Explained with ayahs 38–39
ہر کام کا وقت مقرر ہے
ارشاد ہے کہ جیسے آپ باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ آیت (انما انا بشر مثلکم یوحی الی) میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الہٰی کی جاتی ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں۔ مسند احمد میں آپ کا…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 58
یہ بھی مخالفین کے ایک اعتراض کا جواب ہے۔ وہ کہتے تھے کہ پہلے آئی ہوئی کتابیں جب موجود تھیں تو اس نئی کتاب کی کیا ضرورت تھی ؟ تم کہتے ہو کہ ان میں تحریف ہوگئی ہے، اب وہ منسوخ ہیں اور اس نئی کتاب کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر خدا کی کتاب میں تحریف کیسے ہو سکتی ہے ؟ خدا نے اس کی حفاظت کیوں نہ کی ؟ اور کوئی خدائی کتاب منسوخ کیسے ہو سکتی ہے ؟ تم کہتے ہو کہ یہ اسی خدا کی کتاب ہے جس نے توراۃ و انجیل نازل کی تھیں۔ مگر یہ کیا بات ہے کہ تمہارا طریقہ توراۃ کے بعض احکام کے خلاف ہے ؟ مثلا بعض چیزیں جنہیں توراۃ والے حرام کہتے ہیں تم انہیں حلال سمجھ کر کھاتے ہو۔ ان اعتراضات کے جوابات بعد…
Read the full tafseer →(آیت) يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ۔ ام الکتب کے لفظی معنی اصل کتاب کے ہیں مراد اس سے وہ لوح محفوظ ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوسکتا
معنی آیت کے یہ ہیں کہ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے جس چیز کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے ثابت اور باقی رکھتا ہے اور اس محو و اثبات کے بعد جو کچھ واقع ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے جس پر نہ کسی کی دسترس ہے نہ اس میں کوئی کمی بیشی ہو سکتی ہے۔
ائمہ تفسیر میں سے حضرت سعید بن جبیر ؓ اور قتادہ ؓ وغیرہ نے اس آیت کو بھی احکام و شرائع کے محو و اثبات یعنی مسئلہ نسخ کے متعلق قرار دیا ہے…
Read the full tafseer →يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ۔ " ویثبت " یعنی " یثبت ما یشاء "۔
اس نوشتہ پر تمام تر اختیار اللہ ہی کا ہے۔ اس میں ہر محو و اثبات اور ہر اخراج و اندراج صرف اسی کی حکمت و مشیت کے تحت ہوتا ہے کسی دوسرے کو اس میں کوئی دخل نہیں اور اصلی کتاب اسی کے پاس ہے، کسی دوسرے کی اس تک رسائی نہیں۔
Read the full tafseer →39۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں وہ جس حکم کو چاہے منسوخ کردے اور جسے چاہے باقی رکھے۔ دوسرے معنی یہ ہیں اس نے جو تقدیر لکھ رکھی ہے، اس میں محو و اثبات کرتا رہتا ہے، اس کے پاس لوح محفوط ہے۔ اس کی تائید بعض احادیث و آثار سے ہوتی ہے۔ مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ ' آدمی گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے، دعا سے تقدیر بدل جاتی ہے اور صلہ رحمی سے عمر میں اضافہ ہوتا ہے (مسند احمد جلد۔ 5 ص۔ 277) بعض صحابہ سے یہ دعا منقول ہے (اللَّھُمَّ اِنْ کُنْتَ کَتَبْتَّنَا اٰشْقِیَاءَ فَامْحُنَا وَاَکْتُبْنَا سُعَدَاءَ وَاِنَّ کُنْتَ کَتَبْتَنَا سُعَدَاءَ فَائُبِسْتُنَا فَاِنَّکَ تَمْحُوْ مَا تَشَآءُ وَ…
Read the full tafseer →38: تمام کتابوں کی اصل سے مراد لوح محفوظ ہے جس میں ازل سے یہ بات درج ہے کہ کس امت کو کون سی کتاب اور کیسے احکام دئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا…
