Ar-Ra'd 13:21

Ar-Ra'd · from ayah 21

13:21

وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَیَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ ۟ؕوَالَّذِيۡنَ يَصِلُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنۡ يُّوۡصَلَ وَيَخۡشَوۡنَ رَبَّهُمۡ وَ يَخَافُوۡنَ سُوۡۤءَ الۡحِسَابِؕ‏

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And those who join that which Allah has ordered to be joined and fear their Lord and are afraid of the evil of [their] account,

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:21

اُن کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جن (رشتہ ہائے قرابت) کے جوڑے رکھنے کا خدا نے حکم دیا ہے ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے وه اسے جوڑتے ہیں اور وه اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور حساب کی سختی کا اندیشہ رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن رشتوں کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے، یہ لوگ انہیں جوڑے رکھتے ہیں، اور اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں، اور حساب کے برے انجام سے خوف کھاتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کہ جوڑتے ہیں اسے جس کے جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور حساب کی بُرائی سے اندیشہ رکھتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ ان سب (حقوق اﷲ، حقوق الرسول، حقوق العباد اور اپنے حقوقِ قرابت) کو جوڑے رکھتے ہیں، جن کے جوڑے رکھنے کا اﷲ نے حکم فرمایا ہے اور اپنے رب کی خشیّت میں رہتے ہیں اور برے حساب سے خائف رہتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو اس چیز کو ملاتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ اسے ملایا جائے اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور برے حساب کا خوف رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن روابط کو اللہ نے ملانے کا حکم دیا ہے۔ انھیں ملاتے ہیں، اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں اور بری طرح حساب لئے جانے سے خوف کھاتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑے رکھنے کا حکم دیا ہے اور وہ اپنے رب سے ڈرتے اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو برقرار رکھتے ہیں ان روابط کو جن کے برقرار رکھنے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب (کی ناراضگی اور اس کی پکڑ) سے، اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جس کے جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو لوگ جوڑتے ہیں اس کو جس کو جوڑنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور جو ڈرتے رہتے ہیں اپنے رب سے اور اندیشہ رکھتے ہیں برے حساب کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جن قرابت کے رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم اللہ نے دیا ان کو جوڑے رکھتے اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے اور برے حساب سے خوف کھاتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

who join together the ties which Allah has bidden to be joined; who fear their Lord and dread lest they are subjected to severe reckoning;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and those who maintain the relationships Allah has commanded to be maintained and fear their Lord and are frightful of evil reckoning,

— Muhammad Taqi Usmani

and those who maintain the relationships Allah has commanded to be maintained and fear their Lord and are frightful of evil reckoning,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who join that which Allah has commanded to be joined and fear their Lord, and dread the terrible reckoning.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Such as unite that which Allah hath commandeth should be joined, and fear their Lord, and dread a woeful reckoning;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And those who join that which Allah has ordered to be joined and fear their Lord and are afraid of the evil of [their] account,

— Saheeh International

who maintain all the proper relations that God has commanded them to maintain, who have fear of their Lord and the hardships of the Day of Judgment,

— Muhammad Sarwar

And those who join that which Allah has bidden to be joined and have awe of their Lord and fear the evil reckoning.

— Muhammad Habib Shakir

And those who enjoin that which Allah hath commanded to be enjoined, and fear their Lord, and dread the evil reckoning;

— Abdul Majid Daryabadi

Those who join together those things which Allah hath commanded to be joined, hold their Lord in awe, and fear the terrible reckoning;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 20–24

