Ar-Ra'd 13:24

Ar-Ra'd · from ayah 24

13:24

سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۟ؕسَلٰمٌ عَلَيۡكُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ‌ فَنِعۡمَ عُقۡبَى الدَّارِؕ

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

"Peace be upon you for what you patiently endured. And excellent is the final home."

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:24

اور اُن سے کہیں گے کہ "تم پر سلامتی ہے، تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو" پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر!

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اور کہیں گے) تم پر رحمت ہو (یہ) تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب (گھر) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو، صبر کے بدلے، کیا ہی اچھا (بدلہ) ہے اس دار آخرت کا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ تم نے (دنیا میں) جو صبر سے کام لیا تھا، اس کی بدولت اب تم پر سلامتی ہی سلامتی نازل ہوگی، اور (تمہارے) اصلی وطن میں یہ تمہارا بہترین انجام ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سلامتی ہو تم پر تمہارے صبر کا بدلہ تو پچھلا گھر کیا ہی خوب ملا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(انہیں خوش آمدید کہتے اور مبارک باد دیتے ہوئے کہیں گے:) تم پر سلامتی ہو تمہارے صبر کرنے کے صلہ میں، پس (اب دیکھو) آخرت کا گھر کیا خوب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

سلام ہو تم پر اس کے بدلے جو تم نے صبر کیا۔ سو اچھا ہے اس گھر کا انجام۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور کہیں گے) تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم (دنیا میں مصائب پر) صبر کرتے رہے۔ سو یہ آخرت کا گھر کیا ہی اچھا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کہیں گے آپ لوگوں پر سلامتی ہو بوجہ اس کے کہ آپ لوگ ثابت قدم رہے۔ پس کیا ہی خوب ہے انجام کار کی کامیابی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اور وہ ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ) سلام ہو تم پر (اے جنت کے باسیو !) اپنے اس صبر کی بناء پر جس سے تم نے (زندگی بھر) کام لیا، پس کیا ہی خوب ہے (تمہارے لئے) آخرت کا یہ گھر،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ کہتے ہوئے کہ) سلامتی ہو تم پر اس کے صلہ میں کہ تم صبر کرتے رہے سو (تمہارا) اس جہاں میں بہت ہی اچھا انجام ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اور کہیں گے) سلامتی ہو آپ پر بسبب اس کے جو آپ لوگوں نے صبر کیا تو کیا ہی اچھا ہے یہ آخرت کا گھر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہیں گے تم پر رحمت ہو یہ تمہاری ثابت قدمی کا بدلہ ہے اور عاقبت کا گھر خوب گھر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

"Peace be upon you. You merit this reward for your steadfastness." How excellent is the ultimate abode!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(saying) :Peace on you for the patience you observed. So, how excellent is the ultimate abode.

— Muhammad Taqi Usmani

(saying) :Peace on you for the patience you observed. So, how excellent is the ultimate abode.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Salamun `Alaykum (peace be upon you) for you persevered in patience! Excellent indeed is the final home!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Saying): Peace be unto you because ye persevered. Ah, passing sweet will be the sequel of the (heavenly) Home.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

"Peace be upon you for what you patiently endured. And excellent is the final home."

— Saheeh International

saying, "Peace be with you for all that you have patiently endured. Blessed is the reward of Paradise."

— Muhammad Sarwar

Peace be on you because you were constant, how excellent, is then, the issue of the abode.

— Muhammad Habib Shakir

Peace be upOn you for ye patiently persevered. Excellent then is the happy end in the Abode!

— Abdul Majid Daryabadi

"Peace unto you for that ye persevered in patience! Now how excellent is the final home!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–24

منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–25

سورة الرَّعْد 41 اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ملائکہ ہر طرف سے آ آ کر ان کو سلام کریں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ملائکہ ان کو اس بات کی خوشخبری دیں گے کہ اب تم ایسی جگہ آگئے ہو جہاں تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ اب یہاں تم ہر آفت سے، ہر تکلیف سے ہر مشقت سے، اور ہر خطرے سے اور اندیشے سے محفوظ ہو۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة حجر، 29)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

