Hud 11:46

Hud · from ayah 46

11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ— اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ ۖؗۗ— فَلَا تَسْـَٔلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ؕ— اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ ۟قَالَ يٰـنُوۡحُ اِنَّهٗ لَـيۡسَ مِنۡ اَهۡلِكَ ‌ۚاِنَّهٗ عَمَلٌ غَيۡرُ صَالِحٍ ‌‌ۖ فَلَا تَسۡـئَــلۡنِ مَا لَـيۡسَ لَـكَ بِهٖ عِلۡمٌ‌ ؕ اِنِّىۡۤ اَعِظُكَ اَنۡ تَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰهِلِيۡنَ‏

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو

— Fateh Muhammad Jalandhari

He said, "O Noah, indeed he is not of your family; indeed, he is [one whose] work was other than righteous, so ask Me not for that about which you have no knowledge. Indeed, I advise you, lest you be among the ignorant."

— Saheeh International

Juz 12 · Ruku 4 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Hud

All translations of 11:46

جواب میں ارشاد ہوا "اے نوحؑ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے، لہٰذا تو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو نہیں جانتا، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا نے فرمایا کہ نوح وہ تیرے گھر والوں میں نہیں ہے وہ تو ناشائستہ افعال ہے تو جس چیز کی تم کو حقیقت معلوم نہیں ہے اس کے بارے میں مجھ سے سوال ہی نہ کرو۔ اور میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بنو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح یقیناً وه تیرے گھرانے سے نہیں ہے، اس کے کام بالکل ہی ناشائستہ ہیں تجھے ہرگز وه چیز نہ مانگنی چاہئے جس کا تجھے مطلقاً علم نہ ہو میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے اپنا شمار کرانے سے باز رہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے فرمایا : اے نوح ! یقین جانو وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ناپاک عمل کا پلندہ ہے۔ لہذا مجھ سے ایسی چیز نہ مانگو جس کی تمہیں خبر نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں شامل نہ ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا اے نوح! وہ تیرے گھر والوں میں نہیں بیشک اس کے کام بڑے نالائق ہیں، تو مجھ سے وہ بات نہ مانگ جس کا تجھے علم نہیں میں تجھے نصیحت فرماتا ہوں کہ نادان نہ بن،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد ہو: اے نوح! بیشک وہ تیرے گھر والوں میں شامل نہیں کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے، پس مجھ سے وہ سوال نہ کیا کرو جس کا تمہیں علم نہ ہو، میں تمہیں نصیحت کئے دیتا ہوں کہ کہیں تم نادانوں میں سے (نہ) ہو جانا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا اے نوح ! بیشک وہ تیرے گھر والوں سے نہیں، بیشک یہ ایسا کام ہے جو اچھا نہیں، پس مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھے کچھ علم نہیں۔ بیشک میں تجھے اس سے نصیحت کرتا ہوں کہ تو جاہلوں میں سے ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے جواب دیا : نوح وہ تیرے اہل سے نہیں تھا کیونکہ اس کے عمل اچھے نہ تھے لہذا جس بات کا تمہیں علم نہیں اس کا مجھ سے سوال نہ کرو۔ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ جاہلوں کی سی درخواست نہ کرو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا، اے نوح وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، وہ نہایت نابکار ہے، مجھ سے اس چیز کے لیے درخواست نہ کرو جس کے باب میں تمہیں کچھ علم نہیں اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم جاہلوں میں سے نہ بنو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جواب میں ارشاد ہوا کہ اے نوح، وہ تمہارے گھر والوں میں سے نہیں ہے، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں ہیں، پس تم مجھ سے اس بات کی درخواست نہ کرو جس کی حقیقت کا تمہیں علم نہیں، میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ مبادا کہیں تم جاہلوں میں سے ہوجاؤ،

— مولانا اسحاق مدنی

(اللہ نے) فرمایا اے نوح ؑ یہ تمہارے گھروالوں ہی میں سے نہیں۔ یہ ایک تباہ کار شخص ہے۔ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست نہ کرو جس کی تمہیں خبر نہ ہو میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم (آیندہ کہیں) نادان بن جاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے فرمایا کہ اے نوح ! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے اس کے اعمال غیر صالح ہیں تو آپ مجھ سے اس چیز کا سوال نہ کریں جس کے بارے میں آپ کو علم نہیں میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے فرمایا کہ اے نوح ! وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے اس کے اعمال اچھے نہیں تو مجھ سے مت سوال کر جس کا تمہیں علم نہیں اور میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ نہ ہوجانا نادانوں میں سے

— محترمہ رفعت اعجاز

In response Noah was told: 'Most certainly he is not of your family; verily he is of unrighteous conduct. So do not ask of Me for that concerning which you have no knowledge. I admonish you never to act like the ignorant ones.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :O NuH, in fact, he is not a part of your family. Indeed, he is (a man of) bad deeds. So do not ask Me something of which you have no knowledge. I exhort you not to be among the ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :O NuH, in fact, he is not a part of your family. Indeed, he is (a man of) bad deeds. So do not ask Me something of which you have no knowledge. I exhort you not to be among the ignorant.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "O Nuh! Surely, he is not of your family; verily, his work is unrighteous, so ask not of Me that of which you have no knowledge! I admonish you, lest you should be one of the ignorant."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: O Noah! Lo! he is not of thy household; lo! he is of evil conduct, so ask not of Me that whereof thou hast no knowledge. I admonish thee lest thou be among the ignorant.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He said, "O Noah, indeed he is not of your family; indeed, he is [one whose] work was other than righteous, so ask Me not for that about which you have no knowledge. Indeed, I advise you, lest you be among the ignorant."

