عظمت وسطوت الہٰی
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت و سلطنت کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز اس کے سامنے پست ہے اور ہر ایک اس کی سرکار میں اپنی عاجزی کا اظہار کرتی ہے۔ مومن خوشی سے اور کافر بزور اس کے سامنے سجدہ میں ہے۔ ان کی پرچھائیں صبح شام اس کے سامنے جھکتی رہتی ہے۔ اصال جمع ہے اصیل کی۔ اور آیت میں بھی اس کا بیان ہوا ہے۔ فرمان ہے آیت (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ 48) 16۔ النحل :48) یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ تمام مخلوق اللہ کے سامنے دائیں بائیں جھک کر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں اور اپنی…
Read the full tafseer →سورة الرَّعْد 24
سجدے سے مراد اطاعت میں جھکنا، حکم بجا لانا اور سرتسلیم خم کرنا ہے۔ زمین و آسمان کی ہر مخلوق اس معنی میں اللہ کو سجدہ کر رہی ہے کہ وہ اس کے قانون کی مطیع ہے اور اس کی مشیت سے بال برابر بھی سرتابی نہیں کرسکتی۔ مومن اس کے آگے برضا ورغبت جھکتا ہے تو کافر کو مجبورا جھکنا پڑتا ہے، کیونکہ خدا کے قانون فطرت سے ہٹنا اس کی مقدرت سے باہر ہے۔
سورة الرَّعْد 25
سایوں کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اشیاء کے سایوں کا صبح و شام مغرب اور مشرق کی طرف گرنا اس بات کی علامت ہے کہ یہ سب چیزیں کسی کے امر کی مطیع اور کسی کے قانون سے مسخر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
(آیت) وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ۚ
یعنی تسبیح پڑھتا ہے رعد اللہ تعالیٰ کے حمد وشکر کی اور تسبیح پڑھتے ہیں فرشتے اس کے خوف سے رعد، عرف ومحاورہ میں بادل کی آواز کو کہا جاتا ہے جو بادلوں کے باہمی ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے اس کے تسبیح پڑھنے سے مراد وہی تسبیح ہے جس کے متعلق قرآن کریم ایک دوسری آیت میں آیا ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن یہ تسبیح عام لوگ سن نہیں سکتے۔
اور بعض روایات و حدیث میں ہے کہ رعد اس فرشتہ کا نام ہے جو بارش برسانے پر مسلط ہے اور مامور ہے اس معنی کے اعتبار سے تسبیح پڑھنا ظاہر ہے،
(آیت)…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۔
ہرچیز کی تکوینی شہادت : یہ اوپر والے مضمون کی مزید تاکید ہر چیز کی تکوینی شہادت سے فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اپنے اصل وجود میں خدا ہی کی مطیع و منقاد ہے۔ جن کو کچھ اختیار ملا ہوا ہے اگر وہ اپنے اس اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اکڑتے بھی ہیں تو وہ بھی اپنے تکوینی وجود میں خدا ہی کے آگے جھکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شہادت ہے اس بات کی کہ ہمارا وجود اپنی فطرت سے خدا ہی کا مطیع ہے۔ اگر ہم خدا سے اکڑتے ہیں تو یہ حالت درحقیقت ہماری اپنی اصل جبلت سے بغاوت ہے۔ اس حقیقت کو اس مثال سے واضح…
Read the full tafseer →15۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت وقدرت کا بیان ہے کہ ہر چیز پر اس کا غلبہ ہے اور ہر چیز اس کے ما تحت اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے، چاہے مومنوں کی طرح خوشی سے کریں یا مشرکوں کی طرح ناخوشی سے۔ اور ان کے سائے بھی صبح و شام سجدہ کرتے ہیں۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا۔ (اَوَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَيْءٍ يَّتَفَيَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْيَمِيْنِ وَالشَّمَاۗىِٕلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَهُمْ دٰخِرُوْنَ) 16۔ النحل :48) سورة النحل کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے ان کے سائے داہنے اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں اور وہ عاجزی کرتے ہیں اس سجدے کی کیفیت کیا…
