل مکہ نے نہیں دیکھا۔ انا ناتی الارض یعنی ہم اس کا قصد کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ خوش ہوئے اور ان کی تصدیق بھی کی۔ (آیت ) ” ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “ یعنی یہود نصاری اور مجوس (جو انکار کرنے والے ہیں )
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور وہ اس سے خوش ہوئے ہیں اور (یہ آیت) ” ومن الاحزاب “ سے یہود نصاری اور مجوس کی امتیں مراد…
Read the full tafseer →[وَان مَا : اور اگر ] [ نُرِيَنَّكَ : ہم دکھا دیں آپ کو ] [ بَعْضَ الَّذِي : اس کے بعض کو جو ] [نَعِدُهُمْ : ہم وعدہ کرتے ہیں ان سے ] [ اَوْ : یا ] [نَتَوَفَّيَنَّكَ : ہم اٹھا لیں آپ ﷺ کو ] [فَانمَا : پس کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [عَلَيْكَ : آپ ﷺ پر ہے ] [ الْبَلٰغُ : پہنچانا ] [ وَعَلَيْنَا : اور ہم پر ہے ] [ الْحِسَابُ : حساب لینا ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ ) (الایۃ) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کے مخاطبین جو آپ کی تکذیب کر رہے ہیں اور ہماری طرف سے جو ان پر عذاب آنے کی خبر دی جا رہی ہے اس میں آپ کو کسی طرح پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اگر آپ کی موجودگی میں ہم نے کوئی عذاب بھیج دیا جسے آپ نے اپنی نظروں سے دیکھ لیا تو یہ آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کا ذریعہ ہوگا اور اگر ہم نے آپ کو ان پر عذاب آنے سے پہلے اٹھا لیا تو یہ بھی کوئی فکر کی بات نہیں ہے ‘ چونکہ آپ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے اس لیے ان کے قبول نہ کرنے پر آپ پر کوئی ملامت نہیں ہے اور ایمان قبول نہ کرنے پر آپ پر عذاب لانے کی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
کفر کا زوال اور اسلام کا اقبال
قال اللہ تعالیٰ وان ما نرینک بعض الذی نعدھم .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتاب۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حق تعالیٰ نے اپنی شان محو و اثبات اور صفت تغیر و تبدیل کا ذکر فرمایا اب آئندہ آیات میں کفر کے زوال اور اسلام کے عروج اوراقبال کو بیان فرماتے ہیں کہ اس کے آثار شروع ہوگئے ہیں۔
نیز گزشتہ آیات میں کافروں پر دنیوی آفات اور مصائب کے نزول کی خبر دی تھی کام قال تعالیٰ ولا یزال الذین کفروا تصیبھم بما صنعوا قارعۃ او تحل قریبا من دارھم الخ اور فرمایا تھا لہم عذاب فی الحیوۃ الدنیا ولعذاب الاخرۃ اشق اب ان آیات میں یہ بیان فرماتے ہیں کہ اب ان مواعید کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں…
Read the full tafseer →43: تخویف دنیوی ہے آپ ﷺ نے اپنا فریضہ تبلیغ ادا کردیا اگر وہ نہیں مانتے اور ضد و انکار پر قائم ہیں تو ہم انہیں سخت عذاب دیں گے خواہ آپ کی زندگی میں خواہ آپ کی وفات کے بعد۔ آپ کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کو عبرت ناک سزا دی اسی طرح آپ کی وفات کے بعد بھی اللہ تعالیٰ باقی ماندہ دشمنانِ اسلام کو مبتلائے عذاب کیا۔ آپ کا کام ہے تبلیغ اور ہمارا کام ہے دنیا وآخرت میں تکذیب و انکار پر ان کا محاسبہ کرنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(ربط آیات)
پہلے شرک کا رد اور مشرکین کا انجام بیان ہوا ، قرآن کریم کی حقانیت کا ذکر کرکے اس کی پیروی کا حکم دیا گیا ، اللہ نے خبردار کیا کہ وحی الہی کے آجانے کے بعد اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا ، تو وہ گرفت سے نہیں بچ سکے گا اور نہ ہی اس کا کوئی حمائتی ہوگا ، قطعی علم آجا نے کے بعد رسم و رواج پر چلنا روا نہیں ہے بلکہ قطعی علم کا اتباع ضروری ہوجاتا ہے ،
