Ar-Ra'd 13:14

Ar-Ra'd · from ayah 14

13:14

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ؕ— وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَجِیْبُوْنَ لَهُمْ بِشَیْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّیْهِ اِلَی الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ ؕ— وَمَا دُعَآءُ الْكٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ ۟لَهٗ دَعۡوَةُ الۡحَـقِّ‌ؕ وَالَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِهٖ لَا يَسۡتَجِيۡبُوۡنَ لَهُمۡ بِشَىۡءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيۡهِ اِلَى الۡمَآءِ لِيَبۡلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِـغِهٖ‌ؕ وَمَا دُعَآءُ الۡكٰفِرِيۡنَ اِلَّا فِىۡ ضَلٰلٍ‏

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

To Him [alone] is the supplication of truth. And those they call upon besides Him do not respond to them with a thing, except as one who stretches his hands toward water [from afar, calling it] to reach his mouth, but it will not reach it [thus]. And the supplication of the disbelievers is not but in error [i.e. futility].

— Saheeh International

Juz 13 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ar-Ra'd

All translations of 13:14

اسی کو پکارنا برحق ہے رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں اُنہیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر اُس سے درخواست کرے کہ تو میرے منہ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اُس تک پہنچنے والا نہیں بس اِسی طرح کافروں کی دعائیں بھی کچھ نہیں ہیں مگر ایک تیر بے ہدف!

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی کو پکارنا حق ہے۔ جو لوگ اوروں کو اس کے سوا پکارتے ہیں وه ان (کی پکار) کا کچھ بھی جواب نہیں دیتے مگر جیسے کوئی شخص اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منھ میں پڑ جائے حاﻻنکہ وه پانی اس کے منھ میں پہنچنے واﻻ نہیں، ان منکروں کی جتنی پکار ہے سب گمراہی میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہی ہے جس سے دعا کرنا برحق ہے۔ اور اس کو چھوڑ کر یہ لوگ جن (دیوتاؤں) کو پکارتے ہیں وہ ان کی دعاؤں کا کوئی جواب نہیں دیتے، البتہ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو پانی کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ پانی خود اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ کبھی خود منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اور (بتوں سے) کافروں کے دعا کرنے کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ بھٹکتی ہی پھرتی رہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اسی کا پکارنا سچا ہے اور اُس کے سوا جن کو پکارتے ہیں وہ ان کی کچھ بھی نہیں سنتے مگر اس کی طرح جو پانی کے سامنے اپنی ہتھیلیاں پھیلائے بیٹھا ہے کہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ ہرگز نہ پہنچے گا، اور کافروں کی ہر دعا بھٹکتی پھرتی ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اسی کے لئے حق (یعنی توحید) کی دعوت ہے، اور وہ (کافر) لوگ جو اس کے سوا (معبودانِ باطلہ یعنی بتوں) کی عبادت کرتے ہیں، وہ انہیں کسی چیز کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ ان کی مثال تو صرف اس شخص جیسی ہے جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے (بیٹھا) ہو کہ پانی (خود) اس کے منہ تک پہنچ جائے اور (یوں تو) وہ (پانی) اس تک پہنچنے والا نہیں، اور (اسی طرح) کافروں کا (بتوں کی عبادت اور ان سے) دعا کرنا گمراہی میں بھٹکنے کے سوا کچھ نہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

برحق پکارنا صرف اسی کے لیے ہے اور جن کو وہ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی دعا کچھ بھی قبول نہیں کرتے، مگر اس شخص کی طرح جو اپنی دونوں ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلانے والا ہے، تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، حالانکہ وہ اس تک ہرگز پہنچنے والا نہیں اور نہیں ہے کافروں کا پکارنا مگر سراسر بےسود۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اسی کو پکارنا برحق ہے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ انھیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ انھیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف اپنے ہاتھ اس لئے پھیلائے کہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ پانی کبھی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ کافروں کی پکار بھی ایسے ہی (راہ میں) گم ہوجاتی ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

حقیقی پکارنا تو صرف اس کو پکارنا ہے، رہے وہ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں تو وہ ان کی کوئی بھی داد رسی نہیں کرسکتے۔ ان کو پکارنا ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف بڑھائے کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے در آنحالیکہ وہ کسی طرح اس کے منہ تک پہنچنے والا نہ ہو۔ ان کافروں کی فریاد محض صدا صحرا ہوگی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اسی کو پکارنا برحق ہے، اور جن ہستیوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں اس کے سوا وہ ان کے کچھ بھی کام نہیں آسکتیں، مگر جیسے کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے کہ وہ خودبخود اس کے منہ میں آجائے، حالانکہ (اس طرح) وہ کبھی بھی اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں، اور کافروں کا پکارنا محض گمراہی میں (اور سراسر اکارت) ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اسی کے لئے (خاص) ہے سچا پکارنا۔ اور جن کو (یہ لوگ) اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کا جواب اس سے زیادہ نہیں دے سکتے جتنا پانی (اسے جواب دے سکتا ہے) جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہو کہ وہ (پانی) اس کے منہ تک پہنچ جائے درآنحالیکہ وہ اس تک پہنچنے والا نہیں۔ اور کافروں کی پکار تو محض بےاثر ہی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اسی کا پکارنا حق ہے اور جن کو یہ لوگ پکار رہے ہیں اس کے سوا وہ ان کی دعا کو کسی طرح بھی قبول نہیں کرتے مگر جیسے کوئی پھیلا دے اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس (کے منہ) تک پہنچنے والا نہیں ہے اور کافروں کی دعا تو بالکل بےکار ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

برحق پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے، مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ دور ہی سے پانی اس کے منہ تک آپہنچے، حالانکہ وہ اس تک کبھی بھی نہیں آسکتا اور اسی طرح کفار کی پکار بیکار ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

To Him alone should all prayer be addressed, for those to whom they do address their prayers beside Him are altogether powerless to respond to them. The example of praying to any other than Allah is that of a man who stretches out his hands to water, asking it to reach his mouth, although water has no power to reach his mouth. The prayers of the unbelievers are a sheer waste.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

True prayers are to be directed to Him alone; and those to whom they pray instead of Him do not respond to them at all, but they are like one who stretches his hands towards water so that it may reach his mouth (by itself), while it is not to reach it. And the prayer of the disbelievers (that they make to false gods) is nothing but straying in void.

