جنازوں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 10 · 119 hadiths · Page 4 of 6

1026Sunan At-Tirmidhi

نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ أُمِّ شَرِيكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ هُوَ: أَبُو شَيْبَةَ الْوَاسِطِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَالصَّحِيحُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ: مِنَ السُّنَّةِ الْقِرَاءَةُ عَلَى الْجَنَازَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جنازے میں سورة فاتحہ پڑھی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ recited surah al-Fatihah in the funeral salah. [Ibn e Majah 1495]

صحيح، ابن ماجة (1495)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1026
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ٢- ابراہیم بن عثمان ہی ابوشیبہ واسطی ہیں اور وہ منکر الحدیث ہیں۔ صحیح چیز جو ابن عباس سے مروی ہے کہ ـجنازے کی نماز میں سورۃ فاتحہپڑھناسنت میں سے ہے، ٣- اس باب میں ام شریک سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٢ (١٤٩٥)، انظر الحدیث الآتي ( تحفة الأشراف: ٦٤٦٨) (صحیح) (اگلی اثر کی متابعت کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابراہیم بن عثمان “ ضعیف ہیں)
1027Sunan At-Tirmidhi

نماز جنازہ میں سورت فاتحہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . فَقُلْتُ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ مِنَ السُّنَّةِ أَوْ مِنْ تَمَامِ السُّنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، يَخْتَارُونَ أَنْ يُقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ بَعْدَ التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ، إِنَّمَا هُوَ ثَنَاءٌ عَلَى اللَّهِ، وَالصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالدُّعَاءُ لِلْمَيِّتِ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَطَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ هُوَ: ابْنُ أَخِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، رَوَى عَنْهُ الزُّهْرِيُّ.

طلحہ بن عوف کہتے ہیں کہ ابن عباس ؓ نے ایک نماز جنازہ پڑھایا تو انہوں نے سورة فاتحہ پڑھی۔ میں نے ان سے (اس کے بارے میں) پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سنت ہے۔

Talhah ibn Abdullah ibn Awf narrated : Sayyidina Ibn Abbas (RA) prayed over a dead and recited surah al-Fatihah. I asked him and he said, “This is one of the sunnah.” or, he said, “All of it is sunnah.” [Bukhari 1335, Abu Dawud 3198, Nisai 1983]

صحيح أنظر ما قبله (1026)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1027
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- طلحہ بن عبداللہ بن عوف، عبدالرحمٰن بن عوف کے بھتیجے ہیں۔ ان سے زہری نے روایت کی ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے یہ لوگ تکبیر اولیٰ کے بعد سورة فاتحہ پڑھنے کو پسند کرتے ہیں یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ نماز جنازہ میں سورة فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی ١ ؎ اس میں تو صرف اللہ کی ثنا، نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ (درود) اور میت کے لیے دعا ہوتی ہے۔ اہل کوفہ میں سے ثوری وغیرہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جن روایتوں سے پہلی تکبیر کے بعد سورة فاتحہ کا پڑھنا ثابت ہوتا ہے ان کی تاویل یہ کی جائیگی کہ یہ قرأت کی نیت سے نہیں بلکہ دعا کی نیت سے پڑھی گئی تھی لیکن یہ محض تاویل ہے جس پر کوئی دلیل نہیں۔ مبتدعین کی حرکات بھی عجیب وغریب ہوا کرتی ہیں، نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے نماز جنازہ میں ثابت سورة فاتحہ نماز جنازہ میں نہیں پڑھیں گے اور رسم قُل، تیجا، ساتویں وغیرہ میں فاتحہ کا رٹہ لگائیں گے اور وہ بھی معلوم نہیں کون سی فاتحہ پڑھتے ہیں حقہ کے بغیر ان کے ہاں قبول ہی نہیں ہوتی۔ «فيا عجبا لهذه الخرافات»
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٦٥ (١٣٣٥)، سنن ابی داود/ الجنائز ٥٩ (٣١٩٨)، سنن النسائی/الجنائز ٧٧ (١٩٨٩)، ( تحفة الأشراف: ٥٧٦٤) (صحیح)
1028Sunan At-Tirmidhi

نماز جنازہ کی کیفیت اور میت کے لئے شفاعت کرنا

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَيُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ، قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ هُبَيْرَةَ إِذَا صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، فَتَقَالَّ النَّاسَ عَلَيْهَا جَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ ثَلَاثَةُ صُفُوفٍ فَقَدْ أَوْجَبَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ حَبِيبَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَمَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، هَكَذَا رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، وَأَدْخَلَ بَيْنَ مَرْثَدٍ، وَمَالِكِ بْنِ هُبَيْرَةَ رَجُلًا، وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ أَصَحُّ عِنْدَنَا.