Read the full tafseer →4 یعنی اپنی حکمت کے موافق جس حکم کو چاہے منسوخ کرے، جسے چاہے باقی رکھے۔ جس قوم کو چاہے مٹائے جسے چاہے اس کی جگہ جما دے۔ جن اسباب کی تاثیر چاہے بدل ڈالے جن کی چاہے نہ بدلے۔ جو وعدہ چاہے شرائط کی موجودگی میں ظاہر کرے جو چاہے شرائط کے نہ پائے جانے کی بنا پر موقوف کر دے۔ غرض ہر قسم کی تبدیل و تغییر، محو واثبات، نسخ و احکام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ قضاو قدر کے تمام دفاتر اسی کے قبضہ میں ہیں اور سب تفصیلات و دفاتر کی جڑ جسے " اُم الکتاب " کہنا چاہیے اسی کے پاس ہے یعنی " علم ازلی محیط " جو ہر قسم کے تبدل و تغیر سے قطعاً منزّہ و مبرّیٰ اور لوح محفوظ کا ماخذ ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کہ دنیا میں ہر چیز…
Read the full tafseer →آیت 39 يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ
اُمّ الکتاب یعنی اصل کتاب اللہ کے پاس ہے۔ سورة الزخرف میں اس کے متعلق یوں فرمایا گیا ہے : وَاِنَّہٗ فِیْٓ اُمِّ الْکِتٰبِ لَدَیْنَا لَعَلِیٌّ حَکِیْمٌ ”اور یہ اصل کتاب یعنی لوح محفوظ میں ہمارے پاس ہے جو بڑی فضیلت اور حکمت والی ہے۔“ آپ اسے لوح محفوظ کہیں ام الکتاب کہیں یا کتاب مکنون کہیں اصل قرآن اس کے اندر ہے۔ یہ قرآن جو ہمارے پاس ہے یہ اس کی مصدقہ نقل ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص عنایت اور مہربانی سے حضور کی وساطت سے ہمیں دنیا میں عطا کردیا ہے۔
Read the full tafseer →51 ہر دور کے لئے الگ شریعت :۔ یعنی ہر نبی ایک ہی جیسے دین کے اصول پیش کرتا رہا ہے۔ مگر ان کی شریعتوں میں ان کے دور کے تقاضوں کے مطابق فرق رہا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ موسوی شریعت میں قصاص کا حکم تھا۔ عفو و درگزر کا نہ تھا۔ پھر عیسوی شریعت میں قصاص کے حکم کو پس پشت ڈال دیا گیا اور سارا زور عفو و درگزر پر دیا گیا اور شریعت محمدی میں پھر سے قصاص کا حکم بحال کردیا گیا مگر افضلیت عفو و و درگز کو ہی دی گئی احکام میں اس قسم کا رد و بدل اس دور کے لوگوں کی طبیعتوں کی اصلاح کے لیے کیا گیا۔ اللہ نے جس حکم کو چاہا سابقہ شریعتوں سے بحال رکھا اور جسے چاہا منسوخ کرکے نئی قسم کے احکام دے دیئے اور یہ سب…
Read the full tafseer →79۔ چھوٹی بڑی ہر شے اسی کی مشیت اور قدرت کے ماتحت ہے۔ (آیت) ” ام الکتب “۔ سے عموما مراد لوح محفوظ لی گئی ہے۔ ای عندہ اصل الکتب وجملتہ (ابن جریر) اصل کل کتاب وھو اللوح المحفوظ (کشاف) ھو الذی یکون اصلا بجمیع الکتب (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : آئندہ آیت اس وقت نال ہوئی کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو کثرت ازواج پر عار دلائی، ہم آپ سے پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو بیوی بچوں والا بنایا، اور آپ بھی ان کی مثل ہیں ان میں سے کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے، اس لئے کہ وہ تربیت یافتہ بندے ہیں، ہر دور کیلئے ایک کتاب ہے وہ اسی (دور) کیلئے محدود ہے اللہ جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے مٹا دیتا ہے اور جن احکام وغیرہ کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام الکتاب (اصل) اسی کے پاس ہے اصل کتاب کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کرتا اور وہ وہی ہے جس کو اس نے ازل میں لکھا اور جس عذاب…
Read the full tafseer →یمحو اللہ ما یشآء وئثبت اللہ جو کچھ چاہتا ہے ‘ مٹاتا اور جو کچھ چاہتا ہے ‘ ثابت (برقرار) رکھتا ہے۔ (1) [ طبرانی نے ضعیف سند سے بیان کیا کہ حضرت ابن عمر نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے خود سنا ‘ آپ فرما رہے تھے : اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے قائم رکھتا ہے ‘ سوائے بدبختی اور خوش بختی اور زندگی اور موت کے (یعنی ان چاروں چیزوں کو نہیں بدلتا) ابن مردویہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ کی روایت سے حضرت رباب کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ رزق (کی وسعت و کثرت) کو مٹا بھی دیتا ہے اور رزق میں زیادتی بھی کردیتا ہے اور عمر (کی میعاد) کو مٹا بھی دیتا ہے اور اس میں…
