Explained with ayahs 34–35
کافر موت مانگیں گے
کفار کی سزا اور نیک کاروں کی جزا کا ذکر ہو رہا ہے کافروں کا کفر و شرک بیان فرما کر ان کی سزا بیان فرمائی کہ وہ مومنوں کے ہاتھوں قتل و غارت ہوں گے، اس کے ساتھ ہی آخرت کے سخت تر عذابوں میں گرفتار ہوں گے جو اس دنیا کی سزا سے درجہا بدتر ہیں ملا عنہ کرنے والے میاں بیوی سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہی ہلکا ہے۔ یہاں کا عذاب فانی وہاں کا باقی اور اس آگ کا عذاب جو یہاں کی آگ سے ستر حصے زیامدہ تیز ہے پھر قید وہ جو تصور میں بھی نہ آسکے۔ جیسے فرمان ہے آیت (فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗٓ اَحَدٌ) 89۔ الفجر :25) ، آج اس عذاب جیسے نہ کسی کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
سورة الرَّعْد 50
یعنی جو ایک ایک شخص کے حال سے فردا فردا واقف ہے اور جس کی نگاہ سے نہ کسی نیک آدمی کی نیکی چھپی ہوئی ہے نہ کسی بد کی بدی۔
سورة الرَّعْد 51
جسارتیں یہ کہ اس کے ہمسر اور مد مقابل تجویز کیے جا رہے ہیں، اس کی ذات اور صفات اور حقوق میں اس کی مخلوق کو شریک کیا جا رہا ہے، اور اس کی خدائی میں رہ کر لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم جو کچھ چاہیں کریں ہم سے کوئی باز پرس کرنے والا نہیں۔
سورة الرَّعْد 52
یعنی اس کے شریک جو تم نے تجویز کر رکھے ہیں ان کے معاملے میں تین ہی صورتیں ممکن ہیں
ایک یہ کہ تمہارے پاس کوئی مستند اطلاع آئی ہو کہ اللہ نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنی صفات، یا اختیارات، یا حقوق میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–37
خلاصہ تفسیر
ان کافروں کے لئے دنیوی زندگانی میں (بھی) عذاب ہے (وہ قتل و قید وذلت یا امراض و مصائب ہے) اور آخرت کا عذاب اس سے بدرجہا زیادہ سخت ہے (کیونکہ شدید بھی ہے اور دائم بھی ہے) اور اللہ (کے عذاب) سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ہوگا (اور) جس جنت کا متقیوں سے (یعنی شرک و کفر سے بچنے والوں سے) وعدہ کیا گیا ہے اس کی کیفیت یہ کہ اس (کی عمارات اور اشجار) کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی اور اس کا پھل اور اس کا سایہ دائم رہے گا یہ تو انجام ہوگا متقیوں کا اور کافروں کا انجام دوزخ ہوگا اور جن لوگوں کو ہم نے (آسمانی) کتاب (یعنی تورات و انجیل) دی ہے (اور وہ اس کو پورے طور سے مانتے تھے) وہ اس (کتاب) سے…
Read the full tafseer →لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں بھی عذاب ہے اور دنیا کے عذاب سے کہیں بڑھ چرھ کر آخرت کا عذاب ہے اور یہ لوگ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء پر جو اعتماد کیے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو ان میں سے کوئی ان کو بچانے والا نہ بن سکے گا۔ یہاں اس سنت الٰہی کو یاد رکھیے جس کا حوالہ ہم بار بار دے چکے ہیں کہ جس قوم پر رسول کے ذریعہ سے حجت تمام کردی جاتی ہے اگر وہ ایمان نہیں لاتی تو لازماً وہ ہلاک کردی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →34۔ 1 اس سے مراد قتل اور اسیری ہے جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں ان کافروں کے حصے آتی ہے۔
34۔ 2 جس طرح نبی ﷺ نے بھی لعنت ملامت کرنے والے جوڑے سے فرمایا تھا ' (ان عذاب الدنیا اھون من عذاب الاخرۃ) صحیح مسلم دنیا کا عذاب، آخرت سے بہت ہلکا ہے ' علاوہ ازیں دنیا کا عذاب (جیسا کچھ اور جتنا کچھ بھی ہو) عارضی اور فانی ہے اور آخرت کا عذاب دائمی ہے، اسے زوال و فنا نہیں، مذید برآں جہنم کی آگ، دنیا کی آگ کی نسبت 69 گنا تیز ہے، اور اس طرح دوسری چیزیں ہیں۔ اس لئے عذاب کے سخت ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
