ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارا رب فرماتا ہے: ہر نیکی کا بدلہ دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے۔ اور روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ روزہ جہنم کے لیے ڈھال ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے، اور اگر تم میں سے کوئی جاہل کسی کے ساتھ جہالت سے پیش آئے اور وہ روزے سے ہو تو اسے کہہ دینا چاہیئے کہ میں روزے سے ہوں ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, your Lord says: every good deed is like ten times to seven hundred times, and the fast is for Me and I give a reward for it. And, fasting is a shield from Hell. And the bad breath of one who is fasting is better in Allah’s sight than the fragrance of musk. If an ignorant person reviles one of you who is fasting then let him say (to him), “I am fasting”. [Ahmed7793, 9720, Bukhari 1904, Muslim 1151, Ibn e Majah 1638, Nisai 2214]
صحيح، التعليق الرغيب (2 / 57 - 58)، صحيح أبي داود (2046)، الإرواء (918)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 764
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں معاذ بن جبل، سہل بن سعد، کعب بن عجرہ، سلامہ بن قیصر اور بشیر بن خصاصیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بشیر کا نام زحم بن معبد ہے اور خصاصیہ ان کی ماں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں ایک اشکال یہ ہے کہ اعمال سبھی اللہ ہی کے لیے ہوتے ہیں اور وہی ان کا بدلہ دیتا ہے پھر روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا کہنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ روزہ میں ریا کاری کا عمل دخل نہیں ہے جبکہ دوسرے اعمال میں ریا کاری ہوسکتی ہے کیونکہ دوسرے اعمال کا انحصار حرکات پر ہے جبکہ روزے کا انحصار صرف نیت پر ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرے اعمال کا ثواب لوگوں کو بتادیا گیا ہے کہ وہ اس سے سات سو گنا تک ہوسکتا ہے لیکن روزہ کا ثواب صرف اللہ ہی جانتا ہے کہ اللہ ہی اس کا ثواب دے گا دوسروں کے علم میں نہیں ہے اسی لیے فرمایا: «الصوم لي و أنا أجزي به»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٠٩٧) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٢ (١٨٩٤)، و ٩ (١٩٠٤)، واللباس ٧٨ (٥٩٢٧)، والتوحید ٣٥ (٧٤٩٢)، و ٥٠ (٧٥٣٨)، صحیح مسلم/الصیام ٣٠ (١١٥١)، سنن النسائی/الصیام ٤٢ (٢٢١٦-٢٢٢١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١ (١٦٣٨)، و ٢١ (١٦٩١)، موطا امام مالک/الصیام ٢٢ (٥٨)، مسند احمد (٢/٢٣٢، ٢٥٧، ٢٦٦، ٢٧٣، ٤٤٣، ٤٧٥، ٤٧٧، ٤٨٠، ٥٠١، ٥١٠، ٥١٦)، سنن الدارمی/الصوم ٥٠ (١٧٧٧)، من غیر ہذا الطریق وبتصرف فی السیاق۔
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے۔ روزہ رکھنے والوں ١ ؎ کو اس کی طرف بلایا جائے گا، تو جو روزہ رکھنے والوں میں سے ہوگا اس میں داخل ہوجائے گا اور جو اس میں داخل ہوگیا، وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ۔
Sayyidina SahI ibn Sad (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, In Paradise, there is a gate called Rayan to which those who keep fasts are invited. Thus, he who is among those who observe fasting will enter it. And whoso enters it will never feel thirsty”. [Bukhari 3257, Muslim 1152, Ibn e Majah 1640]
صحيح، ابن ماجة (1640)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 765
