Explained with ayahs 38–39
ہر کام کا وقت مقرر ہے
ارشاد ہے کہ جیسے آپ باوجود انسان ہونے کے رسول اللہ ہیں۔ ایسے ہی آپ سے پہلے کے تمام رسول بھی انسان ہی تھے، کھانا کھاتے تھے، بازاروں میں چلتے پھرتے تھے بیوی، بچوں والے تھے۔ اور آیت میں ہے کہ اے اشرف الرسل آپ لوگوں سے کہہ دیجئے کہ آیت (انما انا بشر مثلکم یوحی الی) میں بھی تم جیسا ہی ایک انسان ہوں میری طرف وحی الہٰی کی جاتی ہے۔ بخاری مسلم کی حدیث میں ہے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نفلی روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا راتوں کو تہجد بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں گوشت بھی کھاتا ہوں اور عورتوں سے بھی ملتا ہوں جو شخص میرے طریقے سے منہ موڑ لے وہ میرا نہیں۔ مسند احمد میں آپ کا…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 56
یہ ایک اور اعتراض کا جواب ہے جو نبی ﷺ پر کیا جاتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ اچھا نبی ہے جو بیوی اور بچے رکھتا ہے۔ بھلا پیغمبروں کو بھی خواہشات نفسانی سے کوئی تعلق ہوسکتا ہے۔
سورة الرَّعْد 57
یہ بھی ایک اعتراض کا جواب ہے۔ مخالفین کہتے تھے کہ موسیٰ ؑ ید بیضا اور عصا لائے تھے۔ مسیح اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کردیتے تھے۔ صالح ؑ نے اونٹنی کا نشان دکھایا تھا۔ تم کیا نشانی لے کر آئے ہو ؟ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ جس نبی نے جو چیز بھی دکھائی ہے اپنے اختیار اور اپنی طاقت سے نہیں دکھائی ہے۔ اللہ نے جس وقت جس کے ذریعے سے جو کچھ ظاہر کرنا مناسب سمجھا وہ ظہور میں آیا۔ اب اگر اللہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اہل کتاب میں سے بعضوں کا جو نبوت پر یہ طعن ہے کہ ان کے پاس متعدد بیبیاں ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ) ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیبیاں اور بچے بھی دیئے (یہ کونسا امر منافی رسالت ہے ایسا ہی مضمون دوسری آیت میں ہے اَمْ يَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰي مَآ اٰتٰىھُمُ الخ) اور (چونکہ اختلاف شرائع کا شبہ دیگر شبہات سے زیادہ مشہور اور اوپر محض اجمال کے ساتھ مذکور تھا اس لئے اس کو آگے مکرر و مفصل ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص نبی پر اختلاف شرائع کا شبہ کرتا ہے وہ در پردہ نبی کو مالک احکام سمجھتا ہے حالانکہ) کسی پیغمبر کے اختیار میں یہ امر نہیں کہ ایک آیت (یعنی…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 38 تا 43:۔ خاتمہ سورة : آگے کی آیات خاتمہ سورة کی حیثیت رکھتی ہیں۔ نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان مخالفین کے نت نئے اعتراضات اور مطالبہ معجزات سے تم پریشان نہ ہو۔ تم اپنا کام کیے جاؤ اور مطالبہ معجزات کے معاملے کو ہمارے اوپر چھوڑو۔ ان لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ہے لیکن غلبہ حق کے آثار خود اس سرزمین میں بھی نمایاں ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ خدا کی بات شندی ہے اور کوئی اس کے فیصلہ کو روک نہیں سکتا۔ جس طرح کی چالیں یہ چل رہے ہیں اس طرح کی چالیں چلنے وال پہلے بھی گزرے ہیں۔ خدا ان کی چالوں کے سارے تار و پود بکھیر دے گا اور عنقریب ان پر واضح ہوجائے گا کہ انجام کار کی کامیابی کس کو حاصل…
Read the full tafseer →38۔ 1 یعنی آپ سمیت جتنے بھی رسول اور نبی آئے، سب بشر ہی تھے، جن کا اپنا خاندان اور قبیلہ تھا اور بیوی بچے تھے وہ فرشتے تھے نہ انسانی شکل میں کوئی نوری مخلوق بلکہ جنس بشر ہی میں سے تھے کیونکہ اگر وہ فرشتے ہوتے تو انسانوں کے لیے ان سے مانوس ہونا اور ان کے قریب ہونا ناممکن تھا جس سے ان کو بھیجنے کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا اور اگر وہ فرشتے بشری جامے میں آتے تو دنیا میں نہ ان کا خاندان اور قبیلہ ہوتا اور نہ ان کے بیوی بچے ہوتے جس سے یہ معلوم ہوا کہ تمام انبیاء بحثییت جنس کے بشر ہی تھے بشری شکل میں فرشتے یا کوئی نوری مخلوق نہیں تھے مزکورہ آیت میں ازواجا سے رہبانیت کی تردید اور ذریۃ سے خاندانی منصوبہ…
