Sunan Ibne-Majah 2196

تجارت ومعاملات کا بیان

2196Sunan Ibne-Majah

جانوروں کا حمل خریدنا یا تھنوں میں جو دودھ ہے اسی حالت میں وہ خریدنا یا غوطہ خور کے ایک مرتبہ کے غوطہ میں جو بھی آئے (شکار کرنے سے قبل) اسے خریدنا منع ہے۔

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا جَهْضَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَمَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ وَعَمَّا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ، وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ، وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ، وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ، وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کے پیٹ میں جو ہو اس کے خریدنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ جن دے، اور جو ان کے تھنوں میں ہے اس کے خریدنے سے بھی منع فرمایا ہے الا یہ کہ اسے دوھ کر اور ناپ کر خریدا جائے، اسی طرح بھاگے ہوئے غلام کو خریدنے سے، اور غنیمت (لوٹ) کا مال خریدنے سے بھی منع فرمایا یہاں تک کہ وہ تقسیم کردیا جائے اور صدقات کو خریدنے سے (منع کیا) یہاں تک کہ وہ قبضے میں آجائے، اور غوطہٰ خور کے غوطہٰ کو خریدنے سے (منع کیا) ١ ؎۔

It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ forbade selling what is in the wombs of cattle until they give birth, and selling what is in their udders unless it is measured out, and selling a slave who has fled, and selling spoils of war untii it has been distributed, and selling Sadaqah until it has been received, and what a diver is going to bring up." (Hasan)

Notes · وضاحت
١ ؎: غوطہ خور کے غوطہ کو خریدنے کی صورت یہ ہے کہ غوطہ خور خریدنے والے سے کہے کہ میں غوطہ لگا رہا ہوں اس بار جو کچھ میں نکالوں گا وہ اتنی قیمت میں تیرا ہوگا یہ تمام بیعیں اس لئے ناجائز ہیں کہ ان سب میں غرر (دھوکا) اور جہالت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ١٤ (١٥٦٣) مختصراً، (تحفة الأشراف: ٤٠٧٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٢) (ضعیف) (سند میں محمد بن ابراہیم باہلی مجہول راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ١٢٩٣ )