اندھیرا اور روشنی
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ یہ مشرکین بھی اس کے قائل ہیں کہ زمین و آسمان کا رب اور مدبر اللہ ہی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے اولیا کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ وہ سب عاجز بندے ہیں۔ ان کے تو کیا خود اپنے بھی نفع نقصان کا انہیں کوئی اختیار نہیں پس یہ اور اللہ کے عابد یکساں نہیں ہوسکتے۔ یہ تو اندھیروں میں ہیں اور بندہ رب نور میں ہے۔ جتنا فرق اندھے میں اور دیکھنے والے میں ہے، جتنا فرق اندھیروں اور روشنی میں ہے اتنا ہی فرق ان دونوں میں ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ کیا ان مشرکین کے مقرر کردہ شریک اللہ ان کے نزدیک کسی چیز کے خالق ہیں ؟ کہ ان پر تمیز مشکل ہوگئی کہ کسی چیز کا خالق اللہ…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 26
واضح رہے کہ وہ لوگ خود اس بات کے قائل تھے کہ زمین و آسمان کا رب اللہ ہے۔ وہ اس سوال کا جواب انکار کی صورت میں نہیں دے سکتے تھے، کیونکہ یہ انکار خود ان کے اپنے عقیدے کے خلاف تھا۔ لیکن نبی ﷺ کے پوچھنے پر وہ اقرار کی صورت میں بھی اس جواب دینے سے کتراتے تھے، کیونکہ اقرار کے بعد توحید کا ماننا لازم آجاتا تھا اور شرک کے لیے کوئی معقول بنیاد باقی نہیں رہتی تھی۔ اس لیے اپنے مؤقف کی کمزوری محسوس کر کے وہ اس سوال کے جواب میں چپ سادھ جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان سے پوچھو زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ کائنات کا رب کون ہے ؟ تم کو رزق دینے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان سے کہئے کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار (یعنی موجد و مبقی یعنی خالق وحافظ) کون ہے (اور چونکہ اس کا جواب متعین ہے اس لئے جواب بھی) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ہے کہ اللہ ہے (پھر) آپ ﷺ یہ کہئے کہ کیا (یہ دلائل توحید سن کر) پھر بھی تم نے خدا کے سوا دوسرے مددگار (یعنی معبودین) قرار دے رکھے ہیں جو (بوجہ غایت عجز کے) خود اپنی ذات کے نفع نقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (اور پھر شرک کے ابطال اور توحید کے احقاق کے بعد اہل توحید واہل شرک اور خود توحید و شرک کے درمیان اظہار فرق کے لئے) آپ ﷺ یہ (بھی) کہئے کہ کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے (یہ مثال ہے مشرک اور موحد کی)…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ قُلِ اللّٰهُ ۭ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ڬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۭ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ۔
قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔ۭ قُلِ اللّٰهُ۔ لفظ " قل " کہو، پوچھو، سوال کرو، جواب دو ، سب معنوں میں آتا ہے۔ موقع و مح ؒ کی مناسبت پیش نظر رکھ کر اس کا صحیح مفہوم متعین کرنا…
Read the full tafseer →16۔ 1 یہاں تو پیغمبر کی زبان سے اقرار ہے۔ لیکن قرآن کے دوسرے مقامات سے واضح ہے کہ مشرکین کا جواب بھی یہی ہوتا تھا۔
16۔ 2 یعنی جب تمہیں اقرار و اعتراف ہے کہ آسمان و زمین کا رب اللہ ہے جو تمام اختیارات کا بلا شرکت غیر مالک ہے پھر تم اسے چھوڑ کر ایسوں کو کیوں دوست اور حمائتی سمجھتے ہو جو اپنی بابت بھی نفع نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔
16۔ 3 یعنی جس طرح اندھا اور بینا برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح موحد اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے اس لئے کہ موحد توحید کی بصیرت سے معمور ہے جب کہ مشرک اس سے محروم ہے۔ موحد کی آنکھیں ہیں، وہ توحید کا نور دیکھتا ہے اور مشرک کو یہ نور توحید نظر نہیں آتا، اس لئے وہ اندھا ہے۔…
