Explained with ayahs 20–24
منافق کا نفسیاتی تجزیہ
ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 39
یعنی اپنی خواہشات کو قابو میں رکھتے ہیں، اپنے جذبات اور میلانات کو حدود کا پابند بناتے ہیں، خدا کی نافرمانی میں جن جن فائدوں اور لذتوں کا لالچ نظر آتا ہے انہیں دیکھ کر پھسل نہیں جاتے، اور خدا کی فرمانبرداری میں جن جن نقصانات اور تکلیفوں کا اندیشہ ہوتا ہے انہیں برداشت کرتے جاتے ہیں۔ اس لحاظ سے مومن کی پوری زندگی درحقیقت صبر کی زندگی ہے، کیونکہ وہ رضائے الہی کی امید پر اور آخرت کے پائدار نتائج کی توقع پر اس دنیا میں ضبط نفس سے کام لیتا ہے اور گناہ کی جانب نفس کے ہر میلان کا صبر کے ساتھ مقابلہ کرتا ہے۔
سورة الرَّعْد 40
یعنی وہ بدی کے مقابلے میں بدی نہیں بلکہ نیکی کرتے ہیں۔ وہ…
Read the full tafseer →چھٹی صفت یہ بیان فرمائی (آیت) وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ۔ یعنی وہ لوگ جو خالص اللہ تعالیٰ کی رضائی جوئی کے لئے صبر کرتے ہیں صبر کے معنی عربی زبان میں اس مفہوم سے بہت عام ہیں جو اردو زبان میں سمجھا جاتا ہے کہ کسی مصیبت اور تکلیف پر صبر کریں کیونکہ اس کے اصلی معنی خلاف طبع چیزوں سے پریشان نہ ہونا بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے کام پر لگے رہنا ہے اسی لئے اس کی دو قسمیں بیان کی جاتی ہیں ایک صبر اعلی الطاعۃ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل پر ثابت قدم رہنا دوسرے صبر میں عن المعصیۃ یعنی گناہوں سے بچنے پر ثابت قدم رہنا صبر کے ساتھ اِبْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ کی قید میں یہ…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً وَّيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ۔
انہی کی مزید صفات بیان ہورہی ہیں کہ اللہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی راہ میں ان کو جو مشکلات و مصائب پیش آتے ہیں وہ ان کو اللہ کی رضا جوئی کی خاطر برداشت کرتے ہیں۔ اقاموا الصلوۃ نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ نماز پڑھنے اور نماز کے اہتمام میں بڑا فرق ہے۔ اس کی تفصیل اس کے محل میں دیکھیے۔
سری نفاق کی اہمیت : وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا…
Read the full tafseer →22۔ 1 اللہ کی نافرمانی اور گناہوں سے بچتے ہیں۔ یہ صبر کی ایک قسم ہے۔ تکلیفوں اور آزمائشوں پر صبر کرتے ہیں، یہ دوسری قسم ہے۔ اہل دانش دونوں قسم کا صبر کرتے ہیں۔
22۔ 2 ان کی حدود و مواقیت، خشوع و خضوع اور اعتدال ارکان کے ساتھ۔ نہ کہ اپنے من مانے طریقے سے۔
22۔ 3 یعنی جہاں جہاں اور جب بھی، خرچ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے، اپنوں اور بیگانوں میں اور خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔
22۔ 4 یعنی ان کے ساتھ کوئی برائی سے پیش آتا ہے تو وہ اس کا جواب اچھائی سے دیتے ہیں، یا عفو و درگزر اور صبر جمیل سے کام لیتے ہیں۔ جس طرح دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' (اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
22: قرآن کریم کی اصطلاح میں صبر کا مفہوم بہت عام ہے۔ انسان اپنی نفسانی خواہشات کے تقاضوں کو جب بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی وجہ سے دبا لے تو یہ صبر ہے۔ مثلا نفس کی خواہش یہ ہورہی ہے کہ اس وقت کی نماز چھوڑ دی جائے۔ ایسے موقع پر اس خواہش کی خلاف ورزی کر کے نماز پڑھنا صبر ہے۔ یا اگر کسی گناہ کی خواہش دل میں پیدا ہورہی ہے تو اس کو دبا کر گناہ سے بچ جانا صبر ہے۔ اسی طرح اگر کسی تکلیف کے موقع پر اگر نفس کا تقاضا یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر شکوہ اور غیر ضروری واویلا کیا جائے تو ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہ کر اختیاری واویلا نہ کرنا بھی صبر ہے۔ اس طرح صبر کا لفظ دین کے تمام احکام پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