Read the full tafseer →37: اس آیت میں ایک تو کفار کے اس اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اگر آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو آپ کی بیوی بچے کیوں ہیں ؟ جواب یہ دیا گیا ہے کہ بیوی بچے ایک دو انبیاء کرام کو چھوڑ کر تقریباً سارے انبیاء کو بھی عطا فرمائے گئے ہیں ؛ کیونکہ نبوت کا ان سے کوئی تعارض نہیں ہے، بلکہ انبیاء کرام اپنے عمل سے واضح کرتے ہیں کہ ان کے حقوق کیسے ادا کئے جاتے ہیں اور ان کے حقوق اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں توازن کیسے قائم رکھا جاتا ہے، دوسرے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ مختلف انبیاء کرام کی شریعتوں میں جزوی فرق ہوتا رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–40
اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا…
Read the full tafseer →3 یعنی پیغمبر عربی ﷺ کو نئی کتاب اور نئے احکام دے کر بھیجنا کیا اچنبھے کی بات ہوگئی جو اتنی حجتیں نکالی جاتی ہیں۔ آخر ان سے پہلے بھی ہم نے جو پیغمبر بھیجے وہ آسمان کے فرشتے نہ تھے اسی دنیا کے رہنے والے آدمی تھے۔ جو کھانا کھاتے، اپنی ضروریات اپنے ہاتھوں سے انجام دیتے اور بیوی بچے رکھتے تھے۔ ان میں کسی کو یہ قدرت نہ تھی کہ لوگ جو نشانی مانگتے ضرور دکھلا دیتا۔ بلکہ موجودہ پیغمبر کی طرح ہر چیز میں خدائی اذن کے منتظر رہتے تھے۔ وہ ہی نشان دکھاتے اور وہ ہی احکام سناتے تھے جس کا اذن خدا کے یہاں سے ہوتا۔ خدائی اذن کا حال یہ ہے کہ اس کے یہاں ہر زمانہ اور ہر قرن کے مناسب جداگانہ حکم لکھا ہوا ہے۔ اور ایک…
Read the full tafseer →آیت 38 وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً
آپ سے پہلے جتنے بھی رسول آئے ہیں وہ سب عام انسانوں کی طرح پیدا ہوئے سوائے حضرت عیسیٰ کے پھر انہوں نے نکاح بھی کیے اور ان کی اولادیں بھی ہوئیں۔
Read the full tafseer →50 نبیوں اور اللہ والوں کو بال بچوں کے دھندوں سے کیا تعلق :۔ اس جملہ میں بھی ایک اعتراض کا جواب دیا گیا ہے۔ جاہل عوام کا یہ خیال ہوتا ہے کہ نکاح کرنا اور بال بچوں والا ہونا تو دنیادار لوگوں کا کام ہے۔ بھلا نبیوں اور اللہ والوں کو دنیا کے ان دھندوں سے کیا تعلق ؟ انھیں دنیا کے طالب نہیں بلکہ دنیا کا تارک ہونا چاہیے جیسا کہ یہود و نصاریٰ میں رہبانیت کا رواج پڑگیا تھا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو رسول پہلے گزر چکے ہیں سب بال بچوں والے تھے اور ان کے سچا ہونے پر تم ایمان رکھتے ہو پھر تم کس کس کا انکار کرو گے۔ وہ بشر ہی تھے اور بشری تقاضوں کو پورا کرتے تھے اور چونکہ وہ بشر تھے۔ اس لیے…
Read the full tafseer →76۔ (اور یہ عیالداری کمالات نبوت کے ذرا بھی منافی نہیں تو پھر بعض احمقوں کو آپ ﷺ کے صاحب ازواج واولاد ہونے پر کیا اعتراض ہورہا ہے ؟ ) آیت میں یہ بتایا ہے کہ سلسلۂ رسالت تو بہت قدیم ہے اور آپ کا دعوئے رسالت دنیا کی تاریخ میں کوئی انوکھا واقعہ نہیں، نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم خلیل (علیہ السلام) ، اسحاق واسماعیل، علیہ السلامیعقوب (علیہ السلام) وموسی کلیم (علیہ السلام) ، داؤد (علیہ السلام) وسلیمان (علیہ السلام) آخر ان سب کے حالات تاریخ میں محفوظ ہیں، یہ سب حضرات عیال دار ہی ہوئے ہیں، پھر آخر آپ ﷺ کی عیال داری پر اعتراض کیوں ہے ؟ آیت میں تردید ہے، بودھ مت اور مروجہ مسیحیت اور دوسرے مذاہب جاہلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
آیت نمبر 38 تا 42
