Ar-Ra'd 13:37

Ar-Ra'd · from ayah 37

13:37

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِیًّا ؕ— وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ— مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا وَاقٍ ۟۠وَكَذٰلِكَ اَنۡزَلۡنٰهُ حُكۡمًا عَرَبِيًّا‌ ؕ وَلَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَهۡوَآءَهُمۡ بَعۡدَمَا جَآءَكَ مِنَ الۡعِلۡمِۙ مَا لَـكَ مِنَ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا وَاقٍ

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And thus We have revealed it as an Arabic legislation. And if you should follow their inclinations after what has come to you of knowledge, you would not have against Allah any ally or any protector.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juzع

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:37

اِسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمان عربی تم پر نازل کیا ہے اب اگر تم نے اِس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آ چکا ہے لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی و مددگار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑسے تم کو بچا سکتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان نازل کیا ہے۔ اور اگر تم علم (ودانش) آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو خدا کے سامنے کوئی نہ تمہارا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان کا فرمان اتارا ہے۔ اگر آپ نے ان کی خواہشوں کی پیروی کر لی اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے تو اللہ (کے عذابوں) سے آپ کو کوئی حمایتی ملے گا اور نہ بچانے واﻻ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو عربی زبان میں ایک حکم نامہ بنا کر نازل کیا ہے۔ اور (اے پیغمبر) تمہارے پاس جو علم آچکا ہے، اگر اس کے بعد بھی تم ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلے تو اللہ کے مقابلے میں نہ تمہارا کوئی مددگار ہوگا، نہ کوئی بچانے والا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فیصلہ اتارا اور اے سننے والے! اگر تو ان کی خواہشوں پر چلے گا بعد اس کے کہ تجھے علم آچکا تو اللہ کے آگے نہ تیرا کوئی حمایتی ہوگا نہ بچانے والا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی طرح ہم نے اس (قرآن) کو حکم بنا کر عربی زبان میں اتارا ہے، اور (اے سننے والے!) اگر تو نے ان (کافروں) کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ تیرے پاس (قطعی) علم آچکا ہے تو تیرے لئے اﷲ کے مقابلہ میں نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی محافظ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی طرح ہم نے اسے عربی فرمان بنا کر اتارا ہے اور یقینا اگر تو نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس کے بعد جو تیرے پاس علم آچکا تو اللہ کے مقابلے میں نہ تیرا کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اسی کے ہاں مجھے جانا ہے (اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں حَکَمَ بنا کر اتارا ہے۔ اب اگر اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آچکا ہے، آپ نے ان لوگوں کے خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلہ میں آپ کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ (اس کی گرفت سے) بچانے والا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی لیے ہم نے یہ کتاب ایک فرمان کی حیثیت سے عربی میں اتاری ہے اور اگر تم اس علم صحیح کے آجانے کے بعد ان کی بدعتوں کی پیروی کروگے تو نہ خدا کے مقابل میں تمہارا کوئی مددگار ہوگا نہ بچانے والا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی طرح (جس طرح کہ دوسرے پیغمبروں کو خاص خاص زبانوں میں احکام دیے گئے) ہم نے (آپ کی طرف اے پیغمبر !) یہ قرآن اتارا ہے حکم کے طور پر عربی زبان میں، اور اگر کہیں تم نے پیروی کرلی ان لوگوں کی خواہشات کی اس علم کے بعد جو کہ تمہارے پاس آچکا ہے تو اللہ کے یہاں تمہارا نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ کوئی بچانے والا۔

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی طرح ہم نے اس (کتاب) کو نازل کیا بطور ایک صاف حکم کے۔ اور اگر آپ کہیں ان کی خواہشوں پر چلنے لگیں بعد اس کے کہ آپ کے پاس علم (صحیح) پہنچ چکا ہے تو آپ کا نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا ہے عربی میں قول فیصل بنا کر اور (اے نبی !) اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس کے بعد کہ آپ کے پاس صحیح علم آچکا ہے تو نہیں ہوگا آپ کے لیے بھی اللہ کی طرف سے نہ کوئی حمایتی اور نہ کوئی بچانے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے، اور اگر آپ عقل و دانش آنے کے بعد ان لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے چلیں گے تو اللہ کے سامنے نہ تو کوئی آپ کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And it is with the same directive that We revealed to you this Arabic Writ. Were you indeed to follow the vain desires of people after the true knowledge has come to you, none will be your supporter against Allah, and none will have the power to shield you from His punishment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus We have sent it down, being a command in Arabic. And if you follow their desires, after the knowledge that has come to you, there shall be neither a friend for you against Allah, nor a savior.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus We have sent it down, being a command in Arabic. And if you follow their desires, after the knowledge that has come to you, there shall be neither a friend for you against Allah, nor a savior.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And thus have We sent it (the Qur'an) down to be a judgement of authority in Arabic. Were you to follow their (vain) desires after the knowledge which has come to you, then you will not have any Wali (protector) or defender against Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus have We revealed it, a decisive utterance in Arabic; and if thou shouldst follow their desires after that which hath come unto thee of knowledge, then truly wouldst thou have from Allah no protecting friend nor defender.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And thus We have revealed it as an Arabic legislation. And if you should follow their inclinations after what has come to you of knowledge, you would not have against Allah any ally or any protector.

