Ar-Ra'd 13:19

Ar-Ra'd · from ayah 19

13:19

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰی ؕ— اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ ۟ۙاَفَمَنۡ يَّعۡلَمُ اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ الۡحَـقُّ كَمَنۡ هُوَ اَعۡمٰىؕ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الۡاَلۡبَابِۙ‏

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then is he who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth like one who is blind? They will only be reminded who are people of understanding -

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:19

بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رب کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے، اور وہ شخص جو اس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے، دونوں یکساں ہو جائیں؟ نصیحت تو دانش مند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا وه ایک شخص جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وه حق ہے، اس شخص جیسا ہو سکتا ہے جو اندھا ہو نصیحت تو وہی قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے، برحق ہے، بھلا وہ اس جیسا کیسے ہوسکتا ہے جو بالکل اندھا ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل و ہوش رکھتے ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو کیا وہ جانتا ہے جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا حق ہے وہ اس جیسا ہوگا جو اندھا ہے نصیحت وہی مانتے ہیں جنہیں عقل ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بھلا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے حق ہے، اس شخص کے مانند ہو سکتا ہے جو اندھا ہے، بات یہی ہے کہ نصیحت عقل مند ہی قبول کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ بیشک جو کچھ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف اتارا گیا وہی حق ہے، اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو عقلوں والے ہی قبول کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کی طرف اپنے پروردگار سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے اس شخص جیسا ہی ہے جو (اس حقیقت سے) اندھا ہے ؟ مگر نصیحت تو دانشمند ہی قبول کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو کیا جو جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی جانب سے اتار گیا ہے وہ حق ہے وہ اس کے مانند ہوجائے گا جو اندھا ہے۔ یاددہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بھلا جو شخص یقین جانتا ہو کہ جو کچھ اتارا گیا آپ کی طرف (اے پیغمبر !) آپ کے رب کی جانب سے، وہ سراسر حق (اور صدق) ہے کیا وہ اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو (اس حقیقت سے) اندھا ہو ؟ نصیحت تو بس وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقل خالص رکھتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا جو شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ آپ پر جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے حق ہی ہے وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ نصیحت تو بس اہل فہم ہی قبول کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی !) کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا وہ حق ہے بھلا اس جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہے یقیناً نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے، وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ اور نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل مند ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He who knows that the Book which has been sent to you from your Lord is the Truth, is he like him who is blind to that truth? It is only people of understanding who take heed:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Now, can the one who knows that whatever has been revealed to you from your Lord is the truth, be equal to one who is blind? Only the people of understanding respond to the advice —

— Muhammad Taqi Usmani

Now, can the one who knows that whatever has been revealed to you from your Lord is the truth, be equal to one who is blind? Only the people of understanding respond to the advice —

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Shall he then who knows that what has been revealed unto you from your Lord is the truth, be like him who is blind But it is only the men of understanding that pay heed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is he who knoweth that what is revealed unto thee from thy Lord is the truth like him who is blind? But only men of understanding heed;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then is he who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth like one who is blind? They will only be reminded who are people of understanding -

— Saheeh International

Can a person, who knows that what is revealed to you from your Lord is the truth, be considered equal to a blind person? Only those who have understanding take heed.

— Muhammad Sarwar

Is he then who knows that what has been revealed to you from your Lord is the truth like him who is blind? Only those possessed of understanding will mind,

— Muhammad Habib Shakir

Shall he then who knoweth that which is sent down unto thee is the truth be like unto him who is blind! Only the men of understanding are admonished

