ام المؤمنین ام حبیبہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ ابن حجش کے نکاح میں تھیں، ان کا انتقال ہوگیا اور وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے سر زمین حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی تو نجاشی (شاہ حبش) نے ان کا نکاح رسول اللہ ﷺ سے کردیا، اور وہ انہیں لوگوں کے پاس (ملک حبش ہی میں) تھیں۔
Ibn Az-Zubayr reported on the authority of Umm Habibah that she was the wife of Ibn Jahsh, but he died, He was among those who migrated to Abyssinia. Negus then married her to the Messenger of Allah ﷺ .
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/النکاح ٦٦ (٣٣٥٢)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٥٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٢٧) (صحیح )
معقل بن یسار کہتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی جس کے نکاح کا پیغام میرے پاس آیا، اتنے میں میرے چچا زاد بھائی آگئے تو میں نے اس کا نکاح ان سے کردیا، پھر انہوں نے اسے ایک طلاق رجعی دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوگئی، پھر جب اس کے لیے میرے پاس ایک اور نکاح کا پیغام آگیا تو وہی پھر پیغام دینے آگئے، میں نے کہا: اللہ کی قسم میں کبھی بھی ان سے اس کا نکاح نہیں کروں گا، تو میرے ہی متعلق یہ آیت نازل ہوئی: وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو (سورۃ البقرہ: ٢٣٢) راوی کا بیان ہے کہ میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیا، اور ان سے اس کا نکاح کردیا۔
Maqil bin Yasar said “I had a sister and I was asked to give her in marriage. My cousin came to me and I married to him. He then divorced her one revocable divorce. He abandoned her till her waiting period passed. When I was asked to give her in marriage, he again came to me and asked her in marriage. ” Thereupon I said o him “No, by Allaah, I will never marry her to you. Then the following verse was revealed about my case “And when ye have divorced women and they reach their term, place not difficulties in the way of their marrying their husbands. ”
سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس عورت کا نکاح دو ولی کردیں تو وہ اس کی ہوگی جس سے پہلے نکاح ہوا ہے اور جس شخص نے ایک ہی چیز کو دو آدمیوں سے فروخت کردیا تو وہ اس کی ہے جس سے پہلے بیچی گئی ۔
Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said: Any woman who is married by two guardians (to two different men) belongs to the first woman who is married by two guardians (to two different men) belongs to the first of them and anything sold by a man to two persons belongs to the first of them.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/النکاح ٢٠ (١١١٠)، سنن النسائی/البیوع ٩٤ (٤٦٨٦)، سنن ابن ماجہ/التجارات ٢١ (٢١٩٠)، ( تحفة الأشراف: ٤٥٨٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٨، ١١، ١٢، ١٨، ٢٢)، سنن الدارمی/النکاح ١٥ (٢٢٣٩) (ضعیف) ( حسن+بصری مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے آیت کریمہ: لا يحل لکم أن ترثوا النساء کر ها ولا تعضلوهن تمہارے لیے حلال نہیں کہ تم عورتوں کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھو اور نہ ہی تم انہیں نکاح سے اس لیے روک رکھو کہ جو تم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں کچھ لے لو (سورۃ البقرہ: ١٩) کی تفسیر کے سلسلہ میں مروی ہے کہ جب آدمی کا انتقال ہوجاتا تو اس (آدمی) کے اولیا یہ سمجھتے تھے کہ اس عورت کے ہم زیادہ حقدار ہیں بہ نسبت اس کے ولی کے، اگر وہ چاہتے تو اس کا نکاح کردیتے اور اگر نہ چاہتے تو نہیں کرتے، چناچہ اسی سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : About the Quranic verse: It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen), nor (that) ye should put constraint upon them. When a man died, his relatives had more right to his wife then her own guardian. If any one of them wanted to marry her, he did so; or they married her (to some other person), and if they did not want to marry her, they did so. So this verse was revealed about the matter.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی مرجائے تو اس کی عورت کو اپنے نکاح کا اختیار ہے، میت کے رشتہ داروں کو اسے زبردستی اپنے نکاح میں لینا جائز نہیں، اور نہ انہیں یہ حق ہے کہ وہ اسے نکاح سے روکیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ آیت کریمہ: لا يحل لکم أن ترثوا النساء کر ها ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن إلا أن يأتين بفاحشة مبينة اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہوجائے تو تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو (سورۃ البقرہ: ٢٣٢) کے متعلق مروی ہے کہ ایسا ہوتا تھا کہ آدمی اپنی کسی قرابت دار عورت کا وارث ہوتا تو اسے دوسرے سے نکاح سے روکے رکھتا یہاں تک کہ وہ یا تو مرجاتی یا اسے اپنا مہر دے دیتی تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں حکم نازل فرما کر ایسا کرنے سے منع کردیا۔
Ibn Abbas explained the Quranic verse It is not lawful for you forcibly to inherit the woman (of your deceased kinsmen) nor (that) ye should put constraint upon them that ye may take away a part of that which ye have given them, unless they be guilty of flagrant lewdness and said “This means that a man used to inherit a relative woman. He prevented her from marriage till she died or returned her dower to her. Hence, Allaah prohibited that practice.
