مسئلہ رزق
اللہ جس کی روزی میں کشادگی دینا چاہے قادر ہے، جسے تنگ روزی دینا چاہے قادر ہے، یہ سب کچھ حکمت وعدل سے ہو رہا ہے۔ کافروں کو دنیا پر ہی سہارا ہوگیا۔ یہ آخرت سے غافل ہوگئے سمجھنے لگے کہ یہاں رزق کی فراوانی حقیقی اور بھلی چیز ہے حالانکہ دراصل یہ مہلت ہے اور آہستہ پکڑ کی شروع ہے لیکن انہیں کوئی تمیز نہیں۔ مومنوں کو جو آخرت ملنے والی ہے اس کے مقابل تو یہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں یہ نہایت ناپائیدار اور حقیر چیز ہے آخرت بہت بڑی اور بہتر چیز۔ لیکن عموما لوگ دینا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کر کے فرمایا کہ اسے کوئی سمندر میں ڈبو لے اور دیکھے کہ اس میں کتنا…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 42
اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عام جہلاء کی طرح کفار مکہ بھی عقیدہ و عمل کے حسن و قبح کو دیکھنے کے بجائے امیری اور غریبی کے لحاظ سے انسانوں کی قدر و قیمت کا حساب لگاتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ جسے دنیا میں خوب سامان عیش مل رہا ہے وہ خدا کا محبوب ہے، خواہ ہو کیسا ہی گمراہ و بدکار ہو۔ اور جو تنگ حال ہے وہ خدا کا مغضوب ہے خواہ وہ کیسا ہی نیک ہو۔ اسی بنیاد پر وہ قریش کے سرداروں کو نبی ﷺ کے غریب ساتھیوں پر فضیلت دیتے تھے اور کہتے تھے کہ دیکھ لو، اللہ کس کے ساتھ ہے۔ اس پر متنبہ فرمایا جا رہا ہے کہ رزق کی کمی و بیشی کا معاملہ اللہ کے ایک دوسرے ہی قانون سے تعلق رکھتا ہے جس میں بیشمار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر (اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ وَفَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۔
اصل تقدیر کلام یوں ہے۔ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر لمن یشاء۔ قرینہ کی وضاحت کے سبب سے ایک جگہ لمن یشاء کو حذف کردیا۔ " قدر " کے معنی تو اندازہ کرنے کے ہیں لیکن یہاں یہ تنگ کردینے کے معنی میں ہے۔ لفظ " متاع " کی تنکیر تقلیل کے مفہوم پر دلیل ہے۔
اصل سبب انکار کی وضاحت : اب یہ ان منکرین کے اصل سبب انکار و تکذیب کو واضح فرمایا جا رہا ہے کہ ان کو جو دنیا کی نعمتیں ملی ہیں ان کے سبب سے یہ غرور اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے ہیں اور پیغمبر کی طرف سے…
Read the full tafseer →26۔ 1 جب کافروں اور مشرکوں کے لئے یہ کہا کہ ان کے لئے برا گھر ہے، تو ذہن میں یہ اشکال
آ سکتا ہے کہ دنیا میں تو انھیں ہر طرح کی آسائشیں اور سہولتیں مہیا ہیں۔ اس کے ازالے کے لئے فرمایا کہ دنیاوی اسباب اور رزق کی کمی بیشی یہ اللہ کے اختیار میں ہے وہ اپنی حکمت و مشیت، جس کو صرف وہی جانتا ہے، کے مطابق کسی کو زیادہ دیتا ہے کسی کو کم رزق کی فروانی، اس بات کی دلیل ؛ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہے اور کمی کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔
26۔ 2 کسی کو اگر دنیا کا مال زیادہ مل رہا ہے، باوجودیکہ وہ اللہ کا نافرمان ہے تو یہ مقام فرحت و مسرت نہیں، کیونکہ یہ استدراج ہے، مہلت ہے پتہ نہیں کب…
Read the full tafseer →25: پیچھے یہ بتایا گیا تھا کہ جو لوگ دین حق کو جھٹلا رہے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس پر کسی کو شبہہ ہوسکتا تھا کہ دنیا میں تو ان لوگوں کو خوب رزق مل رہا ہے اور بظاہر وہ خوش حال نظر آتے ہیں۔ اس آیت میں اس شبہ کا جواب دیا گیا ہے کہ دنیا میں رزق کی فراوانی یا اس کی تنگی کا اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبولیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی حکمت بالغہ کے تحت رزق خوب عطا فرماتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رزق کی تنگی میں مبتلا کردیتا ہے۔۔ کافر لوگ اگرچہ یہاں کی خوش حالی پر مگن ہیں۔ مگر انہیں یہ اندازہ نہیں کہ اس چند دن کی زندگی کا عیس آخرت کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 26