— Abdul Majid Daryabadi

Is then one who doth know that that which hath been revealed unto thee from thy Lord is the Truth, like one who is blind? It is those who are endued with understanding that receive admonition;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ایک موازنہ ارشاد ہوتا ہے کہ ایک وہ شخص جو اللہ کے کلام کو جو آپ کی جانب اترا سراسر حق مانا ہو، سب پر ایمان رکھتا ہو، ایک کو دوسرے کی تصدیق کرنے والا اور موافقت کرنے والا جانا ہو، سب خبروں کو سچ جانتا ہو، سب حکموں کو مانتا ہو، سب برائیوں کو جانتا ہو، آپ کی سچائی کا قائل ہو۔ اور دوسرا وہ شخص جو نابینا ہو، بھلائی کو سمجھتا ہی نہیں اور اگر سمجھ بھی لے تو مانتا نہ ہو، نہ سچا جانتا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔ جیسے فرمان ہے کہ دوزخی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی خوش نصیب ہیں، یہی فرمان یہاں ہے کہ یہ دونوں برابر نہیں۔ باب یہ ہے کہ بھلی سمجھ سمجھ داروں کی ہی ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّعْد 35 یعنی نہ دنیا میں ان دونوں کا رویہ یکساں ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام یکساں۔ سورة الرَّعْد 36 یعنی خدا کی بھیجی ہوئی اس تعلیم اور خدا کے رسول کی اس دعوت کو جو لوگ قبول کیا کرتے ہیں وہ عقل کے اندھے نہیں بلکہ ہوش گوش رکھنے والے بیدار مغز لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اور پھر دنیا میں ان کی سیرت و کردار کا وہ رنگ اور آخرت میں ان کا وہ انجام ہوتا ہے جو بعد کی آیتوں میں بیان ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل پچھلی آیتوں میں حق و باطل کو مثالوں کے ذریعہ واضح کیا گیا تھا مذکورہ آیات میں اہل حق اور اہل باطل کی علامات وصفات اور ان کے اچھے اور برے اعمال اور ان کے جزاء سزا کا بیان ہے۔ پہلی آیت میں احکام ربانی کی تعمیل و اطاعت کرنے والوں کے لئے اچھے بدلے کا اور نافرمانی کرنے والوں کے لئے عذاب شدید کا ذکر ہے دوسری آیت میں ان دونوں کی مثال بینا اور نابینا سے دی گئی ہے اور اس کے آخر میں فرمایا اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَاب یعنی اگرچہ بات واضح ہے مگر اس کو وہی سمجھ سکتے ہیں جو عقل والے ہیں جن کی عقلیں غفلت و معصیت نے بیکار کر رکھی ہیں وہ اتنے بڑے عظیم فرق کو بھی نہیں سمجھتے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۔ پیغمبر ﷺ کو تسلی، منکرین کو تہدید : " اعمی " کا لفظ، جیسا کہ آیت 16 میں عقل و دل کے اندھوں کے لیے آیا ہے اسی طرح اس آیت میں بھی یہ عقل و دل کے اندھوں کے لیے وارد ہوا ہے۔ یہ آیت بطور التفات، پیغمبر ﷺ کی تسلی کے لیے بھی ہے اور مکذبین و منکرین کی تہدید و وعید کے لیے بھی۔ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی کا پہلو تو یہ ہے کہ تم قرآن کی شکل میں جو دعوت پیش کر رہے ہو اس کے بارے میں ہر ایک کا رویہ یکساں نہیں ہوگا۔ اس سے یاد دہانی وہی حاصل کریں گے جو اولو الالباب یعنی عقل و دل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19۔ 1 یعنی ایک وہ شخص جو قرآن کی حقانیت و صداقت پر یقین رکھتا ہو اور دوسرا اندھا ہو یعنی اسے قرآن کی صداقت میں شک ہوگیا یہ دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ استفہام انکار کے لیے ہے یعنی یہ دونوں اسی طرح برابر نہیں ہوسکتے جس طرح جھاگ اور پانی یا سونا تانبا اور اس کی میل کچیل برابر نہیں ہو سکتے 19۔ 2 یعنی جن کے پاس قلب سلیم اور عقل صحیح نہ ہو اور جنہوں نے اپنے دلوں کو گناہوں کے زنگ سے آلودہ اور اپنی عقلوں کو خراب کرلیا ہو، وہ اس قرآن سے نصیحت حاصل نہیں کرسکتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

20: یعنی باطل چاہے کچھ عرصے غالب نظر آئے لیکن وہ جھاگ کی طرح بےفائدہ اور فنا ہوجاتا ہے اور حق پانی اور دوسری نفع بخش چیزوں کی طرح فائدہ مند اور باقی رہنے والا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس نمبر 113 ایک نظر میں اس سورة کے حصہ اول میں موضوع تھا اس کائنات کے آفاق اور عالم غیب کی گہرائیاں اور نفس انسانی کے عجائبات اور گہری انسانی نفسیات اور ان پر غور۔ اس دوسرے حصے میں انسانی وجدان کے محسوسات ، انسانی عقل کے اخذ کردہ نتائج اور نہایت ہی لطیف اور گہری سوچ ، خصوصاً رسالت ، منصب رسالت اور وحی الٰہی کے بارے میں حقائق ، عقیدۂ توحید اور رد شرک ، لوگوں کی نادانی اور معجزات کا مطالبہ اور وقوع قیامت میں جلدی۔ مسائل وہی ہیں جو پہلے حصے میں تھے ، البتہ سفر ایک دوسری وادی میں ہے یعنی وادی عقل وخرد میں۔ اس حصے میں سفر کا آغاز وادی کفرو ایمان میں ہوتا ہے۔ کفر کی وادی میں اندھیری رات جیسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 مومن و کافر دونوں کا الگ الگ انجام ذکر فرمانے کے بعد متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا ہونا عین عقل و حکمت کے موافق ہے۔ کوئی عقل مند یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایک نپٹ اندھا جسے کچھ نظر نہ آئے یوں ہی اناپ شناپ اندھیرے میں پڑا ٹھوکریں کھا رہا ہو، اس شخص کی برابری کرسکتا ہے جس کے دل کی آنکھیں کھلی ہیں اور پوری بصیرت کے ساتھ حق کی روشنی سے مستفید ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 19–20