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: روزہ رکھنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو فرض روزوں کے ساتھ نفلی روزے بھی کثرت سے رکھتے ہوں، ورنہ رمضان کے فرض روزے تو ہر مسلمان کے لیے ضروری ہیں، اس خصوصی فضیلت کے مستحق وہی لوگ ہوں گے جو فرض کے ساتھ بکثرت نفلی روزوں کا اہتمام کرتے ہوں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ١ (١٦٤٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٧٧١) (صحیح) (مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا) کا جملہ ثابت نہیں ہے، تراجع الالبانی ٣٥١) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٦)، وبدء الخلق (٣٢٥٧)، صحیح مسلم/الصیام ٣٠ (١١٥٢)، مسند احمد (٥/٣٣٣، ٣٣٥)، من غیر ہذا الطریق۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں: ایک خوشی افطار کرتے وقت ہوتی ہے اور دوسری اس وقت ہوگی جب وہ اپنے رب سے ملے گا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported Allah’s Messenger as saying, “For one who fasts, there are two pleasures : joy at the time of breaking his fast and joy when he will meet his Lord”. [Ahmed972, Bukhari 1940, Muslim 1151, Nisai 2212, Ibn e Majah 1638] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1638)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 766
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اگر کوئی صوم الدھر (پورے سال روزے) رکھے تو کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ ہی افطار کیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Qatadab (RA) reported that it was said, “O Messsenger of Allah! How is he who fasts always?” He said, “He neither kept fast not broke it”. (or, he said, “He never fasted and never broke fast)”. [Ahmed22600, Muslim 1162, Abu Dawud 2425, Nisai 2379, Ibn e Majah 1713]
صحيح، الإرواء (952)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 767
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ کی حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن شخیر، عمران بن حصین اور ابوموسیٰ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے صوم الدھر کو مکروہ کہا ہے اور بعض دوسرے لوگوں نے اسے جائز قرار دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صیام الدھر تو اس وقت ہوگا جب عید الفطر، عید الاضحی اور ایام تشریق میں بھی روزہ رکھنا نہ چھوڑے، جس نے ان دنوں میں روزہ ترک کردیا، وہ کراہت کی حد سے نکل گیا، اور وہ پورے سال روزہ رکھنے والا نہیں ہوا مالک بن انس سے اسی طرح مروی ہے اور یہی شافعی کا بھی قول ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی طرح کہتے ہیں، ان دونوں کا کہنا ہے کہ ان پانچ دنوں یوم الفطر، یوم الاضحی اور ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے، بقیہ دنوں میں افطار کرنا واجب نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ راوی کو شک ہے کہ «لا صام ولا أفطر» کہا یا «لم يصم ولم يفطر» کہا ( دونوں کے معنی ایک ہیں ) ظاہر یہی ہے کہ یہ خبر ہے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا کیونکہ اس نے سنت کی مخالفت کی، اور افطار نہیں کیا کیونکہ وہ بھوکا پیاسا رہا کچھ کھایا پیا نہیں، اور ایک قول یہ ہے کہ یہ بد دعا ہے، یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اس کے اس فعل پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ ﷺ روزہ رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے خوب روزے رکھے، پھر آپ روزے رکھنا چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ نے بہت دنوں سے روزہ نہیں رکھے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی ماہ کے پورے روزے نہیں رکھے ١ ؎۔
Ahdullah ibn Shafiq said that he asked Sayyidah Ayshah (RA) about the fasts of the Prophet ﷺ . She said, “He used to fast till we thought that he would continue to fast, and he would cease to fast till we thought that he would never again fast.And Allahs Messenger ﷺ never fasted during a whole month, except during Ramadan”. [Ahmed26112, Muslim 1156, Nisai 2345]
صحيح، ابن ماجة (1710)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 768