Read the full tafseer →18: سجدہ کرنے سے یہاں مراد اللہ تعالیٰ کے احکام کے آگے جھک جانا ہے، مومن خوشی خوشی ان احکام کے آگے جھکتا ہے، اور اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلے پر راضی رہتا ہے، اور کافر اللہ تعالیٰ کے تکوینی فیصلوں کے آگے مجبور ہے، اس لئے وہ چاہے یا نہ چاہے، اللہ تعالیٰ کائنات میں جو فیصلے فرماتا ہے مجبوراً ان کے آگے سرجھکانے کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں، واضح رہے کہ یہ سجدے کی آیت ہے، اس کی تلاوت یا سننے سے سجدہ واجب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔
آیت 12 تا 16
چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن…
Read the full tafseer →4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جو اللہ پر یقین لایا خوشی سے سر رکھتا ہے اس کے حکم پر اور جو نہ یقین لایا آخر اس پر بھی بےاختیار اسی کا حکم جاری ہے اور پرچھائیاں صبح اور شام زمین پر پسر جاتی ہیں یہی ہے ان کا سجدہ۔ " مطلب یہ ہے کہ جواہر ہوں یا اعراض کوئی چیز اللہ کے حکم تکوینی سے باہر نہیں ہوسکتی۔ اس کے نفوذ و اقتدار کے سامنے سب منقاد اور سر بسجود ہیں۔ سایہ کا گھٹنا بڑھنا دائیں بائیں مائل ہونا سب اسی کے ارادہ اور مشیت سے ہے۔ صبح شام کا ذکر شاید اس لیے کیا کہ ان وقتوں میں زمین پر سایہ کا پھیلاؤ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 15 وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ
صبح کے وقت جب سورج نکلتا ہے اور سائے زمین پر لمبے ہو کر پڑے ہوتے ہیں وہ اس حالت میں اللہ کو سجدہ کر رہے ہوتے ہیں اور اسی طرح شام کو غروب آفتاب کے وقت بھی یہ سائے حالت سجدہ میں ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →22 کائنات کی چیزوں کا اللہ کو سجدہ کرنے کے مطلب :۔ یعنی کائنات کی ہر چیز ان طبعی قوانین کی پابند اور ان کے آگے بےبس اور مجبور ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے بنا دیئے ہیں۔ مثلاً پانی کے لیے یہ قانون ہے کہ وہ نشیب کی طرف بہے اور یہ ناممکن ہے کہ پانی اس قانون کے خلاف بلندی کی طرف بہنا شروع کردے۔ اسی طرح پانی کے لیے ناممکن ہے کہ وہ اپنی سطح ہموار نہ رکھے۔ بس یہی چیز اس کا اللہ کے حضور سجدہ ہے۔ اسی طرح کائنات کی ہر چیز اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہے۔ حتیٰ کہ ان قوانین کا انسان بھی پابند اور ان کے آگے مجبور اور بےبس ہے۔ مثلاً اگر وہ چاہے کہ کھانے پینے کے بغیر زندہ رہے تو وہ ایسا نہیں کرسکتا، یا اگر وہ…
Read the full tafseer →28۔ یعنی ساری کی ساری مخلوقات اللہ ہی کی قانون تکوینی کی مطیع ومنقاد ہے۔ (آیت) ” وللہ یسجد “۔ اس ترکیب کے اقتضاء سے معنی یہ پیدا ہوئے کہ اللہ ہی کی مطیع ومنقاد ہے نہ کسی اور کی اے للہ وحدہ یخضع وینقاد ولا بشیء غیرہ (روح) (آیت) ” من فی السموت والارض “۔ مراد جمیع مخلوق سے ہے۔ المراد ما یشمل اولئک وغیرھم والتعبیر بمن للتغلیب (روح) (آیت) ” یسجد “۔ سجدہ یہاں باصطلاح شرعی نہیں بلکہ اپنے اصلی ولغوی معنی میں ہے یعنی سب کے سب اللہ کے آگے جھکے ہوئے اور اس کی مشیت کے مطیع ومنقاد ہیں۔ السجود اصلہ التطامن والتذلل۔۔۔ وذلک ضربان سجود باختیار ولیس ذلک الا للانسان و سجود تسخیر وھو للانسان والحیوانات والنبات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