ترجمہ : آئندہ آیت اس وقت نال ہوئی کہ جب انہوں نے آپ ﷺ کو کثرت ازواج پر عار دلائی، ہم آپ سے پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں، ہم نے ان میں سے ہر ایک کو بیوی بچوں والا بنایا، اور آپ بھی ان کی مثل ہیں ان میں سے کسی رسول کی یہ طاقت نہ تھی کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لاسکے، اس لئے کہ وہ تربیت یافتہ بندے ہیں، ہر دور کیلئے ایک کتاب ہے وہ اسی (دور) کیلئے محدود ہے اللہ جس چیز کو چاہتا ہے اس میں سے مٹا دیتا ہے اور جن احکام وغیرہ کو چاہتا ہے باقی رکھتا ہے ام الکتاب (اصل) اسی کے پاس ہے اصل کتاب کہ اس میں کسی قسم کا تغیر نہیں کرتا اور وہ وہی ہے جس کو اس نے ازل میں لکھا اور جس عذاب…
Read the full tafseer →ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لھم ازواجا وذریۃ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم نے آپ سے پہلے بہت پیغمبر بھجئے (جو فرشتے نہ تھے ‘ آپ کی طرح آدمی تھے) اور ہم نے ان کیلئے بیویاں اور اولاد (نر و مادہ) مقرر کیں (جیسے آپ کو عطا کی گئیں) ۔
وما کان لرسول ان یاتي بایۃ اور کسی رسول کے اختیار میں نہیں (نہ کسی رسول کیلئے جائز ہے) کہ کوئی آیت (معجزہ اور حکم جو اس سے طلب کیا جائے وہ خود) لے آئے (کیونکہ سب پیغمبر بندے ہیں ‘ کوئی رب نہیں) ۔
الا باذن اللہ ہاں اللہ کے حکم (اور اجازت) سے (وہ معجزات اور احکام پیش کرتے تھے) ۔
لکل اجل کتاب ہر مدت (اور ہر چیز کے وقت) کیلئے (اللہ کی طرف سے ازل میں) ایک مقرر تحریر ہے (اس…
Read the full tafseer →(38) اور جیسا کہ ہم نے آپ کو رسول بناکربھیجا اسی طرح اور بہت سے رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں بھی دیں جیسا کہ حضرت داؤد ؑ اور سلیمان ؑ کو اور آپ کی اولاد سے زیادہ سے زیادہ اولاد بھی دی جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑ حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ کو یہ آیت مبارکہ یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ کیوں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر محمد ﷺ نبی ہوتے تو نبوت انکو شادیاں کرنے میں مشغول نہ کرتی (تو اس کا جواب دیا کہ شادی کرنا نبوت کے خلاف نہیں بلکہ عین موافق ہے، ترجم) کسی پیغمبر کے اختیار میں میں کہ ایک دلیل بھی خدا کے حکم کے بغیر لاسکے۔
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ۔۔ : نبی کریم ﷺ کی نبوت پر مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے کہ یہ عجیب پیغمبر ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح نکاح کرتے ہیں، ان کی اولاد بھی ہے، حالانکہ پیغمبر کو ان باتوں سے کیا واسطہ ؟ ! بلکہ انھیں اس پر بھی اعتراض تھا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ (دیکھیے فرقان : 7) اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت عورتوں سے نکاح کے منافی نہیں، آپ سے پہلے جتنے بھی اللہ کے پیغمبر ہو گزرے ہیں وہ سب بشر ہی تھے اور ان میں اکثریت ان پیغمبروں کی ہے جو بیوی بچے رکھتے تھے۔ وہ سب کھانا کھاتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے۔ (دیکھیے فرقان :…
Read the full tafseer →آیت نمبر 38
اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: کہا گیا ہے کہ یہودیوں نے نبی کریم ﷺ پر ازواج مطہرات کے حوالے سے نقطہ چینی کی انھوں نے کہا : ہم اس آدمی کے سوائے بیویوں اور نکاح کے کوئی خواہش نہیں دیکھتے، اگر یہ نبی ہوتا تو امر نبوت اس کو نکاح سے مشغول رکھتا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ان کو حضرت داود و سلمان (علیہما السلام) کا معاملہ یاد دلاتے ہوئے فرمایا : ولقد ارسلنا رسلا من قبلک وجعلنا لھم ازواجا وذریۃ یعنی ہم نے ان کو بشر بنایا اور شہوات دنیا میں جو اللہ نے حلال کیں ان کو وہ پورا کرتے ہیں ان کی تخصیص صرف وحی
میں ہے (یعنی ان کے پاس وحی آتی ہے)
