عالم خیر و شر
اللہ تعالیٰ ہر انسان کے اعمال کا محافظ ہے ہر ایک کے اعمال کو جانتا ہے، ہر نفس پر نگہبان ہے، ہر عامل کے خیر و شر کے علم سے باخبر ہے۔ کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں، کوئی کام اس کی بیخبر ی میں نہیں ہوتا۔ ہر حالت کا اسے علم ہے ہر عمل پر وہ موجود ہے ہر پتے کے جھڑنے کا اسے علم ہے ہر جاندار کی روزی اللہ کے ذمے ہے ہر ایک کے ٹھکانے کا اسے علم ہے ہر بات اس کی کتاب میں لکھی ہوئی ہے ظاہر وباطن ہر بات کو وہ جانتا ہے تم جہاں ہو وہاں اللہ تمہارے ساتھ ہے تمہارے اعمال دیکھ رہا ہے ان صفتوں والا اللہ کیا تمہارے ان جھوٹے معبودوں جیسا ہے ؟ جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ اپنے لئے کسی چیز کے مالک، نہ کسی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
سورة الرَّعْد 50
یعنی جو ایک ایک شخص کے حال سے فردا فردا واقف ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی نیک آدمی کی نیکی چھپی ہوئی ہے نہ کسی بد کی بدی۔
سورة الرَّعْد 51
جسارتیں یہ کہ اس کے ہمسر اور مد مقابل تجویز کیے جا رہے ہیں، اس کی ذات اور صفات اور حقوق میں اس کی مخلوق کو شریک کیا جا رہا ہے، اور اس کی خدائی میں رہ کر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو کچھ چاہیں کریں ہم سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔
سورة الرَّعْد 52
یعنی اس کے شریک جو تم نے تجویز کر رکھے ہیں ان کے معاملے میں تین ہی صورتیں ممکن ہیں
ایک یہ کہ تمہارے پاس کوئی مستند اطلاع آئی ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنی صفات، یا اختیارات، یا حقوق میں…
Read the full tafseer →(آیت) اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍ۔ۢ اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور بےعقلی کو اس طرح واضح فرمایا ہے کہ یہ کیسے بیوقوف ہیں کہ بےجان وبے شعور بتوں کو اس ذات پاک کے برابر ٹھراتے ہیں جو ہر نفس پر نگراں اور اس کے اعمال و افعال کا محاسبہ کرنے والی ہے پھر فرمایا کہ اصل سبب اس کا یہ ہے کہ شیطان نے ان کی اس جہالت ہی کو ان کی نظر میں مزین کر رکھا ہے وہ اسی کو بڑا کمال اور کامیابی سمجھتے ہیں۔
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 33 تا 37:۔ آگے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر ان کی یہ جسارت اپنے ان فرضی معبودوں کے بل پر ہے جن کو انہوں نے بلا کسی دلیل کے خدا کا شریک اور اپنا حامی و ناصر گمان کر رکھا ہے تو ان کو بتا دو کہ ان معبودوں کا کوئی وجو دہی نہیں ہے۔ یہ محض خیالی باتیں ہیں۔ یہ لوگ دنیا میں بھی خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے اور آخرت میں ان کو جس عذاب سے سابقہ پیش آنے والا ہے وہ تو اس سے بھی کہیں سخت ہوگا۔ جنت کے حق دار صرف اس کے مومن اور موحد بندے ہوں گے۔ اگر یہ لوگ اس بدیہی حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو، اہل کتاب میں سے جو لوگ اچھے اور اپنی کتاب پر قائم ہیں وہ اس کتاب سے بہت خوش ہیں…
Read the full tafseer →33۔ 1 یہاں اس کا جواب محذوف ہے یعنی کیا رب العزت اور وہ معبودان باطل برابر ہوسکتے ہیں جن کی عبادت کرتے ہیں، جو کسی کو نفع پہنچانے پر، نہ دیکھتے ہیں اور نہ عقل وشعور سے بہرہ ور ہیں۔
33۔ 2 یعنی ہمیں بھی تو بتاؤ تاکہ انھیں پہچان سکیں اس لئے کہ ان کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔ اس لئے آگے فرمایا، کیا تم اللہ کو وہ باتیں بتاتے ہو جو وہ زمین میں جانتا ہی نہیں، یعنی ان کا وجود ہی نہیں۔ اس لئے کہ اگر زمین میں ان کا وجود ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ضرور ہوتا، اس پر تو کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔
33۔ 3 یہاں ظاہر ظن کے معنی میں ہے یعنی یا یہ صرف ان کی ظنی باتیں ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم ان بتوں کی عبادت اس گمان پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
