جو چیز پاس نہ ہو اس کی بیع منع ہے اور جو چیز اپنی ضمان میں نہ ہو اس کا نفع منع ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ بْنَ مَاهَكَيُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَسْأَلُنِي الْبَيْعَ وَلَيْسَ عِنْدِي أَفَأَبِيعُهُ؟، قَالَ: لَا تَبِعْ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ.
حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ایک آدمی مجھ سے ایک چیز خریدنا چاہتا ہے، اور وہ میرے پاس نہیں ہے، کیا میں اس کو بیچ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہیں ہے اس کو نہ بیچو ۔
It was narrated that Hakim bin Hizam said: "I said: O Messenger of Allah, a man is asking me to sell him something that I do not possess. Shall I sell it to him? He said: Do not sell what is not with you. (Hasan)