Read the full tafseer →19: مشرکین عرب جن دیوتاؤں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے، عام طور سے وہ یہ مانتے تھے کہ انہوں نے کائنات کی تخلیق میں کوئی حصہ نہیں لیا ؛ بلکہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کی ہے، لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے خدائی کے بہت سے اختیارات ان کو دے رکھے ہیں، اس لئے ان کی عبادت کرنی چاہیے، تاکہ وہ اپنے اختیارات ہمارے حق میں استعمال کریں، اور اللہ تعالیٰ سے ہماری سفارش بھی کریں، اس آیت میں اول تو یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ من گھڑت دیوتا کوئی نفع یا نقصان اپنے آپ کو بھی نہیں پہنچا سکتے، دوسروں کو کیا پہنچائیں گے، پھر فرمایا گیا ہے کہ اگر ان دیوتاؤں نے بھی اللہ تعالیٰ کی طرح کچھ پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔
آیت 12 تا 16
چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن…
Read the full tafseer →5 یعنی جب ربوبیت کا اقرار صرف خدا کے لیے کرتے ہو پھر مدد کے لیے دوسرے حمایتی کہاں سے تجویز کرلیے۔ حالانکہ وہ ذرہ برابر نفع نقصان کا مستقل اختیار نہیں رکھتے۔
6 یعنی موحد و مشرک میں ایسا فرق ہے جیسے بینا اور نابینا میں اور توحید و شرک کا مقابلہ ایسا سمجھو جیسے نور کا ظلمت سے۔ تو کیا ایک اندھا مشرک جو شرک کی اندھیریوں میں پڑا ٹامک ٹوئیاں مار رہا ہو اس مقام پر پہنچ سکتا ہے جہاں ایک موحد کو پہنچنا ہے جو فہم و بصیرت اور ایمان و عرفان کی روشنی میں فطرت انسانی کے صاف راستہ پر چل رہا ہے ؟ ہرگز دونوں ایک نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتے۔
7 یعنی جیسی مخلوقات خدا تعالیٰ نے پیدا کی، کیا تمہارے دیوتاؤں نے ایسی کوئی…
Read the full tafseer →اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ
یعنی ان مشرکین کا معاملہ تو یوں لگتا ہے جیسے ان کے معبودوں نے بھی کچھ مخلوق پیدا کر رکھی ہے اور کچھ مخلوق اللہ کی ہے۔ اب وہ بےچارے اس شش و پنج میں پڑے ہوئے ہیں کہ کون سی مخلوق کو اللہ سے منسوب کریں اور کس کس کو اپنے ان معبودوں کی مخلوق مانیں ! جب ایسا نہیں ہے اور وہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ بھی ہے اس کا خالق اور مالک اللہ ہے تو پھر اللہ کو اکیلا اور واحد معبود ماننے میں وہ کیوں شکوک و شبہات کا شکار ہو رہے ہیں ؟
Read the full tafseer →24 من دون اللہ کسی چیز کے خالق ومالک نہیں تو ان کا تصرف کہاں سے آگیا ؟:۔ مشرکین مکہ یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ آسمانوں اور زمین کا نیز کائنات کی ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔ تخلیق کائنات میں ان کے معبودوں کا کوئی حصہ نہیں اور یہ بھی مسلمہ امر ہے کہ خالق اپنے مخلوق پر پورا پورا تصرف رکھتا ہے۔ اب ان سے سوال یہ ہے کہ جب تمہارے معبودوں نے کوئی چیز بنائی ہی نہیں تو وہ تصرف کائنات میں شریک کیسے بن گئے اور تمہیں یہ کہاں سے اشتباہ پیدا ہوگیا کہ وہ بھی تصرف کائنات میں شریک اور حصہ دار ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ کوئی چیز پیدا کرنا تو درکنار وہ تو خودمخلوق اور محتاج ہیں جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں…
Read the full tafseer →31۔ (چہ جائیکہ اپنے پرستاروں کی سن سنا سکیں، یا ان کی مدد کرسکیں) مطلب یہ ہوا کہ ان مشرکین عرب سے بھی اگر یہ سوال کردیجئے کہ اس سارے نظام کائنات کا خالق وموجد حافظ ومبقی ومدبر وحاکم کون ہے تو یہ باوجود اپنے شرک کے اس کے قائل نکلیں گے کہ وہ تو ایک ہی خدائے قادر و توانا ہے جسے عرب کی بولی میں اللہ کہتے ہیں، پس اس پر ان کی گرفت کیجئے، اور ان سے یہ کہیے کہ اس صحیح بنیادی عقیدہ کے باوجود پھر یہ تم پر کیا شامت سوار ہے، کہ تم تعدد الہ کی لعنت میں گرفتار ہو اور چھوٹے چھوٹے خداؤں دیوی دیوتاؤں کے چکر میں پھنسے ہوئے ہو ؟ جب ایک خدا کو مان لیا تو پھر اب دوسرے بےچاروں کے پاس کسی قسم کا اختیار و تصرف سرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