30: اس تفسیر پر مبنی ہے جو امام رازی اور علامہ آلوسی نے حل العقد کے مصنف کے حوالے سے بیان کی ہے اس تفسیر کے مطابق من ھو قائم کی خبر موجود ہے جو محذوف ہے اور و جعلوا للہ شرکاء جملہ حالیہ ہے بندے کو یہ ترکیب دوسرے احتمالات کے مقابلے میں بہتر معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
31: نام تو انہوں نے بہت سے بتوں اور دیوتاؤں کے رکھ رکھے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقت ہے تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ اسے کون جان سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کے علم میں تو ایسا کوئی بھی وجود ہے نہیں، اب اگر تم اس کو حقیقی وجود قرار دوگے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ علم رکھنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
آیت نمبر 33 تا 35
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔
افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور…
Read the full tafseer →2 یعنی جو خدا ہر شخص کے ہر عمل کے ہر وقت نگرانی رکھتا ہے، ایک لمحہ کسی سے غافل نہیں۔ ذرا کوئی شرارت کرے اسی وقت تنبیہ کرسکتا اور سزا دے سکتا ہے کیا مجرم اس سے چھوٹ کر کہیں بھاگ سکتے ہیں ؟ یا اس کی مثل پتھر کی وہ مورتیاں ہوسکتی ہیں جو نہ دیکھتی ہیں نہ سنتی ہیں نہ اپنے یا دوسرے کے نفع و ضرر کا کچھ اختیار رکھتی ہیں۔ تعجب ہے کہ ایسے خدا کی موجودگی میں انسان ایسی عاجز و حقیر مخلوق کے آگے سر جھکائے اور اس کو خدائی کے اختیارات تفویض کر دے۔ اس ظلم کی بھی کوئی انتہا ہے کہ علیم الکل اور بہمہ صفت موصوف خدا کے شریک وہ ہوں جنہیں خود اپنے وجود کی خبر نہیں۔ خوب سمجھ لو کہ جو کچھ ہم خفیہ یا اعلانیہ کرتے ہیں…
Read the full tafseer →آیت 33 اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ
اللہ تعالیٰ ہر آن ہر شخص کے ساتھ موجود ہے اور اس کی ایک ایک حرکت اور اس کے ایک ایک عمل پر نظر رکھتا ہے۔ کیا ایسی قدرت کسی اور کو حاصل ہے ؟
وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ
انہوں نے ایسی بصیر ‘ خبیر اور عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہستی کے مقابلے میں کچھ معبود گھڑ لیے ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔
قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ
یعنی اللہ جو اس قدر علیم اور بصیر ہستی ہے کہ اپنے ہر بندے کے ہر خیال اور ہر فعل سے واقف ہے تو تم لوگوں نے جو بھی معبود بنائے ہیں کیا ان کے پاس اللہ سے زیادہ علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
44 معبودان باطلہ کے صفاتی نام کوئی دلیل یا تجربہ ؟ :۔ یہاں نام سے مراد ان شریکوں کے صفاتی نام ہیں۔ جیسے فرمایا : ( اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ) 20 ۔ طه :8) اس آیت میں بھی اسم سے مراد صفاتی نام ہیں یعنی ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے یہ شریک کیا کیا کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں ؟ اور اس کی دلیل کیا ہے ؟ کیا کسی الہامی کتاب میں کہیں یہ لکھا ہے کہ اللہ نے فلاں فلاں اختیارات فلاں دیوتا یا بزرگ کو سونپ دیئے ہیں۔ یا تم اللہ کو ایسی چیز کی اطلاع دینا چاہتے ہو جس کا وجود ساری زمین میں کہیں پایا ہی نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف زمین کا نام اس لیے لیا کہ مشرکوں نے معبود…
Read the full tafseer →63۔ یعنی کہیں ایسا علیم کل، ہمہ بین، ہمہ دان، معبود برحق اور تمہارے خود ساختہ، بیخبر معبود ان باطل برابر ہوسکتے ہیں ؟ (آیت) ” قآئم۔۔۔ کسبت “۔ یعنی ہمہ دان۔ ہمہ تواں قادر مطلق وعلیم کل، اے قادرعلی کل الممکنات عالم بجمیع المعلومات (کبیر) اے رقیب ومھیمن (روح)
64۔ جن سے ان کی معبودیت پر کچھ تو روشنی پڑے) (آیت) ” سموھم “۔ اسم۔ پر حاشیہ سورة بقرہ رکوع 4 علم ادم الاسماء کلھا کے تحت میں گزر چکا ہے، مراد یہاں صفات سے ہے جیسے اردو فقرہ میں کہیں کہ ذرا تعریف تو کیجئے۔ یہ مراد نہیں کہ ان کے نام گنانا شروع کردو۔ قیل صفوھم ثم انظروا ھلھی اھل لان تعبد (معالم) والمعنی صفوھم فانظروا ھل لھم ما یستحقون بہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
آیت نمبر 32 تا 37