ضحاک سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نصیحت فرمائی۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Al Dahhak to the same effect through a different chain of narrators. This version has Allaah prohibited that (practice).
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: غیر کنواری عورت کا نکاح نہ کیا جائے جب تک اس سے پوچھ نہ لیا جائے، اور نہ ہی کنواری عورت کا نکاح بغیر اس کی اجازت کے کیا جائے ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کی اجازت کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: (اس کی اجازت یہ ہے کہ) وہ خاموش رہے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying “ A woman who has been previously married should not be married until her permission is asked nor should a virgin be married without her permission. “They (the people) asked “What is her permission, Messenger of Allah ﷺ ? He replied “it is by her keeping silence. ”
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کے نکاح کے لیے اجازت لی جائے گی، اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو یہی اس کی اجازت ہے اور اگر انکار کر دے تو اس پر زبردستی نہیں ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: An orphan virgin girl should be consulted about herself; if she says nothing that indicates her permission, but if she refuses, the authority of the guardian cannot be exercised against her will. The full information rest with the tradition narrated by Yazid. Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted in a similar way by Abu Khalid Sulaiman bin Hayyan and Muadh bin Muadh on the authority of Muhammad bin Amr.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٠١٤، ١٥١١٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ١٩ (١١٠٩)، سنن النسائی/النکاح ٣٦ (٣٢٧٢)، مسند احمد (٢/٢٥٩، ٣٨٤) (حسن صحیح )
اس سند سے بھی محمد بن عمرو سے اسی طریق سے یہی حدیث یوں مروی ہے اس میں فإن بکت أو سکتت اگر وہ رو پڑے یا چپ رہے یعنی بكت (رو پڑے) کا اضافہ ہے، ابوداؤد کہتے ہیں بكت (رو پڑے) کی زیادتی محفوظ نہیں ہے یہ حدیث میں وہم ہے اور یہ وہم ابن ادریس کی طرف سے ہے یا محمد بن علاء کی طرف سے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعمرو ذکوان نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے اس میں ہے انہوں نے کہا اللہ کے رسول! باکرہ تو بولنے سے شرمائے گی، آپ ﷺ نے فرمایا: اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی ہے ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted through a different chain of narrators by Muhammad bin Amr. This version adds “If she weeps or keeps silence”. The narrator added the word “weeps”. Abu Dawud said: The word weeps is not guarded. This is a misunderstanding of the tradition on the part of the narrator Ibn Idris or Muhammad bin al-Ata. Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Abu Amr Dhakwan on the authority of Aisha (RA) who said: A virgin is ashamed of speaking, Messenger of Allah. He said: Her silence is her acceptance.
Takhrij · تخریج
حدیث محمد بن العلاء قد تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥٠٣٥)، وحدیث أبو عمر وذکوان عن عائشة، قد رواہ صحیح البخاری/النکاح ٤١ (٥١٣٧)، صحیح مسلم/النکاح ٩(١٤٢٠)، سنن النسائی/ النکاح ٣٤ (٣٢٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٦٧٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٤٥، ١٦٥، ٢٠٣) (صحیح) (مگر بکت کا لفظ شاذ ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کردیا ہے، نبی اکرم ﷺ نے اسے اختیار دیا ١ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A virgin came to the Prophet ﷺ and mentioned that her father had married her against her will, so the Prophet ﷺ allowed her to exercise her choice.
Notes · وضاحت
١ ؎: کہ چاہے تو نکاح باقی رکھے اور چاہے تو فسخ کرلے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/النکاح ١٢ (١٨٧٥)، ( تحفة الأشراف: ٦٠٠١، ١٩١٠٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح )
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت میں ابن عباس ؓ کا ذکر نہیں ہے، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے۔
The above tradition has been transmitted by Ikrimah from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said “He (Muhammad bin Ubaid) did not mention the name of Ibn Abbas in the chain of this tradition. The people have also narrated it mursal (without the mention of the name of Ibn Abbas) in a similar way. Its transmission in the mursal form is well known.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٦٠٠١، ١٩١٠٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثیبہ ١ ؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے ۔
Ibn Abbas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and a virgin’s permission must be asked, her permission being her silence. These are the words of Al Qanabi.