آیت نمبر 8 تا 18
ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…
Read the full tafseer →واللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا وظللھم بالغدو والاصال اور اللہ ہی کے سامنے سب سرخم کئے ہوئے ہیں جتنے آسمانوں میں ہیں اور جتنے زمین میں ہیں خوشی سے اور مجبوری سے اور ان کے سائے بھی صبح اور شام کے اوقات میں۔
مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا یعنی ملائکہ اور اہل ایمان بندے خوشی سے اللہ کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔
وَّکَرْھًا اور وہ منافق و کافر جو تلوار کے خوف سے سر خمیدہ ہوتے ہیں ‘ کراہت کے ساتھ سر جھکاتے ہیں یا مصائب کی شدت اور ضرورت ان کو سر جھکانے پر مجبور کرتی ہے ‘ اگرچہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے۔
وَظِلٰلُھُمْ اور بالتبع ان کے سائے بھی سر خمیدہ ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ سجدہ…
Read the full tafseer →(15) اور اللہ ہی کے سامنے سب سرجھکائے ہوئے ہیں کہ اس کی عبادت اور نماز میں مصروف ہیں جو کہ آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں مومن لوگ ہیں، آسمان والے خوشی سے جھکائے ہوئے ہیں، کیوں کہ انکو عبادت میں ناگواری نہیں ہوتی، اور زمین والے مجبورا جھکائے ہوئے ہیں کیوں کہ ان کو عبادت میں ناگواری ہوتی ہے یا یہ کہ مخلصین خوشی سے اور منافقین مجبوری سے جھکائے ہوئے ہیں اور اہل زمین سے جو لوگ سرجھکائے ہوئے ہیں، ان کے سائے بھی صبح وشام سرخم کیے ہوئے ہیں کہ صبح کو دائیں جانب اور شام کو بائیں جانب۔
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : سجدے کا معنی ہے جسم کے سب سے اونچے اور باعزت حصے کو کسی کے سامنے نیچے سے نیچا لے جا کر اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی کا اظہار کرنا۔ تو کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح اپنی عاجزی اور بےبسی کا اظہار کر رہی ہے۔ اس میں مسلمان اور کافر کا کوئی فرق نہیں، ہاں انسان کو تھوڑا سا اختیار جنت یا جہنم کے راستے پر چلنے کا دیا ہے، اس کے علاوہ اللہ کے سامنے نہ چاہتے ہوئے بھی ہر طرح سجدہ ریز ہے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار کے مقابلے میں اپنے آپ پر اس کا اختیار ایک فی صد کیا ایک فی ہزار بھی نہیں، اگر کسی کو شک ہے تو ذرا اپنا سانس روک کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 15
قالہ تعالیٰ : وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا حضرت حسن اور قتادہ وغیرہ نے کہا : مومن خوشی سے سجدہ کرتا ہے اور کافر تلوار سے مجبور ہوکر۔ حضرت قتادہ سے ہی مروی ہے کہ کافر کو جب ایمان کوئی فائدہ نہیں دیتا تو وہ مجبورا سجدہ کرتا ہے۔ زجاج نے کہا : کافر کا سجدہ مجبورا ہوتا ہے اس میں نہ خضوع ہوتا ہے اور نہ ہی عمل کا اثر۔ ابن زید نے کہا : طوعا سے مراد وہ ہے جو اسلام میں رغبت و شوق سے داخل ہوا اور کرھا سے مراد وہ ہے جو تلوار سے ڈر کر اسلام میں داخل ہوا۔ ایک قول یہ ہے : طوعا سے مراد وہ ہے جس کے اسلام کی مدت لمبی ہے اور اس نے اس لمبی عمر کو سجدوں میں مصروف رکھا اور کرھا سے مراد وہ…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا وظللہم بالغدو والاصال (15) سے مراد ہے کہ مومن کا سایہ سجدہ کرتا ہوے خوشی سے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے اور کافریہ سایہ سجدہ کرتا ہے مجبوری سے اور وہ اس کو ناپسند کرتا ہے۔
2:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وللہ یسجد من فی السموت والارض طوعا وکرھا “ سے مراد ہے کہ مومن اللہ تعالیٰ کے خوشی سے سجدہ کرتا ہے۔ اور کافر سجدہ کرتا ہے مجبوری سے اس کا سایہ بھی سجدہ کرتا ہے (مجبوری سے)
3:۔ ابوالشیخ رحمۃ اللہ علیہنے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[وَللّٰهِ : اور اللہ کے لئے ہی ] [ يَسْجُدُ : سجدہ کرتے ہیں ] [ مَنْ : وہ جو ] [ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : زمین اور آسمانوں میں ہیں ] [ طَوْعًا : تابعدار ہوتے ہوئے ] [ وَّكَرْهًا : اور ناپسند کرتے ہوئے ] [ وَّظِلٰلُهُمْ : اور ان کے سائے (بھی)] [ بِالْغُدُوِّ : صبح میں ] [ وَالْاٰصَالِ : اور شام میں ]
Read the full tafseer →یَسْجُدُ کا معنی :
بعض حضرات نے یَسْجُدُ کا معروف معنی لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بتایا ہے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو فرشتے ہیں اور مومنین ہیں یہ سب اللہ کے لیے سجدہ کرتے ہیں فرشتے اور مومنین جنات اور انسان تو خوشی سے سجدہ کرتے ہیں اور جو لوگ منکرین ہیں اور منافقین ہیں وہ بھی تلوار کے ڈر سے یا ماحول کے دباؤ سے سجدہ کرتے ہیں اس کو مجبوری کے سجدہ سے تعبیر فرمایا وَظِلٰلُھُمْ ان کے سائے بھی سجدہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار ہیں جس طرح چاہتا ہے وہ اس کو گھٹاتا اور بڑھاتا ہے ‘ صبح وشام کے وقت ان کے گھٹنے اور بڑھنے کا مظاہرہ زیادہ ہوتا ہے اس لیے ان وقتوں کی تخصیص کی گئی۔ بعض حضرات نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
رجوع برائے مضمون توحید
قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔
(ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…
Read the full tafseer →17:۔ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے جو پہلے دعوے سے متعلق فرشتے اور جن و انس سب اللہ تعالیٰ ہی کے آگے جھکتے ہیں اور سب اسی کو سجدہ کرتے ہیں فرشتے اور مومنین رضا مندی اور رغبت سے اور کفار و مشرکین مجبورًا جب مصائب و شدائد میں گھر جائیں ” طوعا یعنی الملائکۃ والمومنین وکرھا یعنی المنافقین والکافرین فی حال اشدۃ والضیق “ (مدارک ج 2 ص 189) اور ان کے سائے بھی صبح و شام اسی کے سامنے سر بسجود ہوتے ہیں۔ جب ہر چیز اللہ تعالیٰ کی مطیع و منقاد رہے اور سب اسی کے زیر تصرف و اقتدار ہیں تو معلوم ہوا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کا کارساز بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں اللہ نے شرک اور مشرک کی تردید اور توحید کے دلائل بیان کیے تھے ، آج کی آیات میں بھی سابقہ مضمون کے تسلسل میں ہی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں قرآن کی حقانیت ، وصداقت ، نبوت و رسالت اور قیامت کا ذکر ہی زیادہ تر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا پکارنا ہی برحق ہے ، جو لوگ دوسروں کو بھی پکارتے ہیں ، وہ ان کا کوئی جواب نہیں دے سکتے ، اس کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص دریا یا کنویں پر کھڑا ہو کر پکارے کہ پانی اس کے منہ میں خود بخود چلا جائے یا وہ پانی کو اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہے ، فرمایا جس طرح یہ دونوں چیزیں ممکن نہیں اسی طرح غیر اللہ کو مافوق الاسباب پکارنا بھی بےسود…