یہ ایک عظیم اصول ہے جس کے اوپر پوری زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اس اصول کو قرآن کریم چند کلمات کے اندر ضبط فرماتا ہے :
آیت نمبر 21 تا 22
یہ اجمالی اور کلی قاعدہ ہے ، یعنی اللہ نے جن روابط کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے جوڑتے ہیں یعنی وہ مکمل اطاعت کرتے اور پوری طرح وفادار اور استوار ہوتے ہیں۔ سنت الٰہیہ کے مطابق سیدھے چلتے ہیں اور ان کی رفتار میں کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں ایک کلی قاعدہ بیان کردیا اور جس کے اندر اللہ کے وہ تمام مفرد احکام آگئے جن کا اللہ نے حکم دیا ہے کیونکہ تمام احکام کو یہاں ایک ایک کر کے بیان کرنا بہت ہی مشکل تھا اور یہاں مقصود بھی نہ تھا بلکہ یہاں مقصود یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →1 یعنی مصائب و شدائد اور دنیا کی مکروہات پر صبر کیا۔ کسی سختی سے گھبرا کر طاعت کے راستہ سے قدم نہیں ہٹایا نہ معصیت کی طرف جھکے اور صبر و استقلال محض حق تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دکھلایا، اس لیے نہیں کہ دنیا انھیں بہت صابر اور مستقل مزاج کہے۔ نہ اس لیے کہ بجز صبر کے چارہ نہ رہا تھا مجبور ہوگئے تو صبر کر کے بیٹھ رہے۔
2 پوشیدہ کو شاید اس لیے مقدم رکھا کہ پوشیدہ خیرات کرنا افضل ہے۔ اِلاّ یہ کہ کہیں مصلحت شرعی اعلانیہ دینے میں ہو۔
3 یعنی برائی کا جواب بھلائی سے دیتے تھے۔ سختی کے مقابلہ میں نرمی برتتے ہیں۔ کوئی ظلم کرتا ہے یہ معاف کرتے ہیں (بشرطیکہ معافی سے برائی کے ترقی کرنے کا…
Read the full tafseer →وَّيَدْرَءُوْنَ بالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ
وہ برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے بلکہ کوئی شخص اگر ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو وہ جواباً اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آتے ہیں تاکہ اس کے اندر اگر نیکی کا جذبہ موجود ہے تو وہ جاگ جائے۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ !
Read the full tafseer →30 یعنی راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات کو ثابت قدمی کے ساتھ برداشت کیا اور اللہ تعالیٰ کے احکام و حدود میں اللہ کی رضا کی خاطر اپنے نفس کی خواہشات پر کنٹرول کیا۔ اس لحاظ سے ایک مومن کی ساری زندگی ہی دراصل صبر کی زندگی ہوتی ہے۔
31 یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب ہو۔ خوشحال ہو یا تنگ دست ہو۔ ہر ایک کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے۔ قرآن کی بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ طور پر صدقہ کرنا علانیہ صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ غالباً اسی لیے پہلے پوشیدہ صدقہ کا ذکر کیا گیا۔ پھر صدقہ کی دو بڑی قسمیں ہیں۔ ایک فرضی یعنی زکوٰۃ…
Read the full tafseer →45۔ حق تعالیٰ کی رضاء یہی لوگ حاصل کریں گے اور یہی لوگ رضاء الہی کے محل ومقام میں ہوں گے۔ یہ سب شناختیں انہیں صاحبان فہم کی بیان ہوئیں۔ (آیت) ” الذین۔۔ ربھم “۔ یعنی دین حق پر ہر طرح کی جسمانی صعوبتوں اور دماغی پریشانیوں کے باوجود قائم رہتے ہیں۔ اس صبر کے عموم میں ہر قسم کے احکام تشریعی اور مصائب تکوینی پر صبر شامل ہے۔ یدخل فی الصبر علی فعل العبادات والصبر علی ثقل الامراض والمضار والغموم والاحزان والصبر علی ترک المشتھیات وبالجملۃ الصبر علی ترک المعاصی وعلی ادآء الطاعات (کبیر) (آیت) ” سرا وعلانیۃ “۔ یعنی حسب موقع ومصلحت کبھی اس خرچ کا اظہار بھی کردیتے ہیں، اور کبھی اسے مخفی بھی رکھتے ہیں، مثلا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیت نمبر 19 تا 26
ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…