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کی وجہ یہ تھی تاکہ کوئی اس کے وجوب کا گمان نہ کرے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصیام ٣٤ (١١٥٦)، سنن النسائی/الصیام ٧٠ (٢٣٥١)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٠٢)، وانظر ما تقدم عند المؤلف برقم: ٧٣٧ (صحیح)
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: آپ کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے کہ ہم سمجھتے: اب آپ کا ارادہ روزے بند کرنے کا نہیں ہے، اور کبھی بغیر روزے کے رہتے یہاں تک کہ ہمیں خیال ہوتا کہ آپ کوئی روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ اور آپ کو رات کے جس حصہ میں بھی تم نماز پڑھنا دیکھنا چاہتے نماز پڑھتے دیکھ لیتے اور جس حصہ میں سوتے ہوئے دیکھنا چاہتے تو سوتے ہوئے دیکھ لیتے۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے افضل روزہ میرے بھائی داود (علیہ السلام) کا روزہ ہے، وہ ایک دن روزہ رکھتے تھے اور ایک دن بغیر روزہ کے رہتے، اور جب (دشمن سے) مڈبھیڑ ہوتی تو میدان چھوڑ کر بھاگتے نہیں تھے ۔
Sayyidina Abdullah (RA) narrrated that Allahs Messenger ﷺ said, “The most excellent fast said, is the fast of my brother Dawood L_i, He used to fast one day and go without fasting the next day. And, he would never flee when he encountered (an enemy)”. [Ahmed6891, Bukhari 1977, Muslim 1159, Nisai 2374, Ibn e Majah 1706]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 770
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ سب سے افضل روزہ یہ ہے کہ تم ایک دن روزہ رکھو اور ایک دن بغیر روزہ کے رہو، کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے سخت روزہ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بہذا السیاق ( تحفة الأشراف: ٨٦٣٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الصوم ٥٧ (١٩٧٧)، و ٥٩ (١٩٧٩)، والانبیاء ٣٨ (٣٤٢٠)، وفضائل القرآن ٣٤ (٥٠٥٢)، والنکاح ٨٩ (٥١٩٩)، والأدب ٨٤ (٦١٣٤)، سنن ابی داود/ الصیام ٥٣ (٢٤٢٧)، صحیح مسلم/الصیام ٣٥ (١١٥٩)، سنن النسائی/الصیام ٧١ (٢٣٨٠)، و ٧٦ (٢٣٩٠-٢٣٩٥)، و ٧٧ (٢٣٩٦-٢٣٩٨)، و ٧٨ (٢٣٩٩-٢٤٠١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٢٨ (١٧٠٦)، و ٣١ (١٧١٢)، مسند احمد ٢/١٦٠، ١٦٤، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠، ١٩٤، ١٩٥، ١٩٨، ١٩٩، ٢٠٠، ٢٠٦، ٢١٦، ٢٢٤، ٢٦٥)، سنن الدارمی/الصوم ٤٢ (١٧٩٣)، من غیر ہذا الطریق وبتصرف في السیاق۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو روزوں سے منع فرمایا: یوم الاضحی (بقر عید) کے روزے سے اور یوم الفطر (عید) کے روزے سے ۔
Sayyidina Abu Sa’eed Khudri i said that Allah’s Messenger ﷺ disallowed two fasts, the fast of day of al-Adha and the day of al-Fitr. [Ahmed11804, Bukhari 1991, Muslim 827, Abu Dawud 2417, Ibn e Majah 1721]
صحيح (1721)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 772
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، علی، عائشہ، ابوہریرہ، عقبہ بن عامر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤- عمرو بن یحییٰ ہی عمارہ بن ابی الحسن مازنی ہیں، وہ مدینے کے رہنے والے ہیں اور ثقہ ہیں۔ سفیان ثوری، شعبہ اور مالک بن انس نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/ /الصوم ٦٦ (١٩٩١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٢ (٨٢٧)، سنن ابی داود/ الصیام ٤٨ (٢٤١٧)، ( تحفة الأشراف: ٤٤٠٤) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ٢٦ (١٨٦٤)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢١)، مسند احمد (٣/٣٤)، سنن الدارمی/الصوم ٤٣ (١٧٩٤)، من غیر ہذا الطریق۔
عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے مولیٰ ابو عبید سعد کہتے ہیں کہ میں عمر بن الخطاب ؓ کے پاس دسویں ذی الحجہ کو موجود تھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے سنا ہے، عید الفطر کے دن سے، اس لیے کہ یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن اور مسلمانوں کی عید ہے اور عید الاضحی کے دن اس لیے کہ اس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ ١ ؎۔
