Explained with ayahs 27–29
مشرکین کے اعتراض
مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا ؟ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر وحی آئی کہ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کردیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کردیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لئے توبہ اور رحمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
سورة الرَّعْد 43
اس سے پہلے آیت 7 میں اس سوال کا جو جواب دیا جا چکا ہے اسے پیش نظر رکھا جائے۔ اب دوبارہ ان کے اسی اعتراض کو نقل کر کے ایک دوسرے طریقے سے اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔
سورة الرَّعْد 44
یعنی جو اللہ کی طرف خود رجوع نہیں کرتا اور اس سے روگردانی اختیار کرتا ہے اسے زبردستی راہ راست دکھانے کا طریقہ اللہ کے ہاں رائج نہیں ہے۔ وہ ایسے شخص کو انہی راستوں میں بھٹکنے کو توفیق دے دیتا ہے جن میں وہ خود بھٹکنا چاہتا ہے۔ وہی سارے اسباب جو کسی ہدایت طلب انسان کے لیے سبب ہدایت بنتے ہیں، ایک ضلالت طلب انسان کے لیے سبب ضلالت بنا دیے جاتے ہیں۔ شمع روشن بھی اس کے سامنے آتی ہے تو راستہ دکھانے کے بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر (اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کی اور اس کو اختیار کر کے ایمان و عمل صالح کی شاہراہ پر گامزن ہوگئے ان کے لیے تو مبارکی اور خوش خبری ہے، ان کو اچھی منزل اور اچھا ٹھکانا نصیب ہوگا۔ رہے وہ لوگ جو معجزات کے منتظر ہیں تو وہ اسی انتظار میں ایک دن اپنے اس انجام سے دو چار ہوجائیں گے جو ایسے عقل کے اندھوں کے لیے مقدر ہے۔
Read the full tafseer →29۔ 1 طُوْبٰی کے مختلف معانی بیان کئے گئے ہیں مثلاً خیر، حسنٰی، کرامت، رشک، جنت میں مخصوص درخت یا مخصوص مقام وغیرہ مفہوم سب کا ایک ہی ہے یعنی جنت میں اچھا مقام اور اس کی نعمتیں اور لذتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
26:: آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات دئے گئے تھے، لیکن کفار مکہ اپنی طرف سے نت نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور جب ان کا کوئی مطالبہ پورا نہ ہوتا تو وہ یہ بات کہتے تھے جو اس آیت میں مذکور ہے اور پیچھے آیت نمبر : 7 میں بھی گزری ہے، اس کا جواب آگے آیت نمبر 31 میں آرہا ہے، یہاں اس کا جواب دینے کے بجائے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ مطالبات ان کی گمراہی کی دلیل ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے ہدایت مانگے، اور حق کی طلب رکھتا ہو، ایسا شخص ایمان لانے کے بعد اس کے حقوق ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں سکون حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت نمبر 27 تا 32
ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔
قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔
لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ…
Read the full tafseer →3 مترجم محقق نے " طوبیٰ " کے لغوی معنی لیے ہیں اسی کے اندر جنت کا وہ درخت بھی آگیا جسے حدیث صحیح میں " طوبیٰ " کے نام سے موسوم فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
آیت 30 كَذٰلِكَ اَرْسَلْنٰكَ فِيْٓ اُمَّةٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهَآ اُمَمٌ لِّتَتْلُوَا۟ عَلَيْهِمُ الَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَهُمْ يَكْفُرُوْنَ بالرَّحْمٰنِ
اگرچہ اللہ تعالیٰ کا نام ”الرحمن“ عرب میں پہلے سے متعارف تھا مگر مشرکین مکہ ”اللہ“ ہی کو جانتے اور مانتے تھے اس لیے وہ اس نام سے بدکتے تھے اور عجیب انداز میں پوچھتے تھے کہ یہ رحمن کون ہے ؟ الفرقان : 60
Read the full tafseer →38 طوبیٰ سے مراد کیا ہے ؟ لفظ طوبٰی کے معنی ایسی خوشی حاصل ہونا ہے جس سے انسان کے دل کے علاوہ اس کے حواس بھی لطف اندوز ہوں (مفردات) اور جنت کی نعمتیں سب ایسی ہی ہوں گی بعض مفسرین نے طوبیٰ سے مراد وہ درخت لیا ہے جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ وہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سایہ میں ایک سوار اگر سو سال بھی چلتا رہے تو اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورة ئواقعہ زیر آیت ( وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ 30 ۙ ) 56 ۔ الواقعة :30) اہل عرب کے لیے ایسے درخت کا جنت میں موجود ہونا ایک بہت بڑی خوشخبری ہے۔ کیونکہ عرب کا اکثر علاقہ سنگلاخ اور ریگستانی ہے۔ شدت کی گرمی پڑتی ہے۔ لوئیں چلتی ہیں مگر درخت یا…
