ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے قیام (تہجد پڑھنے) کی ترغیب دلاتے، بغیر اس کے کہ انہیں تاکیدی حکم دیں اور فرماتے: جس نے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دئیے جائیں گے ، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوگئی اور معاملہ اسی پر قائم رہا، پھر ابوبکر ؓ کے عہد خلافت میں اور عمر ؓ کے عہد خلافت کے ابتدائی دور میں بھی معاملہ اسی پر رہا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger encouraged people to offer (voluntary) salah during Ramadan without prescribing it as an obligation. He would say, “He who stands in prayer during Ramadan with faith and seeking reward sincerely is forgiven what has past of his sins”. Then Allah’s Messenger ﷺ died while this was practiced. Then it was done like that in the caliphate of Abu Bakr (RA) and the early period of the caliphate of Umar ibn Khattab (RA) in the same manner. [Ahmed7792, Muslim 759, Abu Dawud 1371, Nisai 2100]
صحيح، صحيح أبي داود (1241)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 808
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ ؓ سے بھی سے حدیث آئی ہے، ٣- یہ حدیث بطریق: «الزهري عن عروة عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی نبی اکرم ﷺ کے عہد میں اور ابوبکر ؓ کے عہد میں اور عہد فاروقی کے ابتدائی سالوں میں بغیر عزیمت و تاکید کے اکیلے اکیلے ہی تراویح پڑھنے کا معاملہ رہا، پھر عمر فاروق ؓ نے ابی بن کعب ؓ کی امامت میں باضابطہٰ گیارہ رکعت تراویح باجماعت کا نظم قائم کردیا۔ اس ضمن میں مؤطا امام میں صحیح حدیث موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٥٩)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، ( تحفة الأشراف: ١٥٢٧٠)، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان ٢٧ (٣٧)، والصوم ٦ (١٨٩٨)، والتراویح ١ (٢٠٠٩)، و سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٨ (١٣٧١)، وسنن النسائی/قیام اللیل ٣ (١٦٠٣)، والصیام ٣٩ (٢١٩٨-٢٢٠١، ٢٢٠٣-٢٢٠٤، ٢٢١٢)، والإیمان ٢١ (٥٠٢٧- ٥٠٢٩)، و ٢٢ (٥٠٣٠) من غیر ھذا الطریق (صحیح)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان باز نہ رکھے اور نہ ہی لمبی فجر باز رکھے، ہاں وہ فجر باز رکھے جو کناروں میں پھیلتی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Samurah bin Jundub narrated that : the Messenger of Allah said: Do not let the Adhan of Bilal prevent you from your Sahar, nor the drawn out Fajr, but the Fajr that spreads on the horizon.
نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اہل مصر موسى بن عَلِيّ ( عین کے فتحہ کے ساتھ ): کہتے ہیں اور اہل عراق موسى بن عُليّ ( عین کے ضمہ کے ساتھ ) کہتے ہیں اور وہ موسیٰ بن عُلَيّ بن رباح اللخمی ہیں۔
Amr bin Al-As narrated : (similar to no. 708) from the Prophet.
میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا، وہ سفر کا ارادہ کر رہے تھے، ان کی سواری پر کجاوہ کسا جا چکا تھا اور وہ سفر کے کپڑے پہن چکے تھے، انہوں نے کھانا منگایا اور کھایا۔ میں نے ان سے پوچھا: یہ سنت ہے؟ کہا: ہاں سنت ہے۔ پھر وہ سوار ہوئے۔
Muhammad bin Ka'b narrated: I went to Anas bin Malik during Ramadan and he was about to travel. His mount was prepared for him, and he put on his traveling clothes, then he called for some food to eat, and I said to him: 'Is it Sunnah?' He said: 'It is Sunnah.' Then he rode.
محمد بن کعب سے روایت ہے کہ میں رمضان میں انس بن مالک رضی الله عنہ کے پاس آیا پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اور محمد بن جعفر ہی ابن ابی کثیر مدینی ہیں اور ثقہ ہیں اور یہی اسماعیل بن جعفر کے بھائی ہیں اور عبداللہ بن جعفر علی بن عبداللہ مدینی کے والد ابن نجیح ہیں، یحییٰ بن معین ان کی تضعیف کرتے تھے، ۲- بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ مسافر کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے گھر سے نکلنے سے پہلے افطار کرے لیکن اسے نماز قصر کرنے کی اجازت نہیں جب تک کہ شہر یا گاؤں کی فصیل سے باہر نہ نکل جائے۔ یہی اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ حنظلی کا قول ہے۔
(Another chain) from Muhammad bin Ka'b who said: I went to Anas bin Malik during Ramadan and he mentioned a similar narration (as no. 799).
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے، ۳- ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں، اور ۴- سعد بن طریف ضعیف قرار دیے جاتے ہیں۔
Al-Hasan bin Ali narrated that: The Messenger of Allah said: The gift for the fasting person is (fragrant) oil and a censer.