Explained with ayahs 27–29
مشرکین کے اعتراض
مشرکین کا ایک اعتراض بیان ہو رہا ہے کہ اگلے نبیوں کی طرح یہ ہمیں ہمارا کہا ہوا کوئی معجزہ کیوں نہیں دکھاتا ؟ اس کی پوری بحث کئی بار گزر چکی کہ اللہ کو قدرت تو ہے لیکن اگر پھر بھی یہ ٹس سے مس نہ ہوئے تو انہیں نیست و نابود کردیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ پر وحی آئی کہ ان کی چاہت کے مطابق میں صفا پہاڑ کو سونے کا کردیتا ہوں، زمین عرب میں میٹھے دریاؤں کی ریل پیل کردیتا ہوں، پہاڑی زمین کو زراعتی زمین سے بدل دیتا ہوں لیکن پھر بھی اگر یہ ایمان نہ لائے تو انہیں وہ سزا دوں گا جو کسی کو نہ ہوتی ہو۔ اگر چاہوں تو یہ کر دوں اور اگر چاہوں تو ان کے لئے توبہ اور رحمت کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
سورة الرَّعْد 43
اس سے پہلے آیت 7 میں اس سوال کا جو جواب دیا جا چکا ہے اسے پیش نظر رکھا جائے۔ اب دوبارہ ان کے اسی اعتراض کو نقل کر کے ایک دوسرے طریقے سے اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔
سورة الرَّعْد 44
یعنی جو اللہ کی طرف خود رجوع نہیں کرتا اور اس سے روگردانی اختیار کرتا ہے اسے زبردستی راہ راست دکھانے کا طریقہ اللہ کے ہاں رائج نہیں ہے۔ وہ ایسے شخص کو انہی راستوں میں بھٹکنے کو توفیق دے دیتا ہے جن میں وہ خود بھٹکنا چاہتا ہے۔ وہی سارے اسباب جو کسی ہدایت طلب انسان کے لیے سبب ہدایت بنتے ہیں، ایک ضلالت طلب انسان کے لیے سبب ضلالت بنا دیے جاتے ہیں۔ شمع روشن بھی اس کے سامنے آتی ہے تو راستہ دکھانے کے بجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر (اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 27 تا 32:۔ اب آگے یہ حقیقت واضھ کی جا رہی ہے کہ آفاق وانفس کی یہ دلیلیں جو ان کو سنائی جا رہی ہیں ان سے ان کا اطمینان نہیں ہورہا ہے۔ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کو کوئی حسی معجزہ دکھایا جائے تب وہ مانیں گے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے۔ ان کے اس مطالبے کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ ایمان و ہدایت کا راستہ اللہ کے کلام اور اس کے رسول کی باتوں پر غور کرنے سے کھلتا ہے۔ جو لوگ یہ راستہ نہیں اختیار کرتے وہ دنیا جہان کے معجزے دیکھ کر بھی اندھے ہی بنے رہتے ہیں۔ آیات ملاحظہ ہوں۔
وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
28۔ 1 اللہ کا ذکر سے مراد، اس کی توحید کا بیان ہے، جس سے مشرکوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا ہوجاتا ہے، یا اس کی عبادت، تلاوت قرآن، نوافل اور دعا و مناجات ہے جو اہل ایمان کے دلوں کی خوراک ہے یا اس کے احکام و فرامین کی اطاعت و بجا آوری ہے، جس کے بغیر اہل ایمان وتقویٰ بےقرار رہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
26:: آنحضرت ﷺ کو بہت سے معجزات دئے گئے تھے، لیکن کفار مکہ اپنی طرف سے نت نئے معجزات کی فرمائش کرتے رہتے تھے، اور جب ان کا کوئی مطالبہ پورا نہ ہوتا تو وہ یہ بات کہتے تھے جو اس آیت میں مذکور ہے اور پیچھے آیت نمبر : 7 میں بھی گزری ہے، اس کا جواب آگے آیت نمبر 31 میں آرہا ہے، یہاں اس کا جواب دینے کے بجائے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ مطالبات ان کی گمراہی کی دلیل ہیں، اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے، گمراہی میں پڑا رہنے دیتا ہے اور ہدایت اسی کو نصیب ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ سے رجوع کرکے ہدایت مانگے، اور حق کی طلب رکھتا ہو، ایسا شخص ایمان لانے کے بعد اس کے حقوق ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں سکون حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