آیت 20 الَّذِيْنَ يُوْفُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَلَا يَنْقُضُوْنَ الْمِيْثَاقَ قبل ازیں سورة البقرۃ کی آیت 177 میں بھی ہم ان سے ملتے جلتے یہ الفاظ پڑ ھ آئے ہیں : وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوْا۔ اللہ کے ساتھ کیے گئے معاہدوں میں سے ایک تو وہ عہد الست ہے بحوالہ الاعراف : 172 جو ہم نے عالم ارواح میں اللہ کے ساتھ کیا ہے پھر ہر بندۂ مؤمن کا میثاق شریعت ہے کہ میں اللہ کے تمام احکامات کی تعمیل کروں گا۔ پھر اللہ کا مؤمن کے ساتھ کیا گیا وہ سودا بھی ایک عہد ہے جس کا ذکر سورة التوبہ۔ آیت 111 میں ہے اور جس کے مطابق اللہ نے مؤمنین کے جان و مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں۔ آیت زیر نظر میں یہ ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 19–20

28 یعنی ایک شخص اللہ کی نازل کردہ ہدایات کو حق سمجھ کر اپنی پوری زندگی اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے، حرام و حلال کی تمیز کرتا ہے۔ ظلم و زیادتی سے بچتا اور اللہ سے ڈرتا رہتا ہے اور دوسرا شخص محض اپنے مفادات کے پیچھے پڑا رہا ہے اور اس غرض کے لیے وہ ہر طرح کے جائز و ناجائز حربے اختیار کرتا، لوگوں کے حقوق غصب کرتا اور ان پر ظلم و زیادتی کرتا رہتا ہے۔ کیا یہ دونوں ایک جیسے ہوسکتے ہیں ؟ یا ان کا طرز عمل ایک جیسا ہوگا ؟ مگر یہ بات تو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو کچھ عقل و فکر سے کام لیتے ہیں اور خود اللہ کی بتائی ہوئی راہ پر گامزن ہیں :

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42۔ (اور جو لوگ فہم خداداد سے کام ہی نہیں لیتے وہ محروم رہتے ہیں) (آیت) ” افمن یعلم۔۔ الحق “۔ یعنی مومن ومسلم۔ (آیت) ” من ھو اعمی “۔ یعنی کافر ومنکر (آیت) ” یعلم “۔ علم یہاں یقین و اعتقاد کے معنی میں ہے۔ (آیت) ” انزل الیک “۔ اس سے قرآن مراد ہونا تو ظاہر ہی ہے باقی رسول اللہ ﷺ نے وحی خفی کی بناء پر قرآن سے باہر جو احکام دیئے ہیں وہ بھی اس کے عموم میں شامل ہیں، (آیت) ” انما یتذکراولوا الالباب “۔ یہ اولوا الالباب یا صاحبان فہم خالص وہی لوگ ہوتے ہیں، جو اپنی عقل پر تعصبات یا جذبات عناد وغیرہ کو غالب نہیں آنے دیتے اور یہی فرق ہے لب اور مطلق عقل کے در میان۔ اللب العقل الخالص من الشوائب (راغب) وقیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 19–26