ترجمہ : یقیناً آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کا مذاق اڑایا گیا جیسا کہ آپ کا مذاق اڑایا گیا، اور یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے، تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے ان کو سزا میں پکڑ لیا پس میرا عذاب کیسا رہا یعنی وہ اپنے محل میں واقع ہوا، تو میں ہر اس شخص کے ساتھ ایسا ہی کروں گا جو آپ کا مذاق اڑائیگا، کیا وہ ذات جو ہر متنفس کے اچھے برے عمل کی نگراں ہے اور وہ اللہ ہے، اس کے مانند ہوگا کہ جو ایسا نہیں ہے کہ وہ بت ہیں نہیں، اس (حذف جواب) پر وَجَعَلُوا للہ الخ دلالت کر رہا ہے، آپ ان سے کہئے کہ ان کے نام تو بتاؤ وہ کون ہیں ؟ بلکہ تم اللہ کو اس کے شریک کی خبر دے رہے رہو جس کو وہ زمین میں نہیں…
Read the full tafseer →افمن ھو قائم علے کل نفس بما کسبت بھلا وہ (ا اللہ) جو ہر شخص کے (اچھے برے) تمام اعمال کا نگراں ہے ( اس مخلوق کی طرح ہوسکتا ہے جو اللہ کی طرح علم نہیں رکھتی۔ یعنی اللہ ہر عمل سے واقف ہے ‘ اسلئے کسی عمل کا بدلہ اس کی طرف سے فوت نہیں ہوگا۔ ہمزہ سوالیہ ہے اور فاء عاطفہ اور معطوف علیہ محذوف ہے ‘ پورا کلام اس طرح تھا : کیا تم اللہ کے ساتھ بتوں کو شریک قرار دیتے ہو اور جو ذات ہر شخص کے ہر عمل کی نگراں ہے ‘ اس کو بیخبر ‘ جماد ‘ دعا عاجز کی طرح سمجھتے ہو۔
وجعلوا اللہ شرکاء اور بنا رکھے ہیں انہوں نے (اپنے گمان میں) اللہ کے ساجھی۔ اس جملہ کا عطف کَسَبَتْ پر ہے اگر مَا کو مصدری کہا جائے ‘ یا کلام محذوف پر…
Read the full tafseer →(33) تو کیا پھر بھی اللہ تعالیٰ جو کہ ہر ایک نفس کی نگرانی اور حفاظت کرتا ہے اور ہر ایک کی نیکی بدی روزی اور تنگی تمام امور سے واقف ہے اور ان لوگوں کے معبود جن کی یہ اللہ کے علاوہ پوجا کرتے ہیں برابر ہوسکتے ہیں جو ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہیں، اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمائیے کہ اگر یہ شرکاء بالفرض اللہ کے ساتھ شریک ہیں تو ان کے نفع پہنچانے اور ان کی کارگزاریاں تو گناؤ، کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایسی بات کی خبر دیتے ہو کہ دنیا بھر میں اس کے وجود کی خبر اللہ تعالیٰ کو نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے سوا بھی کوئی ہے جو نفع ونقصان کا مالک ہے یا محض ظاہری باطل اور جھوٹی باتوں پر ان کی پوجا کرتے ہو،…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ : یہاں پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے ثبوت اور شرک کے رد کا بیان فرمایا ہے۔ ”قَاۗىِٕمٌ“ سے مراد یہاں نگران اور محافظ ہے۔ ”اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ“ مبتدا ہے، اس کی خبر محذوف ہے اور وہ ہے ”کَمَنْ لَیْسَ کَذٰلِکَ“ اور یہ حذف شدہ خبر کلام کے پہلے اور پچھلے حصے سے خود بخود سمجھ میں آرہی ہے۔ یعنی کیا وہ معبود برحق جو ہر جان کا ہر لمحہ اور ہر حالت کا نگران اور محافظ ہے اور اس کے ہر عمل سے، نیک ہو یا بد، پوری طرح واقف ہے، وہ تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو سرے سے اس وصف سے محروم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
آیت نمبر 32 تا 34
قولہ تعالیٰ : ولقد استھزی برسل من قبلک فاملیت للذین کفروا ثم اخذتھم۔ الاستھزاء کا معنی سورة ” بقرہ “ میں اور الإملاء کا معنی ” آل عمران “ میں گزر چکا ہے، یعنی ان کا تمسخر اڑایا گیا اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، پس میں نے کافروں کو کچھ مدت مہلت دی تاکہ جو میرے علم میں تھے کہ ایمان لائیں گے وہ ایمان لے آئیں، جب قضاء پوری ہوئی تو میں نے عقوبت کے ذریعے انہیں پکڑ لیا۔ فکیف کان عقاب یعنی آپ نے کیسا دیکھا جو میں نے ان کے ساتھ کیا ؟ پس آپ کی قوم کے مشرکین کے ساتھ بھی میں اسی طرح کروں گا۔
قولہ تعالیٰ : افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت یہ قیام وہ نہیں جو قعود کی ضد ہوتا ہے بلکہ مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ضدی منعت کو ہدایت نہیں ملتی :
