رسول اللہ ﷺ کی حوصلہ افزائی
ارشاد ہوتا ہے کہ جیسے اس امت کی طرف ہم نے تجھے بھیجا کہ تو انہیں کلام الہٰی پڑھ کر سنائے، اسی طرح تجھ سے پہلے اور رسولوں کو ان اگلی امتوں کی طرف بھیجا تھا انہوں نے بھی پیغام الہٰی اپنی اپنی امتوں کو پہنچایا مگر انہوں نے جھٹلایا اسی طرح تو بھی جھٹلایا گیا تو تجھے تنگ دل نہ ہونا چاہئے۔ ہاں ان جھٹلانے والوں کو ان کا انجام دیکھنا چاہئے جو ان سے پہلے تھے کہ عذاب الہٰی نے انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیا پس تیری تکذیب تو ان کی تکذیب سے بھی ہمارے نزدیک زیادہ ناپسند ہے۔ اب یہ دیکھ لیں کہ ان پر کیسے عذاب برستے ہیں ؟ یہی فرمان آیت (تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَآ اِلٰٓى اُمَمٍ مِّنْ…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 45
یعنی کسی ایسی نشانی کے بغیر جس کا یہ لوگ مطالبہ کرتے ہیں۔
سورة الرَّعْد 46
یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں، اس کی صفات اور اختیارات اور حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک بنا رہے ہیں، اور اس کی نعمتوں کے شکریے دوسروں کو ادا کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر (اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ۔
مطالبۂ معجزات کا جواب ایک اور پہلو سے : یہ بھی اسی مطالبہ معجزات کا جواب ہے جس کا ذکر آیت 27 میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ تم دنیا میں پہلے نبی ہو اور نہ یہ (اہل عرب) دنیا میں پہلی امت ہیں۔ تم سے پہلے نبی اور رسول بھی گزر چکے ہیں اور ان سے پہلے تو میں اور امتیں بھی گزر چکی ہیں۔ تمہارے لیے اپنے پیشرو نبیوں اور رسولوں کی زندگی میں اسوہ اور نمونہ ہے اور ان کے…
Read the full tafseer →30۔ 1 جس طرح ہم نے آپ کو تبلیغ رسالت کے لئے بھیجا ہے، اسی طرح آپ سے پہلی امتوں میں بھی رسول بھیجے تھے، ان کی بھی اسی طرح تکذیب کی گئی جس طرح آپ کی کی گئی اور جس طرح تکذیب کے نتیجے میں وہ قومیں عذاب الٰہی سے دو چار ہوئیں، انھیں بھی اس انجام سے بےفکر نہیں رہنا چاہیے۔
30۔ 2 مشرکین مکہ رحمٰن کے لفظ سے بڑا بدکتے تھے، صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی جب بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے الفاظ لکھے گئے تو انہوں نے کہا یہ رحمٰن رحیم کیا ہے ؟ ہم نہیں جانتے۔ (ابن کثیر)
30۔ 3 یعنی رحمٰن، میرا وہ رب ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
26:: آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات دئے گئے تھے، لیکن کفار مکہ اپنی طرف سے نت نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور جب ان کا کوئی مطالبہ پورا نہ ہوتا تو وہ یہ بات کہتے تھے جو اس آیت میں مذکور ہے اور پیچھے آیت نمبر : 7 میں بھی گزری ہے، اس کا جواب آگے آیت نمبر 31 میں آرہا ہے، یہاں اس کا جواب دینے کے بجائے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ مطالبات ان کی گمراہی کی دلیل ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے ہدایت مانگے، اور حق کی طلب رکھتا ہو، ایسا شخص ایمان لانے کے بعد اس کے حقوق ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں سکون حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت نمبر 27 تا 32
ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔
قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔
لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ…