مسئلہ نمبر 2: یہ آیت نکاح میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ خوش ہوئے اور ان کی تصدیق بھی کی۔ (آیت ) ” ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “ یعنی یہود نصاری اور مجوس (جو انکار کرنے والے ہیں )
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور وہ اس سے خوش ہوئے ہیں اور (یہ آیت) ” ومن الاحزاب “ سے یہود نصاری اور مجوس کی امتیں مراد…
Read the full tafseer →[وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا : اور ہم بھیج چکے ہیں ] [ رُسُلًا : کچھ رسولوں کو ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ وَجَعَلْنَا : اور ہم نے بنائیں ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ اَزْوَاجًا : بیویاں ] [ وَّذُرِّيَّةً : اور اولاد ] [ وَمَا كَان : اور (ممکن) نہیں تھا ] [لِرَسُوْلٍ : کسی رسول کے لئے ] [ ان : کہ ] [ يَاْتِيَ : وہ لائے ] [ بِاٰيَةٍ : کوئی نشانی ] [ اِلَّا : مگر ] [ بِاِذْنِ اللّٰهِ : اللہ کی اجازت سے ] [ لِكُلِ اَجَلٍ : ہر ایک کا وقت (خاتمہ کا)] [ كِتَابٌ: لکھا ہوا ہے ]
Read the full tafseer →آپ ﷺ سے پہلے جو رسول بھیجے گئے وہ اصحاب ازواج و اولاد تھے ‘ کوئی رسول اس پر قادر نہیں کہ خود سے کوئی معجزہ ظاہر کر دے :
روح المعانی (ص 168 ج 13) میں لکھا ہے کہ یہودیوں نے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کیا کہ ان کی تو بہت سی بیویاں ہیں جو شخص نبی ہو ‘ اسے نبوت کے کاموں سے اتنی فرصت کہاں کہ بہت ساری بیویاں رکھے ‘ اللہ تعالیٰ شانہ نے جواب میں ان سے تو خطاب نہیں فرمایا لیکن اپنے نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ آپ سے پہلے ہم نے رسول بھیجے ہیں اور ان کو ہم نے بہت سی بیویاں دی تھیں اور بیویاں ہی نہیں ان کے اولاد بھی تھی بیویوں کا زیادہ ہونا اور صاحب اولاد ہونا یہ چیز نہ نبوت کے خلاف ہے نہ کار ہائے نبوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
خطاب بہ اہل کتاب دربارہ نبوت
قال اللہ تعالیٰ والذین اتینھم الکتب یفرحون .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتب
(ربط) اوپر کی آیتوں یعنی وان تعجب فعجب قولہم (الخ) ویقول الذین کفروا میں نبوت کی بحث گزری، اب ان آیات میں اہل کتاب کی حالت اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار عرب آنحضرت ﷺ کی نبوت میں زیادہ یہ شبہات کیا کرتے تھے ایک شبہ یہ تھا کہ پیغمبر کو تو فرشتوں کی طرح زن و فرزند سے اور علائق بشر یہ سے پہلے جو نبی بھیجے گئے اور جن کی نبوت کو اہل کتاب بھی مانتے ہیں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ وہ بھی اہل و عیال والے تھے دوسرا شبہ یہ کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ جو ہماری خواہش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
41:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یہ ماقبل کے تمام دلائل سے متعلق ہے۔ یعنی مذکورہ دلائل وبراہین کے ساتھ ہم نے یوں قرٓان کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ ” وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاءَھُمْ “ یہ زجر ہے جو دلائل مذکورہ پر متفرع ہے یعنی جب آپ کے پاس عقل ونقل اور وحی کے دلائل کے ساتھ مسئلہ توحید کی سچائی کا علم الیقین آگیا اب بھی اگر آپ نے مشرکین کی طرف میلان کیا تو پھر ہمارے عذاب سے دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں بچا سکتی۔ خطاب آنحضرت ﷺ سے اور مقصود امت کی تعلیم ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر بفرض محال آپ ان دلائل کے ہوتے ہوئے مشرکین کی بات مان لی تو آپ بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–40
(ربط آیات)
پہلے شرک کا رد اور مشرکین کا انجام بیان ہوا ، قرآن کریم کی حقانیت کا ذکر کرکے اس کی پیروی کا حکم دیا گیا ، اللہ نے خبردار کیا کہ وحی الہی کے آجانے کے بعد اگر کوئی شخص اپنی خواہشات کی پیروی کرے گا ، تو وہ گرفت سے نہیں بچ سکے گا اور نہ ہی اس کا کوئی حمائتی ہوگا ، قطعی علم آجا نے کے بعد رسم و رواج پر چلنا روا نہیں ہے بلکہ قطعی علم کا اتباع ضروری ہوجاتا ہے ،