Read the full tafseer →(39) اور ہر کتاب پر عمل کرنے کا اس کے ہاں ایک خاص وقت مقرر ہے اور فرشتوں کی عدالت میں سے جن باتوں پر ثواب و عذاب کچھ نہیں ہوتا، ان کو مٹا دیتے ہیں اور جن پر ثواب و عذاب ہوتا ہے ان کو باقی رہنے دیتے ہیں اور اصل کتاب یعنی لوح محفوظ ان ہی کے پاس ہے کہ جس میں زیادتی اور کمی کچھ نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ۔۔ : بظاہر یہ آیت اس حدیث کے خلاف ہے : (جَفَّ الْقَلَمُ بِمَا أَنْتَ لَاقٍ) [ بخاری، النکاح، باب ما یکرہ من التبتل والخصاء : 5076 ] ”جس چیز یا حال کو تم ملنے والے ہو قلم اس کے ساتھ خشک ہوچکا ہے۔“ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہوچکا وہ اب مٹنے والا نہیں، اس سوال کے حل کے لیے اس آیت کی تفسیر اہل علم نے دو طرح سے کی ہے، ایک تو یہ کہ جس طرح معجزہ اور کرامت اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے، کسی دوسرے کا اس میں کچھ دخل نہیں، اسی طرح کسی حکم کو باقی رکھنا یا اسے منسوخ کردینا بھی اسی کے اختیار میں ہے اور اسی کے پاس اصل کتاب ہے جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ کون…
Read the full tafseer →آیت نمبر 39
قولہ تعالیٰ : یمحوا اللہ ما یشآء ویثبت یعنی اس کتاب سے جس کو چاہتا ہے وہ اس کے اہل پر واقع ہو اور اس کو پہنچے تو اسے مٹاتا ہے ویثبت جس کو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے یعنی اس کے وقت تک اس کو مؤخر کردیتا ہے۔ محوت الکتاب محوا کہا جاتا ہے یعنی میں نے اس کا اثر ختم کردیا۔ ویثبت یعنی یثبتہ جس طرح اللہ کا ارشاد : والذکرین اللہ کثیرا والذکرت (الاحزاب) یعنی والذاکرات اللہ۔
ابن کثیر، ابو عمرو اور عاصم نے ویثبت تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے، اور باقیوں نے مشدد پڑھا ہے، یہی حضرت ابن عباس ؓ کی قرات ہے اور زیادہ لوگوں کی قرأت ہونے کی وجہ سے ابو حاتم نے اور ابو عبیدہ نے بھی اسے ہی اختیار کیا ہے، اس پر اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ خوش ہوئے اور ان کی تصدیق بھی کی۔ (آیت ) ” ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “ یعنی یہود نصاری اور مجوس (جو انکار کرنے والے ہیں )
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور وہ اس سے خوش ہوئے ہیں اور (یہ آیت) ” ومن الاحزاب “ سے یہود نصاری اور مجوس کی امتیں مراد…
Read the full tafseer →[يَمْحُوا : مٹاتا ہے ] [اللّٰهُ : اللہ ] [ مَا : اسے جو ] [ يَشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيُثْبِتُ : اور باقی رہنے دیتا ہے (جو وہ چاہتا ہے)] [وَعِنْدَهٗٓ: اور اس کے پاس ہی ] [ اُمُّ الْكِتٰبِ : اہل کتاب ہے ]
م ح و
[مَحْوًا : (ن) کسی چیز اور نشان کو مٹا دینا۔ زیرِ مطالعہ آیت 39 ۔]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 39 کی تشریح یہ ہے کہ بہت سی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اعمال سے انسان کی عمر اور رزق میں کمی بیشی ہوئی ہے۔ بخاری میں ہے کہ صلہ رحمی عمر میں زیادتی کا سبب بنتی ہے۔ مسند احمد کی روایات میں ہے کہ بعض اوقات آدمی کوئی ایسا گناہ کرتا ہے کہ اس کے سبب سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے اور ماں باپ کی خدمت وا…
Read the full tafseer →اللہ جو چاہتا ہے محو فرماتا ہے اور جو چاہتا ہے ثابت رکھتا ہے :