— Muhammad Taqi Usmani

True prayers are to be directed to Him alone; and those to whom they pray instead of Him do not respond to them at all, but they are like one who stretches his hands towards water so that it may reach his mouth (by itself), while it is not to reach it. And the prayer of the disbelievers (that they make to false gods) is nothing but straying in void.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

For Him is the Word of Truth. And those whom they invoke besides Him, answer them no more than one who stretches forth his hand for water to reach his mouth, but it reaches him not; and the invocation of the disbelievers is nothing but misguidance.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Him is the real prayer. Those unto whom they pray beside Allah respond to them not at all, save as (is the response to) one who stretcheth forth his hands toward water (asking) that it may come unto his mouth, and it will never reach it. The prayer of disbelievers goeth (far) astray.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

To Him [alone] is the supplication of truth. And those they call upon besides Him do not respond to them with a thing, except as one who stretches his hands toward water [from afar, calling it] to reach his mouth, but it will not reach it [thus]. And the supplication of the disbelievers is not but in error [i.e. futility].

— Saheeh International

Prayer to Him is the true prayer. Those to whom they pray instead of God will answer none of their prayers. It is as though one stretches his hands out to the water that can never reach his mouth. The prayers of the unbelievers will get nowhere.

— Muhammad Sarwar

To Him is due the true prayer; and those whom they pray to besides Allah give them no answer, but (they are) like one who stretches forth his two hands towards water that it may reach his mouth, but it will not reach it; and the prayer of the unbelievers is only in error.

— Muhammad Habib Shakir

Unto Him is the true call, and those whom they call upon beside Him answer them not at all, save as is answered one stretching out his palms to water that it may reach his mouth, while it will reach it not. And the supplication of the infidels only goeth astray.

— Abdul Majid Daryabadi

For Him (alone) is prayer in Truth: any others that they call upon besides Him hear them no more than if they were to stretch forth their hands for water to reach their mouths but it reaches them not: for the prayer of those without Faith is nothing but (futile) wandering (in the mind).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 13:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

دعوت حق حضرت علی بن ابو طالب ؓ فرماتے ہیں اللہ کے لئے دعوت حق ہے، اس سے مراد توحید ہے۔ محمد بن منکدر کہتے ہیں مراد لا الہ الا اللہ ہے۔ پھر مشرکوں کافروں کی مثال بیان ہوئی کہ جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے ہوئے ہو کہ اس کے منہ میں خود بخود پہنچ جائے تو ایسا نہیں ہونے کا۔ اسی طرح یہ کفار جنہیں پکارتے ہیں اور جن سے امیدیں رکھتے ہیں، وہ ان کی امیدیں پوری نہیں کرنے کے۔ اور یہ مطلب بھی ہے کہ جیسے کوئی اپنی مٹھیوں میں پانی بند کرلے تو وہ رہنے کا نہیں۔ پس باسط قابض کے معنی میں ہے۔ عربی شعر میں بھی قابض ماء آیا ہے پس جیسے پانی مٹھی میں روکنے والا اور جیسے پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والا پانی سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الرَّعْد 23 پکارنے سے مراد اپنی حاجتوں میں مدد کے لیے پکارنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حاجت روائی و مشکل کشائی کے سارے اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے صرف اسی سے دعائیں مانگنا برحق ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–15

(آیت) وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهٖ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ مِنْ خِيْفَتِهٖ ۚ یعنی تسبیح پڑھتا ہے رعد اللہ تعالیٰ کے حمد وشکر کی اور تسبیح پڑھتے ہیں فرشتے اس کے خوف سے رعد، عرف ومحاورہ میں بادل کی آواز کو کہا جاتا ہے جو بادلوں کے باہمی ٹکراؤ سے پیدا ہوتی ہے اس کے تسبیح پڑھنے سے مراد وہی تسبیح ہے جس کے متعلق قرآن کریم ایک دوسری آیت میں آیا ہے کہ زمین و آسمان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کی تسبیح نہ کرتی ہو لیکن یہ تسبیح عام لوگ سن نہیں سکتے۔ اور بعض روایات و حدیث میں ہے کہ رعد اس فرشتہ کا نام ہے جو بارش برسانے پر مسلط ہے اور مامور ہے اس معنی کے اعتبار سے تسبیح پڑھنا ظاہر ہے، (آیت)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آگے کا مضمون۔ آیات 14 تا 16:۔ آگے چند آیات میں یہ حقیقت واضح فرما دی کہ جو لوگ اپنے خیالی معبودوں کے اعتماد پر خدا کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں وہ محض انپی شامت کو دے رہے ہیں۔ خدا کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے۔ وہ وحدہ لا شریک ہے۔ نتیجہ خیز پکارنا صرف خدا ہی کو پکارنا ہے۔ اس کے سوا دوسروں کو پکارنا محض صدا بصحرا ہے۔ اس روشنی میں آگے کی آیات کی تلاوت فرمائیے :۔ لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ ۭ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ۔ نتیجہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 یعنی خوف اور امید کے وقت اسی ایک اللہ کو پکارنا صحیح ہے کیونکہ وہی ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور قبول فرماتا ہے یا دعوت۔ عبادت کے معنی میں ہے یعنی، اسی کی عبادت حق اور صحیح ہے اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں، کیونکہ کائنات کا خالق، مالک اور مدبر صرف وہی ہے اس لئے عبادت صرف اسی کا حق ہے۔ 14۔ 2 یعنی جو اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو مدد کے لئے پکارتا ہیں۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص دور سے پانی کی طرف اپنی دونوں ہتھلیاں پھیلا کر پانی سے کہے کہ میرے منہ تک آجا، ظاہر بات ہے کہ پانی جامد چیز ہے، اسے پتہ ہی نہیں کہ ہتھیلیاں پھیلانے والے کی حاجت کیا ہے، اور نہ اسے پتہ ہے کہ وہ مجھ سے اپنے منہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–14

