Ar-Ra'd 13:18

Ar-Ra'd · from ayah 18

13:18

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰی ؔؕ— وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ ؕ— اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ ۙ۬— وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ؕ— وَبِئْسَ الْمِهَادُ ۟۠لِلَّذِيۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّهِمُ الۡحُسۡنٰى ‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ لَمۡ يَسۡتَجِيۡبُوۡا لَهٗ لَوۡ اَنَّ لَهُمۡ مَّا فِى الۡاَرۡضِ جَمِيۡعًا وَّمِثۡلَهٗ مَعَهٗ لَافۡتَدَوۡا بِهٖؕ اُولٰۤئِكَ لَهُمۡ سُوۡۤءُ الۡحِسَابِ ۙ وَمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَـنَّمُ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمِهَادُ‏

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

For those who have responded to their Lord is the best [reward], but those who did not respond to Him - if they had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby. Those will have the worst account, and their refuge is Hell, and wretched is the resting place.

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juzع

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:18

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت قبول کر لی ہے اُن کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اتنی ہی اور فراہم کر لیں تو وہ خدا کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیا ر ہو جائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا اور اُن کا ٹھکانہ جہنم ہے، بہت ہی برا ٹھکانا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جن لوگوں نے اپنے رب کے حکم کی بجا آوری کی ان کے لئے بھلائی ہے اور جن لوگوں نے اس کی حکم برداری نہ کی اگر ان کے لئے زمین میں جو کچھ ہے سب کچھ ہو اور اسی کے ساتھ ویسا ہی اور بھی ہو تو وه سب کچھ اپنے بدلے میں دے دیں۔ یہی ہیں جن کے لئے برا حساب ہے اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بھلائی انہی لوگوں کے حصے میں ہے جنہوں نے اپنے رب کا کہنا مانا ہے اور جنہوں نے اس کا کہنا نہیں مانا، اگر ان کے پاس دنیا بھر کی ساری چیزیں بھی ہوں گی، بلکہ اتنی ہی اور بھی، تو وہ (قیامت کے دن) اپنی جان بچانے کے لیے وہ سب کچھ دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ ان لوگوں کے حصے میں بری طرح کا حساب ہے، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جن لوگوں نے اپنے رب کا حکم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور ان کی ملِک میں ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے یہی ہیں جن کا برُ ا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی بُرا بچھونا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ایسے لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا حکم قبول کیا بھلائی ہے، اور جنہوں نے اس کا حکم قبول نہیں کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو سو وہ اسے (عذاب سے نجات کے لئے) فدیہ دے ڈالیں (تب بھی) انہی لوگوں کا حساب برا ہوگا، اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جن لوگوں نے اپنے رب کی بات قبول کرلی انھی کے لیے بھلائی ہے اور جنھوں نے اس کی بات قبول نہ کی اگر واقعی ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس کے ساتھ اتنا اور ہو تو وہ ضرور اسے فدیہ میں دے دیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم مان لیا ان کے لئے بھلائی ہے اور جنہوں نے نہیں مانا تو اگر وہ سب کچھ انھیں میسر آجائے جو زمین میں ہے بلکہ اتنا اور بھی تو وہ سب کچھ دے کر اللہ کی گرفت سے بچنے پر تیار ہوجائیں گے۔ یہی لوگ ہیں جن سے بری طرح حساب لیا جائے گا۔ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا جو بہت بری جگہ ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو لبیک کہا ان کے لیے انجام کار کی فیروز مندی ہے اور جن لوگوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی۔ اگر ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوجائے جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ فدیہ میں دے ڈالیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور ان کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جن لوگوں نے (صدق دل سے) اپنے رب کا حکم مان لیا ان کے لئے بھلائی ہے، اور جنہوں نے اس کا حکم نہیں مانا، ان کے پاس اگر دنیا بھر کی دولت بھی ہو، اور اس کے ساتھ اتنی ہی دولت اور بھی، تو وہ یقیناً اس سب کو اپنے عذاب کے بدلے میں دینے کو تیار ہوجائیں گے یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے بڑا برا حساب ہے، اور ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ

— مولانا اسحاق مدنی

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کہنا مان لیا ان کے لئے نیک (بدلہ) ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا ان کے پاس اگر دنیا بھر کی چیزیں بھی ہوں اور اسی کے ساتھ اتنی ہی اور بھی تو وہ سب اپنی طرف سے بہ طور فدیہ دے ڈالیں۔ سخت حساب ان لوگوں کا ہوگا اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیسی بری قرار گاہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہا ان کے لیے بھلائی ہے اور جنہوں نے اس کی دعوت کو قبول نہیں کیا اگر ان کے پاس ہو جو کچھ ہے زمین میں سب کا سب اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی تو وہ (یہ سب کچھ) ضرور بدلے میں دے ڈالیں یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جن لوگوں نے اللہ کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں دے ڈالیں تو نجات نہ ہوگی۔ ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

There is good reward for those who respond to the call of their Lord. And those who do not respond to their Lord, (a time will come when) they shall offer all they have - even if they have all the riches of the world and the like of it besides to redeem themselves (from the chastisement of Allah). They will be subjected to a severe reckoning and Hell shall be their refuge. What a wretched resting place it is!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

For those who obey their Lord there is the best of rewards; and those who do not obey Him (shall be in such a plight that) even if they possess all that is on earth, rather twice as much, they would offer it in ransom (to redeem themselves from the punishment). For these there is the worst of reckoning, and their abode is Hell, which is an evil bed to rest.

