Sunan Ibne-Majah 2188

تجارت ومعاملات کا بیان

2188Sunan Ibne-Majah

جو چیز پاس نہ ہو اس کی بیع منع ہے اور جو چیز اپنی ضمان میں نہ ہو اس کا نفع منع ہے۔

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ بَيْعُ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ، وَلَا رِبْحُ مَا لَمْ يُضْمَنْ.

عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو چیز تمہارے پاس نہ ہو اس کا بیچنا جائز نہیں، اور نہ اس چیز کا نفع جائز ہے جس کے تم ضامن نہیں ١ ؎۔

It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ said: It is not permissible to sell something that is not with you, nor to profit from what you do not possess. (Sahih)

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اگر وہ چیز برباد ہوجائے تو تمہارا کچھ نقصان نہ ہو، ایسی چیز کا نفع اٹھانا بھی جائز نہیں، یہ شرع کا ایک عام مسئلہ ہے کہ نفع ہمیشہ ضمانت کے ساتھ ملتا ہے، جو شخص کسی چیز کا ضامن ہو وہی اس کے نفع کا مستحق ہے، اور اس کی مثال یہ ہے کہ ابھی خریدار نے بیع پر قبضہ نہیں کیا اور وہ چیز خریدنے والے کی ضمانت میں داخل نہیں ہوئی، اب خریدنے والا اگر اس کو قبضے سے پہلے کسی اور کے ہاتھ بیچ ڈالے اور نفع کمائے، تو بیع جائز اور صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٧٠ (٣٥٠٤)، سنن الترمذی/البیوع ١٩ (١٢٣٤)، سنن النسائی/البیوع ٥٨ (٤٦١٥)، (تحفة الأشراف: ٨٦٦٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٧٤، ١٧٨، ٢٠٥)، سنن الدارمی/البیوع ٢٦ (٢٦٠٢) (حسن صحیح )