اس کے بعد اب رسالت کا بیان آرہا ہے نبی ﷺ پر مشرکین کے اعتراضات کا ضمنا جواب ہے قرآن کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں توحید کا ذکر آتا ہے ، اس کے ساتھ شرک کی تردید بھی ہوتی ہے ، اور جہاں وحی الہی کی بات ہوتی ہے ، ساتھ نبوت و رسالت کا…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّيَّةً ۭ وَمَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ يَّاْتِيَ بِاٰيَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ لِكُلِّ اَجَلٍ كِتَابٌ 38
ذر
الذّرّيّة، قال تعالی: وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124]
( ذ ر ر) الذریۃ ۔
نسل اولاد ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي [ البقرة/ 124] اور میری اولاد میں سے بھی
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
ترکیب : امازینک کا جواب فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب والمعنی سواء اریناک ذلک او توفیناک قبل ظہورہ فالوا جب علیک تبلیغ احکام اللہ وعلینا حسابہم ننقصہا جملہ حال ہے ضمیر فاعل یا الارض سے۔ باللّٰہ ب زائد اللہ فاعل کفی و من موصلہ عندہ علم الکتاب صلہ یہ معطوف ہے محلاً اللہ پر فاعل ہوگا کفی کا۔
تفسیر : عرب کے مشرک اور مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت پر طرح طرح کے شبہات کیا کرتے تھے۔ ازانجملہ ایک یہ تھا کہ جس کو اللہ تعالیٰ دنیا میں رسول بنا کر بھیجے اس کو دنیاوی باتوں سے پاک ہونا چاہیے فرشتوں کی مانند یہ کیسے نبی ہیں جن کے بیوی بچے ہیں کھاتے پیتے دنیا کے کاروبار خریدو فروخت بازار سے کرتے ہیں ‘ پھر…
Read the full tafseer →وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَہُمْ اَزْوَاجًا وَّذُرِّیَّۃً ط وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ ط لِکُلِّ اَجَلٍ کِتَاب۔ (سورۃ الرعد : 38)
(اور ہم نے آپ سے پہلے بھی کئی رسول بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد بھی عطا فرمائی اور کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کوئی نشانی دکھا سکے۔ ہر چیز کے لیے ایک وقت اور ہر وقت کے لیے ایک نوشتہ ہے )
دو اعتراضات اور ان کا جواب
مشرکین مکہ نبی کریم ﷺ پر مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے۔ قرآن کریم حکمت دعوت کے مطابق جب مناسب سمجھتا ہے تو ان کا جواب دیتا ہے یہاں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
فہم القرآن
ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز اور کفار کے ایک اعتراض کا جواب۔
مکہ اور حجاز کے کافر جہالت اور عصبیت کی بناء پر رسول محترم ﷺ پر یہ اعتراض بھی کیا کرتے تھے کہ یہ کیسا رسول ہے ؟ جو ہماری طرح کھانے پینے کا محتاج اور بیوی بچوں والا ہے۔ اس اعتراض کا جواب سورة یونس کی ابتدا میں یوں جواب دیا گیا کہ لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا ہے کہ انہی میں سے ایک شخص پر ہم نے کتاب نازل کی ہے حالانکہ اس میں تعجب کی بات نہیں بلکہ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے خوشی اور آسانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ایک شخص کو رسول بنایا تاکہ ایمان لانے اور اس پر عمل کرنے والوں کے لیے آسانی اور خوشخبری ہو آپ ﷺ…
Read the full tafseer →انبیاء ( علیہ السلام) کی اولاد و ازواج تھیں :
