Explained with ayahs 45–47
نوح ؑ کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب
یاد رہے کہ یہ دعا حضرت نوح ؑ کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میری اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کردیا گیا ؟ جواب ملا کہ تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ (وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ ۚ وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي…
Read the full tafseer →سورة هُوْد 50
اس ارشاد کو دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ حضرت نوح ؑ کے اندر روح ایمان کی کمی تھی، یا ان کے ایمان میں جاہلیت کا کوئی شائبہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی انسان ہی ہوتے ہیں اور کوئی انسان بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت اس بلند ترین معیار کمال پر قائم رہے جو مومن کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلیٰ و اشرف انسان بھی تھوڑی دیر کے لیے اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہوجاتا ہے۔ لیکن جونہی کہ اسے یہ احساس ہوتا ہے، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے احساس کرا دیا جاتا ہے کہ اس کا قدم معیار مطلوب سے نیچے جا رہا ہے، وہ فورا توبہ کرتا ہے…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں حضرت نوح ؑ کی طرف سے جو معذرت پیش ہوئی اس کا ذکر ہے، جس کا خلاصہ اللہ جل شانہ کی طرف رجوع والتجاء اور غلط کاموں سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ لینے کی دعا اور پھر گزشتہ لغزش کی معافی اور مغفرت و رحمت کی درخواست ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ انسان سے اگر کوئی خطا سرزد ہوجائے تو آئندہ اس سے بچنے کیلئے تنہا اپنے عزم و ارادہ پر بھروسہ نہ کرے بلکہ اللہ تعالیٰ سے پناہ اور یہ دعا مانگے کہ یا اللہ آپ ہی مجھے خطاؤں اور گناہوں سے بچا سکتے ہیں۔
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـــَٔـلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ ۭ وَاِلَّا تَغْفِرْ لِيْ وَتَرْحَمْنِيْٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۔
حضرت نوح ؑ نے اس تنبیہ کے بعد فوراً توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
Read the full tafseer →47۔ 1 جب حضرت نوح ؑ یہ بات جان گئے کہ ان کا سوال واقعہ کے مطابق نہیں تھا، تو فورا اس سے رجوع فرما لیا اور اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت و مغفرت کے طالب ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
26: یعنی آپ کو ہر چیز پر قدرت ہے، اگر چاہیں تو اسے ایمان کی توفیق دے دیں، اور پھر ایمان والوں کے حق میں آپ کا جو وعدہ ہے وہ اس کے حق میں بھی پورا ہوجائے۔
Read the full tafseer →اللہ کی رحمت نے حضرت نوح کو ڈھانپ لیا ، آپ کا دل مطمئن ہوگیا۔ آپ اور آپ کی نسل اور آپ کے ساتھی نجات پا گئے اور دوسرے لوگ نذر طوفان ہوگئے۔
Read the full tafseer →2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " آدمی وہ ہی پوچھتا ہے جو معلوم نہ ہو۔ لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام جاہل کا ہے کہ بڑے کی مرضی پوچھنے کی نہ دیکھے، پھر پوچھے۔ " مرضی کیوں نہ تھی ؟ " اسے ہم فائدہ گزشتہ میں بیان کرچکے ہیں۔
3 حضرت نوح کانپ اٹھے اور توبہ کی، لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسانہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے۔ بندہ کو کیا مقدور ہے۔ چاہیے اس کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر نہ ہو اور دل میں عزم نہ کرنے کا رکھے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) وغیرہ کی توبہ کے جو الفاظ قرآن میں نقل ہوئے ہیں ان میں یہ ہی ادب ملحوظ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
آیت 46 قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ
اس کے نظریات اس کے عقائد ‘ اس کا کردار سب کافرانہ تھے۔ وہ آپ کے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے ؟ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے۔ چناچہ وہ آپ کے نسبی خاندان کا ایک رکن ہونے کے علی الرغم آپ کے ایمانی و اخلاقی خاندان کا فرد نہیں تھا۔
اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ
یہ بہت سخت انداز ہے۔ یاد کیجیے کہ سورة الانعام کی آیت 35 میں محمد رسول اللہ سے بھی اس طرح کے الفاظ فرمائے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →52 نوح کی اپنی غلطی پر مغفرت کی درخواست :۔ نوح آخر ایک انسان تھے اور جو سوال انہوں نے کیا بشری تقاضا سے مجبور ہو کر کیا تھا لہذا یہ اتنا بڑا گناہ معلوم نہیں ہوتا جس پر اس طرح سے عتاب نازل ہو مگر انبیاء کی تمام تر زندگی چونکہ امت کے لیے بطور نمونہ ہوتی ہے اسی لیے ان کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوتی ہے اور اس نمونہ کو پاک صاف بنایا جاتا ہے اور یہی عصمت انبیاء کا مفہوم ہے چناچہ نوح (علیہ السلام) کو جب اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی تو اپنی اس لغزش کا احساس کرکے کانپ اٹھے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا اور نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے معافی کے طلب گار ہوئے۔
Read the full tafseer →73۔ حضرات انبیاء کی شان عبدیت کا کیا کہنا ! گویا ہر وقت مناجات وابتہال و استغفار کا بہانہ ہی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ادنی سی لغزش محض اجتہادی لغزش نفس کی خرابی سے نہیں محض فہم وتعبیر کی بناپرہوئی اور انہیں بس عرض حال کا موقع مل گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیت نمبر 36 تا 49
ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…
Read the full tafseer →قال رب انی اعوذ بک ان اسئلک ما لیس لي بہ علم والا تغفر لي وترحمني اکن من الخٰسرین۔ نوح نے کہا : اے میرے رب ! جس چیز (کی صحت) کا مجھے علم نہ ہو ‘ اس کے متعلق (آئندہ) سوال کرنے سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں اور (ممانعت کے بعد اپنی اجتہادی غلطی کی وجہ سے جو میں نے کافر کی نجات کی درخوست کی تھی) اگر تو (میری اس خطا کو معاف نہ کر دے گا اور (بصورت توبہ و عصمت) مجھ پر رحم نہ فرمائے گا تو میں خاسر (الاعمال) ہوجاؤں گا (عملی خسارے میں رہوں گا) ۔
Read the full tafseer →(47) حضرت نوح ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار میں اس امر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آئندہ ایسے شخص کی نجات کی درخواست کروں جس کے متعلق مجھے اطلاع نہ ہو۔ اگر آپ میری مغفرت نہ فرمائیں گے اور مجھ پر رحم نہ فرمائیں گے تو میں بالکل تباہ ہوجاؤں گا
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـــَٔـلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِهٖ عِلْمٌ۔۔ : نوح ؑ شاید پدری محبت کی وجہ سے یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹا چاہے کافر ہو، گھر والوں میں شامل ہے اور اس کے لیے دعا کی جاسکتی ہے، لیکن جوں ہی اللہ تعالیٰ نے انھیں تنبیہ کی کہ ایک کافر بیٹے کو نسبی قرابت کی بنا پر اپنا اہل سمجھنا صحیح نہیں ہے تو وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ کے حضور اپنی غلطی پر معافی مانگی۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”نوح ؑ نے توبہ کی، لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے، بندے کو کیا مقدور ہے ! اسی کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر یہ نہ ہو۔“ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
آیت نمبر 45 تا 47
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ونادٰی نوح ربہ یعنی اس نے اس (اللہ) سے دعا کی۔ فقال رب ان ابنی من اھلی یعنی میرے ان اہل میں سے جن کے غرق سے نجات کا تو نے وعدہ فرمایا ہوا ہے، پس کلام میں حذف ہے۔ وان دعدک الحق یعنی سچا۔ ہمارے علماء نے کہا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے اپنے بیٹے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد واھلک کی وجہ سے سوال کیا اور اللہ تعالیٰ کے ارشادالا من سبق علیہ القولکو ترک کردیا۔ جب ان کے نزدیک وہ انکے اہل سے تھا تو عرض کیا : رب ان ابنی من اھلیاس بات پر ان کا قولولاتکن مع الکٰفرین۔ دلالت کرتا ہے، یعنی تو ان میں سے نہ ہوجا جن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
عمل کے بغیر صرف نسب سے نجات نہ ہوگی :
1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انبیاء کی عورتیں زنا کار نہیں ہوتی اور وہ یہ آیت پڑھتے تھے (آیت) انہ عمل غیر صالح “ یعنی اے نوح جو آپ کا مجھ سے سوال کرنا اچھا عمل نہیں۔ میں اس سے تیرے لئے راضی نہیں ہوں گا (یعنی میں اسے تیرے لئے پسند نہیں کرتا)