6 سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ سے معلوم ہوا کہ آخرت کی نجات اور درجات عالیہ سب اس کا نتیجہ ہوتے ہیں کہ انسان دنیا میں صبر سے کام لے اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کو ادا کرنے اور اس کی نافرمانیوں سے بچنے پر اپنے نفس کو مجبور کرتا رہے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–24

23۔ 24:۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ۔ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ۔ جنت میں جذبات کی رعایت : یہ اس " عقبی الدار " یعنی انجام خیر کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں گزرا۔ فرمایا کہ ان کے لیے ابد کے باغ ہوں گے جن میں وہ اتریں گے اور ان کی مسرت کی تکیل کے لیے ان کے ساتھ ان کے باپ دادوں اور ان کی ازواج و اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی جمع کردیا جا ائے گا جو اپنے اعمال کی بدولت اس کے اہل قرار پائیں گے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–25

25۔ 1 یہ نیکوں کے ساتھ بروں کا حشر بیان فرما دیا تاکہ انسان اس حشر سے بچنے کی کوشش کرے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–25

22: قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

آیت نمبر 23 تا 24 ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر ہے۔ یہ آخرت میں عالی مقام ہوں گے۔ ایسے باغات ہوں گے جو ان کے قیام کے لئے ابدی اور دائمی ہوں گے۔ ایسے ہی باغات میں ان کے اقارب و رشتہ دار ، آباء و اولاد ان کے ساتھ ہوں گے ، یعنی ان میں سے وہ جو صالح ہوں گے اور یہ لوگ ان باغات میں اپنی نیکی اور صلاح کی بنیاد پر داخل ہوں لیکن ان کے ساتھ ان کے اکرام کے طور پر ان کے رشتہ دار بھی داخل ہوں گے۔ دوست اور یار بھی وہاں ہوں گے۔ دوست و احباب اور آباء واولاد کا اجتماع ایک محبوب اور لذیذ چیز ہے جس سے جنت کے مزے دو چند ہوں گے۔ اس اجتماع میں جہاں دوست و احباب ہوں گے اور جہاں اعزہ و اقارب ہوں گے ملائکہ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 صحیح حدیث میں جنت کے آٹھ دروازے بیان ہوئے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان کاملین کی تعظیم و تکریم کے لیے خدا کے پاک فرشتے ہر طرف سے تحائف و ہدایا لے کر حاضر ہوں گے۔ احادیث میں ہے کہ خلق اللہ میں سے اول وہ فقراء مہاجرین جنت میں داخل ہوں گے جو سختیوں اور لڑائیوں میں سینہ سپر ہوتے اور رخنہ بندی کے وقت کام آتے تھے۔ جو حکم ان کو ملتا ان کی تعمیل کے لیے ہمیشہ مستعد رہتے۔ دنیا کی حاجتیں اور دل کے ارمان دل ہی میں لے کر یہاں سے رخصت ہوگئے۔ قیامت کے دن حق تعالیٰ فرمائے گا میرے وہ بندے کہاں ہیں (حاضر ہوں) جو میرے راستہ میں لڑے، میرے لیے تکلیفیں اٹھائیں اور جہاد کیا۔ جاؤ جنت میں بےکھٹکے داخل ہوجاؤ۔ پھر ملائکہ کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 23–24

آیت 24 سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ جنت میں اپنے آباء و اَجداد اور اہل و عیال میں سے صالح لوگوں کی معیت گویا اللہ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے ایک اعزاز ہوگا اور اس کے لیے اگر ضرورت ہوئی تو ان کے ان رشتہ داروں کے درجات بھی بڑھا دیے جائیں گے۔ مگر یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اہل جنت کے جو قرابت دار کفار اور مشرکین تھے ان کے لیے رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی بلکہ اس رعایت سے صرف وہ اہل ایمان مستفیض ہوں گے جو ”صالحین“ کی baseline پر پہنچ چکے ہوں گے۔ یعنی سورة النساء ‘ آیت 69 میں جو مدارج بیان ہوئے ہیں ان کے اعتبار سے جو مسلمان کم سے کم درجے کی جنت میں داخلے کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–24