پھر فرمایا (یَمْحُوا اللّٰہُ مَا یَشَآءُ وَ یُثْبِتُ وَ عِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰبِ ) (اللہ مٹاتا ہے جو چاہتا ہے اور ثابت رکھتا ہے جو چاہتا ہے اور اس کے پاس اصل کتاب ہے) صاحب روح المعانی نے اس آیت کے ذیل میں بہت کچھ لکھا ہے اور مفسرین کے مختلف اقوال جمع کئے ہیں پہلی بات تو یہ لکھی ہے ای ینسخ ما یشاء نسخہ من الاحکام لما تقتضیہ الحکمۃ بحسب الوقت ویثبت بدلہ ما فیہ الحکمۃ او یبقیہ علی حالہ غیر منسوخ او یثبت ما یشاء اثباتہ مطلقا اعم منھما ومن الانشاء ابتداء۔
یعنی اللہ تعالیٰ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرما دیتا ہے اور جن احکام کو چاہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
خطاب بہ اہل کتاب دربارہ نبوت
قال اللہ تعالیٰ والذین اتینھم الکتب یفرحون .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتب
(ربط) اوپر کی آیتوں یعنی وان تعجب فعجب قولہم (الخ) ویقول الذین کفروا میں نبوت کی بحث گزری، اب ان آیات میں اہل کتاب کی حالت اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار عرب آنحضرت ﷺ کی نبوت میں زیادہ یہ شبہات کیا کرتے تھے ایک شبہ یہ تھا کہ پیغمبر کو تو فرشتوں کی طرح زن و فرزند سے اور علائق بشر یہ سے پہلے جو نبی بھیجے گئے اور جن کی نبوت کو اہل کتاب بھی مانتے ہیں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ وہ بھی اہل و عیال والے تھے دوسرا شبہ یہ کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ جو ہماری خواہش…
Read the full tafseer →42:۔ دلائل و تمثیلات سے مسئلہ واضح کرنے کے بعد مشرکین کے چار سوالوں کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ سوال مقدر اول کا جواب ہے۔ مشرکین کہتے یہ عجب پیغمبر ہے کہ اس کے بیوی بھی ہے اور بچے بھی فرمایا آپ سے پہلے بھی جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے بھی بیوی بچے تھے اس لیے یہ کوئی وجہ انکار نہیں۔ ” مَاکَانَ لِرَسُوْلٍ الخ “ یہ سوال مقدر دوم کا جواب ہے۔ کوئی معجزہ لاؤ پھر پم مانیں گے فرمایا معجزہ لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں جب اللہ چاہتا ہے اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر فرما دیتا ہے۔ ” لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَابٌ“ یہ سوال مقدر سوم کا جواب ہے۔ جب ہم نہیں مانتے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ فرمایا ہمارے یہاں ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(ربط آیات)
پہلے شرک کا رد اور مشرکین کا انجام بیان ہوا ، قرآن کریم کی حقانیت کا ذکر کرکے اس کی پیروی کا حکم دیا گیا ، اللہ نے خبردار کیا کہ وحی الہی کے آجانے کے بعد اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا ، تو وہ گرفت سے نہیں بچ سکے گا اور نہ ہی اس کا کوئی حمائتی ہوگا ، قطعی علم آجا نے کے بعد رسم و رواج پر چلنا روا نہیں ہے بلکہ قطعی علم کا اتباع ضروری ہوجاتا ہے ،
اس کے بعد اب رسالت کا بیان آرہا ہے نبی ﷺ پر مشرکین کے اعتراضات کا ضمنا جواب ہے قرآن کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں توحید کا ذکر آتا ہے ، اس کے ساتھ شرک کی تردید بھی ہوتی ہے ، اور جہاں وحی الہی کی بات ہوتی ہے ، ساتھ نبوت و رسالت کا…
Read the full tafseer →يَمْحُوا اللّٰهُ مَا يَشَاۗءُ وَيُثْبِتُ ښ وَعِنْدَهٗٓ اُمُّ الْكِتٰبِ 39
محو
المَحْو : إزالة الأثر، ومنه قيل للشّمال : مَحْوَةٌ ، لأنها تَمْحُو السّحاب والأثر . قال تعالی:
يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] .
