عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا: آپ ﷺ کے قول: حاضر لباد کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے۔
Ibn Tawus narrated from his father that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade a city-dweller to sell for a Bedouin." (Sahih) I (Tawus) said to Ibn Abbas (RA) : "What is meant by the words: A city-dweller selling for a Bedouin? He said: "He should not be a broker for him.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے نہ لیا کرو، اگر کوئی اس طرح خریداری کرلے، تو بازار میں آنے کے بعد صاحب مال کو اختیار ہوگا، چاہے تو اس بیع کو باقی رکھے اور چاہے تو فسخ (منسوخ) کر دے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ said: “Do not meet the traders on the way, and whoever meets any of them and buys from him, the vendor has the choice of annulling the transaction when he comes to the marketplace." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٤٥٦٥)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ٧١ (٢١٦٢)، صحیح مسلم/البیوع ٥ (١٥١٩)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٥٠٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٨٤، ٤٠٣)، سنن الدارمی/البیوع ٣٢ (٢٦٠٨) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے باہر سے آنے والے سامان تجارت کو بازار میں پہنچنے سے پہلے آگے جا کر خرید لینے سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade meeting traders on the way." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: تلقي جلب کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ باہر والوں کو شہر کا بھاؤ معلوم نہیں ہوتا، تو یہ شہری تاجر پہلے سے جا کر ان سے مل کر ان کا مال سستے دام سے خرید لیتا ہے، جب وہ شہر میں آتے ہیں اور دام معلوم کرتے ہیں تو ان کو افسوس ہوتا ہے، یہ اس لئے منع ہوا کہ اس میں باہر والے تاجروں کا نقصان ہے، اور شہر والوں کا بھی، باہر والوں کا تو ظاہر ہے، شہر والوں کا نقصان اس سے طرح کہ شاید وہ شہر میں آتے تو سستا بیچتے، اب اس شہر والے نے ان باہر سے آنے والوں کا مال لے لیا، جس کو وہ آہستہ آہستہ مہنگا کر کے بیچے گا۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو آدمی ایک مجلس میں خریدو فروخت کریں، تو دونوں میں سے ہر ایک کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں، یا ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو اختیار نہ دیدے، پھر اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا پھر بھی ان دونوں نے بیع پکی کرلی تو بیع واجب ہوگئی، اس طرح بیع ہوجانے کے بعد اگر وہ دونوں مجلس سے جدا ہوگئے تب بھی بیع لازم ہوگئی ١ ؎۔
It was narrated from Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: "When two men enter into a transaction, each of them has the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted and are still together, or one of them has given the option or choice to the other. Once he has accepted the terms of the other, then the transaction is binding. If they part after concluding the transaction and neither of them has rescinded the transaction, then the transaction is binding." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جدا ہونے سے بدن کا جدا ہونا مراد ہے، اور اس حدیث کے راوی ابن عمر ؓ نے بھی یہی معنی سمجھا تھا، دوسری روایت میں ہے کہ ابن عمر ؓ جب کسی بیع کو پورا کرنا چاہتے تو عقد کے بعد چند قدم چلتے تاکہ بیع پکی ہوجائے، اور اگر تفرق اقوال مراد ہوتا یعنی ایجاب و قبول کا ہوجانا تو اس حدیث کا بیان کرنے کا کیا مقصد، اس لئے جب تک ایجاب و قبول نہ ہوں بیع تمام ہی نہیں ہوئی، تو وہ کیونکر نافذ ہوگی۔
ابوبرزہ اسلمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بائع اور مشتری (بیچنے اور خریدنے والے) جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں دونوں کو (بیع کے منسوخ کرنے کا) اختیار ہے ۔
It was narrated from Abu Barzah Al-Aslami that the Messener of Allah ﷺ said: “The two parties to a transaction have the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted.” (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٣٥ (٣٤٥٧)، (تحفة الأشراف: ١١٥٩٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٢٥) (صحیح )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو (بیع منسوخ کرنے کا) اختیار ہے، جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوجائیں ۔