Read the full tafseer →54۔ یعنی ذکر الہی میں خاصیت ہی یہ ہے کہ یہ انسان کے قلب کو غیر اللہ کیطرف متوجہ ہونے کے الجھاؤ سے بچاتا ہے، اور شرک سے جو انتشار ذہنی پیدا ہوتا ہے یقین توحید اس کے لیے سپر ہوجاتا ہے، البتہ اس اطمینان کے بھی مختلف درجے ومرتبے ہوتے ہیں، جس درجہ کا ذکر الہی ہوتا ہے اسی نسبت سے اطمینان قلب بھی حاصل ہوتا ہے، ذکر الہی کے آثار میں سے ایک اثر خوف و خشیت کا ہے، اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم لیکن یہ ماسوا کی طرف سے اطمینان و فراغت خوف خدا کے منافی ذرا بھی نہیں، بلکہ یہ دونوں کیفیتیں تو عین ایک دوسرے کی متمم ومکمل ہیں۔
55۔ خوشحالی اس دنیا میں اور خوش انجامی آخرت میں۔ خوشحالی سے مراد مالی یا معاشی خوشحالی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
ترجمہ : اور اہل مکہ میں سے کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) عصا اور ید بیضاء اور ناقۂ صالح جیسی کیوں نہیں اتاری ہوگئی ؟ ان سے کہہ دو کہ اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کو بےراہ کردیتے ہیں نشانیاں (معجزات) اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے، اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مَنْ سے اَلَّذِیْن آمنوا، بدل ہے، جو لوگ ایمان لائے ان کے قلوب اللہ کے ذکر یعنی اس کے وعدہ سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی مومنوں کے دلوں کو تسلی ہوتی ہے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان کیلئے خوشحالی ہے اور…
Read the full tafseer →الذین امنوا وعملوا الصلحت طوبی لھم جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک کام کئے ‘ ان کیلئے خوشی ہے۔
حضرت ابن عباس نے طوبیٰ کا ترجمہ کیا ہے : خوشی اور خنکی چشم۔ عکرمہ نے کہا : ان کا مآل اچھا ہوگا۔ قتادہ نے کہا : ان کیلئے بھلائی ہوگی۔ (ان تمام مطالب پر) طوبیٰ بروزن بشرٰی مصدر ہوگا۔ طاب (ماضی) یطیب (مضارع) (1) [ حضرت ابن عمر روای ہیں کہ حضور ﷺ کے سامنے طوبیٰ کا ذکر کیا گیا تو فرمایا : ابوبکر ! کیا تم کو معلوم ہے کہ طوبیٰ کیا ہے ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔ فرمایا : طوبیٰ جنت میں ایک درخت ہے جس کی لمبائی سے اللہ ہی واقف ہے۔ اس کی ایک شاخ کے نیچے ستر برس تک گھوڑا…
Read the full tafseer →(29) جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور احکام خداوندی کو بجا لائے ایسے حضرات قابل رشک ہیں اور کہا گیا ہے کہ طوبی نام کا جنت میں ایک درخت ہے اس کا تنا سونے کا ہے اور اس کے پتے ریش میں جوڑے ہیں اور اس پر ہر رنگ کے پھل ہیں اور اس کی شاخیں پوری جنت میں پھیلی ہوئی ہیں اس کے نیچے مشک، زعفران اور عنبر کے ٹیلے ہیں اور ایسے حضرات ہی جنت میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ : ”طُوْبٰى“ اصل میں ”طَابَ یَطِیْبُ“ (اچھا اور عمدہ ہونا) سے ”طُیْبٰی“ تھا، مصدر بروزن ”بُشْرٰی“ بمعنی خوشی، مبارک باد۔ ”مَاٰبٍ“ ”اٰبَ یَؤُوْبُ أَؤْبًا“ کا معنی ہے لوٹنا اور ”مَاٰب“ کا معنی لوٹ کر جانے کی جگہ، ٹھکانا یعنی ایمان اور عمل صالح کی برکت سے عمدہ ترین زندگی حاصل ہوتی ہے اور آخری ٹھکانا بھی بہترین ملے گا، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهٗ حَيٰوةً طَيِّبَةً ۚ وَلَـنَجْزِيَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ) [ النحل : 97 ] ”جو بھی نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن…
Read the full tafseer →آیت نمبر 29
قولہ تعالیٰ : الذین امنوا وعملوا الصلحت طوبی لھم مبتدا اور خبر ہے ایک قول یہ ہے : اس کا معنی لھم طوبی ہے، طوبی مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ محل نصب میں ہو اس صورت میں تقدیر عبارت : جعل لھم طوبی ہوگی اور مذکورہ دونوں صورتوں میں وحسن ماب کا اس پر عطف ہوگا، تو اس کو رفع بھی دیا جاسکتا ہے اور نصب بھی۔ عبد الرزاق نے ذکر کیا : ہمیں معمر نے عن یحییٰ بن ابی کثیر عن عمر و بن ابی یزید نکالی عن عتبہ بن عبد السلمی بیان کیا ہے انہوں نے کہا : ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اس نے آپ سے جنت اور حوض کوثر کے بارے میں پوچھا اس نے کہا : کیا اس میں پھل ہیں ؟ آپ نے فرمایا :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ذکر اللہ سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویھدی الیہ میں اناب “ یعنی جس نے توبہ کیا (آیت) ” وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ “ یعنی اللہ کے ذکر سے دل مانوس ہوتے ہیں اور اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذین امنوا وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ “ یعنی اگر ان کے لئے اللہ کی قسم کھائی جائے تو سچ کردکھاتے ہیں (آیت) ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “ یعنی اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : جو لوگ ] [اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا : اور انھوں نے عمل کئے ] [ الصّٰلِحٰتِ : نیکیوں کے ] [طُوْبٰى: تو انتہائی فرحت ہے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ وَحُسْنُ مَاٰبٍ : اور لوٹنے کی جگہ کا حسن ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
پھر فرمایا (قُلْ ھُوَ رَبِّیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ) (آپ فرما دیجئے کہ وہ میرا رب ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) تم نے اگر میری بات نہ مانی تو میرا کچھ بگڑنے والا نہیں (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَاِلَیْہَ مَتَابُ ) (میں نے صرف اسی پر بھروسہ کیا اور اسی کی طرف میرا رجوع کرنا ہے) جو اس کی حفاظت میں ہے بس وہی محفوظ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
رجوع بہ مبحت نبوت وبیان حال اہل سعادت و ایل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ویقول اللذین کفروا ولا انزل علیہ ایۃ .... الیٰ .... فکیف کان عقاب۔
(ربط) اوپر سلسلہ کلام اہل حق اور اہل باطل کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس سے قبل وان تعجب فعجب قولہم میں نبوت کے متعلق مضمون تھا اب پھر اسی مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کافروں کا وہی سابق قول کہ محمد ﷺ پر ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا پھر نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر بہت سی آیات ظاہرہ اور معجزات قاہرہ نازل کی ہیں لیکن ہدایت اور ضلال سب اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
29:۔ یہ پہلے مذکورہ شکوی کا اعادہ ہے۔ یعنی اس پیغمبر پر ہمارا طلبیدہ معجزہ کیوں نہیں نازل کیا جاتا یہ کفار کی انتہائی ضد اور ہٹ دھرمی تھی کہ بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور مزید معجزوں کا مطالبہ محض عند و مکابرہ کی وجہ سے کرنے لگے۔ ” قُلْ اِنَّ اللہَ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی تمہیں مزید معجزہ دکھانے سے کوئی فائدہ نہیں تم ضدی اور معاند ہو تم پھر بھی نہیں مانو گے ہدایت صرف وہی لوگ پاتے ہیں جن میں انابت ہو اور وہ ہدایت پانے کا سچا جذبہ رکھتے ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی نصیحت سے مستفید نہ ہونے والوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ یہ لوگ عہد کو توڑتے ہیں جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ، فرمایا ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا ٹھکانا ہوگا ، اگر ایسے نافرمان لوگوں کو دنیا میں وافر روزی نصیب ہو تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ رزق کی وسعت اللہ تعالیٰ کی حکمت پر منحصر ہوتی ہے ، دنیا کا مال واسباب خدا کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے ، یہ کسی شخص کے پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ، تاہم وہ ہر شخص کی صلاحیت کے مطابق…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰى لَهُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ 29
عمل
العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل «6» ، لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ
[ البقرة/ 277]
( ع م ل ) العمل
ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
ف : طوبی مصدرمن طالب کشری و معناہ اصیبت خیرا وطیبا محلہا النصب او الرفع کقولک سلاماً لک وسلام لک۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ ط الَاَ بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰی لَہُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ ۔ (سورۃ الرعد : 28۔ 29)
(جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے خوشخبری ہے اور اچھا ٹھکانا ہے۔ )
انابت الی اللہ کی وضاحت
پیشِ نظر آیت کریمہ میں گزشتہ آیت کریمہ میں بیان کردہ مضمون کی مزید وضاحت فرمائی جارہی ہے۔ سابقہ آیت میں فرمایا کہ قریش مکہ کے ایمان نہ لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدۂ آخرت سے انحراف اور دنیا کے مال ومتاع پر اترانے کی وجہ سے منکرین حق کی ہٹ دھرمی۔
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو من جانب اللہ قرار دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آفاق، جمادات اور نباتات کے حوالے سے اپنی ذات اور صفات کے بارے میں اتنے بھاری اور ٹھوس دلائل دیے ہیں کہ جن کا جواب دینا انسان کے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایسے ٹھوس اور بھاری دلائل ہیں کہ ان کا انکار کرنے والے کو اندھا قرار دیا گیا ہے۔ اسی اندھے پن کا نتیجہ تھا کہ کفار ٹھوس اور واضح دلائل کو تسلیم کرنے کی بجائے ہر بار مطالبہ کرتے کہ کوئی نیا معجزہ نازل کیا جائے۔ یہاں کفار کی کوتاہ بینی اور ہٹ دھرمی کا…
Read the full tafseer →29: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ (وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے) یہ مبتداء ہے اور طوبٰی لھم اسکی خبر ہے۔ طُوْبٰی لَھُمْ (انکے لئے خوشی ہے) یہ طاب سے مصدر ہے جیسے بشرٰی مطلب یہ ہے طوبٰی لک تیرے لئے اچھائی ہے۔ اصبت خیرًا و طیباً میں نے بھلائی و پاکیزگی کو پالیا۔
نحو : اسکا مقام نصب یا رفع ہے جیسے کہیں طیباً لک۔ طیب لک۔ سلاماً لک وسلام لک۔ لھمکا لام بیان کیلئے ہے۔ اسکی مثال سقیالک۔ طوبیٰ میں واؤ اصل میں یاؔ ہے جو ماقبل ضمیر کی وجہ سے وائو بن گئی ہے جیسا موقن اصل میں مُیْقِنٌ ہے۔ وَحُسْنُ مَاٰ بٍ (اچھی لوٹنے کی جگہ) ماب لوٹنے کی جگہ رفع و نصب اسکی محلیت پر دلالت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر 29۔” الذین امنوا وعملوالصلحت “ یہ جملہ مبتداء ہے اور ” طوبیٰ لھم “ اس کی خبر ہے۔
طوبی لھم کی تفسیر
طوبیٰ کی تفسیر میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ ابن عباس ؓ نے طوبیٰ کا معنی کیا ہے خوشی اور آنکھوں کی ٹھنڈک۔ عکرمہ نے کہا کہ ان کا مآل اچھا ہوگا اور قتادہ کا قول ہے ان کے لیے بھلائی ہوگی اور معمر قتادہ سے مروی ہے کہ اگر تم کو کوئی بھلائی اور فائدہ حاصل ہوجائے تو دوسرا آدمی تم سے کہتا ہے ” طوبی لک “ یعنی تجھے اچھی بات پہنچے ابراہیم کا قول ہے نیکو کار مؤمنوں کے لیے بھلائی اور عزت ہوگی ۔ فراء کا قول ہے طوبیٰ اصل میں طیب سے ہے اس میں وائو طا کے ضمہ کی وجہ آئی ہے اس کی دو لغات ہیں ۔ جیسا کہ عرب کا قول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27۔ 29۔ یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ حضرت سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی کیوں نہیں اتری جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا ملا تھا اور صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی ملی تھی تم بھی صفا پہاڑ کو سونا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا یہ جواب ملا کہ اے رسول تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے اسے وہ ہدایت کرتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی تم ایمان نہیں لاؤ گے ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے علم الٰہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پائے وہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27- 29:
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، اللہ کے رسول سے بطریق تلسبیس بےسوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں (آیت) ” کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے “ یعنی ان کے زعم کے مطابق، ان اگر ان کے پاس معجزہ آگیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجئے ! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا۔ “ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ سے آیات و معجزات پر موقف قرار دیں، بایں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
75۔ فائز المرام لوگوں کی نشاندہی :