1:۔ الطبرنی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے نبی ﷺ سے کہا اگر تو ایسا ہی ہے جیسے تو کہتا ہے تو ہم کو دکھا دے ہمارے ان سرداروں کو جو مرچکے ہیں (تاکہ) ہم ان سے باتیں کریں اور ان پہاڑوں کو ہم سے دور کردیجئے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض اوکلم بہ الموتی “
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے محمد ﷺ سے کہا اگر ہمارے لئے نہ مکہ کے پہاڑ چلے جائیں یہاں تک کہ ( جگہ) کشادہ ہوجائے اور ہم اس میں کھیتی کریں یا ہمارے لئے زمین پھٹ…
Read the full tafseer →[اَفَمَنْ هُوَ : تو کیا وہ جو ] [ قَاۗىِٕمٌ: نگرانی کرنے والا ہے ] [عَلٰي كُلِ نَفْسٍۢ: ہر ایک جان کی ] [ بِمَا : اس کے ساتھ جو ] [ كَسَبَتْ : اس نے کمایا (کسی کے مانند ہوسکتا ہے)] [ وَجَعَلُوْا : اور (پھر بھی) انھوں نے بنائے ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ] [شُرَكَاۗءَ : کچھ شریک ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہیے ] [سَمُّوْهُمْ : تم لوگ نام (یعنی صفات) بتائوان کی ] [اَمْ : یا ] [ تُنَبِــــــُٔـوْنَهٗ : تم لوگ خبر دیتے ہو اس کو ] [ بِمَا : اس کی جو ] [ لَا يَعْلَمُ : وہ نہیں جانتا (یعنی جس کا وجود نہیں ہے)] [فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ اَمْ : یا ] [ بِظَاهِرٍ : (فریفتہ ہو) ظاہری پر ] [مِّنَ الْقَوْلِ : بات سے…
Read the full tafseer →(اَمْ تُنَبِّءُوْنَہٗ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی الْاَرِْضِ ) (کیا تم اللہ کو وہ بات بتا رہے ہو جس کو وہ زمین میں نہیں جانتا) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ساری مخلوق کا علم ہے تم زمین میں ہو اور اللہ کو چھوڑ کر جن کی عبادت کرتے ہو وہ بھی زمین میں ہیں اللہ کے علم میں تو اس کا کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اب جب تم شرک کر رہے ہو اور غیر اللہ کو معبود بنا رہے ہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم اللہ تعالیٰ کو یہ بتا رہے ہو کہ آپ کے لیے شریک بھی ہیں ‘ آپ کو ان کا پتہ نہیں ہم آپ کو بتا رہے ہیں (العیاذ باللہ) اس میں مشرکین کی جہالت اور ضلالت کو واضح فرمایا ہے۔
(اَمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
تقبیح وتشنیع اہل باطل و سزائے معاندین وجزائے مطیعین
قال اللہ تعالیٰ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت .... الیٰ .... وعقبی الکفرین النار
(ربط) اوپر کی آیتوں میں توحید کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل شرک کی تقبیح وتشنیع اور اہل ایمان اور اہل کفر کی جزاء و سزا کا ذکر فرماتے ہیں۔
پس کیا وہ ذات جو ہر شخص کے سر پر قائم ہے اور اس کی قیوم ہے اور اس کے تمام اعمال پر مطلع ہے ان کے بتوں کی مثل ہوسکتی ہے ہرگز نہیں یعنی کیا وہ ذات پاک جو ہر ایک کی حافظ اور نگہبان ہے اور لوگوں کے نیک اور بدعمل سے باخبر ہے کیا وہ ان بتوں کے برابر ہوسکتی ہے جو محض عاجز اور بیخبر ہیں۔ ہرگز نہیں اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک…
Read the full tafseer →35:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلیہ ہے۔ یعنی آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) سے بھی استہزاء و تمسخر کیا گیا ہے میں اپنی حکمت بالغہ کے تحت کافروں کو مہلت دیتا ہوں اور پھر اچانک ان کو پکڑ لیتا ہوں، آپ بےفکر رہیں آپ کے دشمنوں کا انجام نہایت دردناک ہوگا۔
36:۔ یہ آٹھویں عقلی دلیل ہے جو دوسرے دعوے سے متعلق ہے۔ آخر میں کمن لیس کذلک خبر محذوف ہے اور استفہام انکار کیلئے ہے (مدارک) یعنی اللہ تعالیٰ جو ہر ایک کے تمام اعمال سے باخبر ہے اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے جیسا کہ فرمایا ” اَوَلَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اَنَّہٗ عَلیٰ کُلِّ شَیءٍ شَھِیْدٌ“ (حم سجد رکوع 6) وہ ان معبودان باطلہ کی مانند نہیں ہوسکتا جو نہ عالم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں مشرکین کی تردید کے متعلق دو باتیں بیان ہوچکی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ کفار ومشرکین اللہ کے نبی سے من مانی نشانیاں طلب کرتے