— Saheeh International

We revealed it (the Quran) as a code of conduct in the Arabic language. (Muhammad), if you follow their desires after the knowledge has been revealed to you, know that no one will be able to guard or protect you from the wrath of God.

— Muhammad Sarwar

And thus have We revealed it, a true judgment in Arabic, and if you follow their low desires after what has come to you of knowledge, you shall not have against Allah any guardian or a protector.

— Muhammad Habib Shakir

And Thus We have sent it down as a judgment in Arabic, And surely wert thou to follow their vain desires, after that which hath come to thee of knowledge, thou wilt not have against Allah any patron or protector.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus have We revealed it to be a judgment of authority in Arabic. Wert thou to follow their (vain) desires after the knowledge which hath reached thee, then wouldst thou find neither protector nor defender against Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:37

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 36–37

شاداں وفرحاں لوگ جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں وفرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے۔ جیسے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ) 2۔ البقرۃ :121) میں ہے کہ اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑتے ہیں۔ ہاں ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 36–37

سورة الرَّعْد 55 یہ ایک خاص بات کا جواب ہے جو اس وقت مخالفین کی طرف سے کہی جا رہی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اگر صاحب واقعی وہی تعلیم لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیاء (علیہم السلام) لائے تھے جیسا کہ ان کا دعوی ہے، تو آخر کیا بات ہے کہ یہود و نصاری، جو پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کے پیرو ہیں، آگے بڑھ کر ان کا استقبال نہیں کرتے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ اس پر خوش ہیں اور بعض ناراض، مگر اے نبی ﷺ ، خواہ کوئی خوش ہو یا ناراض، تم صاف کہہ دو کہ مجھے تو خدا کی طرف سے یہ تعلیم دی گئی ہے اور میں بہرحال اسی کی پیروی کروں گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–37

خلاصہ تفسیر ان کافروں کے لئے دنیوی زندگانی میں (بھی) عذاب ہے (وہ قتل و قید وذلت یا امراض و مصائب ہے) اور آخرت کا عذاب اس سے بدرجہا زیادہ سخت ہے (کیونکہ شدید بھی ہے اور دائم بھی ہے) اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا (اور) جس جنت کا متقیوں سے (یعنی شرک و کفر سے بچنے والوں سے) وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ کہ اس (کی عمارات اور اشجار) کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور اس کا پھل اور اس کا سایہ دائم رہے گا یہ تو انجام ہوگا متقیوں کا اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا اور جن لوگوں کو ہم نے (آسمانی) کتاب (یعنی تورات و انجیل) دی ہے (اور وہ اس کو پورے طور سے مانتے تھے) وہ اس (کتاب) سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۗءَهُمْ بَعْدَمَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا وَاقٍ۔ یہ قرآن فرمان واجب الاذعان ہے : " کذلک " عربی میں ان معنوں میں بھی آتا ہے جن معنوں میں ہم چناچہ یا اسی لیے کے الفاظ بولتے ہیں۔ یہاں یہ اسی لیے کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں پیغمبر ﷺ کو یہ حکم ہوا ہے کہ قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَآ اُشْرِكَ بِهٖ ۭ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰب، اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اسی امر و حکم کی دعوت و اشاعت کے لیے ہم نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے " حکما عربیا " یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

37۔ 1 یعنی جس طرح آپ سے پہلے رسولوں پر کتابیں مقامی زبانوں میں نازل کیں، اسی طرح آپ پر قرآن ہم نے عربی زبان میں اتارا، اس لئے کہ آپ کے مخاطب اولین اہل عرب ہیں، جو صرف عربی زبان ہی جانتے ہیں۔ اگر قرآن کسی اور زبان میں نازل ہوتا تو ان کی سمجھ سے بالا ہوتا اور قبول ہدایت میں ان کے لئے عذر بن جاتا۔ ہم نے قرآن کو عربی میں اتار کر یہ عذر بھی دور کردیا۔ 37۔ 2 اس سے مراد اہل کتاب کی بعض وہ خواہشیں ہیں جو وہ چاہتے تھے کہ پیغمبر آخر الزماں انھیں اختیار کریں۔ مثلاً بیت المقدس کو ہمیشہ کے لئے قبلہ بنائے رکھنا اور ان کے معتقدات کی مخالفت نہ کرنا وغیرہ۔ 37۔ 3 اس سے مراد علم ہے جو وحی کے ذریعے سے آپ کو عطا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

35: یہاں سے آیت 38 تک اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ قرآن کریم کے جن حصوں کا یہ لوگ انکار کرتے ہیں اس کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ وہ لوگ قرآن کریم کے ان احکام پر اعتراض کرتے تھے جو تورات اور انجیل کے احکام سے مختلف ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ بنیادی عقیدے تو تمام انبیائے کرام کی دعوت میں مشرک رہے ہیں لیکن فروعی اور جزوی احکام مختلف انبیائے کرام کی شریعتوں میں مختلف ہوتے رہے ہیں۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ہر زمانے اور ہر امت کے حالات مختلف ہوتے ہیں اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے تحت مختلف زمانوں میں احکام بھی بدلتے رہتے ہیں۔ یعنی بہ تسی چیزیں جو ایک نبی کی شریعت میں جائز…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 37–40