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید (رح) کے راستہ سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جب ہم نے آپ کو منع کیا کہ وہ کسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں تو پھر اپنے رب کی طرف رجوع کرنا غیرصالح عمل تھا (اور) عبداللہ کی قرابت میں یون ہے (آیت) ” فلا تسئلن…
Read the full tafseer →[قَالَ : انھوں (علیہ السلام) نے کہا ] [رَبِ : اے میرے رب ] [انىٓ: بیشک میں ] [اَعُوْذُ بِكَ : میں تیری پناہ آتا ہوں ] [ان : (اس سے) کہ ] [اَسْـــَٔـلَكَ : میں سوال کروں تجھ سے ] [مَا : اس کا ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [لِيْ : میرے لئے ] [بِهٖ : جس کا ] [عِلْمٌ : کوئی علم ] [وَاِلَّا تَغْفِرْ لِيْ : اور اگر تو نے نہ بخشا مجھ کو ] [وَتَرْحَمْنِيْٓ: اور رحم نہ کیا مجھ پر ] [اَكُنْ : تو میں ہو جائوں گا ] [مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
طوفان کا ختم ہونا اور کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا
پانی کا طوفان آیا جو خوب زیادہ تھا ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر پانی پہنچ گیا اور اس کی موجیں بھی پہاڑوں کی طرح تھیں اتنے کثیر پانی سے کون بچ سکتا تھا۔ سوائے ان مؤمن مخلص بندوں کے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا یہ طوفان کتنے دن رہا اس کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کشتی ایک سو پچاس دن تک پانی پر رہی اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھ مہینے تیرتی رہی صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو طوفان ختم کرنا منظور ہوا تو زمین کو حکم دے دیا کہ اپنے پانی کو نگل لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
دعا نوح (علیہ السلام) برائے نجات پسر خود و جواب باری تعالیٰ
قال اللہ تعالیٰ ونادی نوح ربہ ..... الیٰ ..... اکن من الخسرین۔
اور نوح (علیہ السلام) نے بیٹے کے غرق ہونے سے پہلے حسرت و لجاجت کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارا کہ شاید اس کی شان ربوبیت سے بیٹے کی نجات کی کوئی صورت نکل آئے پس عرض کیا کہ اے میرے رب تحقیق یہ میرا بیٹا جو ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہے میرے اہل و عیال اور گھروالوں میں سے ہے جن کی نجات کا تو نے وعدہ کیا ہے اور بلاشبہ تیرا وعدہ حق اور صدق ہے۔ پس آپ میرے بیٹے کو غرق ہونے سے بچا لیجئے اور آپ تو سب سے بڑے حاکم ہیں۔ آپ کے حکم کو کون توڑ سکتا ہے یا ٹلا سکتا ہے۔
اللہ جل شانہ نے فرمایا…
Read the full tafseer →45: اصل حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بےمحل سوال پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا اور رحمت کی درخواست کی۔ وَاِلَّا اصل میں و ان لا تھا نون کو لام میں ادغام کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان کی شکل میں عذاب نازل فرمایا اور ساری نافرمان قوم کو اس طوفان میں غرق کیا ، پھر یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ آپ کی قوم کے اہل ایمان کو اللہ نے کشتی کے ذریعے نجات دی۔ یہ طوفان تقریبا سات ماہ تک اس قوم پر مسلط رہا۔ چالیس دن تک متواتر بارش ہوتی رہی اور زمین کے چشمے بھی پھوٹتے رہے حتی کہ پوری سطح ارض بلند ترین پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھر گئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھرگئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں جتنی بلند موجیں اٹھ رہیں تھیں اور نوح…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْـــَٔـلَكَ مَا لَيْسَ لِيْ بِہٖ عِلْمٌ 0 ۭ وَاِلَّا تَغْفِرْ لِيْ وَتَرْحَمْنِيْٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ 47
عوذ
العَوْذُ : الالتجاء إلى الغیر والتّعلّق به . يقال : عَاذَ فلان بفلان، ومنه قوله تعالی: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67]
( ع و ذ) العوذ
) ن ) کے معنی ہیں کسی کی پناہ لینا اور اس سے چمٹے رہنا ۔ محاورہ ہے : ۔ عاذ فلان بفلان فلاں نے اس کی پناہ لی اس سے ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] کہ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ نادان بنوں ۔
غفر
الغَفْرُ : إلباس ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–60
ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَا لَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ ط وَاِلاَّ تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِٓیْ اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 47)
(نوح (علیہ السلام) نے فوراً عرض کیا، اے میرے رب، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، اس سے کہ اس بات کا تجھ سے سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کی عظمت
اللہ تعالیٰ نے اپنے عظیم پیغمبر کو جیسے ہی تنبیہہ فرمائی تو انھوں نے اس پر جو رویہ اختیار کیا اس نے انھیں عظیم سے عظیم تر بنادیا کیونکہ اللہ کے نبی انسانوں کے لیے تو عظمت و رفعت کا نمونہ ہوتے ہیں لیکن اپنے مالک کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
فہم القرآن
ربط کلام : بیٹے کی غرقابی کے وقت حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےساختہ اللہ تعالیٰ سے فریاد۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو بار بار سمجھایا کہ جان پدر کلمہ پڑھو اور کفار کا ساتھ چھوڑ کر میرے ساتھ ہم رکاب ہوجاؤ۔ لیکن بیٹے نے عظیم باپ کی ایک نہ مانی اور پانی میں ڈبکیاں لیتے ہوئے جان دے دی۔ جب یہ کربناک منظر بوڑھے باپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو پدرانہ شفقت جوش میں آئی اور بےساختہ اپنے رب کی بارگاہ میں فریاد کناں ہوئے کہ اے میرے رب آپ نے ازراہ کرم میرے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ میں آپ کے اہل کو بچالوں گا۔ آپ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوا کرتا ہے اور وعدہ پورا کرنے پر آپ ہر اعتبار سے قادر…
Read the full tafseer →استغفارِ نوح۔ :
47: قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اَسْئَلَکَ مَالَیْسَ لِیْ بِہٖ عِلْمٌ (کہا اے میرے رب بیشک میں وہ چیز جس کا مجھے علم نہ ہو اس کے متعلق سوال کرنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں) یعنی کہ مستقبل میں میں وہ چیز طلب کروں جس کے صحیح ہونے کا مجھے علم نہیں تیرے ادب کا پاس کرتے ہوئے اور تیری نصیحت کو قبول کرتے ہوئے وَاِلَّا تَغْفِرْ لِیْ (اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا) جو سبقت مجھ سے ہوگئی وَتَرْحَمْنِیْ (اور مجھ پر رحم نہ فرمایا) اس جیسی بات کی طرف لوٹنے سے بچا کر اَکُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا)
Read the full tafseer →تفسیر : 47” قال “ نوح (علیہ السلام) نے کہا رب انی اعوذبک ان اسئلک ما لیس لی بہ علم والا تغفرلی وترحمنی اکن من الخاسرین “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
45۔ 47۔ جب نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب یہ کنعان میرا بیٹا ہے میرے اہل میں سے ہے اور تو نے وعدہ کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ کشتی میں اپنی اہل کو بھی ساتھ لے لو اور تیرا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے پھر یہ کیوں کر ڈوب گیا تو بڑا انصاف والا ہے حکم ہوا کہ اللہ نے تو ان لوگوں کے لئے وعدہ کیا تھا جو ایمان لائیں یہ لڑکا تو انہیں لوگوں میں تھا جن کے حق میں کہا گیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے اور آخر کو ڈوب جاویں گے تمہیں مناسب نہیں ہے کہ جس بات کو نہ جانتے ہو اس کا سوال کرو مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مرضی کے خلاف تمہیں سوال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ خلاف مرضی سوال کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ پھر نوح…
Read the full tafseer →اس وقت نوح (علیہ السلام) اپنی دعا پر سخت نادم ہوئے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : (قال رب انی اعوذبک ان اسئلک مالیس لی بہ علم والا تغفرلی وترحمنی اکن من الخسرین) ” اے میرے رب ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تجھ سے ایسی چیز کا سوال کروں جس کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور مجھ پر رحم نہ کیا، تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا “ پس مغفرت اور رحمت بندے کو خسارے والے لوگوں میں شامل ہونے سے بچاتی ہے۔
یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو معلوم نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے (کافر) بیٹے کی نجات کے لئے دعا کرنا حرام ہے اور ان کا بیٹا اللہ تعالیٰ کے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–60
ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم
قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
102 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے کے لیے دعا و درخواست کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکار کر عرض کیا کہ اے میرے رب میرا بیٹا بھی میرے اہل میں سے ہے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر اگرچہ آپ کے بیٹے کی غرقابی کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے مگر اس کا تعلق اس کی غرقابی کے قبل سے ہے۔ (المراغی، المنار، المعارف، التدبر، تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشور، الفتوحات الالہیہ وغیرہ ذالک) ہم نے بین القوسین کے الفاظ بڑھا کر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ الحمد للہ۔ سو اس لحاظ سے اگرچہ بظاہر اس کا ذکر آیت نمبر 43 کے ساتھ ہونا چاہئے تھا لیکن اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا اور اللہ کی تنبیہ
تشریح : ان آیات میں کچھ نکات بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً :
1 پیغمبر بھی انسان ہی ہوتے ہیں شفقت پدری میں کہہ بیٹھے کہ میرا بیٹا کنعان ڈوب رہا ہے اسے بچا لے۔
2 جواب میں اللہ نے فرمایا کہ بیٹا ہونا کوئی مغفرت کی وجہ نہیں ہوسکتی وہ بداعمال تھا اس لیے ڈوب گیا، لہٰذا یہ طے ہے کہ بخشش کے لیے اعمال کی ضرورت ہے نہ کہ قرابت داری کی۔ اور پھر سید ہونا یا نام کا مسلمان ہونا بخشش کے لیے ناکافی ہے۔ حسب و نسب پر فخر کرنا، برے اعمال کرنا دوزخ سے نہ بچا سکے گا۔
3 غیر مسلم یا بدکردار انسان کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس کا معاملہ اللہ نے طے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–49
آیات 36 تا 49
اسرار و معارف
لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) شاید پدری محبت کے تقاضے سے یہ سمجھ بیٹھے کہ بیٹا، چاہے وہ کافر ہو گھروالوں میں شامل ہے اور اس کے لئے دعا کی جاسکتی ہے لیکن جونہی اللہ تعالیٰ نے انہیں تنبیہ کی کہ ایک کافر بیٹے کو نسبی قرابت کی بنا پر اپنا اہل سمجھنا صحیح نہیں ہے تو وہ فوراً متنبہ ہوئے اور اللہ کے حضور اپنی غلطی پر معافی چاہی۔ (از وحیدی) ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : حضرت نوح ( علیہ السلام) نے توبہ کی لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے۔ بندے کو کیا مقدور ہے ؟ اسی کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر نہ ہو۔ (موضح) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–47
(11:46) انہ عمل غیر صالح۔ ای انہ ذوعمل فاسد۔ وہ صاحب اعمال فاسدہ ہے۔ یعنی اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں غیر صالح ہیں۔ ذو۔ کو مبالغہ کی خاطر حذف کیا گیا ہے۔
فلا تسئلن اصل میں فلاتسئلنی تھا۔ لاتسئل فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ اور ی متکلم مفعول کے لئے ہے تو مجھ سے سوال مت کر۔ مجھ سے درخواست نہ کر۔
اعظل۔ وعظ یعظ وعظ (ضرب) سے مضارع واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–47
لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47
فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب یہ کنعان میرا بیٹا ہے یہ میرے اہل میں سے ہے اور تو نے وعدہ کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ کشتی میں اپنی اہل کو بھی ساتھ لے لوں اور تیرا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے۔ پھر یہ کیونکر ڈوب گیا تو بڑا انصاف والا ہے حکم ہوا کہ اللہ نے تو ان لوگوں کے لئے وعدہ کیا تھا جو ایمان لائیں۔ یہ لڑکا تو انہیں لوگوں میں تھا جن کے حق میں کہا گیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے اور آخر کو ڈوب جاویں گے۔ تمہیں مناسب نہیں ہے کہ جس بات کو نہ جانتے ہو اس کا سوال کرو۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بہت جلدی خدا سے پناہ چاہی کہ میں ایسی بات پوچھوں جس کا علم مجھے نہ ہو اگر تو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
