مومنین کی صفات
مومنوں کی صفتیں اوپر بیان ہوئیں کہ وہ وعدے کے پورے، رشتوں ناتوں کے ملانے والے ہوتے ہیں۔ پھر ان کا اجر بیان ہوا کہ وہ جنتوں کے مالک بنیں گے۔ اب یہاں ان بدنصیبوں کا ذکر ہو رہا ہے جو ان کے خلاف خصائل رکھتے تھے نہ اللہ کے وعدوں کا لحاظ کرتے تھے نہ صلہ رحمی اور احکام الہٰی کی پابندی کا خیال رکھتے تھے یہ لعنتی گروہ ہے اور برے انجام والا ہے۔ حدیث میں ہے منافق کی تین نشانیاں ہیں باتوں میں جھوٹ بولنا، وعدوں کا خلاف کرنا، امانت میں خیانت کرنا۔ ایک حدیث میں ہے جھگڑوں میں گالیاں بکنا اس قسم کے لوگ رحمت الہٰی سے دور ہیں ان کا انجام برا ہے یہ جہنمی گروہ ہے۔ یہ چھ خصلتیں ہوئیں جو منافقین سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
سورة الرَّعْد 41
اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ملائکہ ہر طرف سے آ آ کر ان کو سلام کریں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ملائکہ ان کو اس بات کی خوشخبری دیں گے کہ اب تم ایسی جگہ آگئے ہو جہاں تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ اب یہاں تم ہر آفت سے، ہر تکلیف سے ہر مشقت سے، اور ہر خطرے سے اور اندیشے سے محفوظ ہو۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة حجر، 29)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
خلاصہ تفسیر
اور جو لوگ خدا تعالیٰ کے معاہدوں کو ان کی پختگی کے بعد توڑتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے جن علاقوں کے قائم رکھنے کا حکم فرمایا ہے ان کو قطع کرتے ہیں اور دنیا میں فساد کرتے ہیں ایسے لوگوں پر لعنت ہوگی اور ان کے لئے اس جہان میں خرابی ہوگی (یعنی ظاہری دولت و ثروت کو دیکھ کر یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ یہ لوگ مورد رحمت ہیں کیونکہ رزق کی تو یہ کیفت ہے کہ) اللہ جس کو چاہئے زیادہ رزق دیتا ہے (اور جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی کردیتا ہے (رحمت وغضب کا یہ معیار نہیں) اور یہ (کفار) لوگ دنیوی زندگانی پر (اور اسکے عیش و عشرت پر) اتراتے ہیں اور (ان کا اترانا بالکل فضول اور غلطی ہے کیونکہ) یہ دنیوی زندگی…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ۔
مکذبین کی صفات : اب یہ بالکل مقابل گروہ کا بیان ہے۔ ان لوگوں کا جو عہد فطرت کو، اس کا اقرار کرنے اور اس کو باندھنے کے بعد توڑ رہے ہیں اور رشتہ رحم، جس کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جس کو توڑنا تمام فساد فی الارض کی اصل ہے، اس کو کاٹ رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہے اور انہی لوگوں کے لیے دار آخرت کی ذلت و رسوائی ہے۔ یہ حقیقت ہم دوسرے مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
25۔ 1 یہ نیکوں کے ساتھ بروں کا حشر بیان فرما دیا تاکہ انسان اس حشر سے بچنے کی کوشش کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
22: قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25
یہ اس عہد الست کو توڑتے ہیں جو فطرت انسانی نے ناموس ازلی کی صورت میں اللہ کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اس کے بعد تمام وعدوں اور معاہدوں کو توڑتے ہیں۔ اگر ایک انسان عہد الست کو توڑ دے تو گویا وہ ان تمام وعدوں اور عہدوں کا ناقض ہوگا جو اس عہد الست پر قائم ہیں۔ جس شخص کے دل میں خوف خدا نہیں ہے وہ کسی شخص ، کسی عہد اور کسی میثاق کا پاس کیسے کرسکتا ہے ۔ یعنی ایسے شخص بالعموم ان روابط کو توڑتے ہیں جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ اہل عقل و دانش تو صبر کرتے تھے ، نماز قائم کرتے تھے اور اعلانیہ اور پوشیدہ راہ خدا میں انفاق کرتے تھے اور پھر ان کا عمومی رویہ یہ تھا کہ وہ برائی کا جواب نیکی…
Read the full tafseer →7 سعداء کے مقابل یہاں اشقیاء کی عادت و خصال اور آخری انجام بتلایا ہے۔ ان کا کام یہ ہے کہ حق تعالیٰ سے بد عہدی کریں، جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم تھا، انھیں توڑیں، ملک میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکائیں دوسروں پر اور اپنی جانوں پر ظلم کرنے سے نہ رکیں۔ یہ ہی لوگ ہیں جو خدا کی رحمت سے دور پھینک دیے گئے اور سب سے زیادہ برے مقام پر پہنچے والے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 25 وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ
