Sunan Ibne-Majah 2177

تجارت ومعاملات کا بیان

2177Sunan Ibne-Majah

شہر والاباہروالے کا مال نہ بیچے۔

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا قَوْلُهُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، قَالَ: لَا يَكُونُ سِمْسَارًا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شہری کو دیہاتی کا مال بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا: آپ ﷺ کے قول: حاضر لباد کا کیا مفہوم ہے؟ تو انہوں نے کہا: بستی والا باہر والے کا دلال نہ بنے۔

Ibn Tawus narrated from his father that Ibn Abbas said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade a city-dweller to sell for a Bedouin." (Sahih) I (Tawus) said to Ibn Abbas (RA) : "What is meant by the words: A city-dweller selling for a Bedouin? He said: "He should not be a broker for him.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٦٨ (٢١٥٨)، ٧١ (٢١٦٣)، الإجارة ١٤ (٢٢٧٤)، صحیح مسلم/البیوع ٦ (١٥٢١)، سنن ابی داود/البیوع ٤٧ (٣٤٣٩)، سنن النسائی/البیوع ١٦ (٤٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ٥٧٠٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٣٦٨) (صحیح )