قرآن حکیم کی صفات جلیلہ
اللہ تعالیٰ اس پاک کتاب قرآن کریم کی تعریفیں بیان فرما رہا ہے اگر سابقہ کتابوں میں کسی کتاب کے ساتھ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جانے والے اور زمین پھٹ جانے والی اور مردے جی اٹھنے والے ہوتے تو یہ قرآن جو تمام سابقہ کتابوں سے بڑھ چڑھ کر ہے ان سب سے زیادہ اس بات کا اہل تھا اس میں تو وہ معجز بیانی ہے کہ سارے جنات وانسان مل کر بھی اس جیسی ایک سورت نہ بنا کر لاسکے۔ یہ مشرکین اس کے بھی منکر ہیں تو معاملہ سپرد رب کرو۔ وہ مالک کل کہ، تمام کاموں کا مرجع وہی ہے، وہ جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے، جو نہیں چاہتا ہرگز نہیں ہوتا۔ اس کے بھٹکائے ہوئے کی رہبری اور اس کے راہ دکھائے ہوئے کی گمراہی کسی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
سورة الرَّعْد 47
اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی ضروری ہے کہ اس میں خطاب کفار سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے ہے۔ مسلمان جب کفار کی طرف سے بار بار نشانی کا مطالبہ سنتے تھے تو ان کے دلوں میں بےچینی پیدا ہوتی تھی کہ کاش ان لوگوں کو کوئی نشانی دکھا دی جاتی جس سے یہ لوگ قائل ہوجاتے۔ پھر جب وہ محسوس کرتے تھے کہ اس طرح کی کسی نشانی کے نہ آنے کی وجہ سے کفار کو نبی ﷺ کی رسالت کے متعلق لوگوں کے دلوں میں شبہات پھیلانے کا موقع مل رہا ہے تو ان کی یہ بےچینی اور بھی زیادہ بڑھ جاتی تھی۔ اس پر مسلمانوں سے فرمایا جا رہا ہے کہ اگر قرآن کی کسی سورة کے ساتھ ایسی اور ایسی نشانیاں یکایک دکھا دی جاتیں تو کیا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اے پیغمبر اور مسلمانو ! ان کافروں کی عناد کی یہ کیفیت ہے کہ قرآن کی جو موجودہ حالت ہے کہ اس کا معجزہ ہونا غور وفکر پر موقوف ہے بجائے اس کے) اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹا دیئے جاتے یا اس کے ذریعے سے زمین جلدی جلدی طے ہوجاتی یا اس کے ذریعہ سے مردوں کے ساتھ کسی کو باتیں کرا دی جائیں (یعنی مردہ زندہ ہوجاتا اور کوئی اس سے باتیں کرلیتا اور یہ وہ معجزے ہیں جن کی فرمائش اکثر کفار کیا کرتے تھے بعضے مطلقا بعضے اس طرح سے کہ قرآن کو بحالت موجودہ تو ہم معجزہ مانتے نہیں البتہ اگر قرآن سے ان خوارق کا ظہور ہو تو ہم اس کو معجزہ مان لیں مطلب یہ کہ قرآن سے ایسے…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ۭ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا ۭاَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۔
وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا۔۔۔ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى۔ میں جواب شرط محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ معجزے کا مطالبہ کرتے تو ہیں اور اس سے ایک نیک نیت آدمی کو یہ گمان…
Read the full tafseer →31۔ 1 امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ہر آسمانی کتاب کو قرآن کہا جاتا ہے، جس طرح ایک حدیث میں آتا ہے کہ حضرت داؤد ؑ ، جانور کو تیار کرنے کا حکم دیتے اور اتنی دیر میں ایک مرتبہ قرآن کا ورد کرلیتے ' (صحیح بخاری) یہاں ظاہر بات ہے قرآن سے مراد زبور ہے۔ مطلب آیت کا یہ ہے کہ اگر پہلے کوئی آسمانی کتاب ایسی نازل ہوئی ہوتی کہ جسے سن کر پہاڑ رواں دواں ہوجاتے یا زمین کی مسافت طے ہوجاتی یا مردے بول اٹھتے تو قرآن کریم کے اندر یہ خصوصیت بدرجہ اولیٰ موجود ہوتی، کیونکہ یہ اعجاز و بلاغت میں پچھلی کتابوں سے فائق ہے۔ اور بعض نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ اگر اس قرآن کے ذریعے سے معجزات ظاہر ہوتے، تب بھی کفار ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
27: اس آیت میں ان معجزات کا ذکر فرمایا گیا ہے جن کی فرمائش مکہ مکرمہ کے کافر لوگ کیا کرتے تھے، وہ کہتے تھے کہ مکہ مکرمہ کے ارد گرد جو پہاڑ ہیں ان کو یہاں سے ہٹادو، اور یہاں کی زمین کو شق کرکے یہاں سے دریا نکال دو ، اور ہمارے باپ داداؤں کو زندہ کرکے ان سے ہماری بات کروادو، اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ اگر بالفرض یہ بےہودہ مطالبات پورے کر بھی دئے جاتے، تب بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں تھے، کیونکہ یہ فرمائشیں حق طلبی کے جذبے سے نہیں، صرف ضد کی وجہ سے کی جارہی ہیں، سورة بنی اسرائیل (15۔ 90 تا 93) میں اسی قسم کی کچھ اور فرمائشیں بھی مذکور ہیں جو کفار کیا کرتے تھے اور اسی سورت کی آیت نمبر : 59…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت نمبر 27 تا 32
ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔
قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔
لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ…
Read the full tafseer →7 یہاں قرآن سے مراد عام کتاب ہے جیسا کہ ایک حدیث صحیح میں " زبور " پر لفظ قرآن کا اطلاق ہوا ہے یعنی اگر کوئی کتاب ایسی اتاری جاتی جس سے تمہارے یہ فرمائشی نشان پورے ہوجاتے تو وہ بجز اس قرآن کے اور کون سی ہوسکتی تھی۔ یہ ہی قرآن ہے جس نے روحانی طور پر پہاڑوں کی طرح جمے ہوئے لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دیا۔ قلوب بنی آدم کی زمینوں کو پھاڑ کر معرفت الٰہی کے چشمے جاری کردیے۔ وصول الی اللہ کے راستے برسوں کی جگہ منٹوں میں طے کرائے۔ مردہ قوموں اور دلوں میں ابدی زندگی کی روح پھونک دی۔ جب ایسے قرآن سے تم کو شفا و ہدایت نصیب نہ ہوئی تو فرض کرو تمہاری طلب کے موافق اگر یہ قرآن مادی اور حسی طور پر بھی وہ سب…
Read the full tafseer →آیت 31 وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى
یہاں پھر حسی معجزوں کے بارے میں مشرکین کے مطالبے کا جواب دیا جا رہا ہے۔ سورة الانعام میں یہ مضمون تفصیل سے گزر چکا ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ہم نے کوئی ایسا قرآن اتارا ہوتا جس کی تاثیر سے طرح طرح کے حسی معجزات کا ظہور ہوتا تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ یہ قرآن ہر اس شخص کے لیے سراپا معجزہ ہے جو واقعی ہدایت کا خواہش مند ہے۔ یہ طالبانِ حق کے دلوں کو گداز کرتا ہے ان کی روح کو تازگی بخشتا ہے ان کے لاشعور کے اندر خوابیدہ ایمانی حقائق کو جگاتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی ہدایت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
41 حسی معجرات دکھلانے بےسود ہیں :۔ لفظ قُطّعت آیا ہے اور قطع ارض کے معنی فاصلہ طے کرنا اور قَطّع بمعنی ٹکڑے ٹکڑے کردینا اور بمعنی پھاڑ دینا یا شق کردینا ہے اور یہ سب معنی یہاں مراد لیے جاسکتے ہیں۔ یعنی فاصلے فوراً طے کرا دیئے جاتے یا زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی یا شق ہوجاتی اور اس آیت میں قریش کے ان حسی معجزات کے مطالبوں کا ذکر ہے جو وہ گاہے گاہے کرتے رہتے تھے مثلاً ایک یہ کہ یہ جو مکہ کے ارد گرد پہاڑ ہیں۔ یہ یہاں سے ہٹا دیئے جائیں تاکہ ہمارے لیے زمین کشادہ ہوجائے، دوسرا یہ کہ یہ زمین پھٹ جائے اور اس سے چشمے جاری ہوں تاکہ ہمارے لئے پانی کی قلت دور ہوجائے۔ تیسرے یہ کہ ہمارے مرے ہوئے آباؤ اجداد میں…
Read the full tafseer →58۔ (آیت) ” لو، کلمہ شرط ہے اس کی جزاء محذوف ہے جو متن ترجمہ میں قوسین میں ظاہر کردی گئی اور اسلوب بلاغت خصوصا قرآن مجید میں اس قسم کے محذوفات عام ہیں، حرف بل خود اس طرف اشارہ کررہا ہے کہ فقرۂ ماقبل میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں وہ موثر حقیقی نہیں، منکروں نے یہود کی تعلیم وترغیب سے فرمائشیں اس قسم کی کی تھیں کہ پیغمبر کا دعوی ہے تو داؤد پیغمبر (علیہ السلام) کی طرح پہاڑوں کی تسخیر کا تماشا کیوں نہیں دکھا دیتے یا سلیمان (علیہ السلام) رسول کی طرح سفر کیوں نہیں طے کرا دیتے، یاعیسی نبی (علیہ السلام) کی طرح مردے کیوں نہیں جلا دکھاتے، آیت انہی بیہودہ فرمایشوں کے جواب میں ہے۔
59۔ یعنی بالفرض اس قرآن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
ترجمہ : اور اہل مکہ میں سے کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) عصا اور ید بیضاء اور ناقۂ صالح جیسی کیوں نہیں اتاری ہوگئی ؟ ان سے کہہ دو کہ اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کو بےراہ کردیتے ہیں نشانیاں (معجزات) اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے، اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مَنْ سے اَلَّذِیْن آمنوا، بدل ہے، جو لوگ ایمان لائے ان کے قلوب اللہ کے ذکر یعنی اس کے وعدہ سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی مومنوں کے دلوں کو تسلی ہوتی ہے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان کیلئے خوشحالی ہے اور…
