Explained with ayahs 20–24
منافق کا نفسیاتی تجزیہ
ان بزرگوں کی نیک صفتیں بیان ہو رہی ہیں اور ان کے بھلے انجام کی خبر دی جا رہی ہے جو آخرت میں جنت کے مالک بنیں گے اور یہاں بھی جو نیک انجام ہیں۔ وہ منافقوں کی طرح نہیں ہوتے کہ عہد شکنی، غداری اور بےوفائی کریں۔ یہ منافق کی خصلت ہے کہ وعدہ کر کے توڑ دیں۔ جھگڑوں میں گالیاں بکیں، باتوں میں جھوٹ بولیں، امانت میں خیانت کریں۔ صلہ رحمی کا، رشتہ داروں سے سلوک کرنے کا، فقیر محتاج کو دینے کا، بھلی باتوں کے نباہ نے کا، جو حکم الہٰی ہے یہ اس کے عامل ہیں۔ رب کا خوف دل میں رکھتے ہوئے فرمان الہٰی سمجھ کر نیکیاں کرتے ہیں، بدیاں چھوڑتے ہیں۔ آخرت کے حساب سے ڈرتے ہیں، اسی لئے برائیوں سے بچتے…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 37
اس سے مراد وہ ازلی عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش میں تمام انسانوں سے لیا تھا کہ وہ صرف اسی کی بندگی کریں گے (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة اعراف، 134 و 135)۔ یہ عہد ہر انسان سے لیا گیا ہے، ہر ایک کی فطرت میں مضمر ہے، اور اسی وقت پختہ ہوجاتا ہے جب آدمی اللہ تعالیٰ کی تخلیق سے وجود میں آتا ہے اور ربوبیت سے پرورش پاتا ہے۔ خدا کے رزق سے پلنا، اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں سے کام لینا اور اس کی بخشی ہوئی قوتوں کو استعمال کرنا آپ سے آپ انسان کو خدا کے ساتھ ایک میثاق بندگی میں باندھ دیتا ہے جسے توڑنے کی جرأت کوئی ذی شعور اور نمک حلال آدمی نہیں کرسکتا، الا یہ کہ نادانستہ کبھی…
Read the full tafseer →تیسری آیت سے ان دونوں فریق کے خاص اعمال اور علامات کا بیان شروع ہوا ہے پہلے احکام الہیہ کے ماننے والوں کی صفات یہ ذکر فرمائی ہیں (آیت) الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ یعنی یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں مراد اس سے وہ تمام عہد و پیمان ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے لئے ہیں جن میں سب سے پہلا ربوبیت ہے جو ازل میں تمام ارواح کو حاضر کرکے لیا گیا تھا اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ یعنی کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں جس کے جواب میں سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا بلی یعنی کیوں نہیں آپ ضرور ہمارے رب ہیں اسی طرح تمام احکام الہی کی اطاعت تمام فرائض کی ادائیگی اور ناجائز چیزوں…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ۔
" میثاق " کا مفہوم : " میثاق " سے مراد یہاں میثاق فطرت ہے جو تمام اولاد آدم سے لیا گیا ہے اور جس کا سب نے اقرار کیا ہے۔ اس پر مفصل بحث سورة اعراف آیت 72 " و اذ اخذ ربک من بنی آدم من ظھورہم ذریتہم واشہدہم علی انفسہم الست بربکم قالوا بلی " کے تحت گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس عہد کو یاد رکھے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اس پیمان کو توڑا نہیں ہے وہی لوگ اس قرآن سے یاد دہانی حاصل کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی فطرت کو مسخ اور اس میثاق کو توڑ چکے ہیں ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو۔
Read the full tafseer →20۔ 1 یہ اہل دانش کی صفات بیان کی جا رہی ہیں، اللہ کے عہد سے مراد، اس کے احکام
(اوامرو نواہی) ہیں جنہیں بجا لاتے ہیں۔ یا وہ عہد ہے، جو عَھْدِ الَسْت کہلاتا ہے، جس کی تفصیل سورة اعراف میں گزر چکی ہے۔
20۔ 2 اس سے مراد وہ باہمی معاہدے اور وعدے ہیں جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں یا وہ جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
20: یعنی باطل چاہے کچھ عرصے غالب نظر آئے لیکن وہ جھاگ کی طرح بےفائدہ اور فنا ہوجاتا ہے اور حق پانی اور دوسری نفع بخش چیزوں کی طرح فائدہ مند اور باقی رہنے والا ہے
Read the full tafseer →آیت نمبر 20
اللہ کا عہد مطلق ہے ، اس سے وہ تمام عہد مراد ہیں جو اللہ کے ہیں اور میثاق بھی مطلق ہے اور اس سے مراد بھی وہ تمام میثاق ہیں جو اللہ کے ساتھ کئے گئے۔ سب سے بڑا عہد ، عہد ایمانی ہے کیونکہ دوسرے تمام عہد اس کا نتیجہ اور اس کے تقاضے ہیں۔ سب سے بڑا میثاق یہ کہ ہم ایمان کے تقاضے پورے کریں گے۔