تھے اور یہ مطالبہ کسی اشتباہ کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ضد اور عناد کی وجہ سے ہوتا تھا ، ان کا منصوبہ یہ ہوتا تھا کہ اپنی خواہش کی نشانیاں طلب کی جائیں اور جب آپ پیش نہ کرسکیں تو آپ کا تمسخر اڑایا جائے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹا کیا گیا اور آپ کے ساتھ یہ سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے ، اللہ نے فرمایا کہ میں نے ایسے لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی اور پھر بالآخر انہیں سخت عذاب میں مبتلا کیا ،…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ ۚ وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ ۭ قُلْ سَمُّوْهُمْ ۭ اَمْ تُنَبِّــــــُٔـوْنَهٗ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي الْاَرْضِ اَمْ بِظَاهِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ۭ بَلْ زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا مَكْرُهُمْ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِيْلِ ۭوَمَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ هَادٍ 33
قائِمٌ
وفي قوله : أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] . وبناء قَيُّومٍ :
( ق و م ) قيام
أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] تو کیا جو خدا ہر نفس کے اعمال کا نگہبان ہے ۔ یہاں بھی قائم بمعنی حافظ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ترکیب : من موصولہ ہو قائم علی کل نفس صلہ اے قادر علی کل نفس و عالم بجمیع احوالہا من خیر و شر و مستعد لان یجازی کل نفس بما فعلت من خیر و شر (وھو اللہ) یہ سب مبتداء اور خبر محذوف کمن لیس بھذہ الصفۃ وھی الاصنام جس پر وجعلوا الخ جملہ دال ہے اور ممکن ہے کہ ایسی خبر محذوف مانی جاوے کہ جس پر جعلوا کا عطف درست ہو سکے ای لم یوحدوہ ولم یمجدوہ وجعلوالہ شرکاء (کشاف) یہ جملہ استفہامیہ ہوگا انکار کے طور پر۔
تفسیر : یہ بھی پہلے جواب کا تتمہ ہے وہ جو آپ سے معجزات طلب کرتے ہیں طالب حق نہیں بلکہ محض تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں۔ پھر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے بھی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ان کی امتوں کے لوگ…
Read the full tafseer →اَفَمَنْ ھُوَ قَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ ج وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شرُکَآئَ ط قُلْ سَمُّوْھُمْ ط اَمْ تُنَبِّـُٔوْنَہٗ بِمَا لاَیَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاہِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ ط بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مَکْرُھُمْ وَصُدُّوْا عَنِ السَّبِیْلِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَالَہٗ مِنْ ھَادٍ ۔ (سورۃ الرعد : 33)
(کیا وہ ذات جو ہر متنفس سے اس کے عمل پر محاسبہ کرنے والی ہے (اور وہ جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے یکساں ہیں) اور ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا رکھے ہیں، اے نبی ان سے کہہ دیجیے کہ ذرا ان کے نام تو بتائو، یا تم خدا کو ایسی چیزوں کی خبر دے رہے ہو جن کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القرآن
ربط کلام : اے رسول ! کیا آپ کو مذاق کرنے والے بھول گئے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ ان پر نگران نہیں ہے ؟
اے رسول ! انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق کرنے والے مجرموں کو اس ذات حق نے پکڑا جوہر نفس پر نگران اور اسے پکڑنے پر پوری طرح قادر ہے۔ وہ ہر نفس کے کردار اور افکار پر نگران ہے۔ رقیب کے معنی نگران کے ہیں۔ اس کے لفظی معنی کھڑے ہونے کے بھی ہیں جو ہر زبان میں محاورہ ہے کہ فلاں شخص فلاں کے سر پر کھڑا ہے۔ پہلے لوگوں کے گناہوں کا بنیادی سبب شرک تھا اور ان لوگوں نے بھی اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم حاجت روا سمجھے ہو یہ تو محض تمہارے رکھے ہوئے نام ہیں۔ ان کے پیچھے نہ…