[25] یعنی تو نے مجھ سے میری اور میرے گھر والوں کی نجات کا وعدہ فرمایا ہے تو میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے ہے لہذا اسے بچا لے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کا بیٹا منافق تھا اور آپ کے سامنے اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتا تھا۔ اگر وہ اپنا کفر ظاہر کردیتا تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی نجات کی دعا نہ کرتے۔ اس تفسیر کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
(ف 1) حضرت نوح (علیہ السلام) جہاں اللہ کے پیغمبر تھے ، وہاں ایک شفیق اور مہربان باپ بھی تھے ، اس لئے بیٹے کو اپنی آنکھوں کے سامنے ڈوبتا ہوا نہ دیکھ سکے ، شفقت پدری جوش میں آگئی ، الفاظ کا بہانہ ڈھونڈا اور اللہ سے درخواست کی کہ اے رب تونے وعدہ کیا تھا کہ تیرے اہل کو بچاؤں گا ، تیرا وعدہ سچا ہے میرا لڑکا بھی تو میرے اہل میں سے ہے ، پھر وہ کیوں کشتی میں نہیں بیٹھ سکتا ، دل میں اللہ کا ڈر بھی موجود ہے ، سفارش کے ساتھ یہ بھی کہے جاتے ہیں ، تو احکم الحاکمین ہے تو فیصلہ فرما دے ، اس میں تنقید کی گنجائش نہیں ۔
اللہ نے جواب دیا ، انبیاء کا مرتبہ صلبی درجوں سے بالا ہے ، اہل وہ نہیں جو تیرا عزیز ہے اہل…
Read the full tafseer →47 نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار میں اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں آئندہ کسی ایس بات کی درخواست کروں جس کی حقیقت کا مجھے علم نہ ہو اور اگر تو مجھے معاف نہیں کرے گا اور مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو میں بڑے نقصان اٹھانے والوں اور زیاں کاروں میں سے ہوجائوں گا یعنی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ جس کی مجھ کو خبر نہ ہو وہ طلب کروں یا جس کی حقیقت معلوم نہ ہو ایسا سوال کروں میری مغفرت کردے اور رحم فرما اگر تو بخشش نہ فرمائے گا اور رحم نہیں کرے گا تو میں کہیں کا بھی نہ رہوں گا۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) نے توبہ کی لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسا نہیں کروں گا کہ اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
ف 4۔ خلاصہ معروض کا دعا تھی اس کے مومن ہونے کے لیے۔
Read the full tafseer →نوح (علیہ السلام) نے جو سوال کیا تھا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ سے معذرت کر لی
65 ؎ نوح (علیہ السلام) نے عرض کی اے میرے پروردگار ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ تجھ سے ایسی بات کی درخواست کروں جس کا مجھے علم نہ ہو کہ آیا اس کے متعلق درخواست کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اب اگر تو نے مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں خسارہ اٹھا کر برباد ہو جائوں گا۔ غور کرو کہ بارگاہ الٰہی سے ذرا تنبیہہ ہوئی تو فوراً سراپا عجز و نیاز بن گئے اور معافی مانگنی شروع کردی۔ اللہ کے بندوں کی یہی وہ نشانی ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کا تعلق اللہ کی ذات سے کس قدر گہرا ہوتا ہے کہ ذرا لغزش ہوئی تو فوراً تائب ہوگئے کہ گویا…
Read the full tafseer →Mentioned in the third verse (47) is the apology tendered by Sayyidna Nuh (علیہ السلام) . In gist, it is a return to Allah in submission and entreaty, a prayer for the protection of Allah, His forgiveness for past omissions, and a request for His mercy.
From here we learn that, should one commit a mistake, let him not rely on his personal resolve to stay safe from it in the future. He should, rather, seek the protection of Allah Ta` ala and pray to Him that He is the One who can keep him safe from errors and sins.
Read the full tafseer →51. By relating the story of Noah's son, God has unequivocally and effectively made it clear that His justice is free from all biases, that His judgement is perfect and absolute. The Makkan unbelievers had entertained the illusion that God's wrath would not overtake them no matter how they behaved. They thought so because they happened to be the descendants of Abraham (peace be on him) and the devotees of a number of well-known gods and goddesses. In the past, Jews and Christians also entertained, as they still entertain, illusions of the same kind. In fact, there are also many deviant…
Read the full tafseer →