Read the full tafseer →ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال اگر قرآن کے ذریعہ سے پہاڑوں کو چلا دیا جائے (جگہ سے ہٹا کر پھیلا دیا جائے)
ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عطیہ عوفی کا بیان نقل کیا ہے کہ قریش نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اگر مکہ کے پہاڑوں کو یہاں سے چلا دیں کہ میدان نکل آئے اور ہم اس میں کھیتی کریں یا جس طرح ہوا کے ذریعہ سے حضرت سلیمان قطع مسافت کرتے تھے اور قوم کو ہوا کے دوش پر قطع مسافت کراتے تھے ‘ آپ بھی ہمارے لئے ایسا ہی کردیتے یا جس طرح حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کردیتے تھے ‘ آپ بھی ہمارے مردوں کو زندہ کردیتے (تو ہم ایمان لے آتے) اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ بغوی نے تفصیل کے ساتھ (یہ بھی لکھا ہے کہ آیت مذکورہ…
Read the full tafseer →(31) اگلی آیت عبداللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ ان لوگوں نے اپنے باہم مشورہ سے رسول اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ مکہ مکرمہ کے پہاڑ اپنے قرآن کی طاقت سے دور کردو اور اس مقام پر پانی کے چشمے پیدا کردو جیسا کہ تم کہتے ہو کہ داؤد ؑ کے لیے تانبے کا چشمہ نرم کردیا گیا تھا اور جیسا کہ بقول آپ کے حضرت سلیمان ؑ کے لیے ہوا مسخر تھی، اسی طریقہ سے ہمارے لیے بھی ہوا کو مسخر کردو کہ ہم اس پر سوار ہو کر ملک شام چلے جایا کریں اور پھر آجایا کریں اور جیسا کہ آپ کے حضرت عیسیٰ ؑ مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے، آپ بھی ہمارے مردوں کو زندہ کر دو ، سو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتا…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ : ”قُرْاٰنًا“ نکرہ ہے، کوئی قرآن، یعنی پڑھی جانے والی کوئی کتاب۔ ”لو“ شرطیہ ہے، اس کا جواب محذوف ہے، جو آیت کے سیاق وسباق سے خود بخود معلوم ہو رہا ہے اور قرآن مجید کے دوسرے مقامات پر موجود بھی ہے۔ تفاسیر میں دو جواب مذکور ہیں اور دونوں درست ہیں، ایک تو یہ کہ اگر واقعی کوئی ایسا قرآن ہوتا جس کے ذریعے سے پہاڑ چلائے جاتے، یا اس کے ذریعے سے زمین قطع کی جاتی، یا اس کے ذریعے سے مردوں سے کلام کیا جاتا تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، کیونکہ یہ ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کر رہے ہیں۔ ان تین چیزوں کا خصوصاً ذکر اس لیے کیا کہ قرآن مجید کے معجزے کے بعد،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 31
قولہ تعالیٰ : ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ کے ساتھ متصل ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ مشرکین مکہ کا ایک گروہ جس میں ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ مخزومی بھی تھے کعبہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، پھر انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی طرف پیغام بھیجا آپ ان کے پاس آئے تو عبد اللہ نھے آپ کو کہا : اگر آپ کو یہ بات خوش کرتی ہے کہ ہم آپ کی اتباع کریں تو قران کے ذریعے ہمارے پہاڑ کو چلا، اس کو ہم سے دور لے جا یہاں تک یہ پھٹ جائے، یہ تنگ زمین ہے اور اس میں ہمارے لیے چشمے اور نہریں بنا دے تاکہ ہم اس میں درخت لگائیں اور فصلیں کاشت کیرں، آپ کے خیال کے مطابق آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ضدی منعت کو ہدایت نہیں ملتی :
1:۔ الطبرنی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے نبی ﷺ سے کہا اگر تو ایسا ہی ہے جیسے تو کہتا ہے تو ہم کو دکھا دے ہمارے ان سرداروں کو جو مرچکے ہیں (تاکہ) ہم ان سے باتیں کریں اور ان پہاڑوں کو ہم سے دور کردیجئے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض اوکلم بہ الموتی “
