Sunan At-Tirmidhi 1043

جنازوں کا بیان

1043Sunan At-Tirmidhi

جنازہ کے لئے کھڑا ہونا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الحلواني، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ، فَقُومُوا لَهَا فَمَنْ تَبِعَهَا فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَا: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَا يَقْعُدَنَّ حَتَّى تُوضَعَ عَنْ أَعْنَاقِ الرِّجَالِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّهُمْ كَانُوا يَتَقَدَّمُونَ الْجَنَازَةَ فَيَقْعُدُونَ قَبْلَ أَنْ تَنْتَهِيَ إِلَيْهِمُ الْجَنَازَةُ، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو اس کے لیے کھڑے ہوجایا کرو۔ اور جو اس کے ساتھ جائے وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ رکھ نہ دیا جائے ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you see a funeral, stand up. He who accompanies it, must not sit down till it is placed on the ground.” [Ahmed11195, Bukhari 1310, Muslim 959, Nisai 1910] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1043
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابو سعید خدری کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ٢- یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جو کسی جنازے کے ساتھ جائے، وہ ہرگز نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ لوگوں کی گردنوں سے اتار کر رکھ نہ دیا جائے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ وہ جنازے کے آگے جاتے تھے اور جنازہ پہنچنے سے پہلے بیٹھ جاتے تھے۔ اور یہی شافعی کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
*تخريج: صحیح البخاری/الجنائز ٤٨ (١٣١٠) صحیح مسلم/الجنائز ٢٤ (٩٥٩) سنن النسائی/الجنائز ٤٤ (١٩١٥) و ٤٥ (١٩١٨) و ٨٠ (٢٠٠٠) مسند احمد (٣/٢٥، ٤١، ٥١) (تحفة الأشراف: ٤٤٢٠) (صحیح) وأخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الجنائز ٤٧ (٣١٧٣) مسند احمد (٣/٨٥، ٩٧) من غیر ہذا الوجہ۔