( م ح و ) المحو
( ن ) کے معنی کسی چیز کے اثر اور نشان کو زائل کرنا اور مٹا دینا کے ہیں ۔ اسی
سے بادشاہ کو محوۃ کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بادل کے آثار اور نشانات کے مٹادیتی ہے ۔ قرآن میں ہے : يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] خدا جس کو چاہتا ہے مٹادیتا ہے ۔ اور ( جس کو چاہتا ہے ) قائم رکھتا ہے ۔
ثبت
الثَّبَات ضدّ الزوال، يقال : ثَبَتَ يَثْبُتُ ثَبَاتاً ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ترکیب : امازینک کا جواب فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب والمعنی سواء اریناک ذلک او توفیناک قبل ظہورہ فالوا جب علیک تبلیغ احکام اللہ وعلینا حسابہم ننقصہا جملہ حال ہے ضمیر فاعل یا الارض سے۔ باللّٰہ ب زائد اللہ فاعل کفی و من موصلہ عندہ علم الکتاب صلہ یہ معطوف ہے محلاً اللہ پر فاعل ہوگا کفی کا۔
تفسیر : عرب کے مشرک اور مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے۔ ازانجملہ ایک یہ تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں رسول بنا کر بھیجے اس کو دنیاوی باتوں سے پاک ہونا چاہیے فرشتوں کی مانند یہ کیسے نبی ہیں جن کے بیوی بچے ہیں کھاتے پیتے دنیا کے کاروبار خریدو فروخت بازار سے کرتے ہیں ‘ پھر…
Read the full tafseer →یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَآئُ وَیُثْبِتُ ج وَعِنْدَہٗٓ اُمُّ الْکِتٰب۔ (سورۃ الرعد : 39)
(اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے اور اصل کتاب اسی کے پاس ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کے اختیار کا عالم یہ ہے کہ وہ جس طرح انسانوں کی قسمتیں بنانے میں آزاد ہے اور انھیں صلاحتیں دینے میں بھی کسی قید کا پابند نہیں۔ اسی طرح وہ انسانوں کو شریعت دیتے ہوئے سراسر اپنی مشیت کے مطابق کام کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انسانی ارتقاء کے ساتھ ساتھ احکام کو کس طرح سفر کرنا چاہیے۔ چناچہ اسی کے مطابق وہ اپنی کتابوں میں کبھی نسخ سے کام لیتا ہے اور کبھی ترمیم و تحریف سے حفاظت کا انتظام اٹھا دیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز اور کفار کے ایک اعتراض کا جواب۔
مکہ اور حجاز کے کافر جہالت اور عصبیت کی بناء پر رسول محترم ﷺ پر یہ اعتراض بھی کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے ؟ جو ہماری طرح کھانے پینے کا محتاج اور بیوی بچوں والا ہے۔ اس اعتراض کا جواب سورة یونس کی ابتدا میں یوں جواب دیا گیا کہ لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ انہی میں سے ایک شخص پر ہم نے کتاب نازل کی ہے حالانکہ اس میں تعجب کی بات نہیں بلکہ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے خوشی اور آسانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص کو رسول بنایا تاکہ ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے آسانی اور خوشخبری ہو آپ ﷺ…
Read the full tafseer →39: یَمْحُوا اللّٰہُ مَایَشَآئُ (اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے مٹاتا ہے) جس چیز کا منسوخ کرنا منظور ہوتا ہے اسکو منسوخ کرتا ہے۔ وَیُثْبِتُ (اور قائم رکھتا ہے) اسکے بدلے میں جو چاہتا ہے۔ نمبر 2۔ غیر منسوخ چھوڑ دیتا ہے اور نافذ العمل رہتا ہے۔ نمبر 3۔ حفاظتی فرشتوں کے دفتروں سے جو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور دوسرے کو قائم رکھتا ہے۔ نمبر 3۔ تائبین کے کفر کو مٹاتا اور انکے ایمان کو اس جگہ لکھ دیتا قائم
کردیتا ہے۔ نمبر 4۔ وفات دیتا ہے جسکا وقت مقرر آجاتا ہے اور قائم و زندہ چھوڑ تا ہے جسکا وقت باقی ہوتا ہے۔ قراءت وَیُثْبِتُمدنی، شامی، حمزہ اور علی نے پڑھا ہے۔ وَعِنْدَہٗ اُمُّ الْکِتٰبِ (اور اصل کتاب اسی ہی کے…