منافق کا نفسیاتی تجزیہ ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّعْد 38 یعنی وہ تمام معاشرتی اور تمدنی روابط جن کی درستی پر انسان کی اجتماعی زندگی کی صلاح و فلاح منحصر ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری صفت اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندوں کی یہ بتلائی گئی وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ یعنی یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کے قائم رکھنے کا حکم دیا ہے ان کو قائم رکھتے ہیں اس کی مشہور تفسیر تو یہی ہے کہ رشتہ داری کے تعلقات قائم رکھنے اور ان کے تقاضوں پر عمل کرنے کا اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا ہے یہ لوگ ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان کے ساتھ عمل صالح کو یا آنحضرت محمد ﷺ اور قرآن پر ایمان کے ساتھ پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی کتابوں پر ایمان کو ملا دیتے ہیں چوتھی صفت یہ بیان فرمائی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ۔ رشتہ رحم کا احترام : " ما امر اللہ بہ ان یوصل " سے مراد رشتہ رحم کا پاس و احترام ہے۔ یعنی جس طرح وہ اللہ کے حقوق کا دل سے احترام کرتے ہیں اسی طرح بندوں کے جو حقوق ان پر بنائے رشتہ رحم عاید ہوتے ہیں ان کو بھی پوری فیاضی سے ادا کرتے ہیں، وہ رشتہ رحم کو کاٹتے نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق اس کو جوڑتے ہیں۔ اور یہ س کچھ وہ کسی نمود و نمائش یا غرض کے لیے نہیں بلکہ خدا کے ڈر سے اور اس کی رضا جوئی کے لیے کرتے ہیں۔ سورة دہر میں بھی یہی حقیقت یوں واضح فرمائی گئی ہے۔ یطعمون الطعام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

21۔ 1 یعنی رشتوں اور قرابتوں کو توڑتے نہیں ہیں، بلکہ ان کو جوڑتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

21: یعنی اللہ تعالیٰ نے جن تعلقات کو قائم رکھنے اور ان کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیا ہے، انہیں پوری طرح ادا کرتے ہیں اس میں رشتہ داروں کے تمام حقوق بھی داخل ہیں اور دینی رشتے سے جو حقوق پیدا ہوتے ہیں وہ بھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جتنے انبیائے کرام پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے ان سب پر ایمان بھی لاتے ہیں اور جن کی اطاعت کا حکم دیا ہے، ان کی اطاعت بھی کرتے ہیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–22

یہ ایک عظیم اصول ہے جس کے اوپر پوری زندگی کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اس اصول کو قرآن کریم چند کلمات کے اندر ضبط فرماتا ہے : آیت نمبر 21 تا 22 یہ اجمالی اور کلی قاعدہ ہے ، یعنی اللہ نے جن روابط کے جوڑنے کا حکم دیا ہے اسے جوڑتے ہیں یعنی وہ مکمل اطاعت کرتے اور پوری طرح وفادار اور استوار ہوتے ہیں۔ سنت الٰہیہ کے مطابق سیدھے چلتے ہیں اور ان کی رفتار میں کوئی کجی نہیں ہوتی۔ اس لیے یہاں ایک کلی قاعدہ بیان کردیا اور جس کے اندر اللہ کے وہ تمام مفرد احکام آگئے جن کا اللہ نے حکم دیا ہے کیونکہ تمام احکام کو یہاں ایک ایک کر کے بیان کرنا بہت ہی مشکل تھا اور یہاں مقصود بھی نہ تھا بلکہ یہاں مقصود یہ تھا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی صلہ رحم کرتے ہیں۔ یا ایمان کو عمل کے ساتھ یا حقوق العباد کو حقوق اللہ کے ساتھ ملاتے ہیں، یا اسلامی اخوت کو قائم رکھتے ہیں۔ یا انبیاء (علیہم السلام) میں تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں کسی کو نہ مانیں۔ 8 یعنی حق تعالیٰ کی عظمت و جلال کا تصور کر کے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ دیکھئے وہاں جب ذرہ ذرہ کا حساب ہوگا، کیا صورت پیش آئے گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 21 وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ وہ لوگ قرابت کے رشتوں کو جوڑتے ہیں یعنی صلۂ رحمی کرتے ہیں اور حساب آخرت کے نتائج کی برائی سے ہمیشہ خوفزدہ رہتے ہیں کہ اس دن حساب کے نتائج منفی ہونے کی صورت میں کہیں ہماری شامت نہ آجائے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