سو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے خوش نصیبوں کی صفت کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اطمینان ملتا ہے اللہ کے ذکر سے، اور پھر ذکر اللہ کی عظمت شان کے ذکر وبیان کے سلسلہ میں الا کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے، پس اللہ کے ذکر کے بغیر دلوں کو حقیقی سکون واطمینان نہیں مل سکتا، اور ذکر یعنی اللہ کی یاد دلشاد سے سرفرازی کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اس حکمتوں بھری کائنات اور اس میں موجود دلائل قدرت وحکمت اور آفاق وانفس کی نشانیوں میں غور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
اللہ کے ذکر کی فضیلت اور اس کی بڑائی
تشریح : تمام دنیا کی نعمتیں ایک طرف اور اللہ کی یاد اس کا کلام ایک طرف۔ قرآن پاک کی جہاں اور بہت سی فضیلتیں اور برکتیں ہیں وہاں ایک بہت بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ جہاں دنیا کی کوئی چیز دل کو سکون نہ دے سکے وہاں ذکر الٰہی سکون دیتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ پوری توجہ اور خشوع و خضوع سے اس کو پکارا جائے اللہ کا ذکر کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ” دل اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں۔ “ ( سورة رعد آیت 28:)
پھر رسول اللہ ﷺ کا درجہ ان کو بتاتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ آخری رسول ہیں۔ اچھے برے لوگ ہمیشہ موجود رہتے ہیں آپ ان سے بےنیاز ہو کر بس اللہ کی تعلیمات اور توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
پ 13 ع 10 ” ویقول الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27 تا 31۔
کفار کا یہ کہنا کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں وہ ان سے کیوں صادر نہیں ہوتا اور ان کا پروردگار ایسی نشانی ان پر نازل کیوں نہیں فرماتا حالانکہ آپ کی پوری حیات مبارکہ بہت بڑا معجزہ ہے ، قرآن حکیم بہت بڑا معجزہ ہے اور اس کے علاوہ اس قدر معجزات کا ظہور ہوا کہ انسانی شمار سے باہر ہیں ، ان سب کو یہ کوئی اہمیت نہیں دے رہے تو جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اس کے پورا ہونے پر کب ایمان لائیں گے ، ان کا ایمان نہ لانا کسی معجزے کا محتاج نہیں بلکہ ان کے گناہوں کے سبب اللہ جل جلالہ نے ان پر ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہے اور ہمیشہ کی…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ خوشی یا مبارک باد ” طوبیٰ “ کے لفظی معنی ہیں۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ” طوبیٰ “ جنت کے ایک درخت کا نام بھی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(13:27) اناب۔ اناب ینیب انابۃ (باب افعال) بار بار لوٹ کر آنا۔ اناب ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ رجوع ہوا۔ انایۃ الی اللہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ کی طرف رجوع ہونا۔ اور توبہ کرنا۔ النوب۔ کسی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ نوب ونوبۃ (باب نصر) مصدر۔
(13:28) الذین امنوا۔ اناب کا بدل ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے۔ وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ۔ اور جن کے دل ذکر الٰہی سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ان کو خداوند تعالیٰ اپنی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ (یھدی الیہ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 30
لولا انزل کیوں نازل نہیں کیا گیا ایۃ نشانی۔ معجزہ یضل وہ گمراہ کرتا ہے۔ بھٹکا دیتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ راہ پر لگا دیتا ہے اناب رجوع کیا۔ لوٹا تطمئن مطمئن ہوتے ہیں بذکر اللہ اللہ کی یاد سے طوبی خوش حالی ہے۔ خوش خبری ہے ماب ٹھکانا امم امتیں لتتلوا تاکہ تو پڑھے او حینا ہم نے وحی کی یکفرون وہ انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں متاب لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا
تشریح :- آیت نمبر 27 تا 30
جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لاتعداد معجزات عطا فرمائے ہیں البتہ سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جس کی موجودگی میں کسی دوسرے معجزے کا مطالبہ کرنا بڑی احمقانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی نہیں اتری جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کو ملی تھی، تم بھی صفا پہاڑ کو سونا کا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا جواب ملا کہ اے رسول اللہ کے ! تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے وہ ہدایت دیتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی ایمان نہیں لاؤگے۔ ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ علم الہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پاتے وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