— Saheeh International

His Lord replied, "He is not one of your family. He is a man of unrighteous deeds. Do not ask me about that which you have no knowledge. I advise you not to become an ignorant person."

— Muhammad Sarwar

He said: O Nuh! surely he is not of your family; surely he is (the doer of) other than good deeds, therefore ask not of Me that of which you have no knowledge; surely I admonish you lest you may be of the ignorant

— Muhammad Habib Shakir

He said: O Nuh! verily he is not of thy household; verily he is of unrighteous Conduct; wherefore ask Me not that whereof thou hast no knowledge; verily I exhort thee not to be of the ignorants.

— Abdul Majid Daryabadi

He said: "O Noah! He is not of thy family: For his conduct is unrighteous. So ask not of Me that of which thou hast no knowledge! I give thee counsel, lest thou act like the ignorant!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 11:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–47

نوح ؑ کی اپنے بیٹے کے لیے نجات کی دعا اور جواب یاد رہے کہ یہ دعا حضرت نوح ؑ کی محض اس غرض سے تھی کہ آپ کو صحیح طور پر اپنے ڈوبے ہوئے لڑکے کا حال معلوم ہوجائے۔ کہتے ہیں کہ پروردگار یہ بھی ظاہر ہے کہ میرا لڑکا میرے اہل میں سے تھا۔ اور میری اہل کو بچانے کا تیرا وعدہ تھا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ تیرا وعدہ غلط ہو۔ پھر یہ میرا بچہ کفار کے ساتھ کیسے غرق کردیا گیا ؟ جواب ملا کہ تیری جس اہل کو نجات دینے کا میرا وعدہ تھا ان میں تیرا یہ بچہ داخل نہ تھا، میرا یہ وعدہ ایمانداروں کی نجات کا تھا۔ میں کہہ چکا تھا کہ (وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ ۚ وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة هُوْد 49 یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک شخص کے جسم کا کوئی عضو سڑ گیا ہو اور ڈاکٹر نے اس کو کاٹ پھینکنے کا فیصلہ کیا ہو۔ اب وہ مریض ڈاکٹر سے کہتا ہے کہ یہ تو میرے جسم کا ایک حصہ ہے اسے کیوں کاٹتے ہو۔ اور ڈاکٹر اس کے جواب میں کہتا ہے کہ یہ تمہارے جسم کا حصہ نہیں ہے کیوں کہ یہ سڑ چکا ہے۔ اس جواب کا مطلب یہ نہ ہوگا کہ فی الواقع وہ سڑا ہوا عضو جسم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تمہارے جسم کے لیے جو اعضا مطلوب ہیں وہ تندرست اور کارآمد اعضاء ہیں نہ کہ سڑے ہوئے اعضا جو خود بھی کسی کام کے نہ ہوں اور باقی جسم کو بھی خراب کردینے والے ہوں۔ لہٰذا جو عضو بگڑ چکا ہے وہ اب اس مقصد کے لحاظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں حق تعالیٰ کی طرف سے اس کے جواب میں حضرت نوح ؑ کو تنبیہ کی گئی کہ یہ لڑکا آپ کو نہیں چاہئے کہ اس حقیقت حال سے بیخبر رہ کر مجھ سے کوئی سوال کریں ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ۔ حق تعالیٰ کے اس ارشاد سے دو باتیں معلوم ہوئیں، اول یہ کہ حضرت نوح ؑ کو اس بیٹے کے کفر کا پورا حال معلوم نہ تھا اس کے نفاق کی وجہ سے وہ اس کو مسلمان ہی جانتے تھے، اسی لئے اس کو اپنے اہل کا ایک فرد قرار دے کر طوفان سے بچانے کی دعا کر بیٹھے ورنہ اگر ان کو حقیقت حال معلوم ہوتی تو ایسی دعا نہ کرتے، کیونکہ ان کو صریح طور پر پہلے ہی یہ ہدایت دے دی گئی تھی کہ جب طوفان آجائے تو پھر آپ ان سرکشوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ڶ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ۔ نبی کا گھرانہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے :۔ اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ یہ بیٹا تمہارے اس اہل میں شامل نہیں جن کے لیے نجات کا وعدہ تھا۔ نجات کا وعدہ صرف اہل ایمان کے لیے تھا اور تمہارے اہل میں سے اس میں وہی شامل تھے جو ایمان کے رشتہ سے تمہارے ساتھ وابستہ تھے۔ انہ عمل غیر صالح، یہ اسی طرح کا اسلوب بیان ہے جیسے کہیں زید عدل (زید سراپا عدل ہے) یعنی یہ شخص تمہارے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے۔ یہ تو بالکل نابکار و…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

46۔ 1 حضرت نوح ؑ نے قرابت نسبی کا لحاظ کرتے ہوئے اسے اپنا بیٹا قرار دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایمان کی بنیاد پر قرابت دین کے اعتبار سے اس بات کی نفی فرمائی کہ وہ تیرے گھرانے سے ہے۔ اس لئے کہ ایک نبی کا اصل گھرانہ تو وہی ہے جو اس پر ایمان لائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ اور اگر کوئی ایمان نہ لائے تو چاہے وہ نبی کا باپ ہو، بیٹا ہو یا بیوی، وہ نبی کے گھرانے کا فرد نہیں۔ 46۔ 2 یہ اللہ تعالیٰ نے اس کی علت بیان فرما دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کے پاس ایمان اور عمل صا لح نہیں ہوگا، اسے اللہ کے عذاب سے اللہ کا پیغمبر بھی بچانے پر قادر نہیں۔ آج کل لوگ پیروں، فقیروں اور سجادہ نشینوں سے وابستگی کو ہی نجات کے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 45–47