Notes · وضاحت
١ ؎: ایّم سے مراد ثیبہ عورت ہے اس کی تائید صحیح مسلم کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، ترجمۃ الباب سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے لیکن اس کے برخلاف بعض لوگوں نے ایّم سے مراد بیوہ عورت لیا ہے۔
عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ہے: آپ ﷺ نے فرمایا: ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: أبوها کا لفظ محفوظ نہیں ہے۔
The above tradition has been transmitted by Abd Allaah bin Al Fadl through his chain of narrators and with different meaning. The version goes “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and the father of a virgin should ask her permission about herself. ” Abu Dawud said “ The word “her father” is not guarded.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ٦٥١٧) (صحیح) ( تستأمر کے لفظ سے صحیح ہے، اس روایت کا لفظ شاذ ہے )
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Prophet ﷺ said: A guardian has no concern with a woman previously married and has no husband, and an orphan girl (i. e. virgin) must be consulted, her silence being her acceptance.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٢٠٩٨)، ( تحفة الأشراف: ٦٥١٧) (صحیح )
خنسا بنت خذام انصاریہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کردیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چناچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کردیا۔
Khansa daughter of Khidham al-Ansariyyah reports that when her father married her when she had previously been married and she disapproved of that she went to the Messenger of Allah ﷺ and mentioned it to him. He (the Prophet) revoked her marriage.
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/النکاح ٤٢ (٥١٣٨)، الإکراہ ٣ (٦٩٤٥)، الحیل ١١ (٦٩٦٩)، سنن النسائی/النکاح ٣٥ (٣٢٧٠)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٢ (١٨٧٣)، ( تحفة الأشراف: ١٥٨٢٤)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ١٤(٢٥)، مسند احمد (٦/٣٢٨)، سنن الدارمی/النکاح ١٤ (٢٢٣٨) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ابوہند نے نبی اکرم ﷺ کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا: بنی بیاضہ کے لوگو! ابوہند سے تم (اپنی بچیوں کی) شادی کرو اور (ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے) تم انہیں نکاح کا پیغام دو ١ ؎، اور فرمایا: تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : Abu Hind cupped the Prophet ﷺ in the middle of his head. The Prophet ﷺ said: Banu Bayadah, marry Abu Hind (to your daughter), and ask him to marry (his daughter) to you. He said: The best thing by which you treat yourself is cupping.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفو میں اعتبار دین کا ہوگا نہ کہ نسب اور پیشہ وغیرہ کا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، ( تحفة الأشراف: ١٥٠١٩)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الطب ٢٠ (٣٤٧٦)، مسند احمد (٢/٣٤٢، ٤٢٣) (حسن )
سارہ بنت مقسم نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے میمونہ بنت کردم ؓ کو کہتے سنا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے حج میں اپنے والد کے ساتھ نکلی، میرے والد آپ ﷺ کے قریب پہنچے، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو وہ آپ کے پاس کھڑے ہوگئے، اور آپ کی باتیں سننے لگے، آپ ﷺ کے پاس معلموں کے درے کی طرح ایک درہ تھا، میں نے بدوؤں نیز دیگر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ تھپتھپانے سے بچو، تھپتھپانے سے بچو تھپتھپانے سے بچو ١ ؎۔ میرے والد نے آپ ﷺ سے قریب جا کر آپ کا پیر پکڑ لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کیا، اور آپ ﷺ کے پاس ٹھہرے رہے اور آپ کی بات کو غور سے سنا، پھر کہا کہ میں لشکر عثران (یہ جاہلیت کی جنگ ہے) میں حاضر تھا، (ابن مثنی کی روایت میں جیش عثران کے بجائے جیش غثران ہے) تو طارق بن مرقع نے کہا: مجھے اس کے عوض میں نیزہ کون دیتا ہے؟ میں نے پوچھا: اس کا عوض کیا ہوگا؟ کہا: میری جو پہلی بیٹی ہوگی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دوں گا، چناچہ میں نے اپنا نیزہ اسے دے دیا اور غائب ہوگیا، جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہوگئی اور جوان ہوگئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کرو تو وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں کرسکتا، جب تک کہ میں اسے مہر جدید ادا نہ کر دوں اس عہد و پیمان کے علاوہ جو میرے اور اس کے درمیان ہوا تھا، میں نے بھی قسم کھالی کہ جو میں اسے دے چکا ہوں اس کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں دے سکتا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: اب وہ کن عورتوں کی عمر میں ہے (یعنی اس کی عمر اس وقت کیا ہے) ، اس نے کہا: وہ بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: میری رائے ہے کہ تم اسے جانے دو ، تو آپ ﷺ کی اس بات نے مجھے گھبرا دیا میں آپ کی جانب دیکھنے لگا، آپ ﷺ نے میری جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا: (گھبراؤ مت) نہ تم گنہگار ہو گے اور نہ ہی تمہارا ساتھی ٢ ؎ گنہگار ہوگا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: روایت میں وارد لفظ قتیر کا مطلب بڑھاپا ہے۔
