Sunan At-Tirmidhi 772

روزوں کے متعلق ابواب

772Sunan At-Tirmidhi(771)

پے درپے روزے رکھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: شَهِدْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي يَوْمِ النَّحْرِ، بَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ صَوْمِ هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ أَمَّا يَوْمُ الْفِطْرِ فَفِطْرُكُمْ مِنْ صَوْمِكُمْ وَعِيدٌ لِلْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا يَوْمُ الْأَضْحَى فَكُلُوا مِنْ لُحُومِ نُسُكِكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ اسْمُهُ سَعْدٌ وَيُقَالُ لَهُ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَيْضًا، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَزْهَرَ هُوَ ابْنُ عَمِّ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے مولیٰ ابو عبید سعد کہتے ہیں کہ میں عمر بن الخطاب ؓ کے پاس دسویں ذی الحجہ کو موجود تھا، انہوں نے خطبے سے پہلے نماز شروع کی، پھر کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ان دو دنوں میں روزہ رکھنے سے منع فرماتے سنا ہے، عید الفطر کے دن سے، اس لیے کہ یہ تمہارے روزوں سے افطار کا دن اور مسلمانوں کی عید ہے اور عید الاضحی کے دن اس لیے کہ اس دن تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاؤ ١ ؎۔

Abu Ubayd (RA) the freedman of Abdur Rahman ibn Awf said that he saw Umar ibn al-Khattab (RA) begin with salah on the day of sacrifice before the sermon. He said, “I heard Allahs Messenger ﷺ disallow fasting on these two days. As for the Fed ul-Fitr, it is your breakfast after your fasts, and an eid for Muslims. And, as for the day of sacrifice (adha), eat the flesh of your sacrifice”. [Ahmed224, Bukhari 1990, Muslim 1137, Abu Dawud 2416, Ibn e Majah 1722]

صحيح، ابن ماجة (1722)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 771
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علماء کا اجماع ہے کہ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنا کسی بھی حال میں جائز نہیں خواہ وہ نذر کا روزہ ہو یا نفلی روزہ ہو یا کفارے کا یا ان کے علاوہ کوئی اور روزہ ہو، اگر کوئی تعیین کے ساتھ ان دونوں دنوں میں روزہ رکھنے کی نذر مان لے تو جمہور کے نزدیک اس کی یہ نذر منعقد نہیں ہوگی اور نہ ہی اس کی قضاء اس پر لازم آئے گی اور امام ابوحنیفہ کہتے ہیں نذر منعقد ہوجائے گی لیکن وہ ان دونوں دنوں میں روزہ نہیں رکھے گا، ان کی قضاء کرے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٦٦ (١٩٩٠)، والأضاحی ١٦ (٥٥٧١)، صحیح مسلم/الصیام ٢٢ (١١٣٧)، سنن ابی داود/ الصیام ٤٨ (٢٤١٦)، سنن ابن ماجہ/الصیام ٣٦ (١٧٢٢)، ( تحفة الأشراف: ١٠٦٦٣)، موطا امام مالک/العیدین ٢ (٥) مسند احمد (١/٤٠) (صحیح)