29 اللہ کی ہدایت قبول کرنے والوں کی صفات :۔ اگلی چند آیات میں چند ایسی صفات کا ذکر ہے۔ جنہیں اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہدایات کو برحق تسلیم کرنے والے اپنی طرز زندگی میں اپناتے ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ اس عہد سے مراد عہد الست ہے۔ جو ہر انسان کی فطرت میں ودیعت کردیا گیا ہے اور جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ رزق پر ہی پرورش پا رہا ہے اور اسی کی عطا کردہ قوتوں کو استعمال کر رہا ہے تو اسے از خود یہ معلوم ہونے لگتا ہے کہ بندگی کے لائق بھی صرف وہی ہوسکتا ہے۔ اور اگر ایسے محسن کو چھوڑ کر دوسرے کی غلامی کی جائے تو یہ نمک حرامی ہوگی۔ ان کی دوسری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44۔ (اور کبھی اپنی طاعت و اطاعت پر نازاں ہو کر مطمئن وبے فکر نہیں ہوجاتے) (آیت) ” یصلون “۔ یوصل یہ انہی اہل فہم کی دوسری شناخت ارشاد ہوئی۔ پہلی آیت میں جس طرح سے حقوق اللہ کی ادائی کی تاکید تھی، اس میں حقوق العباد کا اہتمام آگیا۔ رعایۃ جمیع الحقوق الواجبۃ للعباد (کبیر) حاصل الکلام ان قولہ الذین یوفون بعھد اللہ اشارۃ الی التسلیم لامر اللہ (قولہ والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل) اشارۃ الی الشفقۃ علی خلق اللہ (کبیر) (آیت) ” یخشون۔۔ الحساب “۔ یعنی ان کے اس حسن کردار کی نبی اد ان کی خشیت الہی پر ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–26

آیت نمبر 19 تا 26 ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل اور وہ لوگ جوڑے رکھتے ہیں ‘ ان تمام چیزوں کو جن کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ مَآ اَمْرَ اللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ کے ذیل میں تمام انبیاء اور ساری آسمانی کتابوں پر بغیر تفریق کے ایمان لانا اور تمام مؤمنوں کے ساتھ تعاون و تنظیم اوراقارب سے حسن سلوک کرنا داخل ہے (ان تمام چیزوں کو جوڑے رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے) بغوی نے لکھا ہے کہ اکثر علماء کے نزدیک اس جگہ مَآ اَمْرَ اللّٰہُ سے مراد صرف صلۂ رحم ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف کا بیان ہے : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ نے فرمایا ہے : میں ہی اللہ ہوں ‘ میں ہی رحمن ہوں۔ میں نے رحم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 20–21

(20۔ 21) اور یہ حضرات خداوندی کی پوری طرح بجاآوری کرتے ہیں اور کبھی فرائض خداوندی کی ادائیگی کو ترک نہیں کرتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں یا رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے پر قائم رہتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی بجا آوری کرتے ہیں اور عذاب کی سختی سے ڈرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ : یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں، رشتوں کو نزدیک کے ہوں یا دور کے، ان کے مراتب کے مطابق ملاتے ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ اللہ عزو جل، رسول کریم ﷺ ، عام مسلمانوں، ہمسایوں، رشتہ داروں، دوستوں، یتیموں، بیواؤں، الغرض ہر ایک کا حق پہچانتے اور ادا کرتے ہیں۔ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ۔۔ : اس کے عائد کردہ فرائض کو بجا لاتے اور اس کے منع کردہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ راغب نے کہا : ”خشیت ایسا خوف ہے جس کے ساتھ تعظیم ملی ہوئی ہو، اکثر اس کا باعث علم ہوتا ہے۔“ جیسے فرمایا : (اِنَّمَا يَخْشَى اللّٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمٰۗؤُا) [ فاطر : 28 ] ”اللہ سے تو اس کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–24