اس کے بعد اب رسالت کا بیان آرہا ہے نبی ﷺ پر مشرکین کے اعتراضات کا ضمنا جواب ہے قرآن کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں توحید کا ذکر آتا ہے ، اس کے ساتھ شرک کی تردید بھی ہوتی ہے ، اور جہاں وحی الہی کی بات ہوتی ہے ، ساتھ نبوت و رسالت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40
وفی
وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46]
( وی) الوافی
اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ [يونس/ 46] یا تمہاری مدت حیات پوری کردیں
حسب
الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ترکیب : امازینک کا جواب فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب والمعنی سواء اریناک ذلک او توفیناک قبل ظہورہ فالوا جب علیک تبلیغ احکام اللہ وعلینا حسابہم ننقصہا جملہ حال ہے ضمیر فاعل یا الارض سے۔ باللّٰہ ب زائد اللہ فاعل کفی و من موصلہ عندہ علم الکتاب صلہ یہ معطوف ہے محلاً اللہ پر فاعل ہوگا کفی کا۔
تفسیر : عرب کے مشرک اور مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے۔ ازانجملہ ایک یہ تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں رسول بنا کر بھیجے اس کو دنیاوی باتوں سے پاک ہونا چاہیے فرشتوں کی مانند یہ کیسے نبی ہیں جن کے بیوی بچے ہیں کھاتے پیتے دنیا کے کاروبار خریدو فروخت بازار سے کرتے ہیں ‘ پھر…
Read the full tafseer →وَاِنْ مَّانُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ وَعَلَیْنَا الْحِسَابُ ۔ (سورۃ الرعد : 40)
(اور اے نبی ﷺ جس برے انجام کی دھمکی ہم ان کو دے رہے ہیں اس کا کچھ حصہ یا تو ہم آپ کو دکھا دیں گے اور یا ہم آپ ﷺ کو وفات دے دیں گے بس آپ ﷺ پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے )
مشرکین کو وارننگ
اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن سنانا مشرکین مکہ کو ہے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ ﷺ اس بات کی فکر میں نہ پڑیں کہ جو لوگ آپ ﷺ کی دعوت کو قبول نہیں کر رہے ان کے ساتھ کیا ہوگا، اس کا تعلق ہرگز آپ ﷺ سے نہیں۔ وہ اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے اعتراض کا دوسرا جواب :
منکرین حق کا سینکڑوں دلائل سننے اور درجنوں معجزات دیکھنے کے باوجود اس بات پر مصر رہنا اور تکرار کرنا کہ رسول ہمیں مزید معجزات کیوں نہیں دکھاتا یا ہمارے مطالبہ پر ہم پر سخت ترین عذاب نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ اس کا بھی قرآن مجید نے متعدد مقامات پر جامع اور تفصیلی جواب دیا ہے۔ جس کے ثبوت حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امتوں کے حوالے سے پیش کیے ہیں۔ مگر پھر بھی منکرین حق آپ سے اس قسم کے مطالبات کرتے ہی رہتے تھے۔ جن کا اس مقام پر فقط اتنا ہی جواب دیا ہے کہ اے رسول ! جس بات کا یہ مطالبہ کرتے…