33 اس مقام پر مومنوں کی مندرجہ بالا نو صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ایسے ہی لوگ جنت کے مستحق ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کے آباء ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے جو لوگ نیک ہونگے۔ اگرچہ ان کے اعمال اس درجہ پر نہ پہنچے ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ انھیں ان کے ساتھ ملا کر جنت میں اکٹھا کردے گا اور فرشتے جس دروازے سے بھی ان پر داخل ہوں گے انھیں سلامتی کی دعائیں دیا کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

47۔ حالت سرور، فرحت ونشاط میں انسان گفتگو بھی اسی قسم کی سننا چاہتا ہے جو اس کے لیے اور زیادہ کیف آور ونشاط انگیز ہو، چناچہ فرشتے بھی ہر طرف سے آ آکر ایسے ہی پیام پہنچائیں گے، (آیت) ” من کل باب “۔ ہر ہر دروازے سے “ کے ایک معنی تو ظاہر ہی ہیں، جنت کے ہر محل میں دروازے متعدد ہوں گے اور یہ پیام مسرت لانے والے ہر طرف سے داخل ہوں گے دوسرے معنی یہ لیے گئے ہیں کہ مومن نے دنیا میں جتنے قسم کی طاعتیں کی ہیں مثلا نماز، روزہ، حسن معاملت، سچائی وغیرہ اس میں سے ہر ہر قسم کے لیے ایک ایک دروازہ قائم ہوجائے گا اور فرشتے اس میں سے داخل ہوں گے، قال ابوبکر الاصم من کل باب میں ابواب البر (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–26

آیت نمبر 19 تا 26 ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سلم علیکم (اور کہیں گے :) تم پر سلامتی ہو۔ یعنی جن تکالیف کا تم کو ڈر رہتا تھا ‘ اب اللہ نے ان سے تم کو بچا لیا اور لازوال نعمتیں عطا فرما دیں۔ بما صبرتم تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے۔ یعنی گناہوں سے بچ کر ‘ نفسانی خواہشات کو روک کر ‘ طاعت پر قائم رہنے اور مصائب کو برداشت کرنے کی وجہ سے تم کو یہ ثواب ملا ہے۔ فنعم عقبے الدار سو اس جہان میں تمہارا انجام بہت اچھا ہے۔ حضرت ابو امامہ کا بیان ہے کہ جنت کے اندر اپنی مسند (مسہری) پر مؤمن راحت اندوز ہوں گا ‘ خادموں کی دو قطاریں اس کے سامنے ہوں گی ‘ دونوں قطاروں کے سرے پر ایک بند دروازہ ہوگا ‘ دروازے پر فرشتہ اندر آنے کا طلبگار ہوگا۔ مؤمن اپنے قریبی خادم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) کہ وہ جنت عدن ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا مقام ہے اور وہی انبیاء کرام صدیقین اور شہداء وصالحین کا ٹھکانہ ہے اور ان کے ماں، باپ، بیویاں اور اولاد جو مومن اور وحدانیت کے قائل ہوں گے اور اس جنت میں داخل ہونے لائق ہوں گے وہ اسی جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان میں سے ہر ایک کیلیے ایک موتیوں کا خیمہ ہوگا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور ہر ایک دروازے میں چوکھٹ ہوگا ان کے پاس ہر ایک دروازے سے فرشتے آئیں گے اور کہیں گے کہ تم ہر ایک مصیبت سے بچے رہو گے اور جنت اس صلہ میں ملی ہے کہہ تم احکام خداوندی پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تو جنت تمہارے لیے بہت اچھا انعام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ : ”سَلٰمٌ“ کا مطلب ہے کہ اب تم ہر مصیبت، رنج و غم اور پریشانی سے محفوظ ہوگئے۔ حافظ ابن کثیر ؓ نے اس کی مناسبت سے عبداللہ بن عمرو ؓ کی حدیث نقل فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ھَلْ تَدْرُوْنَ أَوَّلَ مَنْ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ ؟ قَالُوْا اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ أَعْلَمُ ، قَالَ أَوَّلُ مَنْ یَّدْخُلُ الْجَنَّۃَ مِنْ خَلْقِ اللّٰہِ الْفُقَرَاءُ وَالْمُھَاجِرُوْنَ الَّذِیْنَ تُسَدُّ بِھِمُ الثُّغُوْرُ وَیُتَّقٰی بِھِمُ الْمَکَارِہُ ، وَ یَمُوْتُ أَحَدُھُمْ وَ حَاجَتُہُ فِيْ صَدْرِہِ ، لاَ یَسْتَطِیْعُ لَہَا قَضَاءً ، فَیَقُوْلُ اللّٰہُ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–24