Read the full tafseer →والذین صبروا اور جن لوگوں نے صبر کیا۔ یعنی جو احکام ان کو دئیے گئے ہیں ‘ ان پر ثابت قدم رہے (حضرت ابن عباس) یا مصائب اور شدائد پر صابر رہے (عطاء) بعض علماء کے نزدیک صبر سے مراد ہے : نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا۔ زیادہ مناسب یہ ہے کہ صبر سے مراد ہو خواہشات کی مخالفت پر جما رہنا۔ یہ تفسیر تمام اقوال کو جامع ہے۔ (1) [ حاصل اختلاف یہ ہے کہ حضرت ابن عباس اور عطاء کے نزدیک صَبَرُوْا کے بعد علٰی محذوف ہے۔ احکام پر ثابت قدم رہنا یا مصائب پر ‘ دونوں صورتوں میں علٰی (جو صبر کا صلہ ہے) محذوف ہوگا۔ لیکن بعض علماء کے نزدیک عَنْ (حرف صلہ) محذوف ہے ‘ خواہشات سے یا گناہوں سے اجتناب کرنا۔ حضرت مفسر کی تفسیر…
Read the full tafseer →(22) اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ اپنے رب کی رضا مندی کے خواہش مند رہ کر اس کے احکامات پر پوری طرح قائم رہتے ہیں اور پانچوں نمازوں کے پابند رہتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے چھپ کر بھی اور لوگوں کے سامنے ظاہر کرکے بھی صدقہ و خیرات کرتے رہتے ہیں اور جب کوئی ان کے ساتھ برائی کرتا ہے تو اچھی بات اور حسن سلوک سے اس کو ٹال دیتے ہیں، مذکورہ صفات والے حضرات کے لیے جنت ہے اور ان حضرات کو کون سی جنت ملے گی اب اس کی تفصیل یہ ہے۔
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ : یعنی ہر اس مقام پر جہاں صبر قابل تعریف ہے وہ محض اللہ کے چہرے کی خاطر صبر کرتے ہیں، تاکہ وہ راضی ہوجائے۔ نہ ریا (دکھاوے) کے لیے، نہ سمعہ (شہرت) کے لیے کہ لوگ کہیں واہ کیا صابر شخص ہے۔ صبر کا معنی روکنا، باندھنا ہے۔ اپنے آپ کو اللہ کے احکام کی پابندی پر قائم رکھنا ”صَبْرٌ عَلَی الطَّاعَۃِ“ ہے، اس کی نافرمانی سے رکنا ”صَبْرٌ عَنِ الْمَعْصِیَۃِ“ ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی مصیبت، مثلاً بیماری، فاقہ، خوف یا اموات وغیرہ پر اپنے آپ کو جزع فزع سے روکنا اور اسے اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی تقدیر سمجھ کر کسی شکوہ و شکایت کے بغیر برداشت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت نمبر 21 تا 24
قولہ تعالیٰ : والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل حضرت قتادہ اور اکثر مفسرین کے نزدیک یہ صلہ رحمہ کے بارے میں ظاہر ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام علامات کو بھی شامل ہے۔ ویخشون ربھم ایک قول یہ ہے : قطع رحم کے بارے میں وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جبکہ ایک قول کے مطابق تمام نافرمانیوں اور گناہوں سے ڈرتے ہیں۔ ویخافون سوء الحساب، سوء الحساب سے مراد یہ ہے کہ حساب میں سختی اور مناقشہ کیا جائے گا اور جس سے تفصیلی حساب سختی سے لیا گیا اسے عذاب دیا (ہی) جائے گا۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : یصلون ما امر اللہ بہ کا معنی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ حضرت حسن نے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
خفیہ اور اعلانیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرناـ:۔
1:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والذین صبروا “ یعنی (جنہوں نے صبر کیا) اللہ کے حکم (کی تعمیل) پر (آیت ) ” ابتغاء وجہ ربھم “ یعنی اپنے رب کی رضا مندی کو حاصل کرنے کے لئے (آیت ) ” واقامو الصلوۃ “ یعنی نماز کو پورا کرتے ہیں (آیت) ” انفقوا مما رزقنہم “ یعنی مالوں میں سے (خرچ کرتے ہیں) ” سراوعلانیۃ “ (یعنی چھپے ہوئے اور اعلانیہ طور پر) اللہ کے حق اور اس کی اطاعت میں (آیت ) ” ویدرءون “ یعنی وہ مدافعت کرتے ہیں (آیت ) ” بالحسنۃ السیئۃ “ نیکی سے برائی کی یعنی وہ برائی کرنے والے کے ساتھ بھی نیکی کرتے ہیں۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →وَالَّذِينَ : اور جو لوگ ] [ صَبَرُوا : ثابت قدم رہے ] [ ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِهِمْ : اپنے رب کی توجہ کی جستجو میں ] [ وَاَقَامُوا : اور انھوں نے قائم کی ] [ الصَّلٰوةَ : نماز ] [ وَانفَقُوْا : اور انھوں نے خرچ کیا ] [ مِمَا : اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰهُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ سِرًّا : چھپاتے ہوئے ] [ وَّعَلَانيَةً : اور اعلانیہ ] [ وَّيَدْرَءُوْنَ : اور ہٹاتے ہیں ] [ بِالْحَسَنَةِ : بھلائی سے ] [ السَّيِّئَةَ : برائی کو ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَهُمْ : جن کے لئے ہے ] [عُقْبَى الدَّارِ : اس (آخری) گُم گھر کا انجام ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