— Muhammad Taqi Usmani

For those who obey their Lord there is the best of rewards; and those who do not obey Him (shall be in such a plight that) even if they possess all that is on earth, rather twice as much, they would offer it in ransom (to redeem themselves from the punishment). For these there is the worst of reckoning, and their abode is Hell, which is an evil bed to rest.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For those who answered their Lord's call is Al-Husna. But those who answered not His call, if they had all that is in the earth together with its like, they would offer it in order to save themselves. For them there will be the terrible reckoning. Their dwelling place will be Hell; and worst indeed is that place for rest.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For those who answered Allah's call is bliss; and for those who answered not His call, if they had all that is in the earth, and therewith the like thereof, they would proffer it as ransom. Such will have a woeful reckoning, and their habitation will be hell, a dire abode.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

For those who have responded to their Lord is the best [reward], but those who did not respond to Him - if they had all that is in the earth entirely and the like of it with it, they would [attempt to] ransom themselves thereby. Those will have the worst account, and their refuge is Hell, and wretched is the resting place.

— Saheeh International

Those who answer the call of their Lord will receive good rewards. Whatever those who have not answered the call of their Lord offer to redeem themselves, even if they offer double the wealth of the whole earth, will not be accepted. They will face a terrible reckoning and their dwelling will be hell, a terrible place to rest!

— Muhammad Sarwar

For those who respond to their Lord is good; and (as for) those who do not respond to Him, had they all that is in the earth and the like thereof with it they would certainly offer it for a ransom. (As for) those, an evil reckoning shall be theirs and their abode is hell, and evil is the resting-place.

— Muhammad Habib Shakir

For these who answer their Lord is ordained good. And those who answer not their Lord--if they had all that is in the earth, and therewith the like thereof, they would ransom themselves therewith. These! for them shall be an evil reckoning; and their resort is Hell, a hapless bed!

— Abdul Majid Daryabadi

For those who respond to their Lord, are (all) good things. But those who respond not to Him,- Even if they had all that is in the heavens and on earth, and as much more, (in vain) would they offer it for ransom. For them will the reckoning be terrible: their abode will be Hell,- what a bed of misery!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ذوالقرنین نیکوں بدوں کا انجام بیان ہو رہا ہے۔ اللہ رسول کو ماننے والے، احکام کے پابند، خبروں پر یقین رکھنے والے تو نیک بدلہ پائیں گے۔ ذوالقرنین ؒ نے فرمایا تھا کہ ظلم کرنے والے کو ہم بھی سزا دیں گے اور اللہ کے ہاں بھی سخت عذاب دیا جائے گا اور ایماندار اور نیک اعمال لوگ بہترین بدلہ پائیں گے اور ہم بھی ان سے نرمی کی باتیں کریں گے۔ اور آیت میں فرمان ربی ہے نیکوں کے لئے نیک بدلہ ہے اور زیادتی بھی۔ پھر فرماتا ہے جو لوگ اللہ کی باتیں نہیں مانتے یہ قیامت کے دن ایسے عذابوں کو دیکھیں گے کہ اگر ان کے پاس ساری زمین بھر کر سونا ہو تو وہ اپنے فدیے میں دینے کے لئے تیار ہوجائیں بلکہ اس جتنا اور بھی۔ مگر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّعْد 33 یعنی اس وقت ان پر ایسی مصیبت پڑے گی کہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لیے دنیا ومافیہا کی دولت دے ڈالنے میں بھی تامل نہ کریں گے۔ سورة الرَّعْد 34 بری حساب فہمی یا سخت حساب فہمی سے مطلب یہ ہے کہ آدمی کی کسی خطا اور کسی لغزش کو معاف نہ کیا جائے، کوئی قصور جو اس نے کیا ہو مؤاخذے کے بغیر نہ چھوڑا جائے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کا محاسبہ اپنے ان بندوں سے کرے گا جو اس کے باغی بن کر دنیا میں رہے ہیں۔ بخلاف اس کے جنہوں نے اپنے خدا سے وفاداری کی ہے اور اس کے مطیع فرمان بن کر رہے ہیں ان سے حساب یسیر یعنی ہلکا حساب لیا جائے گا، ان کی خدمات کے مقابلے میں ان کی خطاؤں سے درگزر کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر جن لوگوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا (اور توحید اور اطاعت کو اختیار کرلیا) ان کے واسطے اچھا بدلہ (یعنی جنت مقرر) ہے اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا (اور کفر و معصیت پر قائم رہے) ان کے پاس (قیامت کے دن) اگر تمام دنیا بھر کی چیزیں (موجود) ہوں اور (بلکہ) اس کے ساتھ اسی کے برابر اور بھی (مال و دولت) ہو تو سب اپنی رہائی کے لئے دے ڈالیں ان لوگوں کا سخت حساب ہوگا (جس کو دوسری آیت میں حساب عسیر فرمایا ہے) اور ان کا ٹھکانا (ہمیشہ کے لئے) دوزخ ہے اور وہ بری قرار گاہ ہے جو شخص یہ یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے وہ سب حق ہے کیا ایسا شخص اس کی طرح ہوسکتا ہے جو کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى ڼ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ ۭاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ ڏ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمِهَادُ۔ اصل حقیقت سادہ لفظوں میں : " الحسنی " کا موصوف یہاں بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے۔ یعنی " العاقبۃ الحسنی " اوپر تمثیلی رنگ میں جو بات فرمائی گئی تھی وہی بات سادہ لفظوں میں کہہ دی گئی ہے کہ جو لوگ آج اس دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں جو اللہ کا رسول قرآن کی شکل میں پیش کر رہا ہے ان کا انجام تو بخیر ہے، رہے وہ لوگ جو اس سے گریز یا اس کی مخالفت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یہ مضمون اس سے قبل بھی دو تین جگہ گزر چکا ہے۔ 18۔ 2 کیونکہ ان سے ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب لیا جائے گا اور ان کا معاملہ (جس سے حساب میں جرح کی گئی اس کا بچنا مشکل ہوگا، وہ عذاب سے دو چار ہو کر ہی رہے گا) آئینہ دار ہوگا۔ اسی لئے آگے فرمایا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–20

