Ar-Ra'd 13:23

Ar-Ra'd · from ayah 23

13:23

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّیّٰتِهِمْ وَالْمَلٰٓىِٕكَةُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ ۟ۚجَنّٰتُ عَدۡنٍ يَّدۡخُلُوۡنَهَا وَمَنۡ صَلَحَ مِنۡ اٰبَآئِهِمۡ وَاَزۡوَاجِهِمۡ وَذُرِّيّٰتِهِمۡ‌ ۖ وَالۡمَلٰٓئِكَةُ يَدۡخُلُوۡنَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ كُلِّ بَابٍ‌ۚ

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Gardens of perpetual residence; they will enter them with whoever were righteous among their fathers, their spouses and their descendants. And the angels will enter upon them from every gate, [saying],

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:23

یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اور اُن کی بیویوں اور اُن کی اولاد میں سے جو جو صالح ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی (بہشت میں جائیں گے) اور فرشتے (بہشت کے) ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اور ان کے باپ دادوں اور بیویوں اور اوﻻدوں میں سے بھی جو نیکو کار ہوں گے، ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعنی ہمیشہ رہنے کے لیے وہ باغات جن میں وہ خود بھی داخل ہوں گے، اور ان کے باپ دادوں، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی، اور (ان کے استقبال کے لیے) فرشتے ان کے پاس ہر دروازے سے (یہ کہتے ہوئے) داخل ہوں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بسنے کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو لائق ہوں ان کے باپ دادا اور بیبیوں اور اولاد میں اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر یہ کہتے آئیں گے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(جہاں) سدا بہار باغات ہیں ان میں وہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے آباء و اجداد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو بھی نیکوکار ہوگا اور فرشتے ان کے پاس (جنت کے) ہر دروازے سے آئیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوئے اور فرشتے ہر دروازے میں سے ان پر داخل ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ گھر جو ہمیشہ قائم رہنے والے باغ ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے آباء و اجداد، ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی داخل ہوں گے اور فرشتے (جنت کے) ہر دروازے سے ان کے استقبال کو آئیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ابد کے باغ جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے ان کے آباء و اجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے۔ اور فرشتے ہر دروازے ان کے پاس جائیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی ہمیشہ رہنے کی ایسی جنتیں، جن میں یہ خود بھی داخل ہوں گے، اور (ان کے سبب سے) ان کے آباؤ اجداد، ان کی بیویوں، اور ان کی اولادوں، میں سے وہ لوگ بھی جو اس کے لائق ہوں گے، (اگرچہ درجات ان کے باہم مختلف ہوں گے) ان کے پاس فرشتے ہر طرف سے آرہے ہوں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

(یعنی) ہمیشگی کے باغ جن میں وہ (خود بھی) داخل ہوں گے اور (وہ بھی) جو جنت کے لائق ہوں گے ان کے ماں باپوں میں سے اور ان کے میاں بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے۔ اور فرشتے ان کے پاس ہر دروازہ سے داخل ہوتے ہوں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(آخرت کا گھر) وہ باغات ہیں ہمیشہ رہنے کے جن میں وہ داخل ہوں گے اور جو بھی صالح ہوں گے ان کے آباء ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے اور ہر دروازے سے جنت کے فرشتے ان کے سامنے حاضر ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ، دادا، بیویوں اور اولاد میں سے جو نیکوکار ہوں گے وہ بھی بہشت میں جائیں گے اور فرشتے بہشت کے ہر ایک دروازے سے ان کے پاس آئیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

- the Ever-lasting Gardens which they shall enter and so shall the righteous from among their fathers, and their spouses, and their offspring. And angels shall enter unto them from every gate, and say:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the eternal gardens they enter, and those as well who are righteous from their fathers, spouses, and progeny. The angels will enter onto them from every gate

— Muhammad Taqi Usmani

the eternal gardens they enter, and those as well who are righteous from their fathers, spouses, and progeny. The angels will enter onto them from every gate

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

`Adn Gardens, which they shall enter and (also) those who acted righteously from among their fathers, and their wives, and their offspring. And angels shall enter unto them from every gate (saying):