(ف 1) دنیا داروں کے لئے اس میں نہایت عارفانہ درس حکمت ہے ارشاد ہے کہ دل کا اطمینان اور سکون خاطر روپے اور سونے پر موقوف نہیں ، دنیا کی آسائشوں اور تکلفات میں نہیں بلکہ اللہ کے ذکر میں ہے ، اس کے ساتھ محبت وشوق میں ہے خدا پرست انسان جس درجہ روحانی لطف حاصل کرتا ہے دنیا دار باوجود تعیش کی فراوانی کے اس نعمت سے محروم رہتا ہے ، اس لئے مبارک ہیں وہ لوگ جو دل کی مسرتوں کو اللہ کی یاد میں تلاش کرتے ہیں ۔
حل لغات :
طوبی : اظہار مسرت و فرحت کے لئے آتا ہے ، یعنی خوشی وخوش طبعی مؤنث طیب کا ہے ، اور طیب کے معنے بوئے خوش اور خوش طبعی کے ہیں متاب ، جائے رجوع ۔
Read the full tafseer →29 ۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کے پابند ریہ ان کے لئے خوشحالی ہے اور ان کے لئے اچھا ٹھکانہ اور نیک انجامی ہے۔ یعنی دنیا میں خوشحال اور آخرت میں نیک انجامی اور اچھا ٹھکانہ ، دنیا کی خوشحالی یہ کہ قلب کو اطمینان اور خدا پر بھروسہ ہوسکتا ہے کہ دونوں بشارتیں آخرت کی ہوں اور طوبیٰ سے مراد وہ درخت ہو جو اہل جنت پر سایہ افگن ہوگا اور جس کا ذکر حدیث شریف میں آتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ خلاصہ یہ کہ کفار کے لیے قرآن کے اعجاز کا ناکافی سمجھنا اور ضلال اور اس کے قبل رغبت الی الدنیا اور اس کے حظ کا فنا اور اس کے مقابلہ میں مومنین کے لیے قرآن کو کافی سمجھنا اور ہدایت اور رغبت الی الآخرت اور اس کے ثمرہ کا بقاثابت فرمایا ہے اور اصل مقصود مقام کا بحث رسالت ہے آگے اس بحث کا تتمہ ہے یعنی یہ لوگ جو آپ کی رسالت پر شبہات کرتے ہیں تو آپ کی رسالت کوئی انوکھی چیز تو ہے نہیں پہلے بھی رسول ہوتے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →آخرت کی خوش حالیاں انہی لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے
47 ؎ دنیوی زندگی کی وہ متاع جو آخرت میں کام آنے والی ہے وہ دولت کے خزانے ‘ زمینیں ‘ باغات اور سونے چاندی کے ڈھیر اور اس طرح مسند اقتدار ‘ سیاسی یا مذہبی راہنمایاں نہیں بلکہ وہ ایمان باللہ وار عمل صالحہ ہے جس نے اس کو اختیار کرلیا وہ یقینا کامیاب و کامران رہا اور یہی لوگ ہیں کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی اور دل پرسکون ہوں گے اور یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن کریم میں ” طوبیٰ “ سے تعبیر کیا گیا ہے اور ” طوبیٰ “ مصدر ہے ” یشریٰ “ اور ” زلفی “ کی طرح جو ” طاب “ سے بنا ہی اور حدیث شریف میں جنت کے درختوں میں سے ایک درخت کا نام بھی ” طوبیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
Commentary
At the beginning of the section, human beings were divided into two kinds - those who are obedient to Allah Ta’ ala and those who are disobedient to Him. Then, enumerated there were some attributes and signs of the obedient servants of Allah and mention was made of the best of rewards for them in the Hereafter.
Now, in the present verses, stated there are the attributes and signs, and punishments, of the other kind of people. One trait of character these disobedient and contumacious people have been reported to have الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ (And…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
43. Please also keep in view the answer that has been given to this question in (Ayat 7).
44. This is the answer to their question. It is not due to the lack of signs that they were going astray, but it is the lack of any desire in them to seek right guidance. For Allah does not force one to follow the right way, if he deliberately turns away from it. He lets such persons wander on the wrong ways they choose to wander. Nay, even all those things that should serve as a means to guidance for a seeker of truth become the means of deviation for the one who seeks deviation. So much so that the…
Read the full tafseer →