Ar-Ra'd 13:28

Ar-Ra'd · from ayah 28

13:28

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ؕ— اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ۟ؕاَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُهُمۡ بِذِكۡرِ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَا بِذِكۡرِ اللّٰهِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those who have believed and whose hearts are assured by the remembrance of Allah. Unquestionably, by the remembrance of Allah hearts are assured."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 4 of surah · Ruku 10 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:28

ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے (اِس نبی کی دعوت کو) مان لیا اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان نصیب ہوتا ہے خبردار رہو! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے اور جن کے دل یادِ خدا سے آرام پاتے ہیں (ان کو) اور سن رکھو کہ خدا کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ ایمان ﻻئے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے ہیں اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ یا درکھو کہ صرف اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں، سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اﷲ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں۔ سن لو ! اللہ کی یاد ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یعنی) جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ یاد رکھو ! دل اللہ کے ذکر سے ہی مطمئن ہوتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو کہ اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی ایسے لوگوں کو جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو چین ملتا ہے اللہ (پاک) کے ذکر سے، آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر ہی سے چین ملتا ہے دلوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

(یعنی) وہ لوگ جو ایمان لائے اور اللہ کے ذکر سے انہیں اطمینان ہوگیا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں آگاہ ہوجاؤ ! اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی دل مطمئن ہوتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ایمان لائے اور جن کے دل اللہ کی یاد سے اطمینان پاتے ہیں، اور سن رکھو کہ اللہ کی یاد سے دل آرام پاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Such are the ones who believe (in the message of the Prophet) and whose hearts find rest in the remembrance of Allah. Surely in Allah's remembrance do hearts find rest.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the ones who believe and their hearts are peaceful with the remembrance of Allah. Listen, the hearts find peace only in the remembrance of Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

the ones who believe and their hearts are peaceful with the remembrance of Allah. Listen, the hearts find peace only in the remembrance of Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those who believed and whose hearts find rest in the remembrance of Allah. Verily, in the remembrance of Allah do hearts find rest.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who have believed and whose hearts have rest in the remembrance of Allah. Verily in the remembrance of Allah do hearts find rest!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those who have believed and whose hearts are assured by the remembrance of Allah. Unquestionably, by the remembrance of Allah hearts are assured."

— Saheeh International

and the faithful ones whose hearts are comforted by the remembrance of God. Remembrance of God certainly brings comfort to all hearts.

— Muhammad Sarwar

Those who believe and whose hearts are set at rest by the remembrance of Allah; now surely by Allah's remembrance are the hearts set at rest.

— Muhammad Habib Shakir

They are those who believe and whose hearts find rest in the remembrance of Allah. Lo! in the remembrance of Allah hearts do find rest.

— Abdul Majid Daryabadi

"Those who believe, and whose hearts find satisfaction in the remembrance of Allah: for without doubt in the remembrance of Allah do hearts find satisfaction.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–29

مشرکین کے اعتراض مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا ؟ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر وحی آئی کہ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کردیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کردیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لئے توبہ اور رحمت کا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–29

سورة الرَّعْد 43 اس سے پہلے آیت 7 میں اس سوال کا جو جواب دیا جا چکا ہے اسے پیش نظر رکھا جائے۔ اب دوبارہ ان کے اسی اعتراض کو نقل کر کے ایک دوسرے طریقے سے اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ سورة الرَّعْد 44 یعنی جو اللہ کی طرف خود رجوع نہیں کرتا اور اس سے روگردانی اختیار کرتا ہے اسے زبردستی راہ راست دکھانے کا طریقہ اللہ کے ہاں رائج نہیں ہے۔ وہ ایسے شخص کو انہی راستوں میں بھٹکنے کو توفیق دے دیتا ہے جن میں وہ خود بھٹکنا چاہتا ہے۔ وہی سارے اسباب جو کسی ہدایت طلب انسان کے لیے سبب ہدایت بنتے ہیں، ایک ضلالت طلب انسان کے لیے سبب ضلالت بنا دیے جاتے ہیں۔ شمع روشن بھی اس کے سامنے آتی ہے تو راستہ دکھانے کے بجائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 25–30

