شب قدر
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: أَنَّى عَلِمْتَ أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، قَالَ: بَلَى، أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهَا لَيْلَةٌ صَبِيحَتُهَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يُخْبِرَكُمْ فَتَتَّكِلُوا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے ابی بن کعب ؓ سے پوچھا: ابوالمنذر! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیوں نہیں، ہمیں رسول اللہ ﷺ نے خبر دی ہے کہ یہ ایک ایسی رات ہے جس کی صبح جب سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہوگی، تو ہم نے گنتی کی اور ہم نے یاد رکھا، (زرّ کہتے ہیں) اللہ کی قسم! ابن مسعود کو بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے۔ لیکن وہ یہ ناپسند کرتے ہیں کہ تمہیں (اسے مسلمانو! ) بتادیں اور تم تکیہ کر کے بیٹھ جاؤ۔
Zirr reported having asked Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA), “How did you inform Abu Munzir that Laylatul Qadr is the night of twenty-seventh?” He said, “Surely, Allah’s Messenger ﷺ informed us that it is a night on whose morning the sun rises without rays. We counted it and rememberred it. By Allah! Ibn Mas’ud (RA) know certainly that it is in Ramadan and it is the twenty-seventh night, but he disliked to inform you lest you rely (only) on it”. [Ahmed21267, Muslim 762, Abu Dawud 1378]