Read the full tafseer →4 یعنی جس طرح ہم اپنی طرف رجوع ہونے والوں کو کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔ اسی طرح اس امت کی راہنمائی کے لیے ہم نے تجھے مبعوث کیا۔ تاکہ جو کتاب اپنی رحمت کاملہ سے تجھ پر اتاری ہے آپ ان کو پڑھ کر سنا دیں۔ آپ کا پیغمبر بنا کر بھیجا جانا کوئی انوکھی بات نہیں پہلی امتوں کی طرف بھی پیغمبر بھیجے جا چکے ہیں جو اس وقت تکذیب کرنے والوں کا حشر ہوا ان لوگوں کو بھی پیش نظر رہنا چاہیے۔
5 یعنی رحمان نے اپنی رحمت کاملہ سے قرآن اتارا " اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرآنَ " اور آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا۔ مگر انہوں نے سخت ناشکری اور کفران نعمت پر کمر باندھ لی۔ رحمان کا حق ماننے سے منکر ہوگئے بلکہ اس نام سے ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت 30 كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ
اگرچہ اللہ تعالیٰ کا نام ”الرحمن“ عرب میں پہلے سے متعارف تھا مگر مشرکین مکہ ”اللہ“ ہی کو جانتے اور مانتے تھے اس لیے وہ اس نام سے بدکتے تھے اور عجیب انداز میں پوچھتے تھے کہ یہ رحمن کون ہے ؟ الفرقان : 60
Read the full tafseer →39 رحمن سے کافروں کا چڑنا :۔ رحمن اللہ تعالیٰ کا دوسرے درجہ پر ذاتی نام ہے جیسے فرمایا ( قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا 110۔ ) 17 ۔ الإسراء :110) اسی لیے یہ لفظ بھی اللہ کی طرح کسی مخلوق کے لیے استعمال نہیں ہوتا قریش مکہ کو اس لفظ سے خاص چڑ تھی۔ جیسے یہود کو جبریل اور مکائیل فرشتوں سے چڑ تھی۔ چناچہ صلح حدیبیہ کے موقعہ پر جب آپ نے صلح نامہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو اس پر قریش کے نمائندہ سہیل بن عمرو نے یہ اعتراض کردیا…
Read the full tafseer →56۔ (اور ایسے رحمت والے آقا کے کلام پر ایمان لانے کے بجائے الٹے اس کی ناشکری اور ناقدری ہی کررہے ہیں) (آیت) ” کذلک “ یعنی جس طرح ہم اور امتوں میں رسول بھیج چکے ہیں، اے کما ارسلنا الانبیاء قبلک (کبیر عن ابن عباس ؓ والحسن وقتادۃ)
57۔ (نہ کہ کسی اور کی طرف) (آیت) ” علیہ توکلت “۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے جو میری ہر حفاظت، کفالت کے لیے کافی ہے اور آخری جزاء وصلہ کی توقع بھی بس اسی ایک سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
ترجمہ : اور اہل مکہ میں سے کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) عصا اور ید بیضاء اور ناقۂ صالح جیسی کیوں نہیں اتاری ہوگئی ؟ ان سے کہہ دو کہ اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کو بےراہ کردیتے ہیں نشانیاں (معجزات) اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے، اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مَنْ سے اَلَّذِیْن آمنوا، بدل ہے، جو لوگ ایمان لائے ان کے قلوب اللہ کے ذکر یعنی اس کے وعدہ سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی مومنوں کے دلوں کو تسلی ہوتی ہے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان کیلئے خوشحالی ہے اور…
Read the full tafseer →کذلک ارسلنک في امۃ قد خلت من قبلھا امم لتتلوا علیھم الذی او حینا الیک اسی طرح (یعنی دوسرے پیغمبروں کی طرح) ہم نے آپ کو بھی ایک امت میں بھیجا ہے جس سے پہلے دوسری امتیں گذر چکی ہیں (جن کی طرف دوسرے پیغمبروں کو بھیجا تھا۔ مطلب یہ کہ آپ کی پیغمبری کوئی انوکھی چیز نہیں ہے) تاکہ جو قرآن ہم نے آپ کو وحی کے ذریعہ سے دیا ہے ‘ اس کو پڑھ کر آپ ان کو سنائیں۔
وھم یکفرون بالرحمن (مگر) ان کی حالت یہ ہے کہ یہ رحمن کی ناشکری کرتے ہیں۔ رَحْمٰن بہت زیادہ رحمت والا ‘ جس کی نعمت سب کو گھیرے ہوئے ہے اور ہر چیز کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ خصوصیت کے ساتھ اللہ کا ان پر بہت بڑا انعام یہ ہے کہ اس نے آپ کو ان کے اندر…