38: وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً (تحقیق ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے اور انکے لئے بیویاں اور اولاد بنائی) کفار مکہ آپکو عیب لگاتے کہ اسکی بیوی ہے اولاد ہے یہ کیسا پیغمبر ہے۔ من مانی آیات کا مطالبہ کرتے۔ اور نسخ کا انکار کرتے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات اتار کر جواب دیا۔ کہ رسالت کا سلسلہ اسی طرح چلا آرہا ہے۔ انکی بیویاں اور اولاد تھی۔ وَمَا کَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَۃٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ (کسی پیغمبر کو یہ مناسب نہیں کہ وہ کوئی نشانی بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے پیش کرے)…
Read the full tafseer →38۔” ولقد ارسلنا رسلا ً من قبلک “ روایت میں آتا ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں کہ انہوں نے کہا تھا کہ اس شخص کا مطمع تو صرف عورتیں ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” ولقد ارسلنا رسلا ً من قبلک وجعلنا لھم ازواجا ً و ذریۃ “ اور ہم نے ان کے لیے فرشتوں کو پیغمبر نہیں بنایا کہ جو نہ کھاتے ہیں اور نہ پیتے ہیں اور نہ نکاح کرتے ہیں ۔ ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ “ یہ عبد اللہ بن ابی کو جواب ہے، پھر ارشاد فرمایا ” لکل اجل کتاب “ یعنی اللہ نے ہر امر اپنے فیصلہ سے لکھ دیا ہے۔ ( لوح محفوظ میں) اور بعض نے کہا کہ اس میں تقدیم و تاخیر ہے عبارت اس طرح تھی ” لکل کتاب اجل “ یعنی ہر مدت اور ہر وقت کے لیے…
Read the full tafseer →38۔ مشرکین مکہ حضرت ﷺ کی بابت یہ کہا کرتے تھے کہ یہ کیسے رسول ہیں جن کی بیویاں بھی ہیں اور بچے بھی ہیں اور یہ بھی کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کی طرف سے رسول ہوتے تو جو معجزہ ہم ان سے طلب کرتے ہیں وہ فوراً کردکھاتے انہیں دونوں باتوں کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا کہ جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب کے سب بشر تھے کوئی فرشتہ نہ تھا انہیں کی طرح یہ رسول بھی بشر ہیں کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں چلتے پھرتے بھی ہیں بیویاں بچے بھی ان کے ہیں جیسے پہلے رسولوں کے تھے چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو کنیزیں تھیں اسی طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں پھر ان کے بھی اگر بیویاں…
Read the full tafseer →38-39:
یعنی آپ ﷺ پہلے رسول نہیں ہیں، جن کو لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے، کہ یہ لوگ آپ کی رسالت کو کوئی انوکھی چیز سمجھیں۔ فرمایا : (آیت) ” اور آپ سے پہلے ہم نے کئی رسول بھیجے اور دیں ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد “ اس لئے آپ ﷺ کے دشمن اس وجہ سے آپ کی عیب چینی نہ کریں کہ آپ کی بیوی بچے ہیں۔ آپ کے بھائی دیگر انبیاء ومرسلین کے بھی بیوی بچے تھے۔ تب وہ آپ میں کس بات پر جرح و قدح کرتے ہیں ؟ حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ آپ سے قبل انبیاء ورسل بھی اسی طرح تھے۔ ان کی یہ عیب چینی اپنی اغراض فاسدہ اور خواہشات نفس کی خاطر ہے۔۔۔ اگر وہ آپ سے کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں تو اپنی خواہش کے مطابق مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
79۔ شرک کی بےحقیقتی اور مشرکوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ ذات جوہر شخص کے سر پر قائم اور اس سے اس کے کئے کرائے کا حساب کرنے والی ہے، بھلا وہ ذات اور وہ جو اس میں سے کچھ بھی نہ کرسکتی ہو، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم لوگ اپنے ایسے بےحقیقت معبودوں کی کس طرح پوجا کرتے ہو ؟ تمہاری مت کیسے ماری دی گئی ؟ ایک طرف وہ ذات ہے جو خود قائم و موجود اور تمہاری تمام چیزوں کو قائم رکھنے والی، ان کی نگرانی کرنے والی اور ان کے تمام حالات سے پوری طرح آگاہ ہے، جب کہ دوسری طرف تمہارے ان خودساختہ شریکوں کے اندراس طرح کی کوئی بات بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی
تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
(رکوع نمبر 6)
اسرارومعارف