آیت نمبر 21 تا 24 قولہ تعالیٰ : والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل حضرت قتادہ اور اکثر مفسرین کے نزدیک یہ صلہ رحمہ کے بارے میں ظاہر ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ تمام علامات کو بھی شامل ہے۔ ویخشون ربھم ایک قول یہ ہے : قطع رحم کے بارے میں وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جبکہ ایک قول کے مطابق تمام نافرمانیوں اور گناہوں سے ڈرتے ہیں۔ ویخافون سوء الحساب، سوء الحساب سے مراد یہ ہے کہ حساب میں سختی اور مناقشہ کیا جائے گا اور جس سے تفصیلی حساب سختی سے لیا گیا اسے عذاب دیا (ہی) جائے گا۔ حضرت ابن عباس اور سعید بن جبیر ؓ نے فرمایا : یصلون ما امر اللہ بہ کا معنی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانا ہے۔ حضرت حسن نے کہا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 20–21

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق “ کے بارے میں فرمایا کہ تم پر وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے اور معاہدے کو نہ توڑو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے اس بارے میں سخت تاکید فرمائی ہے اور اس کا بیس سے کچھ اوپر آیات میں ذکر فرمایا۔ یہ نصیحت ہے اور تم کو پیغام پہنچانا ہے۔ اور تم پر حجت ہے اور وہی امور عظیم ہوتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے عظمت بیان فرمائی سمجھ والے عقل والے اور عمل والوں کے نزدیک اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت کی حفاظت نہیں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالَّذِينَ : اور جو لوگ ] [ يَصِلُوْنَ : ملاتے ہیں ] [ مَآ : اس کو ] [اَمَرَ : حکم دیا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ بِهٖٓ : جس کا ] [ان : کہ ] [ يُّوْصَلَ : وہ ملایا جائے ] [ وَيَخْشَوْنَ : اور مرعوب ہوتے ہیں ] [ رَبَّهُمْ : اپنے رب سے ] [ وَيَخَافُوْنَ : اور اندیشہ رکھتے ہیں ] [ سُوْۗءَ الْحِسَابِ : برے حساب کا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 20–25

یہاں تک چھ آیتوں کا مضمون بیان ہوا تھا ساتویں آیت میں اہل ایمان کے مقابل دوسری جماعتوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ‘ ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بِعْدِ مِیْثَاقِہٖ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے عہد کیا پھر اس پر قائم نہ رہے عہد کو توڑ دیا اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا انہیں توڑتے رہے اور زمین میں فساد کرتے رہے یہ لوگ پہلے گروہ کے برعکس ملعون ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

ذکر حال و مآل محقین و مبطلین قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 20–21

25:۔ یہ اولوا الالباب کی صفت ہے اور اس میں جماعت مبشرہ کے اوصاف مذکور ہیں۔ عَھْدَ اللہ سے اللہ تعالیی کی توحید اور اس کے احکام مراد ہیں ای بجمیع عھود اللہ وھی اوامرہ ونواھیہ التی وصی بھا عبیدہ (قرطبی ج 9 ص 307) ۔ یا اس سے توحید اور دین حق کے وہ دلائل مراد ہیں جو ان کی فطرتِ سلیمہ میں ودیعت ہیں۔ و عن القفال حملہ علی ما فی جبلتھم و عقولھم من دلائل التوحید والنبوات الی غیر ذلک (روح ج 13 ص 139) ۔ ابتغاء مفعول لہٗ ہے وہ مصائب و بلیات میں جزع فزع کا اظہار نہیں کرتے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صبر و استقامت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ ” وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسنَۃِ السَّیِّئَۃَ “ وہ اپنی ذات کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–24

