باطل بےثبات ہے
حق وباطل کے فرق، حق کی پائیداری اور باطل کی بےثباتی کی یہ دو مثالیں بیان فرمائیں۔ ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ بادلوں سے مینہ برساتا ہے، چشموں دریاؤں نالیوں وغیرہ کے ذریعے برسات کا پانی بہنے لگتا ہے۔ کسی میں کم، کسی میں زیادہ، کوئی چھوٹی، کوئی بڑی۔ یہ دلوں کی مثال ہے اور ان کے تفاوت کی۔ کوئی آسمانی علم بہت زیادہ حاصل کرتا ہے کوئی کم۔ پھر پانی کی اس رو پر جھاگ تیرنے لگتا ہے۔ ایک مثال تو یہ ہوئی۔ دوسری مثال سونے چاندی لوہے تانبے کی ہے کہ اسے آگ میں تپایا جاتا ہے سونے چاندی زیور کے لئے لوہا تانبا برتن بھانڈے وغیرہ کے لئے ان میں بھی جھاگ ہوتے ہیں تو جیسے ان دونوں چیزوں کے جھاگ مٹ جاتے…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 31
اس تمثیل میں اس علم کو جو نبی ﷺ پر وحی کے ذریعے سے نازل کیا گیا تھا، آسمانی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور ایمان لانے والے سلیم الفطرت لوگوں کو ان ندی نالوں کے مانند ٹھیرایا گیا ہے جو اپنے اپنے ظرف کے مطابق باران رحمت سے بھرپور ہو کر رواں دواں ہوجاتے ہیں۔۔ اور اس ہنگامہ و شورش کو جو تحریک اسلامی کے خلاف منکرین و مخالفین نے برپا کر رکھی تھی اس جھاگ اور اس خس و خاشاک سے تشبیہ دی گئی ہے جو ہمیشہ سیلاب کے اٹھتے ہی سطح پر اپنی اچھل کود دکھانی شروع کردیتا ہے۔
سورة الرَّعْد 32
یعنی بھٹی جس کام کے لیے گرم کی جاتی ہے وہ تو ہے خالص دھات کو تپا کر کارآمد بنانا۔ مگر یہ کام جب بھی کیا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان سے کہئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار (یعنی موجد و مبقی یعنی خالق وحافظ) کون ہے (اور چونکہ اس کا جواب متعین ہے اس لئے جواب بھی) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہے کہ اللہ ہے (پھر) آپ ﷺ یہ کہئے کہ کیا (یہ دلائل توحید سن کر) پھر بھی تم نے خدا کے سوا دوسرے مددگار (یعنی معبودین) قرار دے رکھے ہیں جو (بوجہ غایت عجز کے) خود اپنی ذات کے نفع نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (اور پھر شرک کے ابطال اور توحید کے احقاق کے بعد اہل توحید واہل شرک اور خود توحید و شرک کے درمیان اظہار فرق کے لئے) آپ ﷺ یہ (بھی) کہئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے (یہ مثال ہے مشرک اور موحد کی)…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون۔ آیات 17۔ 26:۔ آگے اس حقیقت کی مزید وضاحت فرمائی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ شرک سے اس تمام حق عدل کی بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جس پر اس عالم کا نظام قائم ہے اور جس کی شہادت خود اس کائنات کی فطرت دے رہی ہے۔ نیز اس حقیقت کی طرف بھی نہایت لطیف اشارہ فرمایا کہ قرآن کے نول نے اس وقت حق و باطل میں جو کشمکش پیدا کردی ہے وہ بالآخر حق کی فتح پر منتہی ہوگی اور باطل جھاگ کی مانند اڑ جائے گی۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :
اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۭ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ…
Read the full tafseer →17۔ 1 بقدرھا وسعت کے مطابق کا مطلب ہے نالے یعنی وادی دو پہاڑوں کے درمیان کی جگہ تنگ ہو تو کم پانی کشادہ ہو تو زیادہ پانی اٹھاتی ہے یعنی نزول قرآن کو جو ہدایت اور بیان کا جاع ہے بارش کے نزول سے تشبیہ دی ہے اس لیے کہ قرآن کا نفع بھی بارش کے نفع کی طرح عام ہے اور وادیوں کو تشبیہ دی ہے دلوں کے ساتھ اس لیے کہ وادیوں نالوں میں پانی جا کر ٹھرتا ہے جس طرح قرآن کا اور ایمان مومنوں کے دلوں میں قرار پکڑتا ہے۔
17۔ 1 اس جھاگ سے جب پانی اوپر آجاتا ہے اور جو ناکارہ ہو ختم ہوجاتا ہے اور ہوائیں جسے اڑا لے جاتی ہیں کفر مراد ہے، جو جھاگ ہی کی طرح اڑ جانے والا اور ختم ہوجانے والا ہے۔