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Gardens of Eden which they enter, along with all who do right of their fathers and their helpmeets and their seed. The angels enter unto them from every gate,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Gardens of perpetual residence; they will enter them with whoever were righteous among their fathers, their spouses and their descendants. And the angels will enter upon them from every gate, [saying],

— Saheeh International

They will be admitted to the gardens of Eden wherein they will live forever with their righteous fathers, spouses, and offspring. The angels will come to them through every gate

— Muhammad Sarwar

The gardens of perpetual abode which they will enter along with those who do good from among their parents and their spouses and their offspring; and the angels will enter in upon them from every gate:

— Muhammad Habib Shakir

Gardens Everlasting; they shall enter them, and also whosoever shall have acted righteously from among their fathers and their spouses and their progeny. And angels shall enter unto them from every portal, saying:

— Abdul Majid Daryabadi

Gardens of perpetual bliss: they shall enter there, as well as the righteous among their fathers, their spouses, and their offspring: and angels shall enter unto them from every gate (with the salutation):

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–24

منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–25

سورة الرَّعْد 41 اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ ملائکہ ہر طرف سے آ آ کر ان کو سلام کریں گے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ملائکہ ان کو اس بات کی خوشخبری دیں گے کہ اب تم ایسی جگہ آگئے ہو جہاں تمہارے لیے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ اب یہاں تم ہر آفت سے، ہر تکلیف سے ہر مشقت سے، اور ہر خطرے سے اور اندیشے سے محفوظ ہو۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورة حجر، 29)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

کہ وہ ہوں گی جنت میں داخل ہوں گے عدن کے معنی قیام وقرار کے ہیں مراد یہ ہے کہ ان جنتوں سے کسی وقت ان کو نکالا نہ جائے گا بلکہ ان میں ان کا اقرار و قیام دائمی ہوگا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ عدن وسط جنت کا نام ہے جو جنت کے مقامات میں بھی اعلیٰ مقام ہے، اس کے بعد ان حضرات کے لئے ایک اور انعام یہ ذکر فرمایا گیا کہ یہ انعام ربانی صرف ان لوگوں کی ذات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ ان کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں اور اولاد کو بھی اس میں حصہ ملے گا شرط یہ ہے کہ وہ صالح ہوں جس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ مسلمان ہوں اور مراد یہ ہے کہ ان لوگوں کے آباء و اجداد اور ان کی بیبیوں کا اپنا عمل اگرچہ اس مقام پر پہنچنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 23–24

23۔ 24:۔ جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ۔ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ۔ جنت میں جذبات کی رعایت : یہ اس " عقبی الدار " یعنی انجام خیر کی تفصیل ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں گزرا۔ فرمایا کہ ان کے لیے ابد کے باغ ہوں گے جن میں وہ اتریں گے اور ان کی مسرت کی تکیل کے لیے ان کے ساتھ ان کے باپ دادوں اور ان کی ازواج و اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی جمع کردیا جا ائے گا جو اپنے اعمال کی بدولت اس کے اہل قرار پائیں گے۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جب وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 عدن کے معنی ہیں اقامت۔ یعنی ہمیشہ رہنے والے باغات۔ 23۔ 2 یعنی اس طرح نیک قرابت داروں کو آپس میں جمع کر دے گا تاکہ ایک دوسرے کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں حتٰی کہ ادنٰی درجے کے جنتی کو اعلٰی درجہ عطا فرما دے گا تاکہ وہ اپنے قرابت دار کے ساتھ جمع ہوجائے۔ فرمایا (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ 21؀) 52۔ الطور :21) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی تو ہم ملا دیں گے ان کے ساتھ ان کی اولاد کو…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 22–25