آیت نمبر 19 تا 26 ترجمہ : اور (آئندہ آیت) (حضرت) حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص کہ جو یہ علم رکھتا ہو کہ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے جو اتارا گیا ہے وہ حق ہے اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہے اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہو، کہ نہ اس کو جانتا ہو اور نہ اس پر یقین رکھتا ہو، نہیں، نصیحت تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہوتے ہیں، جو اللہ کے عہد (پیمان) کو پورا کرتے ہیں جو ان سے وقت لیا گیا تھا کہ جب وہ عالم ذر (یعنی چیونٹیوں) کی شکل میں تھے یا مطلقاً کسی عہد کو نہیں توڑتے، اور وہ ایمان یا فرائض کو ترک کرکے عہد کو توڑتے نہیں ہیں، اور جو اس کو جوڑتے ہیں جس کو اللہ نے جوڑنے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق کمن ھو اعمی جو شخص یقین رکھتاہو کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے ‘ وہ سراسر حق ہے ‘ کیا ایسا شخص اس کی طرح ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ؟ اندھے سے مراد ہے : بےبصیرت ‘ کور دانش ‘ حق کو باطل سے تمیز نہ کرنے والا۔ روایت میں آیا ہے کہ اوّل الذکر شخص سے مراد ہیں حضرت حمزہ یا حضرت عمار اور نابینا سے مراد ہے ابوجہل۔ انما یتذکر اولو الالباب پس تو نصیحت سمجھدار لوگ ہی قبول کرتے ہیں۔ یعنی سلیم دانش والے جو عقل کو جذبات حمیت و تعصب سے اور فہم کو وہم سے پاک رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(19) جو شخص قرآن کریم کی حقانیات کی تصدیق کرتا ہو تو کیا یہ مومن کافر کی طرح ہوسکتا ہے، سو قرآن کریم سے نصیحت تو سمجھدار ہی لوگ قبول کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ۔۔ : یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ کیا وہ شخص جو جانتا ہے اس شخص کی طرح ہے جو نہیں جانتا، یوں فرمایا کہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے ؟ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اللہ کی طرف سے آنے والی نشانیاں آنکھوں سے نظر آرہی ہیں، جو ان کا علم اور یقین نہیں رکھتا درحقیقت وہ اندھا ہے اور اس کا یہ اندھا پن قیامت کو اچھی طرح ظاہر ہوجائے گا۔ دیکھیے سورة طہ (124 تا 126) یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔”اُولُوا“ ”ذُوْ“ کی جمع ہے، بمعنی والے۔ ”الْاَلْبَابِ“ ”لُبٌّ“ کی جمع ہے، ہر چیز میں سے جو خالص ہو، خالص عقل جو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہو۔ (مفردات) اس لیے ترجمہ ”عقل والوں“ کے بجائے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

آیت نمبر 17 تا 19 قولہ تعالیٰ : انزل من السماء مآء فسالت او دیۃ بقدرھا فاحتمل السیل زبداً رابیاً اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے لیے ضرب المثل بیان فرمائی ہے کفر کو اس جھاگ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو پانی پر اٹھتی ہے، یہ ختم ہوجاتی ہے اور وادیوں کی ایک جانب میں جمع ہوتی ہے اور ہوائیں اسے دھکیل کرلے جاتی ہیں پس اسی طرح کفر بھی چلا جاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : فسالت اودیۃ بقدرھا، بقدرھا سے مراد بقدر ملئھا ہے یعنی اپنے بھرنے کے اندازے کے مطابق۔ ابن جریج نے کہا : اس سے مراد اپنے چھوٹے اور بڑے ہونے کے حساب سے۔ اشہب عقیلی اور حضرت حسن بصری نے بقدرھا دال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی دونوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