30: اس تفسیر پر مبنی ہے جو امام رازی اور علامہ آلوسی نے حل العقد کے مصنف کے حوالے سے بیان کی ہے اس تفسیر کے مطابق من ھو قائم کی خبر موجود ہے جو محذوف ہے اور و جعلوا للہ شرکاء جملہ حالیہ ہے بندے کو یہ ترکیب دوسرے احتمالات کے مقابلے میں بہتر معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
31: نام تو انہوں نے بہت سے بتوں اور دیوتاؤں کے رکھ رکھے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر ان ناموں کے پیچھے کوئی حقیقت ہے تو اللہ تعالیٰ سے زیادہ اسے کون جان سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کے علم میں تو ایسا کوئی بھی وجود ہے نہیں، اب اگر تم اس کو حقیقی وجود قرار دوگے تو اسکا مطلب یہ ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ علم رکھنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
آیت نمبر 33 تا 35
اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہر نفس پر نگراں ہے۔ ہر حال میں ہر متنفس اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے ، ظاہر میں بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ لیکن قرآن کا انداز بیان ایسا ہے کہ وہ اس نگرانی اور قبضے کو نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن مجید کا انداز کلام ہے کہ وہ معانی اور تصورات کو مشخص انداز میں پیش کرتا ہے۔ یوں کہ سننے والا متاثر ہو کر کانپنے لگتا ہے۔
افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت (13 : 33) ” پھر کیا وہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی کو کھڑے دیکھ رہا ہے “۔ ہر انسان کو ذرا یہ تصور کرلینا چاہئے کہ اس کے اوپر ایک نگران کھڑا ہے ، اسے دیکھ رہا ہے اور…
Read the full tafseer →8 مجاہدین کے ہاتھوں سے یا بلاواسطہ قدرت کی طرف سے۔
9 یعنی بےسزا دیئے چھوڑے گا نہیں۔ پھر وہاں کی سزا کا کیا پوچھنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
آیت 36 وَالَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ
یہ مدینہ کے اہل کتاب میں سے نیک سرشت لوگوں کا ذکر ہے۔ ان کو جب خبریں ملتی تھیں کہ مکہ میں آخری نبی کا ظہور ہوچکا ہے تو وہ ان خبروں سے خوش ہوتے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
44 معبودان باطلہ کے صفاتی نام کوئی دلیل یا تجربہ ؟ :۔ یہاں نام سے مراد ان شریکوں کے صفاتی نام ہیں۔ جیسے فرمایا : ( اَللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ۭ لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ) 20 ۔ طه :8) اس آیت میں بھی اسم سے مراد صفاتی نام ہیں یعنی ذرا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے یہ شریک کیا کیا کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں ؟ اور اس کی دلیل کیا ہے ؟ کیا کسی الہامی کتاب میں کہیں یہ لکھا ہے کہ اللہ نے فلاں فلاں اختیارات فلاں دیوتا یا بزرگ کو سونپ دیئے ہیں۔ یا تم اللہ کو ایسی چیز کی اطلاع دینا چاہتے ہو جس کا وجود ساری زمین میں کہیں پایا ہی نہیں جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے صرف زمین کا نام اس لیے لیا کہ مشرکوں نے معبود…
Read the full tafseer →68۔ (بہ لحاظ شدت بھی اور بہ لحاظ مدت بھی) (آیت) ” عذاب فی الحیوۃ الدنیا “۔ قتل وہلاکت، اسیری وہزیمت، مرض وقحط، بہت سی صورتیں عذاب دنیوی کی ہوسکتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
آیت نمبر 32 تا 37