22: قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 23–24

آیت نمبر 23 تا 24 ان ہی لوگوں کے لئے آخرت کا گھر ہے۔ یہ آخرت میں عالی مقام ہوں گے۔ ایسے باغات ہوں گے جو ان کے قیام کے لئے ابدی اور دائمی ہوں گے۔ ایسے ہی باغات میں ان کے اقارب و رشتہ دار ، آباء و اولاد ان کے ساتھ ہوں گے ، یعنی ان میں سے وہ جو صالح ہوں گے اور یہ لوگ ان باغات میں اپنی نیکی اور صلاح کی بنیاد پر داخل ہوں لیکن ان کے ساتھ ان کے اکرام کے طور پر ان کے رشتہ دار بھی داخل ہوں گے۔ دوست اور یار بھی وہاں ہوں گے۔ دوست و احباب اور آباء واولاد کا اجتماع ایک محبوب اور لذیذ چیز ہے جس سے جنت کے مزے دو چند ہوں گے۔ اس اجتماع میں جہاں دوست و احباب ہوں گے اور جہاں اعزہ و اقارب ہوں گے ملائکہ کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جن میں ہمیشہ رہیں گے۔ 5 " آباء " کا لفظ تغلیباً کہا ہے جس میں امہات (مائیں) بھی شامل ہیں۔ یہ جنت کی بشارت کے ساتھ مزید خوشخبری سنائی کہ ایسے کاملین کو جن کی خصال اوپر بیان ہوئیں جنت میں ایک نعمت و مسرت یہ حاصل ہوگی کہ وہ اور ان کے ماں باپ، اولاد، بیویاں، جو اپنی نیکی کی بدولت دخول جنت کے لائق ہوں سب اکٹھے رہیں گے۔ حتٰی کہ ان متعلقین میں سے اگر کوئی کم رتبہ ہوگا تو حق تعالیٰ اپنی نوازش و مہربانی سے درجہ بڑھا کر اس مرد کامل سے نزدیک کر دے گا۔ (وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ ) 52 ۔ الطور :21) اس سے معلوم ہوا کہ بدون…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 23–24

آیت 24 سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ جنت میں اپنے آباء و اَجداد اور اہل و عیال میں سے صالح لوگوں کی معیت گویا اللہ کی طرف سے اپنے نیک بندوں کے لیے ایک اعزاز ہوگا اور اس کے لیے اگر ضرورت ہوئی تو ان کے ان رشتہ داروں کے درجات بھی بڑھا دیے جائیں گے۔ مگر یہاں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ اہل جنت کے جو قرابت دار کفار اور مشرکین تھے ان کے لیے رعایت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی بلکہ اس رعایت سے صرف وہ اہل ایمان مستفیض ہوں گے جو ”صالحین“ کی baseline پر پہنچ چکے ہوں گے۔ یعنی سورة النساء ‘ آیت 69 میں جو مدارج بیان ہوئے ہیں ان کے اعتبار سے جو مسلمان کم سے کم درجے کی جنت میں داخلے کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–24

33 اس مقام پر مومنوں کی مندرجہ بالا نو صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ ایسے ہی لوگ جنت کے مستحق ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کے آباء ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے جو لوگ نیک ہونگے۔ اگرچہ ان کے اعمال اس درجہ پر نہ پہنچے ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ انھیں ان کے ساتھ ملا کر جنت میں اکٹھا کردے گا اور فرشتے جس دروازے سے بھی ان پر داخل ہوں گے انھیں سلامتی کی دعائیں دیا کریں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

46۔ یعنی یہ نیک کردار اور اولوالالباب جنت میں خود تو خیر داخل ہوں گے، ان کے ساتھ ہی ان کے بڑے اور چھوٹے اور برابر والے عزیزوں کو بھی جنت میں پہنچا دیا جائے گا، بشرطیکہ ان میں صلاحیت بھی کسی درجہ کی جنت میں جانے کی ہوئی۔ (آیت) ” من صلح “۔ اس قید نے صاف کردیا کہ اہل جنت سے مطلق قرابت کا تعلق مغفوریت کے لیے کافی نہیں مغفرت تو ایمان ہی پر مرتب ہوگی البتہ ترقی درجات و مراتب کی گنجائش اعزہ واقربا کی شفاعت کی بنا پر ہے۔ قال ابن عباس ؓ یرید من صدق بما صدقوا بہ وان لم یعمل مثل اعمالھم (کبیر) قال الواحدی والصحیح ما قال ابن عباس ؓ (کبیر) والمعنی انہ یلحق بھم من صلح من اھلیھم وان لم یبلغ مبلغ فضلھم تبعا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–26