اب بات وحی اور توحید ہی کے مسائل کو لے کر آگے بڑھتی ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے اہل کتاب کا موقف کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتب سابقہ کے اندر جو ہدایات دی گئی تھیں ، اب یہ آخری کتاب ان کے بارے میں حکم ہے۔ اس کا فرمان قول فیصل ہے اور یہ آخری اور فائنل حکم ہے۔ اس آخری کتاب میں اللہ نے وہ احکام دئیے ہیں جو ابدالاباد تک ثابت رہیں گے۔ ان میں وہ امور بھی ہیں جن کو سابقہ رسولوں پر نازل کیا گیا تھا۔ نیز اس کتاب کے ذریعے اللہ نے سابقہ کتب کی جن باتوں کو مٹانا مناسب سمجھا ان کو مٹا دیا۔ ان کی حکمت سے اللہ ہی خبر دار ہے۔ لہٰذا اے پیغمبر آپ اس موقف پر جم جائیں جو قرآن کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی جیسے پیشتر دوسری کتابیں اتاری گئیں۔ اس وقت یہ قرآن اتارا جو عظیم الشان معارف و حکم پر مشتمل اور حق و باطل کا آخری فیصلہ کرنے والا ہے۔ پھر جس طرح ہر پیغمبر کو اسی زبان میں کتاب دی گئی جو اس کی قومی زبان تھی۔ ایسے ہی محمد عربی ﷺ کو عربی قرآن دیا گیا۔ بلاشبہ قرآن جیسی معجز و جامع کتاب ایسی ہی زبان میں نازل ہونی چاہیے تھی، جو نہایت بلیغ، وسیع، جامع، منضبط، واضح، پر مغز اور پرشوکت ہونے کی وجہ سے " ام الالسنہ " اور " ملکۃ اللغات " کہلانے کی مستحق ہے۔ 2 یعنی کسی کے انکار و ناخوشی کی ذرہ بھر پروا نہ کرو۔ حق تعالیٰ نے جو علم عظیم تم کو دیا ہے اس کی پیروی کرتے رہو اگر بالفرض تم ان لوگوں کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 37 وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا ”حکم“ بمعنی ”فیصلہ“ یعنی یہ قرآن عربی قول فیصل بن کر آیا ہے۔ جیسا کہ سورة الطارق میں فرمایا : اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّمَا ہُوَ بالْہَزْلِ ”یہ کلام حق کو باطل سے جدا کرنے والا ہے اور کوئی بےہودہ بات نہیں ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

48 قرآن سابقہ کتابوں کے لئے حَکَمَ ہے :۔ یعنی جس طرح ہم نے سابقہ انبیاء کی کتابوں کو ان کی قومی زبان میں نازل کیا تھا۔ اسی طرح محمد عربی ﷺ پر ہم نے یہ قرآن ان کی قومی زبان یعنی عربی میں نازل کیا ہے اور اسے حکم بنا کر نازل کیا ہے۔ یعنی یہ سابقہ الہامی کتابوں کے لیے ایک معیار کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے بیان سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں کہاں کہاں تحریف کی، کون سے احکام و آیات کو چھپاتے رہے اور اپنے دین میں از خود کون کون سے اضافے کرلیے۔ 49 العلم سے کیا مراد ہے ؟:۔ اس آیت میں خطاب عام مسلمانوں کے لیے ہے۔ مگر بطور تاکید مزید آپ کو مخاطب کیا گیا ہے اور علم سے مراد علم وحی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

74۔ (جس کے اصل مسائل و احکام میں کسی قسم کا خفا نہیں ہے) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح انبیاء سابقین پر وحی و کتاب نازل کی تھی، (آیت) ” عرب یا “۔ صاف واضح، عربی پر حاشیہ پارہ 12 سورة یوسف آیت 3 کے ذیل میں گذر چکا۔ 75۔ اللہ اکبر ! دائرہ عبدیت سے ذرہ بھر قدم باہر نکالنے کی گنجائش، سیدالبشر بلکہ سرور انبیاء تک کو نہیں دی گئی ہے ! (آیت) ” اھوآء ھم “۔ ضمیر اہل کتاب کی جانب سمجھی گئی ہے اور ان کی اھواء (خواہشوں) کے اندر ان کی تحریفات بھی آگئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 32–37