ترجمہ : یقیناً آپ سے پہلے (بھی) رسولوں کا مذاق اڑایا گیا جیسا کہ آپ کا مذاق اڑایا گیا، اور یہ نبی ﷺ کو تسلی ہے، تو میں نے کافروں کو ڈھیل دی پھر میں نے ان کو سزا میں پکڑ لیا پس میرا عذاب کیسا رہا یعنی وہ اپنے محل میں واقع ہوا، تو میں ہر اس شخص کے ساتھ ایسا ہی کروں گا جو آپ کا مذاق اڑائیگا، کیا وہ ذات جو ہر متنفس کے اچھے برے عمل کی نگراں ہے اور وہ اللہ ہے، اس کے مانند ہوگا کہ جو ایسا نہیں ہے کہ وہ بت ہیں نہیں، اس (حذف جواب) پر وَجَعَلُوا للہ الخ دلالت کر رہا ہے، آپ ان سے کہئے کہ ان کے نام تو بتاؤ وہ کون ہیں ؟ بلکہ تم اللہ کو اس کے شریک کی خبر دے رہے رہو جس کو وہ زمین میں نہیں…
Read the full tafseer →لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی میں ان پر عذاب مسلط ہے۔ یعنی قتل ہونا ‘ قید ہونا اور جزیہ ادا کرنا۔
ولعذاب الاخرۃ اشق اور آخرت کا عذاب تو دنیوی عذاب سے زیادہ سخت اور دوامی اور بلاشبہ موجود ہی ہے (جس میں یہ گرفتار ہوں گے) ۔
وما لھم من اللہ من واق اور ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →(34) یہ لوگ بدر کے مارے جائیں گے اور آخرت کا عذاب اس دنیاوی عذاب سے کئی گنا سخت ہے اور اللہ کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں اور کوئی جائے پناہ نہیں کہ جہاں جاکر پناہ حاصل کریں۔
Read the full tafseer →لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔۔ : یعنی دنیا ہی میں بعض اوقات آسمانی آفات، بیماریوں، فاقوں اور مختلف مصیبتوں کے ذریعے سے عذاب ہوگا اور بعض اوقات مجاہدین اسلام کے ہاتھوں قید، قتل یا ذلیل ہوں گے اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت ہے۔ اس کی ایک جھلک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (نَارُکُمْ ھٰذِہِ الَّتِيْ یُوْقِدُ ابْنُ آدَمَ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِیْنَ جُزْءً ا مِنْ حَرِّ جَھَنَّمَ۔۔ کُلُّھَا مِثْلُ حَرِّھَا) [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللّٰہ منہا : 2843، عن أبی ہریرہ ؓ ]”تمہاری یہ آگ جو ابن آدم جلاتا ہے، جہنم کی گرمی کے ستر (70) حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔۔ سب کی گرمی اس کی مثل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
آیت نمبر 32 تا 34
قولہ تعالیٰ : ولقد استھزی برسل من قبلک فاملیت للذین کفروا ثم اخذتھم۔ الاستھزاء کا معنی سورة ” بقرہ “ میں اور الإملاء کا معنی ” آل عمران “ میں گزر چکا ہے، یعنی ان کا تمسخر اڑایا گیا اور ان کے ساتھ زیادتی کی گئی، پس میں نے کافروں کو کچھ مدت مہلت دی تاکہ جو میرے علم میں تھے کہ ایمان لائیں گے وہ ایمان لے آئیں، جب قضاء پوری ہوئی تو میں نے عقوبت کے ذریعے انہیں پکڑ لیا۔ فکیف کان عقاب یعنی آپ نے کیسا دیکھا جو میں نے ان کے ساتھ کیا ؟ پس آپ کی قوم کے مشرکین کے ساتھ بھی میں اسی طرح کروں گا۔
قولہ تعالیٰ : افمن ھو قآئم علی کل نفس بما کسبت یہ قیام وہ نہیں جو قعود کی ضد ہوتا ہے بلکہ مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 31–34
ضدی منعت کو ہدایت نہیں ملتی :
1:۔ الطبرنی وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے نبی ﷺ سے کہا اگر تو ایسا ہی ہے جیسے تو کہتا ہے تو ہم کو دکھا دے ہمارے ان سرداروں کو جو مرچکے ہیں (تاکہ) ہم ان سے باتیں کریں اور ان پہاڑوں کو ہم سے دور کردیجئے۔ تو (یہ آیت) نازل ہوئی (آیت ) ” ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال او قطعت بہ الارض اوکلم بہ الموتی “
2:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ قریش مکہ نے محمد ﷺ سے کہا اگر ہمارے لئے نہ مکہ کے پہاڑ چلے جائیں یہاں تک کہ ( جگہ) کشادہ ہوجائے اور ہم اس میں کھیتی کریں یا ہمارے لئے زمین پھٹ…
