سچائی کا مذاق اڑانا آج بھی جاری ہے
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ آپ اپنی قوم کے غلظ رویہ سے رنج وفکر نہ کریں آپ سے پہلے کے پیغمبروں کا بھی یونہی مذاق اڑایا گیا تھا میں نے ان کافروں کو بھی کچھ دیر تو ڈھیل دی تھی آخرش بری طرح پکڑ لیا تھا اور نام ونشان تک مٹا دیا تھا۔ تجھے معلوم ہے کہ کس کیفیت سے میرے عذاب ان پر آئے ؟ اور ان کا انجام کیسا کچھ ہوا ؟ جیسے فرمان ہے بہت سی بستیاں ہیں جو ظلم کے باوجود ایک عرصہ سے دنیا میں مہلت لئے رہیں لیکن آخرش اپنی بداعمالیوں کی پاداش میں عذابوں کا شکار ہوئیں۔ بخاری ومسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا ہے پھر جب پکڑتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سورة الرَّعْد 47
اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی ضروری ہے کہ اس میں خطاب کفار سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے ہے۔ مسلمان جب کفار کی طرف سے بار بار نشانی کا مطالبہ سنتے تھے تو ان کے دلوں میں بےچینی پیدا ہوتی تھی کہ کاش ان لوگوں کو کوئی نشانی دکھا دی جاتی جس سے یہ لوگ قائل ہوجاتے۔ پھر جب وہ محسوس کرتے تھے کہ اس طرح کی کسی نشانی کے نہ آنے کی وجہ سے کفار کو نبی ﷺ کی رسالت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پھیلانے کا موقع مل رہا ہے تو ان کی یہ بےچینی اور بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی۔ اس پر مسلمانوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر قرآن کی کسی سورة کے ساتھ ایسی اور ایسی نشانیاں یکایک دکھا دی جاتیں تو کیا…
Read the full tafseer →(آیت) وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ۔ یہ حالات جو آپ کو درپیش ہیں کچھ آپ ہی کو پیش نہیں آئے آپ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی اسی طرح کے حالات سے سابقہ پڑتا رہا ہے کہ مجرموں اور منکروں کو ان کے جرم پر فورا نہیں پکڑا گیا اور وہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے جب وہ انتہا کو پہنچ گئے تو پھر ان کو عذاب الہی نے پکڑ لیا اور کیسا پکڑا کہ کسی کو مقابلہ کی تاب نہ رہی۔
Read the full tafseer →وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ۔
تاخیر عذاب کی حکمت : اب یہ اس بات کی حکمت واضح فرما دی کہ ان کی ضد اور ان کے مطالبۂ عذاب کے باوجود ان پر جو عذاب نہیں آرہا ہے تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اللہ ان کو اتنی مہلت دے رہا ہے کہ ان پر اس کی حجت پوری ہوجائے۔ فرمایا کہ تم سے پہلے بھی رسولوں کا ان کی قوموں کی طرف سے مذاق ارایا گیا لیکن ہم نے اس کے باوجود ان کو مہلت دی، پھر پکڑا تو دیکھو کیسا پکڑا اور ہامرا عذاب کیسا درد انگیز ہوا۔ یہی معاملہ ان کے ساتھ بھی ہوگا۔ " عقاب " اصل میں عقابی ہے۔ قافیہ کی رعایت سے " ی "…
Read the full tafseer →32۔ 1 حدیث میں آتا ہے ' (ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ) اللہ ظالم کو مہلت دیئے جاتا ہے حتٰی کہ جب اسے پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں ' اس کے بعد نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَكَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَآ اَخَذَ الْقُرٰي وَهِىَ ظَالِمَةٌ ۭ اِنَّ اَخْذَهٗٓ اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ) (11۔ ہود :12) اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے۔ یقینا اس کی پکڑ بہت ہی الم ناک اور سخت ہے۔ (صحیح بخاری)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