17۔ 2 یہ دوسری شکل ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
20: یعنی باطل چاہے کچھ عرصے غالب نظر آئے لیکن وہ جھاگ کی طرح بےفائدہ اور فنا ہوجاتا ہے اور حق پانی اور دوسری نفع بخش چیزوں کی طرح فائدہ مند اور باقی رہنے والا ہے
Read the full tafseer →آیت نمبر 17
پانی کا نزول اور ندی نالوں کا اس کے ساتھ بہہ نکلنا ایک ایسا مفہوم ہے جو برق اور رعد اور بادلوں کے ساتھ ہم معنی و ہم جنس ہے۔ سابق منظر میں رعد و برق اور سحاب ثقال کا ذکر تھا۔ دونوں اس کائنات کے عام مناظر فطرت کا حصہ ہیں۔ اس سورة کا پیشتر موضوع اور مضمون انہی کے گرد گھومتا ہے۔ اور ان مناظر سے اللہ واحد اور قہار کی قدرت ، غلبے اور گرفت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ ندی نالے اپنی مقدار کے مطابق بہہ نکلتے ہیں ، ہر ایک اپنے ظرف کے مطابق ۔
اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار مقرر کر رکھی ہے ۔ ہر نالے اور ندی کے لیے بھی پانی کی مقدار مقرر ہے ۔ یہ اللہ کی شان مدبرانہ…
Read the full tafseer →1 آسمان کی طرف سے بارش اتری جس سے ندی نالے بہہ پڑے۔ ہر نالے میں اس کے ظرف اور گنجائش کے موافق جتنا خدا نے چاہا پانی جاری کردیا چھوٹے میں کم بڑے میں زیادہ۔ پانی جب زمین پر رواں ہوا تو مٹی اور کوڑا کرکٹ ملنے سے گدلا ہوگیا۔ پھر میل کچیل اور جھاگ پھول کر اوپر آیا۔ جیسے تیز آگ میں چاندی تانبا، لوہا، اور دوسری معدنیات پگھلاتے ہیں تاکہ زیور، برتن اور ہتھیار وغیرہ تیار کریں اس میں بھی اسی طرح جھاگ اٹھتا ہے مگر تھوڑی دیر بعد خشک یا منتشر ہو کر جھاگ جاتا رہتا ہے اور جو اصلی کارآمد چیز تھی (یعنی پانی یا پگھلی ہوئی معدنیات) وہ ہی زمین میں یا زمین والوں کے ہاتھ میں باقی رہ جاتی ہے۔ جس سے مختلف طور پر لوگ…
Read the full tafseer →آیت 17 اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا
قرآن چونکہ حجاز میں نازل ہورہا تھا اس لیے اس میں زیادہ تر مثالیں بھی اسی سرزمین سے دی گئی ہیں۔ اس مثال میں بھی علاقہ حجاز کے پہاڑی سلسلوں اور وادیوں کا ذکر ہے کہ جب بارش ہوتی ہے تو ہر وادی میں اس کی وسعت کے مطابق سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ کسی وادی کا catchment area زیادہ ہے تو وہاں زیادہ زوردار سیلاب آجاتا ہے اور جس کا کم ہے وہاں تھوڑا سیلاب آجاتا ہے۔
فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا
پانی جب زور سے بہتا ہے تو اس کے اوپر جھاگ سا بن جاتا ہے۔ لیکن اس جھاگ کی کوئی حقیقت اور وقعت نہیں ہوتی۔
كَذٰلِكَ يَضْرِبُ…
Read the full tafseer →25 معرکہ حق وباطل کی دو مثالیں اور بقائے انفع :۔ اس مثال میں علم وحی کو باران رحمت سے تشبیہ دی گئی ہے اور ایمان لانے والے سلیم الفطرت لوگوں کو ندی نالوں سے، جو اپنے اپنے ظرف کے مطابق اس باران رحمت سے بھرپور ہو کر رواں دواں ہوجاتے ہیں اور دعوت حق کے مقابلہ میں معاندین اور منکرین جو شورش برپا کرتے ہیں اسے اس جھاگ اور خس و خاشاک سے تشبیہ دی گئی ہے جو ایسے سیلاب میں پانی کی سطح کے اوپر آجاتا ہے۔ لیکن اس جھاگ اور خس و خاشاک کی حقیقت صرف اتنی ہی ہوتی ہے کہ کسی وقت بھی دریا اچھل کر اسے کناروں پر پھینک دیتا ہے۔ جہاں ہوا اور دھوپ اسے خشک کرکے ختم کردیتی ہے اور یہ سب کچھ مٹی میں مل جاتا ہے اور پانی جو…
Read the full tafseer →35۔ (یعنی چھوٹے نالے کم پانی کے ساتھ اور بڑے نالے زیادہ پانی کے ساتھ سب اپنی اپنی بساط وحیثیت کے مطابق)
36۔ (اور وہ بھی اوپر آجاتا ہے) (آیت) ” زبد “۔ سے یہاں مراد ہے میل کچیل، خس و خاشاک، کوڑا کرکٹ۔
37۔ یعنی ایک طرف توحید و ایمان اور دوسری طرف کفر وشرک کی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
آیت نمبر 8 تا 18
ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…