Read the full tafseer →[لَهُمْ : ان کے لئے ] [ عَذَابٌ: ایک عذاب ہے ] [ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیوی زندگی میں ] [ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ : اور یقینا آخرت کا عذاب [ اَشَقُّ : سب سے زیادہ دشوار ہے ] [وَمَا : اور نہیں ہے ] [ لَهُمْ : ان کے لئے ] [ مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے ] [مِنْ وَّاقٍ : کوئی بھی بچانے والا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
پھر فرمایا (تِلْکَ عُقْبَی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَعُقْبَی الْکٰفِرِیْنَ النَّارُ ) (یہ انجام ہے ان لوگوں کا جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا اور کافروں کا انجام دوزخ ہے) ۔
اس کے بعد اہل کتاب میں سے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جنہیں قبول حق سے عناد نہیں ہے (وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتَابَ یَفْرَحُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ ) (اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ اس سے خوش ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل لیا گیا) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس سے وہ یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا اس میں چالیس اشخاص نصاریٰ نجران میں سے تھے اور آٹھ یمن کے نصرانی تھے اور بتیس حبشہ کے لوگ تھے اسی طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
تقبیح وتشنیع اہل باطل و سزائے معاندین وجزائے مطیعین
قال اللہ تعالیٰ افمن ھو قائم علی کل نفس بما کسبت .... الیٰ .... وعقبی الکفرین النار
(ربط) اوپر کی آیتوں میں توحید کا ذکر تھا اب ان آیات میں اہل شرک کی تقبیح وتشنیع اور اہل ایمان اور اہل کفر کی جزاء و سزا کا ذکر فرماتے ہیں۔
پس کیا وہ ذات جو ہر شخص کے سر پر قائم ہے اور اس کی قیوم ہے اور اس کے تمام اعمال پر مطلع ہے ان کے بتوں کی مثل ہوسکتی ہے ہرگز نہیں یعنی کیا وہ ذات پاک جو ہر ایک کی حافظ اور نگہبان ہے اور لوگوں کے نیک اور بدعمل سے باخبر ہے کیا وہ ان بتوں کے برابر ہوسکتی ہے جو محض عاجز اور بیخبر ہیں۔ ہرگز نہیں اور ان لوگوں نے اللہ کے شریک…
Read the full tafseer →37:۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کو ایک چیز کی اطلاع دیتے ہو جس کے وجود کا خود اسے علم نہیں ہے یعنی تم اللہ کو بتاتے ہو کہ زمین میں اس کے شریک موجود ہیں حالانکہ اس کا کوئی شریک نہیں۔ جب اللہ کا کوئی شریک نہیں تو اس کا علم کیسے ہو کیونکہ شریک باری تعالیٰ معدوم محض ہے اگر ہوتا تو اللہ کے علم میں ہوتا۔ ” اَمْ بِظَاھِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ “ یا ویسے ہی بکواس کرتے ہیں اور ظاہری طور پر اپنے ٹھاکروں کو معبود کہتے ہیں اگرچہ وہ صفات معبودیت سے عاری ہیں۔ ” بَلْ زُیِّنَ لِلَّذِیْنَ الخ “ بلکہ ان کے دلوں پر مہر جباریت لگ چکی ہے اس لیے ان کو اپنی تمام مشرکانہ اور معاندانہ چالیں اچھی معلوم ہوتی ہیں اور اس طرح توفیق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–35
(ربط آیات)
گذشتہ آیات میں مشرکین کی تردید کے متعلق دو باتیں بیان ہوچکی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ کفار ومشرکین اللہ کے نبی سے من مانی نشانیاں طلب کرتے تھے اور یہ مطالبہ کسی اشتباہ کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ضد اور عناد کی وجہ سے ہوتا تھا ، ان کا منصوبہ یہ ہوتا تھا کہ اپنی خواہش کی نشانیاں طلب کی جائیں اور جب آپ پیش نہ کرسکیں تو آپ کا تمسخر اڑایا جائے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ٹھٹا کیا گیا اور آپ کے ساتھ یہ سلوک کوئی نئی بات نہیں ہے ، اللہ نے فرمایا کہ میں نے ایسے لوگوں کو ایک مقررہ مدت تک مہلت دی اور پھر بالآخر انہیں سخت عذاب میں مبتلا کیا ،…