Read the full tafseer →40: وَاِنْ مَّا نُرِیَنَّکَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُھُمْ اَوْنَتَوَ فَّیَنَّکَ (اگر آپ کو وفات سے پہلے) اس بات کا کچھ حصہ دکھادیں جسکا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں یا آپکو وفات دے دیں (اور آپکی زندگی میں انکو شکست نہ ہو) جس طرح حالات کا تقاضا ہو۔ ہم انکا پچھڑنا دکھادیں اور ان سے جو عذاب اتارنے کا وعدہ کیا ہے وہ عذاب ان پر اتار دیں۔ یا اس سے قبل آپکو وفات دے دیں۔ فَاِنَّمَا عَلَیْکَ الْبَلٰغُ (پس بیشک آپکے ذمہ پہنچا دینا ہے) پس آپکے ذمہ اتنا ضروری ہے کہ پیغام رسالت پہنچا دیں۔ یہ کافی ہے۔ وَعَلََیْنَا الْحِسَابُ (اور ہمارے ذمہ حساب لینا ہے) ہمارے ذمہ ان سے حساب لینا اور بدلہ دینا ہے۔ جو انکے اعمال کے…
Read the full tafseer →40۔ ’ ’ واما نرینک بعض الذین نعلھم “ آپ کی وفات سے ان مشرکین کو عذاب دیں ۔” او نتوفینک “ اس سے پہلے۔ ” فانما علیک البلاغ “ اس پہچاننے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ ” وعلینا الحساب “ ان کو بدلہ دے گا قیامت کے دن ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
40۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار کے لئے ہم نے جو وعدہ کیا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں بھی ہم چاہیں تو کچھ عذاب تمہاری حیات میں ان پر نازل کردیں یا تمہیں اپنے پاس بلا لیں یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر تمہارا کام صرف پیغام الٰہی کا پہنچانا ہے۔ کوئی ایمان لائے یا نہ لائے تم سے اس بارے میں کچھ سوال نہ ہوگا تم اپنا کام کئے جاؤ باقی رہی جزا سزا وہ اللہ کے اختیار میں ہے ہم اچھی طرح ان کا حساب کتاب کر کے فیصلہ کردیں گے پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے فرمایا کہ اس وعدہ کی یہ علامت ظاہر بھی ہو رہی ہے کہ ملک ان کے ہاتھوں سے رفتہ رفتہ نکلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
40-41:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ (آیت) ” اگر دکھلا دیں ہم آپ کو “ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھادیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمدو ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کرسکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ (آیت) ” یا آپ کو اٹھالیں “ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
81۔ منکرین کے دواعتراضوں کا جواب :
سو اس سے منکرین کے دواعتراضوں کا جواب دیا گیا، ایک یہ کہ ان لوگوں کا کہنا یہ تھا کہ یہ کیسے رسول ہیں کہ ان کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ؟ ہم اپنے ہی جیسے ایک بشرکو نبی اور رسول کیوں کرمان لیں، اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو نبی و رسول بنا کر بھیجنا ہوتاتو کسی فرشتے کو رسول بناکربھیج دیتا جو نہ کھاتانہ پیتا، نہ بیویاں ہوتیں نہ بچے، توتب ہم مانتے، سو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ آپ سے پہلے بھی ہم نے بہت سے رسول بھیجے وہ سب ہی بشر اور انسان تھے، ان میں سے کوئی بھی رسول مافوق الفطرت نہیں تھا، سب کی بیویاں اور بچے بھی تھے وہ سب کھاتے اور پیتے بھی تھے، دوسرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی
تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