17: بادلوں کی گرج کا حمد اور تسبیح کرنا حقیقی معنی میں بھی ہوسکتا ہے ؛ کیونکہ کائنات کی ہر چیز کے بارے میں قرآن کریم نے سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے اپنے انداز میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح کرتی ہے مگر لوگ ان کی تسبیح کو سمجھتے نہیں ہیں (15۔ 44) اور اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو شخص بھی بادلوں کی گرج، چمک اس کے اسباب اور اس کے نتائج پر غور کرے گا، وہ دنیا کے کونے کونے تک پانی پہنچانے کے اس حیرت انگیز نظام کو دیکھ کر اس خالق ومالک کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکتا جس نے یہ نظام بنایا ہے، نیز وہ اس نتیجے تک ضرور پہنچے گا جس ذات نے یہ محیرا لعقول نظام بنایا ہے، وہ ہر عیب سے پاک…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–16

اب سیاق کلام ہمیں ایک دوسری وادی میں لے جاتا ہے۔ یہ وادی بھی اس کے ساتھ متصل اور مربوط ہے جس میں ہم ابھی گھوم رہے تھے۔ یہ وادی وہ ہے جہاں طبعی مناظر اور نفس انسانی کے شعور کے مناظر باہم ملتے ہیں۔ اس وادی کے مناظر طبیعی ، ان کا پرتو اور ان کے اثرات انسانی شعور کی تصویر میں باہم جمع ہوجاتے ہیں۔ خوف ، ڈر ، جدو جہد ، امید اور خوف باہم ملے ہوئے ہیں اور انسانی شعور اس وادی میں مختلف تاثرات لیتا ہے۔ آیت 12 تا 16 چمک ، گرج اور بادل عام مناظر ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات ان مناظر میں سے برق بھی گرتی ہے۔ یہ وہ مناظر ہیں جو ہر انسان کو متاثر کرتے ہیں چاہے کوئی ان کی طبعی حقیقت سے واقف ہو یا نہ ہو ، یہاں قرآن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی پکارنا اسی کو چاہیے جو ہر قسم کے نفع و ضرر کا مالک ہے عاجز کو پکارنے سے کیا حاصل ؟ اللہ کے سوا کون ہے جس کے قبضہ میں اپنا یا دوسروں کا نفع و ضرر ہے ؟ غیر اللہ کو اپنی مدد کے لیے بلانا ایسا ہے جیسے کوئی پیاسا کنوئیں کی من پر کھڑا ہو کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلائے اور خوشامد کرے کہ میرے منہ میں پہنچ جا۔ ظاہر ہے قیامت تک پانی اس کی فریاد کو پہنچنے والا نہیں۔ بلکہ اگر پانی اس کی مٹھی میں ہو تب بھی خود چل کر منہ تک نہیں جاسکتا۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ کافر جن کو پکارتے ہیں بعضے محض خیالات و اوہام ہیں، بعضے جن اور شیاطین ہیں، اور بعضی چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں۔ لیکن اپنے خواص کی مالک…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ یعنی اللہ ہی ایک ہستی ہے جس کو پکارنا جس سے دعا کرنا برحق ہے کیونکہ ایک وہی ہے جو تمہاری پکار کو سنتا ہے تمہاری حاجت کو جانتا ہے تمہاری حاجت روائی کرنے پر قادر ہے اس لیے اس کو پکارنا حق بھی ہے اور سود مند بھی۔ اسے چھوڑ کر کسی اور کو پکارو گے چاہے وہ کوئی فرشتہ ہو ولی ہو یا نبی کوئی تمہاری پکار اور فریاد کو نہیں سنے گا اور جیسا کہ اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے تمہاری ہر ایسی پکار اکارت جائے گی۔ اس فقرے کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ”اسی کی دعوت حق ہے“۔ یعنی جس چیز کی دعوت وہ دے رہا ہے جس راستے کی طرف وہ بلا رہا ہے وہی حق ہے۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 من دون اللہ کو پکارنے کی مثال :۔ اس لیے کہ وہ پکار سنتا ہے پھر پکارنے والے کی پکار کو قبول کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے۔ رہے مشرکین جو دوسرے معبودوں کو پکارتے ہیں تو ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی پیاسا پانی دیکھ کر ہاتھ پھیلائے ہوئے اسے پکارے کہ آؤ ذرا آکر میری پیاس بجھاؤ۔ ظاہر ہے کہ پانی نہ تو کسی کی پکار سن سکتا ہے نہ ہی پیاسے کے پاس آنے کی قدرت رکھتا ہے۔ لہذا پیاسے کی ایسی پکار ایک لغو اور بےکار فعل ہوتا ہے۔ اسی طرح معبودان باطل کو ہزار بار بھی پکارا جائے تو وہ کچھ سن ہی نہیں سکتے، اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو ایسے بےبس اور مجبور محض ہیں کہ وہ دعا کو قبول کرنے کی قدرت ہی نہیں رکھتے۔ اب وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25۔ یعنی حقیقی دعا صرف اسی کے حضور میں ہوسکتی ہے، سننے کی قوت، قبول کرنے کی قوت اسی اکیلے میں تو ہے، اس کے علاوہ کسی اور سے دعا مانگنا حماقت محض اور سفاہت خالص نہیں تو اور کیا ہے ؟ کسی اور میں کوئی اختیار ہی کب ہے ؟ 26۔ یہ غیر خدا کے آگے عرض نیاز کرنے، دعا مانگنے کی مثال دی ہے کہ جیسے کوئی احمق پیاسا پانی جیسی بےجان، بےارادہ، لایعقل چیز کی طرف اسی امید پر ہاتھ پھیلائے رہے کہ پانی از خود اس کے منہ تک پہنچ کر اس کی پیاس بجھائے گا تو اس سے بڑھ کر حماقت اور کیا ہوگی، اسی طرح یہ احمق دعا کے ذریعہ سے فریاد رسی اسی سے چاہتے ہیں جو سرے سے قادر ہی فریاد رسی پر نہیں ! 27۔ (اس لئے کہ وہ تو غیر اللہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–18