مرثد بن عبداللہ یزنی کہتے ہیں کہ مالک بن ہبیرہ ؓ جب نماز جنازہ پڑھتے اور لوگ کم ہوتے تو ان کی تین صفیں ١ ؎ بنا دیتے، پھر کہتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جس کی نماز جنازہ تین صفوں نے پڑھی تو اس نے (جنت) واجب کرلی ۔

Marthad ibn Abdullah Yazani reported that when Maalik ibn Hubayrah (RA) led the funeral salah and there were few people, he arranged them into three rows. He said that Allah’s Messenger had said, “He over whom three rows (of men) prayed, Paradise is assured to him.” [Ahmed16724, Abu Dawud 3166, Ibn e Majah 1490]

ضعيف، ابن ماجة (1490) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (327) مع اختلاف في اللفظ، ضعيف الجامع (5087 و 5668)، أحكام الجنائز (100) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1028
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- مالک بن ہبیرہ ؓ کی حدیث حسن ہے، ٢- اسی طرح کئی لوگوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے۔ ابراہیم بن سعد نے بھی یہ حدیث محمد بن اسحاق سے روایت کی ہے۔ اور انہوں نے سند میں مرثد اور مالک بن ہبیرہ کے درمیان ایک شخص کو داخل کردیا ہے۔ ہمارے نزدیک ان لوگوں کی روایت زیادہ صحیح ہے، ٣- اس باب میں عائشہ، ام حبیبہ، ابوہریرہ اور ام المؤمنین میمونہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صف کم سے کم دو آدمیوں پر مشتمل ہوتی ہے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجنائز ١٤٣ (٣١٦٦)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٩ (١٤٩٠)، ( تحفة الأشراف: ١١٢٠٨)، مسند احمد (٤/٧٩) (حسن) (سند میں ” محمد بن اسحاق “ مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، البتہ مالک بن ہبیرہ ؓ کا فعل شواہد اور متابعات کی بنا پر صحیح ہے)
1029Sunan At-Tirmidhi

نماز جنازہ کی کیفیت اور میت کے لئے شفاعت کرنا

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاإِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ رَضِيعٍ كَانَ لِعَائِشَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَتُصَلِّي عَلَيْهِ أُمَّةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَبْلُغُونَ أَنْ يَكُونُوا مِائَةً فَيَشْفَعُوا لَهُ إِلَّا شُفِّعُوا فِيهِ . وقَالَ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ: مِائَةٌ فَمَا فَوْقَهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ أَوْقَفَهُ بَعْضُهُمْ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان مرجائے اور مسلمانوں کی ایک جماعت جس کی تعداد سو کو پہنچتی ہو اس کی نماز جنازہ پڑھے اور اس کے لیے شفاعت کرے تو ان کی شفاعت قبول کی جاتی ہے ١ ؎۔ علی بن حجر نے اپنی حدیث میں کہا: «مائة فما فوقها» سویا اس سے زائد لوگ ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, ‘There is none among the Muslims who dies and a section of the Muslims numbering up to a hundred pray over him and intercede for him, without their intercession being accepted.” And Sayyidina Ali narrated in his hadith that their number is hundred or more than that. [Ahmed24182, Muslim 947, Nisai 1987] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الأحكام (98)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1029
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- بعض نے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، مرفوع نہیں کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے نماز جنازہ میں کثرت تعداد کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، مسلم کی ایک روایت میں چالیس مسلمان مردوں کا ذکر ہے، اور بعض روایتوں میں تین صفوں کا ذکر ہے، ان میں تطبیق اس طرح سے دی گئی ہے کہ یہ احادیث مختلف موقعوں پر سائلین کے سوالات کے جواب میں بیان کی گئیں ہیں، اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے آپ کو سو آدمیوں کی شفاعت قبول کئے جانے کی خبر دی گئی ہو پھر چالیس کی پھر تین صفوں کی گو وہ چالیس سے بھی کم ہوں، یہ اللہ کی اپنے بندوں پر نوازش و انعام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ١٨ (٩٤٧)، سنن النسائی/الجنائز ٧٨ (١٩٩٣)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢٩١)، مسند احمد (٦/٣٢، ٤٠، ٩٧، ٢٣١) (صحیح)
1030Sunan At-Tirmidhi

طلوع وغروب آفتاب کے وقت نماز جنازہ پڑھنا مکروہ ہے۔

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا: حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، يَكْرَهُونَ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي هَذِهِ السَّاعَاتِ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا يَعْنِي: الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَازَةِ، وَكَرِهَ الصَّلَاةَ عَلَى الْجَنَازَةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَعِنْدَ غُرُوبِهَا، وَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا بَأْسَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي السَّاعَاتِ الَّتِي تُكْرَهُ فِيهِنَّ الصَّلَاةُ.

عقبہ بن عامر جہنی ؓ کہتے ہیں کہ تین ساعتیں ایسی ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز پڑھنے سے یا اپنے مردوں کو دفنانے سے منع فرماتے تھے: جس وقت سورج نکل رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہوجائے، اور جس وقت ٹھیک دوپہر ہو رہی ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، اور جس وقت سورج ڈوبنے کی طرف مائل ہو یہاں تک کہ وہ ڈوب جائے۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir Juhanni (RA)said, “There are three hours when Allah’s Messenger disallowed to offer salah or bury our dead: when the sun rises till it is fairly high, when it is overhead till it has gone past the meridian and at sunset as it goes down till it has set. [Ahmed17382, Muslim 831, Abu Dawud 3192, Nisai 559, Ibn e Majah 1519] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1519)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1030
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ لوگ ان اوقات میں نماز جنازہ پڑھنے کو مکروہ سمجھتے ہیں، ٣- ابن مبارک کہتے ہیں: اس حدیث میں ان اوقات میں مردے دفنانے سے مراد ان کی نماز جنازہ پڑھنا ہے ١ ؎ انہوں نے سورج نکلتے وقت ڈوبتے وقت اور دوپہر کے وقت جب تک کہ سورج ڈھل نہ جائے نماز جنازہ پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ٤- شافعی کہتے ہیں کہ ان اوقات میں جن میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، ان میں نماز جنازہ پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے بھی اسے اسی معنی پر محمول کیا ہے جیسا کہ ترجمۃ الباب سے واضح ہے، اس کے برخلاف امام ابوداؤد (رح) نے اسے دفن حقیقی ہی پر محمول کیا اور انہوں نے «باب الدفن عند طلوع الشمش وعند غروبها» کے تحت اس کو ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المسافرین ٥١ (٨٣١)، سنن ابی داود/ الجنائز ٥٥ (٣١٩٢)، سنن النسائی/المواقیت ٣١ (٥٦١)، و ٣٣ (٥٦٦)، والجنائز ٨٩، (٢٠١٥)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٠ (١٥١٩)، ( تحفة الأشراف: ٩٩٣٩)، مسند احمد (٤/١٥٢)، سنن الدارمی/الصلاة ١٤٢ (١٤٧٢) (صحیح)
1031Sunan At-Tirmidhi