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے محمد ﷺ سے کہا اگر ہمارے لئے نہ مکہ کے پہاڑ چلے جائیں یہاں تک کہ ( جگہ) کشادہ ہوجائے اور ہم اس میں کھیتی کریں یا ہمارے لئے زمین پھٹ…
Read the full tafseer →[وَلَوْ : اور اگر ] [ ان : یہ کہ ] [ قُرْاٰنًا : کوئی ایسا قرآن (ہوتا)] [سُيِّرَتْ : چلائے جاتے ] [بِهِ : جس سے ] [ الْجبالُ : پہاڑ ] [ اَوْ : یا ] [ قُطِّعَتْ : ٹکڑے ٹکڑے کی جاتی ] [ بِهِ : جس سے ] [الْاَرْضُ : زمین ] [ اَوْ : یا ] [كُلِمَ : بلوائے جاتے ] [ بِهِ : جس سے ] [ الْمَوْتٰى: مردے ] [بَلْ : بلکہ ] [للّٰهِ : اللہ کے لئے ہی ہیں ] [الْاَمْرُ : تمام معاملات [ جَمِيْعًا : سب کے سب ] [اَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ : تو کیا جانتا ہی نہیں ] [الَّذِينَ : ان لوگوں نے جو ] [ اٰمَنُوْٓا : ایمان لائے ] [ ان : کہ ] [ لَوْ : اگر ] [ يَشَاۗءُ : چاہتا ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [لَهَدَى: تو ضرور ہدایت دیتا ]…
Read the full tafseer →معاندین فرمائشی معجزات ظاہر ہونے پر بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں :
صاحب معالم التنزیل (ص 19 ج 2) لکھتے ہیں کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے ایک سوال پر نازل ہوئی ‘ عبد اللہ بن ابی امیہ اور ابوجہل ایک دن رسول اللہ ﷺ سے کہنے لگے کہ اگر آپ کی خوشی اس میں ہے کہ ہم آپ کا اتباع کرلیں تو اس قرآن کے ذریعہ مکہ کے پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر اور کہیں بھجوا دیں تاکہ مکہ کی سر زمین کشادہ ہوجائے اور مکہ کی سر زمین پھٹ جائے اور اس میں نہریں اور چشمے جاری ہوجائیں تاکہ ہم اس میں درخت لگائیں اور کھیتیاں بوئیں اور ہم باغات مل جائیں ‘ آپ کا کہنا ہے کہ داود ( علیہ السلام) کے لیے پہاڑ مسخر کر دئیے گئے تھے اور سلیمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
رجوع بہ مبحت نبوت وبیان حال اہل سعادت و ایل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ویقول اللذین کفروا ولا انزل علیہ ایۃ .... الیٰ .... فکیف کان عقاب۔
(ربط) اوپر سلسلہ کلام اہل حق اور اہل باطل کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس سے قبل وان تعجب فعجب قولہم میں نبوت کے متعلق مضمون تھا اب پھر اسی مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کافروں کا وہی سابق قول کہ محمد ﷺ پر ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا پھر نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر بہت سی آیات ظاہرہ اور معجزات قاہرہ نازل کی ہیں لیکن ہدایت اور ضلال سب اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ…
Read the full tafseer →31:۔ یہ پہلی دلیل دی ہے اور کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی یہ ہمارا کمال ہے کہ ہم نے آپ کو ایسے لوگوں میں مبعوث فرمایا ہے جن سے پہلے کئی امتیں گذر چکی ہیں تاکہ آپ ان کو ہمارا وہ پیغام سنا دیں جو ہم نے بذریعہ وحی آپ پر نازل کیا ہے اور وہ پیغام یہ ہے ” لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ “ اللہ کے سوا کوئی عبادت اور پکار کے لائق نہیں ” وَ ھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ “ کفر سے کفران نعمت مراد ہے یعنی خدائے رحمان نے ان کے پاس پیغمبر بھیجا اور اس پر قرآن نازل کیا جس میں ان کی دنیوی اور دینی سعادت تھی مگر انہوں نے اس نعمت عظمیٰ کا شکر ادا کیا اور نہیں نہ مانا (روح) یا کفر سے انکار مراد ہے یعنیوہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →(ربط آیات)
یہ آیت بھی گزشتہ آیات کے ساتھ ہی مربوط ہے ، کافر اور مشرک لوگ من مانی نشانیاں طلب کرتے تھے ، اللہ نے فرمایا کہ یہ ضدی اور عنادی لوگ ہیں ، انہیں حقیقت کی طلب نہیں ہے ، اس لیے انہیں راہ راست نصیب نہیں ہو سکتا ، صراط مستقیم کے حقدار وہ لوگ ہوتے ہیں جو اللہ کی طرف رجوع رکھتے ہیں اور ہدایت کے طالب ہوتے ہیں ، گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اطمینان قلب کا نسخہ بھی بتلا دیا کہ یہ ذکر الہی ہی ہے جو دلوں کے سکون کا باعث بن سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے انجام کا ذکر بھی فرمایا ، حضور ﷺ کے لیے تسلی کا مضمون بھی نازل فرمایا کہ کفار ومشرکین کی طرف سے مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہے جس طرح اللہ…
