ام عمارہ بنت کعب انصاریہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: تم بھی کھاؤ، انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہوجائیں ۔ بعض روایتوں میں ہے جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہوجائیں ۔
Sayyidah Umm Umarah (RA) daughter of Ka’b Ansari narrated that the Prophet ﷺ visited her, she presented to him the meal. He said, “Eat”. She said, “I am fasting”. So, he said, “Indeed, the angels pray for one who is fasting when food is eaten in his presence till they finish (eating).’ Or, he said, “till they satiated”.
ضعيف، ابن ماجة (1748) // لفظ آخر ضعيف الجامع (1483) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 785
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور یہ شریک کی (اوپر والی) حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح مروی ہے اس میں «حتی يفرغوا أو يشبعوا» کا ذکر نہیں ہے۔
Muhammad ibn Bashshar reported from Muhammad ibn Ja’far, from Shu’bah, from Habib ibn Zayd, from his Mawla (Layla) who from Umm Umarah (RA) bint Ka’b a hadith of the like of it. But the final words or (till) they finish or till they are satiated) are not found in it.
ضعيف أيضاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 786
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہمیں حیض آتا پھر ہم پاک ہوجاتے تو آپ ہمیں روزے قضاء کرنے کا حکم دیتے اور نماز قضاء کرنے کا حکم نہیں دیتے۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that they would get their menses in the times of Allah’s Messenger Then, they would purify themselves and he would command them to make up for the (missed) fasts, but he did not command them to redeem the salah. [Ahmed24714, Bukhari 321, Muslim 335, Abu Dawud 262, Nisai 282, Ibn e Majah 631]
صحيح، ابن ماجة (631)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 787
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- یہ معاذہ سے بھی مروی ہے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، ٣- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، ہم ان کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں جانتے کہ حائضہ عورت روزے کی قضاء کرے گی، نماز کی نہیں کرے گی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ ہے کہ روزے کی قضاء اتنی مشکل نہیں ہے جتنی نماز کی قضاء ہے کیونکہ یہ پورے سال میں صرف ایک بار کی بات ہوتی ہے اس کے برخلاف نماز حیض کی وجہ سے ہر مہینے چھ یا سات دن کی نماز چھوڑنی پڑتی ہے، اور کبھی کبھی دس دس دن کی نماز چھوڑنی پڑجاتی ہے، اس طرح سال کے تقریباً چار مہینے نماز کی قضاء کرنی پڑے گی جو انتہائی دشوار امر ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ١٣ (١٦٧٠)، سنن الدارمی/الطہارة ١٠١ (١٠١٩)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٧٤) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الحیض ١٥ (٣٣٥)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٥ (٢٦٣)، سنن النسائی/الصیام ٦٤ (٢٣٢٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٩ (٦٣١)، مسند احمد (٦/٢٣، ٢٣١- ٢٣٢)، سنن الدارمی/الطہارة ١٠١ (١٠٢٠) من غیر ہذا الطریق وبتصرف یسیر فی السیاق۔
لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: کامل طریقے سے وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرو، إلا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔
Aasim ibn Laqit reported from his father who asked the Prophet ﷺ “O Messenger of Allah, inform me about ablution’. He said, “Make it well, thread your fingers through each other and if you are not fasting, insert water into the nostrils deep inside”. [Ahmed17863, Abu Dawud 2366, Nisai 87, Ibn e Majah 407]
صحيح، ابن ماجة (407)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 788
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم نے روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ٣- اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو کسی جماعت کے ہاں اترے یعنی ان کا مہمان ہو تو ان کی اجازت کے بغیر نفلی روزے نہ رکھے ۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “One who stays with a people, should not keep optional fast without their permission’. [Ibn e Majah 1763]
ضعيف جدا، ابن ماجة (1763) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (391)، ضعيف الجامع (706 و 5865) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 789