آیت نمبر 32 تا 37 ترجمہ : یقیناً آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کا مذاق اڑایا گیا جیسا کہ آپ کا مذاق اڑایا گیا، اور یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے، تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے ان کو سزا میں پکڑ لیا پس میرا عذاب کیسا رہا یعنی وہ اپنے محل میں واقع ہوا، تو میں ہر اس شخص کے ساتھ ایسا ہی کروں گا جو آپ کا مذاق اڑائیگا، کیا وہ ذات جو ہر متنفس کے اچھے برے عمل کی نگراں ہے اور وہ اللہ ہے، اس کے مانند ہوگا کہ جو ایسا نہیں ہے کہ وہ بت ہیں نہیں، اس (حذف جواب) پر وَجَعَلُوا للہ الخ دلالت کر رہا ہے، آپ ان سے کہئے کہ ان کے نام تو بتاؤ وہ کون ہیں ؟ بلکہ تم اللہ کو اس کے شریک کی خبر دے رہے رہو جس کو وہ زمین میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذلک انزلنہ حکما عربیا اور ___ جس طرح ہم نے گذشتہ قوموں کیلئے انہیں کی زبانوں میں کتابیں نازل کیں ___اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں (تمام معاملات ‘ عبادات ‘ حلت و حرمت وغیرہ کا) فیصلہ بنا کر اتارا ہے تاکہ تمہارے اور تمہاری قوم کیلئے اس کا سمجھنا سمجھانا آسان ہو۔ ولئن اتبعت اھوآء ھم بعد ماجاءک من العلم مالک من اللہ من ولي ولا واق اور آپ کے پاس علم پہنچ جانے (یعنی قرآن نازل ہونے) کے بعد اگر آپ ان کی خواہشات پر چلیں گے تو اللہ (کے عذاب و گرفت) سے آپ کو بچانے والا اور مدد کرنے والا کوئی نہیں۔ یعنی کوئی ایسا مددگار اور حامی نہ ملے گا جو اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔ روایت میں آیا ہے کہ یہودیوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(37) اور اسی طرح ہم نے قرآن حکیم کو جبریل امین کے ذریعے اس طرح نازل کیا ہے کہ وہ پورا کا پورا اللہ تعالیٰ کا ایک خاص حکم ہے، عربی زبان میں اور بالفرض اگر آپ انکے دین اور ان کے قبلہ کی پیروی کرنے لگیں جبکہ آپ کے پاس دین ابراہیمی اور قبلہ ابراہیمی کا کھلا بیان پہنچ چکا ہے تو عذاب الہی کے مقابلہ میں نہ آپ کا کوئی قریبی رشتہ دار آپ کو فائدہ پہنچائے گا اور نہ کوئی اس عذاب کو آپ سے روکنے والا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا : یعنی جس طرح پہلے انبیاء کی طرف کتابیں اتریں اسی طرح ہم نے آپ پر یہ قرآن اتارا اور جس طرح ہر نبی پر اس کی قوم کی زبان میں وحی اور کتاب نازل کی اسی طرح عربوں پر بھی انھی کی زبان میں کتاب اتاری، کسی دوسری زبان میں نہیں، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم تو یہ زبان جانتے ہی نہیں۔ ”اَنْزَلْنٰهُ“ (ہم نے اسے اتارا) سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید اور وحی الٰہی اوپر کی جانب سے آئی ہیں۔ اس سے ان لوگوں کا صاف رد ہوگیا جو اللہ تعالیٰ کے لیے اوپر کی جانب ہونے یا عرش پر ہونے کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ کبھی کہتے ہیں کہ وہ لامکان ہے، یعنی کہیں بھی نہیں اور کبھی کہتے ہیں وہ ہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 37 قولہ تعالیٰ : وکذلک انزلنہ حکما عربیا یعنی جس طرح ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا تو بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا اسی طرح ہم نے اسے عربی زبان میں فیصلہ نازل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی صفت، عربیا، بیان فرمائی کیونکہ اللہ نے حضرت محمد ﷺ پر اس کو اس حالت میں نازل فرمایا کہ یہ عربی ہے، تو انھیں لوگوں نے اس فیصلے کا بھی انکار کیا۔ ایک قول کے مطابق نظم آیت ہے کہ جس طرح ہم نے رسولوں پر ان کی زبان میں کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے آپ پر قرآن کو عربی زبان میں فیصلہ نازل فرمایا، عربیا سے مراد ” عربی زبان میں “ ہے۔ اور حکم سے مراد وہ احکامات ہیں جو اس میں ہیں۔ ایک قول یہ ہے : ” حکم عربی “ سے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 36–40

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ خوش ہوئے اور ان کی تصدیق بھی کی۔ (آیت ) ” ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “ یعنی یہود نصاری اور مجوس (جو انکار کرنے والے ہیں ) 2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور وہ اس سے خوش ہوئے ہیں اور (یہ آیت) ” ومن الاحزاب “ سے یہود نصاری اور مجوس کی امتیں مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَكَذٰلِكَ : اور اس طرح ] [ انزَلْنٰهُ : ہم نے اتارا اس کو ] [ حُكْمًا : حکم ہوتے ہوئے [عَرَبِيًّا : عربی زبان میں ] [ وَلَىِٕنِ : اور یقینا اگر ] [ اتَّبَعْتَ : آپ ﷺ نے پیروی کی [اَهْوَاۗءَهُمْ : ان کی خواہشات کی ] [ بَعْدَمَا : اس کے بعد کہ جو ] [ جَاۗءَكَ : آیا آپ ﷺ کے پاس ] [ مِنَ الْعِلْمِ : علم میں سے ] [ مَا : تو نہیں ہوگا ] [ لَكَ : آپ ﷺ کے لئے ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی بھی حمایت کرنے والا ] [ وَّلَا وَاقٍ : اور نہ کوئی بھی بچانے والا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