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُيِّرَتْ بِهِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِهِ الْاَرْضُ اَوْ كُلِّمَ بِهِ الْمَوْتٰى ۭ بَلْ لِّلّٰهِ الْاَمْرُ جَمِيْعًا ۭاَفَلَمْ يَايْــــــَٔـسِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ يَشَاۗءُ اللّٰهُ لَهَدَى النَّاسَ جَمِيْعًا ۭ وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا تُصِيْبُهُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَةٌ اَوْ تَحُلُّ قَرِيْبًا مِّنْ دَارِهِمْ حَتّٰى يَاْتِيَ وَعْدُ اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ 31 ۧ
قرآن
والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
؎ لم یایئس قال الکعبی الم یعلم وبہ قال السلف من الصحابہ والتابعین۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْقُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْکُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی ط بَلْ لِّلّٰہِ الْاَمْرُجَمِیْعًا ط اَفَلَمْ یَایْئَسِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ لَّوْ یَشَائُ اللّٰہُ لَھَدَی النَّاسَ جَمِعْیًا ط وَلاَ یَزَالُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا تُصِیْبُھُمْ بِمَا صَنَعُوْا قَارِعَۃٌ اَوْتَحُلُّ قَرِیْبًا مِّنْ دَارِھِمْ حَتّٰی یَاْتِیَ وَعْدُاللّٰہِ ط اِنَّ اللّٰہَ لاَیُخْلِفُ الْمِیْعَاد۔ (سورۃ الرعد : 31)
(اور اگر کوئی ایسا قرآن بھی اترتا جس کے ذریعہ سے پہاڑ چلنے لگتے یا اس کے اثر سے زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے اس کے ذریعہ بات کی جاسکتی، (یہ قدرت سے بعید نہ تھا)…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے انکار اور بار بار معجزہ طلب کرنے کا دوسرا جواب۔
کفار کو بنیادی طور پر نبی اکرم ﷺ کی بجائے قرآن مجید کے ساتھ اختلاف تھا کیونکہ نزول قرآن سے پہلے اہل مکہ رسول معظم ﷺ کو ” الامین “ اور ” الصادق “ کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔ مگر جب آپ پر قرآن مجیدنازل ہوا اور آپ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے اس کا ابلاغ شروع کیا تو کفار نے آپ کو کذاب کہنا شروع کیا۔ جس پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔ اے پیغمبر ! ہم جانتے ہیں کہ ان لوگوں کی ہرزہ سرائی آپ کو پریشان کرتی ہے۔ لیکن یقین جانیں کہ حقیقتاً یہ آپ کو جھوٹا نہیں سمجھتے بلکہ ظالم اللہ کی آیات کو جھٹلاتے اور ان کے…
Read the full tafseer →قرآن سے ناممکن کام کردیئے جائیں تب بھی نہ مانیں گے :
31: وَلَوْ اَنَّ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ (اگر قرآن کے ذریعہ سے پہاڑوں کو چلا دیا جائے) جگہ سے ہٹا کر پھیلا دیا جائے۔ اَوْقُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ (یا زمین بھی طے کی جاسکتی ہو) یہاں تک کہ زمین پھٹ جائے اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زائل ہوجائے۔ اَوْکُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی (یا اس سے مردوں سے بات کی جائے) وہ سنتے اور جواب دیتے تو یہ قرآن ہوتا کیونکہ یہ تذکیر میں انتہاء کو پہنچا ہوا ہے تخویف وانذار میں آخری درجہ کو پہنچا ہے۔ لَوْ ۔ؔ کا جواب محذوف ہے۔ یا نمبر 2۔ ولو ان قرآناً وقع بہ تسییر الجبال وتقطیع الارضو تکلیم الموتٰی و تنبیئھم لما اٰمنوا…
Read the full tafseer →ولو ان قرآن سیرت بالجبال کا شان نزول
31۔” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال “ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی جن میں ابو جہل بن ہشام ، عبد اللہ بن ابی امیہ یہ کعبہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آپ ﷺ کے پاس ایک شخص عبد اللہ بن ابی امیہ نے کہلا بھیجا کہ اگر آپ ہم کو اپنا پیروکار بنانا چاہتے ہیں تو قرآن کے ذریعے سے مکہ کے پہاڑوں کو یہاں سے ہٹا دیں تا کہ کشائش پیدا ہوجائے ، ہماری کھیتی کے لیے اس وقت زمین تنگ ہے اور یہاں سے چشمے اور نہریں بھی نکال دیجئے تا کہ ہم درخت لگائیں ، کھیتیاں بوئیں اور باغ تیار کریں ، آپ اپنے دعوے کے اعتبار سے اللہ کے نزدیک حضرت دائود (علیہ السلام) سے کم مرتبہ تو…