20: یعنی باطل چاہے کچھ عرصے غالب نظر آئے لیکن وہ جھاگ کی طرح بےفائدہ اور فنا ہوجاتا ہے اور حق پانی اور دوسری نفع بخش چیزوں کی طرح فائدہ مند اور باقی رہنے والا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

آیت نمبر 18 یہاں دعوت حق کو قبول کرنے والوں کے مقابلے ہیں وہ لوگ ہیں جو قبول نہیں کرتے اور حسنہ کے مقابلے میں سوء الحساب ہے۔ اور جنت کے مقابلے میں بئس المھاد ہے۔ اور یہ تقابلی انداز کلام اس پورہ سورة میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی ایمان و عمل صالح اختیار کیا ان کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی ہے، حقیقی خوشی اور قلبی طمانیت و سکون ان کے سوا کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ 3 یعنی یہاں تو خیر جس طرح گزرے لیکن آخرت میں ان کی حالت ایسی پریشانی اور گھبراہٹ کی ہوگی کہ اگر تمام دنیا کے خزانے ان کے ہاتھ میں ہوں بلکہ اسی قدر اور بھی تو تمنا کریں گے کہ ہم یہ سب فدیہ میں دے کر اس پریشانی سے چھوٹ جائیں۔ وَاَنَّی لَہُمْ ذٰلِکَ ۔ 4 یعنی حساب میں کسی قسم کی رعایت اور درگزر نہ ہوگی ایک ایک بات پر پوری طرح پکڑے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ ڏ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمِهَادُ یعنی ان کے حساب کا جو نتیجہ نکلنے والا ہے وہ ان کے حق میں بہت برا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 دنیا کی زندگی میں ان کے لیے بھلائی یہ ہے کہ زندگی کے ہر شعبہ میں اللہ کی طرف سے ایسی ہدایات اور احکام مل جاتے ہیں جن میں اس شخص کے دینی یا دنیوی مصالح مضمر ہوتے ہیں۔ دوسری بھلائی یہ ہوتی ہے کہ اسے قلبی اطمینان اور حقیقی خوشی میسر آجاتی ہے اور آخرت میں جو اس سے بہتر سلوک ہوگا وہ تو ان چیزوں سے بھی زیادہ یقینی اور پائیدار ہوگا۔ 27 آسان حساب کیسے لیا جائے گا اور سخت کیسے ؟ جو لوگ اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں۔ مختلف حیلوں سے ان کے چھوٹے چھوٹے گناہ دنیا میں ہی ختم ہوتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ مومن کو اگر ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو وہ اس کے کسی نہ کسی گناہ کا کفارہ بن جاتا ہے۔ پھر ان کے نیک اعمال سے چھوٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

38۔ (اپنے کلام میں ہر مضمون کے لیے) (آیت) ” فیمکث فی الارض “۔ یعنی اپنی نفع رسانی کے ساتھ باقی رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس طرح جھاگ کچھ دیر کے لیے اصل چیز کے اوپر نظر آتا ہے لیکن آخر کار وہ ناکارہ سمجھ کر پھینک ہی دیا جاتا ہے اور اصل چیز باقی رہ جاتی ہے، اسی طرح گوباطل چند روز کے لیے حق پر غالب آجائے لیکن انجام کار باطل مغلوب ہی ہو کر رہتا ہے، اور حق باقی وثابت رہتا ہے۔ 39۔ یعنی جنت (آیت) ” استجابوا لربھم “۔ اور اپنے رب کا کہنا مان لینا یہی ہے کہ توحید و اطاعت کی راہ اختیار کرلی ، 40۔ (قیامت کے دن اس امید پر کہ کسی طرح جان تو بچے اور عذاب سے رہائی ملے) (آیت) ” لم یستجیبوا لہ “۔ یعنی بدستور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–18