Narrated Maymunah, daughter of Kardam: I went out along with my father during the hajj performed by the Messenger of Allah ﷺ . I saw the Messenger of Allah ﷺ . My father came near him; he was riding his she-camel. He stopped there and listened to him. He had a whip like the whip of the teachers. I heard the Bedouin and the people saying: Keep away from the whip. My father came up to him. He caught hold of his foot and acknowledged him (his Prophethood). He stopped and listened to him. He then said: I participated in the army of Athran (in the pre-Islamic days). The narrator, Ibn al-Muthanna, said: Army of Gathran. Tariq ibn al-Muraqqa said: Who will give me a lance and get a reward? I asked: What is its reward? He replied: I shall marry him to my first daughter born to me. So I gave him my lance and then disappeared from him till I knew that a daughter was born to him and she came of age. I then came to him and said: Send my wife to me. He swore that he would not do that until I fixed a dower afresh other than that agreed between me and him, and I swore that I should not give him the dower other than that I had given him before. The Messenger of Allah ﷺ said: How old is she now? He said: She has grown old. He said: I think you should leave her. He said: This put awe and fear into me, and I looked at the Messenger of Allah ﷺ . When he felt this in me, he said: You will not be sinful, nor will your companion be sinful. Abu Dawud said: Qatir means old age.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنے پیروں کو زمین پر تھپتھپانے سے بچو یا تھپتھپانے سے کنایہ درہ مارنے کی طرف ہے یعنی درے مارنے سے بچو۔ ٢ ؎: ساتھی سے مراد طارق بن مرقع ہیں یعنی قسم کھانے کی وجہ سے تم دونوں گنہگار نہیں ہو گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٠٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٦)، ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (٣٣١٤) (ضعیف )
ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ ایک عورت جو نہایت سچی تھی، کہتی ہے: میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ (تپتی زمین سے) لوگوں کے پیر جلنے لگے، ایک شخص بولا: کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہوگی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہوگئی، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں قتیر کا واقعہ مذکور نہیں ہے۔
Ibrahim bin Maisarah reported from his maternal aunt who reported on the authority of a woman called Mussaddaqah (a truthful woman). She said “In pre Islamic days, when my father participated in a battle the feet of the people burnt due to intense heat. Thereupon a man said “Who gives me his shoes, I shall marry him to my first daughter born to me. My father took off his shoes and there them before him. A girl was thereafter born to him and came of age. ” The narrator then mentioned a similar story. But he did not mention that she had grown old.
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، ( تحفة الأشراف: ١٨٠٩١) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک مجہول راویہ ہے )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ (کی ازواج مطہرات) کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ١ ؎، میں نے کہا: نش کیا ہے؟ فرمایا: آدھا اوقیہ ٢ ؎۔
Abu Salamah said “I asked Aisha (RA) about the dower given by the Messenger of Allah ﷺ . She said “It was twelve Uqiyahs and a nashsh”. I asked “What is nashsh?” She said it is half an uqiyah.
Notes · وضاحت
١ ؎: بارہ اوقیہ کے (٤٨٠) درہم اور نش کے (٢٠) درہم، کل پانچ سو درہم ہوئے، جو وزن سے تیرہ سو پچھتر گرام (١٣٧٥) کے مساوی ہے (یعنی ایک کیلو تین سو پچھتر گرام چاندی)۔ ٢ ؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے اس حساب سے ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٦)، سنن النسائی/النکاح ٦٦ (٣٣٤٩)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٧ (١٨٨٦)، ( تحفة الأشراف: ١٧٧٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦ /٩٤)، سنن الدارمی/النکاح ١٨ (٢٢٤٥) (صحیح )