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah ﷺ said. "The two parties to a transaction have the choice (of annulling it) so long as they have not yet parted." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/البیوع ٨ (٤٤٨٦)، (تحفة الأشراف: ٤٦٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢، ١٧، ٢١، ٢٢) (صحیح) (حسن بصری نے سمرہ ؓ سے صرف حدیث عقیقہ سنی ہے، اس لئے سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی (دیہاتی) سے ایک بوجھ چارا خریدا، پھر جب بیع مکمل ہوگئی، تو آپ نے اس سے فرمایا: تجھ کو اختیار ہے (بیع کو باقی رکھ یا منسوخ کر دے) تو دیہاتی نے کہا: اللہ آپ کی عمردراز کرے میں بیع کو باقی رکھتا ہوں ١ ؎۔
It was narrated that Jâbir bin ‘Abdullâh said: “The Messenger of Allah ﷺ bought a load of fodder from a Bedouin man. When the transaction was concluded, the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Choose (either to go ahead or to cancel the transaction).’ The Bedouin said: ‘May Allah grant you a long life of good transactionf” (Da’if)
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسی صورت میں جب طرفین بیع کو اختیار کرلیں تو خیار مجلس باقی نہ رہے گا، جیسے اوپر کی حدیث میں گزرا۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیع بیچنے والے اور خریدنے والے کی باہمی رضا مندی سے منعقد ہوتی ہے ۔
It was narrated from Dawud bin Salih Al-Madani that his father said. I heard Abu Saeed Al-Khudri say. "The Messenger of Allah ﷺ said. Transactions may only be done by mutual consent.": (Sahih)
عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ نے اشعث بن قیس ؓ کے ہاتھ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام بیچا، پھر دونوں میں قیمت کے بارے میں اختلاف ہوگیا، ابن مسعود ؓ کا کہنا تھا کہ میں نے آپ سے اسے بیس ہزار میں بیچا ہے، اور اشعث بن قیس ؓ نے کہا کہ میں نے اسے دس ہزار میں خریدا ہے، اس پر عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: اگر چاہیں تو میں ایک حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، اشعث ؓ نے کہا: بیان کریں، عبداللہ بن مسعود ؓ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جب بیچنے والے اور خریدنے والے اختلاف کریں اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہ ہوں، اور بیچی ہوئی چیز بعینہٖ موجود ہو تو بیچنے والے ہی کی بات معتبر ہوگی، یا دونوں بیع فسخ کردیں ، انہوں نے کہا: میں مناسب یہی سمجھتا ہوں کہ بیع فسخ کر دوں، چناچہ انہوں نے بیع فسخ کردی۔
It was narrated from Qasim bin Abdur-Rahman from his father that Abdullah bin Masud sold one of the slaves from the stateil to Ashath bin Qa is , and they differed concerning the price. Ibn Mas ud said. "I sold him to you for twenty thousand," but Ashath bin Qais said. "I bought him from you for ten thousand." Abdullah said. "If you want, I will tell you a Hadith which I heard from the Messenger of Allah ﷺ " He said. "Tell me it." He said: "I heard the Messenger of Allah ﷺ say: If two parties to a transaction differ, and they have no proof, and the sale item remains (unredeemed), then what the seller says is valid. Or they may cancel the transaction," He said: "I want to cancel the transaction," And he cancelled it. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٤ (٣٥١٢)، (تحفة الأشراف: ٩٣٥٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع ٤٣ (١٢٧٠)، سنن النسائی/البیوع ٨٠ (٤٦٥٢)، مسند احمد (١/٤٦٦) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٣٢٢ و سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٧٨٩ )
حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایک چیز خریدنا چاہتا ہے، اور وہ میرے پاس نہیں ہے، کیا میں اس کو بیچ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کو نہ بیچو ۔
It was narrated that Hakim bin Hizam said: "I said: O Messenger of Allah, a man is asking me to sell him something that I do not possess. Shall I sell it to him? He said: Do not sell what is not with you. (Hasan)