آیت نمبر 27 تا 32
ان لوگوں کی تردید کا خلاصہ یہ ہے کہ دلوں کے اندر ایمان پیدا ہونے کا حقیقی سبب وقوع معجزات نہیں ہے۔ ایمان کے داعی اور اسباب خود کسی انسان کے نفس کے اندر موجود ہوتے ہیں اور انسان خود اپنی نفسیاتی کیفیات اور داخلی فطری دواعی کی وجہ سے ایمان لاتا ہے۔
قل ان اللہ۔۔۔۔۔ اناب (13 : 27) ” کہو اللہ جسے چاہتا ہے ، گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے “۔
لہٰذا اللہ صرف ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے جو اس کی طرف میلان رکھتے ہوں اور ان کا یہ میلان اور انابت الی اللہ کا جذبہ ہی ہے جس نے ان کو اہل ایمان بنایا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہوا کہ جو لوگ اللہ…
Read the full tafseer →10 سینکڑوں نشان دیکھتے تھے مگر وہ ہی مرغے کی ایک ٹانگ پکڑی ہوئی تھی کہ جو ہم کہتے جائیں وہ نشان دکھاؤ۔ مثلاً مکہ کے پہاڑوں کو ذرا اپنی جگہ سے سرکا کر کھیتی باڑی کے لیے زمین وسیع کردو۔ یا زمین کو پھاڑ کر چشمے اور نہریں نکال دو یا ہمارے پرانے بزرگوں کو دوبارہ زندہ کر کے ہم سے بات چیت کرا دو ۔ غرض کوئی نشان ایسا دکھلاؤ جو ہم کو ایمان لانے پر مجبور کر دے۔ اس کا جواب دیا کہ بیشک خدا ایسے نشان دکھلانے پر قدرت رکھتا ہے لیکن اس کی حکمت و عادت مقتضی نہیں کہ تمہاری فرمائشیں پوری کیا کرے ' پیغمبروں کی تصدیق کے لیے جس قدر ضرورت ہے اس سے زائد نشانات دکھلا چکا اور دکھارہا ہے۔ دوسرے سینکڑوں معجزات سے قطع…
Read the full tafseer →آیت 27 وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ
مشرکین مکہ کی ہٹ دھرمی ملاحظہ ہو بار بار ان کی اسی بات اور اسی دلیل کا ذکر ہو رہا ہے کہ محمد رسول اللہ پر کوئی حسی معجزہ کیوں نہیں اتارا گیا ؟
قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ
جو لوگ خود ہدایت کے طالب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں وہ انہیں نعمت ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔
Read the full tafseer →36 ایک ہی نشانی سے ہدایت بھی اور گمراہی بھی :۔ منکرین حق کا یہی اعتراض اس سورة کی آیت 7 میں بھی گزر چکا ہے وہاں جواب اور پہلو سے دیا گیا ہے اور یہاں ایک دوسرے پہلو سے دیا گیا ہے جو یہ ہے کہ ایک ہی چیز سے مختلف ذہن رکھنے والے لوگ مختلف نتیجہ اخذ کرتے ہیں۔ مثلا قرآن ہو یا قرآن کی آیات کائنات میں ہر سو بکھری ہوئی اللہ کی آیات ہوں یا حسی معجزات انہی چیزوں سے ہدایت کے طالب ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے مگر انہی چیزوں سے ہٹ دھرم لوگ انکار کردیتے ہیں۔ پھر یہی چیزیں ان کے انکار عناد اور ہٹ دھرمی اور گمراہی میں اضافہ کا سبب بن جاتی ہے۔ لہذا اگر ان کا مطالبہ پورا کر بھی دیا…
Read the full tafseer →51۔ یعنی یہ کافر از راہ طعن وعناد کہتے ہیں کہ یہ صاحب جو مدعی نبوت پیدا ہوئے ہیں، آخر اپنے خدا کے ہاں سے کوئی معجزہ ہماری پسند اور ہمارے معیار کے لائق لے کر کیوں نہیں آئے ہیں۔
52۔ (اور یہ رجوع وانابت بندہ کا فعل اختیاری ہے) اس فعل اختیاری کے اختیار پر اللہ کی طرف سے ترتب ہدایت کا وعدہ ہے۔ (آیت) ” یضل من یشآء “۔ یعنی جسے اپنی حکمت تکوینی کے ماتحت اسے گمراہ رکھنا ہی منظور ہوتا ہے۔ گمراہی کی بابت کئی بار اوپر آچکا ہے کہ یہ انہی کے نصیب میں آتی ہے جو اپنی فہم خداداد سے کام نہیں لیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
آیت نمبر 27 تا 31