یہ قرآن کریم حکم خاص ہے عربی زبان میں ہے : پھر فرمایا (وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ حُکْمًا عَرَبِیًّا) (اور اسی طرح ہم نے اس قرآن کو اس طور پر نازل کیا ہے کہ وہ خاص حکم عربی زبان میں ہے) اہل کتاب جو فروعی مسائل میں احکام اسلامیہ کو ان مسائل کے خلاف پاتے تھے جو انہیں شرائع سابقہ سے یاد تھے اور ان کی وجہ سے احکام قرآنیہ کا انکار کرتے تھے اس میں ان لوگوں کی تردید ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے پہلے کتابیں نازل کیں اور ان میں از منہ سابقہ کے مخاطبین کے اعتبار سے احکام بھیجے پھر ان میں سے بہت سے احکام کو بعد میں آنے والی امتوں کے لیے منسوخ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے احکام نازل کر دئیے اسی طرح ہم نے یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 36–39

خطاب بہ اہل کتاب دربارہ نبوت قال اللہ تعالیٰ والذین اتینھم الکتب یفرحون .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتب (ربط) اوپر کی آیتوں یعنی وان تعجب فعجب قولہم (الخ) ویقول الذین کفروا میں نبوت کی بحث گزری، اب ان آیات میں اہل کتاب کی حالت اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار عرب آنحضرت ﷺ کی نبوت میں زیادہ یہ شبہات کیا کرتے تھے ایک شبہ یہ تھا کہ پیغمبر کو تو فرشتوں کی طرح زن و فرزند سے اور علائق بشر یہ سے پہلے جو نبی بھیجے گئے اور جن کی نبوت کو اہل کتاب بھی مانتے ہیں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ وہ بھی اہل و عیال والے تھے دوسرا شبہ یہ کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ جو ہماری خواہش…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–38

41:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یہ ماقبل کے تمام دلائل سے متعلق ہے۔ یعنی مذکورہ دلائل وبراہین کے ساتھ ہم نے یوں قرٓان کو عربی زبان میں نازل کیا ہے۔ ” وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَاءَھُمْ “ یہ زجر ہے جو دلائل مذکورہ پر متفرع ہے یعنی جب آپ کے پاس عقل ونقل اور وحی کے دلائل کے ساتھ مسئلہ توحید کی سچائی کا علم الیقین آگیا اب بھی اگر آپ نے مشرکین کی طرف میلان کیا تو پھر ہمارے عذاب سے دنیا کی کوئی طاقت آپ کو نہیں بچا سکتی۔ خطاب آنحضرت ﷺ سے اور مقصود امت کی تعلیم ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر بفرض محال آپ ان دلائل کے ہوتے ہوئے مشرکین کی بات مان لی تو آپ بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 36–37

(ربط آیات) مکی سورتوں میں زیادہ تر بنیادی حقائق کا ذکر ہے اور جزئیات کم ہیں ، اس سورة میں عقیدے کی اصلاح کا پہلو نمایاں ہے ، ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ۔ درمیان میں کافروں اور مشرکوں کی مذمت بیان ہوئی ، ان کے اوصاف اور ان کا انجام ذکر کیا گیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان اور نیکی والے لوگوں کا تذکرہ ہوا ، ان کے اوصاف اور انکا انجام بھی بیان ہوا تیسرے رکوع میں یہ آیت کریمہ گزر چکی ہے ۔ (آیت) ” افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمی “۔ بھلا وہ شخص جو جانتا ہے کہ آپ کی طرف آپ کے رب سے حق نازل کیا گیا ہے وہ اندھے آدمی کی طرح ہو سکتا ہے ؟ بیشک عقلمند لوگ ہی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ حُكْمًا عَرَبِيًّا ۭ وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَاۗءَهُمْ بَعْدَمَا جَاۗءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا وَاقٍ 37؀ۧ عَرَبيُّ : الفصیح البيّن من الکلام، قال تعالی: قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] ، وقوله : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، العربی واضح اور فصیح کلام کو کہتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ قُرْآناً عَرَبِيًّا[يوسف/ 2] واضح اور فصیح قرآن ( نازل کیا ) بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلك قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ف : حکما عرب یا حکمۃ مترجمۃ بلسان العرب انتصابہ علی الحال۔ 12 کشاف 1 ؎ اس سے یہ سمجھنا کہ حضرت خاص عرب کے لیے نبی تھے محض غلط فہمی ہے کس لیے کہ قوم رسول وہ ہیں جو آپ کے ہم نسب اور ہم وطن ہیں اور امت یا قوم بمعنی عام سب لوگ ہیں سو قوم کی زبان میں کتاب اور رسول کا بھیجنا ان کی رعایت خاص کے لیے رسالت عامہ کو مانع نہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰـہُ حُکْمًا عَرَبِیًّا ط وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ بَعْدَمَاجَآئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ لا مَالَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَوَاقٍ ۔ (سورۃ الرعد : 37) (اور اسی لیے ہم نے اس کتاب کو نازل کیا ہے، عربی زبان میں ایک فرمان کی حیثیت سے۔ اور اگر آپ نے (بفرضِ محال) اس علم صحیح کے آجانے کے بعد لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں نہ آپ کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی بچانے والا۔ ) قرآن کی حیثیت گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے مشرکینِ مکہ کا اہل کتاب کے حوالے سے اعتراض بھی پڑھا اور اس کا جواب بھی۔ اب ایک دوسرے پہلو سے اسی اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے کہ تم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح پہلے انبیاء (علیہ السلام) کو آسمانی کتابیں عنایت کی گئیں۔ اسی طرح نبی ﷺ کو قرآن مجید عطا ہوا جو عربی زبان میں ہے۔ آپ کو حکم تھا کہ لوگوں کی خواہشات کے پیچھے چلنے کی بجائے اللہ کے حکم کی اتباع کرنا ہے۔ اس خطاب کا آغاز آیت نمبر 30 سے ان الفاظ سے شروع ہوا ہے کہ آپ کی امت جیسی پہلے بھی امتیں گزری ہیں۔ لہٰذا آپ اپنی امت کو پڑھ کر سنائیں۔ جو ہم نے آپ کی طرف نازل فرمایا ہے۔ یہ قرآن مجید عربی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی حیثیت رکھتا ہے یہ ایسا حکم ہے جس میں اچھے کاموں کے کرنے کا حکم ہے اور برے کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ اچھے کام کرنے والوں کے لیے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