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث منکر ہے، ٢- ہم ثقات میں سے کسی کو نہیں جانتے جس نے یہ حدیث ہشام بن عروہ سے روایت کی ہو، ٣- موسیٰ بن داود نے یہ حدیث بطریق: «أبي بکر المدني عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، ٤- یہ حدیث بھی ضعیف ہے، ابوبکر اہل الحدیث کے نزدیک ضعیف ہیں، اور ابوبکر مدنی جو جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں، ان کا نام فضل بن مبشر ہے، وہ ان سے زیادہ ثقہ اور ان سے پہلے کے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ابوبکر المدینی جنہوں نے ہشام سے روایت کی اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ابوبکر مدنی سے جنہوں نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے زیادہ قوی ہیں، ان کا ضعف ان کے مقابلہ میں ہلکا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٧٦٧) (ضعیف جداً ) (سند میں ایوب بن واقدمتروک الحدیث راوی ہے) وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/الصیام ٥٤ (١٧٦٣) من غیر ہذا الطریق وہو أیضا ضعیف لأجل أبی بکر المدنی فہو أیضا متروک۔
ابوہریرہ ؓ اور عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف ١ ؎ کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو وفات دی۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) and Urwah reported from Sayyidah Ayshah (RA) that the Prophet ﷺ observed the i’tikaf of the last ten days of Rarnadan till Allah took him away. [Bukhari 2026, Muslim 1172, Abu Dawud 2462]
صحيح، الإرواء (966)، صحيح أبي داود (2125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 790
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ اور عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابی بن کعب، ابولیلیٰ، ابوسعید، انس اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اعتکاف کے لغوی معنی روکنے اور بند کرلینے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں ایک خاص کیفیت کے ساتھ اپنے آپ کو مسجد میں روکے رکھنے کو اعتکاف کہتے ہیں، اعتکاف سنت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ہمیشہ اس کا اہتمام فرمایا ہے اور آپ کے بعد ازواج مطہرات ؓ بھی اس کا اہتمام کرتی تھیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھتے پھر اپنے معتکف (جائے اعتکاف) میں داخل ہوجاتے۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that whenever Allah’s Messenger ﷺ intended to observe the itikaf, he prayed the fajr after which he entered his place of i’tikaf. [Ahmed24598, Bukhari 2033, Muslim 1173, Abu Dawud 2464, Nisai 705, Ibn e Majah 1771]
صحيح، ابن ماجة (1771)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 791
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث یحییٰ بن سعید سے بواسطہ عمرۃ مرسلاً بھی مروی ہے (اس میں عائشہ کے واسطے کا ذکر نہیں) ، ٢- اور اسے مالک اور دیگر کئی لوگوں نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ نے عمرۃ سے مرسلاً ہی روایت کی ہے، ٣- اور اوزاعی، سفیان ثوری اور دیگر لوگوں نے بطریق: «يحيى بن سعيد عن عروة عن عائشة» روایت کی ہے، ٤- بعض اہل علم کے نزدیک عمل اسی حدیث پر ہے، وہ کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو فجر پڑھے، پھر اپنے معتکف (اعتکاف کی جگہ) میں داخل ہوجائے، احمد اور اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ بعض کہتے ہیں: جب آدمی اعتکاف کا ارادہ کرے تو اگلے دن جس میں وہ اعتکاف کرنا چاہتا ہے کی رات کا سورج ڈوب جائے تو وہ اپنے معتکف (اعتکاف کی جگہ) میں بیٹھا ہو، یہ سفیان ثوری اور مالک بن انس کا قول ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎ اور یہی جمہور علماء کا قول ہے، اور ام المؤمنین عائشہ ؓ کی مذکورہ روایت کی تاویل یہ کی جاتی ہے: اس کا یہ مطلب نہیں کہ اعتکاف کی ابتداء آپ اکیسویں کی فجر کے بعد کرتے بلکہ اعتکاف کے لیے آپ بیسویں تاریخ کا دن گزار کر کے مغرب سے پہلے ہی مسجد میں پہنچ جاتے اور اعتکاف کی نیت سے مسجد ہی میں رات گزارتے، پھر جب فجر پڑھ چکتے تو اعتکاف کی مخصوص جگہ میں جو آپ کے لیے بنائی گئی ہوتی تشریف لے جاتے، یہ تاویل اس لیے ضروری ہے کہ دوسری روایات سے یہ ثابت ہے کہ آپ رمضان کے پورے آخری عشرے کا اعتکاف کرتے اور اکیسویں کو فجر کے بعد معتکف میں آنے کا مطلب ہوگا کہ عشرہ پورا نہ ہو اس میں کمی رہ گئی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٦ (٢٠٣٣)، و ٧ (٢٠٣٤)، و ١٤ (٢٠٤١)، و ١٨ (٢٠٤٥)، صحیح مسلم/الاعتکاف ٢ (١١٧٢)، سنن ابی داود/ الصیام ٧٧ (٢٤٦٤)، سنن النسائی/المساجد ١٨ (٧١٠)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥٩ (١٧٧١)، موطا امام مالک/الاعتکاف ٤ (٧)، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٣٠) مسند احمد (٦/٢٢٦) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے اور فرماتے: شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو ١ ؎۔