Read the full tafseer →(30) اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے کہ اس سے پہلے اور امتیں گزر چکی ہیں۔ آپ ان کو وہ قرآن حکیم پڑھ کر سنائیں جو ہم نے آپ پر بذریعہ جبریل امین نازل کیا ہے۔
اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو مسیلمہ کذاب کے علاوہ (جو رحمن کے ساتھ مشہور ہے) کسی اور رحمن کو نہیں جانتے۔
اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ رحمن تو میرا پروردگار ہے، اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں میں نے اس پر اعتماد اور بھروسہ کرلیا اور آخرت میں اسی کے پاس مجھے جانا ہے۔
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ : امت دو قسم کی ہوتی ہے، ایک وہ لوگ جن کی طرف رسول بھیجا جائے، وہ مسلمان ہوں یا کافر، جیسے قوم ثمود کا ہر مسلم و کافر صالح ؑ کی امت تھا اور عاد کا ہر فرد ہود ؑ کی امت میں سے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی آمد کے بعد قیامت تک ہر مسلم و کافر، یہودی، نصرانی، ہندو اور دہریہ، غرض ہر شخص آپ ﷺ کی امت میں سے ہے، اسے امت دعوت کہا جاتا ہے، پھر جو لوگ رسول کی دعوت کو قبول کرلیں وہ امت اجابت کہلاتے ہیں، اس آیت میں امت دعوت مراد ہے۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ : یعنی نہ آپ پہلے رسول ہیں نہ آپ کی امت دعوت کوئی پہلی امت ہے۔ اس سے مقصود آپ کی امت کو پہلی جھٹلانے والی امتوں کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 30
قولہ تعالیٰ : کذلک ارسلنک فی امۃ قد خلت من قبلھا امم یعنی ہم نے آپ کو رسول بنا کر بھیجا جس طرح آپ سے پہلے انبیاء کو بھیجا، یہ حضرت حسن کا قول ہے۔ ایک قول یہ ہے : جس کی طرف حضرت محمد ﷺ کو بھیجا گیا اس پر ہونے والے انعام کو اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر ہونے والے انعام کے ساتھ تشبیہہ دی ہے جس کی طرف آپ سے پہلے انبیاء کو بھیجا گیا۔ لتتلوا علیھم الذی اوحینا الیک یعنی قرآن وھم یکفرون بالرحمن مقاتل اور ابن جریج نے کہا : یہ صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی جب انہوں نے کتاب الصلح لکھنا چاہی، تو نبی کریم ﷺ نے حضرت علی ؓ کو فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو “ سہیل بن عمرو اور مشرکین نے کہا :…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” وھم یکفرون بالرحمن “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ (صلح) حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے قریش کے ساتھ جو صلح نامہ لکھا تھا۔ اس میں آپ نے لکھوا یا ” بسم اللہ الرحمن الرحیم “ (اس پر) قریش نے کہا رحمن کو ہم نہیں جانتے اور جاہلیت والے یوں لکھا کرتے تھے ” باسمک اللہم “ آپ کے اصحاب نے عرض کیا ہم کو چھوڑ دیں ہم ان سے لڑیں گے آپ نے فرمایا نہیں لیکن تم اس طرح لکھو جیسے وہ چاہتے ہیں۔
2:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں…
Read the full tafseer →[كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ اَرْسَلْنٰكَ : ہم نے بھیجا آپ ﷺ کو ] [ فِيْٓ اُمَّةٍ : ایک ایسی امت میں ] [قَدْ خَلَتْ : گزر چکی ہیں ] [ مِنْ قَبْلِهَآ : جس سے پہلے ] [ اُمَمٌ: کچھ امتیں ] [ لِتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ : تاکہ آپ ﷺ پڑھ کر سنائیں ان کو ] [ الَّذِيٓ: وہ جو ] [ اَوْحَيْنَآ : ہم نے وحی کیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَ : حالانکہ ] [هُمْ : وہ لوگ ] [ يَكْفُرُوْنَ : انکار کرتے ہیں ] [ بِالرَّحْمٰنِ : رحمن کا ] [قُلْ : آپ ﷺ کہئے [ هُوَ : وہ ] [ رَبِيْ : میرا رب ہے ] [ لَآ اِلٰهَ : کوئی الٰہ نہیں ہے ] [ اِلَّا : مگر ] [هُوَ : وہ (ہی)] [ عَلَيْهِ : اس پر ہی ] [ تَوَكَّلْتُ : میں نے بھروسہ کیا ]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