Read the full tafseer →لَهُمْ عَذَابٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَقُّ ۚ وَمَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ وَّاقٍ 34
شق
والشِّقُّ : الْمَشَقَّةُ والانکسار الذي يلحق النّفس والبدن، وذلک کاستعارة الانکسار لها . قال عزّ وجلّ : لَمْ تَكُونُوا بالِغِيهِ إِلَّا بِشِقِّ الْأَنْفُسِ [ النحل/ 7] ، والشُّقَّةُ : النّاحية التي تلحقک المشقّة في الوصول إليها، وقال : بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ [ التوبة/ 42]
( ش ق ق ) الشق
الشق اس مشقت کو کہتے ہیں جو تگ دود سے بدن نا نفس کو ناحق ہوتی ہے جیسا کہ الانکسار کا لفظ بطور استعارہ نفس کی درماندگی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِلَّا بِشِقِّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–36
ترکیب : من موصولہ ہو قائم علی کل نفس صلہ اے قادر علی کل نفس و عالم بجمیع احوالہا من خیر و شر و مستعد لان یجازی کل نفس بما فعلت من خیر و شر (وھو اللہ) یہ سب مبتداء اور خبر محذوف کمن لیس بھذہ الصفۃ وھی الاصنام جس پر وجعلوا الخ جملہ دال ہے اور ممکن ہے کہ ایسی خبر محذوف مانی جاوے کہ جس پر جعلوا کا عطف درست ہو سکے ای لم یوحدوہ ولم یمجدوہ وجعلوالہ شرکاء (کشاف) یہ جملہ استفہامیہ ہوگا انکار کے طور پر۔
تفسیر : یہ بھی پہلے جواب کا تتمہ ہے وہ جو آپ سے معجزات طلب کرتے ہیں طالب حق نہیں بلکہ محض تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں۔ پھر یہ کوئی نئی بات نہیں۔ پہلے بھی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ان کی امتوں کے لوگ…
Read the full tafseer →لَہُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَقُّ ج وَمَالَہُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ ۔ (سورۃ الرعد : 34)
(ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب اس سے بھی زیادہ سخت ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ سے کوئی بچانے والا نہیں ہوگا۔ )
جو لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کی دعوت کو درخوراعتنا نہیں سمجھتے اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے ان کے اعتماد پر ہر بدعملی کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیت نے فیصلہ کرلیا کہ دنیا میں ان پر عذاب بھیجا جائے تو یہ دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوں گے اور آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بھی کہیں زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
فہم القرآن
ربط کلام : اے رسول ! کیا آپ کو مذاق کرنے والے بھول گئے ہیں کہ کیا اللہ تعالیٰ ان پر نگران نہیں ہے ؟
اے رسول ! انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق کرنے والے مجرموں کو اس ذات حق نے پکڑا جوہر نفس پر نگران اور اسے پکڑنے پر پوری طرح قادر ہے۔ وہ ہر نفس کے کردار اور افکار پر نگران ہے۔ رقیب کے معنی نگران کے ہیں۔ اس کے لفظی معنی کھڑے ہونے کے بھی ہیں جو ہر زبان میں محاورہ ہے کہ فلاں شخص فلاں کے سر پر کھڑا ہے۔ پہلے لوگوں کے گناہوں کا بنیادی سبب شرک تھا اور ان لوگوں نے بھی اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں۔ انہیں بتلائیں کہ جن کو تم حاجت روا سمجھے ہو یہ تو محض تمہارے رکھے ہوئے نام ہیں۔ ان کے پیچھے نہ…
