بیع میں بیعانہ کا حکم۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَنَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بیعانہ (عربان کی بیع) سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather that the Prophet ﷺ forbade the deal involving earnest money. (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/البیوع ٦٩ (٣٥٠٢)، (تحفة الأشراف: ٨٨٢٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع ١ (١)، مسند احمد (٢/١٨٣) (ضعیف) (یہ بلاغات مالک میں سے ہے، عمرو بن شعیب سے روایت میں واسطہ کا ذکر نہیں ہے، اس لئے سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ ضعیف ہے )