اس سے قبل اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ ایک شخص اس حقیقت کو جانتا ہے اور مانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جو سچائی نازل ہو رہی ہے ، وہ حق ہے ، وہی دانشمند اور عقلمند ہے اور جو نہیں جانتا وہ اعمیٰ ہے۔ اب یہاں اہل کفر کی کم عقلی اور اندھے پن کی کچھ مثالیں دی جاتی ہیں کہ یہ لوگ اس کائنات میں اللہ کی آیات و نشانات کو نہیں دیکھ پا رہے۔ دانشوروں کے لئے یہ تو قرآن ہی کافی معجزہ ہے لیکن عقل کے یہ کورے قرآن سے بھی بڑا کوئی معجزہ طلب کرتے ہیں۔ سورة کے پہلے حصے میں ان کے مطالبات کا ذکر ہوچکا ہے اور وہاں یہ جواب بھی دے دیا گیا تھا کہ رسول تو صرف ڈرانے والا ہے اور معجزات کا صدور اللہ کے اختیار…
Read the full tafseer →8 یعنی دنیا کے عیش و فراخی کو دیکھ کر سعادت و شقاوت کا فیصلہ نہیں ہوتا۔ نہ یہ ضروری ہے کہ جس کو دنیا میں خدا نے رزق اور پیسہ زیادہ دیا ہے وہ اس کی بارگاہ میں مقبول ہو۔ بہت سے مقبول بندے بطور آزمائش و امتحان یہاں عسرت کی زندگی بسر کرتے ہیں اور مردود مجرموں کو ڈھیل دی جاتی ہے وہ مزے اڑاتے ہیں۔ یہ ہی دلیل اس کی ہے کہ اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی ہے جہاں ہر شخص کو اس کے نیک و بداعمال کا پورا پھل مل کر رہے گا۔ بہرحال دنیا کی تنگی و فراخی مقبول و مردود ہونے کا معیار نہیں بن سکتا۔
9 یعنی اسی کو مقصود سمجھ کر اتراتے اور اکڑتے ہیں۔ حالانکہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی محض ہیچ ہے جیسے ایک شخص…
Read the full tafseer →وَفَرِحُوْا بالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ
جو لوگ اخروی زندگی کے انعامات کے امیدوار نہیں ہیں ان کی جہد و کوشش کی جولان گاہ یہی دنیوی زندگی ہے۔ ان کی تمام تر صلاحیتیں اسی زندگی کی آسائشوں کے حصول میں صرف ہوتی ہیں اور وہ اس کی زیب وزینت پر فریفتہ اور اس میں پوری طرح مگن ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے اس طرز عمل پر بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں حالانکہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع قلیل و حقیر کے سوا کچھ بھی نہیں۔
Read the full tafseer →35 مال ودولت کی فراوانی اللہ کی نظر رحمت کی دلیل نہیں :۔ دنیا دار لوگوں کا ہمیشہ سے یہی دستور رہا ہے کہ وہ کسی شخص کی قدر و قیمت کو مال و دولت اور دنیوی جاہ و حشم کے پیمانوں سے ناپتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ جو شخص جس قدر خوشحالی سے زندگی بسر کر رہا ہے اتنا ہی اس کا پروردگار اس پر مہربان ہے اور کسی کی معیشت کا تنگ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ اس سے ناراض ہے۔ اس آیت میں اسی نظریہ کی تردید کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ رزق کی کمی بیشی کے لیے ایک دوسرا ہی قانون ہے جس میں دوسری قسم کی مصلحتیں ہیں دنیا میں رزق کی کمی بیشی کا انسان کی ہدایت اور فلاح و نجات سے کچھ تعلق نہیں بلکہ رزق…
Read the full tafseer →49۔ (اس انتظام تکوینی کو مقبولیت وعدم مقبولیت سے کوئی تعلق نہیں) بعض گم کردۂ راہ قوموں اور فرقوں نے حق و باطل کا معیار معیشت کی خوشحالی و فارغ البالی اور تنگ دستی اور بدحالی کو سمجھا ہے، یہاں اس کی پوری تردید ہورہی ہے، اور ارشاد ہو رہا ہے کہ اس کا تعلق تمامتر مشیت تکوینی سے ہے، (آیت) ” یقدر “۔ کے معنی یہاں تنگ کردینے کے لیے گئے ہیں، جیسا کہ سیاق سے بالکل ظاہر ہے، قال المفسرون معنی یقدر ھھنا یضیق (کبیر)