خوب جانچ پڑتال کرکے حساب لینا (سب) اعمال میں : 1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” افمن یعلم انما انزل الیک من ربک الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نفع اٹھایا جو انہوں نے سنا اللہ کی کتاب میں سے اور اس کو سمجھا اور اس کو یاد رکھا۔ (آیت ) ” کمن ھو اعمی “ (اس شخص کی مانند نہیں ہوسکتا جو اندھا رہا) حق سے نہ اس کو دیکھتا ہے اور نہ اس کو سمجھتا ہے۔ (آیت ) ” انما یتذکراو الوالالباب “ پھر ان کے بارے میں بیان فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں (آیت ) ” الذین یوفون بعھد اللہ “ (یعنی جنہوں نے اللہ کا وعدہ کو پورا کیا ) ۔ 2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَفَمَنْ : تو کیا جو ] [ يَّعْلَمُ : جانتا ہے ] [انمَآ : کہ وہ جو ] [ انزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَيْكَ : آپ ﷺ کی طرف ] [مِنْ رَّبِكَ : آپ ﷺ رب (کی طرف) سے ] [الْحَقُّ : کل حق ہے ] [ كَمَنْ : اس کی مانند ہے ] [ هُوَ : (کہ) وہ ] [ اَعْمٰى : اندھا ہے ] [ انمَا : کچھ نہیں سوائے اس کے کہ ] [ يَتَذَكَّرُ : نصیحت حاصل کرتے ہیں ] [ اُولُوا الْاَلْبَابِ : اوہام سے پاک عقل والے ] ترکیب : (آیت۔ 19) اَنَّمَا اُنْزِلَ میں اَنَّمَا کلمۂ حصر نہیں ہے بلکہ یہ اَنَّ مَا ہے۔ یہ قرآن مجید کا یہ مخصوص املا ہے کہ یہاں اسکو ملا کر لکھا گیا ہے۔ جبکہ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ میں اِنَّمَا کلمہ حصر ہے۔ (آیت۔ 22)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اہل ایمان کے اوصاف ‘ اور ان کے انعامات اور نقض عہد کرنے والوں کی بد حالی کا تذکرہ : یہ متعدد آیات ہیں پہلی آیت میں فرمایا کہ جس شخص کو اس بات کا علم ہے کہ جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا وہ حق ہے کیا اس بات کا جاننے والا اندھے آدمی کے برابر ہوسکتا ہے جو علم کے اعتبار سے اندھا ہے اور آپ پر جو نازل کیا گیا ہے اسے نہیں جانتا (نہ جاننے میں یہ بھی داخل ہے کہ جانتے ہوئے مانتے نہیں) جاننے والا بینا ہے اور نہ جاننے والا نابینا ہے ‘ کیا بینا نابینا برابر ہوسکتے ہیں ؟ ہرگز برابر نہیں ہوسکتے ! پھر فرمایا (اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِِ ) (بس عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں) قرآن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

ذکر حال و مآل محقین و مبطلین قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

24:۔ یہ بشارت اور تخوف مذکورہ پر لف و نشر مرتب متفرع ہے۔ یعنی جو شخص یقین رکھتا ہو کہ اللہ کی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے وہ سراپا حق ہے۔ یہ بشارت پر متفرع ہے کیا وہ اس شخص کی مانند ہوسکتا ہے جو دل کا اندھا اور مشرک ہو۔ یہ تخویف پر متفرع ہے۔ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ دونوں شخص ہرگز برابر نہیں ہوسکتے۔ عقلمند اور بصیرت والے لوگ خوب سمجھتے ہیں کہ وہ برابر نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 19–24

(ربط آیات) شرک کی تردید اور توحید کے بیان کے اس کے ماننے اور نہ ماننے والے ہر دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا حق و باطل کی کشمکش کا ذکر فرمایا کہ ان دونوں میں ہمیشہ ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ، باطل کی مثال سیلاب کے پانی پر آنے والی جھاگ یا کسی دھات کو پگھلانے پر دھات کے پانی پر آنے والی جھاگ کی ہے ، ہر دو قسم کی جھاگ تھوڑی دیر کے لیے جوش مارتی ہے اور پھر ختم ہوجاتی ہے ، اور جو چیز کارآمد اور مفید ہوتی ہے ، وہ اس جھاگ کے نیچے تہ نشین ہوجاتی ہے ، دھات کی صورت میں اصل دھات کے زیورات مابرتن یا دیگر سامان تیار کرلیا جاتا ہے فرمایا نیکی اور بدی کی مثال بھی ایسی ہی ہے ، ان کا بھی آپس میں ٹکراؤ ہوتا رہتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 19۝ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–19

