Explained with ayahs 36–37
شاداں وفرحاں لوگ
جو لوگ اس سے پہلے کتاب دئیے گئے ہیں اور وہ اس کے عامل ہیں وہ تو تجھ پر اس قرآن کے اترنے سے شاداں وفرحاں ہو رہے ہیں کیونکہ خود ان کی کتابوں میں اس کی بشارت اور اس کی صداقت موجود ہے۔ جیسے آیت (اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ) 2۔ البقرۃ :121) میں ہے کہ اگلی کتابوں کو اچھی طور سے پڑھنے اس آخری کتاب پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت کی خبر ہے اور وہ اس وعدے کو پوار دیکھ کر خوشی سے مان لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ اس کے وعدے غلط نکلیں اس کے فرمان صحیح ثابت نہ ہوں پس وہ شادماں ہوتے ہوئے اللہ کے سامنے سجدے میں گرپڑتے ہیں۔ ہاں ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
سورة الرَّعْد 55
یہ ایک خاص بات کا جواب ہے جو اس وقت مخالفین کی طرف سے کہی جا رہی تھی۔ وہ کہتے تھے کہ اگر صاحب واقعی وہی تعلیم لے کر آئے ہیں جو پچھلے انبیاء (علیہم السلام) لائے تھے جیسا کہ ان کا دعوی ہے، تو آخر کیا بات ہے کہ یہود و نصاری، جو پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کے پیرو ہیں، آگے بڑھ کر ان کا استقبال نہیں کرتے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ اس پر خوش ہیں اور بعض ناراض، مگر اے نبی ﷺ ، خواہ کوئی خوش ہو یا ناراض، تم صاف کہہ دو کہ مجھے تو خدا کی طرف سے یہ تعلیم دی گئی ہے اور میں بہرحال اسی کی پیروی کروں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
خلاصہ تفسیر
ان کافروں کے لئے دنیوی زندگانی میں (بھی) عذاب ہے (وہ قتل و قید وذلت یا امراض و مصائب ہے) اور آخرت کا عذاب اس سے بدرجہا زیادہ سخت ہے (کیونکہ شدید بھی ہے اور دائم بھی ہے) اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا (اور) جس جنت کا متقیوں سے (یعنی شرک و کفر سے بچنے والوں سے) وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ کہ اس (کی عمارات اور اشجار) کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور اس کا پھل اور اس کا سایہ دائم رہے گا یہ تو انجام ہوگا متقیوں کا اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا اور جن لوگوں کو ہم نے (آسمانی) کتاب (یعنی تورات و انجیل) دی ہے (اور وہ اس کو پورے طور سے مانتے تھے) وہ اس (کتاب) سے…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ۭ قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَآ اُشْرِكَ بِهٖ ۭ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰب۔
صالحین اہل کتاب کا رویہ : وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ سے اچھے اہل کتاب مراد ہیں، اہل کتاب بالخصوص نصری ہیں، جیسا کہ مائدہ کی آیات 83۔ 84 کے تحت تفصیل گزر چکی ہے، ایسے لوگ بھی موجود تھے جو اپنے صحیفوں کی پیشین گوئیوں کی بنا پر رسول خاتم کے منتظر تھے۔ اس وجہ سے آپ کی دعوت اور آپ کی لائی ہوئی کتاب میں جب انہوں نے ان پیشین گوئیوں کی تصدیق کے آثار دیکھے تو بڑے ذوق و شوق…
Read the full tafseer →36۔ 1 اس سے مراد مسلمان ہیں اور مطلب ہے جو قرآن کے احکام پر عمل کرتے ہیں۔
36۔ 2 یعنی قرآن کے صدق کے دلائل و شواہد دیکھ کر مذید خوش ہوتے ہیں۔
36۔ 3 اس سے مراد یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین ہیں۔ بعض کے نزدیک کتاب سے مراد تورات و انجیل ہے، ان میں سے جو مسلمان ہوئے، وہ خوش ہوتے ہیں اور انکار کرنے والے وہ یہود و انصاریٰ ہیں جو مسلمان نہیں ہوئے۔
Read the full tafseer →33: اس آیت میں یہودیوں اور عیسائیوں کے مختلف گروہوں کا ذکر فرمایا گیا ہے، ان میں سے کچھ وہ ہیں جو قرآن کریم کی آیات سن کر خوش ہوتے ہیں کہ یہ وہی اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جس کی پیشینگوئی پچھلی کتابوں میں کی گئی تھی، ، چنانچہ اس گروہ کے بہت سے افراد آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، عیسائیوں میں سے بھی اور یہودیوں میں سے بھی، یہ حقیقت ذکر فرما کر ایک طرف تو کفار مکہ کو شرم دلائی گئی ہے کہ جن لوگوں کے پاس آسمانی ہدایت موجود ہے، وہ تو ایمان لارہے ہیں اور جن لوگوں کے پاس نہ کوئی کتاب ہے نہ کوئی اور آسمانی ہدایت، وہ ایمان لانے سے کترا رہے ہیں، اور دوسری طرف آنحضرت ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کو تسلی بھی دی گئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