کفار کا یہ خیال بھی محض باطل ہے کہ نبی اور رسول تو اگر فرشتہ نہ ہو تو فرشتہ کی مانند اس کی کوئی بیوی یا اولاد نہ ہو گھر بار نہ ہو جیسے آجکل کے جہلا کے ولایت کے بارے میں ایسا ہی گمان ہے قرآن حکیم نے متعدد مقامات پر اس کا جواب ارشاد فرمایا جن میں ایک مقام یہ بھی ہے کہ نبی بھی عام انسان کی زندگی گذارتا ہے اور سرد وگرم زمانہ برداشت کرتے ہوئے اللہ جل جلالہ کی اطاعت کرتا ہے ، بیوی بچے گھر بار دوست ، دشمن ، سب معاملات اس کے ساتھ بھی ہوتے ہیں تب ہی وہ قابل اتباع ہوتا ہے کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی مسائل ہوتے ہیں جن کے باعث وہ اللہ جل جلالہ کی اطاعت نہیں کر پاتے مگر نبی کی…
Read the full tafseer →ف 12 ۔ آنحضرت ﷺ کی نبوت پر مشرکین یہ بھی اعتراض کرتے کہ یہ عجیب پیغمبر ہیں کہ دوسرے انسانوں کی طرح عورتوں سے نکاح کرتے ہیں حالانکہ پیغمبر کو ان باتوں سے کیا واسطہ بعض روایات میں ہے کہ یہود نے آنحضرت ﷺ کے کثرت ازواج پر اعتراض کیا۔ ّ (لیس ھمہ الا النساء) ۔ اس آیت میں اسی اعتراض کا جواب ہے کہ نبوت عورتوں سے نکاح کے منافی نہیں ہے۔ آپ ﷺ سے قبل اللہ کے جتنے پیغمبر ہو گزرے ہیں سب بشر ہی تھے اور ان میں اکثریت پیغمبروں کے ہے جو بیوی بچے رکھتے تھے لہٰذا اعتراض سرے سے لغو ہے۔ حدیث میں ہے ؟ نکاح کرنا بھی سنن انبیاء میں سے ہے۔ “ نیز فرمایا کہ جو میری اس سنت سے اعراض برتے لگا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔…
Read the full tafseer →(13: 38) یاتی بایۃ۔ لائے کوئی آیت۔ لائے کوئی نشانی ۔ پیش کرے کوئی معجزہ۔
اجل۔ مدرت مقررہ۔ وقت ِ مقررہ۔
کتب۔ ای حکم معین یکتب علی العباد حسبما تقتضیہ الحکمۃ ایک معین جو بہ تقاضائے حکمت بندوں کے لئے لکھا گیا ہو۔ لکل اجل کتب۔ تمام اوقات مقررہ پر جو کچھ ہونا ہے وہ پیشتر ہی تحریر شدہ ہے اور کوئی اس کو آگے پیچھے یا اس کے الٹ نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–41
لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41
ارسلنا ہم نے بھیجا ازواج (زوج) بیویاں ۔ جوڑے ذریۃ اولادیں اجل مدت یمحوا وہ مٹاتا ہے یثبت وہ باقی رکھتا ہے ام الکتاب کتاب کی ماں۔ (لوح محفوظ) نرینک ہم تجھے دکھا دیں گے نعد ہم وعدہ کرتے ہیں نتوفین ہم وفات دیں گے البلغ پہنچا دینا علینا ہمارے اوپر۔ ہماری ذمہ داری ہے ناتی ہم لا رہے ہیں ننقص ہم کم کر رہے ہیں اطراف کنارے معقب پیچھے ڈالنے والا سریع الحساب جلد حساب لینے والا
تشریح : آیت نمبر 38 تا 41
اصل میں جو لوگ سچائی کا سامنا نہیں کرسکتے وہ یا تو سازشیں کرتے ہیں یا طرح طرح کے اعتراضات کرنا ان کا مشغلہ ہوتا ہے۔ کفار مکہ کبھی تو نبی کریم ﷺ سے طرح طرح کے معجزات کا مطالبہ…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ پر عیب لگانے کا ذکر
شان نزول : جس کا مطلب یہ ہے کہ یہودی رسول مقبول ﷺ کی شان میں عیب لگاتے اور نا درست باتیں بنا کر کہتے تھے کہ اس شخص کو عورتوں کا بہت شوق ہے، نکاح زیادہ کیے ہیں اگر پیغمبر ہوتا تو اسے عورتوں سے کیا کام تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ جتنے رسول ہوئے ہیں وہ سب کے سب بشر تھے کوئی فرشتہ نہ تھا۔ انہیں کی طرح یہ رسول بھی بشر ہیں، کھاتے بھی ہیں پیتے بھی ہیں، چلتے ہیں بھی ہیں پھرتے بھی ہیں بیویاں بچے بھی ان کے ہیں، جیسے پہلے رسولوں کے تھے۔ چناچہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں تھیں اور سات سو کنیزیں تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 37–38
[26] یہ کفار کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ پر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ نبی
ہوتے تو دنیا ترک کردیتے اور بیوی بچے نہ رکھتے۔ لہذا فرمایا کہ بیوی بچے رکھنا نبوت کے منافی نہیں جو رسول پہلے آ چکے ہیں وہ بھی نکاح کرتے تھے، ان کے بھی بیویاں اور بچے تھے۔ خود قریش ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر فخر کرتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–39