آیت نمبر 8 تا 18 ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

للذین استجابوا لربھم الحسنے والذین لم یستجیبوا لہ لو ان لھم ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہ لافتدوا بہ جن لوگوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا ‘ ان کے واسطے اچھا بدلہ ہے اور جن لوگوں نے اس کا کہنا نہ مانا ‘ ان کے پاس اگر دنیا بھر کی چیزیں موجود ہوں اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی ہو تو وہ سب اپنی رہائی کیلئے دے ڈالیں گے (مگر ان کی رہائی نہ ہوگی) ۔ الْحُسْنٰی مفعول مطلق کی صفت ہے یا مفعول بہ محذوف کی صفت ہے ‘ یعنی جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت اسلام کو اچھی طرح قبول کرلیا اور اس کے احکام کی تعمیل کی یا اپنے رب کی اچھی دعوت کو قبول کرلیا۔ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗ سے مراد کفار ہیں۔ اس صورت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) یعنی جو دنیا میں توحید کے قائل ہوگئے ان کو آخرت میں جنت ملے گی اور جو توحید خداوندی کے قائل نہیں ہوئے تو ان کے پاس اگر تمام دنیا کی دولت ہو بلکہ اس کے ساتھ اسی کے برابر اور بھی ہو یہ سب کا سب اپنی جانوں کی رہائی کے لیے دے ڈالیں تب بھی ان لوگوں پر سخت عذاب ہوگا اور ان کے لوٹنے کی جگہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانا اور لوٹنے کا برا مقام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : ”الْحُسْنٰى“ ”اَلْاَحْسَنُ“ کی مؤنث ہے، بمعنی سب سے اچھی، جیسے ”حَسَنٌ“ اور ”اَحْسَنُ“ ہے، اسی طرح ”حَسَنَۃٌ“ اور ”حُسْنٰی“ ہے، اس کا موصوف محذوف ہے، یعنی ”اَلْجَزَاءُ الْحُسْنٰی“ کہ رب کی بات قبول کرنے والوں کے لیے سب سے اچھی جزا، یعنی جنت ہے۔ ”وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا“ مبتدا ہے اور ”لَوْ اَنَّ لَهُمْ“ پورا جملہ شرطیہ اس کی خبر ہے، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے عناد رکھتے ہیں قیامت کے دن ان جو پر مصیبت آئے گی وہ اس سے رہائی کے لیے اس قدر مال و دولت کی بھی پروا نہیں کریں گے اور فدیہ میں دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ : یہ اس کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–19

آیت نمبر 17 تا 19 قولہ تعالیٰ : انزل من السماء مآء فسالت او دیۃ بقدرھا فاحتمل السیل زبداً رابیاً اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے لیے ضرب المثل بیان فرمائی ہے کفر کو اس جھاگ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو پانی پر اٹھتی ہے، یہ ختم ہوجاتی ہے اور وادیوں کی ایک جانب میں جمع ہوتی ہے اور ہوائیں اسے دھکیل کرلے جاتی ہیں پس اسی طرح کفر بھی چلا جاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : فسالت اودیۃ بقدرھا، بقدرھا سے مراد بقدر ملئھا ہے یعنی اپنے بھرنے کے اندازے کے مطابق۔ ابن جریج نے کہا : اس سے مراد اپنے چھوٹے اور بڑے ہونے کے حساب سے۔ اشہب عقیلی اور حضرت حسن بصری نے بقدرھا دال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی دونوں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–18

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) انزل من السمآء مآء “ الآیہ کے بارے میں فرمایا یہ مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ اس میں دل فائدہ اٹھاتے ہیں اپنے یقین اور شک کے بقدر لیکن شک کے ساتھ عمل مفید نہیں ہوتا۔ لیکن یقین تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ یقین والوں کو نفع دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” فاما الذبد فیذھب جفآء واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض “ اور وہ ہے یقین جیسے زیور کو آگ میں ڈال دیا جاتا ہے پھر اس کے ذریعہ جو خالص سونا ہوتا ہے۔ اس کو لے لیا جاتا ہے اور جو کھوٹ ہوتا ہے اسے آگ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لِلَّذِيْنَ : ان کے لئے جنھوں نے ] [اسْتَجَابُوْا : حکم مانا ] [ لِرَبِهِمُ : اپنے رب کا ] [الْحُسْنٰى: کل بھلائی ہے ] [وَالَّذِينَ : اور جنھوں نے ] [لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا : حکم نہیں مانا ] [ لَهٗ : اس کا ] [لَوْ : اگر ] [ ان : یہ کہ ] [ لَهُمْ : ان کے لئے (ہوتا)] [ مَا : وہ جو ] [ فِي الْاَرْضِ : زمین میں ہے ] [ جَمِيْعًا : سب کا سب ] [ وَّمِثْلَهٗ : اور اس کے جیسا ] [ مَعَهٗ : اس کے ساتھ (اور ہوتا)] [لَافْتَدَوْا : تو ضرور خود کو چھڑاتے ] [ بِهٖ : اسے دے کر ] [اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ہیں ] [ لَهُمْ : جن کے لئے ہے ] [سُوْۗءُ الْحِسَابِ : برا حساب ] [وَمَاوٰىهُمْ : اور ان کی اترنے کی جگہ ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دوسری آیت میں اہل ایمان کے ثواب اور اہل کفر کی بد حالی کا تذکرہ فرمایا (لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّھِمُ الْحُسْنٰی) (جو لوگ اللہ کی دعوت حق قبول کر کے اللہ پر ایمان لائے اور اللہ کے بھیجے ہوئے دین کو قبول کیا ان کے لیے اچھا ثواب ہے یعنی جنت ہے) اور جن لوگوں نے اللہ کی دعوت کو قبول نہ کیا اس کی فرماں برداری نہ کی وہ لوگ سخت مصیبت میں ہوں گے ‘ اول تو ان سے بری طرح یعنی سخت حساب لیا جائے گا اور پھر انہیں دوزخ میں بھیج دیا جائے گا ‘ جو بہت برا ٹھکانہ ہے جب حساب اور عذاب کی مصیبت میں گرفتار ہوں گے تو اپنی جان کا بدلہ دینے کے لیے رضا مند ہوں گے وہاں کوئی مال پاس نہ ہوگا لیکن اگر بالفرض پوری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 18–25