50۔ ان منکرین آخرت کی تنگ دماغی کا یہ حال ہے کہ یہ اسی محدود اور چند سالہ مختصر زندگی کو سب کچھ سمجھے ہوئے ہیں، اور اس بےانتہا وسیع عالم کو جو اس کے معا بعد شروع ہونے والا ہے نذر بیخبر ی کیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیت نمبر 19 تا 26
ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…
Read the full tafseer →اللہ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر اللہ ہی جس کا چاہتا ہے ‘ رزق فراخ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے ‘ تنگ کرتا ہے۔
وفرحوا بالحیوۃ الدنیا اور (اہل مکہ) دنیوی زندگی پر پھولے ہوئے ہیں۔ فَرِحُوْا مغرور ہیں ‘ اتراتے ہیں۔
یعنی دنیا میں اللہ نے جو ان کو رزق کی کشائش عطا فرما دی ہے ‘ اس پر مغرور ہیں ‘ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے۔
وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الامتاع اور آخرت (کے مقابلہ) میں دنیوی زندگی صرف ایک حقیر متاع ہے جو ہمیشہ رہنے والی نہیں ‘ جیسے مسافر کا زاد راہ اور چرواہے کی وقتی غذا۔ دنیوی عیش و راحت قابل بھروسہ نہیں ‘ آخرت کی فلاح و آسائش کے مقابلہ میں اس کی کوئی وقعت نہیں۔ دنیوی سرمایہ کی وسعت…
Read the full tafseer →(26) اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے دنیا میں مال کی وسعت وفراخی کردیتا ہے اور یہ اس کی طرف تدبیر اور جس پر چاہتا ہے تنگی کردیتا ہے اور یہ اس کی جانب سے ایک قسم کی مہلت ہے، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کی بھلائی اور درستگی وسعت وفراخی میں ہے اگر وہ اس فراخی کو غیر اللہ کی طرف پھیر دیں تو یہ ان کے لیے بدترین چیز ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بہت سے بندوں کی درستگی تنگی ہی میں ہوسکتی ہے اگر وہ اس کو غیر اللہ کی طرف پھیر دیں تو یہ ان کے لیے بہت بدترین بات ہوجائے۔
اور یہ لوگ دنیاوی زندگی اور اس کے عیش و عشرت پر اترانے لگے اور دنیاوی زندگی میں جو بھی عیش و عشرت ہے یہ آخرت کی…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ۔۔ : بہت سے لوگوں کی گمراہی کا سبب یہ شبہ بن جاتا ہے کہ اللہ کے نافرمان دنیا میں خوش حال کیوں ہیں ؟ اس کا جواب دیا، یعنی دنیا میں رزق کی فراوانی یا تنگی کوئی معیار نہیں ہے، جس کے لحاظ سے کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ یا غیر پسندیدہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے، بسا اوقات وہ کافر کو خوب سامان عیش دیتا ہے اور مومن پر تنگ دستی وارد کرتا ہے، تاکہ دونوں کی آزمائش کی جائے، مومن اپنے صبر و شکر کی وجہ سے آخرت میں بلند درجات پاتا ہے اور کافر ناکام رہتا ہے، اس لیے آخرت میں اس کا ٹھکانا برا ہوتا ہے، لہٰذا گمراہ لوگوں کی بداعمالیوں کے باوجود ان کے عیش و عشرت سے کسی کو دھوکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت نمبر 25 تا 26
قولہ تعالیٰ : والذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عہد کو پورا کرنے والوں اور اپنے حکم پر عمل پیرا ہونے والوں کا ذکر فرما چکا تو اب ان کا ذکر فرما رہا ہے جو ان کے برعکس ہیں۔ ” نقض المیثاق “ سے مراد اس کے حکم کا ترک ہے۔ ایک قول یہ ہے : اپنے عقلوں کو مہمل چھوڑ دینا مراد ہے، کہ وہ عقل کے ذریعے تدبر نہیں کرتے تاکہ اللہ کو پہچان لیں۔ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل یعنی قطع تعلق کرتے ہیں اور تمام انبیاء پر ایمان لانے کے عہد کو قطع کرتے ہیں۔ ویفسدون فی الارض یعنی کفر اور گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اولئک لھم اللعنۃ یعنی رحمت سے دوری اور محرومی۔ ولھم سوء الدار اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