آیت نمبر 33 تا 35
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔
افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور…
Read the full tafseer →14 جن کو اب قرآن دیا ہے (یعنی مسلمان) اور جن کو پہلے " تورات ' و " انجیل " وغیرہ دی گئی یعنی (یہود و نصاریٰ ) اس چیز کو سن کر خوش ہوتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کی گئی مسلمانوں کا خوش ہونا تو ظاہر ہے کہ وہ اس کتاب کو فلاح دارین کی کلید جانتے تھے، باقی یہود و نصاریٰ میں جو لوگ اہل علم و انصاف اور فی الجملہ حق پرست تھے ان کے لیے بھی ایک طرح مسرت کا موقع تھا کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ قرآن کریم کیسی فراخ دلی سے ان کی اصل کتابوں کی تصدیق اور ان کے انبیاء کی تعریف و تعظیم میں رطب اللسان ہے بلکہ سچے احبارو رہبان کے وجود کو بھی معرض مدح میں پیش کرتا ہے۔ (ۭذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 36 وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ
یہ مدینہ کے اہل کتاب میں سے نیک سرشت لوگوں کا ذکر ہے۔ ان کو جب خبریں ملتی تھیں کہ مکہ میں آخری نبی کا ظہور ہوچکا ہے تو وہ ان خبروں سے خوش ہوتے تھے۔
Read the full tafseer →46 یعنی یہود و نصاریٰ اس کتاب یعنی قرآن سے اس لیے خوش ہوتے ہیں کہ یہ ان کی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان کے انبیاء کی تعظیم و تکریم سکھلاتی ہے۔ اس لحاظ سے تو سارے اہل کتاب قرآن سے خوش ہیں۔ پھر ان میں سے کچھ منصف مزاج ایسے بھی تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اور جن باتوں سے وہ انکار کرتے ہیں۔ وہ وہی باتیں ہیں جن میں انہوں نے تحریف کر ڈالی تھی۔ کتاب کے کچھ احکام چھپا جاتے تھے اور کچھ باتیں انہوں نے خود ہی تصنیف کرکے اللہ سے منسوب کردی تھیں۔ قرآن نے ایسی تمام باتوں سے پردہ اٹھا دیا اور جو حقیقت تھی اسے واشگاف الفاظ میں بیان کیا۔ اس وجہ سے ان لوگوں نے قرآن کے بعض حصوں کا انکار کیا پھر بعد میں…
Read the full tafseer →71۔ (چنانچہ وہ اس پر ایمان لے آئے اور آپ ﷺ کی تصدیق کی) لانھم امنوا بہ وصدقوہ (کبیر عن ابن عباس ؓ (آیت) ” الذین اتینھم الکتب “۔ یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے صحیح معنی میں اپنے اپنے دین و شریعت کے پیرو تھے، یہ رسول اللہ ﷺ پر بھی بلاتامل ایمان لے آئے، ھم الذین امنوا بالرسول من اھل الکتاب (کبیر عن ابن عباس ؓ
72۔ یعنی ایسے حصوں سے انکار جو ان کی مرضی و خواہش کے خلاف ہوتے ہیں۔ (آیت) ” الاحزاب “۔ یعنی کافروں ومنکروں کے وہ حصے جنہوں نے رسول اسلام کی مخالفت پر جتھے بنا لیے اور اس میں مشرکین عام اہل کتاب سب آگئے۔ والاحزاب بقیۃ اھل الکتاب وسائر المشرکین (کبیر عن ابن عباس ؓ یعنی کفرتھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
آیت نمبر 32 تا 37
ترجمہ : یقیناً آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کا مذاق اڑایا گیا جیسا کہ آپ کا مذاق اڑایا گیا، اور یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے، تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے ان کو سزا میں پکڑ لیا پس میرا عذاب کیسا رہا یعنی وہ اپنے محل میں واقع ہوا، تو میں ہر اس شخص کے ساتھ ایسا ہی کروں گا جو آپ کا مذاق اڑائیگا، کیا وہ ذات جو ہر متنفس کے اچھے برے عمل کی نگراں ہے اور وہ اللہ ہے، اس کے مانند ہوگا کہ جو ایسا نہیں ہے کہ وہ بت ہیں نہیں، اس (حذف جواب) پر وَجَعَلُوا للہ الخ دلالت کر رہا ہے، آپ ان سے کہئے کہ ان کے نام تو بتاؤ وہ کون ہیں ؟ بلکہ تم اللہ کو اس کے شریک کی خبر دے رہے رہو جس کو وہ زمین میں نہیں…