پھر فرمایا (قُلْ ھُوَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (آپ فرما دیجئے کہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) تم نے اگر میری بات نہ مانی تو میرا کچھ بگڑنے والا نہیں (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہَ مَتَابُ ) (میں نے صرف اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میرا رجوع کرنا ہے) جو اس کی حفاظت میں ہے بس وہی محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
رجوع بہ مبحت نبوت وبیان حال اہل سعادت و ایل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ویقول اللذین کفروا ولا انزل علیہ ایۃ .... الیٰ .... فکیف کان عقاب۔
(ربط) اوپر سلسلہ کلام اہل حق اور اہل باطل کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس سے قبل وان تعجب فعجب قولہم میں نبوت کے متعلق مضمون تھا اب پھر اسی مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کافروں کا وہی سابق قول کہ محمد ﷺ پر ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا پھر نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر بہت سی آیات ظاہرہ اور معجزات قاہرہ نازل کی ہیں لیکن ہدایت اور ضلال سب اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ…
Read the full tafseer →30:۔ یہ ” مَنْ اَنَابَ “ کی صفت ہے۔ ” اَلَا بِذِکْرِ اللہِ “ ادخال الٰہی ہے۔ ” اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الخ “ بشارت اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی نصیحت سے مستفید نہ ہونے والوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ یہ لوگ عہد کو توڑتے ہیں جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ، فرمایا ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا ٹھکانا ہوگا ، اگر ایسے نافرمان لوگوں کو دنیا میں وافر روزی نصیب ہو تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ رزق کی وسعت اللہ تعالیٰ کی حکمت پر منحصر ہوتی ہے ، دنیا کا مال واسباب خدا کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے ، یہ کسی شخص کے پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ، تاہم وہ ہر شخص کی صلاحیت کے مطابق…
Read the full tafseer →كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ۭ قُلْ هُوَ رَبِّيْ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَاِلَيْهِ مَتَابِ 30
الأُمّة :
كل جماعة يجمعهم أمر ما إمّا دين واحد، أو زمان واحد، أو مکان واحد سواء کان ذلک الأمر الجامع تسخیرا أو اختیارا، وجمعها : أمم، وقوله تعالی: وَما مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا طائِرٍ يَطِيرُ بِجَناحَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثالُكُمْ [ الأنعام/ 38]
الامۃ
ہر وہ جماعت جن کے مابین رشتہ دینی ہو یا وہ جغرافیائی اور عصری وحدت میں منسلک ہوں پھر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف : طوبی مصدرمن طالب کشری و معناہ اصیبت خیرا وطیبا محلہا النصب او الرفع کقولک سلاماً لک وسلام لک۔ 12 منہ