Read the full tafseer →انزل من السماء ماء فسالت اودیۃ بقدرھا فاحتمل السیل زبدا رابیا اللہ نے آسمان سے پانی نازل فرمایا ‘ پھر نالے (بھر کر) اپنی مقدار کے موافق چلنے لگے ‘ پھر وہ سیلاب خس و خاشاک کو بہا لایا جو (پانی کے) اوپر آ رہا ہے۔
اَوْدِیَۃٌ وادی کی جمع ہے۔ وہ ندی نالے جہاں پانی بکثرت بہتا ہے ‘ وادی کہلاتے ہیں۔ مجازاً وادی میں بہنے والے پانی کو بھی وادی کہہ لیا یعنی بہنے کی نسبت پانی کی بجائے وادی کی طرف کردیتے ہیں ‘ جیسا کہ آیت مذکورہ میں آیا ہے) بارش ہونے سے تمام وادیاں تو نہیں بہتی ہیں ‘ بعض بہتی ہیں اسی لئے اس کو بصورت نکرہ ذکر کیا (غیر معین وادیاں) ۔
بِقَدَرِھَا یعنی وادیوں کے اندازے کے موافق چھوٹی بڑی جیسی…
Read the full tafseer →(17) اب اللہ تعالیٰ حق و باطل کے امتیاز کو ایک مثال سے سمجھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین قرآن کریم اتارا اور اس قرآن پاک میں حق اور باطل کو وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا تو روشن دلوں نے اپنی وسعت اور اپنے نور کے اعتبار سے قرآن حکیم کو اپنے سینوں میں جگہ دے لی اور اندھیرے والے دل اپنی باطل خواہشوں کے پیروکار ہوئے۔
اور اس پانی کی طرح اللہ تعالیٰ دوسری مثال بیان فرماتے کہ سونے اور چاندی کو جس وقت آگ میں ڈال کر تپاتے ہیں تو دریائی جھاگوں کے اوپر جو میل کچیل اوپر آجاتا ہے اسی طرح اس میں بھی آجاتا ہے تو حق سونے اور چاندی کی طرح ہے کہ جیسے سونے چاندی کو نفع حاصل کرنے اور زیور بنانے کے لیے…
Read the full tafseer →اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً۔۔ : ”اَوْدِيَةٌ“ (نالے) وادی کی جمع ہے جو اصل میں پانی بہنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔ دو پہاڑوں کے درمیان خالی جگہ کو بھی کہہ لیتے ہیں، کبھی راستے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ پہاڑوں میں عموماً راستے پہاڑی نالوں کے کناروں کے ساتھ چلتے ہیں۔ ”زَبَدًا“ وہ کوڑا کرکٹ اور جھاگ جو پانی کی تیز رفتاری کے باعث اس کی سطح پر ابھر آتا ہے، یا ہانڈی کے اوپر ابھر آتا ہے۔ ”رَّابِيًا“ ”رَبَا یَرْبُوْ رَبْوًا“ (ن) سے اسم فاعل ہے، بمعنی بڑھنے والا، ابھرنے والا۔ ”حِلْيَةٍ“ سونے چاندی وغیر کا زیور جس سے انسان زینت حاصل کرتا ہے۔ ”جُفَاۗءً“ نالہ یا ہانڈی جو خس و خاشاک یا جھاگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
آیت نمبر 17 تا 19
قولہ تعالیٰ : انزل من السماء مآء فسالت او دیۃ بقدرھا فاحتمل السیل زبداً رابیاً اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کے لیے ضرب المثل بیان فرمائی ہے کفر کو اس جھاگ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو پانی پر اٹھتی ہے، یہ ختم ہوجاتی ہے اور وادیوں کی ایک جانب میں جمع ہوتی ہے اور ہوائیں اسے دھکیل کرلے جاتی ہیں پس اسی طرح کفر بھی چلا جاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ مجاہد نے کہا : فسالت اودیۃ بقدرھا، بقدرھا سے مراد بقدر ملئھا ہے یعنی اپنے بھرنے کے اندازے کے مطابق۔ ابن جریج نے کہا : اس سے مراد اپنے چھوٹے اور بڑے ہونے کے حساب سے۔ اشہب عقیلی اور حضرت حسن بصری نے بقدرھا دال کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے۔ معنی دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) انزل من السمآء مآء “ الآیہ کے بارے میں فرمایا یہ مثال اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کہ اس میں دل فائدہ اٹھاتے ہیں اپنے یقین اور شک کے بقدر لیکن شک کے ساتھ عمل مفید نہیں ہوتا۔ لیکن یقین تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ یقین والوں کو نفع دیتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” فاما الذبد فیذھب جفآء واما ما ینفع الناس فیمکث فی الارض “ اور وہ ہے یقین جیسے زیور کو آگ میں ڈال دیا جاتا ہے پھر اس کے ذریعہ جو خالص سونا ہوتا ہے۔ اس کو لے لیا جاتا ہے اور جو کھوٹ ہوتا ہے اسے آگ میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی…