Read the full tafseer →والذین اتینھم الکتب اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے۔ اس سے مراد یا تمام صحابہ ہیں یا یہودیوں اور عیسائیوں میں سے وہ لوگ مراد ہیں جو مسلمان ہوگئے تھے۔ جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھی اور حبش کے عیسائی مسلمان۔
یفرحون بما انزل الیک وہ اس قرآن سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر اتارا گیا ہے ‘ کیونکہ قرآن ان کی سابق کتابوں کے موافق ہے۔
ومن الاحزاب اور ان گروہوں میں سے۔ یعنی کافروں میں سے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف جتھابندی کرلی تھی۔ یا ان یہودیوں اور عیسائیوں میں سے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ جیسے کعب بن اشرف اور اسید اور عاقب وغیرہ۔
من ینکر بعضہ وہ لوگ ہیں جو قرآن کے کچھ حصہ کا انکار کرتے ہیں۔…
Read the full tafseer →(36) یعنی جن لوگوں کو ہم نے توریت کا علم عطا کیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے ساتھی تو وہ رحمان (اللہ تعالیٰ) کے اس ذکر سے جو آپ پر نازل کیا گیا خوش ہوتے ہیں۔
اور ان یہود ہی میں بعض ایسے ہیں کہ سورة یوسف اور رحمن (اللہ تعالیٰ) کے ذکرکے علاوہ بعض قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں یا یہ کہ کفار وغیرہ میں سے بعض گروہ قرآن کریم کے اس حصے کا انکار کرتے ہیں جس میں رحمن (اللہ تعالیٰ) کا ذکر ہے۔
اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ مجھے اس بات کا حکم ہوا ہے کہ میں خالص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤں اور مخلوق کو میں اللہ ہی کی طرف بلاتا ہوں اور آخرت میں مجھے اسی کی طرف لوٹنا…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ۔۔ : ”الْكِتٰبَ“ سے مراد یا تو پہلی کتابیں ہیں، یعنی تورات و انجیل، مطلب یہ ہوگا کہ پہلی کتب میں چونکہ آپ ﷺ کے سچے رسول ہونے کے بہت سے شواہد اور بشارتیں موجود ہیں، اس لیے جن لوگوں کو وہ کتابیں دی گئی ہیں وہ آپ کی طرف اترنے والی آیات پر خوش ہوتے ہیں۔ دیکھیے سورة عنکبوت (47) اور آل عمران (113) کیونکہ وہ آپ کو پہچان کر ایمان لا چکے ہیں، ہاں ان کے کئی گروہ قرآن کی بعض چیزوں کا انکار کرتے ہیں، کیونکہ وہ ان کی ان باتوں کا رد کرتا ہے جو انھوں نے اپنے پاس سے داخل کرلی تھیں، یا ان میں تبدیلی اور تحریف کردی تھی، مثلاً یہود کا عزیر ؑ اور نصاریٰ کا مسیح ؑ کو اللہ کا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 36
قولہ تعالیٰ : والذین اتینھم الکتب یفرحون بما انزل الیک یعنی بعض اہل کتاب قرآن کی وجہ سے خوش ہو رہے ہیں جس طرح ابن سلام اور سلمان، اور وہ لوگ جو حبشہ سے آئے، لفظ عام ہے جب کہ مراد مخصوص۔ حضرت قتادہ نے فرمایا : وہ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو قرآن کے نور سے خوش ہوتے ہیں۔ مجاہد اور ابن زید کا بھی یہی قول ہے۔ اور مجاہد سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ اہل کتاب کے مومن ہیں۔ ایک قول یہ ہے : یہ یہودی و نصاریٰ میں سے اہل کتاب کی ایک جماعت ہے جو نزول قرآن کی وجہ سے اس لیے خوش ہیں کہ یہ ان کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے۔ اکثر علماء نے کہا : ابتدائی نزول میں قرآن میں الرحمن کا ذکر کم تھا، جب حضرت عبد اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–40
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے مراد محمد ﷺ کے اصحاب ہیں جو اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے رسول کے ساتھ خوش ہوئے اور ان کی تصدیق بھی کی۔ (آیت ) ” ومن الاحزاب من ینکر بعضہ “ یعنی یہود نصاری اور مجوس (جو انکار کرنے والے ہیں )
2:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین اتینہم الکتب یفرحون انزل الیک “ سے وہ لوگ مراد ہیں جو اہل کتاب میں سے رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے اور وہ اس سے خوش ہوئے ہیں اور (یہ آیت) ” ومن الاحزاب “ سے یہود نصاری اور مجوس کی امتیں مراد…