قطع رحمی موجب لعنت ہے :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے میمون بن مھران (رح) سے روایت کیا کہ مجھے عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا آپس میں بھائی نہ بناؤ قطع رحمی کرنے والے کو کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ سے سنا ہے کہ انہوں نے ان پر لعنت کی ہے۔ دو سورتوں میں سورة رعد اور سورة محمد میں۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولھم سوء الدار “ سے مراد ہے برا انجام۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عبدالرحمن بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا متاع “ کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی پہلے زمانہ میں نکلتا تھا۔ اپنے اونٹ اور اپنی بکریوں کو…
Read the full tafseer →[اللّٰهُ : اللہ ] [يَبْسُطُ : کشادہ کرتا ہے ] [ الرِّزْقَ : رزق کو ] [ لِمَنْ : اس کے لئے جس کو ] [يَّشَاۗءُ : وہ جانتا ہے ] [وَيَــقْدِرُ : اور وہ اندازہ لگاتا ہے (یعنی ناپ تول کردیتا ہے جس کو چاہتا ہے)] [وَفَرِحُوْا : اور وہ لوگ خوش ہوئے ] [ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی پر ] [وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا : اور دنیوی زندگی نہیں ہے ] [فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت (کے مقابلہ) میں ] [ اِلَّا : مگر ] [ مَتَاعٌ: ایک برتنے کا سامان ]
Read the full tafseer →دنیاوی سازو سامان پر اترانا بےوقوفی ہے :
آٹھویں آیت میں فرمایا (اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَاءُ وَیَقْدِرُ ) اور اللہ رزق کو کشادہ فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور تنگ کرتا ہے جس کے لیے چاہے (دنیا میں رزق کی فراوانی اللہ کا مقبول بندہ ہونے کی دلیل نہیں ہے اور رزق کی تنگی اس بات کی دلیل نہیں کہ جس کا رزق تنگ ہو وہ اللہ کا مقبول بندہ نہ ہو ‘ لہٰذا کافر لوگ وسعت رزق سے دھوکہ نہ کھائیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی نہ ہوتا تو زیادہ مال ہمیں کیوں ملتا) (وَفَرِحُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا) اور کافر لوگ دنیا والی زندگی پر اترا رہے ہیں اور اسی پر فریفتہ ہیں (اور اس کی وجہ سے ایمان…
Read the full tafseer →جواب از سبہ عدم مبغوضیت کفار بنا بر وسعت رزق دنیاوی
قال اللہ تعالیٰ یبسط الرزق لمن یشاء ویقدر .... الیٰ .... الا متاع
(ربط) گزشتہ آیات میں کافروں کا ملعون و مغضوب ہونا بیان کیا چونکہ اکثر کفار دنیوی مال و دولت اور ظاہری عزت و راحت کے اعتبار سے خوش حال تھے اس لیے دیکھنے والوں کو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ اگر خدا کے نزدیک ملعون و مبغوض ہوتے تو ان پر دنیا میں رزق کی وسعت کیوں ہوتی تو اس آیت میں اس شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ رزق کا کم یا زیادہ ہونا ایمان اور کفر پر موقوف نہیں ہم جسے چاہتے ہیں زیادہ رزق دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں کم دیتے ہیں اور دنیاوی زندگی کی عیش و عشرت کا کوئی اعتبار نہیں یہ تو چند…
Read the full tafseer →27:۔ یہ مستحق وعید جماعت کے اوصاف ہیں جو پہلی جماعت کی ضد ہے۔ ” اُولٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ الخ “ یہ تخویف اخروی کا اعادہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(ربط آیات)