Read the full tafseer →کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰـکَ فِیْٓ اُمَّۃٍ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِہَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَاْ عَلَیْہِمُ الَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ بِالرَّحْمٰنِ ط قُلْ ھُوَرَبِّیْ لَآاِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ج عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہِ مَتَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 30)
(اسی طرح ہم نے آپ کو ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں تاکہ آپ پڑھ کر سنائیں انھیں وہ کلام جو ہم نے آپ کی طرف وحی کیا ہے۔ ہرچند وہ خدائے رحمن کا انکار کررہے ہیں فرما دیجیے کہ وہی میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کر رکھا ہے اور اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ )
مطالبہ معجزات کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ہر دور کے منکرین حق کا ایک جیسا انداز اور سوچ۔
اس فرمان کی ابتداء ” کذ لک “ کے الفاظ سے کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے ” مانند “ اور ” اس جیسا “۔
یعنی جس طرح کا وطیرہ اہل مکہ اور قرآن کے منکروں نے اختیار کیا ہے۔ اس جیسا پہلے زمانے کے کفار بھی اختیار کیے ہوئے تھے انہوں نے اپنے انبیاء (علیہ السلام) سے معجزات کا مطالبہ کیا۔ جب ان کے مطالبہ پر انبیاء کرام (علیہ السلام) نے انہیں من جانب اللہ معجزے دکھائے تو منکرین حق نے تسلیم ورضا کا رویہ اختیار کرنے کی بجائے انکار اور مخالفت کا رویہ اختیار کیا۔ یہ لوگ بالآخر دنیا میں ذلیل ہوئے اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب کا سامنا کرنا…
Read the full tafseer →30: کَذٰلِکَ اَرْسَلْنٰـکَ (اسی طرح ہم نے بھیجا) اس بھیجنے کی طرح ارسلناک (ہم نے آپ کو بھیجا) اس طرح بھیجنا کہ جسکو تمام ارسالات پر فوقیت حاصل ہے۔ پھر اسکی تفصیل اسطرح فرمائی۔ فِیْ اُمَّۃٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھَآ اُمَمٌ (ایسی امت میں کہ گزر چکیں اس سے پہلے امتیں) آپ کو ایسی امت میں بھیجا کہ جس امت سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکیں۔ یہ آخری امت ہے اور آپ خاتم الانبیاء ہیں۔ لِّتَتْلُوَاعَلَیْہِمُ الَّذِیْ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ (تاکہ آپ ان پر وہ پڑھیں جو ہم نے آپکی طرف وحی کی) تاکہ آپ انکے سامنے وہ عظیم الشان کتاب پڑھیں جو ہم نے آپکی طرف وحی کی۔ وَھُمْ یَکْفُرُوْنَ (حالانکہ وہ انکاری ہیں) انکا حال…
Read the full tafseer →30۔” کذلک ارسلناک فی امۃ “ جس طرح ہم نے پہلے انبیاء کو بھیجا امتوں کی طرف اس طرح اس امت کی طرف بھیجا ۔ ” قد خلت “ اس کا معنی گزر چکا ۔ ” من قبلھا امم لتتلوا “ کا معنی ہے کہ اس کو پڑھ کر سنائیں۔ ” علیھم الذی او حینا الیک وھم یکفرون بالرحمن “ قتادہ ، مقاتل اور ابن جریج کا قول ہے کہ یہ آیت مدنی ہے اور صلح حدیبیہ کے بارے میں نازل ہوئی اور یہ اس وجہ سے کہ جب سہیل بن عمرو قریش کی طرف سے نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور باہم صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا آپس میں صلح نامہ لکھوانے پر اتفاق ہوگیا ۔ آپ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم قریش بولے ہم رحمن کو نہیں جانتے ہم تو…