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ ] [ اٰتَيْنٰهُمُ : ہم نے دی جن کو ] [ الْكِتٰبَ : کتاب ] [ يَفْرَحُوْنَ : خوش ہوتے ہیں ] [ بِمَآ : اس سے جو ] [انزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ : اور گروہوں میں سے وہ بھی ہیں جو ] [ يُّنْكِرُ : انکار کرتے ہیں ] [ بَعْضَهٗ : اس کے بعض کا ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [انمَآ : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [اُمِرْتُ : مجھے حکم دیا گیا ] [ ان : کہ ] [ اَعْبُدَ : میں بندگی کروں ] [ اللّٰهَ : اللہ کی ] [ وَلَآ اُشْرِكَ : اور میں شریک نہ کروں (کسی کو)] [ بِهٖ : اس کے ساتھ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ہی [ اَدْعُوْا : میں بلاتا ہوں ] [وَاِلَيْهِ :…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْکِرُ بَعْضَہٗ ) (اور اہل کتاب کی بعض جماعتیں وہ ہیں جو قرآن کے بعض حصہ کے منکر ہو رہے ہیں) اس سے اہل کتاب کے معاندین مراد ہیں جو قرآن کریم کی ان چیزوں کو مان لیتے تھے جنہیں اپنے موافق سمجھتے تھے اور ان چیزوں کے منکر ہوجاتے تھے جو ان کے مزاج اور طبیعت کے خلاف ہوتی تھیں۔
(قُلْ اِنَّمَا اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰہَ وَلَا اُشْرِکَ بِہٖ ) (آپ فرما دیجئے کہ مجھے تو صرف یہ حکم ہوا ہے کہ اللہ کی عبادت کروں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کروں) یہ میرا دین ہے تم راضی ہو نہ ہو میں اللہ کی توحید پر اور اللہ کی عبادت پر قائم کروں (اِلَیْہِ اَدْعُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–39
خطاب بہ اہل کتاب دربارہ نبوت
قال اللہ تعالیٰ والذین اتینھم الکتب یفرحون .... الیٰ .... ومن عندہ علم الکتب
(ربط) اوپر کی آیتوں یعنی وان تعجب فعجب قولہم (الخ) ویقول الذین کفروا میں نبوت کی بحث گزری، اب ان آیات میں اہل کتاب کی حالت اور منکرین نبوت کے چند شبہات کا جواب دیتے ہیں کفار عرب آنحضرت ﷺ کی نبوت میں زیادہ یہ شبہات کیا کرتے تھے ایک شبہ یہ تھا کہ پیغمبر کو تو فرشتوں کی طرح زن و فرزند سے اور علائق بشر یہ سے پہلے جو نبی بھیجے گئے اور جن کی نبوت کو اہل کتاب بھی مانتے ہیں جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وغیرہ وہ بھی اہل و عیال والے تھے دوسرا شبہ یہ کرتے تھے کہ یہ کیسے نبی ہیں کہ جو ہماری خواہش…
Read the full tafseer →39:۔ یہ مومنین اہل کتاب سے نقلی دلیل ہے۔ اہل کتاب کے علماء جو کتب سابقہ کے عالم ہیں وہ ہر اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں جو آپ پر نازل کی گئی یہ بھی اس کی سچائی کی ایک دلیل ہے علماء اہل کتاب قرآن کی تصدیق اس لیے کرتے ہیں کہ اس تمام بیانات کتب سابقہ کے عین مطابق ہیں۔ مراد اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے اور احزاب سے علماء اہل کتاب قرآن کی تصدیق اس لیے کرتے ہیں کہ اس کے تمام بیانات کتب سابقہ کے عین مطابق ہیں۔ مراد اہل کتاب کے وہ علماء ہیں جو اسلام قبول کرچکے تھے اور احزاب سے مراد یہود و صاریٰ ہیں ان میں اسے اکثر لوگ نہیں مانتے۔ (روح) یا ” اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ “ سے صحابہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
(ربط آیات)
مکی سورتوں میں زیادہ تر بنیادی حقائق کا ذکر ہے اور جزئیات کم ہیں ، اس سورة میں عقیدے کی اصلاح کا پہلو نمایاں ہے ، ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ۔ درمیان میں کافروں اور مشرکوں کی مذمت بیان ہوئی ، ان کے اوصاف اور ان کا انجام ذکر کیا گیا ، اس کے ساتھ ساتھ اہل ایمان اور نیکی والے لوگوں کا تذکرہ ہوا ، ان کے اوصاف اور انکا انجام بھی بیان ہوا تیسرے رکوع میں یہ آیت کریمہ گزر چکی ہے ۔ (آیت) ” افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمی “۔ بھلا وہ شخص جو جانتا ہے کہ آپ کی طرف آپ کے رب سے حق نازل کیا گیا ہے وہ اندھے آدمی کی طرح ہو سکتا ہے ؟ بیشک عقلمند لوگ ہی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ يُّنْكِرُ بَعْضَهٗ ۭ قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ وَلَآ اُشْرِكَ بِهٖ ۭ اِلَيْهِ اَدْعُوْا وَاِلَيْهِ مَاٰبِ 36