ذکر حال و مآل محقین و مبطلین قال اللہ تعالیٰ للذین استجابوا لربھم الحسنی .... الیٰ .... اولئک لہم اللعنۃ ولہم سوء الدار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں حق اور باطل کی مثال بیان فرمائی اب ان آیات میں اہل حق اور اہل باطل کا حال اور مآل بیان کرتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت کو قبول کیا یہ گروہ سعداء کا ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس نے دعوت حق کو قبول نہیں کیا یہ گروہ اشقیاء کا ہے ان آیات میں اخلاق و اعمال کے اعتبار سے سعداء اور اشقیاء کے فرق کو بیان کرتے ہیں تاکہ دونوں گروہوں کا فرق معلوم ہوجائے مبادا کوئی نادان دونوں کو یکساں قرار دے اس لیے اول اہل حق کے فضائل و شمائل اور ان کے اخروی نتائج بیان کیے کہ وہ دل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23:۔ بشارت اخروی ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ایمان قبول کرلیا اور توحید و رسالت کو مان لیا اجاب الی ما دعاہ اللہ من التوحید والنبوات (قرطبی) وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا الخ نہ ماننے والوں کے لیے تخویف اخروی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–18

(ربط آیات) اس سورة مبا کہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کرنے کے بعد معاد کا ذکر فرمایا پھر رسالت کا بیان ہوا ، اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا اور شرک کا رد فرمایا توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے اور شرک کی مختلف صورتوں کو واضح کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ربوبیت اور خالقیت کی دلیل پیش کرکے الوہیت کا استدلال پیش کیا کہ الہ صرف وہی ہو سکتا ہے جو رب اور خالق ہے چونکہ یہ صفات اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی میں نہیں پائی جاتیں لہذا مستحق عبادت بھی صرف اللہ ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں اور مومنوں کی مثال اندھے اور بینا کی بیان فرمائی شرک کو ظلمات سے تعبیر کیا اور ایمان اور توحید کو نور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لِلَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰى ڼ وَالَّذِيْنَ لَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا وَّمِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ ۭاُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ سُوْۗءُ الْحِسَابِ ڏ وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ وَبِئْسَ الْمِهَادُ 18۝ۧ استجاب والاستجابة قيل : هي الإجابة، وحقیقتها هي التحري للجواب والتهيؤ له، لکن عبّر به عن الإجابة لقلة انفکاکها منها، قال تعالی: اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ [ الأنفال/ 24] ، وقال : ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ [ غافر/ 60] ، فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي [ البقرة/ 186] ، فَاسْتَجابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ [ آل عمران/ 195] ، وَيَسْتَجِيبُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 18–19