کفار کا یہ خیال بھی محض باطل ہے کہ نبی اور رسول تو اگر فرشتہ نہ ہو تو فرشتہ کی مانند اس کی کوئی بیوی یا اولاد نہ ہو گھر بار نہ ہو جیسے آجکل کے جہلا کے ولایت کے بارے میں ایسا ہی گمان ہے قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اس کا جواب ارشاد فرمایا جن میں ایک مقام یہ بھی ہے کہ نبی بھی عام انسان کی زندگی گذارتا ہے اور سرد وگرم زمانہ برداشت کرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے ، بیوی بچے گھر بار دوست ، دشمن ، سب معاملات اس کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ قابل اتباع ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی مسائل ہوتے ہیں جن کے باعث وہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہیں کر پاتے مگر نبی کی…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی ان کے اعمال پر محاسبہ اور مواخذہ ہمارے ذمہ ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ کچھ وعدے وعید تو آپ ﷺ کی زندگی میں پورے ہوں گے اور کچھ آپ ﷺ کی وفات کے بعد۔ لہٰذا آپ ﷺ کو اس کے لئے جلدی نہیں کرنی چاہیے اور ان کو چاہے کہ بےفکر اور غافل نہ ہوں۔ (از رازی) ۔
Read the full tafseer →(13: 40) ان ما نرینک۔ اصل میں ان نریک۔ ہے ما زائدہ ہے تاکید کے لئے آیا ہے اور نون ثقیلہ تاکید کے لئے۔ ان شرطیہ۔ اگر ہم تجھ کو کھلادیں۔
نعدہم۔ مضارع جمع متکلم وعد مصدر (باب ضرب) ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں (یعنی جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں۔ یا وعدہ کیا ہوا ہے۔
نتوفینک۔ نتوفین۔ مضارع بانون ثقیلہ برائے تاکید۔ جمع متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ ہم تیری زندگی پوری کردیں۔ ہم تیری روح قبض کرلیں۔
مطلب کہ جس عذاب کا وعدہ ہم نے ان کافروں سے کیا ہوا ہے ان میں سے کوئی عذاب ہم آپ کی زندگی میں ان پر نازل کر کے آپ کو دکھا دیں یا عذاب آنے سے قبل ہم آپ کو اٹھا لیں (یہ ہماری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41
ارسلنا ہم نے بھیجا ازواج (زوج) بیویاں ۔ جوڑے ذریۃ اولادیں اجل مدت یمحوا وہ مٹاتا ہے یثبت وہ باقی رکھتا ہے ام الکتاب کتاب کی ماں۔ (لوح محفوظ) نرینک ہم تجھے دکھا دیں گے نعد ہم وعدہ کرتے ہیں نتوفین ہم وفات دیں گے البلغ پہنچا دینا علینا ہمارے اوپر۔ ہماری ذمہ داری ہے ناتی ہم لا رہے ہیں ننقص ہم کم کر رہے ہیں اطراف کنارے معقب پیچھے ڈالنے والا سریع الحساب جلد حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 38 تا 41
اصل میں جو لوگ سچائی کا سامنا نہیں کرسکتے وہ یا تو سازشیں کرتے ہیں یا طرح طرح کے اعتراضات کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کفار مکہ کبھی تو نبی کریم ﷺ سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
اسلام کا اقبال اور کفار کے زوال و مکر کا ذکر : ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ کفار کے لیے ہم نے جو وعدہ کیا ہے کہ ان کے واسطے دنیا میں پہلے عذاب ہے اور آخرت میں بھی۔ ہم چاہیں تو کچھ عذاب تمہیں حین حیات میں ان پر نازل کردیں۔ یا تمہیں اپنے پاس بلا لیں۔ یہ سب اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر تمہارا کام پیغام الہی کا پہنچانا ہے، کوئی ایمان لائے یا نہ لائے، تم سے اس کے بارہ میں کچھ سوال نہ ہوگا تم اپنا کام کیے جاؤ۔ باقی رہی جزا و سزا وہ اللہ کے اختیار میں ہے ہم اچھی طرح ان کا حساب کتاب کرکے فیصلہ کردیں گے۔ پھر اس کے بعد آنحضرت ﷺ کی تسکین خاطر کے لیے فرمایا کہ اس وعدہ کی یہ علامت ظاہر…
Read the full tafseer →[28] یعنی انکار و بدعملی کے نتائج کے ظہور کا۔
[29] یعنی کفار مکہ سے۔
Read the full tafseer →(ف 2) یعنی آپ بھی ظہور آیات کے منتظر نہ رہیں ، یہ کوئی ضروری نہیں کہ جن جن باتوں کا وعدہ ہے وہ سب آپ کی زندگی میں ہی پوری ہوجائیں آپ کا فرض یہ ہے کہ بلا انتظار ، تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہیں ، محاسبہ ہمارے ذمہ ہے ۔