یہاں تک چھ آیتوں کا مضمون بیان ہوا تھا ساتویں آیت میں اہل ایمان کے مقابل دوسری جماعتوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ‘ ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بِعْدِ مِیْثَاقِہٖ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے عہد کیا پھر اس پر قائم نہ رہے عہد کو توڑ دیا اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا انہیں توڑتے رہے اور زمین میں فساد کرتے رہے یہ لوگ پہلے گروہ کے برعکس ملعون ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
ذکر حال و مآل محقین و مبطلین
قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–25
26:۔ یہ بشارت اخروی اکا اعادہ ہے۔ وَمَنْ صَلَحَ الخ مذکورہ بالا اتقیاء کے جو رشتہ دار بحالت ایمان دنیا سے رخصت ہوئے مگر تقویٰ کے اس مقام پر نہ پہنچ سکے ان کی وجہ سے ان کو بھی اللہ تعالیٰ بلند درجات عطا فرمائے گا۔ ” صَلَاحٌ“ سے ایمان و تصدیق مراد ہے ” قَالَ ابن عباس ھذا الصلاح الایمان باللہ والرسول (قرطبی ج 9 ص 312) معنی صلح صدق و اٰمن ووحد “ (خازن ج 4 ص 19) ۔ ” سَلَامٌ عَلَیْکُمْ “ سے پہلے ” یَقُوْلُوْنَ “ مقدر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(ربط آیات)
شرک کی تردید اور توحید کے بیان کے اس کے ماننے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا حق و باطل کی کشمکش کا ذکر فرمایا کہ ان دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، باطل کی مثال سیلاب کے پانی پر آنے والی جھاگ یا کسی دھات کو پگھلانے پر دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ کی ہے ، ہر دو قسم کی جھاگ تھوڑی دیر کے لیے جوش مارتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے ، اور جو چیز کارآمد اور مفید ہوتی ہے ، وہ اس جھاگ کے نیچے تہ نشین ہوجاتی ہے ، دھات کی صورت میں اصل دھات کے زیورات مابرتن یا دیگر سامان تیار کرلیا جاتا ہے فرمایا نیکی اور بدی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ،…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ صَبَرُوا ابْتِغَاۗءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَةً وَّيَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ عُقْبَى الدَّارِ 22ۙ
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر ) الصبر
کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
2 ؎ دنیاوی تکالیف پر اور عبادت کی تکالیف پر اور نفس کے روکنے میں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَالَّذِیْنَ صَبَرُوْا ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِہِّمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ سِرًّا وَّ عَلاَ نِیَۃً وَّیَدْرَئُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (سورۃ الرعد : 22)
(اور جو لوگ اپنے رب کی رضاجوئی میں ثابت قدم رہے اور جنھوں نے نماز کا اہتمام رکھا اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا اس میں سے سراً اور علانیۃً خرچ کیا اور جو بدی کو بھلائی سے دور کرتے ہیں، انجام کار کی کامیابی انہی کے لیے ہے۔ )
تیسری صفت
اولوالالباب کی کچھ مزید صفات بیان فرمائی جارہی ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو اپنے رب کی خوشنودی کی راہ میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان پر صبر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : مومنوں کے مزید چار اوصاف۔