Read the full tafseer →34: لَھُمْ عَذَابٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا (دنیوی زندگی میں ان پر عذاب مسلط ہے) جو قتل، قید، مختلف مشقتوں کی صورت میں ہوگا۔ وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَشَقُّ (اور آخرت کا عذاب تو بہت سخت ہے) اس لئے سخت ہے کیونکہ وہ دائمی ہے۔ وَمَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ وَّاقٍ (اور انکو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں) جو اسکے عذاب سے انکی حفاظت کرے۔
Read the full tafseer →34۔” لھم عذاب فی الحیوۃ الدنیا “ عذاب سے دنیاوی عذاب قتل اور قید ہونا ہے۔ ” والعذاب الاخرۃ اشق “ بمعنی اشد کے ہے۔ ” وما لھم من واق “ ان کو اللہ کے عذاب سے روکنے والا کوئی نہیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
34۔ 35۔ اللہ جل شانہ اس سے اوپر کی آیت میں مشرکین کا حال جب بیان فرما چکا تو اب یہ بات بیان فرمائی کہ ان لوگوں کے لئے دنیا میں اور آخرت میں دونوں جگہ عذاب ہے دنیا کا عذاب تو مثلاً مکہ کا سخت قحط جس کا ذکر صحیح 1 ؎ بخاری میں عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں تفصیل سے ہے اور آخرت کا عذاب وقت مقررہ پر اس سے بھی مشقت کا ہے اور پھر کوئی اس سے بچانے والا بھی نہیں۔ اس کے بعد اللہ جل شانہ نے جنت کی مثال بیان کی کہ وہ جنت جس کا وعدہ خدا پر ایمان لانے والوں اور اس کے خوف سے ڈرنے والوں سے کیا گیا ہے اس میں یہ خوبیاں ہیں کہ جا بجا اس میں نہریں جاری ہیں اور اس کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہیں کبھی کم نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
33-34:
(آیت) ” تو کیا جو ہر متنفس کے اعمال کا نگران ہے۔ “ یعنی کیا وہ ہستی جو دنیاوی اور اخروی جزا اور عدل و انصاف کے ساتھ ہر متنفس کے عمل کو دیکھ رہی ہے۔۔۔ اور وہ ہے اللہ تبارک و تعالیٰ ۔۔۔ اس ہستی کی مانند ہوسکتی ہے جو اس جیسی نہیں ہے۔ بنا بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اور انہوں نے اللہ کے شریک ٹھہرالئے “ حالانکہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، وہ یکتا اور بےنیاز ہے، جس کا کوئی شریک ہے نہ ہمسر اور نطیر (قل) اگر وہ سچے ہیں تو ان سے کہہ دیجئے (سموھم) ” ان کے نام لو “ تاکہ ہمیں ان کا حال معلوم ہو (آیت) ” یا تم اللہ کو بتلاتے ہو جو وہ نہیں جانتا زمین میں “ جبکہ اللہ تبارک و تعالیٰ غائب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–43
تغیض الارحام کی تشریح
قول باری ہے (وما لغیض للرحام وما تزداد۔ اور جو کچھ عورتوں کے رحم میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے (اس سے بھی باخبر رہتا ہے) حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کا قول ہے کہ مدت حمل یعنی 9 ماہ کے عرصے میں جو کمی ہوتی ہے اور اس مدت میں جو اضافہ ہوتا ہے اس لئے کہ بچہ چھ ماہ بعد پیدا ہو کر زندہ رہتا ہے اور دو سال کے بعد پیدا ہو کر بھی زندہ رہتا ہے۔ حسن کا قول ہے کہ اسقاط کی وجہ سے جو حمل ناتمام پیدا ہوتا ہے اور حمل کی مدت بڑھ جانے کی بناء پر جو بچہ پوری ساخت کا پیدا ہوتا ہے “ فراء کا قول ہے کہ غیض نقصان اور کم ہوجانے کو کہتے ہیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ عرب کیل وگ غاضت المیاہ اس وقت کہتے ہیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–39
79۔ شرک کی بےحقیقتی اور مشرکوں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان :
چنانچہ ارشاد فرمایا گیا کہ بھلا وہ ذات جوہر شخص کے سر پر قائم اور اس سے اس کے کئے کرائے کا حساب کرنے والی ہے، بھلا وہ ذات اور وہ جو اس میں سے کچھ بھی نہ کرسکتی ہو، دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور ظاہر ہے کہ نہیں اور ہرگز نہیں تو پھر تم لوگ اپنے ایسے بےحقیقت معبودوں کی کس طرح پوجا کرتے ہو ؟ تمہاری مت کیسے ماری دی گئی ؟ ایک طرف وہ ذات ہے جو خود قائم و موجود اور تمہاری تمام چیزوں کو قائم رکھنے والی، ان کی نگرانی کرنے والی اور ان کے تمام حالات سے پوری طرح آگاہ ہے، جب کہ دوسری طرف تمہارے ان خودساختہ شریکوں کے اندراس طرح کی کوئی بات بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
شرک کرنے والوں کا انجام
تشریح : قرآن پاک میں بار بار مشرکین اور ان کے انجام کا ذکر کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–37
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
کفر اور معصیت کا اثر دل کو ویران کردیتا ہے اور انسان نبی اور رسول کی عظمت کو پانے سے محروم ہوجاتا ہے ، چناچہ انبیاء کی تعلیمات کا مذاق اڑاتا ہے جو اس کے فہم سے بالاتر ہوتی ہیں کہ اس نے کفر پر ضد اور اصرار کرکے اپنی فراست تباہ کرلی ہوتی ہے اور یہ آپ سے پہلے آنے والے انبیاء ورسل سے بھی ہوتا رہا ۔ اللہ جل جلالہ نے ان کفار کو بھی مہلت دی فورا گرفت نہ فرمائی ، انہوں نے دعوت حق کو سنا مگر مذاق ہی اڑاتے رہے حتی کہ اپنے انجام کو پہنچے مہلت ختم ہوگئی اور اللہ جل جلالہ کے عذاب کی لپیٹ میں آگئے اور ایسے آئے کہ پھر ان کی سزا مثال بن گئی ، اگرچہ تعلیمات رسالت کا مذاق اڑانا بہت…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یعنی عنقریب قتل، قید اور ذلیل ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
(13:32) استھزیٔ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ استھزاء (استفعال) مصدر۔
املیت۔ ماضی واحد متکلم ۔ میں نے ڈھیل دی۔ املاء (افعال) الاملاء کے معنی ڈھیل دینے کے ہیں۔ اسی سے ملاوۃ من الدھر یا ملی من الدھر کا محاورہ ہے جس کے معنی عرصہ دراز کے ہیں قرآن پاک میں ہے واھجرنی ملیا (49:46) اور تو ہمیشہ کے لئے مجھ سے دور ہوجا۔
عقاب۔ ای عقابی ۔ میری سزا۔ میرا سزا دینا۔ مضاف۔ مضاف الیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 32–34
لغات القرآن آیت نمبر 32 تا 34
استھزئی مذاق اڑایا گیا رسل (رسول) بھیجے ہوئے۔ پیغمبر املیت میں نے ڈھیل دی۔ موقع دیا اخذت میں نے پکڑ لیا۔ گرفت میں لے لیا عقاب بدلہ۔ انجام قائم قائم رہنے والا کل نفس ہر شخص۔ ہر جان کسبت کمایا جعلوا انہوں نے بنایا سموا نام بتاؤ۔ نام لو تنبؤن تم خبر دیتے ہو زین خوبصورت۔ بنا دیا گیا مکر فریب۔ دھوکہ صدوا روک دیئے گئے اشق زیادہ سخت
تشریح : آیت نمبر 32 تا 34
نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ان آیات میں پہلے تو کفار مکہ کے کفر و شرک کا رد فرمایا گیا۔ پھر ان کافروں کو عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔ گزشتہ آیات میں یہ بتایا گیا تھا کہ کفار مکہ نبی کریم ﷺ کو پریشان کرنے کے لئے ہر روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–35
کافروں کا انجام اور متقیوں کے انجام کا ذکر
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں کے لیے دنیا میں اور آخرت میں دونوں جگہ عذاب ہے۔ دنیا کا عذاب تو مثلا مکہ کا قحط، قید، قتل مصیبت ہے، اور آخرت کا عذاب وقت مقررہ پر اس سے بھی زیادہ مشقت کا ہے اور پھر کوئی اس سے بچانے والا بھی نہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنت کی مثال بیان کی کہ وہ جنت جس کا وعدہ خدا پر ایمان لانے والوں اور اس کے خوف سے ڈرنے والوں سے کیا گیا ہے اس میں یہ خوبیاں ہیں کہ جا بجا اس میں نہریں جاری ہیں اور اس کی نعمتیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں کبھی کم نہیں ہوں گی، اور سایہ بھی وہاں ہمیشہ رہے گا، دنیا میں جس طرح سایہ صبح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–36