مسئلہ توحید اور شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ، ایک وہ جو قرآنی تعلیمات سے مستفید ہوتے ہیں یہ عقل معاد رکھنے والے لوگ ہیں ، گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے تھے کہ یہ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے ، ان کو توڑتے نہیں ۔ یہ لوگ برے حساب سے اپنے پروردگار سے خوف کھاتے ہیں اور اپنے رب کی خوشنودی کے لیے صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، اللہ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں اور برائی کا ازالہ بھلائی کے ساتھ کرتے ہیں ، پھر اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا کہ ان کے لیے قابل رہائش باغات ہوں…
Read the full tafseer →اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ ۭ وَفَرِحُوْا بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ۭ وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ 26ۧ
بسط
بَسْطُ الشیء : نشره وتوسیعه، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِساطاً [ نوح/ 19] والبِسَاط : الأرض المتسعة وبَسِيط الأرض : مبسوطه، واستعار قوم البسط لکل شيء لا يتصوّر فيه تركيب وتأليف ونظم، قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ،
( ب س ط )
بسط الشئ کے معنی کسی چیز کو پھیلانے اور توسیع کرنے کے ہیں ۔ پھر استعمال میں کبھی دونوں معنی ملحوظ ہوتے ہیں اور کبھی ایک معنی متصور ہوتا ہے ۔ چناچہ محاورہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
2 ؎ دنیاوی تکالیف پر اور عبادت کی تکالیف پر اور نفس کے روکنے میں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ ط وَفَرِحُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ اِلاَّ مَتَاعٌ۔ (سورۃ الرعد : 26)
(اللہ تعالیٰ روزی کشادہ کردیتا ہے، جس کے لیے چاہتا ہے۔ اور تنگ روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور یہ دنیا کی زندگی پر خوش اور مسرور ہے۔ اور یہ دنیا کی زندگی آخرت کی زندگی کے مقابلے میں محض ایک متاع حقیر ہے۔ )
ایمان نہ لانے کا ایک سبب
مشرکینِ مکہ کو جن اسباب نے اسلام کو قبول کرنے سے روکا ان میں سے ایک سبب یہ تھا کہ وہ اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ دنیا کی خوشحالی اور خوش عیشی یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رضامندی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہد شکنی اور باہمی تعلقات کو توڑنے کی سب سے بڑی وجہ دنیا پرستی ہے۔ حالانکہ رزق کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔
منکرین حق جس دنیا پر اتراتے اور جس کی خاطر اپنے رب کو فراموش اور لوگوں سے عہد شکنی کرتے ہیں اگر دنیا کی حقیقت کو جاننے کی کوشش کریں انہیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ آخرت کے مقابلے میں قلیل اور عارضی ہے۔ جس دنیا کی خاطر بدمعاملگی اور عہد شکنی کرتے ہیں۔ غور کریں کہ کیا رزق کی فراوانی اور اسباب کی کشادگی انسان کی صلاحیتوں کے بدولت ہے یا اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی حکمت کا نتیجہ ہے ؟ رزق کی فرادانی اور اسباب کی وسعت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے،…
Read the full tafseer →26: اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشََآ ئُ وَیَقْدِرُ (اللہ تعالیٰ ہی روزی کو کھولتے ہیں جسکے لئے چاہتے اور تنگ کرتے ہیں) یعنی اور تنگ کرتے ہیں جسکے لئے چاہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ اکیلے ہی رزق کو کھولنے اور تنگ کرنے والے ہیں اور کوئی نہیں وَفَرِحُوْا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (اور وہ دنیا کی زندگی پر اتراتے ہیں) اس وجہ سے کہ اللہ نے انکو دنیا کی وسعت دے رکھی ہے یہاں فرح سے تکبرو غرور مراد ہے۔ فرح و سرور مراد نہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل و انعام سے حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ لوگ شکریہ سے اسکا سامنا نہیں کرتے۔ تاکہ آخرت میں نعمتوں سے اجر پاسکیں۔ وَمَاالْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَۃِ…