آیت نمبر 19 تا 26 ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

جنت عدن یعنی قیام اور رہنے کے باغ۔ عدن کا معنی ہے : قیام کرنا۔ (1) [ مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت عمر ؓ نے ممبر پر آیت : جَنَّاتُ عَدْنٍ تلاوت فرمائی ‘ پھر فرمایا : لوگو ! تم کو معلوم ہے کہ جَنَّاتُ عَدْنٍ کیا ہیں ؟ عَدْنٍ : جنت میں قصر ہے جس کے دس ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پچیس ہزار فراخ چشم حوریں متعین ہیں۔ اس قصر میں سوائے نبی ‘ صدیق اور شہید کے اور کوئی داخل نہ ہوگا (از مفسر (رح) )] یدخلونھا من صلح من ابآء ھم وازوجھم وذریتھم جن میں وہ لوگ بھی داخل ہوں گے اور ان کے ماں باپ اور بیبیوں اور اولادوں میں سے جو (جنت کے) لائق ہوں گے ‘ وہ بھی داخل ہوں گے۔ صلاح سے صرف ایمان مراد ہے ‘ کامل (عملی)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) کہ وہ جنت عدن ہے جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا مقام ہے اور وہی انبیاء کرام صدیقین اور شہداء وصالحین کا ٹھکانہ ہے اور ان کے ماں، باپ، بیویاں اور اولاد جو مومن اور وحدانیت کے قائل ہوں گے اور اس جنت میں داخل ہونے لائق ہوں گے وہ اسی جنت میں داخل ہوں گے۔ اور ان میں سے ہر ایک کیلیے ایک موتیوں کا خیمہ ہوگا، جس کے چار ہزار دروازے ہوں گے اور ہر ایک دروازے میں چوکھٹ ہوگا ان کے پاس ہر ایک دروازے سے فرشتے آئیں گے اور کہیں گے کہ تم ہر ایک مصیبت سے بچے رہو گے اور جنت اس صلہ میں ملی ہے کہہ تم احکام خداوندی پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے تو جنت تمہارے لیے بہت اچھا انعام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا۔۔ : یہ ”عُقْبَى الدَّارِ“ سے بدل الکل ہے، یعنی وہ اچھا انجام ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں جن میں وہ داخل ہوں گے اور جنت میں داخل ہونے کے لائق ان کے باپ دادا، بیویاں اور اولادیں بھی ان کے ساتھ جنت عدن میں داخل ہوں گی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ ”عدن“ جنت میں ایک مقام ہے، اس صورت میں ترجمہ ہوگا ”عدن کے باغات“ اور اس صورت میں یہ ”عُقْبَى الدَّارِ“ سے بدل البعض ہوگا۔ امام ابن کثیر ؓ نے اس آیت پر فرمایا، یعنی انھیں اور ان کے پیاروں کو جنت میں اکٹھا کردیا جائے گا، خواہ باپ ہوں یا گھر والے یا اولاد جو مومن ہونے کی وجہ سے جنت میں داخلے کے لائق ہوں گے، تاکہ ان کی آنکھیں ان کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–24

آیت نمبر 21 تا 24 قولہ تعالیٰ : والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل حضرت قتادہ اور اکثر مفسرین کے نزدیک یہ صلہ رحمہ کے بارے میں ظاہر ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام علامات کو بھی شامل ہے۔ ویخشون ربھم ایک قول یہ ہے : قطع رحم کے بارے میں وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جبکہ ایک قول کے مطابق تمام نافرمانیوں اور گناہوں سے ڈرتے ہیں۔ ویخافون سوء الحساب، سوء الحساب سے مراد یہ ہے کہ حساب میں سختی اور مناقشہ کیا جائے گا اور جس سے تفصیلی حساب سختی سے لیا گیا اسے عذاب دیا (ہی) جائے گا۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : یصلون ما امر اللہ بہ کا معنی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ حضرت حسن نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 22–24