مومن وہ ہیں جو مشکلات اور پریشانیوں کے وقت اپنے رب کی رضا کی خاطر صبر کرتے ہیں اس کے حضور پانچ وقت نماز ادا کرتے ہیں۔ جو کچھ ان کے رب نے انہیں عطا فرمایا ہے، اس میں سے خفیہ اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں۔ برائی کا بدلہ برائی سے دینے کی بجائے اچھائی اور خیر خواہی سے دیتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت کا گھرتیار کیا گیا ہے۔ ان اوصاف حمیدہ کی فرضیت اور فضلیت کا مختصر ذکر کیا جاتا ہے۔
صبر :
صبر کا معنی ہے مشکل اور پریشانی کے وقت حوصلہ قائم رکھنا اور شریعت کی حدود وقیود کا مستقل مزاجی کے ساتھ اتباع کرنا۔ اس سے پہلے مومنوں کی یہ صفات ذکر ہوئی ہیں کہ وہ…
Read the full tafseer →22: وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا (اور وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا) یہ ان تمام مصائب پر حاوی ہے جو نفوس اور اموال پر دکھ برداشت کرنے کی صورت میں آتے ہیں۔ ابْتِغَآئَ وَجْہِ رَبِّہِمْ (اپنے رب کی رضا مندی چاہنے کیلئے) نہ اس لئے کہ کہا جائے کہ یہ کتنا بڑا صابر ہے۔ اور کتنا مصائب کو اٹھانے والا اور مذلۃ الا قدام مواقع پر ثابت قدم رہنے والا ہے اور نہ ہی اس لئے کہ گھبراہٹ میں عیب نہ لگایا جائے۔ (بلکہ اس لئے تاکہ اللہ راضی ہوجائے) وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ (اور نماز کو قائم کیا) اسکی اقامت پر مداومت اختیار کی۔ وَاَنَْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ (اور اس میں سے خرچ کیا جو ہم نے انکو رزق دیا) یعنی حلال اگرچہ حرام بھی…
Read the full tafseer →تفسیر 22۔” والذین صبروا “ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں ثابت قدم رہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے اللہ تعالیٰ نے جو احکام ان کے سپرد کیے ان پر ثابت قدم رہے۔ عطاء کا قول ہے کہ مصائب و شدائد پر صابر رہے اور بعض علماء نے کہا کہ صبر سے مراد نفسانی خواہشات سے اجتناب کرنا ۔ ” ابتغاء وجہ ربھم “ اللہ کی تعظیم کی وجہ سے ان بتوں کی مخالفت کرے۔” واقاموالصلوٰۃ وانفقوا مما رزقنھم سرا وعلانیۃ “ وہ زکوٰۃ ادا کرتے تھے۔
گناہ اگر ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرو کیونکہ نیکی گناہوں کو مٹا دیتی ہے
” ویدرون بالحسنۃ السیئۃ “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نیک اعمال برے اعمال کو مٹا دیتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
22۔ 24۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ جو لوگ برے کاموں سے صرف خدا کی خوشنودی کے واسطے الگ رہے اور جن لوگوں نے پنجگانہ نماز قائم کی اور جو کچھ خدا نے ان کو دیا اس میں سے حق دار کو بال بچوں رشتہ داروں کو فقرا اور مساکین کو دیا غرض کہ جو جو موقع خرچ کا خدا نے بتلایا ہے اس کے مطابق کھلم کھلا یا چھپ کر خرچ کیا اور برائی کے عوض بھلائی کرتے رہے اگر کسی نے ان کو تکلیف دی یا ستایا تو صبر کر کے چپ ہو رہے اس کے بدلے کے پیچھے نہ پڑے تو آخرت کا گھر انہیں نیک بختوں کے واسطے بنایا گیا ہے مفسروں نے یہ بیان کیا ہے عدن ایک محلہ ہے جنت کا اور بعضوں نے کہا ہے ایک شہر ہے جنت میں غرض کہ یہ خود بھی وہاں جائیں گے اور ان…
Read the full tafseer →(آیت) ” اور جو صبر کرتے ہیں۔ “ یعنی وہ لوگ جو مامورات کی تعمیل اور منہیات سے بچنے اور ان سے دور رہنے اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر عدم نارضای کے ساتھ صبر کرتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ یہ صبر صرف (آیت) ” اپنے رب کی رضا کی خاطر ہو “ کسی فاسد اغراض و مقاصد کے لئے نہ ہو۔ یہی وہ صبر ہے جو فائدہ مند ہے جو بندے کو اپنے رب کی رضا کی طلب اور اس کے قرب کی امید کا پابند اور اس کے ثواب سے بہرہ ور کرتا ہے اور یہی وہ صبر ہے جو اہل ایمان کی خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔ وہ صبر جو بہت سے لوگوں میں مشترک ہوتا ہے اس کی غایت و انتہا استقلال اور فخر ہے یہ صبر نیک اور بد، مومن اور کافر، ہر قسم کے لوگوں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
67۔ اولوالالباب کی پانچویں صفت صبرواستقامت :