27: اس آیت میں ان معجزات کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کی فرمائش مکہ مکرمہ کے کافر لوگ کیا کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ مکہ مکرمہ کے ارد گرد جو پہاڑ ہیں ان کو یہاں سے ہٹادو، اور یہاں کی زمین کو شق کرکے یہاں سے دریا نکال دو ، اور ہمارے باپ داداؤں کو زندہ کرکے ان سے ہماری بات کروادو، اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر بالفرض یہ بےہودہ مطالبات پورے کر بھی دئے جاتے، تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے، کیونکہ یہ فرمائشیں حق طلبی کے جذبے سے نہیں، صرف ضد کی وجہ سے کی جارہی ہیں، سورة بنی اسرائیل (15۔ 90 تا 93) میں اسی قسم کی کچھ اور فرمائشیں بھی مذکور ہیں جو کفار کیا کرتے تھے اور اسی سورت کی آیت نمبر : 59…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت نمبر 27 تا 32
ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔
قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔
لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ…
Read the full tafseer →1 یعنی سزا ملنے میں دیر ہو تو مت سمجھو کہ چھوٹ گئے، گزشتہ مجرموں کو بھی پہلے ڈھیل دی گئی، پھر جب پکڑا تو دیکھ لو کیا حشر ہوا۔ آج تک ان کی تباہی کی داستانیں زبانوں پر ہیں۔
Read the full tafseer →فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ
ذرا تصور کریں قوم نوح ‘ قوم ہود ، قوم صالح ‘ قوم لوط ‘ قوم شعیب اور آل فرعون کے انجام کا اور پھر سوچیں کہ ان نافرمان قوموں کی جب گرفت ہوئی تو وہ کس قدر عبرتناک تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
41 حسی معجرات دکھلانے بےسود ہیں :۔ لفظ قُطّعت آیا ہے اور قطع ارض کے معنی فاصلہ طے کرنا اور قَطّع بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کردینا اور بمعنی پھاڑ دینا یا شق کردینا ہے اور یہ سب معنی یہاں مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی فاصلے فوراً طے کرا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی یا شق ہوجاتی اور اس آیت میں قریش کے ان حسی معجزات کے مطالبوں کا ذکر ہے جو وہ گاہے گاہے کرتے رہتے تھے مثلاً ایک یہ کہ یہ جو مکہ کے ارد گرد پہاڑ ہیں۔ یہ یہاں سے ہٹا دیئے جائیں تاکہ ہمارے لیے زمین کشادہ ہوجائے، دوسرا یہ کہ یہ زمین پھٹ جائے اور اس سے چشمے جاری ہوں تاکہ ہمارے لئے پانی کی قلت دور ہوجائے۔ تیسرے یہ کہ ہمارے مرے ہوئے آباؤ اجداد میں…
Read the full tafseer →62۔ اور سرکش اور نافرمان قوموں کی عبرتناک تباہی وہلاکت کی داستان تاریخ کے صفحات، اثری کتبات اور عمارتوں کے کھنڈروں پر یکساں ثبت ہے۔ (آیت) ” فاملیت للذین کفروا “۔ یعنی ان تمسخر کرنے والوں پر بھی گرفت معا نہیں ہوگئی انہیں ایک مدت تک برابر مہلت ملتی رہی، جس سے ان کا تمردوعصیان اور بڑھتا ہی گیا، تاآنکہ کوئی گنجائش ہی عذر وترحم کی نہ رہ گئی، (آیت) ” ثم اخذتھم “۔ سو ان مثالوں سے چاہیے تھا کہ موجودہ کفار ومعاندین بھی اپنے انجام سے غافل نہ ہوں، ایک زمانہ آئے گا جب مہلتیں ختم ہوں گی اور سزا اپنے وقت موعود پر مل کررہے گی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
آیت نمبر 32 تا 37
