ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اس امت کے لیے ہر صدی کی ابتداء میں ایک ایسے شخص کو مبعوث فرمائے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: Allah will raise for this community at the end of every hundred years the one who will renovate its religion for it. Abu Dawud said: Abdur-Rahman bin Shuriah al-Iskandarani has also transmitted this tradition, but he did not exceed Shrahil.
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ مکحول اور ابن ابی زکریا: خالد بن معدان کی طرف چلے، میں بھی ان کے ساتھ چلا تو انہوں نے ہم سے جبیر بن نفیر کے واسطہ سے صلح کے متعلق بیان کیا، جبیر نے کہا: ہمارے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ذی مخبر نامی ایک شخص کے پاس چلو چناچہ ہم ان کے پاس آئے، جبیر نے ان سے صلح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: عنقریب تم رومیوں سے ایک پر امن صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک ایسے دشمن سے لڑو گے جو تمہارے پیچھے ہے، اس پر فتح پاؤ گے، اور غنیمت کا مال لے کر صحیح سالم واپس ہو گے یہاں تک کہ ایک میدان میں اترو گے جو ٹیلوں والا ہوگا، پھر نصرانیوں میں سے ایک شخص صلیب اٹھائے گا اور کہے گا: صلیب غالب آئی، یہ سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص غصہ میں آئے گا اور اس کو مارے گا، اس وقت اہل روم عہد شکنی کریں گے اور لڑائی کے لیے اپنے لوگوں کو جمع کریں گے ۔
Dhu Mikhbar said: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: you will make a secure peace with the Byzantines, then you and they will fight an enemy behind you, and you will be victorious, take booty, and be safe. You will then return and alight in a meadow with mounds and one of the Christians will raise the cross and say: The cross has conquered. One of the Muslims will become angry and smash it, and the Byzantines will act treacherously and prepare for the battle.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٧٦٧)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٧) (صحیح )
اس سند سے بھی حسان بن عطیہ سے یہی حدیث مروی ہے اس میں یہ اضافہ ہے: پھر جلدی سے مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف بڑھیں گے، اور لڑنے لگیں گے، تو اللہ تعالیٰ اس جماعت کو شہادت سے نوازے گا ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Hassan bin ’Atiyyah through a different chain of narrators. This version add: The Muslims will then make for their weapons and will fight, and Allah will honor that body with martryrdom. Abu Dawud said: But al-Walid has narrated this tradition from Dhu Mikhbar from the Prophet ﷺ . Abu Dawud said: Rawh, Yahya bin Hamzah and Bishr bin Bakr has also transmitted it from al-Awzai as mentioned by Isa.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٢٧٦٧)، (تحفة الأشراف: ٣٥٤٧) (صحیح )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی ویرانی ہوگی، مدینہ کی ویرانی لڑائیوں اور فتنوں کا ظہور ہوگا، فتنوں کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح ہوگی، اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کا ظہور ہوگا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اس شخص یعنی معاذ بن جبل کی ران یا مونڈھے پر مارا جن سے آپ یہ بیان فرما رہے تھے، پھر فرمایا: یہ ایسے ہی یقینی ہے جیسے تمہارا یہاں ہونا یا بیٹھنا یقینی ہے ۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ said: The flourishing state of Jerusalem will be when Yathrib is in ruins, the ruined state of Yathrib will be when the great war comes, the outbreak of the great war will be at the conquest of Constantinople and the conquest of Constantinople when the Dajjal (Antichrist) comes forth. He (the Prophet) struck his thigh or his shoulder with his hand and said: This is as true as you are here or as you are sitting (meaning Muadh ibn Jabal).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣٦١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الفتن ٥٨ (٢٢٣٩)، مسند احمد (٥/٢٣٢، ٢٤٥) (حسن )
معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی ۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : The Prophet ﷺ said: The greatest war, the conquest of Constantinople and the coming forth of the Dajjal (Antichrist) will take place within a period of seven months.