تفسیر : ان آیات میں اس ابر رحمت (قرآن) کے اثر قبول کرنے اور نہ کرنے کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ الذین الخ کہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مان لیا ان کے لئے بہتری ہے۔ پھر آگے حکم ماننے اور بہتری کی تشریح کرتا ہے اور جن شوربختوں نے اس پانی کو قبول نہیں کیا ان کا انجام جہنم اور برا ٹھکانا ہے اور ان کا وہاں یہ آرزو کرنا بیان کرتا ہے کہ اگر تمام دنیا بھر کی نعمتیں اور مال و حشمت ان کے پاس ہو اور اتنا ہی اور ہو تو سب کو دے کر عذاب سے چھوٹ جانا چاہیں گے۔ آج یہاں اللہ کی راہ میں چار پیسے بھی صرف کرنا نہیں چاہتے جس مال پر مرتے ہیں وہ یوں بےقدر ہوگا کہ تاوان و جرمانہ میں نہ لیا جاوے گا۔ پھر ان دو فریق کی مثال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ھُوَاَعْمٰی ط اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُوْلُوا الْاَلْبَابِ ۔ (سورۃ الرعد : 19) (تو کیا جو شخص جانتا ہے کہ آپ پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے آپ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے۔ وہ اس شخص جیسا ہوسکتا ہے جو اندھا ہے۔ نصیحت صرف عقلمند ہی قبول کرتے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اور قریش مکہ کو تنبیہ اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے۔ اور قریش مکہ کو آئینہ دکھانا مقصود ہے۔ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کے انداز کو اور کفار کی ہدایت کے لیے آپ ﷺ کی دلسوزی کو جس طرح بیان فرمایا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ﷺ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : تابعدار بندوں کا بہترین انجام بیان اور کافرو مشرک کے بدترین انجام کا ذکر کرنے کے بعد ایمان دار کا مرتبہ اور اس کا کردار بیان کیا جاتا ہے۔ اس سے پہلے آیت : 16 میں مشرک کو اندھا اور موحد کو بینا قرار دیا تھا۔ اب حق کی پیروی کرنے والے موحد کا مقام اور شان بیان کرتے ہوئے اجمالاً فرمایا ہے کہ ایسا شخص جو حق کو پہچانتا ہے وہ اندھے شخص جیسا ہوسکتا ہے ؟ اس مختصر اشارے میں عقل مندوں کے لیے بےانتہا عبرت اور نصیحت کا سامان ہے اس فرمان کی تفصیل سورة السجدۃ میں یوں بیان فرمائی۔ کیا مواحد، فرمانبردار اور نافرمان شخص برابر ہوسکتے ہیں ؟ (أَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19: اَفَمَنْ یَّعْلَمُ (جو شخص یہ جانتا ہے) ہمزہ انکار کیلئے ہے اور اسکو فاؔ پر اس لئے داخل کیا گیا تاکہ مثال بیان کرنے کے بعد اس شبہ میں مبتلا ہونے سے بچایا جائے۔ کہ اس علم والے کا حال جو یہ جانتا ہے اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ (کہ تیری طرف تیرے رب کی طرف سے حق اترا ہے۔ ) اور اس نے اس حق کو قبول کرلیا ہے۔ وہ جاہل کے حال سے مختلف ہے جو کچھ بھی بصیرت نہیں رکھتا پھر وہ بات مانتا ہے۔ اور یہی مطلب اس آیت کا ہے۔ کَمَنْ ھُوَاَعْمٰی (اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو کہ اندھا ہو) انکے مابین پانی اور جھاگ والا فرق اور میل کچیل اور خالص دھات کے مابین والا فرق ہے۔ اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19۔” افمن یعلم ان ما انزل الیک من ربک الحق ‘ اس پر وہ ایمان لے آئیں اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کریں ۔ ” کمن ھو اعمی “ جو نہ اس کو جانتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے۔ بعض نے کہا کہ یہ حمزہ اور ابی جہل کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بعض نے کہا کہ یہ عمار اور ابو جہل کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس میں پہلا قول یہ ہے کہ حمزہ اور عمار ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ابو جہل ہیں اور وہ اعمی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا حق کو دیکھنے والا اور اس کی پیرو ی کرنے والا اور جو حق کو نہ دیکھنے والا اور نہ پہچاننے والا برابر نہیں ہوسکتے۔” انما یتذکر ‘ بمعنی نصیحت کے ہے۔ ” اولو الالباب “ عقل والے مراد ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

19۔ اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ پاک نے جو کچھ اپنے نبی برحق پر اتارا ہے اس پر جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے اور خدا کے سارے امر و نہی کو پورے عدل و انصاف پر سمجھتا ہے اس کے برابر کبھی وہ شخص نہیں ہوسکتا جو اس کو جھٹلاتا ہے اور اس کی پیروی نہیں کرتا۔ مفسروں نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت حمزہ بن عبد المطلب و ابو جہل کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ حمزہ آپ پر ایمان لائے تھے وہ مومن تھے اور ابو جہل مرتے وقت تک کافر رہا۔ اللہ پاک نے انہی دونوں کے درمیان میں فرق بیان کیا کہ حمزہ ؓ راہ حق پر ہیں اور ابو جہل گمراہی میں ہے یہ دونوں کبھی برابر نہیں ہوسکتے مگر یہ آیت عام ہے اس لئے اس کا حکم بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ اہل علم و عمل اور غیر اہل علم لوگوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” بھلا جو شخص جانتا ہے کہ جو کچھ اترا آپ پر آپ کے رب کی طرف سے، حق ہے “ پس اس حق کو خوب سمجھ لیا اور اس پر عمل پیرا ہوا، (کمن ھواعمی) ” برابر ہوسکتا ہے اس کے جو کہ اندھا ہے “ اور وہ حق کا علم رکھتا ہے نہ حق پر عمل کرتا ہے، دونوں کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔ پس بندے پر لازم ہے کہ وہ غور کرے کہ فریقین میں سے کس کا حال اچھا اور کس کا انجام بہتر ہے۔ پھر اسے چاہیے کہ اسی راستے کو ترجیح دے اور اسی گروہ کی پیروی میں رواں دواں رہے۔ مگر اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص غور و فکر نہیں کرتا کہ اس کے لئے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 19–20