Read the full tafseer →وَلِلّٰهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّكَرْهًا وَّظِلٰلُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ 15۞
سجد
السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات،
وذلک ضربان : سجود باختیار،
ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له،
وسجود تسخیر،
وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15]
( س ج د ) السجود
( ن ) اسکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
2 ؎ والآصال جمع اصیل وہو العیشۃ وھی مابین العصر الی المغرب الادویۃً جمع واد وھو کل منفرج بین جبلین ونحو ھما یسیل الماء فیہ بکثرۃ واستعمل للماء الجاری فیہ الزبد ھو الابیض المرتفع المفتح علی وجہ السیل ویقال لہ الجحفاء والرعوۃ والرابی المرتفع فوق المآء جفاء با طلایقال جفارن الریح السحاب ای فرقۃ 12 منہ
Read the full tafseer →وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًاوَّکَرْھًاوَّظِلٰلُہُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ ۔ (سورۃ الرعد : 15)
(اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کررہے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہے، خوشی سے اور مجبوراً اور ان کے سائے بھی ( سجدہ ریز ہیں) صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی۔ )
ہر چیز کی تکوینی شہادت
یہ انسان کی کج فکری ہے کہ وہ اس قدر برخود غلط ہوجاتا ہے کہ کسی کے سامنے جھکنا بھی اسے گوارا نہیں ہوتا۔ وہ اپنے تئیں یہ سمجھتا ہے کہ مجھے جو اختیار اور اقتدار ملا ہے اس کی موجودگی میں میں کسی اور کی اطاعت کروں یا کسی کی ہدایت قبول کروں یا کسی کے سامنے جھکوں یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ میں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلے مشرک کے شرک کی بےحیثیتی بیان کی گئی اور اب کافر کے کفر کو بےحیثیت قرار دیا جا رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کا انکار کرنے والا شخص اس قدر نافرمان اور باغی طبیعت کا ہوتا ہے۔ کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کے مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی بات کو یہاں سمجھایا گیا ہے کہ اللہ وہ ذات کبریا ہے۔ جس کے سامنے زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً ، کرھاً سجدہ ریز ہوتی ہے یہاں تک کہ ان کے سائے بھی صبح وشام اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔ سجدہ سے مراد حقیقی سجدہ بھی ہوسکتا ہے جو ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے مقرر کردہ اصول کے مطابق اپنے اپنے مقام پر…
Read the full tafseer →سب اللہ کے مطیع :
15: وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (اور اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کرنے والے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں) عبادت و اطاعت کا سجدہ طَوْعًا (خوشی سے) یہ حال ہے منؔ سے ملائکہ اور مومنین مراد ہیں۔ وَّکَرْھًا (مجبوری سے) منافق و کفار سختی و تنگی کی حالت میں وَّظِلٰلُھُمْ (اور انکے سائے) اسکا عطف منؔ پر ہے۔ ظلال جمع ظل ہے (سایہ) بِالْغُدُوِّ (صبح کے وقت) یہ غداۃ کی جمع جیسے قُنِیَّ وقناۃ وَالْاٰصَالِ (اور شام کے وقت) یہ جمع اصل جمع اصیل ہے ایک قول یہ ہے کہ ہر چیز کا سایہ اللہ تعالیٰ کو صبح و شام سجدہ کرتا ہے اور کافر کا سایہ مجبوراً سجدہ کرتا ہے کیونکہ کافر کو…