Read the full tafseer →39۔” یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت “ ابن کثیر ، ابو عمر ، عاصم اور یعقوب کے ہاں ’ ’ یثبت “ بغیر تشدید کے ہے۔ دوسرے قراء نے اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا ہے۔
یمحوا اللہ ما یشاء کی تفسیر میں ائمہ مفسرین کے اقوال
اس آیت کے معنی میں مفسرین رحمہم اللہ کا آپس میں اختلاف ہے۔ سعید بن جبیر اور قتادہ کا قول ہے کہ جن فرائض اور احکام کو اللہ چاہتا ہے منسوخ کردیتا ہے اور بدل دیتا ہے اور جن کو چاہتا ہے منسوخ نہیں کرتا ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ لوح محفوظ میں سے جو کچھ چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے اس میں ثبت کردیتا ہے سوائے رزق اور عمر اور نیک بختی اور بدبختی کے یہ امور نہیں بدلے جاتے۔
حضرت حذیفہ بن…
Read the full tafseer →39۔ جب قریش نے آنحضرت ﷺ سے وہ معجزات چاہے جن کا ذکر اوپر کی آیتوں میں گزرا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا اوپر کا ٹکڑا نازل فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ کسی معجزہ کا ظاہر کردینا رسولوں کا کام نہیں ہے مصلحت وقت کے موافق اللہ کی درگاہ میں ہر کام کے لئے وقت مقرر ہو کر لکھا جا چکا ہے جب تک وہ وقت مقرر پہنچ نہ جاوے اور اللہ کا حکم نہ ہو کوئی کام نہیں ہوسکتا یہ سن کر قریش نے آپس میں چرچا کیا کہ محمد ہر وقت عذاب الٰہی سے جو ڈراتے تھے اب معلوم ہوگیا کہ ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہر کام کا لکھا ہوا وقت جب تک نہ آوے کچھ نہیں ہوسکتا اسی طرح جب ایک آیت اتر کر پھر وہ منسوخ ہوجاتی اور اسی کی جگہ دوسرا حکم آجاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 39–40
40-41:
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا ہے کہ کفار کو جس عذاب کی وعید سنائی گئی ہے آپ اس کے بارے میں جلدی نہ کریں۔ اگر وہ اپنی سرکشی اور کفر پر جمے رہے تو وہ عذاب ان کو ضرور آئے گا جس کی ان کو وعید سنائی گئی ہے۔ (آیت) ” اگر دکھلا دیں ہم آپ کو “ یعنی ان کو عذاب دیا جانا ہم آپ کو دنیا ہی میں دکھادیں جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ یہ نزول عذاب اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف اور اس کی حمدو ثنا پر مبنی ہے کوئی اس میں نقص اور خامی تلاش نہیں کرسکتا اور نہ اس میں جرح و قدح کی کوئی گنجائش ہے۔ (آیت) ” یا آپ کو اٹھالیں “ یعنی ان پر نزول عذاب سے قبل اگر ہم آپ کو وفات دے دیں پس آپ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
79۔ شرک کی بےحقیقتی اور مشرکوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ ذات جوہر شخص کے سر پر قائم اور اس سے اس کے کئے کرائے کا حساب کرنے والی ہے، بھلا وہ ذات اور وہ جو اس میں سے کچھ بھی نہ کرسکتی ہو، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم لوگ اپنے ایسے بےحقیقت معبودوں کی کس طرح پوجا کرتے ہو ؟ تمہاری مت کیسے ماری دی گئی ؟ ایک طرف وہ ذات ہے جو خود قائم و موجود اور تمہاری تمام چیزوں کو قائم رکھنے والی، ان کی نگرانی کرنے والی اور ان کے تمام حالات سے پوری طرح آگاہ ہے، جب کہ دوسری طرف تمہارے ان خودساختہ شریکوں کے اندراس طرح کی کوئی بات بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی
تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