قبل ازیں سورة البقرۃ ‘ آیت 27 میں بھی ہم بعینہٖ یہ الفاظ پڑھ آئے ہیں : اَلَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَہْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وہاں اس حوالے سے کچھ وضاحت بھی ہوچکی ہے۔
Read the full tafseer →34 سنت الٰہی کے مطابق یہاں بھی اہل جنت کے ساتھ اہل دوزخ کا ذکر آیا ہے اور ان کی صفات ایسی بیان کی گئی ہیں جو مومنوں کی صفات کے بالکل برعکس ہیں۔ لہذا ان کا انجام بھی اہل جنت کے انجام کے عین ضد ہوگا۔ جنت کے بجائے انھیں دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور سلامتی کی دعاؤں کے بجائے ان پر لعنت اور پھٹکار پڑتی رہے گی۔
Read the full tafseer →48۔ اب اولو الالباب کے مقابلہ میں نافہم، کج فہم بدبختوں کا ذکر ہورہا ہے ان کی علامتیں بھی اس دنیا میں ان سے بالکل مختلف رہتی ہیں، اور ان کا انجام بھی قدرۃ ان سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ (آیت) ” الذین۔۔ یوصل “۔ یعنی حقوق اللہ وحقوق العباد سب میں یہ شریعت الہی کی خلاف ورزی ہی کرتے رہتے ہیں۔ (آیت) ” ویفسدون فی الارض “۔ عقاید شرکیہ اور اعمال شرک وفسق سے ملک میں ہر طرح کی ابتری ہی ظہور پذیر ہوتی رہتی ہے۔ وذلک الفساد ھو الدعاء الی غیر دین اللہ وقد یکون بالظلم فی النفوس والاموال وتخریب البلاد (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیت نمبر 19 تا 26
ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…
Read the full tafseer →والذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ اور جو لوگ اللہ کے عہد کو پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں۔
یعنی پختہ اقرار اور قبول کرنے کے بعد پھر اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل اور جس چیز کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ‘ اس کو توڑ دیتے ہیں۔ یعنی بعض کتابوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے ‘ ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تفرقہ کرتے ہیں (ا اللہ کو مانتے ہیں اور رسول کو نہیں مانتے) اور رشتہ داریاں منقطع کرتے ہیں۔
ویفسدون فی الارض اور زمین میں بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی نافرمانیاں کرتے ہیں ‘ کھتیاں تباہ کرتے اور نسل (یعنی انسانوں اور مویشیوں) کو…
Read the full tafseer →(25) اور جو لوگ فرائض خداوندی کو ان کی تاکید اور پختگی کے بعد چھوڑتے ہیں اور صلہ رحمی اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے کو ترک کرتے اور کفر وشرک کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو پکارتے اور ان کی پوجا پات کرتے ہیں ایسے لوگوں پر دنیا میں بھی عذاب نازل ہوگا اور آخرت میں بھی جہنم میں جائیں گے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ۔۔ : قرآن مجید نے اپنے اسلوب کے مطابق کہ وہ ایمان کے ساتھ کفر، نیکی کے ساتھ بدی، جنت کے ساتھ جہنم کا ذکر کرتا ہے، عہد وفا کرنے والوں کی صفات اور ان کے اچھے انجام کے بعد عہد توڑنے والوں کی صفات بد اور ان کا برا انجام ذکر فرمایا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت نمبر 25 تا 26
قولہ تعالیٰ : والذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عہد کو پورا کرنے والوں اور اپنے حکم پر عمل پیرا ہونے والوں کا ذکر فرما چکا تو اب ان کا ذکر فرما رہا ہے جو ان کے برعکس ہیں۔ ” نقض المیثاق “ سے مراد اس کے حکم کا ترک ہے۔ ایک قول یہ ہے : اپنے عقلوں کو مہمل چھوڑ دینا مراد ہے، کہ وہ عقل کے ذریعے تدبر نہیں کرتے تاکہ اللہ کو پہچان لیں۔ ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل یعنی قطع تعلق کرتے ہیں اور تمام انبیاء پر ایمان لانے کے عہد کو قطع کرتے ہیں۔ ویفسدون فی الارض یعنی کفر اور گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اولئک لھم اللعنۃ یعنی رحمت سے دوری اور محرومی۔ ولھم سوء الدار اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