بچوں کی نماز جنازہ

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ ابْنُ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْزِيَادِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ حَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، رَوَاهُإِسْرَائِيلُ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: يُصَلَّى عَلَى الطِّفْلِ، وَإِنْ لَمْ يَسْتَهِلَّ بَعْدَ أَنْ يُعْلَمَ أَنَّهُ خُلِقَ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سواری والے جنازے کے پیچھے رہے، پیدل چلنے والے جہاں چاہے رہے، اور بچوں کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے گی ۔

Sayyidina Mughirah ibn Shu’bah reported that the Prophet ﷺ said. “The rider accompanying the funeral must keep behind it while he who walks may walk wherever he likes. And, salah must he offered over (dead) children (also).” [Ahmed18186, Abu Dawud 3180, Nisai 1938, Ibn e Majah 1507] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1507)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1031
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسرائیل اور دیگر کئی لوگوں نے اسے سعید بن عبداللہ سے روایت کیا ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بچے کی نماز جنازہ یہ جان لینے کے بعد کہ اس میں جان ڈال دی گئی تھی پڑھی جائے گی گو (ولادت کے وقت) وہ رویا نہ ہو، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی راجح قول ہے، کیونکہ ماں کے پیٹ کے اندر ہی بچے کے اندر روح پھونک دی جاتی ہے، گویا نومولود ایک ذی روح مسلمان ہے۔ پڑھنے کا بیان جب تک کہ وہ ولادت کے وقت نہ روئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجنائز ٤٩ (٣١٨٠)، سنن النسائی/الجنائز ٥٥ (١٩٤٤)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٥ (١٤٨١)، و ٢٦ (١٥٠٧)، ( تحفة الأشراف: ١١٤٩٠)، مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٥٢) (صحیح)
1032Sunan At-Tirmidhi

اگر بچہ پیدا ہونے کے بعد نہ روئے تو اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے۔

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الطِّفْلُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ قَدِ اضْطَرَبَ النَّاسُ فِيهِ، فَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا، وَرَوَى أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا، وَكَأَنَّ هَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، قَالُوا: لَا يُصَلَّى عَلَى الطِّفْلِ حَتَّى يَسْتَهِلَّ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بچے کی نماز (جنازہ) نہیں پڑھی جائے گی۔ نہ وہ کسی کا وارث ہوگا اور نہ کوئی اس کا وارث ہوگا جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت روئے نہیں ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger said, “No salah is offered over a (dead) child and neither does he inherit nor leave an inheritance if he does not utter a sound (before dying).” [Ibn e Majah 1508]

صحيح، ابن ماجة (1508)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1032
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس حدیث میں لوگ اضطراب کے شکار ہوئے ہیں۔ بعض نے اسے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے اور جابر نے نبی اکرم ﷺ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، اور اشعث بن سوار اور دیگر کئی لوگوں نے ابو الزبیر سے اور ابو الزبیر نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے، اور محمد بن اسحاق نے عطاء بن ابی رباح سے اور عطاء نے جابر سے موقوفاً روایت کی ہے گویا موقوف روایت مرفوع روایت سے زیادہ صحیح ہے، ٢- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ بچے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ جب تک کہ وہ پیدائش کے وقت نہ روئے یہی سفیان ثوری اور شافعی کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦٦٠) (صحیح) وأخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٦ (١٥٠٨)، والفرائض ١٧ (٢٧٥٠)، من غیر ہذا الوجہ۔
1033Sunan At-Tirmidhi

مسجد میں نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ مَالِكٌ: لَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ فِي الْمَسْجِدِ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ فِي الْمَسْجِدِ، وَاحْتَجَّ بِهَذَا الْحَدِيثِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء ١ ؎ کی نماز جنازہ مسجد میں پڑھی ٢ ؎۔

Sayyidah Ayshah(RA) said that Allah’s Messenger ﷺ prayed over Suhayl ibn Bayda (his funeral salah) in the mosque. [Ahmed1035, Muslim 973, Abu Dawud 3189]