Read the full tafseer →اللہ کی مثال کوئی نہیں :
33: اَفَمَنْ ھُوَ قَآپمٌ (کیا پس وہ ذات جو ہر شخص کے تمام اعمال کا نگران ہے) انکے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے کے خلاف حجت پیش کی گئی ہے۔ کیا پس وہ اللہ تعالیٰ کی ذات جو نگران ہے عَلٰی کُلِّ نَفْسٍ 0 (ہر ہر نفس پر) خواہ وہ صالح ہو یا بدکار بِمَا کَسَبَتْ (جو کچھ کہ وہ کررہا ہے) وہ اسکے شر اور خیر کو جانتا ہے اور ہر ایک کا بدلہ دیتا ہے کیا وہ اسکی طرح ہوسکتا ہے جو اس طرح کا نہ ہو۔ پھر جملہ مستانفہ لائے اور فرمایا۔ وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآ ئَ (اور بنا رکھے ہیں انہوں نے اللہ تعالیٰ کے شریک) یعنی اصنام قُلْ سَمُّوْ ھُمْ (آپ ان سے کہیں انکے اوصاف تو بتلائو) تم اسکے سامنے…
Read the full tafseer →33۔” افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت “ اس کا محافظ اس کا رزاق اور ان سب کا جاننے والا ہے اور ان کے اعمال کا بدلہ بھی دینے والا ہے ۔ اس کا جواب محذوف ہے تقدیر ی عبارت اس طرح ہوگی ” کن لیس بقائم بل عاجز عن نفسہ “ ۔۔۔۔۔ ” وجعلوا اللہ شرکاء قل سموھم “ یعنی ان کے نام آپ بیان کریں ۔ بعض نے کہا کہ آپ ان کو صفوں میں کھڑا کردیں ، پھر ان کی طرف غور و فکر سے نظر دوڑائیں کہ وہ اس کے اہل ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے۔ ” ام تنبؤ نہ “ کیا وہ تمہیں اللہ کے بارے میں خبر دیں گے۔” بما لا یعلم فی الارض “ اس لیے ان کو یہ بات معلوم نہیں کہ زمین میں ان کا کوئی شریک ہے اور نہ زمین میں ان کے علاوہ کوئی اور معبود ہے ؟”…
Read the full tafseer →33۔ اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکوں کو جتلایا کہ اللہ پاک ہر شخص اور ہر چیز کا نگہبان اور مالک ہے اور ہر شخص کے کام کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے اور مشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اس صفت کے نہیں اس لئے فرمایا کہ انہوں نے جو خدا کے سوا اوروں کی عبادت اختیار کی ہے اور ان کو اپنا شفیع سمجھ رکھا ہے تو ان کے نام بتلائیں کہ وہ کون ہیں اور کیا صفت رکھتے ہیں پتھر ہیں مٹی ہیں آخر کیا ہیں کیوں کہ یہ سب چیزیں اور کل مخلوق خدا کے قبضے میں ہیں اور اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اور اگر فی الحقیقت ان کے معبود کوئی شئی نہیں ہیں فقط ان کے خیال ہی خیال ہیں تو یہ ایسی بات ہے کہ جس چیز کا زمین و آسمان میں کہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
33-34:
(آیت) ” تو کیا جو ہر متنفس کے اعمال کا نگران ہے۔ “ یعنی کیا وہ ہستی جو دنیاوی اور اخروی جزا اور عدل و انصاف کے ساتھ ہر متنفس کے عمل کو دیکھ رہی ہے۔۔۔ اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ ۔۔۔ اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو اس جیسی نہیں ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے “ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ یکتا اور بےنیاز ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ ہمسر اور نطیر (قل) اگر وہ سچے ہیں تو ان سے کہہ دیجئے (سموھم) ” ان کے نام لو “ تاکہ ہمیں ان کا حال معلوم ہو (آیت) ” یا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں “ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ غائب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
78۔ پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان اور منکرین کے لئے تہدید ووعید :
سو اس آیت کریمہ میں ایک طرف تو پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا بیان ہے کہ آج جو منکرین و مکذبین کی طرف سے آپ کا انکار کیا اور مذاق اڑایا جارہا ہے تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، بلکہ آپ سے پہلے آنے والے رسولوں کو بھی اسی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا مزاق اڑایا گیا، سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا مایقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک یعنی آپ کو بھی وہی کچھ کہا جارہا ہے جو کہ آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا، مطلب یہ ہے کے اس سے پہلے کہ انبیاء ورسل سے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے، پس آپ بھی اسی طرح صبر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