ترجمہ : یقیناً آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کا مذاق اڑایا گیا جیسا کہ آپ کا مذاق اڑایا گیا، اور یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے، تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے ان کو سزا میں پکڑ لیا پس میرا عذاب کیسا رہا یعنی وہ اپنے محل میں واقع ہوا، تو میں ہر اس شخص کے ساتھ ایسا ہی کروں گا جو آپ کا مذاق اڑائیگا، کیا وہ ذات جو ہر متنفس کے اچھے برے عمل کی نگراں ہے اور وہ اللہ ہے، اس کے مانند ہوگا کہ جو ایسا نہیں ہے کہ وہ بت ہیں نہیں، اس (حذف جواب) پر وَجَعَلُوا للہ الخ دلالت کر رہا ہے، آپ ان سے کہئے کہ ان کے نام تو بتاؤ وہ کون ہیں ؟ بلکہ تم اللہ کو اس کے شریک کی خبر دے رہے رہو جس کو وہ زمین میں نہیں…
Read the full tafseer →ولقد استھزئ برسل من قبلک (یعنی جس طرح یہ کافر آپ سے استہزاء کرتے ہیں ‘ اسی طرح) آپ سے پہلے پیغمبروں سے (کافروں کی طرف سے) استہزاء کیا جا چکا ہے۔
فاملیت للذین کفروا پھر میں نے کافروں کو ڈھیل دی۔
الملوۃ کا معنی ہے : لمبی مدت ‘ طویل زمانہ۔ مَلَوان رات دن کو امتداد کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ حقیقت میں رات دن مَلَوان نہیں ہیں ‘ ملوۃ کا حقیقی معنی تو مدت ہے۔ ایک شاعر کا قول ہے :
نہار ولیل دائم ملو ھما
علٰی کل حال المرء یختلفان
رات اور دن کی مدت بہرحال آتی جاتی ہے۔ آدمی کا کوئی حال ہو ‘ اچھا یا برا۔ ملو کی ھما کی طرف اضافت بتارہی ہے کہ ملوٌ (بمعنی مدت ہے) بعینہٖ رات دن اس کا معنی نہیں ہے۔ اس تنقیح کی…
Read the full tafseer →(32) اور جیسا کہ آپ کی قوم قریش آپ کے ساتھ مذاق کرتی ہے، اسی طرح بہت سے رسولوں کے ساتھ ان کی قوم نے مذاق کیا تو پھر اس مذاق کے بعد میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا، پھر میں نے ان پر عذاب نازل کیا تو سمجھنے کی بات ہے کہ کیسا سخت میں نے ان پر عذاب نازل کیا۔
Read the full tafseer →وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ۔۔ :”عِقَابِ“ اصل میں ”عِقَابِیْ“ تھا۔ آیات کی موافقت کے لیے یاء حذف کر کے کسرہ رہنے دیا گیا۔ ”أَمْلَیْتُ“ باب افعال (ناقص واوی) بمعنی مہلت دینا، اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ان کافروں کے ٹھٹھا مذاق کرنے اور ناجائز اور ناممکن مطالبات کرنے سے بددل نہ ہوں، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔ نوح ؑ کشتی بنا رہے تھے تو ہر گزرنے والا ان سے ٹھٹھا کرتا۔ [ ہود : 38 ] شعیب ؑ سے ان کی قوم نے کہا : ”ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دو۔“ [ الشعراء : 187 ] ہود ؑ کی قوم نے کہا : ”ہم یقیناً تجھے بےوقوفی میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔“ [ الأعراف : 66 ] فرعون نے موسیٰ ؑ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
آیت نمبر 32 تا 34
قولہ تعالیٰ : ولقد استھزی برسل من قبلک فاملیت للذین کفروا ثم اخذتھم۔ الاستھزاء کا معنی سورة ” بقرہ “ میں اور الإملاء کا معنی ” آل عمران “ میں گزر چکا ہے، یعنی ان کا تمسخر اڑایا گیا اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، پس میں نے کافروں کو کچھ مدت مہلت دی تاکہ جو میرے علم میں تھے کہ ایمان لائیں گے وہ ایمان لے آئیں، جب قضاء پوری ہوئی تو میں نے عقوبت کے ذریعے انہیں پکڑ لیا۔ فکیف کان عقاب یعنی آپ نے کیسا دیکھا جو میں نے ان کے ساتھ کیا ؟ پس آپ کی قوم کے مشرکین کے ساتھ بھی میں اسی طرح کروں گا۔
قولہ تعالیٰ : افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت یہ قیام وہ نہیں جو قعود کی ضد ہوتا ہے بلکہ مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ضدی منعت کو ہدایت نہیں ملتی :
1:۔ الطبرنی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے نبی ﷺ سے کہا اگر تو ایسا ہی ہے جیسے تو کہتا ہے تو ہم کو دکھا دے ہمارے ان سرداروں کو جو مرچکے ہیں (تاکہ) ہم ان سے باتیں کریں اور ان پہاڑوں کو ہم سے دور کردیجئے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض اوکلم بہ الموتی “