60۔ اللہ کے حکم سے اعراض و سرتابی باعث ہلاکت و تباہی۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ سو جن لوگوں نے اللہ کا حکم نہیں مانا۔ ایمان واطاعت کے ذریعے بلکہ انہوں نے اعراض وروکردانی سے کام لیا۔ والعیاذ باللہ۔ تو وہ بہرحال ناکام ونامراد ہیں اس دنیا میں بھی کہ یہاں پر ایسے لوگ سکون دل اور اطمینان قلب کی دولت سے محروم ہوں گے۔ اور آخرت میں ان کے لیے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ ومن اعرض عن ذکری فان لہ معیشۃ ضنکا ونحشرہ یوم القیامۃ اعمی، یعنی جس نے ذکر اور میری یاد سے منہ موڑا اس کے لیے بڑی تنگ گذران ہے الایۃ (طہ : 124) سو اللہ پاک کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–20

حق اور باطل کی مثال تشریح : ان آیات میں حق و باطل، نیکی و بدی، کفر و اسلام کا موازنہ بڑے ہی اچھے انداز میں کیا گیا ہے اچھے، سچے نیک اور صالح لوگوں کو صاف پانی اور صاف سونے سے تشبیہ دی گئی ہے اور برے، بدکردار اور کفار کو گندے پانی اور گرم دھات کے اوپر آنے والی گندگی جو کہ جھاگ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ نیک اور مسلمان انسان نہ صرف خود ہی سکون اور دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کرتا ہے بلکہ خلق خدا اور کائنات کے لیے بھی باعث رحمت، برکت اور مبارک ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ کفار اور بدطینت بدخصلت انسان نہ صرف یہ کہ خود ہی پریشانیوں، مصیبتوں اور عذابوں میں گھرا رہتا ہے بلکہ دنیا کو اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 19–26

(رکوع نمبر 3) اسرارومعارف مومن جسے یقین کی یہ دولت نصیب ہو کہ آپ ﷺ پر جو کچھ اپنے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا حق ہے اس کی عظمت کو دل کے اندھے یعنی جو اس یقین سے محروم ہیں بھلا کب پا سکتے ہیں اگرچہ یہ بات بہت واضح ہے مگر سمجھنے کے لیے تو عقل ضروری ہے لہذٓ ٰٓسی بات بھی دانا لوگ ہی جان سکتے ہیں اور دانا وہ ہیں جو اپنے اللہ جل جلالہ سے کئے گئے وعدے کا پاس رکھتے ہیں اور اسے نباہتے ہیں جو ازل میں عہد کیا تھا کہ تو ہی ہمارا پروردگار ہے اور پھر کلمہ طیبہ پڑھ کر دوبارہ اس کی عظمت اور نبی ﷺ کی صداقت کا اقرار کرکے اطاعت کا وعدہ کیا پھر نافرمانی کرکے اسے توڑتے نہیں ، تیسرا وصف ان کا یہ ہے کہ جن امور یا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:19) یتذکر۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ تذکر یتذکر تذکر (تفعل) نصیحت پکڑنا۔ یتذکر۔ وہ نصیحت پکڑتا ہے۔ (واحد بمعنی جمع آیا ہے۔ بیشک نصیحت وہی پکڑتے ہیں جو صاحب ِ فہم ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 19–26