آیت نمبر 8 تا 18
ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…
Read the full tafseer →قل من رب السموت والارض آپ دریافت کیجئے کہ آسمان و زمین کا رب کون ہے ؟ یعنی ان کو پیدا کرنے والا ‘ ان کا انتظام رکھنے والا اور ان کے تمام امور کا ذمہ دار کون ہے۔ یہ استفہام تقریری ہے (یعنی کیا ایسا ہے کہ اللہ ہی خالق و مدبر ہے) کیونکہ مشرک بھی قائل تھے اور ان کو بھی یہ امر تسلیم تھا کہ ان کا اور آسمان و زمین کا خالق اللہ ہی ہے۔
قل اللہ آپ خود ہی کہہ دیجئے کہ اللہ ہی ان کا خالق ہے۔ یعنی اگر وہ کوئی جواب نہ دیں تو ان کی طرف سے آپ جواب دے دیں کہ اللہ ہی آسمان و زمین کا رب ہے کیونکہ وہ بھی اسی کے قائل ہیں اور ان کا بھی یہی جواب ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کا خالق و رب ہونا اتنا ظاہر ہے کہ اس کا…
Read the full tafseer →(16) اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے کہئے کہ آسمانوں اور زمین کا خالق کون ہے ؟ سو اگر وہ جواب میں اللہ کہہ دیں تو ٹھیک ورنہ آپ ہی فرمادیجیے کہ اللہ خالق ہے پھر یہ کہیے کہ کیا پھر بھی تم نے اللہ کے علاوہ دوسرے معبود بنارکھے ہیں۔ جو خود اپنی ذات کو بھی نفع پہنچانے اور نقصان کے دور کرنے پر طاقت نہیں رکھتے ،
اے محمد ﷺ آپ ان سے یہ فرما دیجیے کیا کافر اور مومن دونوں برابر ہوسکتے ہیں یا کہیں کفر و ایمان میں برابری ہوسکتی ہے یا انہوں نے اللہ کے ایسے بتوں کو شریک قرار دے رکھا ہے کہ انہوں نے بھی کسی چیز کو پیدا کیا ہو جیسا کہ اللہ تعالیٰ پیدا کرتا تو اس واسطے ان کو تمام مخلوق ایک سی معلوم ہوئی جس کی وجہ سے…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : یعنی اگر ایسا ہوتا کہ دنیا میں کچھ چیزیں تو اللہ نے پیدا کی ہوتیں اور کچھ دوسروں نے، یا بعض کی پرورش اور روزی کا سامان کرنے والا رب اللہ تعالیٰ ہوتا اور بعض کا کوئی دوسرا، یا کسی نفع نقصان کا مالک اللہ تعالیٰ ہوتا اور کسی کا مالک دوسرا، تب تو ان مشرکوں کے شرک کی کوئی بنیاد ہوسکتی تھی کہ یہ بھی خالق ہونے کی وجہ سے مستحق عبادت ہیں، مگر جب یہ خود مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر چیز پیدا کرنے والا اللہ اور صرف اللہ ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک قرار دیں۔
قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ۔۔ : یہ مشرک اور موحد کی مثال ہے،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 16
قولہ تعالیٰ : قل من رب السموت والارض اللہ تعالیٰ نے بنی کریم ﷺ کو فرمایا کہ آپ مشرکین کو فرمائیں : قل من رب السموت والارض پھر اللہ نے فرمایا کہ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں یا وہ اس سے ناواقف ہوں تو آپ خود ہی فرمائیے کہ وہ اللہ ہے۔ قل اقاتخذتم من دونہ اولیآء کے ذریعے استدلال نہ کیا جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا ایک اور ارشاد بطور دلیل پیش بھی کیا جاسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ولئن سالتھم من خلق السموت والارض لیقولن اللہ (لقمان : 25) اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ اب آیت کا معنی یہ ہوگا کہ جب تم نے اعتراف کرلیا تو پھر…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں :ـ