خلاصہ تفسیر اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر (اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ۔ یہ " من اناب " کی تفصیل ہے اور ذکر اللہ سے مراد اللہ تعالیٰ کی صفات، اور اس کے دلائل و حجج کا وہ بیان ہے جو قرآن میں موجود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف رہنمائی انہی لوگوں کو فرماتا ہے جن کے دل اللہ کی صفات اور اس کے دلائل وبراہین سے طمانیت پاتے ہیں۔ جو لوگ یہ راہ نہیں اختیار کرتے وہ ہمیشہ ایمان سے محروم ہی اور معجزت کے مطالبے ہی کرتے رہتے ہیںَ ذکر اللہ میں مخالفت : اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ ، اب یہ اسل بات پورا زور دے کر فرمائی کہ کان کھول کر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 27–28

28۔ 1 اللہ کا ذکر سے مراد، اس کی توحید کا بیان ہے، جس سے مشرکوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا ہوجاتا ہے، یا اس کی عبادت، تلاوت قرآن، نوافل اور دعا و مناجات ہے جو اہل ایمان کے دلوں کی خوراک ہے یا اس کے احکام و فرامین کی اطاعت و بجا آوری ہے، جس کے بغیر اہل ایمان وتقویٰ بےقرار رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–30

26:: آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات دئے گئے تھے، لیکن کفار مکہ اپنی طرف سے نت نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور جب ان کا کوئی مطالبہ پورا نہ ہوتا تو وہ یہ بات کہتے تھے جو اس آیت میں مذکور ہے اور پیچھے آیت نمبر : 7 میں بھی گزری ہے، اس کا جواب آگے آیت نمبر 31 میں آرہا ہے، یہاں اس کا جواب دینے کے بجائے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ مطالبات ان کی گمراہی کی دلیل ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے ہدایت مانگے، اور حق کی طلب رکھتا ہو، ایسا شخص ایمان لانے کے بعد اس کے حقوق ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں سکون حاصل…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–32

آیت نمبر 27 تا 32 ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔ قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔ لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یہ خدا کی طرف رجوع کرنے والوں کا بیان ہوا۔ یعنی ان کو دولت ایمان نصیب ہوتی ہے اور ذکر اللہ (خدا کی یاد) سے چین اور اطمینان حاصل کرتے ہیں۔ کیونکہ سب سے بڑا ذکر تو قرآن ہے۔ (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :9) جسے پڑھ کر ان کے دلوں میں یقین کی کیفیت پیدا ہوتی ہے شبہات اور وساوس شیطانیہ دور ہو کر سکون و اطمینان میسر آتا ہے۔ ایک طرف اگر حق تعالیٰ کی عظمت و مہابت دلوں میں خوف و خشیت پیدا کرتی ہے تو دوسری طرف لا محدود رحمت و مغفرت کا ذکر قلبی سکون و راحت کے سامان بہم پہنچاتا ہے۔ غرض ان کا دل ہر طرف سے لوٹ کر ایک خدا کی طرف جم جاتا ہے اور ذکر اللہ کا نور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ دل اور روح کے لیے تسکین کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ کا ذکر ہے اس لیے کہ انسان کی روح اس کے دل کی مکین ہے اور روح کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی آیت 85 میں فرمایا گیا : وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ ”اور اے نبی ! یہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ فرمائیں کہ روح میرے پروردگار کے امر میں سے ہے“۔ لہٰذا جس طرح انسانی جسم کی حیات کا منبع source یہ زمین ہے اور جسم کی نشوونما اور تقویت کا سارا سامان زمین ہی سے مہیا ہوتا ہے اسی طرح انسانی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

37 اللہ کا ذکر دو طرح سے ہے۔ ایک ہر وقت اللہ کو اپنے دل میں یاد رکھنا۔ دوسرے زبان سے اس کے نام کا ورد کرتے رہنا اور حدیث میں ہے کہ سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ ہے یا پھر یہ قرآن ہے۔ جس کے متعلق فرمایا : (اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ۝) 15 ۔ الحجر :9) ذکر کے بیشمار فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اس سے اللہ پر توکل پیدا ہوتا ہے اور جس شخص کو صحیح معنوں میں صرف اللہ پر توکل کی نعمت نصیب ہوگئی۔ وہ مصائب و آلام میں کبھی نہیں گھبراتا، نہ اس کا دل ہی لذائذ دنیا پر ریجھتا ہے وہ ہر حال میں اللہ پر نظر رکھتا ہے اور اسے ایسا قلبی سکون اور راحت نصیب ہوتی ہے جس کا اندازہ وہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ (اور اس اطمینان کی بڑی اور اصلی علامت یہ کہ ان کا ایمان اللہ کے کلام پر قائم ہوگیا)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 27–31