(ربط آیات) شرک کی تردید اور توحید کے بیان کے اس کے ماننے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا حق و باطل کی کشمکش کا ذکر فرمایا کہ ان دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، باطل کی مثال سیلاب کے پانی پر آنے والی جھاگ یا کسی دھات کو پگھلانے پر دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ کی ہے ، ہر دو قسم کی جھاگ تھوڑی دیر کے لیے جوش مارتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے ، اور جو چیز کارآمد اور مفید ہوتی ہے ، وہ اس جھاگ کے نیچے تہ نشین ہوجاتی ہے ، دھات کی صورت میں اصل دھات کے زیورات مابرتن یا دیگر سامان تیار کرلیا جاتا ہے فرمایا نیکی اور بدی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖٓ اَنْ يُّوْصَلَ وَيَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ وَيَخَافُوْنَ سُوْۗءَ الْحِسَابِ 21۝ۭ وصل الِاتِّصَالُ : اتّحادُ الأشياء بعضها ببعض کاتّحاد طرفي الدائرة، ويضادّ الانفصال، ويستعمل الوَصْلُ في الأعيان، وفي المعاني . يقال : وَصَلْتُ فلاناً. قال اللہ تعالی: وَيَقْطَعُونَ ما أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ [ البقرة/ 27] ( و ص ل ) الا تصال کے معنی اشیاء کے باہم اس طرح متحد ہوجانے کے ہیں جس طرح کہ قطرہ دائرہ کی دونوں طرفین ملی ہوئی ہوتی ہیں اس کی ضد انفعال آتی ہے اور وصل کے معنی ملائے کے ہیں اور یہ اسم اور معنی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے چناچہ وصلت فلانا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 20–21

الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِاللّٰہِ وَلاَ یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاق۔ وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ وَیَخَافُوْنَ سُوْآئَ الْحِسَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 20۔ 21) (جو اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے پیمان کو توڑتے نہیں۔ اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ ) اولوالالباب کی پہلی صفت وہ عقلمند جو اللہ تعالیٰ کے قرآن سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرتے ہیں ان کی مختلف صفات ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ” اللہ “ کے عہد کی پاسداری کے ساتھ آپس کے تعلقات اور عہد کی پاسداری کا حکم۔ بصیرت اور عقل سلیم رکھنے والے لوگ اپنے رب کے ڈر اور قیامت کے برے حساب کے خوف سے رشتوں کو جوڑتے اور ان کا احترام کرتے ہیں۔ جن کے جوڑنے اور احترام کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرجاؤ جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، پھر اسی سے اس کی بیوی کو پیدا فرمایا پھر ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں دنیا میں پھیلا دیں۔ بس اللہ سے ڈرو۔ جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بھی بچو یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

21: وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ (اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں اس چیز کو جسکے ملانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا) یعنی ارحام و قرابتیں اس میں قرابت رسول ﷺ اور قرابت مومنین جو ایمان کی وجہ سے ثابت ہوتی ہے وہ شامل ہے جیسا اس آیت میں ہے۔ انما المومنون اخوۃ ] الحجرات : 10[ وصلؔ کا مطلب طاقت کے مطابق انکے ساتھ احسان کرنا اور انکی معاونت کرنا، ان سے ظلم کو دفع کرنا اور ان پر شفقت کرنا اور ان کو کھل کر سلام کہنا انکے بیمار کی تیمار داری کرنا اور انہی میں سے ایک حق دوستوں کے حق کی رعایت، خدام کا خیال، پڑوسیوں کا لحاظ، رفقائے سفر کے ساتھ سلوک بھی شامل ہے۔ وَیَخْشَوْنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 21۔” والذین یصلون ما امر اللہ بہ ان یوصل “ اس سے مراد ایمان لانا ہے تمام کتب اور رسولوں پر اور ان کے درمیان کسی قسم کا فرق نہ کرنا ۔ والذین یصلون ما امر اللہ کی تفسیر اکثر مفسرین رحمہم اللہ نے کہا کہ اس سے مراد صلہ رحمی ہے۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف ؓ کا بیان ہے میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے کہ اللہ نے فرمایا ہے میں ہی اللہ ہوں ، میں ہی رحمن ہوں ، میں نے رحم کو پیدا کیا اور اپنے نام سے لفظ رحم کو مشتق کیا ہے جو اس کو جوڑے رکھے گا میں اس کو اپنے ساتھ جوڑے رکھوں گا اور جو اس کو کاٹے گا اس سے میں قطع تعلق کرلوں گا۔ صلہ رحمی کے متعلق احادیث حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 20–21