37: وَکَذٰلِکَ اَنْزَلْنٰہُ (اور اسی طرح ہم نے اس کو اتارا) جس طرح ہم نے گزشتہ کتابیں اتاریں جن میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیا گیا۔ اور اسکی وحدانیت کا سبق پڑھایا گیا اور اسکی طرف بلانے کا امر ہوا۔ اور اسکے دین کی طرف اور دارالجزاء سے ڈرنے کا کہا گیا۔ حُکْمًا عَرَبِیًّا ( عربی زبان میں فیصلہ والا) یہ حکمت ہے جسکی ترجمانی عربی زبان سے کی گئی۔ نحو : یہ منصوب ہیں حال کی وجہ سے وہ رسول اللہ ﷺ کو ان امور کی طرف دعوت دیتے جو دین اسلام اور انکے ایک جیسے تھے تو اس سلسلہ میں آپکو ہدایت فرمائی۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ اَھْوَآئَ ھُمْ بَعْدَ مَا جَآ ئَ کَ مِنَ الْعِلْمِ (اگر آپ نے انکی خواہشات کی اتباع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 37۔” وکذلک انزلناہ حکما ً عربیا ً “ وہ کہتے ہیں کہ جس طرح ہم نے گزشتہ قوموں کے لیے انہی کی زبانوں میں کتابیں نازل کیں اس طرح ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں فیصلہ بنا کر اتارا ہے تا کہ تمہارے اور تمہاری قوم کے لیے اس کا سمجھنا اور سمجھانا آسان ہو ۔ اس کو عرب کی طرف منسوب کیا کیونکہ قرآن کو انہی کی لغت میں اتارا ہے اس پر گروہوں نے ان کو جھٹلایا ہے۔ بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جس طرح ہم نے ما قبل ان کی لغات پر کتابیں نازل کیں اسی طرح ہم نے یہ قرآن تمہاری ہی لغت میں اتارا ہے۔ ” ولئن اتبعت اھواء ھم “ اس سے مراد ملت ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد قبلہ ہے۔ ” بعد ماء جا ک من العلم مالک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–37

36۔ 37۔ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو کتاب دی گئی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ کتاب قرآن ہے اور وہ لوگ حضرت ﷺ کے اصحاب ہیں یہ لوگ ان باتوں سے بہت خوش ہوتے ہیں جو حضرت پر اتاری گئی ہیں کہ خالص خدا کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے اور احزاب سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں جو قرآن کا پورا انکار نہیں کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں بعضی بعضی باتیں ایسی بھی ہیں جس کے یہود و نصاریٰ بھی قائل ہیں جیسے خدا کی ہستی اور اس کی قدرت اور انبیاء کے قصے جس کو یہ لوگ مانتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ بعض فرقے قرآن کی بعض باتوں کو نہیں مانتے انکار کرتے ہیں۔ قتادہ ؓ اسی قول کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یعنی ہم نے اس قرآن اور اس کتاب کو فرمان عربی بنا کر نازل کیا ہے یعنی واضھ ترین اور فصیح ترین زبان کے ذریعے سے اسے محکم اور پختہ بنا کر نازل کیا ہے تاکہ اس میں کوئی شک و شبہ واقع نہ ہو، تاکہ یہ اس امر کا موجب ہو کہ صرف اسی کی اتباع کی جائے، اس میں مداہنت نہ کی جائے اور بےعلم لوگوں کی خواہشات نفس میں سے اس کے متضاد اور متناقض امور کی پیروی نہ کی جائے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو۔۔۔ درآنحالیکہ آپ معصوم ہیں۔۔۔ وعید سنائی تاکہ آپ کو آپ کی عصمت یاد دلائے، اور تاکہ تمام احکام میں آپ امت کے لئے نمونہ بنیں۔ فرمایا : (آیت) ” اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو آپ کے پاس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 34–39