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الفتن ٥٨ (٢٢٣٨)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٤٠٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٣٢٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٣٤) (ضعیف) (ابوبکر بن ابی مریم اور ولید بن سفیان ضعیف اور یزید سکونی لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہوگی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہوگا ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Abdullah ibn Busr (RA) : The Prophet ﷺ said: The time between the great war and the conquest of the city (Constantinople) will be six years, and the Dajjal (Antichrist) will come forth in the seventh. Abu Dawud said: This is sounder than the tradition narrated by Isa (bin Yunus)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اوپر والی حدیث کی معارض ہے، اور دونوں ضعیف ہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ بڑی جنگ کی ابتداء و انتہاء کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہوگا، اور بڑی جنگ کا اختتام اور قسطنطنیہ کی فتح اور مسیح دجال کا ظہور یہ تینوں قریب قریب واقع ہوں گے، یعنی سات مہینے کے عرصہ میں واقع ہوجائیں گے، ایک دوسرا جواب وہ ہے جو ابوداود نے دیا ہے کہ دوسری حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لہٰذا پہلی حدیث اس کے معارض نہیں ہوسکتی کیونکہ تعارض کے لئے یکساں وجوہ ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٥ (٥١٩٤)، (تحفة الأشراف: ٥١٩٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/١٨٩) (ضعیف) (سند میں بقیہ بن ولید ضعیف اور ابن ابی بلال لین الحدیث ہیں )
ثوبان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے، لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے، اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا، اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! وہن کیا چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ہے ۔
Narrated Thawban (RA) : The Prophet ﷺ said: The people will soon summon one another to attack you as people when eating invite others to share their dish. Someone asked: Will that be because of our small numbers at that time? He replied: No, you will be numerous at that time: but you will be scum and rubbish like that carried down by a torrent, and Allah will take fear of you from the breasts of your enemy and last enervation into your hearts. Someone asked: What is wahn (enervation). Messenger of Allah ﷺ : He replied: Love of the world and dislike of death.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٢٠٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/٢٧٨) (صحیح )
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دجال سے) جنگ کے روز مسلمانوں کا جماؤ غوطہٰ میں ہوگا، جو اس شہر کے ایک جانب میں ہے جسے دمشق کہا جاتا ہے، جو شام کے بہترین شہروں میں سے ہے ۔
Narrated Abu al-Darda: The Prophet ﷺ said: The place of assembly of the Muslims at the time of the war will be in al-Ghutah near a city called Damascus, one of the best cities in Syria. Abu Dawud said: Ibn Umar reported the Messenger of Allah ﷺ As saying: The Muslims will soon be besieged up to Madina so that their most distant frontier outpost will be Salah.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٢٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/١٩٧) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قریب ہے کہ مسلمان مدینہ میں محصور کردیئے جائیں یہاں تک کہ ان کی عملداری صرف مقام سلاح تک رہ جائے ۔
انظر حدیث رقم: (٤٢٥٠)، (تحفة الأشراف: ٧٨١٨) (صحیح )
عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس امت پر دو تلواریں (بلائیں) اکٹھی نہیں کرے گا کہ ایک تلوار تو خود اسی کی ہو، اور ایک تلوار اس کے دشمن کی ہو ٢ ؎۔
Narrated Awf ibn Malik: The Prophet ﷺ said: Allah will not gather two swords upon this community: Its own sword and the sword of its enemy.
Notes · وضاحت
١ ؎: فتنہ سے مراد خود مسلمانوں کی آپس کی جنگ ہے۔ ٢ ؎: یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ ایک ہی وقت میں وہ آپس میں بھی لڑیں، اور اپنے دشمن سے بھی لڑیں، جب دوسری قومیں ان پر حملہ آور ہوں گی تو اللہ ان کی آپسی اختلافات کو ختم کر دے گا، اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لئے سارے مسلمان مل کر اپنے دشمن سے لڑیں گے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٠٩١٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٦/٢٦) (صحیح )
ایک صحابی رسول ؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حبشہ کے کافروں کو اس وقت تک چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں، اور ترکوں کو بھی چھوڑے رہو جب تک کہ وہ تم سے چھیڑ چھاڑ نہ کریں ١ ؎۔
Narrated from Abi Sukainah One of the Companions: The Prophet ﷺ said: Let the Abyssinians alone as long as they let you alone, and let the Turks alone as long as they leave you alone.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ایک جنگی تدبیر تھی جو نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو بتلائی کہ یہ کافر اقوام جب تک مسلمانوں کے خلاف اقدام نہ کریں، مسلمانوں کو بھی ان سے جنگ میں ابتداء نہ کرنی چاہیے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان ترکوں سے نہ لڑیں جو ایک ایسی قوم ہوگی جن کے چہرے تہ بہ تہ جمی ہوئی ڈھالوں کے مانند ہونگے، اور وہ بالوں کے لباس پہنتے ہوں گے ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: The last hour will not come before the Muslims fight with the Turks, a people whose faces look as if they were shields covered with skin, and who will wear sandals of hair.