20۔ 21۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے ذکر میں دو مثالیں بیان فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ اگرچہ ہر طرح کی نصیحت قرآن شریف میں ہے لیکن وہ نصیحت ان ہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے عہد کا خیال ہے کہ شریعت میں جس چیز کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس کو بجا لانے کا عہد اور جس سے باز رہنے کا ارشاد فرمایا ہے اس سے باز رہنے کے عہد کو وہ لوگ پورا کرتے ہیں اور جس طرح یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر قائم رہنے کا اور رسولوں کی فرمانبرداری کرنے کا اور کتب آسمانی کے پابندی کرنے کا عہد لیا ہے شریعت کو اس عہد کے یاد دلانے والی ایک چیز جان کر نہ منافقوں کی طرح ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(آیت) ” اور وہ لوگ جو ملاتے ہیں جس کے ملانے کا اللہ نے حکم دیا “ یہ ان تمام امور کے لئے عام ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ملانے کا حکم دیا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ اور اس کے سرلو ﷺ پر ایمان، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت، اللہ تعالیٰ وحدہ کی عبادت اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کے لئے سرتسلیم خم کرنا۔ سب اس میں داخل ہے۔ یہ لوگ اپنے ماں باپ کے ساتھ قولی اور فعلی حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں اور ان کی نافرمانی نہیں کرتے۔ اسی طرح اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اپنے قول و فعل میں حسن سلوک کے ذریعے سے صلہ رحمی کرتے ہیں۔ اپنی بیویوں، اپنے دوستوں، ساتھیوں اور اپنے غلاموں کے دین اور دنیاوی حقوق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

64۔ اولوالالباب کی دوسری صفت ان روابط کو جوڑنا جن کے جوڑنے کا حکم اللہ نے دیا ہے : جن میں رشتہ و قرابت کے روابط بھی داخل ہیں اور وہ تمام روابط و تعلقات بھی جو کہ اہل ایمان کے درمیان عقیدہ و ایمان کے رشتہ کی بناء پر قائم ہوتے ہیں کہ ان سب ہی کو قائم رکھنا مامورومطلوب ہے۔ (محاسن، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو وہ صلہ رحمی کرتے ہیں۔ اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ کرتے ہیں۔ یعنی یہ لوگ جس طرح اپنے خالق ومالک کے حقوق کا دل وجان سے احترام کرتے ہیں اسی طرح رشتہ رحم کا پورا پاس ولحاظ کرتے ہیں۔ اور رحم کے رشتوں کو کاٹتے نہیں۔ بلکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے اوامرو ارشادات کے مطابق جوڑتے اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 21–24

نیک لوگ اور ان کا انعام تشریح : ان آیات مبارکہ میں چند اصول زندگی بتائے گئے ہیں۔ قرآن پاک ہدایت اور حکمت کی کتاب ہے اس میں انسان کے لیے کامیاب زندگی گزارنے کے ایسے سنہری اصول بتائے گئے ہیں کہ اگر ان پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ہماری زندگیاں خوشیوں، کامیابیوں اور سکون سے بھر سکتی ہیں۔ مثلاً رشتوں کو جوڑے رکھنے کا حکم، بظاہر چھوٹی سی بات ہے مگر جب ہم اس کے معنوں پر غور کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس سے بڑا کوئی طریقہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جس سے انسانی زندگی سر بلندو کامیاب ہو سکے۔ ایک فرد جو امن پسند ہے وہ نہ صرف یہ کہ خود ہی امن و سکون سے رہنا پسند کرتا ہے بلکہ وہ ہر جگہ فتنہ و فساد کو ختم کرنے کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 19–26