صحيح، ابن ماجة (1518)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1033
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٣- شافعی کا بیان ہے کہ مالک کہتے ہیں: میت پر نماز جنازہ مسجد میں نہیں پڑھی جائے گی، ٤- شافعی کہتے ہیں: میت پر نماز جنازہ مسجد میں پڑھی جاسکتی ہے، اور انہوں نے اسی حدیث سے دلیل پکڑی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بیضاء کے تین بیٹے تھے جن کے نام: سہل، سہیل اور صفوان تھے اور ان کی ماں کا نام رعد تھا، بیضاء ان کا وصفی نام ہے، اور ان کے باپ کا نام وہب بن ربیعہ قرشی فہری تھا۔ ٢ ؎: اس سے مسجد میں نماز جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اگرچہ نبی اکرم ﷺ کا معمول مسجد سے باہر پڑھنے کا تھا، یہی جمہور کا مذہب ہے جو لوگ عدام جواز کے قائل ہیں ان کی دلیل ابوہریرہ کی روایت «من صلی علی جنازة في المسجد فلا شيء له» ہے جس کی تخریج ابوداؤد نے کی ہے، جمہور اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ روایت ضعیف ہے قابل استدلال نہیں، دوسرا جواب یہ ہے کہ مشہور اور محقق نسخے میں «فلا شيء له» کی جگہ «فلا شيء عليه» ہے اس کے علاوہ اس کے اور بھی متعدد جوابات دیئے گئے ہیں دیکھئیے ( تحفۃ الاحوذی ج ٢ ص ١٤٦)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٣٤ (٩٧٣)، سنن النسائی/الجنائز ٧٠ (١٩٦٩)، مسند احمد (٦/٧٩، ١٣٣، ١٦٩) (تحفة الأشراف: ١٦١٧٥) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الجنائز (المصدرالمذکور)، سنن ابی داود/ الجنائز ٥٤ (٣١٨٩)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٩ (١٥١٨)، موطا امام مالک/الجنائز ٨ (٢٢) من غیر ہذا الوجہ۔
1034Sunan At-Tirmidhi

مرد اور عورت کی نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَلَى جَنَازَةِ رَجُلٍ، فَقَامَ حِيَالَ رَأْسِهِ، ثُمَّ جَاءُوا بِجَنَازَةِ امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالُوا: يَا أَبَا حَمْزَةَ، صَلِّ عَلَيْهَا، فَقَامَ حِيَالَ وَسَطِ السَّرِيرِ، فَقَالَ لَهُ الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ: هَكَذَا رَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْجَنَازَةِ مُقَامَكَ مِنْهَا، وَمِنَ الرَّجُلِ مُقَامَكَ مِنْهُ، قَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: احْفَظُوا . وَفِي الْبَاب: عَنْ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ هَمَّامٍ مِثْلَ هَذَا، وَرَوَى وَكِيعٌ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ هَمَّامٍ فَوَهِمَ فِيهِ، فَقَالَ: عَنْ غَالِبٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي غَالِبٍ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْأَبِي غَالِبٍ مِثْلَ رِوَايَةِ هَمَّامٍ، وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ أَبِي غَالِبٍ هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: يُقَالُ: اسْمُهُ نَافِعٌ، وَيُقَالُ: رَافِعٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

ابوغالب کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کے ساتھ ایک آدمی کی نماز جنازہ پڑھی تو وہ اس کے سر کے سامنے کھڑے ہوئے۔ پھر لوگ قریش کی ایک عورت کا جنازہ لے کر آئے اور کہا: ابوحمزہ! اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دیجئیے، تو وہ چارپائی کے بیچ میں یعنی عورت کی کمر کے سامنے کھڑے ہوئے، تو ان سے علاء بن زیاد نے پوچھا: آپ نے نبی اکرم ﷺ کو عورت اور مرد کے جنازے میں اسی طرح کھڑے ہوتے دیکھا ہے۔ جیسے آپ کھڑے ہوئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ١ ؎۔ اور جب جنازہ سے فارغ ہوئے تو کہا: اس طریقہ کو یاد کرلو۔

Abu Ghalib narrated that Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) was leading the funeral salah of a man, and stood in line with his head. Then the funeral of a Qurayshi woman was brought. The men said, ‘O Abu Hamzah, pray over her,” so he stood in line with the centre of the body. On that, Ala ibn Ziyad asked him, “Had you seen Allah’s Messenger ﷺ stand in this manner at your place in her funeral (where you stood) and at your place in his funeral (where you stood)?” He said, ‘Yes,” and when it was over, “Remember it!” [Abu Dawud 3194, Ibn e Majah 1494]

صحيح، ابن ماجة (1494)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1034
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس کی یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور کئی لوگوں نے بھی ہمام سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ وکیع نے بھی یہ حدیث ہمام سے روایت کی ہے، لیکن انہیں وہم ہوا ہے۔ انہوں نے «عن غالب عن أنس» کہا ہے اور صحیح «عن ابی غالب» ہے، عبدالوارث بن سعید اور دیگر کئی لوگوں نے ابوغالب سے روایت کی ہے جیسے ہمام کی روایت ہے، ٣- اس باب میں سمرہ سے بھی روایت ہے، ٤- بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ فائدہ ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کی نماز جنازہ ہو تو امام اس کی کمر کے پاس کھڑا ہوگا، اور امام کو مرد کے سر کے بالمقابل کھڑا ہونا چاہیئے کیونکہ انس بن مالک نے عبداللہ بن عمیر کا جنازہ ان کے سر کے پاس ہی کھڑے ہو کر پڑھایا تھا اور علاء بن زیاد کے پوچھنے پر انہوں نے کہا تھا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجنائز ٥٧ (٣١٩٤)، (بزیادة في السیاق)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢١ (١٤٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٦٢١)، مسند احمد (٣/١٥١) (بزیادة فی السیاق) (صحیح)
1035Sunan At-Tirmidhi

مرد اور عورت کی نماز جنازہ میں امام کہاں کھڑا ہو۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَالْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى امْرَأَةٍ فَقَامَ وَسَطَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ.

سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک عورت ١ ؎ کی نماز جنازہ پڑھائی، تو آپ اس کے بیچ میں یعنی اس کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔

Sayyidina Samurah ibn Jundab said that the Prophet ﷺ prayed the funeral prayer of a woman, standing in line with the centre (of the corpse). [Ahmed 20237, Bukhari 1331, Muslim 964, Abu Dawud 3195, Nisai 1972, Ibn e Majah 1493]

صحيح، ابن ماجة (1493)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1035
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ نے بھی اسے حسین المعلم سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس عورت کا نام ام کعب ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں اس کی تصریح آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٩ (٣٣٢)، والجنائز ٦٢ (١٣٣١)، و ٦٣ (١٣٣٢)، صحیح مسلم/الجنائز ٢٧ (٩٦٤)، سنن ابی داود/ الجنائز ٥٧ (٣١٩٥)، سنن النسائی/الحیض ٢٥ (٣٩١)، والجنائز ٧٣ (١٩٧٨)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢١ (١٤٩٣)، ( تحفة الأشراف: ٤٦٢٥)، مسند احمد (٥/١٤، ١٩) (صحیح)
1036Sunan At-Tirmidhi

شہید پر نماز جنازہ نہ پڑھنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرُوِيَ عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الشَّهِيدِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَبِهِ يَقُولُ: الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى حَمْزَةَ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وَبِهِ يَقُولُ: إِسْحَاق.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں ایک ساتھ کفناتے، پھر پوچھتے: ان میں قرآن کسے زیادہ یاد تھا؟ تو جب آپ کو ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کردیا جاتا تو آپ اسے لحد میں مقدم رکھتے اور فرماتے: قیامت کے روز میں ان لوگوں پر گواہ رہوں گا ۔ اور آپ نے انہیں ان کے خون ہی میں دفنانے کا حکم دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ ہی انہیں غسل ہی دیا۔

Abdur Rahman ibn Ka’b ibn Maalik reported that Sayyidina Jabir ibn Abdullah told him that the Prophet ﷺ shrouded every two martyrs of Uhud together in one shroud. After that, he asked which of them knew more of the Quran and when the person was pointed out, he put him forward in the grave, saying, “I am witness over these people on the Day of Resurrection.” And, he commanded that they should be buried with their blood, and their funeral salah was not offered nor were they given a bath. [Bukhari 4079, Ibn e Majah 1515, Abu Dawud 3134] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1514)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1036
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث زہری سے مروی ہے انہوں نے اسے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے نیز یہ زہری سے عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر کے واسطے سے بھی مروی ہے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے اور ان میں سے بعض نے اسے جابر کی روایت سے ذکر کیا، ٢- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے، ٣- اہل علم کا شہید کی نماز جنازہ کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ یہی اہل مدینہ کا قول ہے۔ شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں، ٤- اور بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز پڑھی جائے گی۔ ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ نے حمزہ ؓ کی نماز پڑھی تھی۔ ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں اور یہی اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس موضوع پر مفصل بحث لکھنے کے بعد صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں: میرے نزدیک ظاہر مسئلہ یہی ہے کہ شہید پر نماز جنازہ واجب نہیں ہے، البتہ اگر پڑھ لی جائے تو جائز ہے، اور ماوردی نے امام احمد کا یہ قول نقل کیا ہے کہ شہید پر نماز جنازہ زیادہ بہتر ہے اور اس پر نماز جنازہ نہ پڑھیں گے تو بھی ( اس کی شہادت اسے ) کفایت کرے گی، ( فانظر فتح الباری عند الموضوع )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٧٢ (١٣٤٣)، و ٧٣ (١٣٤٥)، و ٧٥ (١٣٤٦)، و ٧٨ (١٣٤٨)، والمغازي ٢٦ (٤٠٧٩)، سنن ابی داود/ الجنائز ٣١ (٣١٣٨)، سنن النسائی/الجنائز ٦٢ (١٩٥٧)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٨ (١٥١٤)، ( تحفة الأشراف: ٢٣٨٢) (صحیح)
1037Sunan At-Tirmidhi

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأَى قَبْرًا مُنْتَبِذًا، فَصَفَّ أَصْحَابَهُ خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: مَنْ أَخْبَرَكَهُ ؟ فَقَالَ: ابْنُ عَبَّاسٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَنَسٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَيَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَأَبِي قَتَادَةَ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُصَلَّى عَلَى الْقَبْرِ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: إِذَا دُفِنَ الْمَيِّتُ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْهِ، صُلِّيَ عَلَى الْقَبْرِ، وَرَأَى ابْنُ الْمُبَارَكِ الصَّلَاةَ عَلَى الْقَبْرِ، وقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: يُصَلَّى عَلَى الْقَبْرِ إِلَى شَهْرٍ، وَقَالَا: أَكْثَرُ مَا سَمِعْنَا عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى قَبْرِ أُمِّ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بَعْدَ شَهْرٍ .

شعبی کا بیان ہے کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایک قبر الگ تھلگ دیکھی تو اپنے پیچھے صحابہ کی صف بندی کی اور اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ شعبی سے پوچھا گیا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی۔ تو انہوں نے کہا: ابن عباس ؓ نے۔

Shabi reported that one who had seen the Prophet ﷺ informed him that he observed a distant, withdrawn grave. So he arranged his sahabah in rows and prayed (the funeral salah) over it. Shabi was asked who had infolmed him, and he said, “ Ibn Abbas (RA) .” [Ahmed255, Bukhari 1319, Muslim 954, Abu Dawud 3196, Nisai 2019, Ibn e Majah 1530]