آیت نمبر 21 تا 24 قولہ تعالیٰ : والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل حضرت قتادہ اور اکثر مفسرین کے نزدیک یہ صلہ رحمہ کے بارے میں ظاہر ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام علامات کو بھی شامل ہے۔ ویخشون ربھم ایک قول یہ ہے : قطع رحم کے بارے میں وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جبکہ ایک قول کے مطابق تمام نافرمانیوں اور گناہوں سے ڈرتے ہیں۔ ویخافون سوء الحساب، سوء الحساب سے مراد یہ ہے کہ حساب میں سختی اور مناقشہ کیا جائے گا اور جس سے تفصیلی حساب سختی سے لیا گیا اسے عذاب دیا (ہی) جائے گا۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : یصلون ما امر اللہ بہ کا معنی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ حضرت حسن نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–24

خفیہ اور اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرناـ:۔ 1:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین صبروا “ یعنی (جنہوں نے صبر کیا) اللہ کے حکم (کی تعمیل) پر (آیت ) ” ابتغاء وجہ ربھم “ یعنی اپنے رب کی رضا مندی کو حاصل کرنے کے لئے (آیت ) ” واقامو الصلوۃ “ یعنی نماز کو پورا کرتے ہیں (آیت) ” انفقوا مما رزقنہم “ یعنی مالوں میں سے (خرچ کرتے ہیں) ” سراوعلانیۃ “ (یعنی چھپے ہوئے اور اعلانیہ طور پر) اللہ کے حق اور اس کی اطاعت میں (آیت ) ” ویدرءون “ یعنی وہ مدافعت کرتے ہیں (آیت ) ” بالحسنۃ السیئۃ “ نیکی سے برائی کی یعنی وہ برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی کرتے ہیں۔ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[سَلٰمٌ: (وہ کہیں گے) سلامتی ہو ] [عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [بِمَا : بسبب اس کے جو ] [صَبَرْتم : تم لوگ ثابت قدم رہے ] [ فَنِعْمَ : تو کتنا اچھا ہے ] [عُقْبَى الدَّارِ : اس (آخری) گھر کا انجام ] نوٹ۔ 1: ان آیات میں اللہ کا حکم ماننے والوں کی کچھ صفات کا ذکر ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ لوگ برائی کے جواب میں برائی نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ بھی بھلائی کرتے ہیں جو ان کے ساتھ برائی کرے۔ اس مفہوم کی وضاحت میں ہمیں متعدد احادیث ملتی ہیں۔ مثلاً رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ تم اپنے طرز عمل کو لوگوں کے طرز عمل کا تابع بنا کر مت رکھو۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اگر لوگ بھلائی کریں گے تو ہم بھلائی کریں گے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–25

یہاں تک چھ آیتوں کا مضمون بیان ہوا تھا ساتویں آیت میں اہل ایمان کے مقابل دوسری جماعتوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ‘ ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بِعْدِ مِیْثَاقِہٖ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے عہد کیا پھر اس پر قائم نہ رہے عہد کو توڑ دیا اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا انہیں توڑتے رہے اور زمین میں فساد کرتے رہے یہ لوگ پہلے گروہ کے برعکس ملعون ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

ذکر حال و مآل محقین و مبطلین قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–25