قطع رحمی موجب لعنت ہے :
1:۔ ابوالشیخ (رح) نے میمون بن مھران (رح) سے روایت کیا کہ مجھے عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا آپس میں بھائی نہ بناؤ قطع رحمی کرنے والے کو کیونکہ میں نے اللہ تعالیٰ سے سنا ہے کہ انہوں نے ان پر لعنت کی ہے۔ دو سورتوں میں سورة رعد اور سورة محمد میں۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولھم سوء الدار “ سے مراد ہے برا انجام۔
3:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عبدالرحمن بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” وما الحیوۃ الدنیا فی الاخرۃ الا متاع “ کے بارے میں فرمایا کہ ایک آدمی پہلے زمانہ میں نکلتا تھا۔ اپنے اونٹ اور اپنی بکریوں کو…
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ : اور وہ لوگ جو ] [ يَنْقُضُوْنَ : توڑتے ہیں ] [ عَهْدَ اللّٰهِ : اللہ کے عہد کو ] [ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ : اس کے پختہ ہونے کے بعد ] [ وَيَقْطَعُوْنَ : اور وہ لوگ کاٹتے ہیں ] [ مَآ : اس کو ] [ اَمَرَ : حکم دیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ بِهٖٓ : جس کا ] [ان : کہ ] [ يُّوْصَلَ : وہ جوڑا جائے ] [وَيُفْسِدُوْنَ : اور وہ لوگ نظم بگاڑتے ہیں ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَهُمُ : جن کے لئے ہے ] [ اللَّعْنَةُ : کل لعنت ] [وَلَهُمْ : اور ان کے لئے ہے ] [ سُوْۗءُ الدَّارِ : اس (آخری) گھر کی برائی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
یہاں تک چھ آیتوں کا مضمون بیان ہوا تھا ساتویں آیت میں اہل ایمان کے مقابل دوسری جماعتوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ‘ ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بِعْدِ مِیْثَاقِہٖ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے عہد کیا پھر اس پر قائم نہ رہے عہد کو توڑ دیا اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا انہیں توڑتے رہے اور زمین میں فساد کرتے رہے یہ لوگ پہلے گروہ کے برعکس ملعون ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
ذکر حال و مآل محقین و مبطلین
قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
26:۔ یہ بشارت اخروی اکا اعادہ ہے۔ وَمَنْ صَلَحَ الخ مذکورہ بالا اتقیاء کے جو رشتہ دار بحالت ایمان دنیا سے رخصت ہوئے مگر تقویٰ کے اس مقام پر نہ پہنچ سکے ان کی وجہ سے ان کو بھی اللہ تعالیٰ بلند درجات عطا فرمائے گا۔ ” صَلَاحٌ“ سے ایمان و تصدیق مراد ہے ” قَالَ ابن عباس ھذا الصلاح الایمان باللہ والرسول (قرطبی ج 9 ص 312) معنی صلح صدق و اٰمن ووحد “ (خازن ج 4 ص 19) ۔ ” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ سے پہلے ” یَقُوْلُوْنَ “ مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(ربط آیات)
مسئلہ توحید اور شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا ہے ، ایک وہ جو قرآنی تعلیمات سے مستفید ہوتے ہیں یہ عقل معاد رکھنے والے لوگ ہیں ، گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اوصاف بیان فرمائے تھے کہ یہ اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے ، ان کو توڑتے نہیں ۔ یہ لوگ برے حساب سے اپنے پروردگار سے خوف کھاتے ہیں اور اپنے رب کی خوشنودی کے لیے صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، اللہ کے دیے ہوئے رزق سے خرچ کرتے ہیں اور برائی کا ازالہ بھلائی کے ساتھ کرتے ہیں ، پھر اللہ نے ان کا انجام بھی بیان فرمایا کہ ان کے لیے قابل رہائش باغات ہوں…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِيْثَاقِهٖ وَيَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيُفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ ۙ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْۗءُ الدَّارِ 25
نقض