Abu Ubayd (RA) the freedman of Abdur Rahman ibn Awf said that he saw Umar ibn al-Khattab (RA) begin with salah on the day of sacrifice before the sermon. He said, “I heard Allahs Messenger ﷺ disallow fasting on these two days. As for the Fed ul-Fitr, it is your breakfast after your fasts, and an eid for Muslims. And, as for the day of sacrifice (adha), eat the flesh of your sacrifice”. [Ahmed224, Bukhari 1990, Muslim 1137, Abu Dawud 2416, Ibn e Majah 1722]
صحيح، ابن ماجة (1722)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 771
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا اجماع ہے کہ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنا کسی بھی حال میں جائز نہیں خواہ وہ نذر کا روزہ ہو یا نفلی روزہ ہو یا کفارے کا یا ان کے علاوہ کوئی اور روزہ ہو، اگر کوئی تعیین کے ساتھ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مان لے تو جمہور کے نزدیک اس کی یہ نذر منعقد نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی قضاء اس پر لازم آئے گی اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں نذر منعقد ہوجائے گی لیکن وہ ان دونوں دنوں میں روزہ نہیں رکھے گا، ان کی قضاء کرے گا۔
عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یوم عرفہ ١ ؎، یوم نحر ٢ ؎ اور ایام تشریق ٣ ؎ ہماری یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۔
Sayyidina Uqbah ibn Aamir reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The day of Arafah, the day of sacrifice and the days of tashriq are eid days (festivals) for us, the people of Islam. These are days to eat and drink”. [Abu Dawud 2419, Nisai 3001]
صحيح، صحيح أبي داود (2090)، الإرواء (4 / 130)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 773
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عقبہ بن عامر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، سعد، ابوہریرہ، جابر، نبیشہ، بشر بن سحیم، عبداللہ بن حذافہ، انس، حمزہ بن عمرو اسلمی، کعب بن مالک، عائشہ، عمرو بن العاص اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کو حرام قرار دیتے ہیں۔ البتہ صحابہ کرام وغیرہم کی ایک جماعت نے حج تمتع کرنے والے کو اس کی رخصت دی ہے جب وہ ہدی نہ پائے اور اس نے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن میں روزہ نہ رکھے ہوں کہ وہ ایام تشریق میں روزہ رکھے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎ یوم عرفہ سے مراد وہ دن ہے جس میں حاجی میدان عرفات میں ہوتے ہیں یعنی نویں ذی الحجہ مطابق رؤیت مکہ مکرمہ۔ ٢ ؎ قربانی کا دن یعنی دسویں ذی الحجہ۔ ٣ ؎ ایام تشریق سے مراد گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ ہے۔
رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سینگی (پچھنا) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ نہیں رہا ۔
Sayyidina Rafi’ ibn Khadij (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, “The fast of one who gets himself cupped and one who cups are invalidated.” [Ahmed15828]
صحيح، ابن ماجة (1679 - 1681)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 774