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 13 ۔ یعنی صلہ رحمی کرتے ہیں یا اللہ، رسول ﷺ ، عام مسلمانوں، ہمسایوں، رشتہ داروں، دوستوں، یتیموں، بیوائوں، الغرص ہر ایک کا حق پہنچانتے اور ادا کرتے ہیں۔ (وحیدی تبصرف) 14 ۔ اس کے عائدہ کردہ فرائض کو بجالاتے اور اس کے منع کردہ گناہوں سے بچتے ہیں۔ (وحیدی) ۔ 1 ۔ لہٰذا وہ اس وقت سے پہلے ہی اپنا محاسبہ کرتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:21) یصلون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ وصل سے۔ وہ جوڑتے ہیں۔ وصل وصلۃ۔ مصدر ۔ (باب ضرب) جوڑنا۔ پہنچنا۔ جڑنا۔ (باب افعال) سے پہنچانا ۔ جوڑ دینا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–26

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26 افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

نیک و بد کی پہچان اور اس کے نتیجے اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ پاک نے جو کچھ اپنے نبی برحق پر اتارا ہے اس پر جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے اور خدا کے سارے امر و نہی کو پورے عدل و انصاف پر سمجھتا ہے اس کے برابر کبھی وہ شخص نہیں ہوسکتا جو اس کو جھٹالتا ہے اور اس کی پیروی نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–30

[21] یعنی اس کی بندگی سے منہ موڑے ہوئے ہیں اور اس کی صفات اور اختیارات و حقوق میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرا رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–23

(ف 3) خدا نے صلہ رحمی ورشتوں کے تعلقات کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے اور اسے جزو ایمان ٹھہرایا ہے ، تاکہ لوگ باہم محبت ومؤدت سے رہیں اسلامی عقائد وعمل میں جس قدر وسعت ہے کسی دوسرے مذہب میں نہیں ملتی زنگی کا ہر شبہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے جہاں خدا پرستی اور توحید پر زور دیا گیا ہے ، نمازوں کی تاکید کی گئی ہے اور محبت و اطاعت رسول کی اہمیت واضح کی گئی ہے وہاں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنوں سے محبت کرنا حقوق انسانی کی رعایت رکھنا اور محبت ومؤدت سے رہنا بھی اسلام شعائر میں سے ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

21 ۔ اور نیز یہ ایسے لوگ ہیں کہ جن تعلقات کو اللہ تعالیٰ نے قائم رکھنے اور جوڑنے کا حکم دیا ہے ان کو جوڑتے اور قائم رکھتے ہیں اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب و اور حساب عسیر کا ان کو خوف رہتا ہے اور وہ ڈر کرتے ہیں یعنی گود پیٹ کے رشتوں میں صلہ رحمی کرتے ہیں یا اسلامی بھائی چارے کو قائم رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 20–22

ف 4۔ یعنی کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرے تو کچھ خیال نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو لوگ احکام الٰہی کو جوڑے رکھتے ہیں اور اپنے رب سے ڈرتے ہیں 37 ؎ ان لوگوں کی دوسری صفت بیان کی جا رہی ہے فرمایا : ” اللہ نے جو رشتے جوڑ دیئے ہیں انہیں ظلم و ناانصافی سے توڑتے نہیں بلکہ ہر رشتہ کا پاس کرتے ہیں اور ہر تعلق کا حق ادا کرتے ہیں۔ گویا پچھلی آیت میں حقوق اللہ کا مکمل بیان آگیا اور زیرنظر آیت میں حقوق العباد کی مکمل فہرست آگئی اور ان لوگوں کی تیسری صفت بھی اس آیت میں ارشاد فرما دی۔ فرمایا : یہ لوگ آخرت کی فکر سے بےپرواہ نہیں ہوتے۔ جو کچھ کرتے ہیں اس میں خوف آخرت کی کھٹک موجود ہوتی ہے۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی کے آگے ایک دن حساب دینا ہے اور حساب کی سختی پیش آنے والی ہے۔ اس لئے ان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The third attribute of the obedient servants of Allah Ta’ ala stated here is: وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ‌ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ (and those who maintain the relations Allah has commanded to be maintained). According to the well-known explanation of this verse, it means that these people maintain relationships and keep doing what needs to be done in this matter as commanded by Allah Ta` ala. Some commentators have explained it by saying that these people conjoin righteous deeds with faith, or synchronize their initial faith in the Holy Prophet ﷺ and the Qur’ an with faith in past…

Read the full tafseer →