Read the full tafseer →15۔” وللہ یسجد من فی السموات والارض طوعا ً “ اس سے مراد فرشتے اور مؤمنین ہیں ۔ ” وکرھا “ منافقین و کافرین جو تلوار کے ڈر کی وجہ سے سجدہ کرتے ہیں ۔ ناپسندیدگی سے سرجھکاتے ہیں ۔ ” و ظلالھم “ بالتبع ان کے سائے بھی سر بسجود ہوتے ہیں ۔ مجاہد (رح) کا قول ہے مؤمنین کے سائے سجدہ کرتے ہیں خوشی سے کیونکہ مؤمنین کو سجدہ سے صرف رضا الٰہی مقصود ہوتا ہے اور کافر کا سجدہ مجبوری سے کیونکہ وہ سجدہ کرتا ہے مگر نا پسندیدگی کی وجہ سے۔” بالغدو والاصال “ جب وہ صبح و شام سجدہ کرتے ہیں تو ان کے سائے بھی ان کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں ۔ اصال جمع ہے اصیل کی عصر اور غروب شمس کے درمیان وقت کو کہا جاتا ہے، بعض نے کہا کہ ”…
Read the full tafseer →15۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی خبر دیتا ہے کہ زمین و آسمان کے سارے جن انسان فرشتے سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں یہاں تک کہ صبح ہوتے ہی جب آفتاب پورب سے پچھم کو جانے لگتا ہے اور شام کو جب سورج غروب ہونے لگتا ہے تو سب چیزوں کے سائے خدا کے سجدہ میں گرتے ہیں طوعا و کرہا کا مطلب مفسروں نے یہ بیان کیا کہ ہر ایمان دار شخص صحت کی حالت میں خوشی خوشی اس کی عبادت کرتا ہے اور بیماری اور تکلیف کے وقت کسی قدر تکلیف برداشت کر کے عبادت کو کھڑا ہوتا ہے بعضے مفسروں نے سجدہ کے معنے فرمانبرداری کے لئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک امر میں ہر شحص کافر ہو یا مومن خدا ہی کے حکم کا تابع ہے جیسے صحت مرض موت…
Read the full tafseer →یعنی زمین و آسمان کی ہر چیز اپنے رب کی مطیع اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہے (طوعا و کرھا) ” خوشی سے اور ناخوشی سے “ (طوعا) اس شخص کے لئے جو اختیاری طور پر اللہ کے سامنے جھکتا اور اسے سجدہ کرتا ہے جیسے اہل ایمان اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتے ہیں (کرھاً ) اس شخص کے لئے استعمال ہوا ہے جو تکبر کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت نہیں کرتا مگر خود اس کی فطرت اور اس کا حال اس کی تکذیب کرتے ہیں (آیت) ” اور ان کی پرچھائیاں صبح اور شام “ یعنی تمام مخلوقات کے سائے، صبح و شام اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ہر چیز کا سجدہ اس کے حسب حال ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” اس جہان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →46۔ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لئے سجدہ کرتے ہیں وہ سب جو کہ آسمانوں اور زمین کے اندر ہیں۔ سو اس سے تصریح فرما دی کہ پوری کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ ریز ہے خواہ یہ خوشی سے ہو یا مجبوری سے کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور ہر قسم کا سجدہ اور عبادت اسی کا حق ہے۔ جیسا کہ ایمان والے کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اس کے قرب اور اس کی رضاء و رحمت سے مشرف ہوتے ہیں۔ اور فوز و فلاح کی راہ اپناتے ہیں۔ وباللہ التوفیق۔ سو آسمان و زمین کی ہر چیز تکوینی طور پر اور اپنے اصل وجود میں اللہ تعالیٰ ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
مخلوقات کا اللہ کو سجدہ کرنا، نفع و نقصان کا مالک کون