تفسیر : ان آیات میں اس ابر رحمت (قرآن) کے اثر قبول کرنے اور نہ کرنے کے نتائج بیان فرماتا ہے۔ الذین الخ کہ جنہوں نے اپنے رب کا حکم مان لیا ان کے لئے بہتری ہے۔ پھر آگے حکم ماننے اور بہتری کی تشریح کرتا ہے اور جن شوربختوں نے اس پانی کو قبول نہیں کیا ان کا انجام جہنم اور برا ٹھکانا ہے اور ان کا وہاں یہ آرزو کرنا بیان کرتا ہے کہ اگر تمام دنیا بھر کی نعمتیں اور مال و حشمت ان کے پاس ہو اور اتنا ہی اور ہو تو سب کو دے کر عذاب سے چھوٹ جانا چاہیں گے۔ آج یہاں اللہ کی راہ میں چار پیسے بھی صرف کرنا نہیں چاہتے جس مال پر مرتے ہیں وہ یوں بےقدر ہوگا کہ تاوان و جرمانہ میں نہ لیا جاوے گا۔ پھر ان دو فریق کی مثال…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْالِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰی ط وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗ لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لاَ فْتَدَوْا بِہٖ ط اُوْلٰٓئِکَ لَہُمْ سُوْٓئُ الْحِسَابِ 5 لا وَمَاْ ٰوہُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمِھَادُ ۔ (سورۃ الرعد : 18) (جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو قبول کیا ان کے لیے انجام کار کی فیروزمندی ہے اور جن لوگوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی اگر ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوجائے جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ اسے فدیہ ہی میں دے ڈالیں، یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ) گزشتہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : حق واضح کرنے، دلائل اور مثال کے ذریعے سمجھانے کا مقصد یہ ہے کہ لوگ حق بات کو قبول کریں۔ جن لوگوں نے اپنے رب کی رضا کی خاطر اس کے حکم کو مانتے ہوئے سچائی کو قبول کیا اور اس پر عمل پیرا ہوگئے ان کے لیے دنیا اور آخرت میں بہتری ہے۔ جنہوں نے اپنے رب کے حکم کو تسلیم نہ کیا ان کے لیے دنیا میں نقصان اور آخرت میں سخت عذاب ہوگا۔ جس سے چھٹکارا پانے کے لیے زمین اور اس کی ہر چیز بلکہ اتنا کچھ اور بھی فدیہ کے طور پر دیں تو انہیں چھٹکارا حاصل نہ ہوگا۔ ان کا حساب و کتاب برا ہوگا اور انہیں جہنم میں جھونکا جائے گا جو رہنے کے اعتبار سے بدترین جگہ ہے۔ قرآن مجید کئی مقامات پر یہ حقیقت آشکار…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کا انجام : 18: لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا (اور وہ لوگ جنہوں نے مان لیا) اسکی لام یضرب سے متعلق ہے استجابوا یہ اجابوا کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کذلک یضرب اللّٰہ الا مثال للمؤمنین الذین استجابوا اسی طرح اللہ تعالیٰ ان مومنین کیلئے مثالیں بیان کرتے ہیں جنہوں نے قبول کیا لِرَبِّہِمُ الْحُسْنٰی (اپنے رب کی بات انکے لئے اچھابدلہ ہے) استجابو ا کے مصدر کی صفت ہے ای استجابوا الاستجابۃ الحسنٰی۔ انہوں نے قبول کیا اچھی طرح قبول کرنا۔ وَالَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗٗ ( اور وہ لوگ جنہوں نے قبول نہیں کیا اسکو) یعنی ان کافروں کیلئے جنہوں نے نہیں مانا۔ یہ دونوں گروہوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر : 18۔” للذینی استجابوا “ رب کا کہا مانا ” لربھم “ اس کی اطاعت کی ۔ ” الحسنیٰ “ اس سے مراد جنت ہے۔ ” والذین لم یستجیبوا لہ لو ان لھم ما فی الارض جمیعا ً و مثلہ معہ لا فتدوا بہ “ یعنی قیامت کے دن اگر کل زمین کی دولت ان کو مل جائے تو دوزخ سے اپنی رہائی کے لیے وہ دے دینگے۔ ” اولئک لھم سوء الحساب “ ابراہیم نخعی کا بیان ہے کہ سوء حساب یہ ہے کہ ان سے سختی کے ساتھ حساب فہمی کی جائے گی اور کوئی گناہ معاف نہیں کیا جائے گا۔ ” وما واھم “ آخرت میں ان کا ٹھکانہ ” جھنم وبئس المھاد “ اس کا معنی ہے بچھونا وہ حجر ا ہے جو ان کے لیے بچھایا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

18۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کے فرمانبردار اور رسول کے تابعدار ہیں ان کے واسطے اچھے اچھے انعام ہیں حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کہتے ہیں الحسنیٰ سے مراد جنت ہے یعنی ان لوگوں کے لئے جنت ہے اور جن لوگوں نے خدا کو نہیں مانا رسول کی پیروی نہیں کی اگر یہ لوگ ساری دنیا کے برابر دولت تاوان میں دیں یا اس سے بھی دو گنا دیں جب بھی قبول نہ ہوگا اور عذاب سے نہ چھوٹیں گے بلکہ ہر ہر گناہ پر ان سے سوال ہوگا اور کوئی مشرک بخشا نہیں جائے گا۔ اوپر کی آیت میں دو مثالیں جو بیان فرمائی تھیں یہ آیت ان مثالوں کا نتیجہ ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے انس بن مالک ؓ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق کو باطل سے واضح کردیا، تو اب فرما رہا ہے کہ لوگ دو اقسام میں تقسیم ہیں : (1) اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے ثواب کا ذکر فرمایا۔ (2) اپنے رب کی دعوت پر لبیک نہ کہنے والے، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے عذاب کا ذکر فرمایا۔ (للذین استجابوا لربھم) ” ان لوگوں کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا حکم مانا “ یعنی جن کے دل علم و ایمان کے سامنے سرافگندہ ہیں اور ان کے جوارح امرونہی پر عمل پیرا ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے جو کچھ چاہتا ہے وہ اس کی مراد کی موافقت کرتے ہیں۔ (الحسنی) ” بھلائی ہے۔ “ یعنی اچھی حالت اور اچھا ثواب ان کی صفات جلیل ترین، ان کے مناقب بہترین…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