عہد ایمان قدیم بھی ہے اور جدید بھی ہے۔ قدیم عہد وہ ہے جو فطرت انسانی کے ساتھ مربوط ہے اور اس کا تعلق ناموس کائنات سے ہے ، جس کے مطابق یہ پوری کائنات چلتی ہے اور فطرت انسانی براہ راست اس واحد ارادے کا ادراک کرلیتی ہے جس سے یہ کائنات پیدا ہوئی اور اس بات کا یقین کرتی ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے اور…
Read the full tafseer →6 یعنی اللہ سے جو عہد ازل میں ہوچکا ہے (عہد الست) جس پر انسان کی فطرت خود گواہ ہے اور جو انبیاء کی زبانی عہد لیے گئے ان سب کو پورا کرتے ہیں۔ کسی کو توڑتے نہیں۔ نیز بذات خود کسی معاملہ میں خدا سے یا بندوں سے جو عہد و پیمان باندھتے ہیں (بشرطیکہ معصیت نہ ہو) اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
آیت 20 الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ
قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت 177 میں بھی ہم ان سے ملتے جلتے یہ الفاظ پڑ ھ آئے ہیں : وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوْا۔ اللہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سے ایک تو وہ عہد الست ہے بحوالہ الاعراف : 172 جو ہم نے عالم ارواح میں اللہ کے ساتھ کیا ہے پھر ہر بندۂ مؤمن کا میثاق شریعت ہے کہ میں اللہ کے تمام احکامات کی تعمیل کروں گا۔ پھر اللہ کا مؤمن کے ساتھ کیا گیا وہ سودا بھی ایک عہد ہے جس کا ذکر سورة التوبہ۔ آیت 111 میں ہے اور جس کے مطابق اللہ نے مؤمنین کے جان و مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
28 یعنی ایک شخص اللہ کی نازل کردہ ہدایات کو حق سمجھ کر اپنی پوری زندگی اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے، حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے۔ ظلم و زیادتی سے بچتا اور اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اور دوسرا شخص محض اپنے مفادات کے پیچھے پڑا رہا ہے اور اس غرض کے لیے وہ ہر طرح کے جائز و ناجائز حربے اختیار کرتا، لوگوں کے حقوق غصب کرتا اور ان پر ظلم و زیادتی کرتا رہتا ہے۔ کیا یہ دونوں ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟ یا ان کا طرز عمل ایک جیسا ہوگا ؟ مگر یہ بات تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کچھ عقل و فکر سے کام لیتے ہیں اور خود اللہ کی بتائی ہوئی راہ پر گامزن ہیں :
Read the full tafseer →43۔ (جو اللہ سے یوم الست میں کرچکے ہیں) اہل فہم کی پہلی شناخت یہ ارشاد ہوئی کہ یہ لوگ اپنے عہد الہی کے ایفاء کرنے والے ہیں (آیت) ” عھد اللہ “۔ سے مراد وہ عہد اطاعت ہے جو انسان روز اول اللہ سے کرچکا ہے۔ اے ماعقدوا علی انفسھم من الاعتراف بربوبیتہ حین قالوا بلی (بیضاوی) وسعت دے کر اس کے تحت میں وہ سب مسائل داخل کرلیے گئے ہیں جو دلائل شرعی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اے کل ما قام الدلیل علیہ (کبیر) یدخل فیہ الاتیان بجمیع المامورات والانتھاء عن کل المنھیات (کبیر) ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ یہ لفظ حقوق اللہ کے مرادف ہے۔ اور اسکی ادائی کا درجہ اقل یہ ہے کہ معاصی کبیرہ سے اجتناب رہے۔ واقلہ درجۃ اجتناب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
آیت نمبر 19 تا 26
ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…
Read the full tafseer →الذین یوفون بعھد اللہ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں۔ یعنی یوم میثاق میں جو اللہ کی ربوبیت کا انہوں نے اقرار کیا تھا اور اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ کے جواب میں بلٰی کہا تھا ‘ اس کو پورا کرتے ہیں اور اللہ نے جو اپنی کتابوں میں احکام کی پابندی کا وعدہ لیا تھا ‘ اس کو بھی پورا کرتے ہیں۔
ولا ینقضون المیثاق اور پیمان کو نہیں توڑتے۔ یعنی اللہ سے اور آپس میں بندوں سے کئے ہوئے وعدوں کو نہیں توڑتے۔ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ میں صرف عہد خداوندی کی صراحت تھی اور الْمِیْثَاق کا لفظ عام ہے ‘ اللہ سے کیا ہوا عہد ہو یا بندوں سے کئے ہوئے وعدے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(20۔ 21) اور یہ حضرات خداوندی کی پوری طرح بجاآوری کرتے ہیں اور کبھی فرائض خداوندی کی ادائیگی کو ترک نہیں کرتے اور صلہ رحمی کرتے ہیں یا رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے پر قائم رہتے ہیں اور اپنے پروردگار کے حکم کی بجا آوری کرتے ہیں اور عذاب کی سختی سے ڈرتے ہیں۔