آیت نمبر 8 تا 18 ترجمہ : اللہ بخوبی جانتا ہے کہ مادہ کس چیز سے حاملہ ہے ؟ آیا لڑکا ہے یا لڑکی اور ایک ہے یا متعدد وغیرہ وغیرہ اور مدت حمل میں جو کمی بیشی ہوتی ہے اس کو بھی جانتا ہے ہر چیز اس کے نزدیک مقدار اور تحدید کے ساتھ ہے کہ اس (مقررہ مقدار) سے تجاوز نہیں ہوتا، پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے وہ عظیم اور اپنی مخلوق پر قوت کے ذریعہ غالب ہے، (المتعال میں) یاء اور بغیر یاء دونوں قراءتیں ہیں تم میں سے کوئی شخص خواہ آہستہ بات کرے یا زور سے، اللہ تعالیٰ کے علم میں سب برابر ہے اور وہ جو رات کی تاریکی میں چھپا ہو اور (یا) دن میں راستہ میں چلنے (پھرنے) کی وجہ سے ظاہر ہو ہر انسان کے ساتھ آگے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لہ دعوۃ الحق سچا پکارنا اسی کیلئے خاص ہے ‘ یعنی اسی کی دعوت واجب القبول ہے اور دوسرے کی دعوت قابل قبول نہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اسی کی سچی پکار ہے ‘ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کی عبادت کی طرف بلایا جائے اور اسی سے حاجتیں پوری کرنے کی دعا کی جائے۔ یا دعوۃ الحق سے مراد ہے : اخلاص کے ساتھ دعا کرنا ‘ یعنی اخلاص کے ساتھ دعا اسی سے کی جاسکتی ہے۔ ان تمام توجیہات پر حق سے مراد ہوگا : وہ مفہوم جو باطل کی ضد ہے۔ دعوۃ موصوف ہے ‘ الحق صفت۔ موصوف کو صفت کی طرف مضاف کردیا گیا ہے ‘ جیسے مسجد الجامع اور جانب الغربی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الحق کا موصوف المدعو محذوف ہو ‘ یعنی دعوۃ الحق…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) سچا پکارنا یعنی دین حق شہادۃ ان الاالہ الا اللہ“۔ اور یہی سچا پکارنا ہے اسی کے لیے خاص ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور جن کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں وہ ان کی پکار پر انکو اس سے زیادہ نفع نہیں پہنچا سکتے، جتنا کہ پانی اس شخص کو نفع پہنچاتا کہ وہ شخص دور دراز سے اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے ہوئے ہوتا کہ پانی اس کے منہ میں اڑ کر پہنچ جائے اور اس حالت میں پانی کبھی بھی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا سو جیسا کہ پانی کبھی بھی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا اسی طرح بتوں کی پوجا بھی اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتی اور کافروں کی یہ عبادت محض باطل ہے جس سے یہ لوگ گمراہ ہو رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ : یہاں موصوف اپنی صفت کی طرف مضاف ہے، یعنی سچا اور برحق پکارنا صرف اسی کو پکارنا ہے، دوسرے کسی کو بھی پکارنا باطل ہے۔ کیونکہ دور و نزدیک سے ہر ایک کی پکار سنتا بھی وہی ہے، ہر ایک کے احوال سے واقف بھی وہی ہے اور ہر ایک کی حاجت پوری کرنے کی قدرت بھی صرف وہی رکھتا ہے، کسی اور میں ان صفات میں سے کوئی صفت بھی نہیں۔ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ۔۔ : ”يَدْعُوْنَ“ کی ضمیر مشرکین کے لیے ہے، یعنی اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے تاکہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے، اب پانی نہ اس کی بات سنتا ہے، نہ سمجھتا ہے اور نہ یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 14 قولہ تعالیٰ : لہ دعوۃ الحق یعنی اللہ کو پکار ناسچ ہے۔ حضرت ابن عباس، حضرت قتادہ اور دیگر لوگوں نے کہا : لا الہ الا اللہ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ حضرت حسن نے کہا : بیشک اللہ ہی حق ہے، پس اس کی دعوت، دعوت حق ہے۔ ایک قول یہ ہے : دعا میں اخلاص حق کی پکار ہے، یہ بعض متاخرین کا قول ہے۔ ایک قول کے مطابق : حق کی دعوت، خوف کے وقت اس سے دعا ہے، خوف میں صرف اسی سے دعا کی جاتی ہے، جس طرح کہ اللہ کا ارشاد ہے : ضل من تدعون الا ایاہ (الاسراء :67) جس نے اس کے علاوہ کو پکارا وہ گمراہ ہوگیا۔ ماوردی نے کہا : یہ سیاق آیت کے مشابہہ ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا : والذین یدعون من دونہ اس سے مراد بت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