Read the full tafseer →31۔ تفسیر سفیان ثوری اور شعبی اور تفسیر ابن ابی حاتم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اور حضرت ابو سعید خدری ؓ سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ اور چند مشرکین قریش ایک روز حرم شریف میں بیٹھے تھے اتفاقاً آنحضرت ﷺ بھی وہاں تشریف لائے اور اپنے ان لوگوں کو اسلام لانے کی رغبت دلائی اس کے جواب میں ابن امیہ نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اگر آپ کو ہمارا اسلام منظور ہے تو ہم چند باتیں چاہتے ہیں ایک تو یہ کہ مکہ کے چاروں طرف پہاڑ جو گھرے ہوئے جس سے کھیتی کرنے کو بالکل زمین نہیں ہے اگر تم سچے نبی ہو تو جس طرح حضرت داؤد کے زبور پڑھنے سے پہاڑ چلنے لگتے تھے…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ تمام کتب منزلہ پر قرآن کریم کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا “ یعنی کب الہٰیہ میں سے کوئی قرآن ایسا ہوتا (آیت) ” کہ اس کے ذریعے سے پہاڑوں کو (اپنی جگہ سے) ہلا دیا جاتا “ (آیت) ” یا ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اس سے زمین “ اور اس کے ذریعے سے زمین پھٹ جاتی اور وہ باغات اور دریاؤں میں تبدیل ہوجاتی (آیت) ” اور اس کے ذریعے سے مردے بولنے لگتے “ تو وہ یہی قرآن ہوتا، (آیت) ” بلکہ سب کام تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ “ اس لئے اللہ تعالیٰ صرف وہی معجزے دکھاتا ہے جن کا تقاضا اس کی حکمت کرتی ہے۔ تب ان جھٹلانے ولاوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنی خواہش سے معجزات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →77۔ منکرین کی ہٹ دھرمی اور انکے حال ومآل کا ذکر وبیان :
یہاں پر ولوان قرآنا الخ سے جس شرط کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے اس کا جواب محذوف ہے اس جواب شرط کو بعض اہل علم نے لما امنوا جیسے کسی جملے کی صورت میں محذوف ومقدر مانا ہے، جیسا کہ ظاہر ومتبادر ہے اور ترجمہ کے اندر ہم نے اسی قوم و احتمال کو اختیار کیا ہے، اور دوسرا قول و احتمال اس میں یہ ہے کہ اس کو فکان ھذا القرآن کے جملے کی صورت میں مقدر مانا جائے، یعنی ایسا کوئی کلام ہوتا تو وہ یہی قرآن ہوتا کہ اس سے بہتر کلام ممکن و متصور ہی نہیں، علامہ زمحشری نے اسی کو اختیار کیا ہے، سو ایسا کوئی اثرونتیجہ اگر کسی کلام کے لئے ظاہر ہوتا تو وہ یہی کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
معجزات اور انبیاء کا مذاق اڑانے والوں کا انجام
تشریح : ان آیات میں ان کفار کا جواب دیا گیا ہے جنہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر محمد ﷺ معجزانہ طریقے سے پہاڑ کو جگہ سے ہلا دیں، یا زمین کو پھاڑ کر چشمے بہا دیں، مردوں کو زندہ کردیں کہ وہ بولنے لگیں تو پھر ہم ان پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تو صرف ان کی حجت بازی ہے یہ لوگ معجزات دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں۔ کیونکہ جو لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی چیزوں پر غوروفکر کر کے اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو بھلا معجزات سے وہ ایمان کہاں لائیں گے۔ یہ سب کام جن کا یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں اللہ کے لیے ہرگز کوئی مشکل نہیں۔ اس کے لیے تو یہ بھی کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
پ 13 ع 10 ” ویقول الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27 تا 31۔