Read the full tafseer →تفسیر 26۔” اللہ یسط الرزق لمن یشاء و یقدر “ اللہ جس پر چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے اور جس پر چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ ” وفرحوا بالحیوۃ الدنیا “ اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں جو شرارت اور تکبر میں ملوث ہیں ۔ فر ح کہا جاتا ہے من چاہی چیز کے ملنے سے دل کا سرور آجانا ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا سے خوشی حاصل کرنا ( دنیا ملنے کی بناء پر خوش ہونا) حرام ہے۔” وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا متاع “ یعنی تھوڑا سا فائدہ جو زائل ہونے والا۔ کلبی کا بیان ہے کہ اس کی مثال چھوٹی پیالی ، پلیٹ، پیالہ ، ہنڈیا کی سی ہے کہ ان سے نفع لے کر ان کو پھینک دیا جاتا ہے اس کی مثال دنیا کی ہے۔
Read the full tafseer →26۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نیک خصلت اور بد خصلت لوگوں کا ذکر فرمایا اور نیک خصلت لوگوں سے اپنی رضا مندی ظاہر فرمائی اور ان سے جنت کا وعدہ فرمایا اور بد خصلت لوگوں سے نا خوشنودی ظاہر فرمائی اور دوزخ ان کا ٹھکانا فرمایا۔ اس پر یہ خیال دل میں گزر سکتا تھا کہ دنیا میں اکثر ایسے بد خصلت لوگ جن کا ذکر آیت میں ہے بڑی آسائش اور خوشحالی سے بسر کرتے ہیں اور نیک خصلت لوگ تنگ حال ہیں پھر جن لوگوں سے اللہ راضی نہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے آسائش کس مصلحت اور حکمت سے دے رکھی ہے اس خیال کو اللہ تعالیٰ نے رفع فرما دیا کہ دنیا کی فارغ البال نیک عملی اور بد عملی پر موقوف نہیں ہے نیک عملی اور بد عملی کے…
Read the full tafseer →یعنی وہ اللہ تعالیٰ اکیلا ہے۔ رزق وسیع کرتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے اسے کشادہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے نپا تلا رزق عطا کرکے اس پر رزق کو تنگ کردیتا ہے (آیت) ” اور وہ خوش ہیں “ یعنی کفار، (آیت) ” دنیا کی زندگی پر “ انہیں ایسی خوشی ہے جو ان کے لئے دنیا پر اطمینان اور آخرت سے غفلت کی موجب ہے اور یہ ان کی کم عقلی ہے۔ (آیت) ” اور نہیں ہے دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں، مگر حقیر سامان “ یعنی دنیا کی زندگی ایک حقیر سی چیز ہے جس سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور جو فائدہ اٹھانے والے دنیا داروں سے جدا ہوجائے گی اور اپنے پیچھے ایک طویل ہلاکت چھوڑ جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
73۔ منکرین کے سبب انکاروتکذیب کی نشاندہی :
سو اس ارشاد سے منکرین کے کفر وانکار اور ان کی تکذیب حق کے اصل سبب کی نشاندہی فرمائی گئی کہ یہ لوگ دنیاوی زندگی اور اس کے متاع قلیل پر ریجھے ہوئے اور اسی پر مست ومگن ہیں اور ان کے ساری تگ ودو اور دوڑ دھوپ کا محورومدار یہی دنیاوی زندگی اور اس کمی وقتی لذات اور عیش کوشیاں ہیں یہ اس سے آگے کچھ دیکھنے اور ماننے کے لیے تیارہی نہیں اور دنیاوی مال و متاع کے حصول کو ہی سب کچھ سمجھ رہے ہیں حالانکہ دنیاوی مال و متاع کی حق کے مقابلے میں نہ کوئی حیثیت ہے اور نہ ہی اس کا حصول انسان کے اپنے بس میں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ کی اپنی مشیت مطلقہ کے ماتحت اور اسی کے تابع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
برے لوگ اور ان کا مطالبہ