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم آپ کے پاس ایک خاص حالت پر ہوتے ہیں جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہم اس کے علاوہ دوسری حالت پر ہوجاتے ہیں ہم ڈرتے ہیں کہ یہ نفاق نہ ہو آپ نے فرمایا تم اپنے رب کے بارے میں کیسے ہو (یعنی کیا عقیدہ رکھتے ہو) عرض کیا اللہ تعالیٰ ہمارے رب ہیں چھپے ہوئے بھی اور ظاہری طور پر تھی پھر تم اپنے نبی کے بارے میں کیسے ہو (یعنی کیا عقیدہ رکھتے ہو) عرض کیا آپ ہمارے نبی ہیں چھپے ہوئے (حال میں) بھی اور ظاہری (حال میں) بھی آپ نے فرمایا پھر تم میں نفاق نہیں ہے۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے…
Read the full tafseer →[قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [مَنْ : کون ] [ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] [ قُلِ اللّٰهُ : آپ ﷺ کہئے (وہ) اللہ ہی ہے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [اَفَاتَّخَذْتم : تو کیا تم لوگوں نے بنائے ] [مِّنْ دُوْنِهٖٓ: اس کے علاوہ ] [ اَوْلِيَاۗءَ : کچھ ایسے کارساز [ لَا يَمْلِكُوْنَ : جو مالک نہیں ہیں ] [ لِانفُسِهِمْ : اپنی جانوں کے لئے (بھی)] [ نَفْعًا : کیس نفع کے ] [ وَّلَا ضَرًّا : اور نہ ہی کسی نقصان کے ] [ قُلْ : آپ ﷺ کہئے ] [ هَلْ : کیا ] [ يَسْتَوِي : برابر ہوتا ہے ] [الْاَعْمٰى: اندھا ] [وَالْبَصِيْر : اور دیکھنے والا ] [اَمْ : یا ] [ هَلْ : کیا [ تَسْتَوِي : برابر ہوتے ہیں…
Read the full tafseer →بینا اور نابینا اور نور اور اندھیرے برابر نہیں ہوسکتے :
پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ) (آپ ان سے سوال کیجئے کیا نابینا اور بینا برابر ہوسکتے ہیں) نابینا سے مشرک مراد ہیں جو اس ذات پاک کی عبادت نہیں کرتا جو مستحق عبادت ہے ‘ اور غیر اللہ کی عبادت میں لگا ہوا ہے اور بینا سے موحد مراد ہے جو یہ جانتا ہے کہ مجھے صرف اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرنا ہے اور پھر وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرتا ہے جس طرح آنکھوں سے معذور اندھا دیکھنے والے کے برابر نہیں ہوسکتا اسی طرح مومن اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے ‘ پھر فرمایا (اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
رجوع برائے مضمون توحید
قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…
Read the full tafseer →18: یہ پانچویں عقلی دلیل ہے علی سبیل العتراف من الخصم اور یہ ماقبل سے اقوی ہے کیونکہ مشہور ہے صح الشہادات ما یشہد بہ الاعداء۔ مشرکین مانتے تھے کہ زمین و آسمان کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ” قُلِ اللہ “ یہاں یہاں ہمزہ استفہام تقریری محذوف ہے ” قل ءَ اللہ “ یعنی اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔
19:۔ یہ دلائل مذکورہ پر دوسرا ثمرہ ہے بطور زجر و الزام مذکورہ دلائل سے واضح اور ثابت ہوگیا کہ ساری کائنات کا خالق مالک اور متصرف اللہ تعالیٰ ہی مگر اس کے باوجود تم نے اللہ کی عاجز مخلوق اور اس کے بےبس بندوں کو کارساز اور حاجت روا بنا لیا جو تمہیں نفع و نقصان تو کیا پہنچائیں گے وہ تو اپنے نفع و نقصان کا اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ نے شرک اور مشرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان کیے تھے ، آج کی آیات میں بھی سابقہ مضمون کے تسلسل میں ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں قرآن کی حقانیت ، وصداقت ، نبوت و رسالت اور قیامت کا ذکر ہی زیادہ تر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا پکارنا ہی برحق ہے ، جو لوگ دوسروں کو بھی پکارتے ہیں ، وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے ، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص دریا یا کنویں پر کھڑا ہو کر پکارے کہ پانی اس کے منہ میں خود بخود چلا جائے یا وہ پانی کو اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہے ، فرمایا جس طرح یہ دونوں چیزیں ممکن نہیں اسی طرح غیر اللہ کو مافوق الاسباب پکارنا بھی بےسود…