لغات القرآن آیت نمبر 19 تا 26 افمن کیا پھر وہ شخص اعمی اندھا یتذکر دھیان دیتا ہے اولوالالباب عقل و فکر رکھنے والے یوفون پورا کرتے ہیں لا ینقضون وہ نہیں توڑتے ہیں المیثاق وہ پختہ عہد جس کو توڑا نہ جاسکے یصلون وہ ملاتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں یخشون وہ ڈرتے ہیں سوء الحساب بدترین حساب ابتغاء تلاش کرنا اقاموا انہوں نے قائم کیا انفقوا انہوں نے خرچ کیا سر چھپ کر علانیۃ کھلم کھلا یدرؤن وہ رد کرتے ہیں عقبی الدار آخرت کا گھر عدن راحت بھری جنت۔ رہنے کے باغات صلح درست کیا۔ اصلاح کرلی ازواج (زوج) ، بیویاں ، جوڑے ذریت (ذریتۃ) اولاد نعم بہترین یقطعون وہ کاٹتے ہیں ان یوصل یہ کہ وہ ملائیں یفسدون وہ فساد مچاتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 19–21

نیک و بد کی پہچان اور اس کے نتیجے اس آیت میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ پاک نے جو کچھ اپنے نبی برحق پر اتارا ہے اس پر جو شخص ایمان لاتا ہے اور اس کی تصدیق کرتا ہے اور خدا کے سارے امر و نہی کو پورے عدل و انصاف پر سمجھتا ہے اس کے برابر کبھی وہ شخص نہیں ہوسکتا جو اس کو جھٹالتا ہے اور اس کی پیروی نہیں کرتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–20

[20] عہد سے مراد وہ عہد ہے جو انسان روز ازل اللہ سے کرچکا ہے اور جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

قرآن عقلمندوں کے لئے ایک نعمت ہے : (ف 1) قرآن حکیم نے بار بار اس حقیقت کو دہرایا ہے کہ میرے مخاطب عقلمند اور ذی ہوش لوگ ہیں ، اندھے اور بےبصیرت افراد قرآن کی برکات سے استفادہ نہیں کرسکتے یہ وہ نور ہے جسے شپرہ چشم نہیں دیکھ سکتا ، یہ علم ہے ہدایت ہے ، اس کے معارف کی وسعت سے وہی آگاہ ہو سکتا ہے ، جسے مبدا فیاض سے فہم وبصیرت کا حصہ وافر بلاہو ، قرآن حکیم کو ارتقائے عقل سے کوئی خطرہ نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ اس زمانہ کے لوگ قرآن کی طرف بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اب قرآن حکیم کے مطالعہ کا عام شغف لوگوں کے دلوں میں پایا جاتا ہے ، بات یہ ہے کہ قرآن حیم رب دانا و برتر کی کتاب ہے ، اس لئے ضرور ہے کہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

19 ۔ وہ شخص جو یہ یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے وہ برحق ہے بھلا کیا یہ شخص اس کی مثل ہوسکتا ہے جو اندھا ہے ان باتوں سے تو بس وہی لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو صاحبان عقل و خرد ہیں ۔ یعنی قرآن کریم کے برحق ہونے کا یقین کرنے والا اور اندھا برابر نہیں اعمی فرمایا منکر حق کو ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہیں ؟ نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو صاحب عقل ہیں 35 ؎ سوال پوچھ کر بات کو ذہن نشین کرایا جا رہا ہے کہ تم ہی بتائو کہ جو شخص جانتا ہے اس کو جو اس کے اللہ کی طرف سے نازل ہوا اور اس پر ایمان لایا کہ ہاں ! یہ میرے رب کا نازل کیا ہوا ہے اور وہ جو اندھا ہے یعنی اس کو اللہ نے نازل فرمایا نہیں مانتا اور نہ ہی سمجھتا ہے تو کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے صاف ‘ سیدھی اور واضح بات تو یہی ہے کہ وہ برابر نہیں ہو سکتے اور حقیقت بھی یہی ہے۔ فرمایا ہم نے یہ بات اس لئے بیان کی ہے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور پھر نصیحت کو حاصل کرنے کیلئے ہم نے یہ قانون ٹھہرایا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Truth and Falsehood were explained through parables in verses appearing previous to those cited above. Now, in the present verses, there is a description of the distinguishing marks and attributes of the people of Truth and the people of Falsehood, along with a description of their good and bad deeds, and their reward and punishment. The first verse (18) carries a description of the good return reserved for those who obey Divine injunctions and act in accordance with them, and conversely, of the severe punishment for those who disobey them and act negatively. In the second verse…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

35. That is, as the attitude of the two in this world will be different from each other, so shall be their ultimate end in the Hereafter. 36. That is, those who listen to the message that has been sent down by Allah, and accept His Messenger, are really very wise people. This is why their conduct in this world is quite different from those foolish people who are blind to its merits: and so is their ultimate end in the Hereafter, as stated in the subsequent verses.

Read the full tafseer →