تشریح : یہاں دوسرے گروہ، یعنی کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے قطع رحمی ہو اور فساد پھیلے یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا، یعنی یہ لوگ مسلمان کے بالکل الٹ کام کرتے ہیں اسی لیے ان کے لیے برے گھر اور لعنت کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کفار کو جو کچھ عیش و آرام دنیا میں دیا گیا ہے تو وہ صرف اللہ کی مرضی اور اس کی تقسیم رزق کا اپنا طریقہ ہے۔ رزق وہ کفار مشرکین اور مسلمانوں سب کو دیتا ہے مگر یہ صرف اس دنیا کی زندگی کا ہی حصہ ہے جب کہ اصل نعمتیں، عیش و آرام تو آخرت میں ملیں گی۔ کیونکہ کافر سب کچھ اسی دنیا کو سمجھتا ہے۔ نہ اللہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 8 ۔ یعنی دنیا میں رزق کی فراوانی یا تنگی کوئی معیار نہیں ہے جس کے لحاط سے کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ یا غیر پسندیدہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ بسا اوقات وہ کافر کو خوب سامان عیش دیتا ہے اور مومن پر تنگدستی وارد کرتا ہے تاکہ دونوں کی آزمائش کی جائے۔ مومن اپنے صبر وشکر کی وجہ سے آخرت میں بلند درجات پاتا ہے اور کافر ناکام رہتا ہے۔ اس لئے آخرت میں اس کا ٹھکانا برا ہوتا ہے لہٰذا گمراہ لوگوں کی ان بداعمالیوں کے باوجود ان کے عیش و عشرت سے کسی کو دھوکا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ محض مہلت ہے جو کافر کو دنیا میں دی جاتی ہے۔ (روح) ۔
9 ۔ یا ایک تھوڑی دیر کا سامان۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت…
Read the full tafseer →(13:26) یبسط۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ کشادہ کرتا ہے۔ وسیع کرتا ہے۔ فراخ کرتا ہے۔ بسط سے (باب نصر) ۔
یقدر۔ مضارع واحد مذکر غائب قدر مصدر (ضرب) وہ تنگ کرتا ہے یبسط کے مقابلہ میں آیا ہے لہٰذا فراخ کرتا ہے یا وسیع کرتا ہے کی ضدّ ہے ۔ یعنی کم کرتا ہے۔ تنگ کرتا ہے۔
اس کا مادّہ قدرۃ ہے جس کا معنی قدرت رکھنا۔ طاقت رکھنا۔ قابو پانا۔ غالب آنا۔ مقدار مقرر کرنا۔ اندازہ لگانا کے ہیں۔
فرحوا۔ ماضی جمع مذکر غائب وہ خوش ہوئے وہ اترائے فرح سے (باب سمع) ۔
فرح کا استعمال پسندیدہ اچھی خوشی کے لئے بھی ہوتا ہے اور مذموم خوشی کے لئے بھی۔ پہلی صورت میں اس کا مطلب خوش ہونا ہے اور دوسری صورت میں بدمست ہونا۔ اترانا۔ فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26
افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…
Read the full tafseer →دنیا میں مفلسی اور خوشحالی کا معمہ۔ نیک لوگوں کی مفلسی کا زکر
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیک خصلت لوگوں سے اپنی رضا مندی ظاہر فرمائی اور ان سے جنگ کا وعدہ فرمایا اور بدخصلت لوگوں سے ناخوشنودی ظاہر فرمائی اور دوزخ ان کا ٹھکانا فرمایا۔ اس پر یہ خیال دل میں گزر سکتا تھا کہ دنیا میں اکثر ایسے بدخصلت لوگ جن کا ذکر اس آیت میں ہے، بڑی آسائش اور خوشحالی سے بسر کرتے ہیں اور نیک خصلت لوگ تنگ حال ہیں۔ پھر جن لوگوں سے اللہ راضی نہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے آسائش کس مصلحت اور حکمت سے دے رکھی ہے۔ اس خیال کو اللہ تعالیٰ نے دفع فرما دیا کہ دنیا کی فارغ البارلی نیک عملی اور بدعملی پر موقوف نہیں ہے، نیک عملی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 2) عام طور پر حق کی مخالفت اس لئے کی جاتی ہے ، کہ ایثار میں بظاہر خسارہ ہے ، بھوک و افلاس کا خطرہ ہے ، دیندار انسان کے لئے تکلفات کا حصول ناممکن ہے ، قرآن حکیم اس ہمہ گیر مغالطہ کی تردید فرماتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے کہ رزق کی کشائش اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اس کا تعلق بےدینی اور الحاد سے نہیں ، بہت سے ملحد ایسے ہیں جو بھوکوں مر رہے اور بہت سے مومن ہیں کہ اللہ کی بہت نعمتیں انہیں میسر ہیں ، اسی طرح یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ کے بہت سے بندوں کو گاڑھا اور کزی نہیں ملتا ، کہ تن ڈھانک اور بےدین بدمعاش مخمل وکمخواب کے بستروں پر محو خواب ہیں ، یہ خدا کا دین ہے ، جسے جو چاہے دے اور جسے چاہے محروم رکھے ،…
