Sunan At-Tirmidhi 781

روزوں کے متعلق ابواب

781Sunan At-Tirmidhi

روزہ دار کو دعوت قبول کرنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيَقُلْ: إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَكِلَا الْحَدِيثَيْنِ فِي هَذَا الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے اور وہ روزہ سے ہو تو چاہیئے کہ وہ کہے میں روزہ سے ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘When one of you is invited and he is fasting then let him say : I am fasting’. [Ahmed7308, Muslim 1150, Abu Dawud 2461, Muslim 1750]

صحيح، ابن ماجة (1750)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 781
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں ابوہریرہ سے مروی دونوں حدیثیں حسن صحیح ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: میں روزہ سے ہوں کہنے کا حکم دعوت قبول نہ کرنے کی معذرت کے طور پر ہے، اگرچہ نوافل کا چھپانا بہتر ہے، لیکن یہاں اس کے ظاہر کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تاکہ داعی کے دل میں مدعو کے خلاف کوئی غلط فہمی اور کدورت راہ نہ پائے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف: ١٣٦٧١) (صحیح)