بتوں میں حاجت روائی کی طاقت نہیں : 1:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ دعوۃ الحق “ سے مراد ہے التوحید یعنی لا الہ الا اللہ۔ 2:۔ عبدالرزاق والفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لہ دعوۃ الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کی شہادت۔ 3:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لہ دعوۃ الحق “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے لا الہ الا اللہ اس کے علاوہ کسی کو یہ لائق نہیں اور کسی کو یہ لائق نہیں کہ یہ کہا جائے کہ بنو فلاں کا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَهٗ : اس کے لئے ہی ہے ] [دَعْوَةُ الْحَقِّ : حق کی پکار ] [ وَالَّذِينَ : اور جن لوگوں کو ] [يَدْعُوْنَ : یہ لوگ پکارتے ہیں ] [مِنْ دُوْنِهٖ : اس کے علاوہ ] [لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ : وہ جواب نہیں دیتے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [بِشَيْءٍ : کسی چیز کا ] [ اِلَّا : سوائے اس کے کہ ] [كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ : (وہ) اپنی دونوں ہتھیلیوں کو پھیلانے والے کی مانند ہے ] [ اِلَى الْمَاۗءِ : پانی کی طرف ] [ لِيَبْلُغَ : کہ وہ پہنچے ] [ فَاهُ : اس کے منہ کو ] [وَ : حالانکہ ] [مَا : نہیں ہے ] [هُوَ : وہ ] [بِبَالِغِهٖ : پہنچنے والا اس کو ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کی دعا ] [اِلَّا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غیر اللہ سے مانگنے والوں کی مثال ‘ سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں وہ آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے سب کو اسی نے پیدا فرمایا ہے وہ واحد ہے قہار ہے ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو پکارنا اور اس سے دعا کرنا ہی سچی پکار ہے اور صحیح پکار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی سب کی پکار سنتا ہے اور دعائیں قبول فرماتا ہے وہ سمیع الدعاء ہے قادر مطلق ہے قاضی الحاجات ہے ‘ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مشرک ہیں وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کو پکارتے ہیں یہ لوگ جن کو پکارتے ہیں وہ خود عاجز محض ہیں کسی کی پکار پر کوئی بھی مدد نہیں کرسکتے ان لوگوں کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہتھیلیاں پھیلائے ہوئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–16

رجوع برائے مضمون توحید قال اللہ تعالیٰ : اللہ یعلم ما تحمل کل انثی .... الیٰ .... وھو الواحد القھار۔ (ربط) گزشتہ آیات میں منکرین نبوت اور منکرین بعث بعد الموت کے شبہات کا جواب تھا اور اس سے قبل توحید کا مضمون تھا اب پھر توحید ہی کا مضمون بیان فرماتے ہیں اس ذیل میں اول حق تعالیٰ نے اپنا عالم بجمیع معلومات ہونا بیان کیا چناچہ اللہ یعلم الخ سے اپنا وسیع العلم ہونا بیان کیا کہ اللہ کا علم تمام کائنات کو محیط ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں بعد اذاں اپنا حافظ خلق اور رقیب ہونا بیان کیا چناچہ لہ معقبات سے یہ بتلا دیا کہ وہی تمام مخلوق کا محافظ اور نگہبان ہے بعد ازاں ھو الذی یریکم البرق الخ سے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15:۔ یہ مذکورہ تین دلائل عقلیہ کا چمرہ ہے ظرف کی تقدیم مفید حصر ہے۔ ” دَعْوَۃُ الْحقّ “ سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی خالصپکار مراد ہے۔ ” قال علی ؓ دعوۃ الحق التوحید قال ابن عباس شہادۃ ان لا الہ الا اللہ “ (خازن و معالم ج 4 ص 11) ۔ یعنی دلائل بالا سے ثابت ہوگیا کہ سب کچھ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں تو پھر خوف ورجاء میں صرف اللہ ہی کو پکارو۔ ” قیل دعوۃ الحق دعاء ہ عند الخوف فانہ لا یدعی فیہ الا ایاہ کما قال ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّا اِیَّاہُ “ قال الماوردی وھو اشبہ بسیاق الایۃ (قرطبی ج 9 ص 300) ۔ 16:۔ یہاں ایک تمثیل سے سمجھایا کہ مشرکین جن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–14

(ربط آیات) یہ آیات بھی پہلی آیات کے ساتھ ہی مربوط ہیں ، ان میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں ، گذشتہ درس میں انسان کی پیدائش کے ضمن میں رحموں کا گھٹنا بڑھنا اور مدت حمل کے متعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بیان تھا ، اللہ کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے جس کے مطابق وہ تمام امور کے فیصلے کرتا ہے کوئی شخص کسی چیز کو چھپائے یا ظاہر کرے ، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ رات کی تاریکی میں چھپنے والے اور دن کے وقت چلنے پھرنے والے ہر نفس سے واقف ہے ، اس نے انسان کی جان اور اعمال کی حفاظت کے لیے فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو یکے بعد دیگرے آکر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں پھر جب تک…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَهٗ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۭ وَالَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَجِيْبُوْنَ لَهُمْ بِشَيْءٍ اِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ اِلَى الْمَاۗءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهٖ ۭ وَمَا دُعَاۗءُ الْكٰفِرِيْنَ اِلَّا فِيْ ضَلٰلٍ 14؀ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–14