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ۔۔ : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے عقلوں والوں کی چند صفات بیان فرمائیں۔ ان میں سب سے پہلی صفت اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہد توحید کو پورا کرنا ہے، جیسا کہ سورة اعراف (172) میں ہے۔ ”وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ“ سے ہر اس عہد کو توڑنے سے اجتناب کرنا مراد ہے جسے پورا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ پہلے خاص اپنے عہد کے بعد اب عام عہد کا ذکر فرمایا۔ ان منافقین کی طرح نہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب اسے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 20
اس میں دہ مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1: قولہ تعالیٰ : الذین یوفون بعھد اللہ یہ عقلمندوں کی صفت ہے یعنی نصیحت صرف وہی عقلمند قبول کرتے ہیں جو اللہ کے ساتھ کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرتے ہیں۔ العھد اسم جنس ہے یعنی اللہ کے تمام وعدے اور وہ اس کے وہ أوامر اور نواہی ہیں جو اس نے اپنے بندوں کو فرمائے ہیں۔ ان الفاظ کے تحت تمام فرائض کا التزام اور تمام گناہوں سے بچنا شامل ہے۔ ولاینقضون المیثاق اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد تو تمام وعدوں کی جنس مراد ہو یعنی جب وہ اللہ کی اطاعت میں کوئی وعدہ کرتے ہیں تو اسکو نہیں توڑتے۔ حضرت قتادہ نے کہا : اللہ تعالیٰ نے وعدوں کو توڑنے اور ان سے روکنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بعھد اللہ ولا ینقضون المیثاق “ کے بارے میں فرمایا کہ تم پر وعدہ کو پورا کرنا لازم ہے اور معاہدے کو نہ توڑو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے اس بارے میں سخت تاکید فرمائی ہے اور اس کا بیس سے کچھ اوپر آیات میں ذکر فرمایا۔ یہ نصیحت ہے اور تم کو پیغام پہنچانا ہے۔ اور تم پر حجت ہے اور وہی امور عظیم ہوتے ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے عظمت بیان فرمائی سمجھ والے عقل والے اور عمل والوں کے نزدیک اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے اس کا کوئی ایمان نہیں جو امانت کی حفاظت نہیں…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ : جو لوگ ] [ يُوْفُوْنَ : پورا کرتے ہیں ] [ بِعَهْدِ اللّٰهِ : اللہ کے عہد کو ] [ وَلَا يَنْقُضُوْن : اور وہ نہیں توڑتے ] [َ الْمِيْثَاقَ : اس وعدہ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–25
یہاں تک چھ آیتوں کا مضمون بیان ہوا تھا ساتویں آیت میں اہل ایمان کے مقابل دوسری جماعتوں کا حال اور انجام بیان فرمایا ‘ ارشاد ہے (وَالَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَھْدَ اللّٰہِ مِنْ م بِعْدِ مِیْثَاقِہٖ ) (الایۃ) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اللہ سے عہد کیا پھر اس پر قائم نہ رہے عہد کو توڑ دیا اور اللہ نے جن چیزوں کو جوڑنے کا حکم دیا تھا انہیں توڑتے رہے اور زمین میں فساد کرتے رہے یہ لوگ پہلے گروہ کے برعکس ملعون ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور ان کے لیے آخرت میں برا انجام ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
ذکر حال و مآل محقین و مبطلین
قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
25:۔ یہ اولوا الالباب کی صفت ہے اور اس میں جماعت مبشرہ کے اوصاف مذکور ہیں۔ عَھْدَ اللہ سے اللہ تعالیی کی توحید اور اس کے احکام مراد ہیں ای بجمیع عھود اللہ وھی اوامرہ ونواھیہ التی وصی بھا عبیدہ (قرطبی ج 9 ص 307) ۔ یا اس سے توحید اور دین حق کے وہ دلائل مراد ہیں جو ان کی فطرتِ سلیمہ میں ودیعت ہیں۔ و عن القفال حملہ علی ما فی جبلتھم و عقولھم من دلائل التوحید والنبوات الی غیر ذلک (روح ج 13 ص 139) ۔ ابتغاء مفعول لہٗ ہے وہ مصائب و بلیات میں جزع فزع کا اظہار نہیں کرتے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے صبر و استقامت کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ ” وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسنَۃِ السَّیِّئَۃَ “ وہ اپنی ذات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–24