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی، اور قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہوں گی، اور ان کے چہرے اس طرح ہوں گے گویا تہ بہ تہ ڈھال ہیں ۔
Abu Hurairah reported the Prophet ﷺ as saying: The last hour will not come before you fight with a people whose sandals are of hair, and the Last hour will not come before you fight with a people who have small eyes, short noses, and whose faces look as if they were shields covered with skin.
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: تم سے ایک ایسی قوم لڑے گی جس کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی یعنی ترک، پھر فرمایا: تم انہیں تین بار پیچھے کھدیڑ دو گے، یہاں تک کہ تم انہیں جزیرہ عرب سے ملا دو گے، تو پہلی بار میں ان میں سے جو بھاگ گیا وہ نجات پا جائے گا، اور دوسری بار میں کچھ بچ جائیں گے، اور کچھ ہلاک ہوجائیں گے، اور تیسری بار میں ان کا بالکل خاتمہ ہی کردیا جائے گا أو کماقال (جیسا آپ ﷺ نے فرمایا) ١ ؎۔
Buraidah said: In the tradition telling that people with small eyes, i. e. the Turks, will fight against you, the prophet ﷺ said: You will drive them off three times till you catch up with them in Arabia. On the first occasion when you drive them off those who fly will be safe, on the second occasion some will be safe and some will perish, but on the third occasion they will be extirpated, or he said words to that effect.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی روایت امام احمد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے جس کا سیاق ابوداود کی اس حدیث کے سیاق کے مخالف ہے، اس میں ہے بریدہ ؓ کہتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا، میں نے آپ کو کہتے سنا کہ میری امت کو ایک ایسی قوم تین بار کھدیڑے گی جس کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹیں ہوں گی، گویا ان کے چہرے تہ بہ تہ ڈھال ہوں گے، یہاں تک کہ وہ انہیں جزیرہ عرب سے ملا دیں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھدیڑنے والے ترک ہوں گے، وہ مسلمانوں کو کھدیڑیں گے، اس اختلاف کے ذکر کے بعد صاحب عون لکھتے ہیں: وعندي أن الصواب هي رواية أحمد وأما رواية أبي داود فالظاهر أنه وقع الوهم فيه من بعض الرواة، اور اپنے اس نقطہ نظر کی تائید میں انہوں نے مزید شواہد بھی ذکر کئے ہیں (ملاحظہ ہو عون المعبود، ٤ ؍ ١٨٧)، علی کل حال بریدہ ؓ کی حدیث ضعیف ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٩٤٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/٣٤٨) (ضعیف )
ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت کے کچھ لوگ دجلہ نامی ایک نہر کے قریب کے ایک نشیبی زمین پر اتریں گے جسے وہ لوگ بصرہ کہتے ہوں گے، اس پر ایک پل ہوگا، وہاں کے لوگ (تعداد میں) دیگر شہروں کے بالمقابل زیادہ ہوں گے، اور وہ مہاجرین کے شہروں میں سے ہوگا (ابومعمر کی روایت میں ہے کہ وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہوگا) ، پھر جب آخری زمانہ ہوگا تو وہاں قنطورہ ١ ؎ کی اولاد (اہل بصرہ کے قتل کے لیے) آئیگی جن کے چہرے چوڑے، اور آنکھیں چھوٹی ہوں گی، یہاں تک کہ وہ نہر کے کنارے اتریں گے، پھر تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک گروہ تو بیل کی دم، اور صحرا کو اختیار کر کے ہلاک ہوجائے گا، اور ایک گروہ اپنی جانوں کو بچا کر کافر ہوجانے کو قبول کرلے گا، اور ایک گروہ اپنی اولاد کو اپنے پیچھے چھوڑ کر نکل کھڑا ہوگا، اور ان سے لڑے گا یہی لوگ شہداء ہوں گے ۔
Narrated Abu Bakrah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ said: Some of my people will alight on low-lying ground, which they will call al-Basrah, beside a river called Dajjal (the Tigris) over which there is a bridge. Its people will be numerous and it will be one of the capital cities of immigrants (or one of the capital cities of Muslims, according to the version of Ibn Yahya who reported from Abu Mamar). At the end of time the descendants of Qantura will come with broad faces and small eyes and alight on the bank of the river. The towns inhabitants will then separate into three sections, one of which will follow cattle and (live in) the desert and perish, another of which will seek security for themselves and perish, but a third will put their children behind their backs and fight the invaders, and they will be the martyrs.