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں، اور نہ اس چیز کا نفع جائز ہے جس کے تم ضامن نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: It is not permissible to sell something that is not with you, nor to profit from what you do not possess. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر وہ چیز برباد ہوجائے تو تمہارا کچھ نقصان نہ ہو، ایسی چیز کا نفع اٹھانا بھی جائز نہیں، یہ شرع کا ایک عام مسئلہ ہے کہ نفع ہمیشہ ضمانت کے ساتھ ملتا ہے، جو شخص کسی چیز کا ضامن ہو وہی اس کے نفع کا مستحق ہے، اور اس کی مثال یہ ہے کہ ابھی خریدار نے بیع پر قبضہ نہیں کیا اور وہ چیز خریدنے والے کی ضمانت میں داخل نہیں ہوئی، اب خریدنے والا اگر اس کو قبضے سے پہلے کسی اور کے ہاتھ بیچ ڈالے اور نفع کمائے، تو بیع جائز اور صحیح نہیں ہے۔
عتاب بن اسید ؓ کہتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو مکہ بھیجا، تو اس چیز کے نفع سے منع کیا جس کے وہ ضامن نہ ہوں۔
It was narrated from Ata that "Attab bin Asid said that when the Messenger of Allah ﷺ sent him to Makkah, he forbade him from profiting off of what he did not possess. (Da’if)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٧٤٩) (صحیح) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں، اور عطاء کی ملاقات عتاب ؓ سے نہیں ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ١٢١٢ )
عقبہ بن عامر ؓ یا سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ایک چیز دو آدمیوں کے ہاتھ بیچی، تو جس کے ہاتھ پہلے بیچی اس کو وہ چیز ملے گی ۔
It was narrated from Uqbah bin Amir or Samurah bin Jundab that the Messenger of Allah ﷺ said: "Any man who sells to two men, it is for the one who was first." (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٢٢ (٢٠٨٨)، سنن الترمذی/النکاح ٢٠ (١١١٠)، سنن النسائی/البیوع ٩٤ (٤٦٨٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٢، ٩٩١٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨، ١١، ١٢، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٥ (٢٢٣٩) (ضعیف) (سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع سمرة ؓ سے صرف عقیقہ کی حدیث کا ہے، دوسری احادیث کا نہیں )
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب دو اختیار رکھنے والے ایک چیز کی بیع کریں تو جس نے پہلے بیع کی، اس کا اعتبار ہوگا ۔
It was narrated from Samurah that the Messenger of Allah ﷺ said: “If two (separate) authorized persons make a sale (of the same thing), then the first transaction is the one that is valid” (Hasan)
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٢، ٩٩١٨) (ضعیف) (سند میں حسن بصری ہیں جن کا سماع سمرة ؓ سے صرف عقیقہ کی حدیث کا ہے، دوسری احادیث کا نہیں )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بیعانہ (عربان کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ forbade the deal involving earnest money. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٦٩ (٣٥٠٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١ (١)، مسند احمد (٢/١٨٣) (ضعیف) (یہ بلاغات مالک میں سے ہے، عمرو بن شعیب سے روایت میں واسطہ کا ذکر نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (عربان کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ (ابن ماجہ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: (عربان یہ ہے کہ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ forbade the deal involving earnest money. (Hasan) Abu Abdullah said. Earnest-money refers to when a man buys an animal for one hundred Dinar, then he gives the seller two Dinar in advance and says: "If I do not buy the animal, then the two Dinar are yours." And it was said that it refers, and Allah knows best, to when a man buys something, and gives the seller a Dirham or less or more, and says: "If I take it (all well and good), and if I do not, then the Dirham is yours."And it was said that it refers, and Allah knows best, to when a man buys something, and gives the seller a Dirham or less or more, and says: “If I take it (all well and good), and if I do not, then the Dirham is yours.”
Notes · وضاحت