Sayyidina Ayshah narrated that Allah’s Messenger observed i’tikaf in the last ten days of Ramadan and said, “Seek the laylatul qadr in the last ten days of Ramadan.” [Ahmed24346, Bukhari 202O Muslim 1169]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 792
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، ابی، جابر بن سمرہ، جابر بن عبداللہ، ابن عمر، فلتان بن عاصم، انس، ابو سعید خدری، عبداللہ بن انیس، ابوبکرہ، ابن عباس، بلال اور عبادہ بن صامت ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- «یُجَاوِرُ» کے معنی «یَعْتَکِفُ» اعتکاف کرتے تھے کے ہیں، ٤- نبی اکرم ﷺ سے مروی اکثر روایات یہی ہیں کہ آپ نے فرمایا: اسے آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں تلاش کرو ، اور شب قدر کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے اکیسویں، تئیسویں، پچیسویں، ستائیسویں، انتیسویں، اور رمضان کی آخری رات کے اقوال مروی ہیں، شافعی کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کا مفہوم - «واللہ اعلم» - یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق جواب دیتے تھے۔ آپ سے کہا جاتا: ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں؟ آپ فرماتے: ہاں فلاں رات میں تلاش کرو، ٥- شافعی کہتے ہیں: میرے نزدیک سب سے قوی روایت اکیسویں رات کی ہے، ٦- ابی بن کعب سے مروی ہے وہ قسم کھا کر کہتے کہ یہ ستائیسویں رات ہے۔ کہتے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اس کی علامتیں بتائیں، ہم نے اسے گن کر یاد رکھا۔ ابوقلابہ سے مروی ہے کہ شب قدر آخری عشرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شب قدر کی تعیین کے سلسلہ میں علماء کے چالیس سے زائد اقوال منقول ہیں، ان میں سے راجح قول یہی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے بغیر تعیین کے کوئی رات ہے، بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ رات آپ کو بتادی گئی تھی لیکن پھر بھلا دی گئی، اس میں مصلحت یہ تھی کہ لوگ اس رات کی تلاش میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور ذکر الٰہی میں مشغول رہیں۔
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے پوچھا: ابوالمنذر! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ یہ ایک ایسی رات ہے جس کی صبح جب سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہوگی، تو ہم نے گنتی کی اور ہم نے یاد رکھا، (زرّ کہتے ہیں) اللہ کی قسم! ابن مسعود کو بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ لیکن وہ یہ ناپسند کرتے ہیں کہ تمہیں (اسے مسلمانو! ) بتادیں اور تم تکیہ کر کے بیٹھ جاؤ۔
Zirr reported having asked Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA), “How did you inform Abu Munzir that Laylatul Qadr is the night of twenty-seventh?” He said, “Surely, Allah’s Messenger ﷺ informed us that it is a night on whose morning the sun rises without rays. We counted it and rememberred it. By Allah! Ibn Mas’ud (RA) know certainly that it is in Ramadan and it is the twenty-seventh night, but he disliked to inform you lest you rely (only) on it”. [Ahmed21267, Muslim 762, Abu Dawud 1378]
صحيح، صحيح أبي داود (1247)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 793
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٢٥ (٧٦٢)، سنن ابی داود/ الصلاة ٣١٩ (١٣٧٨) (تحفة الأشراف: ١٨)، مسند احمد (٥/١٣٠، ١٣١) (صحیح)
عیینہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ ابوبکرہ ؓ کے پاس شب قدر کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: جس چیز کی وجہ سے میں اسے صرف آخری عشرے ہی میں تلاش کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایک بات سنی ہے، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: تلاش کرو جب (مہینہ پورا ہونے میں) نو دن باقی رہ جائیں، یا جب سات دن باقی رہ جائیں، یا جب پانچ دن رہ جائیں، یا جب تین دن رہ جائیں ۔ ابوبکرہ ؓ رمضان کے بیس دن نماز پڑھتے تھے جیسے پورے سال پڑھتے تھے لیکن جب آخری عشرہ آتا تو عبادت میں خوب محنت کرتے۔