79۔ شرک کی بےحقیقتی اور مشرکوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ ذات جوہر شخص کے سر پر قائم اور اس سے اس کے کئے کرائے کا حساب کرنے والی ہے، بھلا وہ ذات اور وہ جو اس میں سے کچھ بھی نہ کرسکتی ہو، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم لوگ اپنے ایسے بےحقیقت معبودوں کی کس طرح پوجا کرتے ہو ؟ تمہاری مت کیسے ماری دی گئی ؟ ایک طرف وہ ذات ہے جو خود قائم و موجود اور تمہاری تمام چیزوں کو قائم رکھنے والی، ان کی نگرانی کرنے والی اور ان کے تمام حالات سے پوری طرح آگاہ ہے، جب کہ دوسری طرف تمہارے ان خودساختہ شریکوں کے اندراس طرح کی کوئی بات بھی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 35–43

کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 32–37

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف کفر اور معصیت کا اثر دل کو ویران کردیتا ہے اور انسان نبی اور رسول کی عظمت کو پانے سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ انبیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے جو اس کے فہم سے بالاتر ہوتی ہیں کہ اس نے کفر پر ضد اور اصرار کرکے اپنی فراست تباہ کرلی ہوتی ہے اور یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل سے بھی ہوتا رہا ۔ اللہ جل جلالہ نے ان کفار کو بھی مہلت دی فورا گرفت نہ فرمائی ، انہوں نے دعوت حق کو سنا مگر مذاق ہی اڑاتے رہے حتی کہ اپنے انجام کو پہنچے مہلت ختم ہوگئی اور اللہ جل جلالہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے اور ایسے آئے کہ پھر ان کی سزا مثال بن گئی ، اگرچہ تعلیمات رسالت کا مذاق اڑانا بہت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 ۔ یعنی جس طرح ہم نے پہلی کتابیں ہر امت پر اس کی اپنی زبان میں اتاریں، اسی طرح… 10 ۔ کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت کو تمام جن و انس کے لئے ہے لیکن اس کے اولین مخاطب وہ لوگ ہیں جن کی زبان عربی ہے۔ 11 ۔ یہ خطاب بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا طالب اور اس کے غصہ سے ڈرنے والا ہو اور اس میں وعید ہے ان علما کے لئے جو جانتے بوجھتے سنت کی راہ چھوڑ کر بدعت و ضلالت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ (ابن کثیر) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:37) انزلنہ۔ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع القران ہے۔ حکما۔ حکم کے طورپر۔ جس میں حلال و حرام ۔ نیکی وبدی ۔ ہدایت و گمراہی وغیرہ ہر قسم کے احکام موجود ہیں۔ وعربیا۔ واضح طورپر۔ عربی زبان میں۔ حکما اور عربیا دونوں بوجہ حال کے منصوب ہیں۔ اس کے معنی ” احکام کی کتاب عربی زبان میں “ یا ” واضح اور ظاہر احکام کی کتاب “ دونوں ہوسکتے ہیں۔ کذلک۔ یعنی جس طرح انبیائے سلف پر ان ہی کی زبان میں وحی الٰہی نازل کی گئی تھی اسی طرح قرآن حکیم بھی اہل مکہ کی اپنی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ یا جس طرح واضح احکام کی کتب الٰہیہ سابق انبیاء پر نازل ہوتی تھی اسی طرح یہ قرآن مجید بھی واضح احکام کا مجموعہ نازل کیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 35–37

لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37 مثل مثال وعد وعدہ کیا گیا اکل پھل۔ انجام دائم ہمیشہ رہنے والا ظل سایہ عقبی انجام تفرحون وہ خوش ہو رہے ہیں الاحزاب (حزب) جماعتیں۔ گروہ ینکر انکار کرتا ہے امرت مجھے حکم دیا گیا ہے اعبد میں عبادت و بندگی کرتا ہوں لا اشرک میں شرک نہیں کرتا ہوں ادعوا بلاتا ہوں ماب ٹھکانا حکم فیصلہ اتبعت تو نے پیروی کی۔ تو پیچھے چلا اھواء (ھوائ) خواہشات مالک تیرے لئے نہیں ہے ولی حمایتی۔ مددگار واق بچانے والا تشریح : آیت نمبر 35 تا 37 اس دنیا کی عارضی زندگی کی ہر خوشی اور غم کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے کبھی ہر طرف خوشی اور راحتیں اور سکون ہی سکون ہوتا ہے لیکن جب خوشی کے لمحے دبے قدموں گذر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–37