(ربط آیات)
شرک کی تردید اور توحید کے بیان کے اس کے ماننے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا حق و باطل کی کشمکش کا ذکر فرمایا کہ ان دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، باطل کی مثال سیلاب کے پانی پر آنے والی جھاگ یا کسی دھات کو پگھلانے پر دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ کی ہے ، ہر دو قسم کی جھاگ تھوڑی دیر کے لیے جوش مارتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے ، اور جو چیز کارآمد اور مفید ہوتی ہے ، وہ اس جھاگ کے نیچے تہ نشین ہوجاتی ہے ، دھات کی صورت میں اصل دھات کے زیورات مابرتن یا دیگر سامان تیار کرلیا جاتا ہے فرمایا نیکی اور بدی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ،…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ 20ۙ
وفی پورا
الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35]
( وی) الوافی
۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔
عهد
العَهْدُ : حفظ الشیء ومراعاته حالا بعد حال، وسمّي الموثق الذي يلزم مراعاته عَهْداً.
قال : وَأَوْفُوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1 ؎ اللہ کا عہد روز ازل میں جو عبودیت کا ارواح نے کیا تھا۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِاللّٰہِ وَلاَ یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاق۔ وَالَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآاَمَرَاللّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ وَیَخَافُوْنَ سُوْآئَ الْحِسَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 20۔ 21)
(جو اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے پیمان کو توڑتے نہیں۔ اور جو اس چیز کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اور اپنے رب سے ڈرتے رہتے ہیں اور سخت حساب کا اندیشہ رکھتے ہیں۔ )
اولوالالباب کی پہلی صفت
وہ عقلمند جو اللہ تعالیٰ کے قرآن سے فائدہ اٹھاتے اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرتے ہیں ان کی مختلف صفات ہیں۔ ان میں پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں عقیدہ توحید کے دلائل دیے گئے ہیں۔ توحید کا عقیدہ اللہ تعالیٰ سے انسان ایک عہد ہے۔ صاحب بصیرت اور حقیقی سمجھ رکھنے والے لوگ اس عہد کی پاسداری کرتے ہیں۔
صاحب بصیرت اور عقل سلیم رکھنے والوں کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے مضبوط عہد کا ایفا کرتے ہیں اور اسے کسی صورت بھی ٹوٹنے نہیں دیتے۔ اس عہد سے مراد پہلا عہد وہ ہے جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے اے انسان جب تیرے رب نے بنی نوع انسان کی پشت سے نسل درنسل اس کی اولاد کو پیدا کیا اور ان کو انہی کے اوپر گواہ بناتے ہوئے استفسار فرمایا کہ ” کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ “ آدم (علیہ السلام) کی…
Read the full tafseer →اولو الالباب کی صفات :
20: الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ (وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کرتے ہیں)
نحو : یہ مبتداء ہے اور اولئک لھم عقبی الدار اسکی خبر ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت والذین ینقضون عہد اللّٰہ۔ مبتداء اور اولٰٓئک لھم اللعنۃ خبر ہے ] الرعد : 25[ بعض نے کہا یہ اولی الالباب کی صفت ہے مگر پہلی صورت زیادہ وقیع ہے۔ عہد اللہ سے مراد شہادت ربوبیت والا معاہدہ ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں واشہد ھم علٰی انفسہم الست بربکم قالوا بلٰی ] الاعراف : 172 [ وَلَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَ (اور وہ پختہ عہد کو نہیں توڑتے) وہ پختہ عہد جو انہوں نے اپنے نفسوں سے لیا۔ اور قبول کیا یعنی ایمان باللہ…