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے محمد ﷺ سے کہا اگر ہمارے لئے نہ مکہ کے پہاڑ چلے جائیں یہاں تک کہ ( جگہ) کشادہ ہوجائے اور ہم اس میں کھیتی کریں یا ہمارے لئے زمین پھٹ…
Read the full tafseer →[وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ : اور بیشک مذاق اڑایا جا چکا ہے ] [ بِرُسُلٍ : رسولوں کا ] [ مِّنْ قَبْلِكَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ فَاَمْلَيْتُ : تو میں نے مہلت دی ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کو جنھوں نے ] [كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ ثُمَّ : پھر ] [اَخَذْتُهُمْ : میں نے پکڑا ان کو ] [ فَكَيْفَ : تو کیسا ] [ كَان : تھا ] [عِقَابِ : میرا پکڑنا ]
(آیت۔ 32) عِمَّابِ بھی دراصل عقابی ہے۔
Read the full tafseer →رسول اللہ ﷺ کو تسلی ‘ کافروں کی بد حالی ‘ متقیوں سے جنت کا وعدہ :
یہ متعدد آیات ہیں ‘ پہلی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ سے پہلے بھی رسول بھیجے گئے اور ان کا بھی مذاق بنایا گیا اس میں آپ کو تسلی دی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کچھ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے یہ نئی چیز نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول آئے ان کی امتوں نے ان کے ساتھ تکذیب ‘ استہزاء اور مذاق بنانے کا وہی طریقہ اختیار کیا جو یہ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں ‘ ان لوگوں نے جو تکذیب کی اور رسولوں کا مذاق بنایا تو میں نے عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کی بلکہ ان کو مہلت دی اس مہلت سے وہ اور زیادہ بغاوت پر اتر آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
رجوع بہ مبحت نبوت وبیان حال اہل سعادت و ایل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ویقول اللذین کفروا ولا انزل علیہ ایۃ .... الیٰ .... فکیف کان عقاب۔
(ربط) اوپر سلسلہ کلام اہل حق اور اہل باطل کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس سے قبل وان تعجب فعجب قولہم میں نبوت کے متعلق مضمون تھا اب پھر اسی مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کافروں کا وہی سابق قول کہ محمد ﷺ پر ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا پھر نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر بہت سی آیات ظاہرہ اور معجزات قاہرہ نازل کی ہیں لیکن ہدایت اور ضلال سب اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ…
Read the full tafseer →34: یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا “ سے کفار مکہ مراد ہیں۔ ” بِمَا صَنَعُوْا “ کفر وعناد اور انکار و طغیان کی وجہ سے ” قَارِعَۃٌ“ دل ہلا دینے والی مصیبت ” الذین کفروا من اھل مکۃ علی ما روی عن مقاتل تصیبھم بما صنعوا بسبب ما صنعوا من الکفر والتمادی فیہ قارعۃ الرزیۃ التی تقرع قلب صاحبھا “ (روح ج 13 ص 158) مشرکین مکہ پر موت سے پہلے ان کے ضد وعناد کی وجہ سے کوئی نہ کوئی مصیبت آتی رہے گی یا ان کے سروں پر منڈلاتی رہے گی جس سے وہ ہر وقت خوف زدہ اور ہراساں رہیں گے۔ مثلاً مسلمانوں کے خوف سے یا کسی دوسرے دشمن کے ڈر سے مرعوب رہیں گے۔ او تحل القارعۃ قریبًا منھم فیفزعون و یتطایر علیھم ررھا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں مشرکین کی تردید کے متعلق دو باتیں بیان ہوچکی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ کفار ومشرکین اللہ کے نبی سے من مانی نشانیاں طلب کرتے تھے اور یہ مطالبہ کسی اشتباہ کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ضد اور عناد کی وجہ سے ہوتا تھا ، ان کا منصوبہ یہ ہوتا تھا کہ اپنی خواہش کی نشانیاں طلب کی جائیں اور جب آپ پیش نہ کرسکیں تو آپ کا تمسخر اڑایا جائے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹا کیا گیا اور آپ کے ساتھ یہ سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے ، اللہ نے فرمایا کہ میں نے ایسے لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی اور پھر بالآخر انہیں سخت عذاب میں مبتلا کیا ،…
Read the full tafseer →وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَمْلَيْتُ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ ۣ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ 32
هزؤ
والاسْتِهْزَاءُ :
ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65]
( ھ ز ء )
الا ستھزاء
اصل میں طلب ھزو کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل معی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
؎ لم یایئس قال الکعبی الم یعلم وبہ قال السلف من الصحابہ والتابعین۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَقَدِاسْتُھْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَمْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ وقف فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 32)
(اور تحقیق مذاق اڑایا گیا ہے رسولوں کا آپ سے پہلے بھی، تو میں نے کفر کرنے والوں کو ڈھیل دی، اور آخرکار ان کو پکڑ لیا تو دیکھو کیسا ہوا میرا عذاب)
تاخیر عذاب کی حکمت
سابقہ آیات کریمہ میں مشرکینِ مکہ کی یہ روش بیان کی گئی ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے اثرات کو روکنے کے لیے کبھی تو مختلف قسم کے اعتراضات کا سہارا لیتے ہیں اور کبھی اس بات کا مذاق اڑانے لگتے ہیں کہ تم ہمارے کفر اور ہمارے رویئے سے تنگ آکر ہمیشہ ہمیں عذاب کی دھمکی دیتے ہو اور اس دھمکی کو ایک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کی عجب حالت تھی۔ ان کے مطالبہ پر معجزہ ظاہر ہوتا تو نبی معظم ﷺ کو جادوگرقرار دیتے۔ اگر معجزہ دکھانے کی بجائے دلائل سے سمجھایا جاتا تو مذاق اڑاتے کہ کیسا رسول ہے کہ ہم نے فلاں معجزہ کا مطالبہ کیا تھا لیکن یہ اس کو پورا نہیں کرسکا۔ کیا ہم ایسے رسول پر ایمان لائیں کفار کے مذاق کرنے پر آپ ﷺ کو تسلی دینے کے ساتھ صورت حال سے آگہی بخشی جارہی ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اطمینان خاطر رکھیں۔ یہ تو ہم کفار کی آزمائش کرتے ہیں کہ کبھی ان کا مطالبہ مان کر معجزہ دکھا دیتے ہیں اور کبھی ان کے مطالبہ کو مسترد کردیتے ہیں۔ پھر انکار اور آپ کا استہزا کرنے پر مہلت دیتے ہیں۔
اسی طرح ہم نے ان…
Read the full tafseer →تسلی رسول ﷺ :
32: وَلَقَدِ اسْتُہْزِیَٔ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَ مْلَیْتُ لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (تحقیق آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ استہزاء کیا گیا پھر میں نے کافروں کو ڈھیل دی) الاملاء۔ مہلت دینا ایک مدت کیلئے امن وامان میں چھوڑ دینا۔ ثُمَّ اَخَذْ تُھُمْ فَکَیْفَ کَانَ عِقَابِ (پھر میں نے انکو پکڑا پس میری سزا کیسی رہی) یہ کفار مکہ کو وعید ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے بطور استہزاء آئے روز جو نشانات مانگتے تھے اسکا جواب اور آپ ﷺ کو تسلی دی۔