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ قُلِ اللّٰهُ ۭ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖٓ اَوْلِيَاۗءَ لَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا ۭ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ ڏ اَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ ڬ اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَاۗءَ خَلَقُوْا كَخَلْقِهٖ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۭ قُلِ اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ 16
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
2 ؎ والآصال جمع اصیل وہو العیشۃ وھی مابین العصر الی المغرب الادویۃً جمع واد وھو کل منفرج بین جبلین ونحو ھما یسیل الماء فیہ بکثرۃ واستعمل للماء الجاری فیہ الزبد ھو الابیض المرتفع المفتح علی وجہ السیل ویقال لہ الجحفاء والرعوۃ والرابی المرتفع فوق المآء جفاء با طلایقال جفارن الریح السحاب ای فرقۃ 12 منہ
Read the full tafseer →قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قُلِ اللّٰہُ ط قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ لاَ یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ نَفْعًا وَّلاَ ضَرًّا ط قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ 5 لا اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ 5 ج اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآئَ خَلَقُوْا کَخَلْقِہٖ فَتَشَابَہَ الْخَلْقُ عَلَیْہِمْ ط قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّھُوَالْوَاحِدُالْقَھَّارُ ۔ (سورۃ الرعد : 16)
(اے پیغمبر ﷺ ان سے پوچھئے آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے۔ کہہ دیجیے، اللہ تعالیٰ ۔ ان سے پوچھئے تو کیا اس کے بعد تم نے اس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور اس کے سامنے سجدہ ریز اور اس کی فرمانبرداری میں لگی ہوئی ہے مگر کافر اور مشرک اللہ تعالیٰ کی خالص فرمانبرداری سے گریز کرتے ہیں۔ اس لیے ان سے چند سوال کیے گئے ہیں۔
کافر اور مشرک اس لحاظ سے برابر ہیں کہ کافر مجبور ہو کر اللہ تعالیٰ کا اقرار کرتا ہے اور مشرک انتہائی مشکل کے وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے گویا کہ مشرک اور کافر اپنے اپنے انداز میں اللہ تعالیٰ کی ذات کا مجبوراً اقرار کرتے ہیں۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ آپ ان لوگوں سے استفسار فرمائیں کہ زمین و آسمان کا رب کون ہے ؟ اگر یہ خاموشی اختیار کریں تو آپ انہیں فرمائیں کہ صرف ایک…
Read the full tafseer →16: قُل مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قُلِ اللّٰہُ (اس میں انکے اعتراف کو بیان کیا کیونکہ جب انہیں من رب السمٰوٰت والارض کہہ کر سوال کریں تو مجبوراً انکو جواب میں اللہ کہنا پڑتا ہے۔ اسکی دلیل ابن مسعود اور ابی کی قراءت قالوا اللہ ہے۔ نمبر 2۔ یہ تلقین ہے یعنی اگر وہ جواب نہ دیں تو تلقین کرو اللہ رب السمٰوٰت والارض۔ اس لئے کہ اسکا جواب اسکے سوا اور کچھ نہیں۔ قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئََ (کہہ دیں کیا تم نے پھر بھی اسکے سوا اور کارساز بنا لئے) کیا اس بات کو جاننے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا رب ہے تم نے اسکے سوا کارساز بنا لیے ہیں۔ لَایَمْلِکُوْنَ…