Read the full tafseer →[انزَلَ : اس نے اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : کچھ پانی ] [فَسَالَتْ : تو بہہ نکلیں ] [ اَوْدِيَةٌۢ: وادیاں ] [ بِقَدَرِهَا : اپنے اندازے (یعنی گنجائش) کے مطابق ] [فَاحْتملَ : تو اٹھایا ] [ السَّيْلُ : بہتے پانی نے ] [ زَبَدًا رَّابِيًا : ابھرنے والا کچھ جھاگ ] [ وَمِمَا : اور اس (دھات) میں سے ] [ يُوْقِدُوْنَ : وہ لوگ چمکاتے (یعنی پگھلاتے) ہیں ] [عَلَيْهِ : جس کو ] [ فِي النَارِ : آگ میں ] [ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ : کسی زیور کی تلاش میں ] [اَوْ مَتَاعٍ : یا کسی سامان کی ] [زَبَدٌ: کچھ جھاگ ہوا ] [ مِّثْلُهٗ : اس کے جیسا ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يَضْرِبُ : بیان کرتا ہے ] […
Read the full tafseer →حق اور باطل کی مثال ‘ قیامت کے دن نافرمان اپنی جان کے بدلہ دنیا اور اس جیساجو کچھ اور مل جائے سب دینے کو تیار ہوں گے :
یہ دو آیتیں ہیں پہلی آیت میں حق اور باطل کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں پہلی مثال تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے۔ یہ بارش کا پانی وادیوں میں اور نالوں میں چل دیتا ہے جو پانی چلتا ہے خس و خاشاک کو بہا کرلے جاتا ہے ‘ پانی پر بہت سا کوڑا کرکٹ جمع ہوجاتا ہے جو پھولا ہوا نظر آتا ہے اور پانی کے بہاؤ کے ساتھ بہتا ہے پھر کوڑا کرکٹ تو یوں ہی بلا فائدہ رہ جاتا ہے اور ادھر ادھر کہیں ٹھہر جاتا ہے اور پانی یا تو کہیں جمع ہوجاتا ہے جس سے کھیتیاں سیراب کی جاتی ہیں اور انسان اس میں سے…
Read the full tafseer →مثال حق و باطل
قال اللہ تعالیٰ انزل من السماء ماء فسالت اودیۃ بقدرھا .... الیٰ .... یضرب اللہ الامثال
(ربط) گزشتہ آیت میں کافروں کو اندھوں سے اور مسلمانوں کو بینا سے اور کفر کو ظلمت سے اور اسلام کو نور سے تشبیہ دی اب ان آیات میں حق و باطل کی دو مثالیں بیان فرمائے ہیں ایک پانی کی اور ایک آگ کی چناچہ فرماتے ہیں۔
پہلی مثال
اس واحد قہار نے آسمان سے پانی اتارا پھر نالے اس پانی سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق بہہ پڑے یعنی پانی تو آسمان سے یکساں برسا مگر ہر نالے میں بقدر اس کی وسعت اور عمق کے سمایا اسی طرح آسمان سے قرآن کریم نازل ہوا اور قلوب کی زمینوں نے بقدر اپنی صلاحیت اور وسعت کے اس آسمانی باران…
Read the full tafseer →21 ۔ یہ چھٹی دلیل عقلی ہے۔ اس میں معبود برحق اور معبود باطل کی مثال بیان کی گئی ہے یعنی معبودان باطلہ مثل جھاگ کے ہیں جو فنا ہوجائیں گے اور معبود حق باقی رہے گا معبود حق کی مثال پانی اور سونے کی ہے اور معبود باطل کی مثال جھاگ کی ہے جب بارش برستی ہے اور وادیوں سے سیلاب گذرتا ہے تو پانی کے اوپر جھاگ آجاتی ہے پانی زمین میں ٹھہر جاتا ہے جس سے وہ زرخیز بن جاتی ہے اور جھاگ بیکار ہوجاتی ہے اسی طرح جب آگ پر سونا گلاتے ہیں تو سونا نیچے بیٹھ جاتا ہے اور میل کچیل اوپر آجاتی ہے جو پھینک دی جاتی ہے۔ یا یہ حق و باطل یعنی اسلام و کفر اور توحید و شرک کی مثال ہے۔ باطل کو بیکار جھاگ سے اور حق کو خالص پانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(ربط آیات)
اس سورة مبا کہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کرنے کے بعد معاد کا ذکر فرمایا پھر رسالت کا بیان ہوا ، اللہ نے توحید کا مسئلہ سمجھایا اور شرک کا رد فرمایا توحید کے عقلی اور نقلی دلائل بیان کیے اور شرک کی مختلف صورتوں کو واضح کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے ربوبیت اور خالقیت کی دلیل پیش کرکے الوہیت کا استدلال پیش کیا کہ الہ صرف وہی ہو سکتا ہے جو رب اور خالق ہے چونکہ یہ صفات اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی میں نہیں پائی جاتیں لہذا مستحق عبادت بھی صرف اللہ ہی ہے پھر اللہ نے مشرکوں اور مومنوں کی مثال اندھے اور بینا کی بیان فرمائی شرک کو ظلمات سے تعبیر کیا اور ایمان اور توحید کو نور…