فرح
الْفَرَحُ : انشراح الصّدر بلذّة عاجلة، وأكثر ما يكون ذلک في اللّذات البدنيّة الدّنيوية، فلهذا قال تعالی: لِكَيْلا تَأْسَوْا عَلى ما فاتَكُمْ وَلا تَفْرَحُوا بِما آتاکُمْ [ الحدید/ 23] ، وَفَرِحُوا بِالْحَياةِ الدُّنْيا[ الرعد/ 26] ، ذلِكُمْ بِما كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ [ غافر/ 75] ،
(ر ح ) ا لفرح
کے معنی کسی فوری یا دینوی لذت پر انشراح صدر کے ہیں ۔ عموما اس کا اطلاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ترکیب : من موصولہ ہو قائم علی کل نفس صلہ اے قادر علی کل نفس و عالم بجمیع احوالہا من خیر و شر و مستعد لان یجازی کل نفس بما فعلت من خیر و شر (وھو اللہ) یہ سب مبتداء اور خبر محذوف کمن لیس بھذہ الصفۃ وھی الاصنام جس پر وجعلوا الخ جملہ دال ہے اور ممکن ہے کہ ایسی خبر محذوف مانی جاوے کہ جس پر جعلوا کا عطف درست ہو سکے ای لم یوحدوہ ولم یمجدوہ وجعلوالہ شرکاء (کشاف) یہ جملہ استفہامیہ ہوگا انکار کے طور پر۔
تفسیر : یہ بھی پہلے جواب کا تتمہ ہے وہ جو آپ سے معجزات طلب کرتے ہیں طالب حق نہیں بلکہ محض تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں۔ پھر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے بھی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ان کی امتوں کے لوگ…
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰـھُمُ الْکِتٰبَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمِنَ الْاَحْزَابِ مَنْ یُّنْکِرُبَعْضَہٗ ط قُلْ اِنَّمَآ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَاللّٰہَ وَلَآاُشْرِکَ بِہٖ ط اِلَیْہِ اَدْعُوْا وَاِلَیْہِ مَاٰبِ ۔ (سورۃ الرعد : 36)
(اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس چیز پر خوش ہیں جو اے پیغمبر آپ پر اتاری گئی ہے اور ان جماعتوں میں سے ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ اے نبی آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ ہی کی بندگی کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائوں۔ میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے۔ )
اعتراض اور اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : موحدین کا صلہ، مشرکین اور کفار کا انجام بیان کرنے کے بعد اہل کتاب کو شرک کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔
اہل کتاب دو گر وہ تھے ایک وہ جماعت جس نے حق پہنچایا اور اس پر ایمان لائے اور دین اسلام پر خوش ہوگئے۔ دوسرے وہ لوگ تھے جنھوں نے حق جاننے کے باوجود تعصب کی وجہ سے اس کا انکار کیا۔ اس طرح یہ لوگ کفرو شرک میں مبتلا ہوئے اور مبتلا رہیں گے۔
شرک کرنے والوں کو مجموعی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا گروہ کفار کا ہے جو ملائکہ، جنات، شمس و قمر، ستاروں، بتوں اور دیگر چیزوں کو مختلف انداز میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں شریک سمجھتے ہیں۔ دوسرے وہ لوگ ہیں جو…
Read the full tafseer →36: وَ الَّذَِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ (اور وہ لوگ جنکو ہم نے کتاب دی) اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور انکے ساتھی ہیں جنکو اہل کتاب میں اسلام نصیب ہوا۔ اور اس طرح وہ حبشہ کے لوگ جو نصارٰی میں سے اسلام لائے۔ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمِنَ الْاَ حْزَابِ (وہ اس قرآن سے خوش ہوتے ہیں جو آپ پر اتارا گیا اور ان گروہوں میں سے) اور انکے گروہوں میں سے اور اس سے مراد وہ کفار ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف عداوت میں جتھہ بندی کی جیسے کعب بن اشرف یہودی اور اسکی پارٹی اور اسید، عاقب اور انکے ساتھ والے لوگ جو عیسائی تھے۔ مَنْ یُّنْکِرُ بَعْضَہٗ (وہ لوگ ہیں جو قرآن کے کچھ حصہ کا انکار کرتے…