ترجمہ : اور اہل مکہ میں سے کافر کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) عصا اور ید بیضاء اور ناقۂ صالح جیسی کیوں نہیں اتاری ہوگئی ؟ ان سے کہہ دو کہ اللہ جس کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں اس کو بےراہ کردیتے ہیں نشانیاں (معجزات) اس کو کچھ بھی فائدہ نہیں دیتے، اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اس کی اپنے دین کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور مَنْ سے اَلَّذِیْن آمنوا، بدل ہے، جو لوگ ایمان لائے ان کے قلوب اللہ کے ذکر یعنی اس کے وعدہ سے اطمینان حاصل کرتے ہیں، یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی مومنوں کے دلوں کو تسلی ہوتی ہے جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل بھی کئے ان کیلئے خوشحالی ہے اور…
Read the full tafseer →ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایق من ربہ (کھلے معجزات) اور واضح نشانات نبوت دیکھنے کے باوجود محض عناد اور سرتابی کے زیر اثر (من مانے) معجزات و نشانات کے یہ کافر طلبگار ہوتے ہیں اور کہتے ہیں : محمد ﷺ پر کوئی (ایسی) نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی (جو ان کی صداقت کی شہادت دیتی) ۔
قل اللہ اللہ یضل من یشاء آپ کہہ دیجئے کہ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ گمراہ کردیتا ہے۔ یعنی نزول آیات اور قیام معجزات میں کوئی کمی نہیں مگر (گمراہی اور ہدایت اللہ کے قبضہ میں ہے) آیات و معجزات کا کام (راہنمائی ہے) ہدایت بخشی نہیں (ہدایت بخش تو اللہ ہے) ہدایت و گمراہی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یاب کرتا ہے…
Read the full tafseer →(27) اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ پر انکی نبوت کی تصدیق کے لیے کوئی معجزہ کیوں نازل نہیں کیا گیا جیسا کہ سابقہ رسولوں پر معجزات نازل کیے گئے۔
اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہیں اپنے دین سے بےپرواہ کردیں جو اسی چیز کا مستحق ہو اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اسے اپنے دین کی ہدایت کردیتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔۔ : ایسی نشانی کیوں نہیں اتری جسے دیکھ کر ہم اسے اللہ کا رسول مان لینے پر مجبور ہوجاتے، مثلاً دیکھیے سورة بنی اسرائیل (90 تا 93) میں ان کی فرمائشیں۔
قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ۔۔ : یعنی نشانی کے اترنے سے کچھ نہیں ہوتا، کیونکہ تمہارے اب تک ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تم نے کوئی نشانی نہیں دیکھی، نشانیاں تو بیحد و حساب موجود ہیں، مگر پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کمال حکمت والا ہے اور اپنی رحمت کا خود مالک ہے، جسے چاہے اپنی حکمت کی بنا پر اپنی رحمت و ہدایت سے محروم، یعنی گمراہ رکھے اور جسے چاہے اپنی رحمت و ہدایت سے نواز دے۔ دوسری بات یہ کہ تم اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
آیت نمبر 27 تا 28
قولہ تعالیٰ : ویقول الذین کفروا لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ اللہ تعالیٰ نے کئی مقامات پر واضح فرما دیا ہے کہ کفار کا سچائی پر دلالت کرنے والی ایک نشانی کو دیکھ لینے کے بعد رسولوں پر کئی نشانیوں کو پیش کرنے کا مطالبہ جہالت پر مبنی ہے اور یہ کہنے والے عبد اللہ بن ابی امیۃ اور اس کے وہ ساتھی ہیں جنہوں نے نبی کریم ﷺ سے نشانیوں کا مطالبہ کیا۔ قل ان اللہ عزوجل یضل من یشآء یعنی جس طرح اس نے کئی آیات کے نزول کے بعد تمہیں گمراہ کیا اور ان سے استدلال سے تمہیں محروم رکھا اسی طرح وہ ان کے علاوہ کئی آیات کے نزول کے وقت تمہیں گمراہ کرے گا۔ ویھدی الیہ من اناب۔ اناب سے مراد ہے جس نے رجوع کیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