Read the full tafseer →اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِيَةٌۢ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۭ وَمِمَّا يُوْقِدُوْنَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاۗءَ حِلْيَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ڛ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاۗءً ۚ وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْاَرْضِ ۭ كَذٰلِكَ يَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ 17ۭ
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
2 ؎ والآصال جمع اصیل وہو العیشۃ وھی مابین العصر الی المغرب الادویۃً جمع واد وھو کل منفرج بین جبلین ونحو ھما یسیل الماء فیہ بکثرۃ واستعمل للماء الجاری فیہ الزبد ھو الابیض المرتفع المفتح علی وجہ السیل ویقال لہ الجحفاء والرعوۃ والرابی المرتفع فوق المآء جفاء با طلایقال جفارن الریح السحاب ای فرقۃ 12 منہ
Read the full tafseer →اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَآئً فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌ م بِقَدَرِھَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًارَّابِیًا ط وَمِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْہِ فِی النَّارِ ابْتَغَآئَ حِلْیَۃٍ اَوْمَتَاعٍ زَبَدٌمِّثْلُہٗ ط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ 5 ط فَامَّا الزَّبَدُفَیَذْھَبُ جُفَآئً ج وَاَمَّا مَایَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ ط کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ ۔ (سورۃ الرعد : 17)
(اس نے آسمان سے پانی اتارا تو وادیاں اپنے اپنے اندازے کے مطابق بہہ نکلیں، پھر سیلاب کی رو نے ابھرا ہوا جھاگ اٹھا لیا اور جن چیزوں کو آگ کے اندر تپاتے ہیں، زیور بنانے کے لیے یا دیگر سامان بنانے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : توحید اور شرک کے فرق کو سمجھنے کے لیے مزید دو مثالیں۔
دین اور اس کے مرکزی نقطہ یعنی توحید کی مثال آسمان سے بارش کی مانند ہے۔ جب موسلا دھار بارش برستی ہے تو ہر وادی اور ندی نالے اپنی اپنی وسعت و کشادگی کے مطابق اس سے سیر ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ ندی نالوں میں چلنے والا سیل رواں اپنے اوپر جھاگ اٹھائے ڈھلوان کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ دیکھنے میں پانی کے بجائے جھاگ ہی جھاگ نظر آتی ہے لیکن کچھ وقت کے بعد جھاگ اپنا وجود کھو بیٹھتی ہے۔ بعض اوقات حق و باطل کی کشمکش توحید اور کفر و شرک کی آویزش میں ابتداءً یہی منظر آتا ہے جیسے باطل حق پر غالب آجائے گا۔ لیکن جب حق والے اپنے وسائل بروئے…
Read the full tafseer →حق و باطل کی مثال :
17: اَنْزَلَ (اس نے اتارا) ۔ واحدقہار اور وہ اللہ سبحانہ ٗو تعالیٰ ہے مِنَ السَّمَآئِ (آسمان سے) یعنی بادلوں سے مَآ ئً (پانی) بارش فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌ 0 بِقَدَرِ ہَا (بس بہہ پڑیں وادیاں اپنی مقدار کے مطابق) اس مقدار کے مطابق جسکے متعلق اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کس قدر نفع بخش ہے نقصان دینے والی نہیں۔ فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ (سیلاب نے اٹھایا) یعنی بلند کیا۔ زَبَدًا (جھاگ) مطلب یہ ہے اس پر جھاگ بلند ہوئی۔ رَّابِیًا (پانی کے اوپر بلندہونے والا) پھولنے والا۔ سیلاب کی سطح پر بلند ہونے والا۔ وَمِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْہِ (جن چیزوں کو آگ میں تپاتے ہیں)
قراءت : ابو بکرکے علاوہ…