[25] یہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو سچے اہل کتاب تھے اور صحیح معنی میں اپنے دین و شریعت کے پیرو تھے۔ جب قرآن کی دعوت ان کے پاس پہنچی تو وہ بلا تامل ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–34
(ف 1) یعنی چونکہ برائیوں سے انہیں نفرت نہیں بلکہ طبیعت کا میلان معصیت کی جانب زیادہ ہے ، اس لئے گمراہ ہیں اور ناقابل ہدایت جب کوئی شخص معصیت کے اس مقام پر پہنچ جائے ، جہاں احساس زیاں اٹھ جائے ، اس وقت ہدایت کا حصول ناممکن ہوجاتا ہے اس آیت میں قرآن حکیم نے اپنے مخصوص انداز میں یہی حقیقت بیان کی ہے ۔
Read the full tafseer →34 ۔ اس قسم کے بدنصیب لوگوں کو دنیوی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے یقینا بہت سخت ہے اور اللہ کے عذاب سے ان کو کوئی بچانے والا نہیں ۔
Read the full tafseer →ف 2۔ وہ عذاب قتل وقید وذلت یا امراض و مصائب ہے۔
Read the full tafseer →ایسے مجرموں کیلئے دناج میں بھی عذاب ہے اور آخرت میں بھی کون ان کو بچانے والا نہیں
56 ؎ ایسے لوگوں کیلئے دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے کہ آسائش و آرام کی ہرچیز موجود ہے لیکن اس کے باوجود وہ بےچین ہیں اور اس آسائش اور آرام سے کچھ فائدہ حاصل ہی نہیں کرسکتے۔ لوگ ان سے یہ عقیدت رکھتے ہیں کہ یہ صاحب اولاد دیتے ہیں لیکن ان کا یہ حال ہے کہ وہ خود اولاد جیسی نعمت سے محروم ہیں۔ لوگ ان سے دعائیں کرانے آتے ہیں لیکن وہ خود ہیں کہ مسلسل ہسپتال میں رہ رہے ہیں کہ ایک گھنٹہ گھر اور دس پھر ہسپتال میں۔ اللہ نے بہت کچھ مال و دولت دے رکھا ہے لن کی ان کو ڈاکٹر کی ہدایت ہے کہ مونگ کی دال اور سوکھی چپاتی استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–37
In the verse: أَفَمَنْ هُوَ قَائِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفْسٍ (Is then He, who is watchful over everyone ... 33), the ignorance and irrationality of the disbelievers has been exposed by saying that these people are certainly short on sense when they equate inert idols with His pure Being, a Being that watches everyone and is the ultimate reckoner of everyone's deeds. Then, it was said that the real reason behind their unreasonable attitude is that shaitan has made their very ignorance look good in their sight and, therefore, this they take to be 'achievement' and 'success.'
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–35
50. That is, they are so audacious that they set up partners with Allah Whose knowledge is All-Comprehensive and Who is aware of even the minutest details of the good and bad actions of each individual.
51. These are the audacious things they do. They ascribe partners and equals to Him. They believe that some of His creatures are a part and parcel of His Being, and have attributes and rights like Him. They presume that they shall not be called to account for whatever they do, even though they live in His kingdom.
52. That is, you give empty names to the partners you ascribe to Him for you…
Read the full tafseer →