توحید کا ذکر، شریعت محمدی پر نہ چلنے سے اللہ کی خفگی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب قرآن ہے اور وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے اصحاب مراد ہیں کہ یہ لوگ قرآن پاک سے خوش ہوتے ہیں۔ بعض کافر ایسے ہیں کہ جو قرآن پاک ان کی شریعت کے خلاف ہے اس کے منکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ میں تو مواخذ ہوں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور اس کا شریک کسی کو نہ سمجھوں جیسے تم نے عزیر اور مسیح کو ٹھہرا لیا۔ جب میں پکارتا ہوں اللہ کو پکارتا ہوں اور اسی کی طرف واپس جانے والا ہوں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے اگلے انبیاء پر ان کی زبان میں کتابیں بھیجی تھیں اسی طرح ہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 37–38

[26] یہ کفار کے اعتراض کا جواب ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ پر کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ آپ نبی ہوتے تو دنیا ترک کردیتے اور بیوی بچے نہ رکھتے۔ لہذا فرمایا کہ بیوی بچے رکھنا نبوت کے منافی نہیں جو رسول پہلے آ چکے ہیں وہ بھی نکاح کرتے تھے، ان کے بھی بیویاں اور بچے تھے۔ خود قریش ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے پر فخر کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 35–37

جنت کا سادہ اور واقعی تخیل : (ف 2) متقی اور پرہیز گار لوگ دنیا میں اپنی خواہشات نفس کو اللہ کے تابع کردیتے ہیں ، ان کا کوئی ارادہ نہیں رہتا ، خواہشیں اور مطالبے سب منشاء ایزدی کے ماتحت ہوجاتے ہیں ، کیونکہ اپنی مستی کو اللہ میں گم کردینے کا نام ہی تو اتقا ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کے لئے حسرت وابتہاج کے تمام سامان موجود ہیں ، جس طرح دنیا میں کامیابی کا نتیجہ اور نشانی دنیوی آسائشوں کا دفور ہے ، اس طرح آخرت میں جو کہ انسانی زندگی کی تکمیل کا نام ہے ، ضروری ہے کہ تمام مادی مسرتیں جو جائز ہیں موجود ہوں ۔ یہ انسان کی فطرت ہے تمام انسان دل سے چاہتے ہیں کہ انہوں زندگی کے ایسے پرامن لمحات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

37 ۔ اور جس طرح ہم نے مختلف رسولوں کی امتوں کو مختلف احکام دیئے اسی طرح ہم نے اس قرآن کریم کو اس طور پر نازل فرمایا کہ یہ ایک فرمان ہے عربی زبان میں اور اگر اے پیغمبر ﷺ آپ نے باوجود اس کے کہ آپ کو صحیح علم پہنچ چکا اور آپ کے پاس صحیح علم آچکا آپ نے ان کافروں کی خواہشات کا اتباع کیا تو اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں نہ کوئی آپ کا حمایتی ہوگا اور نہ بچانے والا یعنی جس طرح پہلی امتوں کے مناسب حال ان کے رسولوں پر کتابیں اور صحیفے نازل ہوتے رہے اسی طرح قرآن بھی آخری امت کے مناسب حال اور اسکی ضرورتوں کے موافق یہ قرآن کریم ہم نے نازل کیا جو عربی زبان میں ایک فرمان اور حکم ہے پھر اس فرمان کی بعض باتوں سے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیا ہے آپ ﷺ لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں 59 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے پہلا حکم یہ دیا گیا کہ یہ ہم نے جو آپ ﷺ پر کتاب نازل کی ہے تو اس کا ہر قلم صاف اور واضح ہے کوئی بات اس میں بہم نہیں بیان کی گئی۔ ” عربنا “ ٹیکس اس کے ساتھ ہی ملحق آپ کو اس طرح مخاطب کیا گیا کہ مفہوم آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کی طرف منتقل ہوجائے خواہ وہ شخص اس وقت تھا جب آپ کو مخاطب کیا گیا اور خواہ رہتی دنیا تک کے سارے انسانوں میں سے ہر ایک انسان کو مراد لیا جاسکے اور یہ انداز خطاب ایسا ہی ہے جیسے اس سے پہلے کئی بار مخاطب رسول اللہ ﷺ کئے گئے اور اصل خطاب آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد سے کام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 33–37

In the verse: أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ (Is then He, who is watchful over everyone ... 33), the ignorance and irrationality of the disbelievers has been exposed by saying that these people are certainly short on sense when they equate inert idols with His pure Being, a Being that watches everyone and is the ultimate reckoner of everyone's deeds. Then, it was said that the real reason behind their unreasonable attitude is that shaitan has made their very ignorance look good in their sight and, therefore, this they take to be 'achievement' and 'success.'

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 36–37

55. This is in reply to a specific objection which was then raised by the disbelievers. They would say: If he has brought the same message that was brought by the Messengers before him (as he claims), why don’t the Jews and the Christians who are the followers of the former Prophets come forward and welcome it? The verse answers the objection and says that the true followers of the former Prophets really rejoice in the message of the Quran, but the false ones have been offended by it. Then it asks the Prophet (peace be upon him) not to worry at all about this, saying: O Prophet, you should…

Read the full tafseer →