١ ؎: بیع عربون: یعنی بیع کے وقت خریدار کی طرف سے بیچنے والے کو دی جانے والی ایک مخصوص رقم جس سے بیچنے والا اپنے سامان کو خریدنے والے سے بیچنے کے بدلے لیتا ہے، اور اسے عرف عام میں بیعانہ کہتے ہیں، اس سے متعلق اس باب کی حدیث ضعیف ہے، علماء کے درمیان بیعانہ کی یہ شکل کہ اگر خریدار نے سامان نہیں خریدا تو بیعانہ کی دی ہوئی رقم بیچنے والے کی ہوجائے گی جس کو وہ خریدنے والے کو واپس نہیں کرے گا، مالک، شافعی اور ابوحنیفہ کے یہاں یہ ناجائز ہے، امام احمد اس بیع کی صحت کے قائل ہیں، ان کی دلیل عمر ؓ کی روایت ہے اور عبداللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث ضعیف ہے، اور متفقہ طور پر صحیح قیاس کی دلیل کے اعتبار سے بھی یہ صحیح ہے کہ اگر خریدار سامان کو ناپسند کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ سامان کو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کچھ دے دے، اس صورت پر قیاس کرتے ہوئے بیعانہ نہ واپس کرنے کی یہ صورت صحیح ہوگی، امام احمد کہتے ہیں کہ یہ بیعانہ اسی کے ہم معنی ہے۔ یہ واضح رہے کہ بیعانہ کی رقم بیچنے والے کو بلاعوض نہیں مل رہی ہے، اس لیے کہ یہاں پر فروخت شدہ چیز کے انتظار کے عوض میں یہ رقم رکھی گئی ہے، اور یہ سامان خریدار کے خریدنے تک ایسے ہی پڑا رہے گا، اور اس مدت میں دوسرے شخص سے بیع و فروخت کی بات نہ ہو سکے گی، مجمع الفقہ الإسلامی، مکہ مکرمہ نے محرم ( ١٤١٤ ) ہجری میں اس بیع کی بابت یہ قرارداد صادر کی ہے کہ اگر خریدنے والے نے بیچنے والے سے سامان نہیں خریدا تو بیعانہ کی رقم کا مالک بیچنے والا ہوجائے گا، مجلس نے اس بیع کے جواز کی بات اس صورت میں کہی ہے کہ انتظار کا زمانہ مقرر ہو، اور یہ کہ بیعانہ کی رقم بیع کے نافذ ہونے کی صورت میں قیمت کا ایک حصہ شمار ہوگی، اور اگر خریدنے والا سامان نہ خریدے تو یہ رقم بیچنے والے کا حق ہوگی۔ (ملاحظہ ہو: توضیح الأحکام من بلوغ المرام، تالیف شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن البسام، ٤ /٢٩٣ )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٧٢٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١ (١) مسند احمد (٢/ ١٨٣) (ضعیف) (سند میں حبیب کاتب مالک اور عبد اللہ أسلمی دونوں ضعیف راوی ہیں )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر اور بیع حصاۃ سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said; "The Messenger of Allah ﷺ forbade Gharar transactions and Hasah transactions." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: بیع غرر: معدوم و مجہول چیز کی بیع ہے یا ایسی چیز کی بیع ہے جسے خریدنے والے کے حوالہ کرنے پر بیچنے والے کو قدرت نہ ہو، جیسے بھاگے ہوئے غلام کی بیع، فضا میں اڑتے ہوئے پرندے کی بیع، یا مچھلی کی بیع جو پانی میں ہو، اور دودھ کی بیع جو جانور کے تھن میں ہو وغیرہ وغیرہ۔ بیع حصاۃ کی تین صورتیں ہیں، ایک یہ کہ بیچنے والا یہ کہے کہ میں یہ کنکری پھینکتا ہوں جس چیز پر یہ گرے اسے میں نے تمہارے ہاتھ بیچ دیا، یا جہاں تک یہ کنکری جائے اتنی دور کا سامان میں نے بیچ دیا، دوسرے یہ کہ بیچنے والا یہ شرط لگائے کہ جب تک میں کنکری پھینکوں تجھے اختیار ہے اس کے بعد اختیار نہ ہوگا، تیسرے یہ کہ خود کنکری پھینکنا ہی بیع قرار پائے مثلاً یوں کہے کہ جب میں اس کپڑے پر کنکری ماروں تو یہ اتنے میں بک جائے گا۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع غرر سے منع کیا ہے۔
It was narrated that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade Gharar transactions." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٩٦٧)، ومصباح الزجاجة: ٧٧١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٠٢) (صحیح) (سند میں ایوب بن عتبہ ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ ابوہریرہ ؓ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
جانوروں کا حمل خریدنا یا تھنوں میں جو دودھ ہے اسی حالت میں وہ خریدنا یا غوطہ خور کے ایک مرتبہ کے غوطہ میں جو بھی آئے (شکار کرنے سے قبل) اسے خریدنا منع ہے۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، اور غنیمت (لوٹ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے (منع کیا) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آجائے، اور غوطہٰ خور کے غوطہٰ کو خریدنے سے (منع کیا) ١ ؎۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling what is in the wombs of cattle until they give birth, and selling what is in their udders unless it is measured out, and selling a slave who has fled, and selling spoils of war untii it has been distributed, and selling Sadaqah until it has been received, and what a diver is going to bring up." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: غوطہ خور کے غوطہ کو خریدنے کی صورت یہ ہے کہ غوطہ خور خریدنے والے سے کہے کہ میں غوطہ لگا رہا ہوں اس بار جو کچھ میں نکالوں گا وہ اتنی قیمت میں تیرا ہوگا یہ تمام بیعیں اس لئے ناجائز ہیں کہ ان سب میں غرر (دھوکا) اور جہالت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٤ (١٥٦٣) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٤٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢) (ضعیف) (سند میں محمد بن ابراہیم باہلی مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٢٩٣ )