Read the full tafseer →40 ۔ اور جو وعدے ہم ان سے عذاب وغیرہ کے کرتے ہیں خواہ ان میں سے بعض کا وقوع ہم آپ کو دکھادیں یا ان کے وقوع سے پہلے ہم آپ کی عمرپوری کردیں ۔ بہر حال آپ کے ذمے تو صرف ہمارے احکام کا پہنچا دینا ہے اور رہا ان سے باز پرس کرنا اور حساب لینا تو یہ ہمارے ذمہ ہے ۔ یہ بھی نبوت کے خلاف اعتراض کا جواب ہے کہ اگر آپ نبی ہیں تو جو وعدے عذاب کے آپ ہم کو دیتے ہیں وہ آتے کیوں نہیں اور جب نہیں آتے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ نبی نہیں ہیں۔
اس کا جواب ہے کہ وعدے اپنے وقت پر پورے ہوں گے خواہ ان کی حیات میں ہوں یا وفات کے بعد ہوں دنیا میں ہوں یا آخرت میں آپ اس اعتراض کی فکر نہ کیجئے آپ کا کام ابلاغ و تبلیغ ہے اور وارو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–41
ف 9۔ یعنی ان کی عمل داری بسبب کثرت فتوحات اسلامیہ کے روزبروز گھٹتی جارہی ہے سو یہ بھی تو ایک قسم کا عذاب ہے جو مقدمہ ہے اصلی عذاب کا۔
Read the full tafseer →آپ ﷺ کی زندگی میں وعدوں کو پورا کردیں یا بعد میں ‘ بہرحال وعدوں کا پورا ہونا لازم ہے
62 ؎ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ کے ذمہ تو جو کچھ ہے وہ یہ ہے کہ پیام حق پہنچا دو ‘ محاسبہ اللہ کا کام ہے اور وہ حساب لے کر رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ جن جن باتوں کا وعدہ کیا گیا ہے تمہاری زندگی ہی میں ظاہر ہوجائیں۔ ہو سکتا ہے کہ تمہارے بعد ظہور میں آئیں۔ یہ بات کہ ان نتائج و عواقب کا ظہور تمہارے سامنے نہ ہوا مواعبد الٰہی کی صداقت پر کچھ اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ یہ بات مختلف صورتوں میں بار بار کہی گئی ہے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مقصود صرف یہی نہیں تھا کہ مستقبل کی خبر دے دی جائے بلکہ یہ حقیقت بھی واضح کرنی تھی کہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
In verse وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (And if We show you some of what We promise them, or We take you back to Us), it is to comfort and assure the Holy Prophet ﷺ that he has been given the good news that the promises Allah has made to him that Islam will have the final victory and disbelief and disbelievers will be disgraced shall come to pass definitely. But, he is told, 'you should not concern yourself as to when this victory will finally come.' May be, this happens within his life time, and it is also possible that it comes after his departure…
Read the full tafseer →59. This is to console the Prophet (peace be upon him), as if to say: O Prophet, you need not concern yourself as to the end of these disbelievers who have rejected the truth. You should go on performing with peace of mind the mission that has been entrusted to you and leave it to Us to give them suitable punishment. Though this has been addressed to the Prophet (peace be upon him), it is obvious that it is really meant to warn the opponents of the truth, who were demanding definitely from the Prophet (peace be upon him) by way of a challenge to bring about the scourge about which threats…
Read the full tafseer →