Read the full tafseer →تفسیر 17۔” انزل “ نازل کیا اللہ عزوجل نے ” من السماء ماء “ مراد بارش ہے۔ ” فسالت “ اس پانی سے ” اودیۃ بقدرھا “ وادیوں کے اندازے کے مطابق چھوٹی ہوں یا بڑی ۔ ” فاحتمل السیل “ وادیوں میں بہنے والا پانی ” زبدا رابیا ً “ وہ جھاگ جو پانی کے اوپر آجاتی ہے۔” رابیا “ کا معنی ہے وہ عالی اور بلند جو پانی کے اوپر جمع ہوتی ہے، میل کچیل اور باقی پانی صاف شفاف رہ جاتا ہے ۔ یہی مثال حق کی ہے اور وہ جھاگ جو وادی کے کنارے پر پڑے یا درختوں کے ساتھ لگی وہ باطل ہے۔ بعض نے کہا کہ ” انزل من السماء ماء “ یہ مثال ہے قرآن کی اور وادی کی مثال دل ہیں کہ قرآن ان کے دلوں میں اترتا ہے اور مختلف قسم کے دل جتنے یقین کے پختہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ مشرک بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کے سوا کوئی خالق و رازق نہیں پھر ان سے کہو کہ تم خدا کے سوا ایسے معبود کیوں ٹھہراتے ہو جن کو خود اپنی جان کے نفع نقصان کا ذرہ برابر اختیار نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں وہ گویا دل کے اندھے ہیں کہ ان کے دلوں میں تاریکی ہے اور جو لوگ خالص خدا کے مانتے والے ہیں ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے اس لئے فرمایا کہ بینا اور نابینا یکساں نہیں ہوتا اور نہ روشنی اور تاریکی یکساں ہوتی ہے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے پھر فرمایا کہ مشرکوں نے جن کو اپنا معبود ٹھہرا لیا کس سند اور کس دلیل سے کیا ان…
Read the full tafseer →اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہدایت کو جسے قلب و روح کی زندگی کے لئے اپنے رسول ﷺ پر نازل فرمایا، پانی سے تشبیہ دی ہے جسے اس نے بدن کی زندگی کے لئے نازل فرمایا۔ ہدایت الٰہی میں جو عام اور کثیر نفع ہے اور بندے جس کے محاتج ہیں، اس کو بارش میں موجود اس نفع عام سے تشبیہ دی ہے جو بندوں کے لئے بہت ضروی ہے اور ہدایت کے حامل قلوب اور ان کے تفاوت (باہمی فرق) کو ان وادیوں سے تشبیہ دی ہے جن کے اندر سیلاب بہتے ہیں۔ پس بڑی وادی، جس میں بہت زیادہ پانی سما جاتا ہے اس بڑے دل کی مانند ہے جو بہت زیادہ علم سے لبریز ہے اور چھوٹی وادی جو تھوڑے سے پانی کی متحمل ہوتی ہے اس چھوٹے دل کی مانند ہوتی ہے جس میں بہت تھوڑا علم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →54۔ فطرت کائنات کی ایک اہم شہادت :
یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر بہ پڑیں مختلف ندیاں اور نالے اپنے اپنے ظرف کے مطابق، بڑے نالوں نے زیادہ پانی اٹھایا اور چھوٹوں نے تھوڑا، سو اسی طرح قرآن حکیم اور وحی خداوندی کی یہ معنوی اور روحانی بارش بھی آسمان سے اتری جو دلوں کی زمین کو سیراب کرتی ہے تو دلوں نے اپنی اپنی وسعت کے مطابق اس سے حصہ پایا۔ جس سے ان کے دلوں کی دنیا زندگی نعمت سے سرفراز ہو کر گل و گلزار بن گئی۔ یہ تو حال ہوا ماننے والوں کا۔ جبکہ نہ ماننے والے حق سے ٹکرا کر جھاگ کی مٹ گئے۔ سوا دونوں مثالوں سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق فرمودہ اس کائنات کے مزاج کو واضح فرمادیا گیا کہ یہ نافع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
حق اور باطل کی مثال
تشریح : ان آیات میں حق و باطل، نیکی و بدی، کفر و اسلام کا موازنہ بڑے ہی اچھے انداز میں کیا گیا ہے اچھے، سچے نیک اور صالح لوگوں کو صاف پانی اور صاف سونے سے تشبیہ دی گئی ہے اور برے، بدکردار اور کفار کو گندے پانی اور گرم دھات کے اوپر آنے والی گندگی جو کہ جھاگ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ نیک اور مسلمان انسان نہ صرف خود ہی سکون اور دنیا و آخرت میں بھلائیاں حاصل کرتا ہے بلکہ خلق خدا اور کائنات کے لیے بھی باعث رحمت، برکت اور مبارک ثابت ہوتا ہے۔ جبکہ کفار اور بدطینت بدخصلت انسان نہ صرف یہ کہ خود ہی پریشانیوں، مصیبتوں اور عذابوں میں گھرا رہتا ہے بلکہ دنیا کو اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