آیت نمبر 27 تا 31 ترجمہ : اور اہل مکہ میں سے کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) عصا اور ید بیضاء اور ناقۂ صالح جیسی کیوں نہیں اتاری ہوگئی ؟ ان سے کہہ دو کہ اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کو بےراہ کردیتے ہیں نشانیاں (معجزات) اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے، اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مَنْ سے اَلَّذِیْن آمنوا، بدل ہے، جو لوگ ایمان لائے ان کے قلوب اللہ کے ذکر یعنی اس کے وعدہ سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی مومنوں کے دلوں کو تسلی ہوتی ہے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان کیلئے خوشحالی ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذین امنوا (ا اللہ کی طرف رجوع کرنے والے) وہ لوگ ہیں جو ایمان لے آئے۔ وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ اور ان کے دل اللہ کی یاد سے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ یعنی ان کے دلوں میں ایمان و یقین جم جاتا ہے ‘ ہر طرح کا شک زائل ہوجاتا ہے۔ ذکر سے مراد ہے : قرآن مجید اور اطمینان سے مراد ہے : ایمان ‘ کیونکہ ایمان دلوں کا سکون ہے اور نفاق دلوں کی بےچینی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی یاد سے شیطانی وسوسے زائل ہوجاتے ہیں (اس مطلب پر ذکر سے مراد ہوگی اللہ کی یاد ‘ صرف قرآن مراد نہ ہوگا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر آدمی کے دل کے دو خانے ہوتے ہیں : ایک خانہ میں فرشتہ (کا ظہور) ہوتا ہے اور دوسرے خانہ میں شیطان (کا ظہور) جب آدمی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) مراد اس سے وہ لوگ ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور قرآن کریم اور حلف باللہ سے ان کے دلوں کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے اچھی طرح جان لو کہ قرآن کریم سے دل کو سکون اور خوشی حاصل ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ۔۔ : یہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والوں کی صفت ہے، ذکر کا معنی نصیحت بھی ہے اور یاد کرنا بھی۔ اس لحاظ سے آیت کے دو معنی ہوسکتے ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ انھی کو اپنی طرف ہدایت دیتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل کو وحی الٰہی سے ملنے والی نصیحت سے پوری تسلی ہوجاتی ہے، اس کے سوا انھیں کہیں سے تسلی نہیں ہوتی، کوئی دوسرا اپنے خیال میں کیسی اچھی بات کیوں نہ کہے انھیں اس پر یقین نہیں ہوتا، کیونکہ وہ بھی ان جیسا انسان ہے، اس کی بات درست بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی، اس لیے اس پر انھیں اطمینان نہیں ہوتا، صرف اللہ کی بات ایسی ہے جو غلط نہیں ہوتی، اس لیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–28

آیت نمبر 27 تا 28 قولہ تعالیٰ : ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر واضح فرما دیا ہے کہ کفار کا سچائی پر دلالت کرنے والی ایک نشانی کو دیکھ لینے کے بعد رسولوں پر کئی نشانیوں کو پیش کرنے کا مطالبہ جہالت پر مبنی ہے اور یہ کہنے والے عبد اللہ بن ابی امیۃ اور اس کے وہ ساتھی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے نشانیوں کا مطالبہ کیا۔ قل ان اللہ عزوجل یضل من یشآء یعنی جس طرح اس نے کئی آیات کے نزول کے بعد تمہیں گمراہ کیا اور ان سے استدلال سے تمہیں محروم رکھا اسی طرح وہ ان کے علاوہ کئی آیات کے نزول کے وقت تمہیں گمراہ کرے گا۔ ویھدی الیہ من اناب۔ اناب سے مراد ہے جس نے رجوع کیا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–29