Read the full tafseer →20۔” الذین یوفون بعھد اللہ “ جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور جو ان پر فرض کیا گیا تو تم اس کی مخالفت نہ کرو ۔ ” ولا ینقضون المیثاق “ عہد سے مراد وہ ہے جب سب حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا گیا تھا اور ان سے عہد لیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20۔ 21۔ اوپر اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے ذکر میں دو مثالیں بیان فرما کر ان آیتوں میں فرمایا ہے کہ اگرچہ ہر طرح کی نصیحت قرآن شریف میں ہے لیکن وہ نصیحت ان ہی لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ کے عہد کا خیال ہے کہ شریعت میں جس چیز کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے اس کو بجا لانے کا عہد اور جس سے باز رہنے کا ارشاد فرمایا ہے اس سے باز رہنے کے عہد کو وہ لوگ پورا کرتے ہیں اور جس طرح یوم المیثاق میں اللہ تعالیٰ نے توحید پر قائم رہنے کا اور رسولوں کی فرمانبرداری کرنے کا اور کتب آسمانی کے پابندی کرنے کا عہد لیا ہے شریعت کو اس عہد کے یاد دلانے والی ایک چیز جان کر نہ منافقوں کی طرح ان…
Read the full tafseer →اگر آپ ان کے اوصاف کے بارے میں سوال کریں تو آپ ان اوصاف سے بڑھ کر کوئی وصف نہیں پائیں گے جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو موصوف کیا ہے، چناچہ فرمایا : (الذین یوفون بعھد اللہ) ” وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں “ وہ ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کی تھی اور وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا یعنی اس کے حقوق کو کامل طور پر قائم کرنا، ان کو پوری طرح ادا کرنا یعنی ان حقوق کی نشو و نما اور ان میں خیر خواہی کرنا۔ (و) ” اور “ ان حقوق کی تکمیل یہ ہے کہ وہ (لاینقضون المیثاق) وہ اقرار کو نہیں توڑتے۔ “ یعنی اس عہد کو نہیں توڑتے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے باندھا ہے۔ اس آیت کریمہ کے حکم میں ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
60۔ اللہ کے حکم سے اعراض و سرتابی باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔
سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ سو جن لوگوں نے اللہ کا حکم نہیں مانا۔ ایمان واطاعت کے ذریعے بلکہ انہوں نے اعراض وروکردانی سے کام لیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو وہ بہرحال ناکام ونامراد ہیں اس دنیا میں بھی کہ یہاں پر ایسے لوگ سکون دل اور اطمینان قلب کی دولت سے محروم ہوں گے۔ اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیامۃ اعمی، یعنی جس نے ذکر اور میری یاد سے منہ موڑا اس کے لیے بڑی تنگ گذران ہے الایۃ (طہ : 124) سو اللہ پاک کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
حق اور باطل کی مثال
تشریح : ان آیات میں حق و باطل، نیکی و بدی، کفر و اسلام کا موازنہ بڑے ہی اچھے انداز میں کیا گیا ہے اچھے، سچے نیک اور صالح لوگوں کو صاف پانی اور صاف سونے سے تشبیہ دی گئی ہے اور برے، بدکردار اور کفار کو گندے پانی اور گرم دھات کے اوپر آنے والی گندگی جو کہ جھاگ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ نیک اور مسلمان انسان نہ صرف خود ہی سکون اور دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کرتا ہے بلکہ خلق خدا اور کائنات کے لیے بھی باعث رحمت، برکت اور مبارک ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ کفار اور بدطینت بدخصلت انسان نہ صرف یہ کہ خود ہی پریشانیوں، مصیبتوں اور عذابوں میں گھرا رہتا ہے بلکہ دنیا کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
(رکوع نمبر 3)
اسرارومعارف
مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…
Read the full tafseer →ف 11 ۔ یعنی ہر وہ عہد جس کے پورا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یا خاص کر وہ عہد جو ازل میں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں سے لیا تھا کہ وہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ دیکھئے اعترا آیات 271 (روح) ۔