1 ؎ الثقال جمع ثقیلہ والسحاب جمع سحابۃ وقیل جنس 12 منہ قال الازہری المحال فعال من المحل بمعنی القوۃ والمیم اصلیۃ وقال ابن قتیبۃ اصلہ مقعل من الحول اذا لحیلۃ جعل المیم کمیم المکان واصلہ من الکون ومعناہ المکر والقوۃ والاخذ والحول والعداوۃ و ذھب الی کلوا حدذاہب 12 منہ تفسیر : ان آیات میں اپنی قدرت کے چند دلائل بیان فرماتا ہے۔ اول برق یعنی بجلی کا چمکنا کہ جس سے مینہ کی امید اور جل جانے کا خوف ہوتا ہے۔ بادلوں میں پانی بھرا ہوتا ہے۔ ان میں سے ایسی آگ اور یہ روشنی پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ دوم دہر میں پانی کے بھرے ہوئے بادلوں کا اٹھانا جو ہفتوں برستے ہیں حالانکہ پانی کا حیز طبعی پستی ہے۔ سوم رعد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ ط وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لاَ یَسْتَجِیْبُوْنَ لَھُمْ بِشَیْ ئٍ اِلاَّ کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلیَ الْمَآئِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ھُوَبِبَالِغِہٖ ط وَمَا دُعَآئُ الْکٰفِرِیْنَ اِلاَّ فِیْ ضَلٰلٍ ۔ (سورۃ الرعد : 14) (اسی کو پکارنا سچ ہے، رہے وہ لوگ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں۔ وہ انھیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ ان کا پکارنا ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ وہ اس کے منہ میں پہنچ جائے۔ درآنحالیکہ وہ کسی طرح اس کے منہ پر پہنچنے والا نہ ہو۔ ان کافروں کی فریاد محض صدا بصحرا ہوگی۔ ) نتیجہ خیز پکارنا صرف اللہ تعالیٰ کو پکارنا ہے گزشتہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کافر اور مشرک کو توحید کے ٹھوس دلائل دینے کے بعد اسے دعوت دی گئی ہے کہ وہ صرف ایک اللہ کو پکارے۔ لہٰذا ذات حق اور اس کی بات پر ایمان لاؤ۔ مشرک کا غیر اللہ کو پکارنا اس قدر بےفائدہ اور بےحیثیت ہے جس طرح کوئی شخص نہریا کنویں کے کنارے کھڑا ہو کر پانی کی طرف ہاتھ پھیلا کر آواز پر آواز دے کہ اے پانی میری پیاس بجھادے لیکن وہ پانی کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتا ایسا شخص پانی کے کنارے کھڑا ہو کر تڑپ تڑپ کر مرسکتا ہے مگر پانی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ یہی صورت حال مشرک کی ہوتی ہے اس کی اپنے معبودوں کے سامنے آہ و پکار گمراہی کے سوا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مشرک بظاہر اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سچی پکار اللہ تعالیٰ کی : 14: لَہٗ دَعْوَ ۃُ الْحَقِّ (سچا پکارنا اسی کیلئے خاص ہے) دعوت کی اضافت حق کی طرف کی گئی جو کہ باطل کی ضد ہے تاکہ دعوت کا حق کے ساتھ ملا ہو اہونا اور باطل سے الگ ہونا معلوم ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پکارا جاتا ہے تو وہ پکارنے والے کی پکار کو قبول کرتا اور اسکا مطلوب اسے عنایت فرماتا ہے یہ پکار حق کے ساتھ اس لئے ملی ہوئی تھی کیونکہ اسکی ذات اسکے لائق ہے کہ دعا کو اسکی طرف متوجہ کیا جائے کیونکہ اسکی پکار میں فائدہ اور نفع ہے بخلاف انکی پکار کے جنکی پکار سے کوئی فائدہ نہیں۔ شدید المحال اور لہ دعوۃ الحق کا ماقبل سے تعلق واقعہ اربد کے سلسلہ میں تو ظاہر ہے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

لہ دعوۃ الحق کی تفسیر تفسیر 14۔” لہ دعوۃ الحق “ اس سے مراد اللہ کے لیے سچائی کی دعا کرنا ۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ” دعوۃ حق “ سے مراد توحید ہے۔ ابن عباس ؓ نے کہا کہ ” دعوۃ الحق “ سے مراد ” شھادۃ ان لا الہ الا اللہ “ بعض نے کہا کہ اس سے مراد اخلاص سے دعا کرنا اور خالص دعا صرف اللہ عزوجل کے لیے ہوتی ہے۔ ” والذین یدعون من دونہ “ اور بتون کی پوجا کرتے ہیں اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر ” لا یستجیبون لھم شیئ “ نہ ان سے کسی بات کا جواب دیتے ہیں نہ نفع کا اور نہ ضرر کا ۔ ” الا کباسط کفیہ الی الماء لیبلغ فاہ وما ھو ببالغیہ “ اس ہاتھ پھیلانے والے کی طرح تا کہ وہ پانی کو پکڑسکے اور پانی کو پکڑنے والا اس کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