تشریح : ان آیات میں زندگی کے بارے میں بہت بڑا راز اور ایک کلیہ بتایا گیا ہے۔ جو راہنمائی زندگی کے بارے میں قرآن پاک ہمیں دیتا ہے اس کے مطابق زندگی کی پہلی شرط یہ ہے کہ اللہ کو پہچان کر اس کی فرمانبرداری میں جھک جانا اور ہر لمحہ اس کی تعریف کرنا۔ اس کا مطب یہ ہوا کہ ایٹم زندگی کی بنیادی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے جو کہ زندہ ہے۔ ہر چیز کی زندگی کا معیار مختلف ہے۔ مگر یہ طے ہے کہ ہر چیز جو بھی اس جہاں میں موجود ہے وہ زندہ ہے اپنے خالق کو پہچانتی ہے اور اللہ کی دی ہوئی آزادی، فہم اور عقل کے مطابق اللہ کی عطا کی ہوئی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–18
رکوع نمبر 2 :
اسرارومعارف :
اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…
Read the full tafseer →ف 8 ۔ مومن خوشی سے اور کافر و منافق زور سے یعنی مجبوراً ۔
9 ۔ یعنی ان کے سایوں کو گھٹنا بڑھنا بھی اسی کے ارادہ اور مشیت سے ہے۔ صبح و شامل کا ذکر اس لئے کیا ان وقتوں میں زمین پر ہر چیز کا سایہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے اور عبادت کے لحاظ سے یہ دونوں عمدہ وقت ہیں۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : صبح اور شام کے وقت پر چھائیں زمین پر پسر جاتی ہیں یہی ان کا سجدہ ہے۔
Read the full tafseer →(13:15) طوعا۔ فرمانبرداری۔ مصدر ہے یہ کرہ کی ضد ہے۔
الطوع کے معنی ہیں بطیب خاطر تابعدار ہوجانا۔
کرھا۔ مصدر۔ اسم مصدر ۔ ناگوار ہونا۔ ناخوشی ۔ مجبوری۔ زبردستی ۔ خوف کے جذبہ کے تحت ناگواری اور دل کی کراہت سے کسی کام کو سر انجام دینا۔ وظللھم معطوف ہے من پر ای یسجد ظللھم اور ان کے سائے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں۔
بالغدو۔ الغدوۃ والغداۃ کے معنی دن کے ابتدائی حصہ کے ہیں۔ اس آیہ میں غدو۔ (غدوۃ کی جمع) اصال کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے جس کے معنی عصر اور مغرب کا وقت جسے عرف عام میں شام کہتے ہیں۔ اور اصال اور اصل جمع اصیل کی۔
بالغدو والاصال۔ صبح اور شام کے وقت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 15
البرق بجلی ۔ چمک طمع امید ینشئی وہ اٹھاتا ہے السحاب بادل الثقال بھاری یسبح تسبیح کرتا ہے الرعد کڑک خیفۃ (اس کے ) خوف (سے) یرسل وہ بھیجتا ہے الصواعق بجلیاں۔ کڑک یصیب وہ پہنچاتا ہے۔ گراتا ہے یجادلون وہ جھگڑتے ہیں شدید المحال سخت پکڑنے والا دعوۃ الحق سچائی کی پکار لایستجیبون وہ جواب نہیں دیتے ہیں باسط پھیلانے والا لیبلغ تاکہ وہ پہنچے فاہ منہ بالغ پہنچنے والا طوع خوشی کرہ مجبوری بےبسی ظلل (ظل) ۔ سائے الغدو صبح الاصال شام
تشریح : آیت نمبر 12 تا 15
یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ اس کی حقیقت کا تو ہمیں علم نہیں ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے البتہ اپنی معلومات اور تحقیق…
Read the full tafseer →سجدہ کا حکم
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی عظمت کی خبر دیتا ہے کہ زمین و آسمان کے سارے جن انسان فرشتے سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ صبح ہوتے ہی جب آفتاب مشرق سے مغرب کو جانے لگتا ہے اور شام کو جب سورج غروب ہونے لگتا ہے سب چیزوں کے سائے خدا کے حضور سجدہ میں گرتے ہیں۔ اس آیت کے پڑھنے اور سننے والے دونوں کو سجدہ کرنا چاہیے اور جو سجدہ نہ کرے گا گنہگار ہوگا۔
Read the full tafseer →[14] سربسجود ہونے سے مراد مطیع ہونا اور سرتسلیم خم کرنا ہے۔
[15] اشیاء کے سایوں کا سجدہ کرنے سے مراد ان کا صبح و شام مشرق و مغرب کی طرف گزرنا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ تمام چیزیں اللہ کے قانون کی پابند ہیں۔