النَّقْضُ : انْتِثَارُ العَقْدِ مِنَ البِنَاءِ والحَبْلِ ، والعِقْدِ ، وهو ضِدُّ الإِبْرَامِ ، يقال : نَقَضْتُ البِنَاءَ والحَبْلَ والعِقْدَ ، وقد انْتَقَضَ انْتِقَاضاً ، والنِّقْضُ المَنْقُوضُ ، وذلک في الشِّعْر أكثرُ ، والنَّقْضُ كَذَلِكَ ، وذلک في البِنَاء أكثرُ «2» ، ومنه قيل للبعیر المهزول : نِقْضٌ ، ومُنْتَقِض الأَرْضِ من الكَمْأَةِ نِقْضٌ ، ومن نَقْضِ الحَبْل والعِقْد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
2 ؎ دنیاوی تکالیف پر اور عبادت کی تکالیف پر اور نفس کے روکنے میں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَاللّٰہِ مِنْ م بَعْدِمِیْثَاقِہٖ وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ لا اُوْلٰٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ وَلَھُمْ سُوْٓئُ الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 25)
(اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد کو اس کے باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور اس چیز کو کاٹتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن پر لعنت ہے۔ اور ان کے لیے برا گھر ہے۔ )
ایمان نہ لانے والوں کی صفات
گزشتہ آیات میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرتے اور قرآن کریم سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جنتیوں کے مقابلہ میں۔۔ جہنمیوں کا کردار اور انجام۔
یہ بات کئی مرتبہ فہم القرآن میں عرض کی ہے کہ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکوں کے ساتھ بروں اور جنت کے ساتھ جہنم کا اکثر مقامات پر یکجا ذکر کرتا ہے۔ تاکہ قارئ قرآن کے لیے اچھے اور برے اعمال اور انجام میں فرق کرنا آسان ہوجائے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر پہلے ایفائے عہد کرنے والے حضرات اور ان کے اوصاف حمیدہ کا ذکر فرمایا۔ اب عہد شکنی کرنے والوں اور رشتہ داریوں کو توڑ نے والوں کا بیان کیا ہے۔ اس موقع پر ان کے جرائم کی تفصیل دینے کی بجائے صرف ان کی عہد شکنی اور لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی بجائے قطع رحمی کے جرائم کا ذکر کرتے…
Read the full tafseer →وعدہ توڑنے والوں کا انجام :
25: وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْم بَعْدِ مِیْثَاقِہٖ (اور وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وعدہ کو مضبوط کرنے کے بعد توڑتے ہیں) اس کے بعد کہ انہوں نے اس وعدہ کو اعتراف و قبولیت سے مضبوط کیا ہے۔ وَیَقْطَعُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ (اور وہ قطع کرتے ہیں اس کو کہ جسکے ملانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا اور وہ زمین میں فساد کرتے ہیں) کفر اور ظلم کر کے اُولٰٓئِکَ لَھُمُ اللَّعْنَۃُ (ان لوگوں پر لعنت ہے) رحمت سے دوری وَلَھُمْ سُوْئُ الدَّارِ (اور انکے لئے برا گھر ہے) یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں دنیا کے برے انجام کا ذکر…
Read the full tafseer →25۔” والذین ینفضون عھد اللہ من بعد میثاقہ “ جو کفار کے ساتھ کیا تھا۔ ” ویقطعون ما امر اللہ بہ ان یوصل “ یعنی وہ بعض انبیاء پر ایمان لاتے ہیں اور بعض پر ایمان نہیں لاتے۔ بعض نے کہا کہ وہ قطعی رحمی کرتے ہیں ۔ ” ویفسدون فی الارض “ یعنی وہ گناہوں والے اعمال کرتے تھے۔ ” اولئک لھم اللعنۃ ولھم سوء الدار “ اس سے مراد آگ ہے۔
Read the full tafseer →25۔ نیک بختوں کا حال بیان کر کے اب بد بختوں کا انجام بیان کیا کہ جس طرح دنیا میں بدبختوں کی خصلتیں نیک بختوں کے بر خلاف ہیں نیک بخت وعدہ وفا کرتے ہیں بد بخت نہیں وفا کرتے قوت کرنے کو کرلیتے ہیں مگر پورا کرنا نہیں جانتے رشتہ داروں کے ساتھ بد سلوکی سے پیش آتے ہیں زمین میں کفرو شرک کا اور طرح طرح کا فتنہ و فساد اٹھاتے رہتے ہیں امانت میں خیانت کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا نیک بختوں سے الگ ہوگا۔ جس طرح دنیا میں لوگ ان پر لعنت کرتے ہیں وہاں بھی ان پر لعنت ہوگی اور دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔ صحیح بخاری و مسلم میں ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے…