Uyayriah ibn Abdur Rahman (RA) reported that his father said that before Sayyidina Abu Bakr (RA) So, he said, “I have ceased to look out for it since I heard from Allah’s Messenger ﷺ that it is in the last ten (days). I heard him say, “Seek it when nine nights remain, or seven remain, or five remain, or three, or the last night”. Abu Bakr (RA) used to pray during the twenty (nights) of Ramadan as he prayed all through the year, but when the last ten days began, he became more devoted”. [Ahmed20398]
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ آخری عشرے میں عبادت میں اتنی کوشش کرتے تھے جتنی دوسرے دنوں میں نہیں کرتے تھے۔
Sayyidah Ayshah (RA) said that Allah’s Messenger used to make an extraoldlnary effort in worship in the last ten days such as he did not make at times other than then. [Ahmed26248, Muslim 1767]
صحيح، ابن ماجة (1767)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 796
یہ حدیث مرسل ہے۔ عامر بن مسعود نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا۔ یہ ابراہیم بن عامر قرشی کے والد ہیں جن سے شعبہ اور ثوری نے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٠٤٩) (صحیح) (متابعات وشواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” نمیربن عریب “ لین الحدیث ہیں، نیز یہ حدیث مرسل ہے، دیکھئے: الصحیحہ رقم: ١٩٢٢، تراجع الألبانی ٤٧٣)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184، كان من أراد منا أن يفطر ويفتدي حتى نزلت الآية التي بعدها فنسختها . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَيَزِيدُ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ.
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «وعلی الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے (البقرہ: ١٨٤) اتری تو ہم میں سے جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی ١ ؎ آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کردیا ٢ ؎۔
Sayyidina Salamah ibn Aku’ (RA) reported that when the verse was revealed, those of us who desired did not fast but paid a fidyah, till the next verse was revealed abrogating it (the command). (Bukhari 4507, Muslim 1145, Abu Dawud 2315, Nisai 2312]
١ ؎: بعد والی آیت سے مراد آیت کریمہ «فمن شهد منکم الشهر فليصمه» (البقرة: 185) ہے۔ ٢ ؎: یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ آیت کریمہ «وعلی الذين يطيقونه فدية» منسوخ ہے، یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے، اور ابن عباس کی رائے ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کا حکم ان بڑے بوڑھوں کے ساتھ خاص ہے جنہیں روزہ رکھنے میں زحمت اور پریشانی ہوتی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عید الفطر کا دن وہ ہے جب لوگ عید منائیں، اور عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن لوگ قربانی کریں ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The (Eid) aI-Fitr is when people break (cease to) fast and al-Adha when people make the sacrifice”. [Ibn e Majah 1660]
صحيح، ابن ماجة (1660)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 802
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث، اس سند سے حسن غریب صحیح ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا: کیا محمد بن منکدر نے عائشہ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، وہ اپنی روایت میں کہتے ہیں: میں نے عائشہ سے سنا۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے تھے، ایک سال آپ اعتکاف نہیں کرسکے تو جب اگلا سال آیا تو آپ نے بیس دن کا اعتکاف کیا۔
Sayyidina Anas ibn Maalik said, “The Prophet ﷺ used to observe i’tikaf during the last ten days of Ramadan. One year he did not observe it. So, during the year following, he observed the i’tkaf for twenty days”. [Ibn e Majah 1770 ]
صحيح، صحيح أبي داود (2126)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 803
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس بن مالک کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- معتکف جب اپنا اعتکاف اس مدت کے پورا کرنے سے پہلے ختم کر دے جس کی اس نے نیت کی تھی تو اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے کہا: جب وہ اعتکاف توڑ دے تو اس پر قضاء واجب ہوگی انہوں نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنے اعتکاف سے نکل آئے تو آپ نے شوال میں دس دن کا اعتکاف کیا، یہ مالک کا قول ہے۔ اور بعض کہتے ہیں: اگر اس پر اعتکاف کی نذر یا کوئی ایسی چیز نہ ہو جسے اس نے اپنے اوپر واجب کرلی ہو اور وہ نفل کی نیت سے اعتکاف میں رہا ہو پھر اعتکاف سے نکل آیا ہو تو اس پر قضاء واجب نہیں الا یہ کہ وہ اپنی پسند سے اسے چاہے اور یہ اس پر واجب نہیں ہوگا۔ یہی شافعی کا قول ہے، ٣- شافعی کہتے ہیں: ہر وہ عمل جس کے کرنے یا نہ کرنے کے سلسلے میں تمہیں اختیار ہو جب تم اسے کرنا شروع کر دو پھر اس کے پورا ہونے سے پہلے تم اسے چھوڑ دو تو اس کی قضاء تم پر لازم نہیں ہے۔ سوائے حج اور عمرہ کے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اعتکاف میں ہوتے تو اپنا سر میرے قریب کردیتے میں اس میں کنگھی کردیتی ١ ؎ اور آپ گھر میں کسی انسانی ضرورت کے علاوہ ٢ ؎ داخل نہیں ہوتے تھے۔