14۔ اللہ پاک اس آیت میں ان لوگوں کی مثال بیان فرماتا ہے جو خدا کے سوا اوروں کی عبادت کرتے ہیں فرمایا کہ خدا ہی کو ہر ایک کام میں پکارنا اور اسی سے ہر ایک مشکل میں مدد کا چاہنا حق ہے اور جو لوگ خدا کو چھوڑ کر اور کسی کو پکارتے ہیں اور مدد چاہتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ہاتھ کو پانی کی طرف بڑھا کر کہے کہ اے پانی تو میرے منہ میں آجا حالانکہ ایسی حالت میں نہ آسکے منہ تک پانی آسکتا ہے نہ اس کا مطلب حاصل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مشرکین جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں ان کو کوئی فائدہ دنیا یا آخرت میں نہ ہوگا اسی واسطے فرمایا کہ کافروں کی جو یہ خدا کے سوا اوروں سے کرتے ہیں بالکل ضائع جاتی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(لہ دعوۃ الحق) ” سود مند پکارنا تو اسی کا ہے۔ “ یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دعوت حق ہے۔ دعوت حق سے مراد، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو صرف اسی کے لئے خالص کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو پکارا جائے، اس سے ڈرا جائے، اس پر امیدیں باندھی جائیں، اس سے محبت کی جائے، اس کی طرف رغبت رکھی جائے، اس سے خوف کھایا جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ اسی کی الوہیت حق ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔ (آیت) ” اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں “ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو، جن کو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–43

تغیض الارحام کی تشریح قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42۔ اللہ ہی کو پکارنا برحق ہے : چنانچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصروقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ معبود برحق بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو ان سب دلائل وبراہین سے ثابت اور واضح ہوگیا کہ حاجت رواومشکل کشا وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ نیز ہدایت وارشاد کی جس راہ کی طرف وہ اپنے بندوں کو بلاتاپکارتا ہے، وہی راہ راہ حق اور طریق صدق وصواب ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا (ان ھدی اللہ ھو الھدی) الفاظ کا عموم اگرچہ ان دونوں مفہوموں کو شامل ہے لیکن سیاق کلام کے لائق پہلا مفہوم ہی ہے کہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اسی کو پکارنا برحق ہے۔ وہی ہر کسی کو پکارکوسنتا اور اس کی حاجت کو پورا فرماتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–14

بجلی کی کڑک باعث رحمت بھی ہے اور عذاب بھی تشریح : ان آیات میں اللہ کی قدرت اور اس کی وہ عنایت بتائی گئی ہے جو بجلی کی کڑک سے بادل کی چمک اور بارش کی فراہمی سے انسانوں پر کی جاتی ہے۔ جب ہوائیں بھاری بھاری پانی سے بھرے ہوئے بادلوں کو چلاتی ہیں تو بادل کے آپس میں رگڑ کھانے سے بڑی خوف ناک گرج پیدا ہوتی ہے اور انتہائی تیز چمک بھی ان دونوں چیزوں سے اللہ اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے۔ انسان اس گرج دار آواز سے خوف بھی کھاتا ہے اور خوش بھی ہوتا ہے کیونکہ یہ دونوں چیزیں اس کے لیے انتہائی فائدہ مند اور مفت ہوتی ہیں۔ بارش کا پانی کھیتوں کو سیراب کرتا ہے اور موسم کو معتدل، خوشگوار اور فضاء کو ہر قسم کے گرد و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–18

رکوع نمبر 2 : اسرارومعارف : اللہ جل جلالہ انسانی ضروریات سے پوری طرح واقف ہے اس کا علم تو اس قدر وسیع ہے کہ نہ صرف دنیا میں بلکہ ماؤں کے پیٹوں میں قرار پکڑنے والے حمل اور اس کی ہر ہر لمحہ کی گھٹنی بڑھتی اور تبدیل ہوتی ہوئی صورت کو جانتا ہے اور آج تک طب اور جدید سائنس نے بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اگر اندازہ لگا بھی لیا کہ حمل سے بچی پیدا ہوگی یا بچہ تو ان کا یہ علم بھی محض ایک اندازہ ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا اور صرف یہ اندازہ کو لینا ہی تو کافی نہیں اس کا رنگ ، قد کاٹھ ، صحت ، عرم اور عملی استعداد یا دنیا میں زندگی کی کن منازل سے گذرے گا ، غرض ہر پیدا ہونے واے انسان کے کوائف کی ایک بہت لمبی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 ۔ یعنی اپنی حاجتیں اور مرادیں پوری کرانے کے لئے اسی کو پکارنا برحق ہے۔ کیونکہ وہ ہر ایک کی سنتا اور اسے پورا کرانے کی قدرت رکھتا ہے۔ 7 ۔ جس کا کوئی نتیجہ نہیں۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں : کافر جن کو پکارتے ہیں۔ بعض خیال ہیں اور بعض جن ہیں اور بعض چیزیں ہیں کہ ان میں کچھ خواص ہیں لیکن اپنے خواص کے مالک نہیں پھر کیا حاسل ان کا پکارنا ؟ جیسے آگ یا پانی اور شاید ستارے بھی اسی قسم میں ہوں یہ اس کی مثال فرمائی۔ (موضح) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(13:14) لہ میں ہُ ضمیر واحد مذکر غائب اللہ کے لئے ہے۔ دعوۃ الحق۔ دعوۃ۔ دعا۔ پکار۔ پکارنا۔ دعا یدعوا کا مصدر ہے۔ الحق ۔ سچ۔ صاحب کشاف نے لکھا ہے کہ : الحق کا کلمہ یا تو سچ جو باطل کی نقیض ہے کے معنی میں ہوگا۔ یا اللہ تعالیٰ کا اسم ہوگا تو پھر یہ دعوۃ کی صفت ہوگی۔ لیکن مرکب توصیفی کی جگہ مرکب اضافی ذکر ہوا ہے۔ اور لغت عرب میں موصوف کو صفت کی طرف مضاف کردیا جاتا ہے جیسے کلمۃ الحق یا مسجد الجامع۔ یا مکۃ المکرمۃ۔ دعوۃ الحق۔ یعنی وہ دعا جو سچی اور درست ہے اور جو قبول ہوتی ہے وہ وہی دعا ہے جو اللہ تعالیٰ کی پاک ذات سے کی جاوے۔ اور اگر الحق۔ اسماء الٰہی میں سے ہے تو اس وقت معنی ہوگا۔ دعوۃ المدعو الحق…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–15