58۔ قبول حق سعادت دارین سے سرفرازی کی اساس و بنیاد : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے صدق دل سے اللہ کا حکم مانا اور حق کو قبول کیا ان کے لیے بڑی عظیم الشان اچھائی اور نہایت عمدہ انجام ہے، یعنی انہوں نے حق کو اپنایا، اس پر سچا پکا ایمان لاکر اور دل وجان سے اس کی بےچون وچرا اطاعت کرکے اور اس کے اوامرو ارشادات پر عمل پیرا ہو کر اور اس کے نواہی اور محذورات سے اجتناب کرکے۔ سو انہی کے لیے اچھائی اور کامیابی ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت کے اس ابدی جہاں میں بھی۔ سو جس بات کو اوپر تمثیلوں کی شکل اور کنائی انداز میں بیان فرمایا گیا اسی کو اب سادہ لفظوں اور صریح انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے۔ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–20

حق اور باطل کی مثال تشریح : ان آیات میں حق و باطل، نیکی و بدی، کفر و اسلام کا موازنہ بڑے ہی اچھے انداز میں کیا گیا ہے اچھے، سچے نیک اور صالح لوگوں کو صاف پانی اور صاف سونے سے تشبیہ دی گئی ہے اور برے، بدکردار اور کفار کو گندے پانی اور گرم دھات کے اوپر آنے والی گندگی جو کہ جھاگ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ نیک اور مسلمان انسان نہ صرف خود ہی سکون اور دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کرتا ہے بلکہ خلق خدا اور کائنات کے لیے بھی باعث رحمت، برکت اور مبارک ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ کفار اور بدطینت بدخصلت انسان نہ صرف یہ کہ خود ہی پریشانیوں، مصیبتوں اور عذابوں میں گھرا رہتا ہے بلکہ دنیا کو اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–18

رکوع نمبر 2 : اسرارومعارف : اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 ۔ ای المثوبہ الحسنی مبتد، موخر،۔۔ مجرور خبر مقدم۔ 8 ۔ الموصول مبتدا اوالجملہ الشرطیہ خبرہ۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے عناد رکھتے ہیں قیامت کے دن جو ان پر مصیبت آئے گی وہ اس سے رہائی کے لئے اس قدر مال و دولت کی بھی پروانہ کریں گے اور فدیہ میں دینے کو تیار ہوجائیں گے۔ (از روح) ۔ 9 ۔ یہ ” الحسنی “ کے مقابلہ میں ہے۔ ای والذین لم یستجیبو الہ لھم سوء الحساب۔ یعنی ان کو کسی قسم کی معافی نہیں دی جائے گی اور ان کے ایک ایک گناہ پر بری طرح محاسبہ ہوگا۔ یہی مناقشہ فی الحساب ہے جس کا حدیث میں ذکر ہے۔ من نوقش الحساب عذب۔ کہ جن کے حساب میں چھان بین کی جائے گی ان کو ضرور عذاب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:18) استجابوا۔ ماضی جمع مذکر غائب استجابۃ (استفعال) انہوں نے قبول کیا۔ انہوں نے مانا۔ ای اجابوا الی ما دعا اللہ الیہ۔ جس امر کی طرف خدا نے انہیں بلایا انہوں نے قبول کیا۔ الحسنی۔ حسن سے افعل التفضیل کا صیغہ واحد مؤنث بروزن فعلی ۔ اچھی ۔ عمدہ۔ بھلائی۔ نیکی ۔ نیک (بدلہ) یعنی جنت۔ الحسنی استجابوا کے مصدر کی صفت بھی ہوسکتا ہے۔ ای استجابوا الا ستجابۃ الحسنی۔ یعنی انہوں نے بطریق احسن (دعوت حق) قبول کرلی۔ اور الحسنی مبتدا بھی ہوسکتا ہے جبکہ للذین استجابوا اس کی خبر ہے اس صورت میں معنی ہوں گے۔ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا کہنا مان لیا ان کے لئے نیک بدلہ (یعنی جنت) ہے۔ لا فتدوا بہ۔ لام تاکید کے لئے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 17–18

لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 18 سالت بہہ نکلے اودیۃ ندی۔ نالے احتمل اٹھایا السیل ندی کا بہاؤ زبد جھاگ رابی جمع ہونے والا یوقدون جلاتے ہیں۔ دھونکاتے ہیں ابتغاء حاصل کرنا حلیۃ زیور متاع سامان یذھب جاتا ہے جفاء سوکھنا یمکت رک جاتا ہے یضرب وہ مارتا ہے۔ چلاتا ہے الحسنی بھلائی افتدوا انہوں نے فدیہ دیا۔ بدلہ دیا سوء الحساب برا حساب ماویٰ ٹھکانا المھاد بستر۔ ٹھکانا تشریح : آیت نمبر 17 تا 18 گزشتہ آیات میں توحید کا بیان فرمایا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کفار سے یہ پوچھا جائے کہ اس کائنات کو اور اس کے ہر ذرے کو کس نے پیدا کیا تو ان کا جواب یہی ہوگا۔ کہ اللہ نے ہی ہر چیز کو اپنی قدرت سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