صحيح، ابن ماجة (1530)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1037
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس، بریدہ، یزید بن ثابت، ابوہریرہ، عامر بن ربیعہ، ابوقتادہ اور سہل بن حنیف سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٤- بعض اہل علم کہتے ہیں کہ قبر پر نماز پڑھی جائے گی ١ ؎ یہ مالک بن انس کا قول ہے، ٥ - عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب میت کو دفن کردیا جائے اور اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تو اس کی نماز جنازہ قبر پر پڑھی جائے گی، ٦- ابن مبارک قبر پر نماز (جنازہ) پڑھنے کے قائل ہیں، ٧- احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: قبر پر نماز ایک ماہ تک پڑھی جاسکتی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اکثر سنا ہے سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سعد بن عبادہ کی والدہ کی نماز جنازہ ایک ماہ کے بعد قبر پر پڑھی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ لوگ باب کی حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ نبی اکرم ﷺ کے لیے خاص تھا کیونکہ مسلم کی روایت میں ہے «إن هذه القبور مملوؤة مظالم علی أهلها وأن اللہ ينورها لهم بصلاة عليهم» ان لوگوں کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی نماز قبر کو منور کرنے کے لیے تھی اور یہ دوسروں کی نماز میں نہیں پائی جاتی ہے لہٰذا قبر پر نماز جنازہ پڑھنا مشروع نہیں جمہور اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ قبر پر نماز جنازہ پڑھی آپ نے انہیں منع نہیں کیا ہے کیونکہ یہ جائز ہے اور اگر یہ آپ ہی کے لیے خاص ہوتا دوسروں کے لیے جائز نہ ہوتا تو آپ انہیں ضرور منع فرما دیتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٦١ (٨٥٧) والجنائز ٥ (١٢٤٧) و ٥٤ (١٤١٩) و ٥٥ (١٣٢٤) ٥٩ (١٣٢٦) و ٦٦ (١٣٣٦) و ٦٩ (١٣٤٠) صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٥٤) سنن ابی داود/ الجنائز ٥٨ (٣١٩٦) سنن النسائی/الجنائز ٩٤ (٢٠٢٥) سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٢ (١٥٣٠) (تحفة الأشراف: ٥٧٦٦) مسند احمد (١/٣٣٨) (صحیح)
1038Sunan At-Tirmidhi

قبر پر نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أُمَّ سَعْدٍ مَاتَتْ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ صَلَّى عَلَيْهَا، وَقَدْ مَضَى لِذَلِكَ شَهْرٌ .

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ ام سعد کا انتقال ہوگیا اور نبی اکرم ﷺ موجود نہیں تھے، جب آپ تشریف لائے تو ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ اس واقعہ کو ایک ماہ گزر چکا تھا۔

Sayyidina Saeed ibn Musayyab (RA) reported that Sayyidah Umm Sad died while the Prophet ﷺ was not there. When he came, he prayed over her, and a month had gone by since.

ضعيف، الإرواء (3 / 183 و 186)، // برقم (736 / 1 و 737) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1038
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨٧٢٢) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، سعید بن المسیب تابعی ہیں)
1039Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ کا نجاشی کی نماز جنازہ پڑھنا

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، وَحُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَاكُمْ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ ، قَالَ: فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ، وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ. وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ لَهُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم لوگوں سے فرمایا: تمہارے بھائی نجاشی ١ ؎ کا انتقال ہوگیا ہے۔ تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو ۔ تو ہم کھڑے ہوئے اور صف بندی کی جیسے میت کے لیے کی جاتی ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Imram ibn Husayn narrated that Allah’s Messenger ﷺ said to them, “Your brother, the Najashi (Negus) has died. So stand up and pray over him.” They stood up and arranged themselves in rows as are arranged for the dead, and they prayed over him (the funeral salah) as is prayed over the dead. [Ahmed19912, Muslim 953, Nisai 1942]

صحيح، ابن ماجة (1535)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1039
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث ابوقلابہ نے بھی اپنے چچا ابومہلب سے اور انہوں نے عمران بن حصین سے روایت کی ہے، ٣- ابومہلب کا نام عبدالرحمٰن بن عمرو ہے۔ انہیں معاویہ بن عمرو بھی کہا جاتا ہے، ٤- اس باب میں ابوہریرہ، جابر بن عبداللہ، ابوسعید، حذیفہ بن اسید اور جریر بن عبداللہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نجاشی حبشہ کے بادشاہ کا لقب تھا جیسے روم کے بادشاہ کا لقب قیصر اور ایران کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا، نجاشی کا وصفی نام اصحمہ بن ابجر تھا اسی بادشاہ کے دور میں مسلمانوں کی مکہ سے حبشہ کی جانب ہجرت ہوئی تھی، نبی اکرم ﷺ نے ٦ ھ کے آخر یا محرم ٧ ھ میں نجاشی کو عمرو بن امیہ ضمری کے ذریعہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کے مکتوب گرامی کا بوسہ لیا، اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور اپنے تخت شاہی سے نیچے اتر آیا اور جعفر بن ابی طالب ؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ساری تفصیل لکھ کر بھیج دی غزوہ تبوک ٩ ھ کے بعد ماہ رجب میں ان کی وفات ہوئی۔ ٢ ؎: اس سے بعض لوگوں نے نماز جنازہ غائبانہ کے جواز پر استدلال کیا ہے، نماز جنازہ غائبانہ کے سلسلہ میں مناسب یہ ہے کہ اگر میت کی نماز جنازہ نہ پڑھی گئی ہو تب پڑھی جائے اور اگر پڑھی جا چکی ہے تو مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا ہوگیا الا یہ کہ کوئی محترم اور صالح شخصیت ہو تو پڑھنا بہتر ہے یہی قول امام احمد بن حنبل شیخ الإسلام ابن تیمیہ اور ابن قیم رحہم اللہ کا ہے عام مسلمانوں کا جنازہ غائبانہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت نہیں ہے اور نہ ہی تعامل امت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الجنائز ٧٢ (١٩٧٧) سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٣ (١٥٣٥) (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٩) مسند احمد (٤/٤٣٩) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥٣) سنن النسائی/الجنائز ٥٧ (١٩٤٨) مسند احمد (٤/٤٣٣، ٤٤١، ٤٤٦) من غیر ہذا الوجہ۔
1040Sunan At-Tirmidhi