خفیہ اور اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرناـ:۔ 1:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین صبروا “ یعنی (جنہوں نے صبر کیا) اللہ کے حکم (کی تعمیل) پر (آیت ) ” ابتغاء وجہ ربھم “ یعنی اپنے رب کی رضا مندی کو حاصل کرنے کے لئے (آیت ) ” واقامو الصلوۃ “ یعنی نماز کو پورا کرتے ہیں (آیت) ” انفقوا مما رزقنہم “ یعنی مالوں میں سے (خرچ کرتے ہیں) ” سراوعلانیۃ “ (یعنی چھپے ہوئے اور اعلانیہ طور پر) اللہ کے حق اور اس کی اطاعت میں (آیت ) ” ویدرءون “ یعنی وہ مدافعت کرتے ہیں (آیت ) ” بالحسنۃ السیئۃ “ نیکی سے برائی کی یعنی وہ برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی کرتے ہیں۔ (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[جَنّٰتُ عَدْنٍ : عدن کے باغات ہیں ] [ يَّدْخُلُوْنَهَا : وہ لوگ داخل ہوں گے ان میں ] [ وَمَنْ : اور وہ (بھی) جو ] [صَلَحَ : نیک ہوا ] [مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ : ان کے آبائو اجداد میں سے ] [ وَاَزْوَاجِهِمْ : اور ان کے جوڑوں میں سے ] [وَذُرِّيّٰــتِهِمْ : اور ان کی اولادوں میں سے ] [ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ : اور فرشتے ] [ يَدْخُلُوْنَ : داخل ہوں گے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [مِّنْ كُلِ بَابٍ : ہر دروازے سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–25

یہاں تک چھ آیتوں کا مضمون بیان ہوا تھا ساتویں آیت میں اہل ایمان کے مقابل دوسری جماعتوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ‘ ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بِعْدِ مِیْثَاقِہٖ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے عہد کیا پھر اس پر قائم نہ رہے عہد کو توڑ دیا اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا انہیں توڑتے رہے اور زمین میں فساد کرتے رہے یہ لوگ پہلے گروہ کے برعکس ملعون ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

ذکر حال و مآل محقین و مبطلین قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 22–25

26:۔ یہ بشارت اخروی اکا اعادہ ہے۔ وَمَنْ صَلَحَ الخ مذکورہ بالا اتقیاء کے جو رشتہ دار بحالت ایمان دنیا سے رخصت ہوئے مگر تقویٰ کے اس مقام پر نہ پہنچ سکے ان کی وجہ سے ان کو بھی اللہ تعالیٰ بلند درجات عطا فرمائے گا۔ ” صَلَاحٌ“ سے ایمان و تصدیق مراد ہے ” قَالَ ابن عباس ھذا الصلاح الایمان باللہ والرسول (قرطبی ج 9 ص 312) معنی صلح صدق و اٰمن ووحد “ (خازن ج 4 ص 19) ۔ ” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ سے پہلے ” یَقُوْلُوْنَ “ مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–24

(ربط آیات) شرک کی تردید اور توحید کے بیان کے اس کے ماننے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا حق و باطل کی کشمکش کا ذکر فرمایا کہ ان دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، باطل کی مثال سیلاب کے پانی پر آنے والی جھاگ یا کسی دھات کو پگھلانے پر دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ کی ہے ، ہر دو قسم کی جھاگ تھوڑی دیر کے لیے جوش مارتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے ، اور جو چیز کارآمد اور مفید ہوتی ہے ، وہ اس جھاگ کے نیچے تہ نشین ہوجاتی ہے ، دھات کی صورت میں اصل دھات کے زیورات مابرتن یا دیگر سامان تیار کرلیا جاتا ہے فرمایا نیکی اور بدی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ 23؀ۚ جَنَّةُ : كلّ بستان ذي شجر يستر بأشجاره الأرض، قال عزّ وجل : لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15] الجنۃ ہر وہ دباغ جس کی زمین درختوں کیوجہ سے نظر نہ آئے جنت کہلاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ؛ لَقَدْ كانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمالٍ [ سبأ/ 15]( اہل ) سبا کے لئے ان کے مقام بود باش میں ایک نشانی تھی ( یعنی دو باغ ایک دائیں طرف اور ایک ) بائیں طرف ۔ حضرت ابن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 22–27

2 ؎ دنیاوی تکالیف پر اور عبادت کی تکالیف پر اور نفس کے روکنے میں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 23–24

جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِہِمْ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْہِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ ۔ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 23۔ 24) (سدابہار باغات جن میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بھی جو اس کے اہل بنیں گے، ان کے آبائواجداد، ان کی ازواج اور ان کی اولاد میں سے اور فرشتے ہر دروازے سے ان پر داخل ہوں گے۔ اور کہیں گے کہ آپ لوگوں پر سلامتی ہو۔ بوجہ اس کے جو تم نے صبر کیا۔ بس کیا ہی خوب ہے انجام کار کی کامیابی۔ ) ایسے اولوالالباب کا انجام گزشتہ آیات میں اولوالالباب کی صفات بیان کرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 23–24