ذکر اللہ سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویھدی الیہ میں اناب “ یعنی جس نے توبہ کیا (آیت) ” وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ “ یعنی اللہ کے ذکر سے دل مانوس ہوتے ہیں اور اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذین امنوا وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ “ یعنی اگر ان کے لئے اللہ کی قسم کھائی جائے تو سچ کردکھاتے ہیں (آیت) ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “ یعنی اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِينَ : جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَتَطْمَىِٕنُّ : اور اطمینان پاتے ہیں ] [ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل ] [ بِذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کی یاد سے ] [ اَلَا : سن لو ] [ بِذِكْرِ اللّٰهِ : اللہ کی یاد سے ہی ] [ تَـطْمَىِٕنُّ : اطمینان پاتے ہیں ] [ الْقُلُوْبُ : دل ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 27–28

اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے : جب سیدنا رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور وہ لوگ بار بار یوں کہتے تھے کہ ہمارے کہنے کے مطابق آپ کی نبوت کی نشانی ظاہر ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے قرآن مجید میں ان کی جاہلانہ بات کا جگہ جگہ تذکرہ فرمایا کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کی طرف کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئی ‘ نشانیاں یعنی معجزات تو بہت تھے اور سب سے بڑا معجزہ قرآن ہی ہے جسے حق قبول کرنا ہو اس کے لیے یہی معجزات کافی تھے لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے ایسی بات کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ اے رسول ﷺ آپ ان سے فرما دیں کہ فرمائشی معجزے ظاہر کرنا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 27–32

رجوع بہ مبحت نبوت وبیان حال اہل سعادت و ایل شقاوت قال اللہ تعالیٰ ویقول اللذین کفروا ولا انزل علیہ ایۃ .... الیٰ .... فکیف کان عقاب۔ (ربط) اوپر سلسلہ کلام اہل حق اور اہل باطل کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس سے قبل وان تعجب فعجب قولہم میں نبوت کے متعلق مضمون تھا اب پھر اسی مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کافروں کا وہی سابق قول کہ محمد ﷺ پر ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا پھر نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر بہت سی آیات ظاہرہ اور معجزات قاہرہ نازل کی ہیں لیکن ہدایت اور ضلال سب اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 28–29

29:۔ یہ پہلے مذکورہ شکوی کا اعادہ ہے۔ یعنی اس پیغمبر پر ہمارا طلبیدہ معجزہ کیوں نہیں نازل کیا جاتا یہ کفار کی انتہائی ضد اور ہٹ دھرمی تھی کہ بڑے بڑے معجزے دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے اور مزید معجزوں کا مطالبہ محض عند و مکابرہ کی وجہ سے کرنے لگے۔ ” قُلْ اِنَّ اللہَ الخ “ جواب شکوی ہے یعنی تمہیں مزید معجزہ دکھانے سے کوئی فائدہ نہیں تم ضدی اور معاند ہو تم پھر بھی نہیں مانو گے ہدایت صرف وہی لوگ پاتے ہیں جن میں انابت ہو اور وہ ہدایت پانے کا سچا جذبہ رکھتے ہوں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–30

(ربط آیات) گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی نصیحت سے مستفید نہ ہونے والوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ یہ لوگ عہد کو توڑتے ہیں جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ، فرمایا ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا ٹھکانا ہوگا ، اگر ایسے نافرمان لوگوں کو دنیا میں وافر روزی نصیب ہو تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ رزق کی وسعت اللہ تعالیٰ کی حکمت پر منحصر ہوتی ہے ، دنیا کا مال واسباب خدا کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے ، یہ کسی شخص کے پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ، تاہم وہ ہر شخص کی صلاحیت کے مطابق…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَىِٕنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللّٰهِ ۭ اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَـطْمَىِٕنُّ الْقُلُوْبُ 28؀ۭ طمن الطُّمَأْنِينَةُ والاطْمِئْنَانُ : السّكونُ بعد الانزعاج . قال تعالی: وَلِتَطْمَئِنَّ بِهِ قُلُوبُكُمْ [ الأنفال/ 10] ، وَلكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي[ البقرة/ 260] ، يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ [ الفجر/ 27] ، وهي أن لا تصیر أمّارة بالسّوء، وقال تعالی: أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ [ الرعد/ 28] ، تنبيها أنّ بمعرفته تعالیٰ والإکثار من عبادته يکتسب اطْمِئْنَانَ النّفسِ المسئول بقوله : وَلكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي 106] ( ط م ن )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : الذین آمنوا مبتداء طوبٰی لہم جملہ خبر وحسن مآب جمہور کے نزدیک نون کا ضمہ مآب کی طرف اضافت ہے۔ معطوف ہے طوبیٰ پر وحسن بالفتح بھی پڑھا گیا ہے۔ طوبیٰ پر معطوف بنا کے اور اس کو جعل کا مفعول مان کر ولوان کا جواب محذوف ما آمنوا ان لو یشاء اللّٰہ مفعول لم یایئسبمعنی افلم یتبین لہدی الناس لوکا جواب تصیبہم کا فاعل قارعۃ واہیۃ تفرعہم او تحل کی ضمیر قارعۃ کی طرف پھرتی ہے وقیل للخطاب۔ تفسیر : اہل مکہ بار بار وہی شبہ کرتے تھے کہ کوئی معجزہ کیوں آنحضرت ﷺ ہمارے کہنے کے موافق ظاہر نہیں کرتے۔ ویقولون الخ اس کا جواب اگرچہ پہلے بھی دیا تھا مگر چونکہ انہوں نے پھر وہی سوال کیا تھا اس کا یہاں اور عمدہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–29