Sayyidah Ayshah (RA) narrated that when Allah’s Messenger ﷺ observed the i’tikaf, he would put his head towards her and she combed it. And he never entered the house except or human compulsion (to relieve himself). [Ahmed2696, Bukhari 2029, Muslim 297, Abu Dawud 2468, Ibn e Majah 1776]
صحيح، ابن ماجة (633 و 1778)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 804
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح اسے دیگر کئی لوگوں نے بھی بطریق: «مالک عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے، بعض لوگوں نے اسے بطریق: «مالک عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ابن شہاب زہری نے اسے عروہ اور عمرہ دونوں سے اور ان دونوں نے عائشہ سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ معتکف اپنے جسم کا کوئی حصہ اگر مسجد سے نکالے تو اس کا اعتکاف باطل نہیں ہوگا۔ ٢ ؎: انسانی ضرورت کی تفسیر زہری نے پاخانہ اور پیشاب سے کی ہے۔
ہم سے اسے قتیبہ نے بسند «الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے۔
We were informed by Qutaybah on the authority of Layth. All the ulama maintain that a mutakif must not come out of his place except to answer to nature’s call. They differ on the issue of a mutakif coming out to pay a sick visit and to offer Friday salah and the funeral prayer.
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 805
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ جب آدمی اعتکاف کرے تو انسانی ضرورت کے بغیر اپنے معتکف سے نہ نکلے، اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ پاخانہ پیشاب جیسی اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نکل سکتا ہے، ٢- پھر معتکف کے لیے مریض کی عیادت کرنے، جمعہ اور جنازہ میں شریک ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ مریض کی عیادت کرسکتا ہے، جنازہ کے ساتھ جاسکتا ہے اور جمعہ میں شریک ہوسکتا ہے جب کہ اس نے اس کی شرط لگا لی ہو۔ یہ سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے، ٣- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے ان میں سے کوئی بھی چیز کرنے کی اجازت نہیں، ان کا خیال ہے کہ معتکف کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی ایسے شہر میں ہو جہاں جمعہ ہوتا ہو تو مسجد جامع میں ہی اعتکاف کرے۔ اس لیے کہ یہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے معتکف سے نکلنا اس کے لیے مکروہ قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے جمعہ چھوڑنے کو بھی جائز نہیں سمجھتے، اس لیے ان کا کہنا ہے کہ وہ جامع مسجد ہی میں اعتکاف کرے تاکہ اسے انسانی حاجتوں کے علاوہ کسی اور حاجت سے باہر نکلنے کی ضرورت نہ باقی رہے، اس لیے کہ بغیر کسی انسانی ضرورت کے مسجد سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے۔ ٤- اور احمد کہتے ہیں: عائشہ ؓ کی حدیث کی رو سے نہ وہ مریض کی عیادت کرے گا، نہ جنازہ کے ساتھ جائے گا۔ ٥- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: اگر وہ ان چیزوں کی شرط کرلے تو اسے جنازے کے ساتھ جانے اور مریض کی عیادت کرنے کی اجازت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الاعتکاف ٣ (٢٠٢٩)، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧)، سنن ابی داود/ الصیام ٧٩ (٢٤٦٨)، سنن ابن ماجہ/الصوم ٦٤ (١٧٧٨)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٧٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: ح/الحیض ٢ (٢٩٥)، والاعتکاف ٢ (٢٠٢٨)، و ١٩ (٢٠٤٦)، واللباس ٧٦ (٥٩٢٥)، و سنن ابی داود/ الصیام ٧٩ (٢٤٦٧)، وط/الطہارة ٢٨ (١٠٢)، والاعتکاف ١ (١)، و مسند احمد (٦/١٠٤)، ٢٠٤، ٢٣١، ٢٤٧، ٢٦٢)، وسنن الدارمی/الطہارة ١٠٧ (١٠٨٥)، من غیر ہذا الطریق، وبتصرف یسیر فی السیاق۔
ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صیام رمضان رکھے تو آپ نے ہمیں نماز (تراویح) نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ رمضان کے صرف سات دن باقی رہ گئے تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی تہجد پڑھی) یہاں تک کہ ایک تہائی رات گزر گئی۔ پھر جب چھ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام نہیں کیا، (یعنی تہجد نہیں پڑھی) اور جب پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا (یعنی تہجد پڑھی) یہاں تک کہ آدھی رات ہوگئی۔ تو ہم نے آپ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اس رات کے باقی ماندہ حصہ میں بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے (تو بہتر ہوتا) ؟ آپ نے فرمایا: جس نے امام کے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجائے تو اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھا جائے گا، پھر آپ نے ہمیں نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ مہینے کے صرف تین دن باقی رہ گئے، پھر آپ نے ہمیں ستائیسویں رات کو نماز پڑھائی۔ اور اپنے گھر والوں اور اپنی عورتوں کو بھی بلایا، آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں فلاح کے چھوٹ جانے کا اندیشہ ہوا۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے پوچھا: فلاح کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے کہا: سحری ہے۔
Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated : We kept fast with Allah’s Messenger. He did not pray with us till seven (nights) remained in the month when he stood with us (in prayer) till the third of the night passed away. Then he did not stand with us on the sixth (last ningh) but stood with us (in salah) on the fifth (last night) till the middle of the night was gone. So, we submitted, “O Messenger of Allah! ﷺ Would that you had prayed the supererogatory (salah) with us for the remainder of the night. “He said, “He who stood with the Imam till he finishes has a full night’s standing (in salah) recorded for him”. Thereafter, he did not pray with us till three (nights) remained in the month, He prayed (the salah) with us on the third (last night) and called the folk of his house and his wives, standing so long that we feared that we might miss al-falah. The sub-narrator said that he asked him, “What is al-falah?” He said, “It is sahr (predawn meal)”. [Ab 21476, Abu Dawud 1375, Nisai 1364, Ibn e Majah 1327]
صحيح، ابن ماجة (1327)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 806
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، نعمان بن بشیر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- رمضان کے قیام کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وتر کے ساتھ اکتالیس رکعتیں پڑھے گا، یہ اہل مدینہ کا قول ہے، ان کے نزدیک مدینے میں اسی پر عمل تھا، ٤- اور اکثر اہل علم ان احادیث کی بنا پر جو عمر، علی اور دوسرے صحابہ کرام ؓ سے مروی ہے بیس رکعت کے قائل ہیں۔ یہ سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا قول ہے۔ اور شافعی کہتے ہیں: اسی طرح سے میں نے اپنے شہر مکہ میں پایا ہے کہ بیس رکعتیں پڑھتے تھے، ٥- احمد کہتے ہیں: اس سلسلے میں کئی قسم کی باتیں مروی ہیں ١ ؎ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی فیصلہ کن بات نہیں کہی، ٦- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: ہمیں ابی بن کعب کی روایت کے مطابق ٤١ رکعتیں مرغوب ہیں، ٧- ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ نے ماہ رمضان میں امام کے ساتھ نماز پڑھنے کو پسند کیا ہے، ٨- شافعی نے اکیلے پڑھنے کو پسند کیا ہے جب وہ قاری ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے اس سلسلے میں صرف دو قول کا ذکر کیا ہے ان کے علاوہ اور بھی بہت سے اقوال اس سلسلہ میں وارد ہیں ان میں راجح اور مختار اور دلائل کے اعتبار سے سب سے قوی گیارہ رکعت کا قول ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح سند سے یہی قول ثابت ہے دیگر اقوال میں سے کوئی بھی آپ سے صحیح سند سے ثابت نہیں اور نہ ہی خلفاء راشدین ؓ میں سے کسی سے صحیح سند سے ثابت ہے۔
زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو اسے بھی اس کے برابر ثواب ملے گا، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے ثواب میں سے ذرا بھی کم کیا جائے ۔
Sayyidina Zayd ibn Khalid Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone gives to a person who is fasting something with which to break his fast then for him is an equivalent reward without the least being diminished from the reward of the fasting person”. [Ahmed17030, Ibn e Majah 1746] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1746)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 807
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٥ (١٧٤٦)، ( تحفة الأشراف: ٣٧٦٠)، مسند احمد (٤/١١٤-١١٥، ١١٦) (صحیح)