26: یعنی آپ کو ہر چیز پر قدرت ہے، اگر چاہیں تو اسے ایمان کی توفیق دے دیں، اور پھر ایمان والوں کے حق میں آپ کا جو وعدہ ہے وہ اس کے حق میں بھی پورا ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : " اے وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے " وہ آپ سے کٹ چکا ہے اور آپ اس سے کٹ چکے ہیں ، اگرچہ وہ تمہارا حقیقی بیٹا ہے کیونکہ اسلام میں اصل تعلق اور رابطہ نظریاتی رابطہ ہے ، اس کے علاوہ کوئی رابطہ اور قوت جامعہ اسلام میں معتبر نہیں ہے۔ حضرت نوح نے جن حالات میں دعا کی تھی وہ ایسے تھے کہ ان کی دعا منظور نہ ہوئی اس لیے اس کا جو جواب انہیں دیا گیا اس میں قدرے تہدید اور تنبیہ بھی ہے۔ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : " لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 45–46

1 نوح (علیہ السلام) نے یہ کس وقت عرض کیا، کنعان کے غرق ہونے سے پہلے یا غرق ہونے کے بعد، دونوں احتمال ہیں۔ نیز کنعان کو اس کی منافقانہ اوضاع واطوار دیکھ کر غلط فہمی سے مومن سمجھ رہے تھے یا کافر سمجھتے ہوئے بارگاہ رب العزت میں یہ گزارش کی۔ دونوں باتوں کا امکان ہے۔ اگر مومن سمجھ کر غرقابی سے پہلے عرض کیا تھا تو مقصود اپنی اضطرابی کیفیت کا اظہار اور خدا سے کہہ کر اس کے بچاؤ کا انتظام کرنا تھا۔ اگر غرقابی کے بعد یہ گفتگو ہوئی تو محض معاملہ کی اصل حقیقت معلوم کرنے کی غرض سے اپنا خلجان یا اشکال پیش کیا۔ یعنی خداوندا ! تو نے میرے گھر والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور کنعان مومن ہونے کی وجہ سے (…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 46–47

آیت 46 قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ اس کے نظریات اس کے عقائد ‘ اس کا کردار سب کافرانہ تھے۔ وہ آپ کے اہل میں کیسے شمار ہوسکتا ہے ؟ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے۔ چناچہ وہ آپ کے نسبی خاندان کا ایک رکن ہونے کے علی الرغم آپ کے ایمانی و اخلاقی خاندان کا فرد نہیں تھا۔ اِنِّیْٓ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ یہ بہت سخت انداز ہے۔ یاد کیجیے کہ سورة الانعام کی آیت 35 میں محمد رسول اللہ سے بھی اس طرح کے الفاظ فرمائے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

51 بدکردار بیٹا بھی نبی کا اہل نہیں ہوسکتا :۔ جب دیکھتے ہی دیکھتے سیدنا نوح کے سامنے ان کا بیٹا غرق ہوگیا تو ملول ہوگئے اور اللہ سے اس انداز میں التجا کی کہ یا اللہ تیرا وعدہ تھا کہ میں تیرے اہل کو بچا لوں گا اور وعدہ بھی سچا اور تیرا فیصلہ بھی سب حاکموں سے بہتر اور آخری جس کی کوئی اپیل بھی نہیں اور یہ غرق ہونے والا بیٹا بھی تو میرے اہل میں سے ہی تھا۔ پھر اسے غرق کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ ایک بدکردار آدمی نبی کے اہل میں سے کیسے ہوسکتا ہے وہ ہرگز تمہارے اہل میں سے نہیں تھا خواہ وہ تمہارا صلبی بیٹا ہی تھا اور دیکھو آئندہ مجھ سے ایسا جاہلانہ سوال کبھی نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

70۔ (ہمارے علم ازلی میں) اھل سے مراد وہی اہل ایمان گھر والے ہیں جن کے لیے نجات کا وعدہ ہوچکا تھا اور یہیں سے علماء محققین نے یہ نکالا ہے کہ شریعت میں معتبر قرابت ایمانی ہے نہ کہ قرابت نسبی۔ ای لیس منھم اصلا لان مدار الاھلیۃ ھو القرابۃ الدینیۃ (روح) ھذہ الایۃ یدل علی ان العبرۃ بقرابۃ الدین لا بقرابۃ النسب لان فی ھذہ الصورۃ کانت قرابۃ النسب حاصلۃ من اقوی الوجوہ ولکن لما انتفت قرابۃ الدین لاجرم نفاہ اللہ تعالیٰ بابلغ الالفاظ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شرف نسب کے ساتھ جب تک صلاح جمع نہ ہو وہ کالعدم ہے۔ 71۔ (جو ایمان کا قصد ہی نہیں کرتا) عمل سے مراد ذو عمل لی گئی ہے۔ مداومت عمل فاسد کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 36–49