ارشاد ہوتا ہے کہ جو لوگ خدا کے فرمانبردار اور رسول کے تابعدار ہیں ان کے اچھے اچھے انعام ہیں یعنی ان لوگوں کے لیے جنت ہے اور جن لوگوں نے خدا کو نہیں مانا رسول کی پیروی نہیں کی۔ اگر یہ لوگ ساری دنیا کے برابر دولت تاوان میں دیں یا اس سے بھی دوگنا دیں جب بھی قبول نہ ہوگا اور عذاب سے نہ چھوٹیں گے، بلکہ ہر ہر گناہ پر ان سے سوال ہوگا اور کوئی شرک بخشا نہیں جائے گا۔ حاصل مطلب ان دونوں آیتوں کا یہ ہے کہ اصل پانی اور سونے چاندی کی سی پائیدار قرآن کی نصیحت کے پابند ہیں اور تنگ دست لوگوں کا انجام کیا ہوا اور جن مالدار نافرمان لوگوں کا مدار زندگی دنیا کا عیش و آرام اور جھاگ کی سی ناپائیدار اور بڑوں کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 18–20

[20] عہد سے مراد وہ عہد ہے جو انسان روز ازل اللہ سے کرچکا ہے اور جس کا ذکر سورة اعراف کی آیت 172 میں کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–18

(ف 1) یعنی قرآن واسلام کے فیوض ، باران رحمت کی طرح ہیں ، جیسے بارش سے ہر قطعہ زمین بقدر استعداد و استفادہ کرتا ہے اسی طرح اس سے ہر شخص بقدر ظرف جرمہ آشام ہوتا ہے ۔ پھر جس طرح ابتداء میں پانی کی کثرت سے جھاگ اٹھتا ہے اور بالآخر نتھر جاتا ہے اسی طرح مسلمان باقی رہ جائے گا اور مخالفت کا یہ جھاگ چھٹ جائے گا ، غرض یہ ہے کہ اسلام سراسر حق وصداقت ہے نفع وسود مندی ہے ، اس لئے اس کا برقرار رہنا ضروری ہے ، قانون فطرت ہے ، کہ کفر جھوٹ ہے ، باطل ہے اور جھاگ ہے ا اس لئے اس کا ضیاع وفقدان لازم ہے ۔ حل لغات : جفآء : ضائع ، بےسود ، یونہی ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

18 ۔ جن لوگوں نے اپنے پروردگار کے احکام کو قبول کرلیا اور جنہوں نے اپنے رب کا کہنا مان لیا ان کے واسطے بھلا اور اچھا بدلا ہے اور جن لوگوں نے اس کے حکم سے سرتابی کی اور حضرت حق کا کہنا نہ مانا ان کا یہ حال ہوگا کہ اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی اس کے ساتھ ہو تو یہ سب مال و دولت اپنے فدیہ میں دے ڈالیں اور اپنے کو عذاب سے بچائیں یہی لوگ ہیں جن کا قیامت میں حساب سخت ہوگا اور ان سے برا حساب لیا جائے گا اور ان کا ٹھکانہ ہمیشہ کے لئے دوزخ ہے اور وہ دوزخ بہت بری قرار گاہ ہے۔ یعنی جو لوگ کفر و معصیت پر قائم رہے ان کی حالت یہ ہوگی کہ روئے زمین پر جتنی چیزیں ہیں اگر وہ سب…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا خوبی ان ہی کیلئے ہے 34 ؎ ” جن لوگوں نے اپنے پروردگار کا حکم قبول کیا تو ان کیلئے بھلائی ہی بھلای ہے “۔ حکم قبول کرنا کیا ہے ؟ ایک عمل ہے پھر عمل کا نتیجہ اس کے ساتھ لازم ہے اور یہ بھی اللہ کا حکم قبول کرنا فی صف نیکی ہے کو ین کہ اللہ کا حکم سراسر نیکی اور خوبی ہے ظاہر ہے جب عمل خوبی اور اچھائی ہے اور وہ بھی عنداللہ تو اس کا نتیجہ تو بہرحال خوبی اور آخرت بھی اس کی سنور گئی تو اس سے بڑھ کر اور کیا خوبی ہوگی ؟ ” جنہوں نے قبول نہیں کیا اگر کرہ ارض کی تمام دولت ان کے اختیار میں آجائے اور اسے دوگنا کردیا جائے تو یہ لوگ اپنے بدلہ میں ضرور اسے دیں گے تاکہ وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–18

Commentary The outcome of both parables is that foam does appear prominent for a while on the real thing, but it finally gets to be thrown away and the real thing remains. Similar is the case of the false. Though the false may, for a short while, appear to have overcome the true, but the false is finally subdued and eliminated and that which is true remains and stands manifestly proven. (Tafsir A1-Jalalayn)

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

33. This shows that the disbelievers would be in such a sad plight that they would not hesitate to give their all for their redemption. 34.“Those will have the worst reckoning”: they shall have to bear the full consequences of their evil deeds. No sin, no shortcoming, in short, nothing will be forgiven and no evil shall go unpunished. We learn from the Quran that the rebels of Allah shall have to render a reckoning, whereas there shall be a light reckoning from those who have been faithful and obedient to their Lord. In consideration of their loyal services, their cases will be dealt with…

Read the full tafseer →