Read the full tafseer →36۔” والذین آتیناھم الکتاب “ کتاب سے مراد قرآن ہے یا تمام صحابہ ؓ مراد ہیں ۔ ” یفرحون بما انزل الیک “ اس سے مراد قرآن ہے۔ ” ومن الاحزاب “ وہ کفار جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے خلاف جماعت بندی کی تھی اور وہ یہود نصاریٰ ہیں ۔ یہ مجاہد اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے۔
” من ینکر بعضہ ‘ ‘ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ الرحمن کا لفظ قرآن میں کم آیا ہے۔ جب حضرت عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھی مسلمان ہوگئے قرآن میں رحمن کا ذکر کم پایا تو یہ چیز ان کو کچھ اچھی معلوم نہیں ہوئی کیونکہ تورات میں یہ لفظ بکثرت آیا ہے اس کے بعد جب یہ لفظ بار بار قرآن میں آیا تو ان کو اس سے خوشی ہوئی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” والذین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
36۔ 37۔ اس آیت کی تفسیر میں سلف کے دو قول ہیں ایک تو یہ ہے کہ جن لوگوں کو کتاب دی گئی۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ کتاب قرآن ہے اور وہ لوگ حضرت ﷺ کے اصحاب ہیں یہ لوگ ان باتوں سے بہت خوش ہوتے ہیں جو حضرت پر اتاری گئی ہیں کہ خالص خدا کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے اور احزاب سے یہود ونصاریٰ مراد ہیں جو قرآن کا پورا انکار نہیں کرتے ہیں کیونکہ قرآن میں بعضی بعضی باتیں ایسی بھی ہیں جس کے یہود و نصاریٰ بھی قائل ہیں جیسے خدا کی ہستی اور اس کی قدرت اور انبیاء کے قصے جس کو یہ لوگ مانتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ بعض فرقے قرآن کی بعض باتوں کو نہیں مانتے انکار کرتے ہیں۔ قتادہ ؓ اسی قول کے…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب “ یعنی ہم نے ان کو کتاب اللہ اور اس کی معرفت سے نوازا (آیت) ” وہ خوش ہوتے ہیں اس پر جو نازل ہوا آپ پر “ پس وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہیں اور کتب الہٰیہ کی ایک دوسری کے ساتھ موافقت اور ایک دوسری کی تصدیق کرنے کی بنا پر خوش ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ (آیت) ” اور بعض گروہ وہ ہیں جو اس کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں “ یعنی کفار کے، حق سے منحرف، گروہ اس قرآن کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ (آیت) (الزمر 93 / 41) ” تو جو کوئی راہ راست پر چلتا ہے (کی راست روی) اس کے اپنے لئے فائدہ مند ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
79۔ شرک کی بےحقیقتی اور مشرکوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ ذات جوہر شخص کے سر پر قائم اور اس سے اس کے کئے کرائے کا حساب کرنے والی ہے، بھلا وہ ذات اور وہ جو اس میں سے کچھ بھی نہ کرسکتی ہو، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم لوگ اپنے ایسے بےحقیقت معبودوں کی کس طرح پوجا کرتے ہو ؟ تمہاری مت کیسے ماری دی گئی ؟ ایک طرف وہ ذات ہے جو خود قائم و موجود اور تمہاری تمام چیزوں کو قائم رکھنے والی، ان کی نگرانی کرنے والی اور ان کے تمام حالات سے پوری طرح آگاہ ہے، جب کہ دوسری طرف تمہارے ان خودساختہ شریکوں کے اندراس طرح کی کوئی بات بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–43
کفرو ایمان، جنت و جہنم اور اللہ کی گواہی
تشریح : جنت کی بشارت صالح اور نیک لوگوں کو دی گئی ہے۔ جنت کے بارے میں فرمان نبوی ہے کسی آنکھ نے جنت دیکھی نہیں کسی کان نے سنا نہیں اور کسی دل پر اس کا خیال نہیں گزرا۔ متقی لوگ قرآن کو دنیا کی بہترین نعمت سمجھ کر خوش ہو کر پڑھتے، سمجھتے اور عمل کرتے ہیں اسی بات کا حکم بار بار دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب ہر قسم کے علوم اور خاص طور سے رشدوہدایت کا مجموعہ ہے۔ زندگی، کائنات غرض ازل سے ابد تک اور پھر آخرت کے تمام راز بتا دیے گئے ہیں۔ عربی میں قرآن نازل کیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی زبان اور اہل عرب کی زبان عربی تھی۔ ان کی ہی زبان اختیار کی گئی تاکہ تمام رموز،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کفر اور معصیت کا اثر دل کو ویران کردیتا ہے اور انسان نبی اور رسول کی عظمت کو پانے سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ انبیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے جو اس کے فہم سے بالاتر ہوتی ہیں کہ اس نے کفر پر ضد اور اصرار کرکے اپنی فراست تباہ کرلی ہوتی ہے اور یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل سے بھی ہوتا رہا ۔ اللہ جل جلالہ نے ان کفار کو بھی مہلت دی فورا گرفت نہ فرمائی ، انہوں نے دعوت حق کو سنا مگر مذاق ہی اڑاتے رہے حتی کہ اپنے انجام کو پہنچے مہلت ختم ہوگئی اور اللہ جل جلالہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے اور ایسے آئے کہ پھر ان کی سزا مثال بن گئی ، اگرچہ تعلیمات رسالت کا مذاق اڑانا بہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–36
ف 6 ۔ کیونکہ اس کے متعلق ان کی کتابوں میں شواہد اور بشارتیں موجود ہیں۔ (روح) ۔
7 ۔ یعنی اس سے ناراض اور سیخ پا ہوتے ہیں۔ ان سے مراد وہ باتیں ہیں جو قرآن نے ان کی خود ساخت شریعت اور اہوا و اغراض کے خلاف بیان کی ہیں۔
8 ۔ تو جو شخص نہیں مانتا وہ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت سے انکار کرتا ہے۔ (وحیدی) ۔
Read the full tafseer →(13:36) الاحزاب۔ حزب کی جمع۔ گروہ۔ ٹولیاں۔ جماعتیں۔
الاحزاب۔ یعنی الجماعات الذین تحزبوا علی رسول اللہ ﷺ من الکفار والیہود والنصاریٰ ۔ کفار ۔ اہل یہود۔ اور اہل نصاریٰ میں سے وہ گروہ جہوں نے رسول خدا ﷺ کے خلاف گروہ بندی کی ہوئی تھی۔ اور آپ کی مخالفت پر تلے ہوئے تھے۔
ومن الاحزاب من ینکر بعضہ۔ یعنی کفار اہل یہود واہل نصاریٰ میں سے مخالف جماعتوں کے بعض لوگ جو قرآن کے کچھ حصوں کے انکاری ہیں (جو حصے کہ ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں) ۔
ادعوا۔ مضارع واحد متکلم دعوۃ سے۔ میں پکارتا ہوں۔ میں پکاروں گا۔ میں دعوت دیتا ہوں۔ میں دعوت دوں گا۔
ماب۔ میرا لوٹنا۔ میری واپسی۔ ماب ظرف مکان۔ لوٹنے کی جگہ ۔ نیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
لغات القرآن آیت نمبر 35 تا 37
مثل مثال وعد وعدہ کیا گیا اکل پھل۔ انجام دائم ہمیشہ رہنے والا ظل سایہ عقبی انجام تفرحون وہ خوش ہو رہے ہیں الاحزاب (حزب) جماعتیں۔ گروہ ینکر انکار کرتا ہے امرت مجھے حکم دیا گیا ہے اعبد میں عبادت و بندگی کرتا ہوں لا اشرک میں شرک نہیں کرتا ہوں ادعوا بلاتا ہوں ماب ٹھکانا حکم فیصلہ اتبعت تو نے پیروی کی۔ تو پیچھے چلا اھواء (ھوائ) خواہشات مالک تیرے لئے نہیں ہے ولی حمایتی۔ مددگار واق بچانے والا
تشریح : آیت نمبر 35 تا 37
اس دنیا کی عارضی زندگی کی ہر خوشی اور غم کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے کبھی ہر طرف خوشی اور راحتیں اور سکون ہی سکون ہوتا ہے لیکن جب خوشی کے لمحے دبے قدموں گذر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
توحید کا ذکر، شریعت محمدی پر نہ چلنے سے اللہ کی خفگی
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کتاب قرآن ہے اور وہ لوگ آنحضرت ﷺ کے اصحاب مراد ہیں کہ یہ لوگ قرآن پاک سے خوش ہوتے ہیں۔ بعض کافر ایسے ہیں کہ جو قرآن پاک ان کی شریعت کے خلاف ہے اس کے منکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ میں تو مواخذ ہوں اور مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں اور اس کا شریک کسی کو نہ سمجھوں جیسے تم نے عزیر اور مسیح کو ٹھہرا لیا۔ جب میں پکارتا ہوں اللہ کو پکارتا ہوں اور اسی کی طرف واپس جانے والا ہوں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے اگلے انبیاء پر ان کی زبان میں کتابیں بھیجی تھیں اسی طرح ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[25] یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے اور صحیح معنی میں اپنے دین و شریعت کے پیرو تھے۔ جب قرآن کی دعوت ان کے پاس پہنچی تو وہ بلا تامل ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–37
جنت کا سادہ اور واقعی تخیل :