شرک کرنے والوں کا انجام
تشریح : قرآن پاک میں بار بار مشرکین اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کفر اور معصیت کا اثر دل کو ویران کردیتا ہے اور انسان نبی اور رسول کی عظمت کو پانے سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ انبیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے جو اس کے فہم سے بالاتر ہوتی ہیں کہ اس نے کفر پر ضد اور اصرار کرکے اپنی فراست تباہ کرلی ہوتی ہے اور یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل سے بھی ہوتا رہا ۔ اللہ جل جلالہ نے ان کفار کو بھی مہلت دی فورا گرفت نہ فرمائی ، انہوں نے دعوت حق کو سنا مگر مذاق ہی اڑاتے رہے حتی کہ اپنے انجام کو پہنچے مہلت ختم ہوگئی اور اللہ جل جلالہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے اور ایسے آئے کہ پھر ان کی سزا مثال بن گئی ، اگرچہ تعلیمات رسالت کا مذاق اڑانا بہت…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ کیا وہ تمہارے جھوٹے معبودوں کی طرح ہے جو کسی کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ؟ اتنی عبارت محذوف ہے۔
2 ۔ حالانکہ سے زمین کے چپے چپے کی خبریہ۔ تو اگر ان شرکاء کا کہیں وجود ہوتا تو وہ انہیں ضرورجانتا۔ اس تفسیر کی رو سے یعلم میں ھو کی ضمیر اللہ تعالیٰ کے لئے ہوگی۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” لایعلم “ میں ضمیر ” ما “ کے لئے ہو اور مطلب یہ ہو کہ کیا اللہ تعالیٰ کو ان بےجان بتوں کے معبود ہونے کی خبر دیتے ہو جن کو ذرہ بھر بھی علم نہیں ہے۔ صاحب روح للمعانی لکھتے ہیں ” اس سے مقصود تو زمین و آسمان میں اللہ کے سوا دوسرے معبودوں کی نفی کرنا ہے لہٰذا ” فی الارض “ کی قید محض اس لئے لگائی ہے کہ کفار اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(13:32) استھزیٔ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ استھزاء (استفعال) مصدر۔
املیت۔ ماضی واحد متکلم ۔ میں نے ڈھیل دی۔ املاء (افعال) الاملاء کے معنی ڈھیل دینے کے ہیں۔ اسی سے ملاوۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن پاک میں ہے واھجرنی ملیا (49:46) اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا۔
عقاب۔ ای عقابی ۔ میری سزا۔ میرا سزا دینا۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34
استھزئی مذاق اڑایا گیا رسل (رسول) بھیجے ہوئے۔ پیغمبر املیت میں نے ڈھیل دی۔ موقع دیا اخذت میں نے پکڑ لیا۔ گرفت میں لے لیا عقاب بدلہ۔ انجام قائم قائم رہنے والا کل نفس ہر شخص۔ ہر جان کسبت کمایا جعلوا انہوں نے بنایا سموا نام بتاؤ۔ نام لو تنبؤن تم خبر دیتے ہو زین خوبصورت۔ بنا دیا گیا مکر فریب۔ دھوکہ صدوا روک دیئے گئے اشق زیادہ سخت
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34
نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ان آیات میں پہلے تو کفار مکہ کے کفر و شرک کا رد فرمایا گیا۔ پھر ان کافروں کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ گزشتہ آیات میں یہ بتایا گیا تھا کہ کفار مکہ نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے کے لئے ہر روز…
Read the full tafseer →مشرکین کا ذکر
اس آیت میں اللہ پاک نے مشرکوں کو جتلایا کہ اللہ پاک ہر شخص اور ہر چیز کا نگہبان اور مالک ہے اور ہر شخص کے کام کو دیکھتا اور جانتا ہے، اور مشرکین جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں وہ اس صفت کے نہیں۔ اس لیے فرمایا کہ انہوں نے وج اللہ کے سوا اوروں کی عبادت اختیار کی ہے اور ان کو اپنا شفیع سمجھ رکھا ہے تو ان کے نام بتلائیں کہ وہ کون ہیں اور کیا صفت رکھتے ہیں، پتھر ہیں مٹی ہیں آخر کیا ہیں، کیونکہ یہ سب چیزیں اور کل مخلوق خدا کے قبضہ میں ہیں اور اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اگر فی الحقیقت ان کے معبود کوئی شیئے نہیں ہ ہیں، فقط ان کے خیال ہی خیال ہیں تو یہ ایسی بات ہے کہ جس چیز کا زمین و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