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- رافع بن خدیج ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- احمد بن حنبل کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح رافع بن خدیج کی روایت ہے، ٣- اور علی بن عبداللہ (ابن المدینی) کہتے ہیں کہ اس باب میں سب سے صحیح ثوبان اور شداد بن اوس کی حدیثیں ہیں، اس لیے کہ یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ سے ثوبان اور شداد بن اوس دونوں کی حدیثوں کی ایک ساتھ روایت کی ہے، ٤- اس باب میں علی، سعد، شداد بن اوس، ثوبان، اسامہ بن زید، عائشہ، معقل بن سنان (ابن یسار بھی کہا جاتا ہے) ، ابوہریرہ، ابن عباس، ابوموسیٰ، بلال اور سعد ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے روزہ دار کے لیے پچھنا لگوانے کو مکروہ قرار دیا ہے، یہاں تک کہ بعض صحابہ نے رات کو پچھنا لگوایا۔ ان میں موسیٰ اشعری، اور ابن عمر بھی ہیں۔ ابن مبارک بھی یہی کہتے ہیں: ٦- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں کہ جس نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا، اس پر اس کی قضاء ہے، اسحاق بن منصور کہتے ہیں: اسی طرح احمد اور اسحاق بن راہویہ نے بھی کہا ہے، ٧- شافعی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے روزے کی حالت میں پچھنا لگوایا۔ اور نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: پچھنا لگانے اور لگوانے والے دونوں نے روزہ توڑ دیا ، اور میں ان دونوں حدیثوں میں سے ایک بھی صحیح نہیں جانتا، لیکن اگر کوئی روزہ کی حالت میں پچھنا لگوانے سے اجتناب کرے تو یہ مجھے زیادہ محبوب ہے، اور اگر کوئی روزہ دار پچھنا لگوا لے تو میں نہیں سمجھتا کہ اس سے اس کا روزہ ٹوٹ گیا، ٨- بغداد میں شافعی کا بھی یہی قول تھا کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ البتہ مصر میں وہ رخصت کی طرف مائل ہوگئے تھے اور روزہ دار کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے حجۃ الوداع میں احرام کی حالت میں پچھنا لگوایا تھا ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: گویا ان کا موقف یہ تھا کہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جانے کا حکم منسوخ ہوگیا ہے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنا لگوایا، آپ محرم تھے اور روزے سے تھے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger had himself cupped when he was in the state of ihram and was fasting. [Ahmed1849, Bukhari 1835, Muslim 1202, Abu Dawud 1835, Nisai 2843]
صحيح - بلفظ: .... واحتجم وهو صائم -، ابن ماجة (1682)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 775
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسی طرح وہیب نے بھی عبدالوارث کی طرح روایت کی ہے، ٣- اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے ایوب سے اور ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور، عکرمہ نے اس میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٣٢ (١٩٣٨)، والطب ١٢ (٥٦٩٥)، سنن ابی داود/ الصیام ٢٩ (٢٣٧٢)، ( تحفة الأشراف: ٥٩٨٩) (صحیح) ” احتجم وھو صائم “ کے لفظ سے صحیح ہے جو بسند عبدالوارث صحیح بخاری میں موجود ہے، اور ترمذی کا یہ سیاق سنن ابی داود میں بسند یزید عن مقسم عن ابن عباس موجود ہے، جب کہ حکم اور حجاج نے مقسم سے روایت میں ” محرم “ کا لفظ نہیں ذکر کیا ہے، در اصل الگ الگ نبی اکرم ﷺ نے دونوں حالت میں حجامت کرائی، جس کا ذکر صحیح بخاری میں بسند وہیب عن ایوب، عن عکرمہ، عن ابن عباس ہے کہ أن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احتجم وهو محرم، واحتجم وهو صائم: ١٨٣٥، ١٩٣٨) پتہ چلا کہ پچھنا لگوانے کا یہ کام حالت صوم و احرام میں ایک ساتھ نہیں ہوا ہے، بلکہ دو الگ الگ واقعہ ہے) وقد أخرجہ کل من: صحیح البخاری/جزاء الصید ١١ (١٨٣٥)، واطلب ١٥ (٥٧٠٠)، صحیح مسلم/الحج ١١ (١٢٠٢)، سنن ابی داود/ الحج ٣٦ (١٨٣٥، ١٨٣٦)، سنن ابن ماجہ/الحج ٨٧ (٣٠٨١)، مسند احمد (١/٢١٥، ٢٢١، ٢٢٢، ٢٣٦، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٦٠، ٢٨٣، ٢٨٦، ٢٩٢، ٣٠٦، ٣١٥، ٣٣٣، ٣٤٦، ٣٥١، ٣٧٢، ٣٧٤)، سنن الدارمی/المناسک ٢٠ (١٨٢٠)، من غیر ہذا الطریق۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسے وقت میں پچھنا لگوایا جس میں آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، آپ احرام باندھے ہوئے تھے اور روزے کی حالت میں تھے۔
Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ had himself cupped between Makkah abd Madinah while he was a muhrim and was fasting.