کفار کا یہ کہنا کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں وہ ان سے کیوں صادر نہیں ہوتا اور ان کا پروردگار ایسی نشانی ان پر نازل کیوں نہیں فرماتا حالانکہ آپ کی پوری حیات مبارکہ بہت بڑا معجزہ ہے ، قرآن حکیم بہت بڑا معجزہ ہے اور اس کے علاوہ اس قدر معجزات کا ظہور ہوا کہ انسانی شمار سے باہر ہیں ، ان سب کو یہ کوئی اہمیت نہیں دے رہے تو جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اس کے پورا ہونے پر کب ایمان لائیں گے ، ان کا ایمان نہ لانا کسی معجزے کا محتاج نہیں بلکہ ان کے گناہوں کے سبب اللہ جل جلالہ نے ان پر ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہے اور ہمیشہ کی…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ اتنی عبارت مخدوف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ سے کہا اے محمد ﷺ اگر آپ ﷺ اپنے دعوائے نبوت میں سچے ہیں تو ہمارے اسلاف کو زندہ کرکے ہمارے سامنے لاکھڑا کریں تاکہ ہم ان سے بات چیت کریں اور مکہ کے ان پہاڑوں کو جنہوں نے ہمیں بھینچ رکھا ہے ذرا سرکادیں تاکہ جگہ کھل جائے۔ بعض مسلمانوں کے دلوں میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ ان کا مطالبہ پورا ہوجائے۔ شاید ایمان لے آئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اگر کسی قرآن سے یہ کام ہوئے ہوتے تو اس قرآن سے پہلے ہوجاتے۔ اس سے مقصد قرآن کی عظمت کو ظاہر کرنا ہے۔ (ابن کثیر۔ روح)
5 ۔ یعنی جن نشانیوں کا یہ لوگ مطالبہ کررہے…
Read the full tafseer →(13:31) سیرت۔ ماضی مجہول۔ واحد مؤنث وہ چلائی گئی۔ پہاڑوں کے لئے استعمال ہوا ہے یعنی وہ چلائے گئے۔ یا وہ چلائے جائیں۔
تسییر (تفعیل) مصدر۔ سیر سے بمعنی چلنا۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہوں سے ہلا دیئے جائیں۔
قطعت۔ ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ تقطیع (تفعیل) مصدر۔ وہ پھاڑ دی گئی یا وہ پھاڑدی جاتی۔ ٹکڑے ٹکڑے کردی جاتی۔ القطع۔ کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق اجسام وغیرہ سے ہو جیسے لا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف۔ (7:124) میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کٹوا دوں گا۔ یا اس کا تعلق بصیرت سے ہو۔ جیسے معنوی چیزیں۔ مثلاً وتقطعوا ارحامکم۔ (47:22) اور اپنے رشتوں کو توڑ…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 31
سیرت چلائے جائیں ۔ (چلائی گئی) الجبال (جبل) ۔ پہاڑ قطعت کاٹی گئی کلم (بات کی گئی۔ کلام کیا گیا) الموتی مردے لم یا یئس اطمینان نہیں ہوا لایزال ہمیشہ صنعوا انہوں نے بنایا۔ انہوں نے کیا قارعۃ سخت مصیبت
تشریح آیت نمبر 31
جیسا کہ گزشتہ آیتوں میں اس بات کو فرمایا گیا ہے کہ کفار مکہ نبی اکرم ﷺ پر ایمان لانے کی یہ شرط رکھتے تھے کہ اے نبی ﷺ جس طرح اور انبیاء کرام کو معجزات دیئے گئے ہیں آپ بھی کوئی معجزہ دکھائیے۔ ان کے اس سوال کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ اللہ کا دین پھیلاتے رہئیے اور ان لوگوں کی ان باتوں کی پرواہ نہ کیجیے کیونکہ اگر پہاڑ اپنی…
Read the full tafseer →آنحضرت ﷺ سے معجزہ طلب کرنے کا ذکر
شان نزول : قریش کی ایک جماعت نے کہا : اے محمد ﷺ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہارا اسلام لے آویں تو مکہ کے چاروں طرف کے پہاڑوں کو اکھاڑ ڈالو، تاکہ ہمارے لیے زمین کشادہ ہوجاوے اور زمین کو پھاڑ ڈالو تاکہ چشمے اور نہریں جاری ہوجاویں کہ ہم زراعت کریں اور قصی بن کلاب کو مع ہمارے باپوں کے زندہ کرو۔ اس وقت یہ آیت اتری اور فرمایا کہ اگر کوئی کتاب عالم میں ایسی ہوئی کہ اس کے پڑھنے کے وقت پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جاتے اور زمین چیر دی جاتی اور مردے بولنے لگتے تو قرآن ہی میں یہ صفت ہوتی۔ کیونکہ اس درجہ کا کمال کسی کتاب میں نہیں مگر ہر امر کا وقوع حاکم حکیم کی حکمت کے مقتضی پر موقوف…
Read the full tafseer →[23] بہت سے سادہ دل مسلمان یہ تمنا کئے ہوئے تھے کہ اگر کفار کی فرمائش پر معجزات کا ظہور ہوجاتا تو شاید وہ ایمان لے آتے۔ ان کے جواب میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ہر انسان کو اس کی طرف سے کسی طلب کے بغیر اور غیر شعوری طور پر ازخود ہدایت ہوجائے تو اس کے لئے معجزوں کی کیا حاجت تھی۔ یہ کام تو اس طرح بھی ہوسکتا تھا کہ اللہ سارے انسانوں کو مومن ہی پیدا کردیتا لیکن جب اللہ نے ہر انسان کے لئے طلب ہدایت لازمی رکھ دی ہے اور اس دنیا کو اس کے لئے دارالامتحان بنا رکھا ہے تو اب ان معاندین سے جن پر دین کی حقانیت روز روشن کی طرح واضح ہوچکی ایمان کی توقع ہی عبث ہے۔