آیت نمبر 36 تا 49 ترجمہ : اور نوح (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی گئی کہ تیری قوم میں سے جو ایمان لاچکے ان کے سوا اب کوئی ایمان لانے والا نہیں لہٰذا تم ان کے شرکیہ کرتوتوں پر غم نہ کرو چناچہ نوح (علیہ السلام) نے ان کیلئے ربِّ لاتذر الخ کہہ کر بددعاء کردی اور اللہ تعالیٰ نے ان کی بددعاء کو قبول فرما لیا اور حکم دیا کہ ہماری نگرانی اور حفاظت میں ہمارے حکم کے مطابق ایک کشتی بناو اور دیکھو جن لوگوں نے کفر کیا ہے ان کو ہلاک نہ کرنے کے بارے میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا یقیناً وہ غرق ہونے والے ہیں) نوح (علیہ السلام) ( کشتی بنا رہے تھے یہ حال ماضی کی حکایت ہے اور جب کبھی ان کے پاس سے ان کی قوم کے لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال یٰنوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح اللہ نے فرمایا : نوح ! حقیقت یہ ہے کہ وہ تیرے اہل میں سے ہی نہیں (مؤمن کا کافر سے کوئی رشتۂ ولایت نہیں) کیونکہ اس کے عمل درست نہیں۔ عَمَلٌ سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی عمل والا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کو بچانے کا سوال کرنا درست عمل نہیں ہے۔ فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم پس تو ایسی بات کا مجھ سے سوال نہ کر جس (کے صحیح یا غلط ہونے) کا تجھے علم نہیں۔ چونکہ حضرت نوح کی نداء کے اندر نجات اہل کا وعدہ تھا اور وعدہ کو پورا کرنے کی درخواست اس نداء کے اندر مضمر تھی ‘ اسلئے نداء کو سوال قرار دیا اور سوال کی ممانعت فرما دی۔ یا یوں کہا جائے کہ وعدہ پورا نہ کرنے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(46) اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح ؑ یہ تمہارے ان گھر والوں میں سے نہیں ہے جن کے بچانے کا ہم نے وعدہ فرمایا ہے یہ غیر پسندیدہ کام یعنی شرک میں مبتلا ہے اس کی نجات کے بارے میں آپ کی دعا میری مرضی کے خلاف ہے سو مجھے ایسے لوگوں کی نجات کی درخواست مت کرو جن کی آپ کو خبر نہیں کہ یہ اہل نجات سے ہیں یا نہیں۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی چیزوں کی درخواست کرکے جنھیں تم نہیں جانتے کہ کہیں تو نادان نہ بن جاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : فرمایا اے نوح ! یہ تیرے اہل میں سے نہیں، بلکہ ”اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ“ کے تحت کفر کی وجہ سے تمہارا اہل ہونے کے شرف سے محروم ہے اور ان لوگوں میں شامل ہوگیا ہے جن کے غرق کیے جانے کا پہلے فیصلہ ہوچکا ہے۔ rnِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ : عام طور پر اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے ”اس کے عمل اچھے نہیں ہیں۔“ یہ معنی اس صورت میں درست ہوسکتا ہے کہ ”عمل“ مصدر کو مبالغہ کے لیے اسم فاعل (عَامِلٌ) کے معنی میں مانا جائے، جیسے : ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ کو ”زَیْدٌ عَادِلٌ“ کے معنی میں لیا جاتا ہے، یعنی یہ غیر صالح عمل کرنے والا ہے۔ مگر امام المفسرین طبری ؓ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 45–47

آیت نمبر 45 تا 47 اس میں پانچ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد : ونادٰی نوح ربہ یعنی اس نے اس (اللہ) سے دعا کی۔ فقال رب ان ابنی من اھلی یعنی میرے ان اہل میں سے جن کے غرق سے نجات کا تو نے وعدہ فرمایا ہوا ہے، پس کلام میں حذف ہے۔ وان دعدک الحق یعنی سچا۔ ہمارے علماء نے کہا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب سے اپنے بیٹے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد واھلک کی وجہ سے سوال کیا اور اللہ تعالیٰ کے ارشادالا من سبق علیہ القولکو ترک کردیا۔ جب ان کے نزدیک وہ انکے اہل سے تھا تو عرض کیا : رب ان ابنی من اھلیاس بات پر ان کا قولولاتکن مع الکٰفرین۔ دلالت کرتا ہے، یعنی تو ان میں سے نہ ہوجا جن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–47

عمل کے بغیر صرف نسب سے نجات نہ ہوگی : 1:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انبیاء کی عورتیں زنا کار نہیں ہوتی اور وہ یہ آیت پڑھتے تھے (آیت) انہ عمل غیر صالح “ یعنی اے نوح جو آپ کا مجھ سے سوال کرنا اچھا عمل نہیں۔ میں اس سے تیرے لئے راضی نہیں ہوں گا (یعنی میں اسے تیرے لئے پسند نہیں کرتا) 2:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید (رح) کے راستہ سے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ جب ہم نے آپ کو منع کیا کہ وہ کسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے رجوع کریں تو پھر اپنے رب کی طرف رجوع کرنا غیرصالح عمل تھا (اور) عبداللہ کی قرابت میں یون ہے (آیت) ” فلا تسئلن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ : اس نے کہا ] [يٰنُوْحُ : اے نوح (علیہ السلام) ] [انهٗ : یقینا وہ ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [مِنْ اَهْلِكَ : تیرے گھر والوں میں سے ] [انهٗ : بیشک یہ (پکارنا)] [عَمَلٌ: ایک ایسا عمل ہے جو ] [غَيْرُ صَالِحٍ : صالح کے علاوہ ہے ] [فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ : پس تو سوال نہ کر مجھ سے ] [مَا : اس کا ] [لَيْسَ : نہیں ہے ] [لَكَ : تیرے لئے ] [بِهٖ : جس کا ] [عِلْمٌ: کوئی علم ] [انىٓ: بیشک میں ] [اَعِظُكَ : نصیحت کرتا ہوں تجھ کو ] [ان : کہ (کہیں)] [تَكُوْنَ : تو ہوجائے ] [مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : جاہلوں میں سے ] ترکیب : (آیت۔ 46) ۔ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ میں اِنَّ کا اسم چہٗ کی ضمیر ہے۔ لَیْسَ کا اسم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 44–47