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ ط الَاَ بِذِکْرِاللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ طُوْبٰی لَہُمْ وَحُسْنُ مَاٰبٍ ۔ (سورۃ الرعد : 28۔ 29) (جو ایمان لاتے ہیں اور جن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے خوشخبری ہے اور اچھا ٹھکانا ہے۔ ) انابت الی اللہ کی وضاحت پیشِ نظر آیت کریمہ میں گزشتہ آیت کریمہ میں بیان کردہ مضمون کی مزید وضاحت فرمائی جارہی ہے۔ سابقہ آیت میں فرمایا کہ قریش مکہ کے ایمان نہ لانے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–29

فہم القرآن ربط کلام : عقیدۂ آخرت سے انحراف اور دنیا کے مال ومتاع پر اترانے کی وجہ سے منکرین حق کی ہٹ دھرمی۔ اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو من جانب اللہ قرار دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آفاق، جمادات اور نباتات کے حوالے سے اپنی ذات اور صفات کے بارے میں اتنے بھاری اور ٹھوس دلائل دیے ہیں کہ جن کا جواب دینا انسان کے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایسے ٹھوس اور بھاری دلائل ہیں کہ ان کا انکار کرنے والے کو اندھا قرار دیا گیا ہے۔ اسی اندھے پن کا نتیجہ تھا کہ کفار ٹھوس اور واضح دلائل کو تسلیم کرنے کی بجائے ہر بار مطالبہ کرتے کہ کوئی نیا معجزہ نازل کیا جائے۔ یہاں کفار کی کوتاہ بینی اور ہٹ دھرمی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28: اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (وہ لوگ جو ایمان لائے) ھم مبتداء مخدوف اور یہ خبر یا من کا بدل ہو کر محلاً منصوب ہے وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ (ان کے دل مطمئن ہوجاتے ہیں) تسکین حاصل کرتے ہیں۔ بِذِکْرِ اللّٰہِ (اللہ کے ذکر کے ساتھ) ہمیشہ یا نمبر 2۔ قرآن کے ساتھ نمبر 3۔ اسکے وعدوں کے ساتھ اَ لَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (خبردار اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سبب دل مطمئن ہوتے ہیں) اسکی یاد کی وجہ سے مسلمانوں کے دل مطمئن ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28۔” الذین امنوا “ یہ محل نصب میں واقع ہے ” من اناب “ سے بدل ہے۔ ” وتطمئن “ ان کے دل سکون میں ہوجاتے ہیں ۔ ” قلوبھم بذکر اللہ “ مقاتل کا بیان ہے کہ بذکر اللہ سے مراد قرآن ہے۔ دل کو سکون ہوتا ہے یقین کے ساتھ اور اضطراب ہوتا ہے شک کی بناء پر ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “ مؤمنین کے دلوں کو تسکین اور ان کا یقین پختہ ہوتا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اس سے مراد پختہ عہد ہے کہ جب کوئی مسلمان اللہ سے پختہ عہد کرتا ہے کسی چیز پر تو ان کے دل مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ سوال ، اگر کہا جائے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں ارشاد فرمایا ” انما المومنون الذین اذذکر اللہ جلت قلوبھم “ مؤمن وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–29