نماز جنازہ کی فضیلت

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ تَبِعَهَا حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ أَحَدُهُمَا، أَوْ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ . فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ، فَأَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ، وَفِي الْبَاب: عَنْ الْبَرَاءِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَثَوْبَانَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی نماز جنازہ پڑھی، اس کے لیے ایک قیراط ثواب ہے۔ اور جو اس کے ساتھ رہے یہاں تک کہ اس کی تدفین مکمل کرلی جائے تو اس کے لیے دو قیراط ثواب ہے، ان میں سے ایک قیراط یا ان میں سے چھوٹا قیراط احد کے برابر ہوگا ۔ تو میں نے ابن عمر سے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے مجھے ام المؤمنین عائشہ ؓ کے پاس بھیجا اور ان سے اس بارے میں پوچھوایا تو انہوں نے کہا: ابوہریرہ سچ کہتے ہیں۔ تو ابن عمر نے کہا: ہم نے بہت سے قیراط گنوا دیئے۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated that Allah’s Messenger said, ‘For him who prays the funeral prayer is a qirat. And for him who accompanies it till it is buried two qirats, each of which, or the smaller of them, is like Uhud.” The sub-narrator said: I mentioned tha Ito Ibn Umar (RA) and he sent an enquiry to Sayyidah Ayshah (RA) and she said, ‘Abu Hurayrah has spoken the truth.” So, Ibn Umar (RA) said, “Indeed, we have lost many qirats.’ [Ahmed7694, Muslim 945]

صحيح، ابن ماجة (1539)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1040
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ان سے کئی سندوں سے یہ مروی ہے، ٣- اس باب میں براء، عبداللہ بن مغفل، عبداللہ بن مسعود، ابو سعید خدری، ابی بن کعب، ابن عمر اور ثوبان ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٠٥٨) وانظر: مسند احمد (٢/٤٩٨، ٥٠٣) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/الإیمان ٣٥ (٤٧) والجنائز ٥٨ (١٣٢٥) صحیح مسلم/الجنائز ١٧ (٩٤٥) سنن النسائی/الجنائز ٧٩ (١٩٩٦) سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٤ (١٥٣٩) مسند احمد (٢/٢٣٣، ٢٤٦، ٢٨٠، ٣٢١، ٣٨٧، ٤٠١، ٤٣٠، ٤٥٨، ٤٧٥، ٤٩٣، ٥٢١) من غیر ہذا الوجہ۔
1041Sunan At-Tirmidhi

دوسرا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا الْمُهَزِّمِ، قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ عَشْرَ سِنِينَ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً وَحَمَلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ مِنْ حَقِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَأَبُو الْمُهَزِّمِ اسْمُهُ: يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ وَضَعَّفَهُ شُعْبَةُ.

عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں نے ابوالمہزم کو کہتے سنا کہ میں دس سال ابوہریرہ کے ساتھ رہا۔ میں نے انہیں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جو کسی جنازے کے ساتھ گیا اور اسے تین بار کندھا دیا تو، اس نے اپنا حق پورا کردیا جو اس پر تھا ۔

Abu Muhazzam said that he kept company of Abu Hurayrah for ten years. He heard him say: I heard Allah’s Messenger say, “He who follows a funeral and shoulders the coffin three times has, indeed fulfilled its right that was over him.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (1670) // ضعيف الجامع الصغير (5513) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1041
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اسے بعض نے اسی سند سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے، ٣- ابوالمہزم کا نام یزید بن سفیان ہے۔ شعبہ نے انہیں ضعیف کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٨٣٣) (ضعیف) (سند میں ابو المہزم ضعیف راوی ہیں)
1042Sunan At-Tirmidhi

جنازہ کے لئے کھڑا ہونا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا لَهَا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَجَابِرٍ، وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عامر بن ربیعہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجایا کرو یہاں تک کہ وہ تمہیں چھوڑ کر آگے نکل جائے یا رکھ دیا جائے ۔

Sayyidina Aamir ibn Rabi’ah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said: When you see a funeral, stand up for it till it leaves you behind or is placed down. [Nisai 1911, Ibn e Majah 1542]

صحيح، ابن ماجة (1542)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1042
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عامر بن ربیعہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، جابر، سہیل بن حنیف، قیس بن سعد اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٤٦ (١٣٠٧) و ٤٧ (١٣٠٨) صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٥٨) سنن ابی داود/ الجنائز ٤٧ (٣١٧٢) سنن النسائی/الجنائز ٤٥ (١٩١٦) سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٥ (١٥٤٢) (تحفة الأشراف: ٥٠٤١) مسند احمد (٣/٤٤٧) (صحیح)
1043Sunan At-Tirmidhi