طوفان کا ختم ہونا اور کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا پانی کا طوفان آیا جو خوب زیادہ تھا ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں سے بھی اوپر پانی پہنچ گیا اور اس کی موجیں بھی پہاڑوں کی طرح تھیں اتنے کثیر پانی سے کون بچ سکتا تھا۔ سوائے ان مؤمن مخلص بندوں کے جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا یہ طوفان کتنے دن رہا اس کے بارے میں جو روایات ہیں ان میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کشتی ایک سو پچاس دن تک پانی پر رہی اور ایک قول یہ ہے کہ وہ چھ مہینے تیرتی رہی صحیح علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کو طوفان ختم کرنا منظور ہوا تو زمین کو حکم دے دیا کہ اپنے پانی کو نگل لے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–47

دعا نوح (علیہ السلام) برائے نجات پسر خود و جواب باری تعالیٰ قال اللہ تعالیٰ ونادی نوح ربہ ..... الیٰ ..... اکن من الخسرین۔ اور نوح (علیہ السلام) نے بیٹے کے غرق ہونے سے پہلے حسرت و لجاجت کے ساتھ اپنے پروردگار کو پکارا کہ شاید اس کی شان ربوبیت سے بیٹے کی نجات کی کوئی صورت نکل آئے پس عرض کیا کہ اے میرے رب تحقیق یہ میرا بیٹا جو ہلاکت کے کنارے پر کھڑا ہے میرے اہل و عیال اور گھروالوں میں سے ہے جن کی نجات کا تو نے وعدہ کیا ہے اور بلاشبہ تیرا وعدہ حق اور صدق ہے۔ پس آپ میرے بیٹے کو غرق ہونے سے بچا لیجئے اور آپ تو سب سے بڑے حاکم ہیں۔ آپ کے حکم کو کون توڑ سکتا ہے یا ٹلا سکتا ہے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

44: فرمایا اے نوح ! یہ تیرے ان اہل بیت سے نہیں جن کو نجات دینے کا میں نے وعدہ کیا تھا کیونکہ اس کے اعمال نیک نہیں بلکہ وہ مشرک ہے اس لیے جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کے بارے میں مجھ سے مت سوال کرو۔ دلوں کے بھید تو اللہ جانتا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کے نفاق سے بیخبر تھے اس لیے اس بارے میں سوال کر بیٹھے۔ فاخبر اللہ تعالیٰ نوحا بما ھو منفرد بہ من علم الغیوب ای علمت من حال ابنک ما لم تعلمہ انت الخ (قرطبی) ۔ اس آیت سے شفاعت قہری اور غیر اللہ کے مختار و متصرف ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) اپنے بیٹے کو نہ ہدایت پر لاسکے اور نہ عذاب الٰہی سے اسے بچا سکے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 44–47

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان کی شکل میں عذاب نازل فرمایا اور ساری نافرمان قوم کو اس طوفان میں غرق کیا ، پھر یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ آپ کی قوم کے اہل ایمان کو اللہ نے کشتی کے ذریعے نجات دی۔ یہ طوفان تقریبا سات ماہ تک اس قوم پر مسلط رہا۔ چالیس دن تک متواتر بارش ہوتی رہی اور زمین کے چشمے بھی پھوٹتے رہے حتی کہ پوری سطح ارض بلند ترین پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھر گئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھرگئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں جتنی بلند موجیں اٹھ رہیں تھیں اور نوح…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَيْسَ مِنْ اَہْلِكَ۝ 0 ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ۝ 0 ۡ ۤۖ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝ 0 ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِيْنَ۝ 46 عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 25–60

ترکیب : انی بالکسر علی تقدیر قال وبالفتح بانی ان لا تعبدوا بدل ہے کلام سابق انی الخ سے مانراک اگر رویۃ العین سے ہے تو اس کے بعد کا جملہ حال اور قد مقدرانہ مفعول ثانی ار اذل جمع ارذل اور یہ رذل کی جمع ہے وقیل ارذل واحدۃ و جمعہ اراذل بادی بمعنی ظاہر اگر دال کے بعد ہمزہ سے پڑھا جاوے تو بدأیبدأ اذا فعل الشیء اولا سے ہوگا ورنہ بدایبدو سے جس کے معنی ظاہر کے ہیں۔ یہ منصوب ہے ظرف ہونے کی وجہ سے اور عامل اس کا اتبعک ہے۔ لن یؤتیہم الخ جملہ مقولہ ولا اقول کا تزدری دال بدل ہے ت سے اصلہ تزتری وھو تفعل من زریتت دال سے بدل گئی لتجانس الزار فی الجہر اور ت چونکہ حروف مہموسہ میں سے ہے اس لئے ز کے ساتھ جمع…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

وَنَادٰی نُوْحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَہْلِیْ وَاِنَّ وَعْدَکَ الْحَقُّ وَاَنْتَ اَحْکَمُ الْحٰکِمِیْنَ ۔ قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَہْلِکَ ج اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ زق صلے فَلاَ تَسْئَلْنِ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ط اِنِّیْ اَعِظُکَ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِیْنَ ۔ (سورۃ ہود : 45۔ 46) (اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا۔ پس کہا اے میرے رب بیشک میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بہتر حکم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے نوح ! وہ تیرے اہل میں سے نہیں، وہ نہایت نابکار ہے۔ مجھ سے اس چیز کے لیے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–47