26:۔ یہ بشارت اخروی اکا اعادہ ہے۔ وَمَنْ صَلَحَ الخ مذکورہ بالا اتقیاء کے جو رشتہ دار بحالت ایمان دنیا سے رخصت ہوئے مگر تقویٰ کے اس مقام پر نہ پہنچ سکے ان کی وجہ سے ان کو بھی اللہ تعالیٰ بلند درجات عطا فرمائے گا۔ ” صَلَاحٌ“ سے ایمان و تصدیق مراد ہے ” قَالَ ابن عباس ھذا الصلاح الایمان باللہ والرسول (قرطبی ج 9 ص 312) معنی صلح صدق و اٰمن ووحد “ (خازن ج 4 ص 19) ۔ ” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ سے پہلے ” یَقُوْلُوْنَ “ مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–24

(ربط آیات) شرک کی تردید اور توحید کے بیان کے اس کے ماننے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا حق و باطل کی کشمکش کا ذکر فرمایا کہ ان دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، باطل کی مثال سیلاب کے پانی پر آنے والی جھاگ یا کسی دھات کو پگھلانے پر دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ کی ہے ، ہر دو قسم کی جھاگ تھوڑی دیر کے لیے جوش مارتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے ، اور جو چیز کارآمد اور مفید ہوتی ہے ، وہ اس جھاگ کے نیچے تہ نشین ہوجاتی ہے ، دھات کی صورت میں اصل دھات کے زیورات مابرتن یا دیگر سامان تیار کرلیا جاتا ہے فرمایا نیکی اور بدی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ 24؀ۭ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–27

2 ؎ دنیاوی تکالیف پر اور عبادت کی تکالیف پر اور نفس کے روکنے میں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ ۔ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 23۔ 24) (سدابہار باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے، ان کے آبائواجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر داخل ہوں گے۔ اور کہیں گے کہ آپ لوگوں پر سلامتی ہو۔ بوجہ اس کے جو تم نے صبر کیا۔ بس کیا ہی خوب ہے انجام کار کی کامیابی۔ ) ایسے اولوالالباب کا انجام گزشتہ آیات میں اولوالالباب کی صفات بیان کرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–24

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کا اجر اور ان کے لیے تیار کیے گئے گھر کی خوبیاں۔ ” عقبی الدار “ سے مراد مومنوں کے لیے جنت کا گھر ہے۔ جس میں تروتازہ اور ہمیشہ رہنے والے انواع و اقسام کے پھلوں کے باغات ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں مومنوں کو داخل کرکے ان کے نیکو کار آباء و اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کے بیٹے، بیٹیوں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ جنتی جب جنت کے قریب پہنچیں گے تو ملائکہ آگے بڑھ کر انہیں جنت کے ہر دروازے پر سلام عرض کریں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات اور پریشانیوں کے وقت صبر کیا اور دنیا میں رہتے ہوئے شریعت کی حدود وقیود کی پابندی کرتے رہے۔ انہیں ملائکہ موت کے وقت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24: سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ (تم پر سلام ہو) یہ موضع حال میں ہے اس لئے کہ معنی یہ ہے قائلین سلام علیکم یا مسلمین۔ اس حال میں کہ کہہ رہے ہونگے تم پر سلام ہو یا اس حال میں کہ سلام کرنے والے ہونگے۔ بِمَا صَبَرْ تُمْ (تمہارے صبر کرنے کی وجہ سے) یہ ثواب تمہیں اس لئے ملا کہ تم نے خواہشات سے صبر کیا نمبر 2۔ یا اللہ تعالیٰ کے حکم پر جمے رہنے کی وجہ سے یا نمبر 3۔ تم پر ہم سلام کرتے اور تمہارا اکرام تمہارے صبر کی وجہ سے کر رہے ہیں راجح ؔ ان میں سب سے بہتر پہلا قول ہے۔ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ (پس اس جہاں میں تمہارا یہ انجام بہت اچھا ہے) یعنی جنات کے باغات۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24۔” سلام علیکم “ وہ کہتے تھے سلام علیکم اور بعض نے کہا کہ جنتی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفات سے سلامت رکھے جن سے تم دنیا میں ڈرتے تھے۔ مقاتل کا قول ہے ان پر فرشتے ایک دن رات کی مقدار کے برابر ا ن کے پاس آتے ، تین مرتبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایا اور تحائف لے کر آتے ہیں اور وہ کہتے ہیں تم پر سلامتی ہو۔ ” بما صبرتم فنعم عقبی الدار “ ارطاۃ بن منذر فرماتے ہیں کہ میں نے ایک شخص ” مشیخۃ الجند “ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ ابو الحجاج نے کہا ک میں ابو امامہ کے پا س بیٹھا اور کہا کہ جنت کے اندر اپنی مسند پر مؤمن راحت اندوز ہوں گے ، خادموں کی دو قطاریں اس کے سامنے ہوں گی ، دونوں قطاروں کے سروں پر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–24