فہم القرآن ربط کلام : مومنوں کا اجر اور ان کے لیے تیار کیے گئے گھر کی خوبیاں۔ ” عقبی الدار “ سے مراد مومنوں کے لیے جنت کا گھر ہے۔ جس میں تروتازہ اور ہمیشہ رہنے والے انواع و اقسام کے پھلوں کے باغات ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جن میں مومنوں کو داخل کرکے ان کے نیکو کار آباء و اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کے بیٹے، بیٹیوں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ جنتی جب جنت کے قریب پہنچیں گے تو ملائکہ آگے بڑھ کر انہیں جنت کے ہر دروازے پر سلام عرض کریں گے۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات اور پریشانیوں کے وقت صبر کیا اور دنیا میں رہتے ہوئے شریعت کی حدود وقیود کی پابندی کرتے رہے۔ انہیں ملائکہ موت کے وقت ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

23: جَنّٰتُ عَدْنٍ (ہمیشہ کے باغات) یہ عقبی الدار سے بدل ہے۔ یَّدْ خُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ (وہ اسمیں داخل ہونگے اور وہ جو لائق ہونگے) یعنی ایمان لائیں گے مِنْ اٰبَآ ئِ ھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ (انکے آبائو اجداد اور انکی بیویوں اور انکی اولاد میں سے) قراءت : صَلُح بھی پڑھا گیا مگر فتحہ لام زیادہ فصیح ہے۔ اور منؔ، یدخلونھا کی ضمیر پر عطف ہونے کی وجہ سے محل رفع میں ہے۔ کیونکہ ضمیر مفعول فاصل بن گیا ہے۔ زجاج نے اسکے مفعول معہ ہونے کو جائز قرار دیا۔ اور صلاح کی صفت کے ساتھ اسکو ذکر کیا۔ تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ نسب فقط فائدہ مند نہیں اور مراد ہر ایک کے ماں، باپ ہیں۔ اگرچہ ذکر تغلیباً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

23۔” جنات عدن “ اس کی اقامت کی جگہ باغات ہوں گے۔” ید خلونھا ومن صلح من آبائھم وازواجھم وذریاتھم والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب “ بعض نے کہا اس سے جنت کے دروازے ہیں اور بعض نے کہا کہ قصور کے ابواب مراد ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–24

22۔ 24۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جو لوگ برے کاموں سے صرف خدا کی خوشنودی کے واسطے الگ رہے اور جن لوگوں نے پنجگانہ نماز قائم کی اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس میں سے حق دار کو بال بچوں رشتہ داروں کو فقرا اور مساکین کو دیا غرض کہ جو جو موقع خرچ کا خدا نے بتلایا ہے اس کے مطابق کھلم کھلا یا چھپ کر خرچ کیا اور برائی کے عوض بھلائی کرتے رہے اگر کسی نے ان کو تکلیف دی یا ستایا تو صبر کر کے چپ ہو رہے اس کے بدلے کے پیچھے نہ پڑے تو آخرت کا گھر انہیں نیک بختوں کے واسطے بنایا گیا ہے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے عدن ایک محلہ ہے جنت کا اور بعضوں نے کہا ہے ایک شہر ہے جنت میں غرض کہ یہ خود بھی وہاں جائیں گے اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 23–24

23-24:“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا : (آیت) ” باغ میں ہمیشہ رہنے کے لئے “ یعنی وہ ان جنتوں میں قیام کریں گے وہ کبھی ان سے دور نہ ہوں گے اور نہ وہ ان جنتوں سے منتقل ہونا چاہئیں گے وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے اوپر کوئی منزل نہیں۔۔۔ کیونکہ یہ جنتیں ایسی نعمت اور مسرت پر مشتمل ہیں جو مطلوب و مقصود ہے۔ اور ان کے لئے نعمت کی تکمیل اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہے کہ (آیت) ” وہ اس (جنت) میں داخل ہوں گے اور جو نیک ہوئے ان کے باپ دادا میں سے، (مردوں اور عورتوں میں سے) اور ان کی بیویوں میں سے اور ان کی اولاد میں سے “ اور اسی طرح ان جیسے دیگر لوگ، ان کے دوست، ہم نشین، ان کے ساتھی۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–23