Notes · وضاحت
١ ؎: ترکوں کے جد اعلیٰ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٧٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/٤٠، ٤٥) (حسن )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ لوگ شہر بسائیں گے انہیں شہروں میں سے ایک شہر ہوگا جسے بصرہ یا بصیرہ کہا جاتا ہوگا، اگر تم اس سے گزرنا یا اس میں داخل ہونا تو اس کی سب شور زمین اس کی کلاء ١ ؎ اس کے بازار اور اس کے امراء کے دروازوں سے اپنے آپ کو بچانا، اور اپنے آپ کو اس کے اطراف ہی میں رکھنا، کیونکہ اس میں خسف (زمینوں کا دھنسنا) قذف (پتھر برسنا) اور رجف (زلزلہ) ہوگا، اور کچھ لوگ رات صحیح سالم ہو کر گزاریں گے، اور صبح کو بندر اور سور ہو کر اٹھیں گے۔
Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ said: The people will establish cities, Anas, and one of them will be called al-Basrah or al-Busayrah. If you should pass by it or enter it, avoid its salt-marshes, its Kall, its market, and the gate of its commanders, and keep to its environs, for the earth will swallow some people up, pelting rain will fall and earthquakes will take place in it, and there will be people who will spend the night in it and become apes and swine in the morning.
صالح بن درہم کہتے ہیں کہ ہم حج کے ارادہ سے چلے تو اچانک ہمیں ایک شخص ملا ١ ؎ جس نے ہم سے پوچھا: کیا تمہارے قریب میں کوئی ایسی بستی ہے جسے ابلّہ کہا جاتا ہو؟ ہم نے کہا: ہاں، ہے، پھر اس نے کہا: تم میں سے کون اس بات کی ضمانت لیتا ہے کہ وہ وہاں مسجد عشار میں میرے لیے دو یا چار رکعت نماز پڑھے؟ اور کہے: اس کا ثواب ابوہریرہ کو ملے کیونکہ میں نے اپنے خلیل ابوالقاسم ﷺ کو فرماتے سنا ہے: اللہ قیامت کے دن مسجد عشّار سے ایسے شہداء اٹھائے گا جن کے علاوہ کوئی اور شہداء بدر کے ہم پلہ نہ ہوں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ مسجد نہر ٢ ؎ کے متصل ہے۔
Salih ibn Dirham said: We went on the pilgrimage and met a man who asked us: Is there a town near you called al-Ubullah? We said: Yes. He said: Is there any of you who will undertake to pray two or four rakahs on my behalf in the mosque of al-Ashshar, stating they are on behalf of Abu Hurairah? He (Abu Hurairah) said: I heard my friend Abul Qasim ﷺ say: On the Day of Resurrection Allah will raise martyrs from the mosque of al-Ashshar, who will be the only ones to rise with the martyrs of Badr. Abu Dawud said: This mosque is near the river.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد ابوہریرہ ؓ ہیں۔ ٢ ؎: اس سے مراد نہر فرات ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اہل حبشہ کو چھوڑے رہو جب تک وہ تمہیں چھوڑے ہوئے ہیں ١ ؎، کیونکہ کعبہ کے خزانے کو سوائے ایک باریک پنڈلیوں والے حبشی کے کوئی اور نہیں نکالے گا ٢ ؎۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-As: The Prophet ﷺ said: Leave the Abyssinians alone as long as they leave you alone, for it is only the Abyssinian with short legs who will seek to take out the treasure of the Kabah.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان سے چھیڑ خوانی میں پہل نہ کرو۔ ٢ ؎: ایسا قیامت کے قریب عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظہور کے وقت ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٨٦٠٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٥/٣٧١) (حسن )