12 ۔ یعنی وہ ان منافقین کی طرح نہیں ہیں جن میں سے کوئی جب عہد کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے، جب جھگڑتا ہے تو بدکلامی پر اتر آتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب سے کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(13:20) یؤفون۔ پورا کرتے ہیں۔ وفا کرتے ہیں۔ (اللہ کے ساتھ کئے گئے وعدہ کو) پورا کرتے ہیں۔
المیثاق۔ پختہ عہد۔ پیمان ۔ وعدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–26
لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26
افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
نیک و بد کی پہچان اور اس کے نتیجے
اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ پاک نے جو کچھ اپنے نبی برحق پر اتارا ہے اس پر جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے اور خدا کے سارے امر و نہی کو پورے عدل و انصاف پر سمجھتا ہے اس کے برابر کبھی وہ شخص نہیں ہوسکتا جو اس کو جھٹالتا ہے اور اس کی پیروی نہیں کرتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
[20] عہد سے مراد وہ عہد ہے جو انسان روز ازل اللہ سے کرچکا ہے اور جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اسلام چونکہ دین فطرت ہے اور قلب انسانی کی گہرائیوں میں اس کے سوتے اور چشمے بہتے ہیں اس لئے اسلام پر عمل پیرا ہونے کو وہ عہد ومیثاق سے تعبیر کرتا ہے ، اور ہر انسان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسلام کے حقائق کے سامنے سرتسلیم خم کر دے کیونکہ اس کے بیان کردہ حقائق ، فطرت انسانی کے صحیح ترجمان ہیں ۔
Read the full tafseer →20 ۔ یہ اہل خرد وہ لوگ ہیں جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے۔ یعنی جو عہد اللہ تعالیٰ سے انہوں نے کیا ہے اس کا یفا کرتے ہیں اور اسکو توڑتے نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
ف 4۔ یعنی کوئی ان کے ساتھ بدسلوکی کرے تو کچھ خیال نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ سلوک کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →جو لوگ وعدہ کو پورا کرتے ہیں اور عہد و پیمان کو توڑتے نہیں
36 ؎ اب اس آیت سے ان لوگوں کے اعمال گنائے ہیں جنہوں نے احکام حق قبول کئے اور دنیا کیلئے نافع ہوگئے اور یہ اعمال کیا کیا ہیں ان کی تفصیل دی جا رہی ہے۔ فرمایا : وہ اللہ کی بندگی کا عہد پورا کرتے ہیں اور اپنی عبودیت میں سچے اور کامل ہیں اور اپنے مالک حقیقی کے عہد کو کبھی نہیں توڑتے اس عہد سے مراد وہی فطری عہد ہے جس کو ” عبدالست “ ” عبدازل “ عالم ارواح “ کا عہد اور ” روز میثاق کا عہد “ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے اور ہم اس کو عہد فطرت کہتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کا یہ نام خود قرآن کریم میں بتایا ہے جہاں ارشاد فرمایا ۔ فطرت اللہ…
Read the full tafseer →الَّذِينَ يُوفُونَ بِعَهْدِ اللَّـهِ (those who fulfill [ their ] pledge with Allah). It covers all promises and pledges taken by Allah Ta` ala from His servants, the very first of which was the Divine Covenant taken in eternity before an assembly of all spirits, that is: اَلَستُ بِرَبِّکُم (Am I not your Lord?) in answer to which, everyone had unanimously said: بَلٰی (Yes, why not? Surely, You are our Lord). Similarly, the different pledges taken by Allah Ta` ala regarding the obedience of Divine injunctions, fulfillment of assigned duties, abstinence from things impermissible as ordered by…
Read the full tafseer →37. This covenant is the same that was made by Allah with the entire mankind at the beginning of the creation that they would worship Him alone. (Refer to (E.Ns 134 and 135 of Surah Al-Aaraf). As this covenant has been made with every human being, it has been imbued firmly in human nature. When a human being is born in this world, he, so to say, confirms the same covenant because he owes his creation to the same Allah with Whom he had made that covenant. Then he is brought up by His Provider and fed and nourished with His provisions, and uses the powers and faculties endowed by Him. All these…
Read the full tafseer →