[32] یعنی وعدہ قیامت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
ولو ان قرانا :
(ف 1) مکہ والوں کی انتہاء بدبختی یہ ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کو آخر وقت تک نہ پہچانا ، قرآن گو سراپا روشنی ہے اور نور ہے ، ہدایت نامہ ہے اور پیغام ہے ، اس میں دلوں کو بدل دینے کی صلاحیت اور سعادت انسانی کے مخفی خزائن ہیں نیز انقلاب آفرین گونج ہے ، ہنگامہ خیز آواز ہے مردوں کو جلانے والا سحر ہے ، پہاڑوں کو کاٹ کا رکھ دینے والا جادو ہے ، مگر پھر بھی مکہ والوں کی چشم بصیرت بند ہے ، وہ ظاہری اور مادی کرشمہ سازیوں کے منتظر ہیں ، نہایت متعصب دشمنان اسلام کو اسلام قبول کرتے ہوئے دیکھتے ہیں ، مگر پھر بھی یہ چاہتے ہیں کہ مکہ کے پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں ، کیا دلوں کی تبدیلی پہاڑوں…
Read the full tafseer →31 ۔ اور اگر کوئی قرآن کریم ایسا ہوتا کہ جس کے اثر سے پہاڑ چلا دیئے جاتے اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹا دیئے جاتے اس قرآن کریم کے اثر سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی یا اس کے اثر اور اس کی برکت سے مرنے والوں کے ساتھ کلام کیا جاسکتا تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے کیا اب بھی مسلمانوں کو اس بات پر دل جمعی اور اطمینان نہیں ہوا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کی رہنمائی فرماتا اور سب کو ہدایت کردیتا اور ان کفار مکہ کو ہمیشہ ان کی بد عنوانیوں اور ان کی بد کرداریوں کے باعث کوئی نہ کوئی سخت ترین مصیبت اور صدمہ پہنچتا ہی رہے گا یا ان کو نہ پہنچے گا…
Read the full tafseer →ف 5۔ پس عذاب کا وقوع ان پر یقینی ہے گوبعض اوقات توقف سے سہی۔
Read the full tafseer →قرآن کریم کا نزول ہدایت کیلئے ہے پہاڑ چلانے اور مردے زندہ کرنے کیلئے نہیں
50 ؎ قرآن کریم نے جن پرانی سے پرانی قومی بیماریوں کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک یہ بیماری بھی ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کوئی نبی بھیجا گیا تاکہ ان کو راہ ہدایت دکھائے تو انہوں نے اپنے وقت کے نبی و رسول سے ہمیشہ اوٹ پٹانگ سوال کئے جن سوالوں کا نبوت و رسالت سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہی صورت حال خود نبی اعظم و آخر ﷺ کو پیش آئی۔ آپ ﷺ نے رسالت کا دعویٰ کیا اور اپنے دعویٰ پر پے درپے اتنے دلائل پیش کئے کہ ان کو انکار کی کوئی گنجائش نہ رہی یسا کہ قبل ازیں ذکر کیا گیا کہ اپ ﷺ کا وجود مسعود اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والا کلام آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Commentary
Clear proofs of Islam being the true religion and the Holy Prophet ﷺ being the true prophet were there before the disbelievers of Makkah. They could see the signs from every department of his life, and from his many miracles, openly and comprehensively. The chief of the disbelievers, Abu Jahl had already declared that they stood in competition with the tribe of Banu Hashim. How could they ever accept their superiority in a matter so crucial - that the Messenger of Allah had to rise from among them? So, let them say what they have to say, and let them show whatever signs they must…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–32
47. This verse has been addressed to the believers who were feeling uneasy that no such sign was being sent as was demanded by the disbelievers. They thought that such a sign would convince the disbelievers and they would accept Islam. Therefore when no such sign was sent, they became all the more uneasy for the lack of the fulfillment of the demand that gave rise to doubts about the Prophethood of the Messenger (peace be upon him). The question posed in this verse is meant to remove that uneasiness of the Muslims. It is like this: Do you think that they would have embraced Islam if such and…
Read the full tafseer →