ابوزرعہ کہتے ہیں کہ کچھ لوگ مروان کے پاس مدینہ آئے تو وہاں اسے (قیامت کی) نشانیوں کے متعلق بیان کرتے سنا کہ سب سے پہلی نشانی ظہور دجال کی ہوگی، تو میں عبداللہ بن عمرو ؓ کے پاس گیا، اور ان سے اسے بیان کیا، تو عبداللہ نے صرف اتنا کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ پہلی نشانی سورج کا پچھم سے طلوع ہونا ہے، یا بوقت چاشت لوگوں کے درمیان دابہ (چوپایہ) کا ظہور ہے، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے واقع ہو دوسری بالکل اس سے متصل ہوگی، اور عبداللہ بن عمرو جن کے زیر مطالعہ آسمانی کتابیں رہا کرتی تھیں کہتے ہیں: میرا خیال ہے ان دونوں میں پہلے سورج کا پچھم سے نکلنا ہے۔
Abu zurah said: A group of people came to Marwan in Madina, and they heard him say that the first of the signs to appear would be the coming forth of the Dajjal (Antichirst). He said: I then went to Abdullah bin Amr and mentioned it to him. He did not say anything (reliable). I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The first of the signs to appear will be the rising of the sun in its place of setting and the coming forth of the beast against mankind in the forenoon. Whichever of them comes first will soon be followed by the other. Abdullah who used to read the scriptures (Torah, Gospel) said: I think the first of them will be the rising of the sun in its place of setting.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٣ (٢٩٤١)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣٢ (٤٠٦٩)، (تحفة الأشراف: ٨٩٥٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٦٤، ٢٠١) (صحیح )
حذیفہ بن اسید غفاری ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے کمرے کے زیر سایہ بیٹھے باتیں کر رہے تھے، ہم نے قیامت کا ذکر کیا تو ہماری آوازیں بلند ہوگئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں ہوگی، یا قائم نہیں ہوگی جب تک کہ اس سے پہلے دس نشانیاں ظاہر نہ ہوجائیں: سورج کا پچھم سے طلوع ہونا، دابہ (چوپایہ) کا ظہور، یاجوج و ماجوج کا خروج، ظہور دجال، ظہور عیسیٰ بن مریم، ظہور دخان (دھواں) اور تین جگہوں: مغرب، مشرق اور جزیرہ عرب میں خسف (دھنسنا) اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے عدن کے گہرائی میں سے ایک آگ ظاہر ہوگی وہ ہانک کر لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی ۔
Hudhaifah bin Usaid al-Ansari said: We were sitting in the shade of the chamber of the Messenger of Allah ﷺ discussing (something) and when we mentioned the last hour, our voices rose high. The Messenger of Allah ﷺ said: The last hour will not come or happen until there appear ten signs before it: the rising of the sun in its place of setting, the coming forth of the beast, the coming forth of Gog and Magog, the Dajjal (Antichrist), (the descent of) Jesus son of Mary, the smoke, three subsidence’s, one in the will issue forth from the Yemen, from the lowest part of Aden, and drive mankind to their place of assembly.
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ١٣ (٢٩٠١)، سنن الترمذی/الفتن ٢١ (٢١٨٣)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٨ (٤٠٤١)، (تحفة الأشراف: ٣٢٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد ( ٤/٧) (صحیح )