ذکر اللہ سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویھدی الیہ میں اناب “ یعنی جس نے توبہ کیا (آیت) ” وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ “ یعنی اللہ کے ذکر سے دل مانوس ہوتے ہیں اور اس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الذین امنوا وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ “ یعنی اگر ان کے لئے اللہ کی قسم کھائی جائے تو سچ کردکھاتے ہیں (آیت) ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “ یعنی اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون حاصل ہوتا ہے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد…
Read the full tafseer →[وَيَقُوْلُ : اور کہتے ہیں ] [ الَّذِينَ : وہ لوگ جنھوں نے ] [ كَفَرُوْا : کفر کیا ] [ لَوْلَآ : کیوں نہیں ] [ انزِلَ : اتاری جاتی ] [ عَلَيْهِ : ان ﷺ پر ] [ اٰيَةٌ : کوئی نشانی ] [مِّنْ رَّبِهٖ : ان کے رب (کی طرف) سے ] [قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [ ان : بیشک اللہ ] [اللّٰهَ : اللہ ] [يُضِلُّ : گمراہ کرتا ہے ] [مَنْ : اس کو جس کو ] [ يَّشَاۗءُ : وہ چاہتا ہے ] [ وَيَهْدِيْٓ: اور وہ ہدایت دیتا ہے ] [اِلَيْهِ : اپنی طرف ] [ مَنْ : اس کو جس نے ] [ انابَ : رخ کیا (اس کی طرف)]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
اللہ تعالیٰ کے ذکر سے قلوب کو اطمینان حاصل ہوتا ہے :
جب سیدنا رسول اللہ ﷺ اہل مکہ کو توحید کی دعوت دیتے تھے اور وہ لوگ بار بار یوں کہتے تھے کہ ہمارے کہنے کے مطابق آپ کی نبوت کی نشانی ظاہر ہوجائے تو ہم ایمان لے آئیں گے قرآن مجید میں ان کی جاہلانہ بات کا جگہ جگہ تذکرہ فرمایا کہ وہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ ان کی طرف کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کی گئی ‘ نشانیاں یعنی معجزات تو بہت تھے اور سب سے بڑا معجزہ قرآن ہی ہے جسے حق قبول کرنا ہو اس کے لیے یہی معجزات کافی تھے لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے ایسی بات کرتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ اے رسول ﷺ آپ ان سے فرما دیں کہ فرمائشی معجزے ظاہر کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
رجوع بہ مبحت نبوت وبیان حال اہل سعادت و ایل شقاوت
قال اللہ تعالیٰ ویقول اللذین کفروا ولا انزل علیہ ایۃ .... الیٰ .... فکیف کان عقاب۔
(ربط) اوپر سلسلہ کلام اہل حق اور اہل باطل کے بارے میں چلا آرہا ہے اور اس سے قبل وان تعجب فعجب قولہم میں نبوت کے متعلق مضمون تھا اب پھر اسی مضمون کی طرف رجوع کرتے ہیں اور کافروں کا وہی سابق قول کہ محمد ﷺ پر ہماری فرمائش کے مطابق معجزہ نازل کیوں نہیں ہوتا پھر نقل کرکے اس کا جواب دیتے ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ پر بہت سی آیات ظاہرہ اور معجزات قاہرہ نازل کی ہیں لیکن ہدایت اور ضلال سب اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے مطلب یہ…
Read the full tafseer →28:۔ یہ ساتویں عقلی دلیل ہے۔ ساری کائنات کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ روزی کی کمی بیشی بھی اسی کے اختیار میں ہے۔ اگر کسی کے پاس دولت وافر آجائے تو یہ اس کا کمال نہیں بلکہ محض اللہ کی دین ہے اس پر اسے مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ ” وَ فَرِحُوْا الخ “ دنیوی مال و دولت کی وجہ سے وہ خوش ہیں اور دولت کے غرور میں حق کا انکار کر رہے ہیں اور اخرت کی پروا نہیں کرتے حالانکہ دنیوی ساز و سامان اور مال و متاع آخرت کے مقابلے میں نہیں حقیر اور قلیل ہے۔ مَتَاعٌ کی تنوین تقلیل و تحقیر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی نصیحت سے مستفید نہ ہونے والوں کے اوصاف بیان ہوئے کہ یہ لوگ عہد کو توڑتے ہیں جس چیز کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اس کو کاٹتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ، فرمایا ایسے لوگوں کے لیے اللہ کی لعنت اور آخرت میں برا ٹھکانا ہوگا ، اگر ایسے نافرمان لوگوں کو دنیا میں وافر روزی نصیب ہو تو اس سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ رزق کی وسعت اللہ تعالیٰ کی حکمت پر منحصر ہوتی ہے ، دنیا کا مال واسباب خدا کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے ، یہ کسی شخص کے پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ، تاہم وہ ہر شخص کی صلاحیت کے مطابق…
Read the full tafseer →وَيَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَيْهِ اٰيَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ يُضِلُّ مَنْ يَّشَاۗءُ وَيَهْدِيْٓ اِلَيْهِ مَنْ اَنَابَ 27 ڻ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
2 ؎ دنیاوی تکالیف پر اور عبادت کی تکالیف پر اور نفس کے روکنے میں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ط قُلْ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ ۔ (سورۃ الرعد : 27)
(اور جنھوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کیوں نہیں اتاری گئی اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی۔ کہہ دیجیے ! بیشک اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ اور اپنی طرف رہنمائی ان لوگوں کی فرماتا ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ )
کفار کا مطالبہ اور اس کا جواب
قرآن کریم کی مکی سورتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب وہ نبی کریم ﷺ کی دعوت اور آپ ﷺ کے دلائل کے سامنے بےبسی محسوس کرنے لگتے تھے تو پھر ان کی زبانوں پر ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
فہم القرآن
ربط کلام : عقیدۂ آخرت سے انحراف اور دنیا کے مال ومتاع پر اترانے کی وجہ سے منکرین حق کی ہٹ دھرمی۔
اس سورة مبارکہ کی پہلی آیت میں قرآن مجید کو من جانب اللہ قرار دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آفاق، جمادات اور نباتات کے حوالے سے اپنی ذات اور صفات کے بارے میں اتنے بھاری اور ٹھوس دلائل دیے ہیں کہ جن کا جواب دینا انسان کے تصور سے ماوراء ہے۔ یہ ایسے ٹھوس اور بھاری دلائل ہیں کہ ان کا انکار کرنے والے کو اندھا قرار دیا گیا ہے۔ اسی اندھے پن کا نتیجہ تھا کہ کفار ٹھوس اور واضح دلائل کو تسلیم کرنے کی بجائے ہر بار مطالبہ کرتے کہ کوئی نیا معجزہ نازل کیا جائے۔ یہاں کفار کی کوتاہ بینی اور ہٹ دھرمی کا…
Read the full tafseer →کفار کا اعتراض :
27: وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِہٖ (اور کہتے ہیں کافر کیوں نہیں اتاری جاتی اس پر کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے) وہ نشانی جو ہم مانگتے ہیں۔ قُلْ اِنَّ اللّٰہَ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآ ئُ ( کہہ دیں بیشک اللہ تعالیٰ جسکو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے) معجزات کے ظہور کے بعد منہ مانگی نشانیوں کا مطالبہ کر کے۔ وَیَھْدِیْ اِلَیْہِ مَنْ اَنَابَ (اور وہ راہنمائی کرتا ہے اسکی طرف اسکو جو متوجہ ہوتا ہے) اور اپنے دین کی طرف اسکی راہنمائی کرتا ہے جو دل سے اسکی طرف رجوع کرے۔