[24] اس شرک کو مکر اس لئے کہا گیا کہ کچھ چالاک لوگوں نے عوام کی کمائیوں میں حصہ بٹانے کے لئے کچھ معبود گھڑ لئے، لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو ان کا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا الو سیدھا کرنا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(ف 1) یعنی چونکہ برائیوں سے انہیں نفرت نہیں بلکہ طبیعت کا میلان معصیت کی جانب زیادہ ہے ، اس لئے گمراہ ہیں اور ناقابل ہدایت جب کوئی شخص معصیت کے اس مقام پر پہنچ جائے ، جہاں احساس زیاں اٹھ جائے ، اس وقت ہدایت کا حصول ناممکن ہوجاتا ہے اس آیت میں قرآن حکیم نے اپنے مخصوص انداز میں یہی حقیقت بیان کی ہے ۔
Read the full tafseer →33 ۔ بھلا وہ جو ہر متنفس کی کمائی اور اس کے کئے پر نگراں اور با خبر ہے اور ہر شخص کے سر پر کھڑا ہے وہ ان شرکاء کے برابر ہوسکتا ہے جن کو اپنی بھی خبر نہیں اور ان دین حق کے منکروں نے اللہ تعالیٰ کے لئے شرکاء تجویز کر رکھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے شریک مقرر کر رکھے ہیں آپ ان سے فرمایئے تم ان شرکاء کے نام تولو اور ان کے اوصاف تو بیان کرو کیا تم اللہ تعالیٰ کو وہ بات بتانی چاہتے ہو اور ان چیزوں کی خبر دینا چاہتے ہو جن کو وہ نہیں جانتا اور کہیں روئے زمین پر ان کو نہیں پاتا اور ان کے وجود کی خبر نہیں رکھتا یا محض ظاہری لفظ کے اعتبار سے ان کو شریک کہتے ہو اور یہ باتیں اوپر ہی اوپر کہتے ہو، بلکہ حقیقت…
Read the full tafseer →ف 1۔ البتہ وہ اسی کو گمراہ رکھتا ہے جو باوجود وضوح حق کے عناد کرتا رہے۔
Read the full tafseer →جس ہستی کے علم کا یہ حال ہو کہ وہ ہر آن سارے عملوں سے واقفہو اس کا کوئی ہمسر کیسے ؟
54 ؎ پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے یعنی جو ایک شخص کے حال سے فرداً فرداً واقف ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی نیک آدمی کی نیکی چھپی ہے اور نہ کسی بد آدمی کی بدی اس کے مقابلہ میں یہ جسارتیں کی جا رہی ہیں یعنی یہ کہ اس کے ہمسر اور مدمقابل تجویز کئے جا رہے ہیں اس کی ذات اور صفات اور حقوق میں اس کی مخلوق کو شریک کیا جا رہا ہے اور اس کی خدائی میں رہ کر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو کچھ چاہیں کریں ہم سے کوئی بازپرس کرنے والا نہیں۔ لوگوں نے اس کے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں ؟ اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
In the verse: أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ (Is then He, who is watchful over everyone ... 33), the ignorance and irrationality of the disbelievers has been exposed by saying that these people are certainly short on sense when they equate inert idols with His pure Being, a Being that watches everyone and is the ultimate reckoner of everyone's deeds. Then, it was said that the real reason behind their unreasonable attitude is that shaitan has made their very ignorance look good in their sight and, therefore, this they take to be 'achievement' and 'success.'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
50. That is, they are so audacious that they set up partners with Allah Whose knowledge is All-Comprehensive and Who is aware of even the minutest details of the good and bad actions of each individual.
51. These are the audacious things they do. They ascribe partners and equals to Him. They believe that some of His creatures are a part and parcel of His Being, and have attributes and rights like Him. They presume that they shall not be called to account for whatever they do, even though they live in His kingdom.
52. That is, you give empty names to the partners you ascribe to Him for you…
Read the full tafseer →