ظہور آیات کیلئے ایک وقت مقرر ہے :
(ف 1) مکہ والوں کی ذہنیت یہ تھی کہ وہ بات بات پر اظہار عجائب کی خواہش کرتے کبھی کہتے ، یہاں چشمے پھوٹیں ، کبھی کہتے ہمارے اسلاف کو زندہ کر دو کبھی کہتے مکہ کے پہاڑ سونے چاندی کے بن جائیں ، غرضیکہ ، خوائے بدرابہانہ ہابسیار ۔
ان دو آیتوں میں قرآن حکیم نے اصولی جواب دیا ہے ، ارشاد ہے کہ اظہار کو ارق کا تعلق منشاء ایزدی سے ہے ، رسول کے اختیار میں نہیں کہ جب چاہے کوئی کرشمہ کر دکھا دے ، یہ اللہ کی مرضی پر موقوف ہے کہ جب مصلحت جائے انبیاء (علیہم السلام) کے ہاتھوں عجائب وخوارق کا اظہار کر دے ، اس لئے یہ ضرور نہیں کہ رسول تمہاری ہر خواہش کو براہ راست پورا کرے ۔
(آیت)…
Read the full tafseer →38 ۔ اور ہم نے یقینا آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے تھے اور ان ہم نے ان کو بیویاں بھی دی تھیں اور اولاد بھی اور کسی رسول سے یہ نہ ہوسکا اور کسی رسول کے اختیار میں یہ بات نہ تھی کہ وہ حکم الٰہی کے بغیر کوئی آیت کوئی حکم یا کوئی نشان اور معجزہ پیش کرسکے ہر وقت کے مناسب ایک حکم لکھا ہوا ہے اور ہر ایک وعدہ لکھا ہوا ہے ۔ یعنی جب ہر نبی دنیوی زندگی کے لئے ایک نمونہ بنا کر بھیجا جاتا ہے پھر وہ بشر بھی ہوتا ہے تو اس کو بیوی کی اجازت بھی ہوتی ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے اور کسی رسول کو اختیار نہیں ہوتا کہ وہ بغیر اذن الٰہی کے کوئی فرمائشی معجزہ دکھائے یا کوئی آیت اور حکم لے آئے یا کسی حکم کو منسوخ کر دے جس…
Read the full tafseer →ف 7۔ یعنی ایک حکم۔
Read the full tafseer →بیوی اور اولاد کا ہونا منافی نبوت نہیں اور نہ ہی کسی نبی کے اختیار میں کوئی نشان رکھا گیا ہے
60 ؎ کیا عیالداری کمالات نبوت کے منافی ہے ؟ ہرگز نہیں تو پھر بعض احمقوں کو آپ کے صاحب ازواج و اولاد ہونے پر کیوں اعتراض ہو رہا ہے ؟ آیت میں بتایا گیا ہے کہ سلسلہ رسالت تو بہت قدیم ہے اور آپ ﷺ کا دعویٰ رسالت دنیا کی تاریخ میں کوئی انوکھا واقعہ نہیں ‘ نوح (علیہ السلام) ‘ ابراہیم (علیہ السلام) ‘ اسحٰق (علیہ السلام) ‘ اسماعیل (علیہ السلام) ‘ یعقوب (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) ‘ دائود ‘ سلیمان (علیہ السلام) آخر ان سب کے حالات دنیا و تاریخ میں محفوظ ہیں کیا یہ سب حضرات عیال دار نہیں تھے ؟ اگر تھے تو…
Read the full tafseer →Commentary
The common thinking of disbelievers and polytheists about a prophet and messenger was that he should be from a species other than human, such as a creation like angels so that their supremacy over the general run of human beings becomes clearly pronounced. The Holy Qur’ an has refuted this false idea of theirs in many verses by saying that they had simply failed to realize the reality and wisdom behind the sending of prophets and messengers, therefore, they went about pursuing such ideas. The reason is that a messenger is sent by Allah Ta’ ala as a model in order that communities…
Read the full tafseer →56. This is the answer to another objection. The disbelievers said that he could not be a Prophet of Allah because he has wives and children, for they argued that Prophets had nothing to do with carnal desires.
57. This is the answer to yet another objection: Had he been a true Prophet, he would have shown a sign like the shining hand and the miraculous staff of Prophet Moses or he would have restored sight to the blind or cured lepers like Prophet Jesus, or brought a sign like the she camel of Prophet Salih. (peace be upon them all). The answer is this: None of the former Messengers had any…
Read the full tafseer →