Read the full tafseer →27۔” ویقول الذین کفروا “ اس سے مراد اہل مکہ ہیں ۔ ” لو لا انزل علیہ آیۃ من ربہ قل ان اللہ یضل من یشاء ویھدی الیہ من اناب “ جس کی توجہ کو اپنی طرف پھیرنا چاہتا ہے پھیر دیتا ہے اور بعض نے کہا کہ اس کو دین کی طرف ہدایت دے دیتا ہے جو دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27۔ 29۔ یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ حضرت سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی کیوں نہیں اتری جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا ملا تھا اور صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی ملی تھی تم بھی صفا پہاڑ کو سونا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا یہ جواب ملا کہ اے رسول تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع ہوتا ہے اسے وہ ہدایت کرتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی تم ایمان نہیں لاؤ گے ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے علم الٰہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پائے وہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
27- 29:
اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں، اللہ کے رسول سے بطریق تلسبیس بےسوچے سمجھے سوال کرتے ہیں اور کہتے ہیں (آیت) ” کیوں نہ اتری اس پر کوئی نشانی اسکے رب کی طرف سے “ یعنی ان کے زعم کے مطابق، ان اگر ان کے پاس معجزہ آگیا ہوتا تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو جواب دیتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” کہہ دیجئے ! اللہ گمراہ کرتا ہے جس کو چاہے اور راہ دکھلاتا ہے اپنی طرف اس کو جس نے رجوع کیا۔ “ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گار ہوا۔ پس ہدایت اور گمراہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے کہ وہ سے آیات و معجزات پر موقف قرار دیں، بایں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
73۔ منکرین کے سبب انکاروتکذیب کی نشاندہی :
سو اس ارشاد سے منکرین کے کفر وانکار اور ان کی تکذیب حق کے اصل سبب کی نشاندہی فرمائی گئی کہ یہ لوگ دنیاوی زندگی اور اس کے متاع قلیل پر ریجھے ہوئے اور اسی پر مست ومگن ہیں اور ان کے ساری تگ ودو اور دوڑ دھوپ کا محورومدار یہی دنیاوی زندگی اور اس کمی وقتی لذات اور عیش کوشیاں ہیں یہ اس سے آگے کچھ دیکھنے اور ماننے کے لیے تیارہی نہیں اور دنیاوی مال و متاع کے حصول کو ہی سب کچھ سمجھ رہے ہیں حالانکہ دنیاوی مال و متاع کی حق کے مقابلے میں نہ کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی اس کا حصول انسان کے اپنے بس میں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ کی اپنی مشیت مطلقہ کے ماتحت اور اسی کے تابع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
برے لوگ اور ان کا مطالبہ
تشریح : یہاں دوسرے گروہ، یعنی کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے قطع رحمی ہو اور فساد پھیلے یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا، یعنی یہ لوگ مسلمان کے بالکل الٹ کام کرتے ہیں اسی لیے ان کے لیے برے گھر اور لعنت کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کفار کو جو کچھ عیش و آرام دنیا میں دیا گیا ہے تو وہ صرف اللہ کی مرضی اور اس کی تقسیم رزق کا اپنا طریقہ ہے۔ رزق وہ کفار مشرکین اور مسلمانوں سب کو دیتا ہے مگر یہ صرف اس دنیا کی زندگی کا ہی حصہ ہے جب کہ اصل نعمتیں، عیش و آرام تو آخرت میں ملیں گی۔ کیونکہ کافر سب کچھ اسی دنیا کو سمجھتا ہے۔ نہ اللہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–31
(رکوع نمبر 4)
اسرارومعارف
پ 13 ع 10 ” ویقول الذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 27 تا 31۔