سووہ ہمیشہ صبر واستقامت سے کام لیتے ہیں راہ حق وصواب پر جم کر۔ اور مصائب وآلام پر ثابت قدم رہ کر۔ سو یہ اولوالالباب " کی پانچویں بڑی صفت ہے کہ وہ راہ حق وصبر واستقامت سے کام لیتے ہیں اور ان کے سامنے اپنے رب کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔ کہ رب کی رضا کا حصول دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ وسیلہ ہے۔ وباللہ التوفیق۔ سو وہ راہ حق میں پیش آنے والے مصائب ومشاکل پر جزع وفزع کی بجائے صبر وضبط اور استقلال واستقامت سے کام لیتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لمایحب ویرید۔
68۔ اولوالالباب کی چھٹی صفت اقامت صلوۃ :
سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
نیک لوگ اور ان کا انعام
تشریح : ان آیات مبارکہ میں چند اصول زندگی بتائے گئے ہیں۔ قرآن پاک ہدایت اور حکمت کی کتاب ہے اس میں انسان کے لیے کامیاب زندگی گزارنے کے ایسے سنہری اصول بتائے گئے ہیں کہ اگر ان پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ہماری زندگیاں خوشیوں، کامیابیوں اور سکون سے بھر سکتی ہیں۔ مثلاً رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم، بظاہر چھوٹی سی بات ہے مگر جب ہم اس کے معنوں پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس سے انسانی زندگی سر بلندو کامیاب ہو سکے۔ ایک فرد جو امن پسند ہے وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی امن و سکون سے رہنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ ہر جگہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی ریاکاری یا شہرت کے لئے نہیں بلکہ محض رضائے الٰہی کی طلب کے لئے۔ ” صبر کیا “۔ اور نیک اعمال پر ثابت قدمی دکھائی۔
3 ۔ اگر ریاکاری کا اندیشہ نہ ہو تو پوشیدہ طور پر صدقہ دینا افضل ہے اور حدیث میں ” سرا “ صدقہ دینے والے کو ان لوگوں میں شمار کیا گیا ہے جن کو قیامت کے دن عرش کے سایہ میں جگہ ملے گی۔ (روح) ۔
4 ۔ یعنی کوئی ان پر کتنا ہی ظلم کرے وہ اس کے جواب میں عدل و انصاف ہی کرتے ہیں۔ حدیث میں ہے : تم اپنے عمل کو لوگوں کے تابع نہ بنائو اور یوں نہ کہو : اگر وہ ہم سے بھلائی کریں گے تو ہم بھی بھلائی کریں گے اور اگر وہ ہم پر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں گے بلکہ اس طریقہ پر کاربند ہوجائو کہ…
Read the full tafseer →(13:22) ابتغائ۔ (باب افتعال) بغی سے۔ البغی کے معنی کسی چیز کی طلب میں میانہ روی کی حد سے تجاوز کی خواہش کرنا۔ خواہ تجاوز کرسکے یا نہ۔ بغی دوقسم پر ہے۔
(1) محمود یعنی حد اعتدال سے تجاوز کر کے مرتبہ احسان حاصل کرنا۔ اور فرض سے تجاوز کر کے تطوع بجالانا۔
(2) مذموم ۔ حق سے تجاوز کر کے باطل یا شبہات میں واقع ہونا۔
ابتغائ۔ خاص کر کوشش کر کے کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش محمود ہوگی۔ مثلاً آیۃ ہذا۔ ابتغاء وجہ ربہم۔ اپنے رب کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اور ابتغاء رحمۃ من ربک۔ (17:28) اپنے پروردگار کی رحمت حاصل کرنے کے لئے۔
یدرء ون۔ مضارع جمع مذکر غائب درء مصدر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26
افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ارشاد ہوتا ہے کہ اگرچہ ہر طرح کی نصیحت قرآن شریف میں ہے، لیکن وہ نصیحت انہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے عہد کا خیال ہے کہ شریعت میں جس چیز کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس کو بجا لانے کا عہد اور جس سے باز رہنے کا ارشاد فرمایا ہے، اس سے باز رہنے کے عہد کو وہ لوگ پورا کرتے ہیں۔ اور جس طرح یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر قائم رہنے کا اور رسولوں کی فرمانبردار کرنے کا اور کتب آسمانی کی پابندی کرنے کا عہد لیا ہے، شریعت کو اس عہد کے یاد دلانے کی ایک چیز جان کر، نہ کہ منافقوں کی طرح ان لوگوں کی یہ عادت ہے کہ زبان سے تو شریعت کی پابندی کا اقرار ہے اور دل میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
