Sunan At-Tirmidhi 779

روزوں کے متعلق ابواب

779Sunan At-Tirmidhi

صبح تک حالت جنابت میں رہتے ہوئے روزے کی نیت کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِيعَائِشَةُ، وَأُمُّ سَلَمَةَ زَوْجَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الْفَجْرُ وَهُوَ جُنُبٌ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ فَيَصُومُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ قَالَ قَوْمٌ مِنَ التَّابِعِينَ: إِذَا أَصْبَحَ جُنُبًا يَقْضِي ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو فجر پا لیتی اور اپنی بیویوں سے صحبت کی وجہ سے حالت جنابت میں ہوتے پھر آپ غسل فرماتے اور روزہ رکھتے تھے ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) and Umm Salamah the noble wives of the Prophet ﷺ reported that dawn would overtake the Prophet ﷺ while he was in a state of sexual defilement through a wife of his. He would then have a bath and keep fast. [Ahmed25732, Bukhari 1930, Muslim 11091

صحيح، ابن ماجة (1703)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 779
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ـ: ١- عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے اور تابعین کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جب کوئی حالت جنابت میں صبح کرے تو وہ اس دن کی قضاء کرے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎ ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کی یہ حدیث ابوہریرہ کی حدیث «من أصبح جنبا فلا صوم له» کے معارض ہے، اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ عائشہ اور ام سلمہ کی حدیث کو ابوہریرہ کی حدیث پر ترجیح حاصل ہے کیونکہ یہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں سے ہیں اور بیویاں اپنے شوہروں کے حالات سے زیادہ واقفیت رکھتی ہیں، دوسرے ابوہریرہ ؓ تنہا ہیں اور یہ دو ہیں اور دو کی روایت کو اکیلے کی روایت پر ترجیح دی جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٢٢ (١٩٢٦)، صحیح مسلم/الصیام ١٣ (١١٠٩)، سنن ابی داود/ الصیام ٣٦ (٢٣٨٨)، ( تحفة الأشراف: ١٧٦٩٦)، موطا امام مالک/الصیام ٤ (١٢)، مسند احمد (٦/٣٨، وسنن الدارمی/الصوم ٢٢ (١٧٦٦) من غیر ہذا الطریق (صحیح)