Read the full tafseer →16۔” قل من رب السموات والارض “ یعنی ان دونوں کو پیدا کرنے والا اور ان کو پھیرنے والا کون ہے تو وہ کہیں گے اللہ ۔ مشرکین ، کفار اس بات کو مانتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہے، آسمان اور زمینوں کا پیدا کرنے والا ہے تو جب آپ کو یہ جواب دیں تو اے محمد (ﷺ) آپ بھی کہہ دیجئے اللہ ۔ روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مشرکوں سے پوچھا کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ ہی بتایئے اس پر اللہ نے فرمایا ” قل “ اے محمد ” اللہ “ یہ کہنے سے ان پر حجت لازم کردی ہے۔ ” قال افاتخذتم من دونہ اولیائ “ کیا تم اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرتے ہو ، اسی طور پر کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ مشرک بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کے سوا کوئی خالق و رازق نہیں پھر ان سے کہو کہ تم خدا کے سوا ایسے معبود کیوں ٹھہراتے ہو جن کو خود اپنی جان کے نفع نقصان کا ذرہ برابر اختیار نہیں ہے پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں وہ گویا دل کے اندھے ہیں کہ ان کے دلوں میں تاریکی ہے اور جو لوگ خالص خدا کے مانتے والے ہیں ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے اس لئے فرمایا کہ بینا اور نابینا یکساں نہیں ہوتا اور نہ روشنی اور تاریکی یکساں ہوتی ہے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے پھر فرمایا کہ مشرکوں نے جن کو اپنا معبود ٹھہرا لیا کس سند اور کس دلیل سے کیا ان…
Read the full tafseer →یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کے ساتھ ویسی ہی محبت کرتے ہیں جیسی وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرتے ہیں اور ان کے تقرب کے لئے مختلف انواع کی عبادت ان کو پیش کرتے ہیں۔ کیا تمہاری عقل ماری گئی ہے کہ تم نے اللہ کو چھوڑ کر دورسوں کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے، تم ان کی عبادت کرتے ہو حالانکہ وہ عبدت کے مستحق نہیں ہیں ؟ (آیت) ” وہ اپنے نفسوں کے لئے بھی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے “ اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم نے اس ہستی کی سرپرستی کو چھوڑ دیا جو اسماؤ صفات میں کامل، زندوں اور مردوں کی مالک ہے، جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تخلیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →48۔ مخلوق کے سائے بھی اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ ریز ہیں :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور ان سب کے سائے بھی صبح وشام، سو مخلوق ساری کے سائے اللہ تعالیٰ کے حضور ہی سجدہ ریز ہیں اور اپنی زبان حال سے اللہ تعالیٰ کے حضور ہی سجدہ ریز ہونے کا درس دیتے ہیں۔ اور وہ بھی اس طرح کہ سورج کے بالمقابل دوسری جانب جھک کر۔ چناچہ صبح کو جب کہ سورج مشرق میں ہوتا ہے سائے مغرب کی طرف جھکتے ہیں۔ اور شام کو جب کہ سورج مغرب میں ہوتا ہے یہ مشرق کی جانب دراز ہوتے ہیں تاکہ سورج کی طرف جھک کر اس کے لیے پجاریوں سے مشابہت بھی لازم نہ آنے پائے۔ فسبحان اللہ وتعالیٰ عما یصفون۔ اور صبح وشام کے دو وقتوں کو خاص اس لیے فرمایا گیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
مخلوقات کا اللہ کو سجدہ کرنا، نفع و نقصان کا مالک کون
تشریح : ان آیات میں زندگی کے بارے میں بہت بڑا راز اور ایک کلیہ بتایا گیا ہے۔ جو راہنمائی زندگی کے بارے میں قرآن پاک ہمیں دیتا ہے اس کے مطابق زندگی کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ کو پہچان کر اس کی فرمانبرداری میں جھک جانا اور ہر لمحہ اس کی تعریف کرنا۔ اس کا مطب یہ ہوا کہ ایٹم زندگی کی بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے جو کہ زندہ ہے۔ ہر چیز کی زندگی کا معیار مختلف ہے۔ مگر یہ طے ہے کہ ہر چیز جو بھی اس جہاں میں موجود ہے وہ زندہ ہے اپنے خالق کو پہچانتی ہے اور اللہ کی دی ہوئی آزادی، فہم اور عقل کے مطابق اللہ کی عطا کی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