فہم القرآن ربط کلام : بیٹے کی غرقابی کے وقت حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےساختہ اللہ تعالیٰ سے فریاد۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو بار بار سمجھایا کہ جان پدر کلمہ پڑھو اور کفار کا ساتھ چھوڑ کر میرے ساتھ ہم رکاب ہوجاؤ۔ لیکن بیٹے نے عظیم باپ کی ایک نہ مانی اور پانی میں ڈبکیاں لیتے ہوئے جان دے دی۔ جب یہ کربناک منظر بوڑھے باپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تو پدرانہ شفقت جوش میں آئی اور بےساختہ اپنے رب کی بارگاہ میں فریاد کناں ہوئے کہ اے میرے رب آپ نے ازراہ کرم میرے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ میں آپ کے اہل کو بچالوں گا۔ آپ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوا کرتا ہے اور وعدہ پورا کرنے پر آپ ہر اعتبار سے قادر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

46: قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِکَ (فرمایا اے نوح وہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے) پھر اہل میں نہ ہونے کی تعلیل بیان فرمائی۔ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ (اس کے عمل درست نہیں ہیں) فائدہ : اس میں اعلان کردیا کہ قرابت دینی قرابت نسبی کو ڈھانپنے والی ہے۔ تیرا ہم نسب وہ جو تیرے دین میں متفق ہے۔ اگرچہ وہ حبشی اور تو قریشی اور جو تیرے دین پر نہ ہو۔ اگرچہ وہ تیرا قریبی رحم کا رشتہ دار ہو۔ وہ تجھ سے بہت ہی دور ہے۔ نمبر 1۔ اس آیت میں خود اس لڑکے کا عمل غیر صالح قراردیا تاکہ مذمت میں مبالغہ ہوجائے۔ جیسا شاعر کا قول ہے۔ ع فانما ہی اقبال و ادبار کہ زمانہ تو دور ان کا نام ہے۔ نمبر 2: تقدیرعبارت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46۔” قال “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” یا نوح انہ لیس من اھلک انہ عمل غیر صالح “ کسائی اور یعقوب نے ( عمل) میم کے کسرہ اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے۔ غیر منصوب فعل کی وجہ سے دوسرے قراء نے میم کے فتحہ اور لام کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور غیر کو بھی مرفوع پڑھا ہے۔ یعنی تمہارا مجھ سے نجات کے متعلق سوال کرنا یہ عمل غیر صالح ہے۔” فلا تسالن “ اے نوح ” ما لیس لک بہ علم “ اہل حجاز اور اہل شام نے ” فلا تسالنی “ لام کے زبر اور نون کے شد کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ حضرات ابن کثیر کے علاوہ نون کو زیر دیتے ہیں۔ ابن کثیر نون کو زبر دیتے ہیں اور دیگر حضرات نے لام کے جزم اور نون کی زبر اور تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 45–47

45۔ 47۔ جب نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب یہ کنعان میرا بیٹا ہے میرے اہل میں سے ہے اور تو نے وعدہ کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ کشتی میں اپنی اہل کو بھی ساتھ لے لو اور تیرا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے پھر یہ کیوں کر ڈوب گیا تو بڑا انصاف والا ہے حکم ہوا کہ اللہ نے تو ان لوگوں کے لئے وعدہ کیا تھا جو ایمان لائیں یہ لڑکا تو انہیں لوگوں میں تھا جن کے حق میں کہا گیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے اور آخر کو ڈوب جاویں گے تمہیں مناسب نہیں ہے کہ جس بات کو نہ جانتے ہو اس کا سوال کرو مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مرضی کے خلاف تمہیں سوال نہیں کرنا چاہیے کیونکہ خلاف مرضی سوال کرنا جاہلوں کا کام ہے۔ پھر نوح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

“ (قال) اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے فرمایا : (انہ لیس من اھلک) ” وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے “ یعنی ان اہل خانہ میں سے، جن کی نجات کا میں نے وعدہ کیا تھا۔ (انہ عمل غیر صالح) ” بیشک اس کے عمل صحیح نہیں ہیں “ یعنی یہ دعا تو نے ایک ایسے کافر کی نجات کے لئے کی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں رکھتا۔ (فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم) ” پس جس کی بابت تجھے علم نہ ہو، اس کا مجھ سے سوال نہ کر “ یعنی جس کی عاقبت اور انجام کا تجھ کو علم نہیں کہ آیا اس کا انجام اچھا ہے یا برا۔ (انی اعظک ان تکون من الجھلین) ” میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ نادان نہ بن۔ “ یعنی میں تجھ کو ایسی نصیحت کرتا ہوں جس…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 45–60

ابن نوح (علیہ السلام) کا مفہوم قول باری ہے ونادی نوح ربہ فقال رب ان ابنبی من اھلی ۔ نوح نے اپنے رب کا پکارا ۔ کہا اے رب ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے۔ حضرت (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اپنے اہل میں شمار کیا یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص اپنے اہل کے لیے تہائی مال کی وصیت کر جائے، یہ تہائی مال ان تمام افراد کو مل جائے گا جو اس کے عیال میں شامل ہوں گے خواہ وہ اس کا بیٹا ہو، یا بھائی یا بیوی یا کوئی غیر رشتہ دار اجنبی ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے جب کہ قیاس کا تقاضا تھا کہ یہ وصیت صرف اس کی بیوی کے لیے خاص ہوجاتی لیکن یہاں استحسان کی صورت اختیار کر کے اس وصیت کو ان تمام افراد کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–47