Read the full tafseer →26 ۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے روزی فراخ کردیتا ہے اور زیادہ رزق دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے روزی تنگ کردیتا ہے اور کم رزق دیتا ہے اور یہ دین حق کے منکر دنیوی زندگی پر اتراتے اور خوش ہوتے ہیں حالانکہ یہ دنیوی زندگی اور یہاں کا عیش و عشرت آخرت کے مقابلہ میں سوائے تھوڑے سے فائدے اور متاع حقیر کے اور کچھ بھی نہیں ۔ یعنی یہ دنیوی مفاد اور یہاں کے عیش و عشرت کو رحمت اور غضب کا معیار قرار نہ دو اور دھوکہ نہ کھائو رزق تو اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے کم و بیش دیتا ہے اور اگر کسی کو زیادہ دیتا بھی ہے تو آخرت کی نعمتوں کے مقابلہ میں اس کی حیثیت ہی کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 1۔ یعنی وہ قرآن کے اعجاز کو دلالت علی النبوة کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمایش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور طاعت میں انکو ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی۔
2۔ یعنی جس مرتبہ کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →رزق کی تنگی و فراخی اللہ تعالیٰ کے قانون مشیت کے مطابق ہے
43 ؎ دنیا کی سب سے پرانی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ بھی ہے کہ جہلاء عقیدہ و عمل کے حسن و قبح دیکھنے کی بجائے امیری اور غریبی کو دیکھتے ہیں اور ان کے ہاں انسانوں کی قدر و قیمت ان کے مال و دولت اور اقتدار سے لگائی جاتی ہے۔ جن لوگوں کے پاس دولت کے انبار ہیں ‘ زمینوں کے قطعات کے قطعات اور علاقوں کے علاقے ہیں وہ بڑے لوگ ہیں اور اللہ میاں کے ہاں بھی وہ محبوب ہی سمجھے جاتے ہیں وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔ کل ان کا گمان یہ تھا اور آج ہمارا بھی بالکل وہی ہے کہ جسے دنیا میں خوب سامان عیش مل رہا ہے وہ خدا کا محبوب ہے خواہ وہ کیسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
Commentary
At the beginning of the section, human beings were divided into two kinds - those who are obedient to Allah Ta’ ala and those who are disobedient to Him. Then, enumerated there were some attributes and signs of the obedient servants of Allah and mention was made of the best of rewards for them in the Hereafter.
Now, in the present verses, stated there are the attributes and signs, and punishments, of the other kind of people. One trait of character these disobedient and contumacious people have been reported to have الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ (And…
Read the full tafseer →42. This verse refutes the wrong criterion by which the disbelievers of Makkah (and all other disobedient people of the world) judged whether one was or was not a favorite of God. They judged a man’s worth by his wealth and worldly prosperity and not by his faith and righteous conduct. They thought that the one who was enjoying all the good things of life was a favorite of God, even if he had erroneous beliefs and did wicked deeds. On the other hand, they considered the one who was poor and indigent to be under the wrath of God, even though he was righteous. That is why in their judgment the…
Read the full tafseer →