Read the full tafseer →(ف 1) غرض یہ ہے کہ کائنات کا ہر طوعا وکرہا سجدہ کناں ہے اللہ کا تابع ہے اور مسخر ہے ، ہر چیز کی فطرت کچھ اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ خدا کو یاد کرے ، اس کے حکموں کا مانے اور اس کے بنائے ہوئے قاعدوں کے ماتحت رہے ۔
Read the full tafseer →15 ۔ اور جو مخلوق بھی آسمانوں میں اور زمین میں ہے وہ سب خوشی سے یا نا خوشی سے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے اپنا سر خم کئے ہوئے ہیں اور صبح و شام کے اوقات میں ان چیزوں کے سائے بھی سر خم کئے ہوئے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر چلتا ہے اور سب اس کے مطیع و منقاد ہیں کچھ وہ ہیں جو اپنی خوشی سے اس کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اس کے زیر تصرف ہیں اور اس کے حکم کے اثر و نفاذ کو اپنے پر سے ہٹا نہیں سکتے یہی مطلب ہے سجدے کا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو اللہ پر یقین لایاخوشی سے سررکھتا ہے اس کے حکم پر اور جو نہ یقین لایا آخر اس پر بھی اسی کا حکم جاری ہے اور پر…
Read the full tafseer →ف 3۔ خوشی سے یہ کہ باختیار خود عبادت کرتے ہیں اور مجبوری کے یہ معنی ہیں کہ اللہ جس مخلوق میں جو تصرف کرنا چاہتے ہیں وہ اس کی مخالفت نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کے آگے سجدہ ریز ہے خوشی سے یا مجبوری سے
27 ؎ ساری کی ساری مخلوقات اللہ ہی کے قانون تکوینی کی مطیع و منقاد ہے۔ ” وللہ یسجد “ اس ترکیب کے اقتضاء سے معنی یہ پیدا ہوئے کہ اللہ ہی کی مطیع و منقاد ہے نہ کسی اور کی ” جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے “۔ مراد ہے ساری مخلوق اور سجدہ سے مراد وہ شرعی سجدہ نہیں بلکہ اپنے اصل اور لغوی معنی میں ہے یعنی سب کے سب اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں اور اس کی مشیت کے مطیع و منقاد ہیں۔ (راغب)
چیزوں کے سائے گھٹتے بڑھتے ہیں تو یہ بھی توحید کا درس دے رہے ہیں
28 ؎ تمام مخلوق اس کے سامنے جھکی ہوئی ہے کوئی مانے یا نہ مانے لیکن ہر آنکھ دیکھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–15
In the next verse (13), it was said: وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ (And the thunder proclaims His purity with His praise, and [ so do ] the angels, out of His awe). In Arabic usage, the word: الرَّعْدُ (Ar-Ra` d)refers to the sound of the clouds generated by their collision. The sense of (Tasbih: the glorification of Allah) mentioned here is that of the same Tasbih about which it has been said in another verse of the Qur’ an: وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ 'And there is nothing in the heavens and the…
Read the full tafseer →24.“And to Allah falls in prostration whoever is in the heavens and the earth”in the same sense that every creation of His has to obey and submit to His Physical law in every detail. The only difference between the submission of a believer and an unbeliever is that the former submits to it with a willing heart while the latter is forced to do so against his will, for it is absolutely beyond his power to oppose it.
25.“Their shadows”in the sense that they fall to the west in the morning and to the cast in the evening and so on. This shows that they, too, have to submit to some law.
Read the full tafseer →