Read the full tafseer →تفسیر 32۔” ولقد استھزی برسل من قبلک “ جیسے کہ آپ کی استہزاء کرتے ہیں ۔ ” فاملیت للذین کفروا “ یعنی ان کو مہلت دی اور مدت لمبی ہوگئی ، اس سے ملو ان ہے یعنی دن و رات ۔ ” ثم اخذتھم “ دنیا میں ان کو قتل کی سزا دیں گے اور آخرت میں آگ کی ” فکیف کان عقاب “ میری سزا ان کے لیے کیسی ہوگی ۔
Read the full tafseer →32۔ اوپر کی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ مشرکین مکہ نے حضرت سے کہا تھا کہ یہاں کے پہاڑ اکھڑ کر علیحدہ ہوجائیں اور یہاں ایک باغ دلکشا بن جائے اور آپ ہمارے کسی مردے کو جلا دیں تاکہ ہم اس سے پوچھیں کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ سچ ہے یا جھوٹ ہے اور ہوا کو ہمارے قبضے میں کردیں جس طرح سلیمان (علیہ السلام) کے قبضے میں تھی ہم جہاں چاہیں گے چلے جایا کریں گے تو اس وقت اس سے اوپر کی آیت اتری تھی اور اصل میں یہ سوال ان کا دل لگی کے طور پر تھا جس سے حضرت ﷺ کو ایک قسم کا ملال ہوا تھا اس لئے اللہ جل شانہ نے آپ کی تسلی کے لئے یہ آیت اتاری کہ تم سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان سے بھی پہلے لوگوں نے مسخرا پن کیا تھا…
Read the full tafseer →ہیں جس کی تکذیب کی گئی اور جسے ایذا پہنچائی گئی ہو، (آیت) ” پس میں نے کافروں کو ڈھیل دی “ یعنی جنہوں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا، میں نے ایک مدت تک ان کو مہلت دی حتیٰ کہ وہ اس گمان باطل میں مبتلا ہوگئے کہ ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا (آیت) ” پھر میں نے انکو (مختلف قسم کے عذاب کے ذریعے سے) پکڑلیا “ (آیت) ” پس کیسا تھا میرا عقاب ؟ “ اللہ تعالیٰ کی سزا بڑی سخت اور اس کا عذاب بڑا دردناک ہے۔ وہ لوگ جو آپ کو جھٹلاتے ہیں اور آپ کا تمسخر اڑاتے ہیں، ہماری دی ہوئی مہلت سے دھوکے میں مبتلا نہ ہوں، ان کے سامنے ان سے پہلے گزری ہوئی قوموں کا نمونہ موجود ہے، لہٰذا انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ان کے ساتھ بھی وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
78۔ پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا سامان اور منکرین کے لئے تہدید ووعید :
سو اس آیت کریمہ میں ایک طرف تو پیغمبر کے لئے تسکین وتسلیہ کا بیان ہے کہ آج جو منکرین و مکذبین کی طرف سے آپ کا انکار کیا اور مذاق اڑایا جارہا ہے تو یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں، بلکہ آپ سے پہلے آنے والے رسولوں کو بھی اسی طرح جھٹلایا گیا اور ان کا مزاق اڑایا گیا، سو یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا مایقال لک الا ماقد قیل للرسل من قبلک یعنی آپ کو بھی وہی کچھ کہا جارہا ہے جو کہ آپ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا، مطلب یہ ہے کے اس سے پہلے کہ انبیاء ورسل سے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے، پس آپ بھی اسی طرح صبر و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
معجزات اور انبیاء کا مذاق اڑانے والوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان کفار کا جواب دیا گیا ہے جنہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر محمد ﷺ معجزانہ طریقے سے پہاڑ کو جگہ سے ہلا دیں، یا زمین کو پھاڑ کر چشمے بہا دیں، مردوں کو زندہ کردیں کہ وہ بولنے لگیں تو پھر ہم ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو صرف ان کی حجت بازی ہے یہ لوگ معجزات دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں۔ کیونکہ جو لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں پر غوروفکر کر کے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو بھلا معجزات سے وہ ایمان کہاں لائیں گے۔ یہ سب کام جن کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اللہ کے لیے ہرگز کوئی مشکل نہیں۔ اس کے لیے تو یہ بھی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کفر اور معصیت کا اثر دل کو ویران کردیتا ہے اور انسان نبی اور رسول کی عظمت کو پانے سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ انبیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے جو اس کے فہم سے بالاتر ہوتی ہیں کہ اس نے کفر پر ضد اور اصرار کرکے اپنی فراست تباہ کرلی ہوتی ہے اور یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل سے بھی ہوتا رہا ۔ اللہ جل جلالہ نے ان کفار کو بھی مہلت دی فورا گرفت نہ فرمائی ، انہوں نے دعوت حق کو سنا مگر مذاق ہی اڑاتے رہے حتی کہ اپنے انجام کو پہنچے مہلت ختم ہوگئی اور اللہ جل جلالہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے اور ایسے آئے کہ پھر ان کی سزا مثال بن گئی ، اگرچہ تعلیمات رسالت کا مذاق اڑانا بہت…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ ﷺ ان کافروں کو بولیوں ٹھٹھوں سے بددل نہ ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(13:32) استھزیٔ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ استھزاء (استفعال) مصدر۔
املیت۔ ماضی واحد متکلم ۔ میں نے ڈھیل دی۔ املاء (افعال) الاملاء کے معنی ڈھیل دینے کے ہیں۔ اسی سے ملاوۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن پاک میں ہے واھجرنی ملیا (49:46) اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا۔
عقاب۔ ای عقابی ۔ میری سزا۔ میرا سزا دینا۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34
استھزئی مذاق اڑایا گیا رسل (رسول) بھیجے ہوئے۔ پیغمبر املیت میں نے ڈھیل دی۔ موقع دیا اخذت میں نے پکڑ لیا۔ گرفت میں لے لیا عقاب بدلہ۔ انجام قائم قائم رہنے والا کل نفس ہر شخص۔ ہر جان کسبت کمایا جعلوا انہوں نے بنایا سموا نام بتاؤ۔ نام لو تنبؤن تم خبر دیتے ہو زین خوبصورت۔ بنا دیا گیا مکر فریب۔ دھوکہ صدوا روک دیئے گئے اشق زیادہ سخت
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34
نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ان آیات میں پہلے تو کفار مکہ کے کفر و شرک کا رد فرمایا گیا۔ پھر ان کافروں کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ گزشتہ آیات میں یہ بتایا گیا تھا کہ کفار مکہ نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے کے لئے ہر روز…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ کی تسلی
اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسلی کے واسطے ارشاد ہوتا ہے کہ کچھ آپ ہی کے ساتھ گستاخی اور بےادبی نہیں ہوئی بلکہ آپ سے پہلے جو رسول گزرے ہیں ان کی بات بھی لوگ اسی طرح ٹھٹھوں میں اڑاتے تھے۔ حقیقت میں یہ جہالت بری بلا ہے۔ نہ خدا کی وقعت نہ رسول کی نہ علماء کی نصیب ہوتی ہے۔ پھر ہم نے کافروں کو ایک مدت تک مہلت دی اور ان کو راحت اور تن پرور میں چھوڑا پھر ہم نے ان کو پکڑا، پھر کیسا عذاب ان کو دیا جو سب کو معلوم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–33
[24] اس شرک کو مکر اس لئے کہا گیا کہ کچھ چالاک لوگوں نے عوام کی کمائیوں میں حصہ بٹانے کے لئے کچھ معبود گھڑ لئے، لوگوں کو ان کا معتقد بنایا اور اپنے آپ کو ان کا نمائندہ ٹھہرا کر اپنا الو سیدھا کرنا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ولو ان قرانا :
