Sunan At-Tirmidhi 788

روزوں کے متعلق ابواب

788Sunan At-Tirmidhi

ناک میں پانی ڈالنے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْحَكَمِ الْبَغْدَادِيُّ الْوَرَّاقُ، وَأَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ كَثِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ: أَسْبِغْ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ السُّعُوطَ لِلصَّائِمِ، وَرَأَوْا أَنَّ ذَلِكَ يُفْطِرُهُ، وَفِي الْبَاب مَا يُقَوِّي قَوْلَهُمْ.

لقیط بن صبرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے وضو کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے فرمایا: کامل طریقے سے وضو کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرو، إلا یہ کہ تم روزے سے ہو ۔

Aasim ibn Laqit reported from his father who asked the Prophet ﷺ “O Messenger of Allah, inform me about ablution’. He said, “Make it well, thread your fingers through each other and if you are not fasting, insert water into the nostrils deep inside”. [Ahmed17863, Abu Dawud 2366, Nisai 87, Ibn e Majah 407]

صحيح، ابن ماجة (407)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 788
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اہل علم نے روزہ دار کے لیے ناک میں پانی سرکنے میں مبالغہ کرنے کو مکروہ کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، ٣- اس باب میں دوسری روایات بھی ہیں جن سے ان کے قول کی تقویت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٨ (تحفة الأشراف: ١١١٧٢) (صحیح)