22۔ 24۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جو لوگ برے کاموں سے صرف خدا کی خوشنودی کے واسطے الگ رہے اور جن لوگوں نے پنجگانہ نماز قائم کی اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس میں سے حق دار کو بال بچوں رشتہ داروں کو فقرا اور مساکین کو دیا غرض کہ جو جو موقع خرچ کا خدا نے بتلایا ہے اس کے مطابق کھلم کھلا یا چھپ کر خرچ کیا اور برائی کے عوض بھلائی کرتے رہے اگر کسی نے ان کو تکلیف دی یا ستایا تو صبر کر کے چپ ہو رہے اس کے بدلے کے پیچھے نہ پڑے تو آخرت کا گھر انہیں نیک بختوں کے واسطے بنایا گیا ہے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے عدن ایک محلہ ہے جنت کا اور بعضوں نے کہا ہے ایک شہر ہے جنت میں غرض کہ یہ خود بھی وہاں جائیں گے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–24

23-24:“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” باغ میں ہمیشہ رہنے کے لئے “ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہئیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں۔۔۔ کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لئے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ (آیت) ” وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے “ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

71۔ اولوالالباب کے اجروانعام کا ذکر وبیان : سواولوالالباب یعنی عقل خالص رکھنے والے ان بندگان صدق وصفا کے انعام اور ان کے اجروثواب کے ذکر وبیان کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں جن کے لئے آخرت کے اس گھر اور انجام کی کامیابی ہے، اور یہ کامیابی ہے جو کہ کامیابیوں کی کامیابی اور اصل و حقیقی کامیابی ہے، اور پھر اس انجام خیر کی تفصیل مزید کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے ہمیشہ کی اقامت گاہ کے طور پر وہ عظیم الشان جنتیں ہوں گی، جن کے نیچے سے طرح طرح کی عظیم الشان نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور ان کی مسرت کی تکمیل کے لیے مزید یہ عنایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–24

نیک لوگ اور ان کا انعام تشریح : ان آیات مبارکہ میں چند اصول زندگی بتائے گئے ہیں۔ قرآن پاک ہدایت اور حکمت کی کتاب ہے اس میں انسان کے لیے کامیاب زندگی گزارنے کے ایسے سنہری اصول بتائے گئے ہیں کہ اگر ان پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ہماری زندگیاں خوشیوں، کامیابیوں اور سکون سے بھر سکتی ہیں۔ مثلاً رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم، بظاہر چھوٹی سی بات ہے مگر جب ہم اس کے معنوں پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس سے انسانی زندگی سر بلندو کامیاب ہو سکے۔ ایک فرد جو امن پسند ہے وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی امن و سکون سے رہنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ ہر جگہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 19–26

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 23–24

(13:23) جنت عدن مضاف مضاف الیہ اور عقبی الدار (آیۃ سابقہ ) کا بدل ہے۔ عدن کے باغات ۔ عدن کے معنی رہنا۔ بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ مصدر ہے اور باب نصروضرب سے آتا ہے۔ جنت عدن کے معنی رہنے بسنے کے باغات۔ جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں کہ جنتوں میں سے ایک خاص جنت کا نام ہے اور اس کی دلیل میں یہ آیت لاتے ہیں جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب ۔ (19:61) وہ عن کے باغات جن کا وعدہ غائبانہ خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔ اور جو حضرات عدن کو علم نہیں بلکہ جنت کی صفت بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عدن کے معنی اصل میں استقرار اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–26

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26 افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