منکر بهذا اللفظ، ابن ماجة (1682)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 777
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، جابر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ صائم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ٦٤٩٥) (منکر) (اس لفظ کے ساتھ منکر ہے، صحیح یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حالت احرام میں سینگی لگوائی تو صوم سے نہیں تھے کما تقدم اور حالت صیام میں سینگی لگانے کا واقعہ الگ ہے)
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صوم وصال ١ ؎ مت رکھو ، لوگوں نے عرض کیا: آپ تو رکھتے ہیں؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) narrated that Allah’s Messenger said, “Do not fast an uninterrupted fast”. They (the sahabah) said, “But, you keep an uninterrupted fast, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “I am not like one of you. Indeed my Lord feeds me and gives me to drink”. [Ahmed12205, Bukhari 7241, Muslim 1104]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 778
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابوہریرہ، عائشہ، ابن عمر، جابر، ابو سعید خدری، اور بشیر بن خصاصیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ بغیر افطار کیے لگاتار روزے رکھنے کو مکروہ کہتے ہیں، ٤- عبداللہ بن زبیر ؓ سے مروی ہے کہ وہ کئی دنوں کو ملا لیتے تھے (درمیان میں) افطار نہیں کرتے تھے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صوم وصال یہ ہے کہ آدمی قصداً دو یا دو سے زیادہ دن تک افطار نہ کرے، مسلسل روزے رکھے نہ رات میں کچھ کھائے پیئے اور نہ سحری ہی کے وقت، صوم وصال نبی اکرم ﷺ کے لیے جائز تھا لیکن امت کے لیے جائز نہیں۔ ٢ ؎: میرا رب مجھے کھلاتا پلاتا ہے اسے جمہور نے مجازاً قوت پر محمول کیا ہے کہ کھانے پینے سے جو قوت حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ وہ قوت مجھے یوں ہی بغیر کھائے پیے دے دیتا ہے، اور بعض نے اسے حقیقت پر محمول کرتے ہوئے کھانے پینے سے جنت کا کھانا پینا مراد لیا ہے، حافظ ابن القیم (رح) فرماتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنے معارف کی ایسی غذا کھلاتا ہے جس سے آپ کے دل پر لذت سرگوشی ومناجات کا فیضان ہوتا ہے، اللہ کے قرب سے آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے اور اللہ کی محبت کی نعمت سے آپ کو سرشاری نصیب ہوتی ہے اور اس کی جناب کی طرف شوق میں افزونی ہوتی ہے، یہ ہے وہ غذا جو آپ کو اللہ کی جانب سے عطا ہوتی ہے، یہ روحانی غذا ایسی ہے جو آپ کو دنیوی غذا سے کئی کئی دنوں تک کے لیے بےنیاز کردیتی تھی۔
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو فجر پا لیتی اور اپنی بیویوں سے صحبت کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے پھر آپ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے تھے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah (RA) and Umm Salamah the noble wives of the Prophet ﷺ reported that dawn would overtake the Prophet ﷺ while he was in a state of sexual defilement through a wife of his. He would then have a bath and keep fast. [Ahmed25732, Bukhari 1930, Muslim 11091
صحيح، ابن ماجة (1703)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 779
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ـ: ١- عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جب کوئی حالت جنابت میں صبح کرے تو وہ اس دن کی قضاء کرے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی یہ حدیث ابوہریرہ کی حدیث «من أصبح جنبا فلا صوم له» کے معارض ہے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث کو ابوہریرہ کی حدیث پر ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں سے ہیں اور بیویاں اپنے شوہروں کے حالات سے زیادہ واقفیت رکھتی ہیں، دوسرے ابوہریرہ ؓ تنہا ہیں اور یہ دو ہیں اور دو کی روایت کو اکیلے کی روایت پر ترجیح دی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٢٢ (١٩٢٦)، صحیح مسلم/الصیام ١٣ (١١٠٩)، سنن ابی داود/ الصیام ٣٦ (٢٣٨٨)، ( تحفة الأشراف: ١٧٦٩٦)، موطا امام مالک/الصیام ٤ (١٢)، مسند احمد (٦/٣٨، وسنن الدارمی/الصوم ٢٢ (١٧٦٦) من غیر ہذا الطریق (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو کھانے کی دعوت ملے تو اسے قبول کرے، اور اگر وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ دعا کرے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah i reported that the Prophet ﷺ said. “If one of you is invited to a meal then he must accept it. If he is fasting then let him make a supplication’. [Ahmed10353, Abu Dawud 2460]
صحيح، ابن ماجة (1750)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 780