لغات القرآن آیت نمبر 12 تا 15 البرق بجلی ۔ چمک طمع امید ینشئی وہ اٹھاتا ہے السحاب بادل الثقال بھاری یسبح تسبیح کرتا ہے الرعد کڑک خیفۃ (اس کے ) خوف (سے) یرسل وہ بھیجتا ہے الصواعق بجلیاں۔ کڑک یصیب وہ پہنچاتا ہے۔ گراتا ہے یجادلون وہ جھگڑتے ہیں شدید المحال سخت پکڑنے والا دعوۃ الحق سچائی کی پکار لایستجیبون وہ جواب نہیں دیتے ہیں باسط پھیلانے والا لیبلغ تاکہ وہ پہنچے فاہ منہ بالغ پہنچنے والا طوع خوشی کرہ مجبوری بےبسی ظلل (ظل) ۔ سائے الغدو صبح الاصال شام تشریح : آیت نمبر 12 تا 15 یہ کائنات اور اس کا نظام کیا ہے ؟ اس کی حقیقت کا تو ہمیں علم نہیں ہے اس کا علم صرف اللہ کو ہے البتہ اپنی معلومات اور تحقیق…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شرک کا بیان اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں، ان کو کوئی فائدہ دنیا یا آخرت میں نہ ہوگا۔ اسی واسطے فرمایا کہ کافروں کی دعا جو خدا کے سوا اوروں سے کرتے ہیں بالکل ضائع ہوجاتی ہے اور بالکل گمراہی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[12] پکارنے سے مراد حاجت روائی کے لئے پکارنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے سارے اختیارات اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں اس لئے دعا صرف اسی سے مانگنی چاہئے۔ [13] کافروں کی جو دعائیں بظاہر مقبول معلوم ہوتی ہیں ان واقعات کا تعلق دعا سے بالکل نہیں ہوتا۔ ان کی وہ آرزوئیں بغیر دعا کے اور نظام ربوبیت کے اسباب و مصالح کے تحت پوری ہوجاتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) مشرکوں کو بتایا ہے کہ صرف اللہ کا پکارو ، اسی کو یاد کرنا اور اس کے سامنے اپنی ضروریات پیش کرنا چاہئے ، وہی سنتا ہے اور قبول کرتا ہے وہی ہماری تکلیفوں سے ہمیشہ آگاہ اور واقف رہتا ہے ، وہی حقیقی فریاد رس ہے ، وہی درد پنہاں کا جاننے والا ہے ، وہی قریب ہے مجیب ہے ، اس کے سوا تم جس کو پکارو گے ، وہ نہ کچھ سنے گا اور نہ کوئی مدد کرسکے گا یہ دنیا اسباب وذرائع کی دنیا ہے مگر کوئی شخص چاہے کہ وہ ہاتھ نہ ہلائے اور پانی کو یں میں سے اس کے منہ تک خود بخود آجائے تو ناممکن ہے ، اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوگی اسی طرح اگر کوئی شخص توحید وتجرید کے باب اجابت کو چھوڑ کر کسی دوسرے ذریعے اور توسل کو دعا کی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14 ۔ اسی کا پکارنا سچ ہے اور سچا پکارنا اسی کیلئے خاص ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کا اس سے زیادہ کوئی جواب نہیں دے سکتے اور اس سے زیادہ ان کی پکار کو قبول نہیں کرسکتے جیسے پانی کہ اس پانی کی طرف کوئی دونوں ہاتھ پھیلا کر یہ چاہے کہ وہ پانی اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں اور کافروں کی پکار نہیں ہے مگر بےسود اور بیکار ۔ یعنی دعا اور عبادت کی دو قسمیں ہیں ایک حق اور دوسری باطل پس جو پکار اور عبادت حق ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو پکارنا اور دوسروں کی عبادت کرنا باطل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اس کے قبول کرنے کی قدرت ہے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–14

ف 1۔ کیونکہ اس کو قبول کرنے کی قدرت ہے۔ 2۔ پس جس طرح پانی ان کی درخواست قبول کرنے سے عاجز ہے اس طرح ان کے معبود عاجز ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پکارنا اس کا حق ہے غیر اللہ کو پکارنے والوں کی مثال پانی کو مٹھی میں بند کرنے کی ہے 25 ؎ فرمایا حقیقی دعا صرف اللہ ہی کے حضور میں ہو سکتی ہی ‘ سننے کی قوت ‘ قبول کرنے کی قوت اس اکیلے میں تو ہے اس کے علاوہ کسی اور سے دعا مانگنا حماقت محض اور خالصتہ بیوقوفی کی دلیل ہے کسی اور میں کوئی اختیار ہی کب ہے ؟ قرآن کریم کا یہ اسلوب بیان عام ہے کہ توحید ربوبیت و خالقیت سے توحید الوہیت پر استدلال کرتا ہے چناچہ زیر نظر آیت میں بھی یہی ہوا اور سلسلہ بیان اس طرف پھر گیا ہے فرمایا عبدیت کی سچی پکار وہی ہے جس کا خطاب اللہ رب العزت ذوالجلال والاکرام سے ہو جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ان کی مثال ایسی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–15

In the next verse (13), it was said: وَيُسَبِّحُ الرَّ‌عْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ (And the thunder proclaims His purity with His praise, and [ so do ] the angels, out of His awe). In Arabic usage, the word: الرَّ‌عْدُ (Ar-Ra` d)refers to the sound of the clouds generated by their collision. The sense of (Tasbih: the glorification of Allah) mentioned here is that of the same Tasbih about which it has been said in another verse of the Qur’ an: وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَـٰكِن لَّا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ 'And there is nothing in the heavens and the…

Read the full tafseer →