67۔ اولوالالباب کی پانچویں صفت صبرواستقامت : سووہ ہمیشہ صبر واستقامت سے کام لیتے ہیں راہ حق وصواب پر جم کر۔ اور مصائب وآلام پر ثابت قدم رہ کر۔ سو یہ اولوالالباب " کی پانچویں بڑی صفت ہے کہ وہ راہ حق وصبر واستقامت سے کام لیتے ہیں اور ان کے سامنے اپنے رب کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ کہ رب کی رضا کا حصول دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق۔ سو وہ راہ حق میں پیش آنے والے مصائب ومشاکل پر جزع وفزع کی بجائے صبر وضبط اور استقلال واستقامت سے کام لیتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔ 68۔ اولوالالباب کی چھٹی صفت اقامت صلوۃ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–24

نیک لوگ اور ان کا انعام تشریح : ان آیات مبارکہ میں چند اصول زندگی بتائے گئے ہیں۔ قرآن پاک ہدایت اور حکمت کی کتاب ہے اس میں انسان کے لیے کامیاب زندگی گزارنے کے ایسے سنہری اصول بتائے گئے ہیں کہ اگر ان پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ہماری زندگیاں خوشیوں، کامیابیوں اور سکون سے بھر سکتی ہیں۔ مثلاً رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم، بظاہر چھوٹی سی بات ہے مگر جب ہم اس کے معنوں پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس سے انسانی زندگی سر بلندو کامیاب ہو سکے۔ ایک فرد جو امن پسند ہے وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی امن و سکون سے رہنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ ہر جگہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 19–26

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ۔ بدل کل من عقبہ الدار یہ ترجمہ اس لحاظ سے ہے کہ ” عدن “ کے معنی رہنے کے ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ عدن جنت میں ایک مقام کا آنا ہے۔ اس تفسیر کے مطابق ” جنات عدن “ کا ترجمہ ” عدن کے باغ “ ہوگا۔ اس صورت میں یہ عقبی الدار سے بدل البعض ہوگا۔ (از روح) ۔ 6 ۔ وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے نیک ہونا بہرحال شرط ہے صرف رشتہ داری کا تعلق کافی نہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 23–24

(13:23) جنت عدن مضاف مضاف الیہ اور عقبی الدار (آیۃ سابقہ ) کا بدل ہے۔ عدن کے باغات ۔ عدن کے معنی رہنا۔ بسنا۔ کسی جگہ مقیم ہونا۔ مصدر ہے اور باب نصروضرب سے آتا ہے۔ جنت عدن کے معنی رہنے بسنے کے باغات۔ جہاں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ عدن کو بعض علماء علم قرار دیتے ہیں کہ جنتوں میں سے ایک خاص جنت کا نام ہے اور اس کی دلیل میں یہ آیت لاتے ہیں جنت عدن ن التی وعد الرحمن عبادہ بالغیب ۔ (19:61) وہ عن کے باغات جن کا وعدہ غائبانہ خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے۔ کیونکہ یہاں معرفہ کو اس کی صفت لایا گیا ہے۔ اور جو حضرات عدن کو علم نہیں بلکہ جنت کی صفت بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ عدن کے معنی اصل میں استقرار اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–26

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26 افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–23

ارشاد ہوتا ہے کہ اگرچہ ہر طرح کی نصیحت قرآن شریف میں ہے، لیکن وہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے عہد کا خیال ہے کہ شریعت میں جس چیز کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس کو بجا لانے کا عہد اور جس سے باز رہنے کا ارشاد فرمایا ہے، اس سے باز رہنے کے عہد کو وہ لوگ پورا کرتے ہیں۔ اور جس طرح یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر قائم رہنے کا اور رسولوں کی فرمانبردار کرنے کا اور کتب آسمانی کی پابندی کرنے کا عہد لیا ہے، شریعت کو اس عہد کے یاد دلانے کی ایک چیز جان کر، نہ کہ منافقوں کی طرح ان لوگوں کی یہ عادت ہے کہ زبان سے تو شریعت کی پابندی کا اقرار ہے اور دل میں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–30