Read the full tafseer →30۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جس طرح ہم نے پہلی امتوں میں رسول بھیجے اسی طرح اس امت کے لئے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا تاکہ جو باتیں ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہیں وہ سب تم ان لوگوں کو سنادو اور ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انکار کرتے ہو کہ خدا کا نام رحمن نہیں لیکن اس کا نام رحمن ہے اور وہ میرا اور سب کا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے میرا تو اسی پر بھروسہ ہے اور سب کا وہی ٹھکانا ہے، ایک روز سب کے سب اسی کی طرف پھر کر جانے والے ہو۔ آنحضرت ﷺ خدا کا نام رحمن کہتے تھے تو کفار مکہ آپس میں کہنے لگتے تھے کہ انہوں نے خدا کے سوا ایک معبود اور مقرر کرلیا جس کا نام رحمن رکھ چھوڑا ہے چناچہ قتادہ ؓ…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے : (آیت) ’ اسی طرح ہم نے آپ کو بھیجا۔ “ یعنی ہم نے آپ ﷺ کو آپ کی قوم کی طرف مبعوث کیا تاکہ آپ ان کو ہدایت کی طرف دعوت دیں (آیت) ” ایک امت میں کہ اس سے پہلے کئی امتیں گزرچکی ہیں “ جن کے اندر ہم نے اپنے رسول بھیجے، لہٰذا آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں کہ وہ آپ کی رسالت کو اوپرا سمجھیں اور نہ آپ اپنی طرف سے کوئی بات کرتے ہیں۔ بلکہ آُ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی کی ہیں جو دلوں کی تطہیر اور نفوس کا تزکیہ کرتی ہیں اور آپ کی قوم کا حال یہ ہے کہ وہ رحمان کا انکار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انک و اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →76۔ پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان اور منکرین کے لیے تہدید ووعید کا پیغام :
سو اس ارشاد میں ایک طرف تو پیغمبر کے لیے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے اور دوسری طرف منکرین کے لیے تہدید وعید کا پیغام، کہ نہ آپ اے پیغمبر ! کوئی نئے اور انوکھے رسول ہیں اور نہ ہی یہ امت کوئی نئی اور انوکھی امت ہے، آپ ﷺ سے پہلے بھی کتنے ہی رسول آچکے ہیں اور انہوں نے بھی حق و ہدایت کا وہی پیغام پہنچایا جو آپ پہنچا رہے ہیں اور اسی طرح اس امت سے پہلے بھی بہت سی ایسی امتیں گزرچکی ہیں جنہوں کے پیغام حق و ہدایت کا انکار کیا، اور انہوں نے خدائے رحمن کے ساتھ کفر کیا، سو آپ کے لیے پہلے انبیاء ورسل اسوہ نمونہ ہیں اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
اللہ کے ذکر کی فضیلت اور اس کی بڑائی
تشریح : تمام دنیا کی نعمتیں ایک طرف اور اللہ کی یاد اس کا کلام ایک طرف۔ قرآن پاک کی جہاں اور بہت سی فضیلتیں اور برکتیں ہیں وہاں ایک بہت بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ جہاں دنیا کی کوئی چیز دل کو سکون نہ دے سکے وہاں ذکر الٰہی سکون دیتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ پوری توجہ اور خشوع و خضوع سے اس کو پکارا جائے اللہ کا ذکر کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ” دل اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں۔ “ ( سورة رعد آیت 28:)
پھر رسول اللہ ﷺ کا درجہ ان کو بتاتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ آخری رسول ہیں۔ اچھے برے لوگ ہمیشہ موجود رہتے ہیں آپ ان سے بےنیاز ہو کر بس اللہ کی تعلیمات اور توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
پ 13 ع 10 ” ویقول الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27 تا 31۔
کفار کا یہ کہنا کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں وہ ان سے کیوں صادر نہیں ہوتا اور ان کا پروردگار ایسی نشانی ان پر نازل کیوں نہیں فرماتا حالانکہ آپ کی پوری حیات مبارکہ بہت بڑا معجزہ ہے ، قرآن حکیم بہت بڑا معجزہ ہے اور اس کے علاوہ اس قدر معجزات کا ظہور ہوا کہ انسانی شمار سے باہر ہیں ، ان سب کو یہ کوئی اہمیت نہیں دے رہے تو جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اس کے پورا ہونے پر کب ایمان لائیں گے ، ان کا ایمان نہ لانا کسی معجزے کا محتاج نہیں بلکہ ان کے گناہوں کے سبب اللہ جل جلالہ نے ان پر ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہے اور ہمیشہ کی…