جنازہ کے لئے کھڑا ہونا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الحلواني، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَا: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ عَنْ أَعْنَاقِ الرِّجَالِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَقَدَّمُونَ الْجَنَازَةَ فَيَقْعُدُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَيْهِمُ الْجَنَازَةُ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہوجایا کرو۔ اور جو اس کے ساتھ جائے وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you see a funeral, stand up. He who accompanies it, must not sit down till it is placed on the ground.” [Ahmed11195, Bukhari 1310, Muslim 959, Nisai 1910] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1043
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ٢- یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو کسی جنازے کے ساتھ جائے، وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ لوگوں کی گردنوں سے اتار کر رکھ نہ دیا جائے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے جاتے تھے اور جنازہ پہنچنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ اور یہی شافعی کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
*تخريج: صحیح البخاری/الجنائز ٤٨ (١٣١٠) صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٥٩) سنن النسائی/الجنائز ٤٤ (١٩١٥) و ٤٥ (١٩١٨) و ٨٠ (٢٠٠٠) مسند احمد (٣/٢٥، ٤١، ٥١) (تحفة الأشراف: ٤٤٢٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الجنائز ٤٧ (٣١٧٣) مسند احمد (٣/٨٥، ٩٧) من غیر ہذا الوجہ۔
1044Sunan At-Tirmidhi

جنازہ کے لئے کھڑا نہ ہونا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ وَاقِدٍ وَهُوَ: ابْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ ذُكِرَ الْقِيَامُ فِي الْجَنَائِزِ حَتَّى تُوضَعَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَعَدَ . وَفِي الْبَاب: عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِيهِ رِوَايَةُ أَرْبَعَةٍ مِنَ التَّابِعِينَ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ، وَهَذَا الْحَدِيثُ نَاسِخٌ لِلْأَوَّلِ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا، وقَالَ أَحْمَدُ: إِنْ شَاءَ قَامَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يَقُمْ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَامَ ثُمَّ قَعَدَ، وَهَكَذَا قَالَ: إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: مَعْنَى قَوْلِ عَلِيٍّ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنَازَةِ ثُمَّ قَعَدَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ قَامَ ثُمَّ تَرَكَ ذَلِكَ بَعْدُ فَكَانَ لَا يَقُومُ إِذَا رَأَى الْجَنَازَةَ

. علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ ان سے جنازے کے لیے جب تک کہ وہ رکھ نہ دیا جائے کھڑے رہنے کا ذکر کیا گیا تو علی نے کہا: رسول اللہ ﷺ کھڑے رہتے تھے پھر آپ بیٹھنے لگے تھے۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) mentioned standing up for the funeral till it was placed down. He said, “Allah’s Messenger ﷺ stood up and then sat down.” (or He was to stand up, but afterwards kept sitting). [Ahmed1094, Muslim 962, Abu Dawud 3125, Nisai 1995, Ibn e Majah 1544] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1544)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1044
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس میں چار تابعین کی روایت ہے جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں، ٣- شافعی کہتے ہیں: اس باب میں یہ سب سے زیادہ صحیح روایت ہے۔ یہ حدیث پہلی حدیث جب تم جنازہ دیکھو، تو کھڑے ہو جاؤ کی ناسخ ہے، ٤- اس باب میں حسن بن علی اور ابن عباس سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٦- احمد کہتے ہیں کہ چاہے تو کھڑا ہوجائے اور چاہے تو کھڑا نہ ہو۔ انہوں نے اس بات سے دلیل پکڑی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کھڑے ہوجایا کرتے تھے پھر بیٹھے رہنے لگے۔ اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا بھی قول ہے، ٧- علی ؓ کے قول (رسول اللہ ﷺ جنازے کے لیے کھڑے ہوجایا کرتے تھے پھر آپ بیٹھے رہنے لگے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جنازہ دیکھتے تو کھڑے ہوجاتے پھر بعد میں آپ اس سے رک گئے۔ جب کوئی جنازہ دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے) ۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٥ (٩٦٢) سنن ابی داود/ الجنائز ٤٧ (٣١٧٥) سنن النسائی/الجنائز ٨١ (٢٠٠١، ٢٠٠٢)، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٥ (١٥٤٤) (تحفة الأشراف: ١٠٢٧٦) (صحیح)
1045Sunan At-Tirmidhi

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ لحد ہمارے لئے ہیں اور شق دوسروں کے لئے ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَنَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، ويوسف بن موسى القطان البغدادي، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَكَّامُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا . وَفِي الْبَاب: عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بغلی قبر ہمارے لیے ہے اور صندوقی قبر اوروں کے لیے ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated : The Prophet ﷺ said “The lahd (niche) is for us while the shaqq (split) is for others. [Nisai 2005, Abu Dawud 3208, Ibn e Majah 1554] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (1554)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1045
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں جریر بن عبداللہ، عائشہ، ابن عمر اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اہل کتاب کے لیے ہے، مقصود یہ ہے کہ بغلی قبر افضل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ «اللحد لنا» کا مطلب ہے «اللحد لي» یعنی بغلی قبر میرے لیے ہے جمع کا صیغہ تعظیم کے لیے ہے یا «اللحد لنا» کا مطلب «اللحد اختيارنا» ہے یعنی بغلی قبر ہماری پسندیدہ قبر ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ صندوقی قبر مسلمانوں کے لیے نہیں ہے کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں مدینہ میں قبر کھودنے والے دو شخص تھے ایک بغلی بنانے والا دوسرا شخص صندوقی بنانے والا اگر صندوقی ناجائز ہوتی تو انہیں اس سے روک دیا جاتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجنائز ٦٥ (٣٢٠٨) سنن النسائی/الجنائز ٨٥ (٢٠١١) سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٩ (١٥٥٤) (تحفة الأشراف: ٥٥٤٢) (صحیح)