کفار کا یہ کہنا کہ جو معجزہ ہم طلب کرتے ہیں وہ ان سے کیوں صادر نہیں ہوتا اور ان کا پروردگار ایسی نشانی ان پر نازل کیوں نہیں فرماتا حالانکہ آپ کی پوری حیات مبارکہ بہت بڑا معجزہ ہے ، قرآن حکیم بہت بڑا معجزہ ہے اور اس کے علاوہ اس قدر معجزات کا ظہور ہوا کہ انسانی شمار سے باہر ہیں ، ان سب کو یہ کوئی اہمیت نہیں دے رہے تو جس بات کا یہ مطالبہ کرتے ہیں اس کے پورا ہونے پر کب ایمان لائیں گے ، ان کا ایمان نہ لانا کسی معجزے کا محتاج نہیں بلکہ ان کے گناہوں کے سبب اللہ جل جلالہ نے ان پر ہدایت کا دروازہ بند کردیا ہے اور ہمیشہ کی…
Read the full tafseer →ف 10 ۔ جسے دیکھ کر اسے ہم خدا کا رسول مان لینے پر مجبور ہوجاتے مثلاً یہ کہ مکہ کے پہاڑ سونے کے ہوجاتے یا کوئی فرشتہ سامنے آجاتا۔
11 ۔ یعنی نشانی کے اترنے سے کچھ نہیں ہوتا کیونکہ تمہارے اب تک ایمان نہ لانے کی یہ وجہ نہیں ہے کہ تم نے کوئی نشانی نہیں دیکھی۔ نشانیاں تو بےحد و حساب موجود ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ تم راہ حق کی جستجو نہیں رکھتے اگر تمہاری خواہش اور جستجو ہوتی تو صرف قرآن کی نشانی کو دیکھ کر راہ حق کو پالیتے کیونکہ یہ کتاب واضح دلائل سے لبریز ہے۔ (از ابن کثیر۔ روح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(13:27) اناب۔ اناب ینیب انابۃ (باب افعال) بار بار لوٹ کر آنا۔ اناب ماضی واحد مذکر غائب ۔ وہ رجوع ہوا۔ انایۃ الی اللہ کے معنی اخلاص عمل اور دل سے اللہ کی طرف رجوع ہونا۔ اور توبہ کرنا۔ النوب۔ کسی چیز کا بار بار لوٹ کر آنا۔ نوب ونوبۃ (باب نصر) مصدر۔
(13:28) الذین امنوا۔ اناب کا بدل ہے۔ یعنی جو لوگ ایمان لائے۔ وتطمئن قلوبہم بذکر اللہ۔ اور جن کے دل ذکر الٰہی سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ان کو خداوند تعالیٰ اپنی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔ (یھدی الیہ) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
لغات القرآن آیت نمبر 27 تا 30
لولا انزل کیوں نازل نہیں کیا گیا ایۃ نشانی۔ معجزہ یضل وہ گمراہ کرتا ہے۔ بھٹکا دیتا ہے یھدی وہ ہدایت دیتا ہے۔ راہ پر لگا دیتا ہے اناب رجوع کیا۔ لوٹا تطمئن مطمئن ہوتے ہیں بذکر اللہ اللہ کی یاد سے طوبی خوش حالی ہے۔ خوش خبری ہے ماب ٹھکانا امم امتیں لتتلوا تاکہ تو پڑھے او حینا ہم نے وحی کی یکفرون وہ انکار کرتے ہیں۔ کفر کرتے ہیں متاب لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانا
تشریح :- آیت نمبر 27 تا 30
جیسا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو لاتعداد معجزات عطا فرمائے ہیں البتہ سب سے بڑا معجزہ قرآن کریم ہے جس کی موجودگی میں کسی دوسرے معجزے کا مطالبہ کرنا بڑی احمقانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
یہ وہی پرانا سوال ہے جو کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے کہ تم پر کوئی نشانی ایسی نہیں اتری جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کو ملی تھی، تم بھی صفا پہاڑ کو سونا کا بنا دو ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے سوال کا جواب ملا کہ اے رسول اللہ کے ! تم کہہ دو خدا جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے وہ ہدایت دیتا ہے اگر کل نشانیاں تمہاری فرمائش کے موافق بھی آجائیں تو بھی ایمان نہیں لاؤگے۔ ہدایت تو وہی شخص پاتا ہے جو خدا کی طرف مائل ہوتا ہے اور جس کا دل اس کی یاد سے ٹھنڈا ہوتا ہے۔ علم الہی میں جو لوگ ایسے نہیں قرار پاتے وہ کسی معجزہ کو دیکھ کر ایمان نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
(ف 3) یہ انداز بیان ہے مقصود یہ نہیں کہ خدا گمراہی کو پسند کرتا ہے یہی وجہ ہے ، ہدایت کے لئے انابت کی وضاحت کردی ہے ، یعنی جو خدا کی طرف جھکے گا ، اسے ضرور ہدایت ہوگی ، اور جو انابت کی جذبے سے محروم ہے ، وہ ہدایت ونور سے کیونکر استفادہ کرسکتا ہے ۔
حل لغات :