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صاحب طعام کے لیے برکت کی دعا کرے، کیونکہ طبرانی کی روایت میں ابن مسعود ؓ سے وارد ہے جس میں «وإن کان صائما فليدع بالبرکة» کے الفاظ آئے ہیں، باب کی حدیث میں «فلیصل» کے بعد «يعني الدعاء» کے جو الفاظ آئے ہیں یہ «فلیصل» کی تفسیر ہے جو خود امام ترمذی نے کی ہے یا کسی اور راوی نے، مطلب یہ ہے کہ یہاں نماز پڑھنا مراد نہیں بلکہ اس سے مراد دعا ہے، بعض لوگوں نے اسے ظاہر پر محمول کیا ہے، اس صورت میں اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دعوت دینے والے کی دعوت قبول کرے اس کے گھر جائے اور گھر کے کسی کونے میں جا کر دو رکعت نماز پڑھے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ام سلیم ؓ کے گھر میں پڑھی تھی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٤٣٣) (صحیح) وأخرجہ: کل من: صحیح مسلم/الصیام ٢٨ (١١٥٠)، سنن ابی داود/ الصیام ٧٥ (٢٤٦٠)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٧ (١٧٥٠)، مسند احمد (٢/٢٤٢)، سنن الدارمی/الصیام ٣١ (١٧٧٨)، من غیر ہذا الطریق۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے میں روزہ سے ہوں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘When one of you is invited and he is fasting then let him say : I am fasting’. [Ahmed7308, Muslim 1150, Abu Dawud 2461, Muslim 1750]
صحيح، ابن ماجة (1750)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 781
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابوہریرہ سے مروی دونوں حدیثیں حسن صحیح ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میں روزہ سے ہوں کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے، اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے، لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی اور کدورت راہ نہ پائے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں ماہ رمضان کے علاوہ کوئی اور روزہ بغیر اس کی اجازت کے نہ رکھے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘A woman should not fast outside Ramadan while her husband is there without his permission”. [Ahmed7347, Ibn e Majah 1761]
صحيح، ابن ماجة (1761)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 782
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس اور ابوسعید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «لا تصوم» نفی کا صیغہ جونہی کے معنی میں ہے، مسلم کی روایت میں «لا يحل للمرأة أن تصوم» کے الفاظ وارد ہیں، یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شوہر کی موجودگی میں نفلی روزے عورت کے لیے بغیر شوہر کی اجازت کے جائز نہیں، اور یہ ممانعت مطلقاً ہے اس میں یوم عرفہ اور عاشوراء کے روزے بھی داخل ہیں بعض لوگوں نے عرفہ اور عاشوراء کے روزوں کو مستثنیٰ کیا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رمضان کے جو روزے مجھ پر رہ جاتے انہیں میں شعبان ہی میں قضاء کر پاتی تھی۔ جب تک کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات نہیں ہوگئی۔
Sayyidah Ayshah (RA) said, “I did not redeem what was due againstme from Ramadan but in Sha’ban till the death of Allah’s Messenger ﷺ ” [Bukhari 1950, Muslim 1146, Abu Dawud 2399, Nisai 2315, Ibn e Majah 1669]
**صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 783
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٢٩٣)، وانظر مسند احمد (٦/١٢٤، ١٣١، ١٧٠)، وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/ /الصوم ٤٠ (١٩٥٠)، صحیح مسلم/الصوم ٢٦ (١١٤٦)، سنن ابی داود/ الصیام ٤٠ (٢٣٩٩)، سنن النسائی/الصیام ٦٤ (٢٣٣١)، سنن ابن ماجہ/الصیام ١٣ (١٦٦٩) من غیر ھذا الطریق و بسیاق آخر (صحیح) (سند میں اسماعیل سدی کے بارے میں قدرے کلام ہے، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے)
لیلیٰ کی مالکن (ام عمارہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں ۔
Abu Layla reported from his Mawla that the Prophet ﷺ said, “When food is consumed in the presence of one who is fasting, the angels pray for him”. [Ahmed27179, Ibn e Majah 1748]
ضعيف، ابن ماجة (1748) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (384)، وانظر صحيح ابن ماجة (1418)، وفي ابن ماجة: إذا أكل عنده الطعام، وضعيف الجامع (3525) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 784
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
شعبہ نے بھی یہ حدیث بطریق: «حبيب بن زيد عن ليلى عن جدته أم عمارة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» سے اسی طرح روایت کی ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الصیام ٤٦ (١٧٤٨)، ( تحفة الأشراف: ١٨٣٣٥) (ضعیف) (سند میں لیلیٰ مجہول راوی ہے)