Read the full tafseer →اور وہلوگ جو توڑتے ہیں عہد اللہ کا بعد پختہ کرنے کے اس کو، اور قطع کرتے ہیں اس چیز کو کہ حکم دیا اللہ نے اس کی بابت کہ بلایا جائے (اسے) اور وہ فساد کرتے ہیں زمین میں یہی لوگ ہیں واسطے انکے لعنت ہے اور واسطے انہی کے بہت برا گھر ہے۔
اہل جنت کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے ایسے احوال بیان فرمائے ہیں جو اہل جنت کیا وصاف کے برعکس ہیں۔ چناچہ فرمایا : (آیت) ” وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو توڑتے ہیں اس کو مضبوط کرنے کے بعد “ یعنی اللہ تعالیٰ کے اپنے انبیاء ومرسلین کے ذریعے سے اس عہد کو مؤکد اور پکا کرنے کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑا اور اطاعت و تسلیم سے اس عہد کو پورا نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →72۔ منکرین و مکذبین کے حال ومآل کا ذکر وبیان :
سونیک بخت اور سعادت مند لوگوں کی صفات وخصال حمیدہ اور ان کے مآل وانجام کے ذکر کے بعداس آیت کریمہ میں منکرین و مکذبین کے حال ومآل اور ان کے ہولناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ (جو لوگ اللہ کے عہد کو جو عیدفطرت ہے اور جس سے بندے کا اپنے خالق ومالک سے ربط وتعلق قائم ہوتا ہے یہ اس عہد کو اس کے) پختہ باندھنے کے بعد توڑتے ہیں اور رحم کے اس رشتہ کو کاٹتے ہیں جس کو جوڑنے اور قائم رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جس کو توڑنا اور کاٹنا تمام فی الارض کی جڑ اور بنیاد ہے، سو ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
برے لوگ اور ان کا مطالبہ
تشریح : یہاں دوسرے گروہ، یعنی کفار کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ ہر وہ کام کرتے ہیں جس سے قطع رحمی ہو اور فساد پھیلے یہ لوگ وہی ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا، یعنی یہ لوگ مسلمان کے بالکل الٹ کام کرتے ہیں اسی لیے ان کے لیے برے گھر اور لعنت کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کفار کو جو کچھ عیش و آرام دنیا میں دیا گیا ہے تو وہ صرف اللہ کی مرضی اور اس کی تقسیم رزق کا اپنا طریقہ ہے۔ رزق وہ کفار مشرکین اور مسلمانوں سب کو دیتا ہے مگر یہ صرف اس دنیا کی زندگی کا ہی حصہ ہے جب کہ اصل نعمتیں، عیش و آرام تو آخرت میں ملیں گی۔ کیونکہ کافر سب کچھ اسی دنیا کو سمجھتا ہے۔ نہ اللہ پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
ف 8 ۔ یعنی دنیا میں رزق کی فراوانی یا تنگی کوئی معیار نہیں ہے جس کے لحاط سے کسی شخص کے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ یا غیر پسندیدہ ہونے کا فیصلہ کیا جائے۔ بسا اوقات وہ کافر کو خوب سامان عیش دیتا ہے اور مومن پر تنگدستی وارد کرتا ہے تاکہ دونوں کی آزمائش کی جائے۔ مومن اپنے صبر وشکر کی وجہ سے آخرت میں بلند درجات پاتا ہے اور کافر ناکام رہتا ہے۔ اس لئے آخرت میں اس کا ٹھکانا برا ہوتا ہے لہٰذا گمراہ لوگوں کی ان بداعمالیوں کے باوجود ان کے عیش و عشرت سے کسی کو دھوکا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ محض مہلت ہے جو کافر کو دنیا میں دی جاتی ہے۔ (روح) ۔
9 ۔ یا ایک تھوڑی دیر کا سامان۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایت…
Read the full tafseer →(13:25) سوء الدار۔ مضاف مضاف الیہ۔ سوء ۔ برائی۔ آفت۔ عیب۔ براکام گناہ۔ الدار۔ دنیا۔ چونکہ اسے عقبی الدار کے مقابلہ پر لایا گیا ہے اس لئے اس سے مراد سوء عاقبۃ الدنیا ہے (دنیا کے برے کاموں کا برا انجام) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26
افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…
Read the full tafseer →بدبختوں کا انجام
اس آیت میں بدبختوں کا انجام بیان کیا جس طرح دنیا میں بدبختوں کی خصلتیں نیک بختوں کے برخلاف ہیں۔ نیک بخت وعدہ وفا کرتے ہیں بدبخت نہیں وفا کرتے۔ قول کرنے کو کرلیتے ہیں مگر پورا کرنا نہیں جانتے، رشتہ داروں کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں، زمین میں کفر و شرک کا اور طرح طرح کا فتنہ و فساد اٹھاتے رہتے ہیں، امانت میں خیانت کرتے ہیں، اسی طرح آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا نیک بختوں سے الگ ہوگا۔ جس طرح دنیا میں لوگ ان پر لعنت کرتے ہیں وہاں بھی ان پر لعنت ہوگی اور دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →اسلام امن چاہتا ہے ! ۔