رکوع نمبر 2 :
اسرارومعارف :
اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی اگر ایسا ہوتا کہ دنیا میں کچھ چیزیں تو اللہ نے پیدا کی ہوتیں اور کچھ دوسروں نے تب تو ان مشرکوں کے شرک کی کوئی بنیاد ہوسکتی تھی کہ یہ خالق ہونے کی وجہ سے مستحق عبادت ہیں۔ مگر جب یہ خود مانتے ہیں کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ اور صرف اللہ ہی تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک قرار دیں۔ (وحیدی) ۔
1 ۔ سب پر غالب ہے کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →(13:16) افا تخذتم۔ میں ہمزہ استفہامیہ ہے۔استبعاد کے لئے ہے۔
ای بعد ان علمتموہ رب السموت والارض اتخذتم من دونہ اولیائ۔ کیا یہ جاننے کے بعد بھی کہ وہ (اللہ تعالیٰ ) ارض وسماوات کا پروردگار ہے تم اس کے سوا دوسروں کو کارساز یا حمایتی قرار دیتے ہو۔
ھل یستوی۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ استواء (افتعال) مصدر۔ استوی یستوی برابر ہونا ھل یستوی۔ استفہام انکاری ہے۔ برابر نہیں ہے۔ کیا برابر ہے (یعنی برابر نہیں ہے)
ھل تستوی۔ کیا وہ برابر ہوسکتی ہے۔ برابر نہیں ہوسکتی۔ مضارع واحد مؤنث غائب ۔ یہ بھی استفہام انکاری ہے۔ یعنی تاریکی اور روشنی برابر نہیں ہے۔
فتشابہ الخلق علیہم۔ اور نتیجۃًان پر (اللہ کی مخلوق اور ان کے…
Read the full tafseer →لغات القرآن آیت نمبر 16
من کون ؟ افاتخذتم کیا پھر تم نے بنا لیا ہے تستوی برابر ہوتا ہے الاعمی اندھا البصیر دیکھنے والا الظلمت اندھیرے النور روشنی تشابہ شبہ پڑگیا القھار (اللہ کی صفت) زبردست غلبہ والا
تشریح : آیت نمبر 16
عرب کے کفار اور مشرکین غیر اللہ کو سجدے کرتے تھے۔ بتوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوتے اور اپنی تمناؤں کی تکمیل کے لئے دعائیں کرتے تھے لیکن اس کیس اتھ ساتھ وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ اس کائنات کو اور اس کے ذرے ذرے کو اللہ نے پیدا کیا ہے وہ ساری کائنات کا خلاق ومالک ہے جب ان سے یہ پوچھا جاتا تھا کہ پھر تم اس ایک اللہ کی عبادت و بندگی کیوں نہیں کرتے اور بتوں کے وسیلے سے کیوں…
Read the full tafseer →مشرکین کو تنبیہ
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ مشرک بھی اس بات کے قائل ہیں کہ خدا کے سوا کوئی خالق و رازق نہیں، پھر ان سے کہو کہ تم خدا کے سوا ایسے معبود کیوں ٹھہراتے ہو جن کو خود اپنی جان کے نفع نقصان کا ذرہ برابر اکتیار نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ جو لوگ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہی وہ گویا دل کے اندھے ہیں کہ ان کے دلوں میں تاریکی ہے اور جو لوگ خاص خدا کے مانے والے ہیں ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ بیان اور نابینا یکساں نہٰں ہوتا اور نہ روشنی اور تاریکی یسکاں ہوتی ہے ان دونوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ پھر فرمایا کہ مشرکوں نے جن کو اپنا معبود ٹھہرایا کس سند اور کس دلیل سے…
Read the full tafseer →[16] مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین عرب سے بھی اگر یہ سوال کرو کہ زمین و آسمان کا مالک کون ہے تو یہ باوجود اپنے شرک کے اس کے قائل نکلیں گے کہ وہ تو اللہ ہی ہے۔ پس اس پر ان کی گرفت کرو اور کہو کہ اس صحیح بنیادی عقیدے کے باوجود پھر یہ کیا بات ہے کہ تم دوسرے چھوٹے چھوٹے معبودوں کے چکر میں پھنسے ہوئے ہو ؟
[17] یعنی کافر و مومن۔
[18] یعنی کفر و ایمان۔
Read the full tafseer →مشرک عقل کا اندھا ہے !