(ف 2) متقی اور پرہیز گار لوگ دنیا میں اپنی خواہشات نفس کو اللہ کے تابع کردیتے ہیں ، ان کا کوئی ارادہ نہیں رہتا ، خواہشیں اور مطالبے سب منشاء ایزدی کے ماتحت ہوجاتے ہیں ، کیونکہ اپنی مستی کو اللہ میں گم کردینے کا نام ہی تو اتقا ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ آخرت میں ان لوگوں کے لئے حسرت وابتہاج کے تمام سامان موجود ہیں ، جس طرح دنیا میں کامیابی کا نتیجہ اور نشانی دنیوی آسائشوں کا دفور ہے ، اس طرح آخرت میں جو کہ انسانی زندگی کی تکمیل کا نام ہے ، ضروری ہے کہ تمام مادی مسرتیں جو جائز ہیں موجود ہوں ۔
یہ انسان کی فطرت ہے تمام انسان دل سے چاہتے ہیں کہ انہوں زندگی کے ایسے پرامن لمحات…
Read the full tafseer →36 ۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور انہی میں کچھ فرقے ایسے بھی ہیں جو اس کتاب کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں آپ ان سے فرما دیجئے مجھ کو تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادت کروں اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائوں میں تم سب کو اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی ذات میرا مرجع ہے اور دنیا سے اسی کی طرف میری بازگشت ہے۔
اس آیت میں س لف کے دو قول ہیں ایک یہ کہ کتاب سے مراد قرآن کریم ہے اور جن کو کتاب دی گئی اس سے مراد اصحاب رسول ﷺ ہیں اور احزاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصحاب تو نزول قرآن سے خوش ہوتے ہیں اور یہود…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی تورات و انجیل۔
5۔ جیسے یہود میں عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور نصاری میں نجاشی اور ان کے فرستادے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنا پیغام پہنچاتے رہیں ایمان والے آپ ﷺ کے ساتھ ہیں
58 ؎ یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے چونکہ کتب سابقہ میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے نشانات و علامات دی گئی ہیں ان کو پڑھنے کے باعث ان کے دل میں ایک نبی و اعظم و آخر ﷺ کی محبت موجود تھی اور وہ تہ دل سے اس بات کے معترف تھے کہ وہ نبی آنے والا ہے اور پھر جب آپ ﷺ نے نبوت کا دعویٰ کیا اور انہوں نے آپ ﷺ کو اچھی طرح پہچان لیا اور آپ ﷺ کی ایک نشانی اور علامت کو دیکھا اور ان کے دل یقین پا گئے آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں تو وہ خوش ہوگئے اور انہوں نے ذرا دیر نہ لگائی اور آپ ﷺ پر اتاری گئی ہدایت قرآن کریم کو بھی تہ دل سے مان گئے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
In the verse: أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ (Is then He, who is watchful over everyone ... 33), the ignorance and irrationality of the disbelievers has been exposed by saying that these people are certainly short on sense when they equate inert idols with His pure Being, a Being that watches everyone and is the ultimate reckoner of everyone's deeds. Then, it was said that the real reason behind their unreasonable attitude is that shaitan has made their very ignorance look good in their sight and, therefore, this they take to be 'achievement' and 'success.'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–37
55. This is in reply to a specific objection which was then raised by the disbelievers. They would say: If he has brought the same message that was brought by the Messengers before him (as he claims), why don’t the Jews and the Christians who are the followers of the former Prophets come forward and welcome it? The verse answers the objection and says that the true followers of the former Prophets really rejoice in the message of the Quran, but the false ones have been offended by it. Then it asks the Prophet (peace be upon him) not to worry at all about this, saying: O Prophet, you should…
Read the full tafseer →