(ف 1) اس آیت میں ان لوگوں کا بیان ہے جو دین فطرت کی مخالفت کرتے ہیں اللہ کے عہدوں کو توڑتے اور اس کے حکموں سے تجاوز کرتے ہیں ، اور زمین میں شرک وبدعات کی وجہ سے ابتری پھیلاتے ہیں یہ جہنم کے سزاوار ہیں ، ان کا انجام برا ہے ، یہ اللہ کی نظر رحمت سے دور ہیں ۔
اسلام بحثییت مجموعی امن و طمانیت انسانیت کا علمبردار ہے اس لئے ہر وہ جو ازروئے اسلام باطل ہے ، اسلام کی اصطلاح میں فساد فی الارض کے مترادف ہے ، شرک بھی فساد ہے ، غیر مشروع تحریکات بھی فساد کے ضمن میں آجاتی ہیں ۔ فسق وفجور بھی ایک نوع کا فساد ہے یعنی اسلام سراپا امن ہے سکون ہے ، اور کفر اختلال وتخریف ۔
Read the full tafseer →25 ۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ سے پختہ عہد کرنے کے بعد عہد کو توڑ دیتے ہیں اور عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو جوڑنے اور ملانے کا حکم دیا ہے وہ ان کو قطع کرتے اور توڑتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن پر لعنت اور پھٹکار ہوگئی اور اس عالم میں ان کے لئے برائی اور خرابی ہے۔ یعنی جن نیک اور مخلص لوگوں کا اوپر ذکر آیا تھا ان لوگوں کے کردار ان اعمال کے بالکل خلاف رہے اور نافرمانی کے خوگر اور عادی رہے ان کا حشر برابر ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–28
ف 1۔ یعنی وہ قرآن کے اعجاز کو دلالت علی النبوة کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمایش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور طاعت میں انکو ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی۔
2۔ یعنی جس مرتبہ کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →جو لوگ عہد الٰہی کو توڑنے اور زمین میں فساد مچانے والے ہوں ان کیلئے لعنت کے سوا کیا ہے ؟
42 ؎ صاحب عقل و دانش کے مقابلہ میں نافہم ‘ الحج فہم اور بدبختوں کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے تاکہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ یہ وہی کم بخت ہیں جن کی صدا یہ تھی کہ دین و مذہب میں عقل و دانش سے کام نہیں لیا جاتا اور یہ مکمل طور پر دین و مذہب کو جو اللہ اور اسکے رسول نے بتایا تھا اس کو بالائے طاق رکھ کر معاشرہ میں کچھ رسومات بنا کر ان کی پیروی کرنے لگے تھے اور ان پر اتنی سختی کے ساتھ کاربند تھے کہ گویا یہی احکام اسلام ہیں اور اگر ان کی مکمل تصویر دیکھنا چاہو تو آج بھی ان مذہبی ٹھیکہ داروں میں دیکھ سکتے ہو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
Commentary
At the beginning of the section, human beings were divided into two kinds - those who are obedient to Allah Ta’ ala and those who are disobedient to Him. Then, enumerated there were some attributes and signs of the obedient servants of Allah and mention was made of the best of rewards for them in the Hereafter.
Now, in the present verses, stated there are the attributes and signs, and punishments, of the other kind of people. One trait of character these disobedient and contumacious people have been reported to have الَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّـهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ (And…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
41. This implies two things. The angels will come in large numbers from every side and give them this good news: Now you have come to a place where there is peace for you. Here you are immune from every affliction, every trouble, every hardship, and every danger and worry. (For details see (E.N. 29 of Surah Al-Hijr).
Read the full tafseer →