سوء الدار : برا انجام ۔ ویقدر : قدر کے معنی اندازہ کرنے کے بھی ہیں اور تنگ کرنے کی بھی ۔
Read the full tafseer →27 ۔ اور جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کر رکھی ہے وہ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر کے رب کی جانب سے کوئی ہمارا منہ مانگا اور فرمائشی نشان اور معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ۔ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے گمراہ رکھتا ہے اور وہ اس شخص کو اپنا راہ دکھاتا ہے اور اپنی جانب اس کی رہنمائی کرتا ہے جو اس کی جانب متوجہ ہوتا ہے اور اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔
یعنی قرآن شریف جس کی ہر آیت معجزہ اور ایک نشانی ہے تم کو جب کافی نہیں ہے تو فرمائشی معجزہ دکھانے سے کیا ہوگا ہدایت تو اس کو نصیب ہوتی ہے جو ہدایت کا خواہش مند ہو اور ہماری جانب رجوع کرے معاندانہ سرگرمیوں جاری کھتے ہوئے ہدایت میسر نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 1۔ یعنی وہ قرآن کے اعجاز کو دلالت علی النبوة کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمایش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور طاعت میں انکو ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی۔
2۔ یعنی جس مرتبہ کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →کافروں کا پرانا مطالبہ کہ پیغمبر اسلام پر کوئی آیت کیوں نہیں اتاری گئی ؟
45 ؎ ڈھیٹ اور ضدی کس کو کہتے ہیں ؟ وہی جو اپنی بات کو بار بار دہراتا جائے اور یہ نہ سمجھے کہ میں نے جب ایک بار بات کہہ دی اور اس کا جواب حاصل کرلیا اب دوبارہ اس بات کے دہرانے کا فائدہ ؟ لیکن کفار کا یہی وطیرہ تھا کہ ہر بار نئے نئے نشانات طلب کرتے اور بار بار اپنے مطالبہ کو دہراتے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ تم کتنے ضدی اور کتنے ڈھیٹ ہو کہ ایک ہی بات بار بار دہراتے چلے جاتے ہو کیا تم کو کوئی نشانی نہیں دکھائی گئی ہے غور کرو کہ سب سے بڑی نشانی تو خود پیغمبر اسلام کا وجود با مسعود ہے کہ کسی کے سامنے تہ زانو نہ کر کے تم کو راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
Commentary
At the beginning of the section, human beings were divided into two kinds - those who are obedient to Allah Ta’ ala and those who are disobedient to Him. Then, enumerated there were some attributes and signs of the obedient servants of Allah and mention was made of the best of rewards for them in the Hereafter.
Now, in the present verses, stated there are the attributes and signs, and punishments, of the other kind of people. One trait of character these disobedient and contumacious people have been reported to have الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ (And…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
43. Please also keep in view the answer that has been given to this question in (Ayat 7).
44. This is the answer to their question. It is not due to the lack of signs that they were going astray, but it is the lack of any desire in them to seek right guidance. For Allah does not force one to follow the right way, if he deliberately turns away from it. He lets such persons wander on the wrong ways they choose to wander. Nay, even all those things that should serve as a means to guidance for a seeker of truth become the means of deviation for the one who seeks deviation. So much so that the…
Read the full tafseer →