کفار کا یہ خیال بھی محض باطل ہے کہ نبی اور رسول تو اگر فرشتہ نہ ہو تو فرشتہ کی مانند اس کی کوئی بیوی یا اولاد نہ ہو گھر بار نہ ہو جیسے آجکل کے جہلا کے ولایت کے بارے میں ایسا ہی گمان ہے قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اس کا جواب ارشاد فرمایا جن میں ایک مقام یہ بھی ہے کہ نبی بھی عام انسان کی زندگی گذارتا ہے اور سرد وگرم زمانہ برداشت کرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے ، بیوی بچے گھر بار دوست ، دشمن ، سب معاملات اس کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ قابل اتباع ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی مسائل ہوتے ہیں جن کے باعث وہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہیں کر پاتے مگر نبی کی…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ پس اپنی حکمت یہ مطابق جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ قرار دیدتا ہے اور جن کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ (روح) ۔
4 ۔ یا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے جس میں کسی قسم کا ردو بدل نہیں ہوتا۔ نیز جملہ احادیث و آثار کو سامنے رکھ کر علما نے لکھا ہے کہ قضائے مبرم میں تغیر و تبدیل نہیں ہوتا جو ” جف القالم بما ھو کائن “ سے عبارت ہے۔ ہاں تبدیلی جو کچھ ہوتی ہے اور محواثبات (جن میں نسخ احکام بھی داخل ہے) جو کچھ ہوتا ہے وہ تقدیر معلوم میں ہوتا ہے۔ چناچہ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں۔ دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں۔ اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ مقرر ہے۔ جب اللہ چاہیے، ان کی…
Read the full tafseer →(13:39) یثبت۔ ای یثبت ما یشائ۔ ام الکتب۔ لوح محفوظ ۔ جو تمام کتب کی اصل جڑ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41
ارسلنا ہم نے بھیجا ازواج (زوج) بیویاں ۔ جوڑے ذریۃ اولادیں اجل مدت یمحوا وہ مٹاتا ہے یثبت وہ باقی رکھتا ہے ام الکتاب کتاب کی ماں۔ (لوح محفوظ) نرینک ہم تجھے دکھا دیں گے نعد ہم وعدہ کرتے ہیں نتوفین ہم وفات دیں گے البلغ پہنچا دینا علینا ہمارے اوپر۔ ہماری ذمہ داری ہے ناتی ہم لا رہے ہیں ننقص ہم کم کر رہے ہیں اطراف کنارے معقب پیچھے ڈالنے والا سریع الحساب جلد حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 38 تا 41
اصل میں جو لوگ سچائی کا سامنا نہیں کرسکتے وہ یا تو سازشیں کرتے ہیں یا طرح طرح کے اعتراضات کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کفار مکہ کبھی تو نبی کریم ﷺ سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ…
Read the full tafseer →لوح محفوظ کا ذکر
آیت کے اس ٹکڑے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن احکام کو چاہتا ہے منسوخ فرماتا ہے جنہیں چاہتا ہے باقی رکھتا ہے۔ توبہ کرنے سے جس گناہ کو چاہتا ہے مٹاتا ہے اور اس کی جگہ نیکیاں قائم فرماتا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہر شرب قدر کو سال بھر تک جو کچھ ہونے والا ہے اس کا حساب و کتاب لوح محفوظ میں نقل کرا کے اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دیتا ہے اسی کے موافق سال بھر تک ملائکہ کام کرتے ہیں۔ یہ ایک سال کا دنیا بھر کا حساب ہے اور جس مدت تک دنیا چلے گی وہ دنیا کی عمر تک کا حساب ہے وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →[27] یعنی لوح محفوظ کہ سب احکام اسی میں درج ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ظہور آیات کیلئے ایک وقت مقرر ہے :
(ف 1) مکہ والوں کی ذہنیت یہ تھی کہ وہ بات بات پر اظہار عجائب کی خواہش کرتے کبھی کہتے ، یہاں چشمے پھوٹیں ، کبھی کہتے ہمارے اسلاف کو زندہ کر دو کبھی کہتے مکہ کے پہاڑ سونے چاندی کے بن جائیں ، غرضیکہ ، خوائے بدرابہانہ ہابسیار ۔