(ف 2) جب یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں اسی نے سب کچھ پیدا کیا ہے ، وہی خیر کا مالک ہے نفع وضرر اس کے ہاتھ میں ہے ، تو پھر اسے چھوڑ کر دوسروں سے رشتہ جوڑنا کیا ظلمت نہیں ؟ کیا یہ اندھا پن نہیں ؟ کہ کمزور وسائل کی پوجا کی جائے ، اور اللہ کو چھوڑ دیا جائے جو احکم الحاکمین ہے ۔ جس طرح کہ وہ اندھا ہے جس کی آنکھیں نہیں ۔
اسی طرح جس میں توحید کی بصیرت نہیں وہ روحانیت کے لحاظ سے اندھا ہے ، موحد کی آنکھیں ہیں وہ بینا اور ہوشمند ہے ،
مشرک غور بین اور حق بین نہیں ، اس لئے وہ اندھا ہے اور سمجھ بوجھ سے دور ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جس طرح نور وظلمت میں امتیاز ہے اندھے اور…
Read the full tafseer →16 ۔ اے پیغمبر آپ ان سے پوچھتے کہ آسمان و زمین کا پروردگار کون ہے اور چونکہ اس کا جواب ظاہر ہے اس لئے آپ فرما دیجئے کہ زمین و آسمان کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے آپ ان سے کہئے پھر کیا تم نے اللہ تعالیٰ کے ہوا ایسوں کو اپنا حمایتی اور مدد گار بنا رکھا ہے جو خود اپنے نفع اور ضرر کا اختیار نہیں رکھتے آپ ان سے کہئے کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہوسکتا ہے یا کہیں اندھیریاں اور اجالا برابر ہوسکتا ہے یا ان مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے شرکاء مقرر کئے ہیں اور قرار دے رکھے ہیں کہ انہوں نے بھی کچھ ایسی چیزیں پیدا کی ہوں اور ایسی مخلوق پیدا کی ہو جیسے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے کہ وہ مخلوق ان مشرکوں پر…
Read the full tafseer →ف 4۔ یہ مثال ہے مشرک اور موحد کی۔
ف۔ 5۔ یہ مثال ہے شرک اور توحید کی۔
Read the full tafseer →آسمان اور زمین کا پروردگار کون ہے ؟ اللہ ! پھر تم نے دوسروں کو حاجت روا کیوں بنا لیا ؟
29 ؎ اگر مشرکین عرب سے بھی یہ سوال کیا جاتا کہ اس سارے نظام کائنات کا خالق و موجد ‘ حافظ و نگہبان ‘ مدبر و حاکم کون ہے ؟ تو یہ باوجود اپنے شرک کے اس کے قائل نکلیں گے کہ وہ تو ایک ہی خدائے قادر و توانا ہے جسے عرب کی بولی اور مشرکین کے عقیدہ میں بھی ” اللہ “ کہا جاتا ہے۔ پس اس سے ان کی گرفت ہوسکتی ہے اور تم ان سے کہہ سکتے ہو کہ پھر تم اتنی بات تو ہم کو بتا دو کہ تم ان بےبس اور بےاختیار معبودوں کو اس کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟ جو اپنے آپ کو نفع نہیں پہنچا سکتے اور اپنے آپ کو ضرر سے نہیں بچا سکتے وہ تمہارے کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
Commentary
The outcome of both parables is that foam does appear prominent for a while on the real thing, but it finally gets to be thrown away and the real thing remains. Similar is the case of the false. Though the false may, for a short while, appear to have overcome the true, but the false is finally subdued and eliminated and that which is true remains and stands manifestly proven. (Tafsir A1-Jalalayn)
Read the full tafseer →26. It will be worthwhile to note that though the question,“Who is the Lord of the heavens and the earth?”was put to the disbelievers, Allah told the Prophet (peace be upon him) to answer it himself and say,“Allah”. This was because the disbelievers hesitated to answer it one way or the other. They could not say that it was not Allah for they themselves believed that Allah was the Creator of everything. On the other hand, they could not acknowledge this fact in so many words in answer to such question. For, they would then have to acknowledge the doctrine of Tauhid. Then no basis could have…
Read the full tafseer →