رکوع نمبر 2 :
اسرارومعارف :
اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی جو نالہ جتنا بڑا تھا اتنا ہی اس میں زیادہ پانی بہا اور جتنا چھوٹا تھا، اتنا ہی اس میں کم پانی بہا۔
3 ۔ یعنی وہ جھاگ پانی کے اوپرہی ہو نیچے پانی خالص ہر قسم کی آمیزش سے پاک ہو۔
4 ۔ اور تپانے سے اوپر آجاتا ہے۔ یہ حق و باطل کی دوسری مثال ہے۔
5 ۔ یعنی دیرپا ہوتا ہے اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
6 ۔ ان دونوں مثالوں میں حق (قرآن) کو پانی سے تشبیہ دی ہے اور نالوں سے مراد انسانوں کے دل ہیں جو اپنے اپنے طرف و استعداد کے مطابق حق سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ یا وہ حق زیور ہے جس سے نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور لوگ معاش و نفوسِ انسانی آراستہ ہوتے ہیں اور وہ لوگ معاش و معاد میں اس سے انواع و…
Read the full tafseer →(13:17) فسالت۔سببیہ ہے۔ سالت۔ ماضی واحد مؤنث غائب (باب ضرب) وہ بہی۔ وہ بہنے لگی۔ وہ جاری ہوئی۔ یہاں بمعنی جمع آیا ہے وہ (وادیاں ) بہنے لگیں بسبب آبِ سماوی کے السیل۔ بہائو۔ سیلاب۔
اودیۃ۔ نالے ۔ وادیاں۔ الوادی۔ اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی بہتا ہو۔ اسی سے دو پہاڑوں کے درمیان کشادہ زمین کو وادی کہا جاتا ہے۔ واد کی جمع اودیۃ جیسے ناد کی جمع اندیۃ اور ناج کی جمع انجیۃ ہے۔
بقدرہا۔ میں ھا ضمیر کا مرجع اودیۃ ہے بقدرہا۔ اپنے اپنے ظرف کے مطابق۔ اپنی اپنی مقدار کے مطابق۔
احتمل۔ اس نے اٹھایا۔ احتمال سے جس کے معنی برداشت کرنے اور اٹھانے کے ہیں حمل سے باب افتعال۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ السیل۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 18
سالت بہہ نکلے اودیۃ ندی۔ نالے احتمل اٹھایا السیل ندی کا بہاؤ زبد جھاگ رابی جمع ہونے والا یوقدون جلاتے ہیں۔ دھونکاتے ہیں ابتغاء حاصل کرنا حلیۃ زیور متاع سامان یذھب جاتا ہے جفاء سوکھنا یمکت رک جاتا ہے یضرب وہ مارتا ہے۔ چلاتا ہے الحسنی بھلائی افتدوا انہوں نے فدیہ دیا۔ بدلہ دیا سوء الحساب برا حساب ماویٰ ٹھکانا المھاد بستر۔ ٹھکانا
تشریح : آیت نمبر 17 تا 18
گزشتہ آیات میں توحید کا بیان فرمایا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کفار سے یہ پوچھا جائے کہ اس کائنات کو اور اس کے ہر ذرے کو کس نے پیدا کیا تو ان کا جواب یہی ہوگا۔ کہ اللہ نے ہی ہر چیز کو اپنی قدرت سے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دو مثالیں۔
ارشاد ہوتا ہے کہ جب ہم آسمان سے مینہ برساتے ہیں تو وہ زمین پر بہہ نکلتا ہے اور تالاب ندی نالے اپنی حیثیت کے موافق پانی لے لیتے ہیں کوئی زیادہ کوئی کم۔ اسی طرح انسان کے دل میں بھی فرق ہے کسی کا دل زیادہ علم دین حاصل کرنے کی گنجائش رکھتا ہے اور کوئی دل کم۔ پھر فرمایا کہ ندی نالے کے پانی میں جھاگ اٹھتا ہے یہ ایک مثال ہے اور سونا چاندی وغیرہ گلانے کے وقت بھی جھاگ اٹھتا ہے اسی طرح حق و ناحق ہے کہ پانی سے جس طرح زمین کو فائدہ پہنچتا ہے، اور سونا چاندی کام میں آتے ہیں اور ان دونوں کا جھاگ سوکھ سوکھا کرجاتا رہتا ہے اس کو قیام نہیں رہتا، اسی طرح حق بات ہمیشہ قائم…
Read the full tafseer →[19] حاصل ان دو مثالوں کا یہ ہے کہ جس طرح جھاگ کچھ دیر کے لئے اصل جز کے اوپر نظر آتا ہے لیکن آخر کار وہ ناکارہ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے اور اصل چیز باقی رہ جاتی ہے اسی طرح گو باطل چند روز کے لئے حق پر غالب آجائے لیکن انجام کار باطل مغلوب ہی ہو کر رہتا ہے اور حق باقی و ثابت رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
(ف 1) یعنی قرآن واسلام کے فیوض ، باران رحمت کی طرح ہیں ، جیسے بارش سے ہر قطعہ زمین بقدر استعداد و استفادہ کرتا ہے اسی طرح اس سے ہر شخص بقدر ظرف جرمہ آشام ہوتا ہے ۔