27۔ 29۔ یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ حضرت سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی کیوں نہیں اتری جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا ملا تھا اور صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی ملی تھی تم بھی صفا پہاڑ کو سونا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا یہ جواب ملا کہ اے رسول تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے اسے وہ ہدایت کرتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی تم ایمان نہیں لاؤ گے ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے علم الٰہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پائے وہ کسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 27–29

27- 29: اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، اللہ کے رسول سے بطریق تلسبیس بےسوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں (آیت) ” کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے “ یعنی ان کے زعم کے مطابق، ان اگر ان کے پاس معجزہ آگیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجئے ! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا۔ “ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ سے آیات و معجزات پر موقف قرار دیں، بایں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 28–29

75۔ فائز المرام لوگوں کی نشاندہی : سو اللہ کی طرف رجوع کرنے والے خوش نصیبوں کی صفت کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اطمینان ملتا ہے اللہ کے ذکر سے، اور پھر ذکر اللہ کی عظمت شان کے ذکر وبیان کے سلسلہ میں الا کے حرف تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ آگاہ رہو کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے، پس اللہ کے ذکر کے بغیر دلوں کو حقیقی سکون واطمینان نہیں مل سکتا، اور ذکر یعنی اللہ کی یاد دلشاد سے سرفرازی کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اس حکمتوں بھری کائنات اور اس میں موجود دلائل قدرت وحکمت اور آفاق وانفس کی نشانیوں میں غور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 28–30

اللہ کے ذکر کی فضیلت اور اس کی بڑائی تشریح : تمام دنیا کی نعمتیں ایک طرف اور اللہ کی یاد اس کا کلام ایک طرف۔ قرآن پاک کی جہاں اور بہت سی فضیلتیں اور برکتیں ہیں وہاں ایک بہت بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ جہاں دنیا کی کوئی چیز دل کو سکون نہ دے سکے وہاں ذکر الٰہی سکون دیتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ پوری توجہ اور خشوع و خضوع سے اس کو پکارا جائے اللہ کا ذکر کیا جائے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ہے۔ ” دل اللہ کی یاد ہی سے چین پاتے ہیں۔ “ ( سورة رعد آیت 28:) پھر رسول اللہ ﷺ کا درجہ ان کو بتاتے ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ آخری رسول ہیں۔ اچھے برے لوگ ہمیشہ موجود رہتے ہیں آپ ان سے بےنیاز ہو کر بس اللہ کی تعلیمات اور توحید…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 27–31

(رکوع نمبر 4) اسرارومعارف پ 13 ع 10 ” ویقول الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27 تا 31۔ کفار کا یہ کہنا کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں وہ ان سے کیوں صادر نہیں ہوتا اور ان کا پروردگار ایسی نشانی ان پر نازل کیوں نہیں فرماتا حالانکہ آپ کی پوری حیات مبارکہ بہت بڑا معجزہ ہے ، قرآن حکیم بہت بڑا معجزہ ہے اور اس کے علاوہ اس قدر معجزات کا ظہور ہوا کہ انسانی شمار سے باہر ہیں ، ان سب کو یہ کوئی اہمیت نہیں دے رہے تو جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اس کے پورا ہونے پر کب ایمان لائیں گے ، ان کا ایمان نہ لانا کسی معجزے کا محتاج نہیں بلکہ ان کے گناہوں کے سبب اللہ جل جلالہ نے ان پر ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہے اور ہمیشہ کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یہ ایمان کے خالص اور پختہ ہونے کی علامت ہے کہ ذہن خواہ کتنی ہی فکروں میں الجھا ہوا ہو لیکن جو نہی نماز شروع کرے یا اللہ کو یاد کرے تو تمام …ہوجائیں اور انسان حقیقی اطمینان قلب سے بہرہ ور ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 27–29

(13:27) اناب۔ اناب ینیب انابۃ (باب افعال) بار بار لوٹ کر آنا۔ اناب ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ رجوع ہوا۔ انایۃ الی اللہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ کی طرف رجوع ہونا۔ اور توبہ کرنا۔ النوب۔ کسی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ نوب ونوبۃ (باب نصر) مصدر۔ (13:28) الذین امنوا۔ اناب کا بدل ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے۔ وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ۔ اور جن کے دل ذکر الٰہی سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ان کو خداوند تعالیٰ اپنی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ (یھدی الیہ) ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–30

لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 30 لولا انزل کیوں نازل نہیں کیا گیا ایۃ نشانی۔ معجزہ یضل وہ گمراہ کرتا ہے۔ بھٹکا دیتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ راہ پر لگا دیتا ہے اناب رجوع کیا۔ لوٹا تطمئن مطمئن ہوتے ہیں بذکر اللہ اللہ کی یاد سے طوبی خوش حالی ہے۔ خوش خبری ہے ماب ٹھکانا امم امتیں لتتلوا تاکہ تو پڑھے او حینا ہم نے وحی کی یکفرون وہ انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں متاب لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا تشریح :- آیت نمبر 27 تا 30 جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لاتعداد معجزات عطا فرمائے ہیں البتہ سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جس کی موجودگی میں کسی دوسرے معجزے کا مطالبہ کرنا بڑی احمقانہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–29

یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی نہیں اتری جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کو ملی تھی، تم بھی صفا پہاڑ کو سونا کا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا جواب ملا کہ اے رسول اللہ کے ! تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے وہ ہدایت دیتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی ایمان نہیں لاؤگے۔ ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ علم الہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پاتے وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–30

[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 27–28

(ف 3) یہ انداز بیان ہے مقصود یہ نہیں کہ خدا گمراہی کو پسند کرتا ہے یہی وجہ ہے ، ہدایت کے لئے انابت کی وضاحت کردی ہے ، یعنی جو خدا کی طرف جھکے گا ، اسے ضرور ہدایت ہوگی ، اور جو انابت کی جذبے سے محروم ہے ، وہ ہدایت ونور سے کیونکر استفادہ کرسکتا ہے ۔ حل لغات : سوء الدار : برا انجام ۔ ویقدر : قدر کے معنی اندازہ کرنے کے بھی ہیں اور تنگ کرنے کی بھی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

28 ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ذکر الٰہی سے ان کے قلوب کو اطمینان میسر ہوا آگاہ رہو اور خوب یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے ذکر ہی سے دل مطمئن ہوا کرتے ہیں اور قلوب کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔ یعنی ان کا دل قرآن کریم سے مطمئن ہے اور قرآنی معجزات کے بعد بلاوجہ کسی اور معجزے کی فرمائش نہیں کرتے پھرتے بلکہ ایمان لانے کے لئے قرآن کریم کو کافی نشان سمجھتے ہیں تمام اذکار ہیں سب سے اہم اور سب سے بڑا ذکر قرآن کریم ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–28

ف 1۔ یعنی وہ قرآن کے اعجاز کو دلالت علی النبوة کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمایش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور طاعت میں انکو ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی۔ 2۔ یعنی جس مرتبہ کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان لانے والوں کے دل مطمئن ہیں اور ذکر الٰہی ان کے دلوں کے اطمینان کا باعث ہے 46 ؎ انسانی زندگی کا مطالعہ کروتم دیکھو گے کہ انسان زندگی کی آسائش و آرام کیلئے کیا کچھ ہے جو نہیں کرتا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس کے اختیار میں ہے وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ آرام و آسائش اس کو مل جائے جس سے دل کو قرار آئے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بےانتہا کوششوں کے باوجود اور ان گنت آسائشوں اور آرام حاصل کرنے کے باوجود دلوں کو قرار نہیں آتا بلکہ دل کے سارے امراض بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں جدھر دیکھو پریشانیاں ہی پریشانیاں ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ مال و دولت کے ڈھیروں ‘ زمینوں اور کارخانوں اور اقتدار کی کرسیوں میں دل کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 25–30

Commentary At the beginning of the section, human beings were divided into two kinds - those who are obedient to Allah Ta’ ala and those who are disobedient to Him. Then, enumerated there were some attributes and signs of the obedient servants of Allah and mention was made of the best of rewards for them in the Hereafter. Now, in the present verses, stated there are the attributes and signs, and punishments, of the other kind of people. One trait of character these disobedient and contumacious people have been reported to have الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ (And…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–29

43. Please also keep in view the answer that has been given to this question in (Ayat 7). 44. This is the answer to their question. It is not due to the lack of signs that they were going astray, but it is the lack of any desire in them to seek right guidance. For Allah does not force one to follow the right way, if he deliberately turns away from it. He lets such persons wander on the wrong ways they choose to wander. Nay, even all those things that should serve as a means to guidance for a seeker of truth become the means of deviation for the one who seeks deviation. So much so that the…

Read the full tafseer →