صبر کا اجر ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جو لوگ برے کاموں سے صرف خدا کی خوشنودی کے واسطے الگ رہے اور جن لوگوں نے پنج گانہ نماز قائم کی اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس میں سے حق دار کو، بال بچوں رشتہ داروں کو، فقراء اور مساکین کو دیا۔ غرضیکہ جو جو موقع خرچ کا خدا نے بتلایا ہے اس کے مطابق کھلم کھلا یا چھپ کر خرچ کیا اور برائی کے عوض بھلائی کرتے رہے۔ اگر کسی نے ان کو تکلیف دی یا ستایا تو صبر کرکے چپ ہو رہے، اس کے بدلے کے پیچھے نہ پڑے تو آخرت کا گھر انہی نیک بختوں کے واسطے بنایا گیا ہے یعنی جنت۔ اور ان کے بال بچے باپ ماں بھی اگر نیک بخت ہیں تو انہیں کے ساتھ رہیں گے اور فرشتے ہر ہر دروازے سے آ کر ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–30

[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) جو لوگ نادانی کی وجہ سے اسلام پر معترض ہوتے ہیں اور اسلامی تعلیمات میں انہیں انتقام کی آگ بھڑکتی ہوئی نظر آتی ہے ، انہیں اس آیت کے معارف پر غور کرنا چاہئے قرآن کہتا ہے عاقبت میں ان لوگوں کا حصہ ہے ، جو برائی جواب نیکی سے دیتے ہیں ، مخالف سے درگزر کرتے ہیں ، اور انہیں حسن سلوک سے نادم کرتے ہیں ، کیا اس سے بہتر تعلیم اور پیرایہ بیان آپ کو کہیں اور جگہ مل سکتا ہے ؟ جس میں اس قدر اعلیٰ سلوک کی ترغیب موجود ہو ، حل لغات : المیثاق : مضبوط ۔ یدرء ون : الدر ، الدفع ، دور کرنا ، عقبی الدار : انجام ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

24 ۔ کہ تم کو ہر آفت اور ہر خطرے سے سلامتی ہو کہ اس صبر کے صلہ میں جو تم کیا کرتے تھے اور دین حق پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تھے اس عالم میں تمہارا نجام بہت اچھا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 24–28

ف 1۔ یعنی وہ قرآن کے اعجاز کو دلالت علی النبوة کے لیے کافی سمجھتے ہیں اور واہی تباہی فرمایش نہیں کرتے پھر خدا کی یاد اور طاعت میں انکو ایسی رغبت ہوتی ہے کہ متاع حیات دنیا سے مثل کفار کے ان کو رغبت اور فرحت نہیں ہوتی۔ 2۔ یعنی جس مرتبہ کا ذکر ہو اسی مرتبہ کا اطمینان ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کتنے خوش بخت ہیں وہ لوگ جو فرشتوں کی مبارکبادیوں کے مستحق قرار پائے 41 ؎ ” سلم علیکم “ سلامتی ہو تم پر۔ کون کہہ رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ کی وہ طاقتیں اور قوتیں جن کو فرشتوں کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ یہ شاباش ان کو کیوں دی جا رہی ہے ؟ فرمایا اس لئے کہ انہوں نے حق کی خاطر باطل سے ٹکر لی اور اس کے فسوں کو توڑ کر رکھ دیا اور ان کی دنیا تو گزری وہ جیسی کیسی بھی تھی لیکن ان کی اصل سعی و کوشش آخرت کی خاطر تھی وہ ان کو خوبملی اور وہ سلامتی کے مستحق ٹھہرے۔ اس لئے فرشے ان کو تسلیمات و تحیات پیش کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ساری عمر نفس کو گناہوں سے بچاتے رہے اور نیکی اور اطاعت پر مداومت کرنے میں کوشاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After that, the text states the additional honour they shall have in their 'ultimate abode' of the Hereafter when the angels emerge from each of its doors greeting them with Salam and telling them that their Sabr brings to them eternal security from all hardships and that they can themselves see how good is the ultimate abode of the 'Akhirah.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 24–25

41. This implies two things. The angels will come in large numbers from every side and give them this good news: Now you have come to a place where there is peace for you. Here you are immune from every affliction, every trouble, every hardship, and every danger and worry. (For details see (E.N. 29 of Surah Al-Hijr).

Read the full tafseer →