ان دو آیتوں میں قرآن حکیم نے اصولی جواب دیا ہے ، ارشاد ہے کہ اظہار کو ارق کا تعلق منشاء ایزدی سے ہے ، رسول کے اختیار میں نہیں کہ جب چاہے کوئی کرشمہ کر دکھا دے ، یہ اللہ کی مرضی پر موقوف ہے کہ جب مصلحت جائے انبیاء (علیہم السلام) کے ہاتھوں عجائب وخوارق کا اظہار کر دے ، اس لئے یہ ضرور نہیں کہ رسول تمہاری ہر خواہش کو براہ راست پورا کرے ۔
(آیت)…
Read the full tafseer →39 ۔ اللہ تعالیٰ ہی جس حکم کو چاہتا ہے موقوف کردیتا ہے اور مٹا دیتا ہے اور جس حکم کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے اور اصل کتاب یعنی لوح محفوظ اسی کے پاس ہے۔ یعنی ہر زمانہ کے مناسب خاص احکام ہوتے ہیں پھر پہلے احکا م موقوف کردیئے جاتے ہیں اور ان کی بجائے دوسرے احکام جاری کئے جاتے ہیں اور بعض بحالہ قائم رکھے جاتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں ان کی مرضی اور زمانہ شناسی اور امم کی حالت سے واقفیت پر مبنی ہیں اس میں کسی کو اختیار نہیں ہے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں دنیا میں ہر چیز اسباب سے ہے بعض اسباب ظاہر ہیں اور بعض چھپے ہیں اسباب کی تاثیر کا ایک اندازہ ہے جس اللہ چاہے اس کی تاثیر اندازے سے کم زیادہ کر دے جب…
Read the full tafseer →ف 8۔ یعنی لوح محفوظ یہ سب احکام ناسخ و منسوخ ومستمر اس میں درج ہیں وہ سب کی جامع اور گویا میزان الکل ہے یعنی جہاں سے یہ احکام آتے ہیں وہ اللہ ہی کے قبضہ میں ہے پس احکام سابقہ کے موافق یا مغایر احکام لانے کی کسی کو گنجائش اور دسترس ہی نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →مٹانا اور نقش کرنا اللہ کے اختیار میں ہے اصل کتاب اس کے پاس ہے
61 ؎ آج ایک قوم برسراقتدار ہے اور کل دوسری کی باری ہوگی ؟ اس طرح کسی کا برسر اقتدار آنا اور کسی کا اقتدار سے ہٹ جانا اندھا دھند نہیں ہوا بلکہ اس کیلئے ایک قانون مشیت موجود ہے اس قانون کے مطابق قومیں برسراقتدار آتی اور اقتدار سے ہٹائی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ ہرچیز کے ساتھ اس کی فنا لگی ہوئی ہے جب بقا اپنا کام کرتی ہے تو فنا بھی ساتھ ساتھ اپنا کام کر رہی ہوتی ہے تا آنکہ وہ وقت آجاتا ہے کہ فناً بقا پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کے نتیجہ میں فنا بقاء میں تبدیل ہوتی اور بقاء فنا میں اور اللہ تعالیٰ نے جو اس بقاء اور فنا کیلئے قانون بنا رکھا…
Read the full tafseer →Said in the next verse (39) was: يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ : 'Allah wipes off what He wills and affirms (what He wills). And with Him is the Mother Book.' [ The translation of: أُمُّ الْكِتَابِ (umm-ul-kitab) as 'Mother Book' reflects a word for word replacement possible at this place which also exhudes its applied sense in some measure, though not as clearly as given in the Tafsir immediately after ] The literal meaning of 'Umm al-Kit' is 'The Original Book.' The reference here is to the 'Preserved Tablet' (al-Lawh al-Mahfuz al-) in which there can…
Read the full tafseer →58. This is the answer to another objection raised against the revelation of the Quran. The disbelievers said: What was the need of this new Book, when there already had existed the former revealed Books? You say that this need has arisen because the former Books have been tampered with; therefore Allah has abrogated them and commanded that this new Book should be followed. This position you have taken is wrong for how can anyone tamper with the Book of Allah and how is it possible that any Book of Allah might be tampered with? Why did not Allah protect these Books from such things as these?…
Read the full tafseer →