102 ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اپنے بیٹے کے لیے دعا و درخواست کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکار کر عرض کیا کہ اے میرے رب میرا بیٹا بھی میرے اہل میں سے ہے۔ سو حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر اگرچہ آپ کے بیٹے کی غرقابی کے ذکر کے بعد فرمایا گیا ہے مگر اس کا تعلق اس کی غرقابی کے قبل سے ہے۔ (المراغی، المنار، المعارف، التدبر، تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشور، الفتوحات الالہیہ وغیرہ ذالک) ہم نے بین القوسین کے الفاظ بڑھا کر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ الحمد للہ۔ سو اس لحاظ سے اگرچہ بظاہر اس کا ذکر آیت نمبر 43 کے ساتھ ہونا چاہئے تھا لیکن اس کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–47

حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیٹے کے لیے دعا اور اللہ کی تنبیہ تشریح : ان آیات میں کچھ نکات بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً : 1 پیغمبر بھی انسان ہی ہوتے ہیں شفقت پدری میں کہہ بیٹھے کہ میرا بیٹا کنعان ڈوب رہا ہے اسے بچا لے۔ 2 جواب میں اللہ نے فرمایا کہ بیٹا ہونا کوئی مغفرت کی وجہ نہیں ہوسکتی وہ بداعمال تھا اس لیے ڈوب گیا، لہٰذا یہ طے ہے کہ بخشش کے لیے اعمال کی ضرورت ہے نہ کہ قرابت داری کی۔ اور پھر سید ہونا یا نام کا مسلمان ہونا بخشش کے لیے ناکافی ہے۔ حسب و نسب پر فخر کرنا، برے اعمال کرنا دوزخ سے نہ بچا سکے گا۔ 3 غیر مسلم یا بدکردار انسان کے لیے مغفرت کی دعا نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ اس کا معاملہ اللہ نے طے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 36–49

آیات 36 تا 49 اسرار و معارف لہٰذا یہ بات نوح (علیہ السلام) کے حالات سے بھی واضح ہے کہ جب انھیں اللہ کا حکم پہنچاتے صدیاں بیت گئیں کہ ان کی عمربہت لمبی تھی اور قوم کی کئی نسلیں ان کے سامنے گزر گئیں مگر ایمان نہ لائے تو انھیں اللہ کریم کی طرف سے اطلاع کردی گئی کہ اب ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایمان نہ لائے گا ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ایمان لانے کی استعدادہی ان سے کھوگئی اور ان کے دلوں پر مہرلگ چکی ہاں ! صرف وہ محدود تعداد جو پہلے سے ایمان لا چکی ہے چناچہ آپ ان کا غم چھوڑ دیں اب یہ جو بھی کرتے ہیں آپ اس سے دل گرفتہ نہ ہوں کہ ان کا انجام قریب ہے تم ہی نوح (علیہ السلام) نے بدعافرمائی جو قرآن میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 45–46

ف 9 ۔ یعنی ان لوگوں میں سے نہیں ہے جنہوں نے تجھ پر ایمان لا کر تیری پر وی اختیار کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجات کے لئے نسبی تعلق کافی نہیں ہے بلکہ ایمان و عمل ضروری ہے۔ 10 ۔ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ سے کسی ایسی چیز کا مانگنا جائز نہیں ہے جس کے متعلق معلوم ہو کہ وہ اس کی شریعت کے مطابق نہیں ہے۔ 1 ۔ یا یہ کہ تمہیں اس سے بلند دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم سے کوئی ایسا کام صادر ہو جو جائلوں کے کرنے کا ہے۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں آدمی پوچھتا وہی ہے جو معلوم نہ ہو لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام ہے جائل کا کہ اگلے کی مرضی نہ دیکھئے پوچھنے کی پھر پوچھے۔ (موضح) مطلب یہ ہے کہ اس حقیقت کو جاننے کے بعد اگر آئندہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–47

(11:46) انہ عمل غیر صالح۔ ای انہ ذوعمل فاسد۔ وہ صاحب اعمال فاسدہ ہے۔ یعنی اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں غیر صالح ہیں۔ ذو۔ کو مبالغہ کی خاطر حذف کیا گیا ہے۔ فلا تسئلن اصل میں فلاتسئلنی تھا۔ لاتسئل فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ نون وقایہ اور ی متکلم مفعول کے لئے ہے تو مجھ سے سوال مت کر۔ مجھ سے درخواست نہ کر۔ اعظل۔ وعظ یعظ وعظ (ضرب) سے مضارع واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 40–47

لغات القرآن آیت نمبر 40 تا 47 فار (جوش مارا) تنور (روٹیاں بنانے کے لئے وہ گڑھا جس میں آگ جلتی ہے) احمل (سوار ہوجا) زوجین (زوج) ، جوڑے اثنین (دودو) اھل (گھر والے) سبق (گذر گیا، فیصلہ ہوگیا) ارکبوا (سوار ہو جائو) مجری (چلنا) مرسی (ٹھہرنا، (ارساء سے بنا ہے) جبال (جبل) ، پہاڑ نادی (آواز دی) معزل (کنارہ) بینی (اے میرے بچے ) ساوی (میں پناہ لے لوں گا) یعصمنی (وہ مجھے بچا لے گا) عاصم (بچانے والا ) حال (آڑے آگیا) ابلعی (تونگل لے، پی جا) اقلعی (تورک جا، تھم جا) غیض الماء (پانی اترتا چلا گیا) قضی (فیصلہ کردیا گیا) استوت (برابر ہوگئی، ٹھہر گئی) جودی (جودی پہاڑ) بعداً (دور ہونا) لاتسئلن (تو مجھ سے سوال نہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 45–47