[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–23

(ف 3) خدا نے صلہ رحمی ورشتوں کے تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اسے جزو ایمان ٹھہرایا ہے ، تاکہ لوگ باہم محبت ومؤدت سے رہیں اسلامی عقائد وعمل میں جس قدر وسعت ہے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی زنگی کا ہر شبہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے جہاں خدا پرستی اور توحید پر زور دیا گیا ہے ، نمازوں کی تاکید کی گئی ہے اور محبت و اطاعت رسول کی اہمیت واضح کی گئی ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنوں سے محبت کرنا حقوق انسانی کی رعایت رکھنا اور محبت ومؤدت سے رہنا بھی اسلام شعائر میں سے ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

23 ۔ وہ آخرت کا گھر یہ کہ دائمی رہنے کے باغات ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور ان کے ساتھ ان کے ماں باپ اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد میں سے جو جنت کی صلاحیت اور قابلیت رکھتے ہوں گے وہ بھی ان باغوں میں داخل ہوں گے اور فرشتے ہر ایک دروازے سے ان کے پاس یوں کہتے ہوئے آئیں گے ۔ یعنی دار آخرت کی بھلائی یہ کہ لوگ نہ صرف تنہا جنتوں میں داخل ہوں گے بلکہ ان کے ماں باپ ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے بھی جو لوگ اہل اور قابل ہوں گے وہ بھی ان کے ہمراہ ہی داخل کردیئے جائیں گے تا کہ سب ساتھ رہیں ۔ ان ساتھیوں میں سے جو ان کا ہم مرتبہ ہوگا اس کے ساتھ رہنے میں تو کوئی اشکال نہیں اگر کوئی کم مرتبہ ہوگا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 5۔ مقربین کی برکت سے ان کے ماں باپ اور بیویاں اور اولاد بھی اسی درجہ میں بالتبع داخل ہوں گے چناچہ اس آیت کی تفسیر میں ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ مومن جنت میں داخل ہوکرک ہے گا کہ میری ماں کہاں ہے میرا بیٹا کہاں ہے میری بیوی کہاں ہے اس سے کہا جائے گا کہ ان کے اعمال تمہارے عملوں کی مانند نہیں تھے جنتی کہے گا کہ میں جو کرتا رہا ہوں وہ اپنے لیے بھی تھے اور ان کے کے لیے بھی اور مراد آباء واولاد سے وہ میں جو بلاواسطہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ں اور الفاظ کو دیکھ کر اس کے اچھے یا برے انجام کا پتہ لگا لیا جاتا ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغات ہیں ان کیلئے ان کے آبائو اجداد اور اولاد کیلئے 40 ؎ یہ نیک کردار اور اولوالباب خود تو بحمد اللہ جنت میں داخل ہوں ہی گے ان کے ساتھ ان کے آبائو اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کی اولاد بھی انشاء اللہ جنت میں ساتھ ہوں گے اس لئے کہ یہ خود ہی صاحب عقل و دانش نہیں تھے بلکہ ان کے آبائو اجداد اور ان کی اولاد اور بیویاں اور دوسرے کتنے رشتہ دار بھی صاحب فہم و بصیرت تھے اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ معاون و مدگار تھے۔ غور کیجئے کہ ان کی رشتہ داریاں تو ہیں لیکن جنت میں جانے کا باعث صرف رشتہ داریاں نہ ہوئیں بلکہ ان سب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Onwards from this point there comes the description of the same 'ultimate abode' when it is said that these shall be eternal gardens they shall enter. The word: عَدن ('Adn) means to abide, settle down permanently. The sense is that no one shall ever be expelled from these gardens, instead, they shall be there eternally. Some commentators have said that ` Adn is the name of the midmost of the Paradise which is also the most superior of its many stations. After that, mentioned there is yet another reward for these people and this reward shall not remain restricted to those people in person. In…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 22–23

39.“Those who are patient”: They remain self possessed and keep under control all their desires and lusts and do not transgress the bounds, and they do not yield to temptations to disobey their Lord in order to gain advantages and gratify their desires. Nay, they bear with calm courage and endurance losses and afflictions that are inevitable in the obedience of Allah. If we consider the life of a believer from this point of view, we shall find that his entire life is the life of endurance and fortitude, for he keeps himself under control in very trying circumstances in this world in the hope…

Read the full tafseer →