Read the full tafseer →ف 3 ۔ یعنی اللہ نے اپنی رحمت سے ان لوگوں پر کرم فرمایا کہ آپ ﷺ کو ان کی طرف رسول ﷺ بنا کر بھیجا مگر ان کی ناشکری کا حال یہ ہے کہ اس کا حق پہچاننے سے منکر ہوگئے ہیں۔ کفار مکہ اللہ کے خالق ہونے کا تو اقرار کرتے تھے مگر اس کے ” رحمان “ ہونے کے منکر تھے بلکہ جب اللہ تعالیٰ کے ” رحمن “ ہونے اور اسے اس نام سے پکارنے کی دعوت دی جاتی تو اس سے چڑتے اور کہتے۔۔۔ رحمن کیا چیر ہے ؟ اور اس سے ان کی نفرت بڑھ جاتی۔۔۔ یہ حدیبیہ کے صلح نامہ پر جب نبی ﷺ نے۔۔۔ لکھوانا چاہا تو وہ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے کہ یہ رحمن ورحیم کیا ہیں ؟ بروایت بکاری۔ (ابن کثیر) ۔۔۔” الرحمن “ اسما حسنیٰ میں سے ہے۔ حدیث میں ہے اللہ کے…
Read the full tafseer →(13: 30) کذلک ارسلنک فی امم قد خلت من قبلھا امم۔ ای کما ارسلنک یا محمد الی ھذہ الامۃ کذلک ارسلنا انبیاء قبلک الی امم قد خلت ومضت۔
یعنی اے محمد ﷺ جس طرح ہم نے تجھے اس امت کی طرف بھیجا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے ہم نے نبیوں کو ان امتوں کی طرف بھیجا جو (پہلے) گذر چکی ہیں۔
لقتلوا (تاکہ) ۔ لام تعلیل کا ہے۔ (یعنی تمہیں بھیجنے کی علت وغایت کیا تھی) (تاکہ) تو تلاوت کرے تو پڑھے۔ مضارع واحد مذکر ۔ تلاوۃ مصدر تلا یتلو ۔ (باب نصر) تلو وتلاوۃ جس کے معنی پڑھنے کے ہیں۔ لیکن یہ لفظ آسمانی کتابون کے اتباع اور پیروی کے لئے مخصوص ہے تلاوت قرأت سے خاص ہے ہر تلاوت قرأت ہوسکتی ہے لیکن ہر قرات تلاوت نہیں۔ مثلاً تلوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 30
لولا انزل کیوں نازل نہیں کیا گیا ایۃ نشانی۔ معجزہ یضل وہ گمراہ کرتا ہے۔ بھٹکا دیتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ راہ پر لگا دیتا ہے اناب رجوع کیا۔ لوٹا تطمئن مطمئن ہوتے ہیں بذکر اللہ اللہ کی یاد سے طوبی خوش حالی ہے۔ خوش خبری ہے ماب ٹھکانا امم امتیں لتتلوا تاکہ تو پڑھے او حینا ہم نے وحی کی یکفرون وہ انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں متاب لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا
تشریح :- آیت نمبر 27 تا 30
جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لاتعداد معجزات عطا فرمائے ہیں البتہ سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جس کی موجودگی میں کسی دوسرے معجزے کا مطالبہ کرنا بڑی احمقانہ…
Read the full tafseer →توحید کا ذکر
اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ جس طرح ہم نے پہلی امتوں میں رسول بھیجے، اسی طرح اس امت کے لیے ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا۔ تاکہ جو باتیں ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہیں وہ سب تم ان لوگوں کو سنا دو اور ان سے کہہ دو کہ تم لوگ انکار کرتے ہو کہ خدا کا نام رحمن نہیں لیکن اس کا نام رحمن ہے اور وہ میرا اور سب کا رب ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے میرا تو اسی پر بھروسہ اور سب کا وہی ٹھکانہ ہے۔ ایک روز سب کے سب اسی کی طرف پھر کر جانے والے ہیں۔ اس آیت کا شان نزول یہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے مشرکوں سے کہا کہ رحمن کو سجدہ کرو، تو وہ کہنے لگے : رحمن کیا ہے۔ اور صلح حدیبیہ میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1) دنیا داروں کے لئے اس میں نہایت عارفانہ درس حکمت ہے ارشاد ہے کہ دل کا اطمینان اور سکون خاطر روپے اور سونے پر موقوف نہیں ، دنیا کی آسائشوں اور تکلفات میں نہیں بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے ، اس کے ساتھ محبت وشوق میں ہے خدا پرست انسان جس درجہ روحانی لطف حاصل کرتا ہے دنیا دار باوجود تعیش کی فراوانی کے اس نعمت سے محروم رہتا ہے ، اس لئے مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کی مسرتوں کو اللہ کی یاد میں تلاش کرتے ہیں ۔
حل لغات :
طوبی : اظہار مسرت و فرحت کے لئے آتا ہے ، یعنی خوشی وخوش طبعی مؤنث طیب کا ہے ، اور طیب کے معنے بوئے خوش اور خوش طبعی کے ہیں متاب ، جائے رجوع ۔
Read the full tafseer →30 ۔ اور جس طرح ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے تھے اسی طرح ہم نے آپ کو بھی ایک ایسی امت میں رسول بنا کر بھیجا ہے جس امت سے پہلے اور امتیں گزر چکی ہیں تا کہ آپ ان کو وہ کتاب پڑھ کر سنائیں جو کتاب ہم نے آپ کو وحی کے ذریعہ بھیجی ہے اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ رحمن کے ساتھ کفر و انکار کا شیوہ اختیار کرتے ہیں ۔ آپ فرما دیجئے وہ رحمن میرا رب اور میرا مربی ہے اس کے سوا کوئی حقیقی معبود اور عبادت کے لائق نہیں میں نے اسی پر بھروسہ اور توکل کر رکھا ہے اور میرا مرجع اسی کی ذات ہے اور اسی کی پاس مجھ کو جانا ہے۔
یعنی آپ کوئی انوکھے رسول نہیں ہیں جس طرح پچھلی امتیں گزر چکی ہیں اور ان میں ہادی آتے رہے…
Read the full tafseer →ف 4۔ اور قرآن پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ امت مسلمہ کی طرف رسول بنائے گئے ‘ آپ ﷺ ان کو پیغام الٰہی سنائیں
48 ؎ اے پیغمبر اسلام ! آپ کو اللہ نے اپنا رسول منتخب فرما کر اک امت کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ ﷺ ان کو پیغام الٰہی سنا دیں۔ آپ ﷺ اس طرح کے رسول ہیں جس طرح کے رسول آپ ﷺ سے پہلے بھی بھیجے جا چکے اور آپ ﷺ کی امت سے پہلے کتنی ہی امتیں تھیں جو گزر چکیں آپ بھی اپنی امت کو وہ کلام پڑھ کر سنائیں جو آپ ﷺ پر وحی کیا گیا یعنی قرآن کریم کے احکام پڑھ کر ان کو سنائیں اور وہ جو رحمن کے ساتھ کفر کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو آپ ﷺ ان کو بتا دیں کہ رحمن اور اللہ دونوں ایک ہی طاقت و قوت کے دو الگ الگ نام ہیں لیکن اس سے وہ طاقت تقسیم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
Commentary
At the beginning of the section, human beings were divided into two kinds - those who are obedient to Allah Ta’ ala and those who are disobedient to Him. Then, enumerated there were some attributes and signs of the obedient servants of Allah and mention was made of the best of rewards for them in the Hereafter.
Now, in the present verses, stated there are the attributes and signs, and punishments, of the other kind of people. One trait of character these disobedient and contumacious people have been reported to have الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ (And…
Read the full tafseer →45. That is, in this way that We have not given you a sign they demanded.
46. That is, instead of serving that most Compassionate Lord, they are discarding His service and setting up other partners in His attributes, powers, rights and giving thanks to others for His blessings.
Read the full tafseer →