جب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے رب کو پکارا کہ اے رب یہ کنعان میرا بیٹا ہے یہ میرے اہل میں سے ہے اور تو نے وعدہ کیا تھا اور حکم دیا تھا کہ کشتی میں اپنی اہل کو بھی ساتھ لے لوں اور تیرا وعدہ سچا ہوا کرتا ہے۔ پھر یہ کیونکر ڈوب گیا تو بڑا انصاف والا ہے حکم ہوا کہ اللہ نے تو ان لوگوں کے لئے وعدہ کیا تھا جو ایمان لائیں۔ یہ لڑکا تو انہیں لوگوں میں تھا جن کے حق میں کہا گیا تھا کہ یہ ایمان نہیں لائیں گے اور آخر کو ڈوب جاویں گے۔ تمہیں مناسب نہیں ہے کہ جس بات کو نہ جانتے ہو اس کا سوال کرو۔ پھر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بہت جلدی خدا سے پناہ چاہی کہ میں ایسی بات پوچھوں جس کا علم مجھے نہ ہو اگر تو اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–48

[25] یعنی تو نے مجھ سے میری اور میرے گھر والوں کی نجات کا وعدہ فرمایا ہے تو میرا بیٹا بھی میرے گھر والوں میں سے ہے لہذا اسے بچا لے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کا بیٹا منافق تھا اور آپ کے سامنے اپنے آپ کو مومن ظاہر کرتا تھا۔ اگر وہ اپنا کفر ظاہر کردیتا تو آپ اللہ تعالیٰ سے اس کی نجات کی دعا نہ کرتے۔ اس تفسیر کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 44–46

قرآن کی بلیغ ترین آیت : (ف 2) اس پانی کے طوفان میں تمام منکرین خس و خاشاک کی طرح بہ گئے ، ان کا غرور انکے کام نہ آسکا ، اور خدا کے غضب سے سب غرق ہوگئے ، اس آیت میں قرآن حکیم نے طوفان تھم جانے کی تصویر جن الفاظ میں کھینچی ہے وہ بلاغت کا حیرت انگیز مرقع ہے ، علماء نے اس آیت کے اسرار ونکات پر کتابیں لکھی ہیں ، اس کی معنوی اور لفظی خوبیاں اس قدر حیران کن ہیں ، کہ ہر پڑھا لکھا انسان اعتراف کرتا ہے علامہ ابوحیان اندلسی نے نے بدیع کی اکیس قسموں کو اس میں جلوہ گر دیکھا ہے ، سید محمد بن اسمعیل نے اس ایک مخصوص رسالہ لکھا ہے ، زمخشری جو اسرار و رموز ادب کا سب سے بڑا ماہر ہے ، دلائل الاعجاز میں صفحے کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

46 اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے نوح (علیہ السلام) یہ بیٹا تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے اس کے عمل ناشائستہ میں مجھ سے کسی ایسی چیز کی درخواست نہ کر جس کی تجھ کو خبر نہ ہو میں تجھ کو نصیحت کرتا ہوں کہ تو نادان نہ بن اور کہیں تو نادانوں میں شامل نہ ہوجائے یعنی تیری اہل نہیں کہ اس کے اعمال صحیح نہ تھے بلکہ کفر یہ تھے یا یہ بات کہ وہ من سبق علیہ القول میں داخل ہے اور اس کی قسمت میں ایمان نہیں ایمان نہیں تو نجات نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں آدمی پوچھتا ہے جو معلوم نہ ہو لیکن مرضی معلوم چاہئے یہ کام ہے جاہل کا کہ اگلے کی مرضی نہ ہو دیکھنے پوچھنے کی پھر پوچھے 12

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حکم الٰہی ہوا کہ اے نوح (علیہ السلام) وہ تیرا نہیں اس لئے کہ اس کے اعمال اچھے نہیں 64 ؎ فرمایا اے نوح (علیہ السلام) ! ہم نے تجھے اور تیرے لوگوں کو بچانے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بالکل حق ہے ” تیرے لوگوں “ سے ہماری مراد تیرا حسب و نسب نہیں تھا بلکہ تیرے فرمانبردار لوگ ہیں جو تجھ پر دل و جان سے ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کے دین کیلئے سب کچھ پیش کیا اور وہ تیرے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے۔ کیا ہم نے نہیں کہا تھا کہ تیرے فرمانبردار تیرے ساتھ کشتی میں سوار ہوں گے اور نافرمان تیری بات کو نہیں مانیں گے اب تو ہی بتا کہ کیا تیرا بیٹا تیرے ساتھ کشتی پر سوار ہوا ؟ نہیں تو آخر کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تیری تعلیم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second verse (46), came a stern response from Allah Ta` ala whereby Sayyidna Nuh (علیہ السلام) was told that this son was no more a part of his family because he was not good and right in what he did. Therefore, it was not proper for him to approach Him with some request while being unaware of the true state of affairs. Then came the mollifying remark that the good counsel was being given to him so that he too does not become one of the ignorant. Two things come out from what was said by Allah Ta` ala: 1. Sayyidna Nuh (علیہ السلام) did not know about the disbelief of his son clearly…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

49. The import of this Qur'anic verse may best be appreciated by analogy to the limbs on a person's body. A limb may become rotten and a physician may decide to remove it by surgical operation. Now, the patient may ask his doctor not to amputate because it is a part of his body. The natural reply of the physician would be that the rotten limb was not truly a part of his body. Such a reply does not amount to denying, in a literal sense, the obvious fact that the limb is a part of that person's body. What such a statement actually means is that a person's body requires sound and healthy limbs…

Read the full tafseer →