پھر جس طرح ابتداء میں پانی کی کثرت سے جھاگ اٹھتا ہے اور بالآخر نتھر جاتا ہے اسی طرح مسلمان باقی رہ جائے گا اور مخالفت کا یہ جھاگ چھٹ جائے گا ، غرض یہ ہے کہ اسلام سراسر حق وصداقت ہے نفع وسود مندی ہے ، اس لئے اس کا برقرار رہنا ضروری ہے ، قانون فطرت ہے ، کہ کفر جھوٹ ہے ، باطل ہے اور جھاگ ہے ا اس لئے اس کا ضیاع وفقدان لازم ہے ۔
حل لغات :
جفآء : ضائع ، بےسود ، یونہی ۔
Read the full tafseer →17 ۔ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی نازل کیا پھر پانی سے اپنے اپنے اندازے کے موافق نالے بہ نکلے اور سیلاب کا پانی پھولے ہوئے جھاگ اور خس و خاشاک کو اوپر اٹھالایا اور جن دھاتوں کو زیور یا اور سامان بنانے کے لئے آگ میں گلاتے ہیں ان میں بھی اسی قسم کا میل کچیل اور جھاگ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ حق اور باطل کو اسی طرح مثال بیان کرتا ہے پھر جو جھاگ اور میل کچیل ہے وہ سوکھ کرجاتا رہتا ہے اور پھینک دیا جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کے لئے نافع اور مفید ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتی ہے اور لوگوں کو نفع رسانی کے لئے رہتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر ضروری چیز کی مثالیں بیان فرمایا کرتا ہے۔ حق کی پائیداری اور باطل کی نا…
Read the full tafseer →ف 6۔ ان دو مثالوں میں دو چیزیں ہیں ایک کارآمد چیز کہ اصل پانی اور اصل مال ہے اور ایک ناکارہ چیز کہ کوڑا کرکٹ اور میل کچیل ہے۔
1۔ حاصل دونوں مثالوں کا یہ ہے کہ جیسا ان مثالوں میں میل کچیل برائے چندے اصلی چیز کے اوپر نظرآتا ہے لیکن انجام کار وہ پھینک دیا جاتا ہے اور اصلی چیز رہ جاتی ہے اس طرح باطل گوبرائے چندے حق کے اوپر غالب نظرآوے لیکن آخر کار باطل محو اور مغلوب ہوجاتا ہے اور حق باقی اور ثابت رہتا ہے۔
Read the full tafseer →توحید الٰہی کی تفہیم ایک مثال کے ذریعہ سے تاکہ بات ذہن نشین ہو جائے
32 ؎ زیر نظر اس سورت کے مضامین میں سے جو مواعظ بیان کئے گئے ہیں ان میں سے ایک مرکزی موخطت ہے۔ فرمایا جو کچھ بھی ہے ” حق “ اور ” باطل “ کی آویزش ہے لیکن ” حق “ اور ” باطل “ کی حقیقت کیا ہے ؟ کونسا قانون الٰہی ہے جو اس کے اندر کام کر رہا ہے ؟ یہاں واضح کیا ہے کہ یہ ” بقا وانفع “ کا قانون ہے یعنی اللہ نے کائنات ہستی کے قیام و اصلاح کیلئے یہ قانون ٹھہرا دیا ہے کہ یہاں وہی چیز باقی رہ سکتی ہے جس میں نفع ہو جس میں نفع نہیں وہ ٹھہر نہیں سکتی اسے نابود ہوجانا ہے۔ اس نازک اور دقیق حقیقت کیلئے کیسی صاف اور عامۃ الورود مثال بیان کردی جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
Commentary
The outcome of both parables is that foam does appear prominent for a while on the real thing, but it finally gets to be thrown away and the real thing remains. Similar is the case of the false. Though the false may, for a short while, appear to have overcome the true, but the false is finally subdued and eliminated and that which is true remains and stands manifestly proven. (Tafsir A1-Jalalayn)
Read the full tafseer →31. In this simile the knowledge which had been sent down by Allah to the Prophet (peace be upon him) has been likened to the rain from the sky, and the believers to the streams, rivulets and rivers. Just as the streams etc. fill themselves with rain water, each according to its capacity, so his followers gained knowledge from him, each according to his ability. On the other hand, the hue and cry that was raised by the opponents of the Islamic movement has been likened to the swelling foam etc. that begins to dance about on the surface of flood water, but soon vanishes away.
32. As it is but…
Read the full tafseer →