(ف 1) مکہ والوں کی انتہاء بدبختی یہ ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کو آخر وقت تک نہ پہچانا ، قرآن گو سراپا روشنی ہے اور نور ہے ، ہدایت نامہ ہے اور پیغام ہے ، اس میں دلوں کو بدل دینے کی صلاحیت اور سعادت انسانی کے مخفی خزائن ہیں نیز انقلاب آفرین گونج ہے ، ہنگامہ خیز آواز ہے مردوں کو جلانے والا سحر ہے ، پہاڑوں کو کاٹ کا رکھ دینے والا جادو ہے ، مگر پھر بھی مکہ والوں کی چشم بصیرت بند ہے ، وہ ظاہری اور مادی کرشمہ سازیوں کے منتظر ہیں ، نہایت متعصب دشمنان اسلام کو اسلام قبول کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، مگر پھر بھی یہ چاہتے ہیں کہ مکہ کے پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں ، کیا دلوں کی تبدیلی پہاڑوں…
Read the full tafseer →32 ۔ اور کفارکا یہ طریقہ آپ سے استہزا کرتے اور مذاق اڑاتے ہیں تو یہ بھی کوئی نیا طریقہ نہیں ہے کیونکہ بلاش بہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے اور ان سے استہزاء کیا گیا ہے پھر میں ان کافروں کو مہلت دیتا رہا آخرت کار میں نے ان کو پکڑ لیا سو دیکھو میرا بدلہ اور میری سزا کیسی تھی ۔ یعنی جیسی سخت سزا ان کو دی گئی ایسی ہی سزا کے یہ مستحق ہیں۔
Read the full tafseer →ف 6۔ یعنی نہایت سخت تھی۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ سے پہلے بھی پیغمبروں کی ہنسی اڑائی گئی اور دیکھو کہ ان کا انجام کیا ہوا ؟
53 ؎ زیر نظر آیت میں گزشتہ آیت کے مضمون کی مزید تشریح فرما دی اور فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ حالات جو آپ کو درپیش ہیں کچھ آپ ہی کو پیش نہیں آئے ‘ آپ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام (علیہ السلام) کو بھی اس طرح کے حالات سے سابقہ پڑتا رہا کہ مجرموں اور منکروں کو ان کے جرم پر فوراً نہیں پکڑا گیا اور وہ انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتے رہے۔ جب وہ انتہا کو پہنچ گئے تو پھر ان کو عذاب الٰہی نے پکر لیا اور ایسا پکڑا کہ کسی کو مقابلہ کی تاب نہ رہی۔ ان علاقوں کی تاریخ اٹھا کر دیکھو جن علاقوں میں…
Read the full tafseer →it was said to comfort him: وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ أَخَذْتُهُمْ ۖ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ (And Messengers have been mocked at before you, so I let the disbelievers go on for a while. Then I seized them. So, how was My punishment?) In other words, it means that conditions faced by the Holy Prophet were not faced by him alone. There were prophets before him who had been facing similar conditions when their deniers were not seized immediately upon the commitment of their crime and they continued to make fun of the prophets. When they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
47. This verse has been addressed to the believers who were feeling uneasy that no such sign was being sent as was demanded by the disbelievers. They thought that such a sign would convince the disbelievers and they would accept Islam. Therefore when no such sign was sent, they became all the more uneasy for the lack of the fulfillment of the demand that gave rise to doubts about the Prophethood of the Messenger (peace be upon him). The question posed in this verse is meant to remove that uneasiness of the Muslims. It is like this: Do you think that they would have embraced Islam if such and…
Read the full tafseer →