(ف 3) خدا نے صلہ رحمی ورشتوں کے تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اسے جزو ایمان ٹھہرایا ہے ، تاکہ لوگ باہم محبت ومؤدت سے رہیں اسلامی عقائد وعمل میں جس قدر وسعت ہے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی زنگی کا ہر شبہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے جہاں خدا پرستی اور توحید پر زور دیا گیا ہے ، نمازوں کی تاکید کی گئی ہے اور محبت و اطاعت رسول کی اہمیت واضح کی گئی ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنوں سے محبت کرنا حقوق انسانی کی رعایت رکھنا اور محبت ومؤدت سے رہنا بھی اسلام شعائر میں سے ہے ۔
Read the full tafseer →22 ۔ اور نیز اہل خرد و ہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی توجہ اور اس کی رضا جوئی کی غرض سے مصائب اور تکالیف پر صبر کرتے اور دین حق پر مضبوط رہتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں اور برائی کی مدافعت بھلائی سے کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں نیک انجام ہے اور آخرت کا گھر ان کے لئے ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جو دشواریاں اور تکالیف پیش آتی ہیں ان کو برداشت کرتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ حضرت حق تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا تلاش کریں۔
برائی کے مقابلہ میں بھلائی کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ بد سلوکی کا جواب حسن سلوک سے دیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 4۔ یعنی کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرے تو کچھ خیال نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →جو لوگ اللہ سے محبت کرتے ‘ نماز قائم کرتے اور راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں
38 ؎ صاحب عقل و دانش لوگوں کے جو اوصاف ان آیات کریمات میں بیان کئے گئے ہیں ان آیات میں سے یہ تیسری آیت ہے پہلی دو آیات میں ان لوگوں کے تین اوصاف ذکر کئے گئے اور اس آیت میں مزید چار اوصاف مذکور ہیں۔ فرمایا : وہ لوگ اللہ کی محبت میں ہر طرح کی ناگوار حالتیں صبر و ثبات کے ساتھ جھیل لیتے ہیں۔ شدتوں اور محنتوں سے منہ نہیں موڑتے اور آزمائشوں کو پیٹھ نہیں دکھاتے۔ یہی لوگ رضائے الٰہی کے محل و مقام میں ہوں گے جو دین حق پر ہر طرح کی جسمانی صعوبتوں اور دماغی پریشانیوں کے باوجود قائم رہتے ہیں اور ہر طرح کے احکام تشریی اور مصائب تکوینی…
Read the full tafseer →The sixth attribute has been stated as: وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ (and those who observe patience in order to seek the pleasure of their Lord).
The meaning of: صَبر (Sabr) in the Arabic language is fairly general as compared with the sense which has become popular in the Urdu language (in which this Commentary was originally written). There it means to be patient under distress. (Regretfully, the common counterpart, patience, used for صَبر 'Sabr' in English is also not free of its limitations, and does not carry the full and rich sense of the original Arabic). The…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
39.“Those who are patient”: They remain self possessed and keep under control all their desires and lusts and do not transgress the bounds, and they do not yield to temptations to disobey their Lord in order to gain advantages and gratify their desires. Nay, they bear with calm courage and endurance losses and afflictions that are inevitable in the obedience of Allah. If we consider the life of a believer from this point of view, we shall find that his entire life is the life of endurance and fortitude, for he keeps himself under control in very trying circumstances in this world in the hope…
Read the full tafseer →